br>
میں نے باہر نکلتے ھی دروازہ آہستہ سے بند کیا اور سامنے کلاس کہ طرف دیکھا تو سب بچے اپنی اپنی گپوں میں مصروف تھے میں نے عظمی کو کہا کہ تم جلدی سے کلاس کی طرف جاو میں کمروں کے پیچھے سے ھو کر آتا ھوں عظمی ابھی بھی ہلکا ہلکا کھانس رھی تھی میں اسے دروازے پر ھی چھوڑ کر کمروں کے پیچھے واش روم کی طرف بھاگ گیا اور جلدی سے واش روم میں داخل ھوگیا پیشاب کر کے میں باہر نکلا اور دوبارا کھڑکی کے پاس جاکر کان لگا کر اندر کے حالات معلوم کرنے لگ گیا
ڈر کے مارے میرا بھی برا حال تھا اور یہ سوچ سوچ کر میرا دل حلق کو آنے والا ھوگیا تھا کہ اگر ماسٹر جی کو پتہ چل گیا کہ ہم دونوں ھی کمرے میں تھے تو ماسٹر جی نے تو ہمیں چھوڑنا ھی نھی مار مار برا حال کردینا ھے اور بدنامی الگ سے ہونی ھے
میں بڑے غور سے اندر کی سچویشن معلوم کرنے کے لیے دھیان اندر کی طرف کیے کھڑا تھا تبھی ماسٹر جی کی آواز آئی کوئی بھی نھی ھے یار تم ایسے ڈر رھی ھو
تو فرحت بولی تم پاگل تو نھی ھوگئے میں نے خود کسی لڑکی کے کھانسنے کی آواز سنی ھے تم کہہ رھے ھو کوئی نھی ھے تب ماسٹر جی کی آواز آئی کہ یار میں دفتر میں دیکھ کر آیا ھوں کوئی بھی نھی ھے اور دروازہ بھی ویسے ھی بند ھے اگر کوئی اندر سے باہر جاتا تو لازمی دروازہ کھلا ھوتا یا دروازہ کھلنے یا بند ھونے کی آواز آتی میں تسلی کرکے آیا ھوں
تو فرحت کی آواز آئی ماسٹر جی
مینوں جان دیو ******دی قسمیں میرا دل پھڑکی جاندا پیا اے
مینوں بڑا ڈر لگ ریا اے
ماسٹر جی پھر منت کرتے ھوے بولے یار تمہیں مجھ پر یقین نھی ھے کیا مجھے اپنی عزت کا خیال نھی تم کیوں پریشان ھورھی ھو
شاید کوئی بچی ادھر سے گزری ھو اس کے کھانسنے کی آواز میں نے بھی سنی تھی مگر
میں دفتر میں دیکھ کر ایا ھوں کوئی بھی نھی ھے
میں نے ان دونوں کی آواز سنی تو سکون کا سانس لیا اور شکر ادا کیا کہ بچ گئے
تبھی فرحت کی آواز آئی
نہ کرو ماسٹر جی اب مجھے جانے دو بہت دیر ھوگئی ھے اب میرا دل نھی کررھا اتنا کچھ تو کر لیا اب کوئی کسر رھ گئی ھے
اور پھر کمرے میں خاموشی ھوگئی
میں نے جلدی سے اپنے دونوں ھاتھ کھڑکی کے بنیرے پر رکھے اور اپنے دونوں پاوں دیوار کے ساتھ لگا کر جمپ مار کر کھڑکی کے اندر دیکھا تو ماسٹر جی پھر فرحت کو جپھی ڈالے اس کے ہونٹ چوس رھے تھے
میں کچھ سیکنڈ ھی ایسے اوپر رھ سکا اور میرے پاوں دیوار سے پھسلتے ھوے واپس زمین پر آگئے
میں نے دو تین ٹرائیاں ماری مگر مجھ سے اوپر نھی ھوا گیا
میں اب سوچ میں پڑ گیا کہ اندر کا نظارا کیسے دیکھوں
کیوں کہ میں دوبارا اندر کمرے میں جانے کا رسک نھی لے سکتا تھا
اچانک میری نظر سکول کی بیرونی دیوار پر پڑی جس کی کافی ساری اینٹیں نیچے گری ہوئی تھی میں جلدی سے دیوار کی طرف گیا اور وہاں بیٹھ کر چھ سات اینٹوں کو اوپر نیچے جوڑ کر اٹھا کر کھڑکی کے پاس لے آیا اور آرام سے نیچے رکھ دی اور انکو دیوار کے ساتھ چوکڑی بنا کر جوڑ دیں میں نے اینٹوں کے اوپر چڑھ کر اندر دیکھنے کی کوشش کی مگر تھوڑا سا فرق بچا
میں جلدی سے پھر دیوار کے پاس گیا اور مزید اینٹیں اٹھا کر لے آیا اور ان اینٹوں کے اوپر ساری اینٹیں جوڑ دی اب کافی اونچی چوکڑی بن چکی تھی
میں نے ایک ھاتھ کھڑکی کی بنی پر رکھا اور جمپ مار کر اینٹوں کی چوکڑی کے اوپر چڑھ گیا،
اب میں آسانی سے اندر کا سارا نظارہ دیکھ سکتا تھا
،،،
ماسٹر جی نے فرحت کھڑے کھڑے فرحت کی قمیض اوپر کی ھوئی تھی اور نیچے ھوکر اسکے ممے چوس رھے تھے فرحت بھی اب سکون سے اہنے ممے چسوا رھی تھی ماسٹر جی نے اپنے دونوں ھاتھ اسکی گانڈ کے پیچھے رکھے ھوے تھے اور گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر دبا رھے تھے
ماسٹر جی اپنا لن فرحت کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا کہ گھسے مار رھے تھے فرحت کی دونوں آنکھیں بند تھی اور ماسٹر کی کمر کے گرد دونوں بازو ڈال کر ہاتھ ماسٹر جی کی کمر پر پھیر رھی تھی
،،
استاد جی یہ منظر دیکھ کر میرا لن پھر تن گیا اور میں اپنے لن کو مسلنے لگ گیا
ماسٹر جی نے ایک ھاتھ فرحت کی گانڈ سے ہٹایا اور آگے لا کر اسکا نالا کھول دیا نالا کھلتے ھی فرحت کی شلوار اسکی پاوں میں گر گئی اور ماسٹر جی نے اپنا ھاتھ فرحت کی پھدی پر رکھ کر پھدی کو مسلنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ اس کا مما بھی چوسنے لگ گیا
کچھ دیر یہ ھی سین چلتا رھا
پھر ماسٹر جی نے فرحت کی قمیض جو پہلے ھی اسکے کندھوں تک تھی اسکو اتارنے کی کوشش کی مگر فرحت نے منع کردیا کہ اگر کوئی آگیا تو اتنی جلدی میں قمیض نھی پہن سکوں گی
ماسٹر جی نے بھی ذیادہ اصرار نھی کیا اور اپنی قمیض اتار دی اور فرحت کو چارپائی پر لٹا دیا اب فرحت بلکل ننگی چارپائی پر لیٹی ھوئی تھی اور اس نے دونوں ٹانگیں سیدھی کر کے پھدی کو چھپانے کی کوشش کررھی تھی قمیض ویسے ھی اس کے گلے تک تھی فرحت کے ممے بلکل کنواری لڑکی کی طرح تنے ھوے تھے اور مموں پر ہلکے بروان کلر کے نپل بھی تنے ھوے تھے فرحت کا جسم دیکھ کر کوئی کہہ نھی سکتا تھا کہ اسکا دس سال کا بیٹا بھی ھے
لیٹنے کی وجہ سے اسکا پیٹ بھی بلکل ساتھ لگا ھوا تھا فرحت کی ٹانگوں پر بال بھی نہ ھونے کے برابر تھے شاید گولڈن کلر کے بال تھے جو دور سے مجھے نظر نھی آرھے تھے لگ ایسے رھا تھا جیسے اس نے ویکس کی ھوئی ھے جبکہ اس دور میں ویکس وغیرہ کا تصور بھی نھی کیا جاتا تھا بس بال صفا پوڈر ھوتا تھا جس سے پھدی کی بال صاف کیے جاتے تھے
فرحت کا چہرے کا رنگ تو سفید تھا ھی مگر اسکے جسم کا کلر کسی کشمیری بٹنی سے کم نھی تھا
میرا دور سے دیکھ کر ھی برا حال ھوئی جا رھا تھا تو سوچیں جو اس کے جسم کے ساتھ مستیاں کررھا تھا اسکا کیا حال ھوگا
ماسٹر جی فرحت کو لٹا کر چارپائی کے پاس کھڑے ھوگئے اور اپنی شلوار کا نالا کھولا اور شلوار اتار دی
جیسے ھی ماسٹر جی کی شلوار اتری تو ماسٹر جی کا شیش ناگ لہراتا ھوا سامنے کھڑا تھا
ماسٹر جی کا لوڑا تھا کہ
کھوتے کا لن
ماسٹر جی کا لن دیکھتے ھی میرے منہ سے بےساختہ نکلا
او تواڈی پین نوں ایڈا وڈا لن اففففف
فرحت کا جب دھیان ماسٹر جی کے لن کی طرف گیا تو فرحت کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی اور اسکا منہ کھلے کا کھلا رھ گیا ماسٹر جی نے اپنے لن کے پھولے ھوے ٹوپے پر ہاتھ پھیرا اور فرحت کے منہ کی طرف. لن کو کر کے اسکے قریب ھوگئے
فرحت ایک دم گبھرا گئی اور منہ دوسری طرف کر لیا
ماسٹر نے فرحت کے سر کو پکڑ کر اپنے لن کی طرف کیا اور لن کو ھاتھ میں پکڑ کر فرحت کے ہونٹوں پر مارنے لگ گئے فرحت نے ھاتھ اپنے ھونٹوں پر رکھتے ھو ے نھی میں سر ہلایا
تو ماسٹر جی نے فرحت کا ھاتھ اسکے منہ سے علیحدہ کرتے ھوے کہا یار بس تھوڑا سا پیار کردو
تو فرحت بولی
میں نے یہ گندہ کام کبھی نھی کیا
اے تے ہے وی ایڈا وڈا تے اینا موٹا نہ بابا میرے منہ وچ نئی آنا
ماسٹر جی نے پھر منت کرتے ھوے کہا
یار بس ایک پوری کردو اور لن کی ٹوپی کو فرحت کے ہونٹوں پر رکھ دیا فرحت نے برا سا منہ بنا کر دو تین چُمیاں ٹوپے پر لے لیں اور ھاتھ سے بس کا اشارہ کردیا
مگر ماسٹر جی کہاں باز آنے والے تھے ماسٹر جی نے پھر سے منتیں کردی کہ بس تھوڑا سا منہ میں ڈال لو
تو فرحت نھی نھی کرتی رھی مگر ماسٹر جی نے لن کو اسکے منہ پر رکھ کر ہلکا سا پُش کیا تو ٹوپے کی دباو سے مجبوراً فرحت کو منہ کھولنا پڑا اور فرحت نے بڑا سا منہ کھول کر صرف ٹوپا ھی منہ میں لیا اور تھوڑا سا چوس کر باہر نکال دیا اور الٹی کرنے کے سٹائل سے چارپائی کے سائڈ پر ھوکر نیچے تھوکنے لگ گئی اور کھانسنے لگ گئی
اور کھانسے ھوے بولی میرا سانس ھی بند کردیا اینا موٹا لن اے .
اتنے میں کسی نے میری شلوار اتار دی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی تھی ۔ اس نے غلطی سے شلوار کو کھینچا تھا تو الاسٹک کی وجہ سے اتر گئ۔
عظمی اپنے ساتھ کلاس میں لے گئ۔ آگے ماسٹر صاحب نے کیا کچھ کیا پتا نہ چل سکا۔ اور ہم واپس آ گئے ۔
میں کپاس کے کھیت کے باہر پگڈنڈی پر بیٹھ کر گلی کی طرف دیکھنے لگ گیا
تو مجھے عظمی بڑے غصے میں آتی دیکھائی دی اور سیدھا میری ھی طرف رخ کیا اور کچھ فاصلے پر آکر کھڑی ھوگئی اور نیچے کھیت سے ایک بڑا سا مٹی ڈھیلا اٹھا کر مجھے مارنے کے لیے ڈرانے لگ گئی اور کہنے لگی
جُتی دے میری چولے نئی تے تیرا سَر پاڑ دینا اے
میں نے اسے دیکھ کر اپنے دونوں ھاتھ کانوں کو لگا کر اس سے معافی مانگنے لگ گیا
اور اسکی جوتی کا پاوں اسکی طرف پھینک دیا
عظمی آگے آئی اور جوتا پہن کر میرے سامنے کھڑی ھوگئی اور بولی
ہُن پج پتر،،
کتھے پجیں گا
اور زور سے مٹی کا ڈھیلا میرے پیروں میں مارا میں نے دونوں پاوں اوپر کرلیے
اور اس سے کہنے لگ گیا بس کر یار ہن بچے دی جان لینی اے
تو عظمی بلکل میرے سامنے اپنے دونوں ھاتھ اپنی
وکھیوں پر رکھے بڑی شوخی سے بولی
بچہ تے ویکھو
وڈے وڈے کم کردا اے تے ہے بچہ واہ واہ
تو میں نے کہا اچھا بابا اب معاف بھی کردو
تو وہ میرے ساتھ ھی پگڈنڈی پر بیٹھ گئی
میں نے کہا اگر جناب کا غصہ اتر گیا ھے تو کھیلیں
تو عظمی بولی بچُو میں پڑھائی چھوڑ کر تیرے پیچھے کھیلنے نھی آئی تو میں حیران ھوتے اسکی طرف دیکھ کر بولا تو جناب کس لیے آئی ہیں،
تو عظمی بولی سہی سہی بتاو کہ کھڑکی سے کیا دیکھ رھے تھے،
تو میں نے بڑی شوخی سے اسکی طرف دیکھا اور اسکا کان پکڑ کر کھینچتے ھوے کہا
اچھااااا اے سار ڈرامہ کھڑکی والی گَل پُچھن واسطے کیتا سی،
تو عظمی نے اپنا کان چُھڑواتے ھوے بولی آئیییییی میرا کَن چھڈ باندر جیا نہ ھوے تے
تو میں نے اسکا کان چھوڑ دیا
تو وہ بولی ایسے امی نے آنے نھی دینا تھا
تو میں نے اسکی گال پر چُٹکی کاٹتے ھوے کہا بڑی تیز ھوگئی ایں،
تو عظمی نے جلدی سے اپنی گال کو پیچھے کیا اور میرا ھاتھ پکڑ کر اپنی گود میں رکھا اور بولی چلو اب بتا بھی دو
تو میں نے کہا یار یہ کوئی جگہ ھے
بات کرنے کی یہاں سب بچے ہیں کسی نے ہماری بات سن لی تو،،،،،،
تو عظمی بولی
تو پھر کہاں جاکر بتانا ھے تو میں نے کہا وہاں کھالے کے پاس ٹاہلی کے پیچھے بیٹھ کر بتاوں گا اگر سننا ھے تو چلو ادھر چل کر سب کچھ تفصیل سے بتاوں گا
عظمی کچھ دیر سوچتے ھوے بولی
چلو
میں نے کہا تم ادھر ھی بیٹھو میں پہلے جاتا ھوں تم تھوڑی دیر بعد آجانا تو
عظمی بولی نہ نہ مجھے اکیلی کو ڈر لگتا ھے میں نے نھی آنا اکیلی نے
تو میں نے کہا یار میں تھوڑا اگے جاکر رک کر تمہارا انتظار کرلوں گا جب تم آجاو گی تو پھر اکھٹے ھی کھالے پر چلیں گے تو عظمی نے اثبات میں سر ہلا دیا
اور میں نے سب بچوں پر نظر دوڑائی تو سب بچے اپنے دھیان میں لگے ھوے تھے
میں وہیں سے پیچھے کی طرف کھسکتا ھوا کپاس کے پودوں میں گُھس گیا اور پھر اٹھ کر پودوں کے درمیان سے ھی پگڈنڈی پر آگیا اور کھالے کی طرف چل پڑا کچھ ھی دور جاکر میں کھڑا ھوگیا اور عظمی کو دیکھنے لگ گیا تقریباََ تین چار منٹ بعد عظمی آتی دیکھائی دی
اور پھر ہم دونوں کھالے کی طرف چل پڑے میں نے اس سے تسلی کرلی کی کسی نے دیکھا تو نھی تو اس نے مجھے تسلی دلا دی کی میں سب کی نظروں سے بچ کر ھی آئی ھوں
اتنے میں ہم کھالے کہ پاس پہنچ گئے اور پھر باری باری کھالا کراس کیا اور ٹاہلی کے بڑے سے درخت کے پیچھے جاکر بیٹھ گئے
میں اور عظمی بلکل ساتھ ساتھ بیٹھ گئے
تو عظمی بولی بتاو اب
میں نے کہا
میں تمہیں کلاس کی طرف بھیجنے کے بعد کمرے کے پیچھے گیا اور کھڑکی سے اندر کے حلات جاننے کے لیے کان لگا کھڑا ھوگیا کہ ماسٹر جی اب کیا کہتے ہیں
مگر ماسٹر جی کو ہمارے ادھر آنے کا پتہ نھی چلا تھا
اور ماسٹر جی فرحت کو پھر گندے کام کرنے کا کہہ رھے تھے اور فرحت ڈری ہوئی نہ نہ کررھی تھی
تبھی مجھے ایسا لگا کہ ماسٹر جی نے پھر فرحت کے ساتھ گندا کام کرنا شروع کردیا ھے تو میں نے اینٹیں اکھٹی کی اور انکو دیوار کے ساتھ رکھ کر اوپر کھڑا ھوگیا
جب میں نے اندر دیکھا تو ماسٹر جی فرحت کے سارے کپڑے اتارے ھوے تھے اور انکے دودو چوس رھے تھے اور اپنا ایک ھاتھ فرحت کی پیشاب والی جگہ پر رکھ کر مسل رھے تھے
میں جیسے جیسے عظمی کو بتا رھا تھا عظمی کا رنگ سرخ ھوتا جارھا تھا اور وہ میری بات سنتے ہوے بار بار اپنی زبان کو ہونٹوں پر پھیر رھی تھی
میرا لن بھی نیچے سے سر اٹھا چکا تھا
عظمی بولی اچھا پھر کیا ھوا
تو میں نے کہا پھر ماسٹر جی نے اپنی شلوار اتاری اور اپنا اپپپنا
تو عظمی بولی کیااااا اپنا
تو میں نے اسکا ھاتھ پکڑا اور اپنے اکڑے ھوے لن پر رکھ کر کہا
ماسٹر جی اپنا یہ لن نکال کر فرحت کے منہ میں ڈال دیا
تو عظمی نے جلدی سے اپنا ھاتھ واپس کھینچا اور مجھے گھورتے ھوے کہا
تمیز نال زیادہ شوخا نہ بن
میں جھینپ سا گیا اور خاموش ھوگیا
عظمی پھر بولی
اگے دس فیر کی ہویا
میں نے کہا
پھر ماسٹر جی نے فرحت کی بھی شلوار اتار دی اور گندے کام کرنے لگ گئے،
عظمی بولی یاسررررررر سہی طرح بتاو کہ پھر کیا ھوا
میں نے اسے گھورتے ھوے کہا کہ پھر تم نے میری شلوار کھینچ کر اتار دی تھی
تو عظمی میری بات سن کر شرمنده سی ھوگئی اور سر نیچے کرتے ھوے بولی کہ وووہ وہ تو میں نے تمہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے تمہاری شلوار کو کھینچا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ تم اتنی ڈھیلی الاسٹک والی شلوار پہنتے ھو
تو میں نے کہا جب اتنی ذور سے کھینچی تھی تو نالا بھی ھوتا تو تب بھی شلوار اتر جانی تھی
تو عظمی بولی تم اب کون سا بچے ھو جو الاسٹک پہنتے ھو
تو میں نے کہا تم بھی تو الاسٹک ھی پہنتی ھو
تو عظمی نے اپنی قمیض آگے سے اوپر کر کے اپنا نالا مجھے دیکھاتے ھوے کہا
اے ویکھ بَچُو لاسٹک نئی نالا اے
عظمی نے جب قمیض اوپر کی تو اسکا چٹا سفید پیٹ مجھے نظر آیا اسکا پیٹ دیکھتے ھی میرے لن نے نیچے سے ایک ذور دار جھٹکا مارا
پھر عظمی بولی اچھا اب بتا بھی دو کہ پھر کیا ھوا
مجھے تو سارا کچھ بھول کر عظمی کے گورے جسم کو دیکھنے اور چومنے کی پڑ گئی مگر میں اندر سے ڈر رھا تھا کہ یہ موڈی لڑکی ھے اگر اس نے شور مچا دیا یا گھر بتا دیا تو سارا قصور میرا ھی نکلنا ھے،
اس لیے میں پہل کرنے سے گبھرا رھا تھا
عظمی نے مجھے کندھے سے ہلاتے ھوے پھر کہا ہیلو میں کیا پوچھ رھی ھوں
تو میں نے کہا ہاں ہاں ہاں
وہ وہ وہ بتا تو دیا کہ پھر دونوں گندے کام کرنے لگ گئے تھے
تو عظمی بولی یاسسسرررر کے بچے تفصیل سے بتاو کہ کیا کیا کررھے تھے
آخر میرا بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا
میں نے نشے کے سے انداز کھسک کر اسکے سامنے آیا اور اسکے سامنے آیا اور اسکے دونوں کندھوں کو پکڑا
اور منہ اسکے منہ کے قریب کیا اور بڑے رومینٹک انداز سے اسے کہا تفصیل سے بتاوں تو عظمی نے ہاں میں صرف سر ھی ہلایا اور میں نے ویسے ھی اسکو کندھوں سے پکڑے پیچھے کی طرف دھکیل کر گھاس پر لٹا دیا اور اسکے اوپر لیٹ گیا عظمی نے بڑی کوشش کی اپنا آپ چھڑوانے کی مگر کامیاب نہ ھوسکی
آخر کار تھک کر
رونے والا منہ بنا کر میری طرف دیکھنے لگ گئی.
میں نے ہونٹ اسکے ہونٹوں کے کچھ فاصلے پر کئیے ھوے تھے
عظمی نے اب اپنے نیچے والے ہونٹ کو ایسے باہر نکالا جیسے
چھوٹا بچہ رونے سے پہلے نیچے والا ہونٹ باہر نکال کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیتا ھے
بلکل ویسے ھی عظمی نے اپنا. نیچے والا ہونٹ باہر کو نکالا ھوا تھا اسکے ہونٹ تو پہلے ھی پنک کلر کے تھے مگر ہونٹ کا اندر کا حصہ سرخی مائل تھا
میں جیسے ھی اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا تو
عظمی نے اپنے ایک ہاتھ کا مکا بنایا اور مجھے دیکھانے لگ گئی میں نے سر کے اشارے سے پوچھا کیا ھے
تو عظمی نے اہنے نیچے والے ہونٹ کو مذید باھر نکالتے ھوے کہا
ماروں گی
دوستو
اس وقت جیسا سٹائل اور جیسی معصومیت اور انداز تھا عظمی اگر آپ اس سین کو امیجینیشن کریں تو آپ عظمی کے دلفریب گلاب کے کھلتے پھول جیسے ہونٹوں کو کھا جائیں
کچھ ایسا ھی میرے ساتھ ھوا اور میں اسکی ادا اسکی معصومیت پر مر مٹا اور بے ساختہ اسکے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا اور چوسنے لگ گیا
عظمی پہلے تو کچھ دیر مچلی مگر پھر اس نے بھی اپنا ایک ھاتھ میری گردن کے پیچھے رکھ لیا
بلکل فرحت کی طرح کیوں کہ سیکس کے بارے میں جتنا کچھ ہم دونوں نے سیکھا اور سمجھا اور دیکھا تھا وہ ماسٹر جی اور فرحت سے ھی سیکھا تھا
مختصراً وہ جوڑی اس جوڑی کی سیکس ٹیچر تھی
خیر
ہم دونوں اب مسلسل ایک دوسرے کے ہونٹ چوس رھے تھے. مجھے بھی بہت اچھا لگ رھا تھا اور عظمی کے منہ کے لباب کو اپنے لباب کے ساتھ مکس کر کے اندر نگھلتے وقت ایک عجیب سا مزہ اور سواد آرھا تھا ایسے ھی کبھی عظمی میری زبان کو چوستی کبھی میں عظمی کی زبان کو چوستا
عظمی اب مکمل طور پر میرے کنٹرول میں آچکی تھی اور میں اسکا بھرپور فائدہ اٹھا رھا تھا
میں نے ایک ھاتھ سے عظمی کی ایم مسمی کو پکڑا اور دبانے لگ گیا عظمی کا مما میرے ھاتھ میں پورا آیا ھوا تھا
اور میرا لن عظمی کی تھائی کے ساتھ ٹکریں مارھا تھا
کچھ دیر بعد میں نے عظمی کی قمیض کو اوپر کرنے کی کوشش کی تو عظمی نے میرا ہاتھ پکڑا لیا میں نے ہاتھ چُھڑوایا اورپھر سے قمیض اوپر کرنے لگا تو قمیض کا نچلا حصہ زمین کے ساتھ لگا ھونے کی وجہ سے آگے سے قمیض بس پیٹ سے تھوڑا اوپر مموں کے نیچے تک ھوئی
میں نے اسی کو غنیمت جانا اور عظمی کے گورے چٹے سفید روئی کی طرح نرم پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگ گیا
میرا ھاتھ جیسے ھی عظمی کے پیٹ پر رینگتا ھوا عظمی کے مموں کے قریب گیا عظمی ایک دم مچلی اور میرے ھاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا میں نے بھی تھوڑا زور لگا کر اپنے ھاتھ کو عظمی کی قمیض کے نیچے سے گزار کر عظمی کی ایک مسمی کو پکڑ لیا
دوستو عظمی کا مما اتنا نرم اور ملائم تھا کہ کیا بتاوں مجھے تو ایسے لگا جیسے میں نے کوئی روئی کا گولا ہاتھ میں پکڑا لیا ھو ھو
میں نے تین چار دفعہ جوش میں آکر عظمی کے ممے کو کچھ زیادہ ھی زور سے دبا دیا
عظمی کو شاید کچھ ذیادہ ھی درد ھوگئی اور اس نے ایک لمبی سی سسکاری لی اور پھر ہلکی سی چیخ ماری اور غصے سے بولی جانور مت بنو آرام سے کرو
میں نے ساتھ ھی اپنے ھاتھ کو نرم کرلیا اور پیار سے آرام آرام سے ممے کو دباتا رھا اور انگلی سے اسکے اکڑے ھوے چھوٹے سے نپل کو بھی چھیڑتا رھا جس سے عظمی
مزے کی وادیوں میں کھو گئی
اور
ہمممممم اففففف سسسسسیییی کرنے لگ گئی
عظمی میرے ھونٹوں کو پاگلوں کی طرح چوس رھی تھی دو تین دفعہ تو اس نے میرے ہونٹ پر کاٹ بھی دیا تھا مجھے درد تو ھوا مگر میں نے اسپر ظاہر نھی کیا اور میں بھی مزے سے ایک ھاتھ سے اسکے دونوں مموں کو باری باری اپنی مٹھیوں میں بھرتا اور کبھی ہاتھ کو پیٹ پر لے آتا
کچھ دیر ایسے ھی ہم ہر چیز سے بیگانے ھوکر اپنی مستی میں لگے رھے پھر میں ہاتھ عظمی کے نالے پر رکھا اور نالے کی گانٹھ کے سرے کو انگلیوں سے تلاش کرنے لگ گیا
میں اس انداز سے نالے کے سرے کو تلاش کررھا تھا کہ عظمی کو شک بھی نہ ھو کہ میں اسکا نالا کھولنے لگا ھوں
تھوڑی سی محنت کرنے کے بعد میں نے ایک جھٹکے سے نالے کے سرے کو کھینچا تو نالا کھل گیا اس سے پہلے کہ عظمی اپنی شلوار کو پکڑی یا میرے ہاتھ کو پکڑتی
میں نے جلدی سے اپنی تین انگلیاں اسکی پھدی پر رکھ کر اسکی پھدی کو مسلنے لگ گیا
ایسا بس چند سیکنڈ میں ھی ھوا عظمی کی پھدی نے جیسے ھی میری انگلیوں کو دیکھا تو پھدی سے آنسووں کی جھڑی لگ گئی اور عظمی نے ایک لمبی سی سسکاری لی اور مجھے کس کر جپھی ڈالتے ھوے بولی سسسسیییی ھااااےےےےے یاسسسرررر کے بچچچےےےے
کی کیتا ای
ادھر پھدی کے آنسووں نے میری انگلیوں کو تر کردیا اور میری انگلیاں آپس چِپ چِپ کرنے لگ گئی میں نے عظمی کی پھدی پر انگلیوں کا دباو بڑھا دیا تھا اور عظمی بھی ویسے ھی مچل رھی تھی. پھدی کو مسلنے کی سپیڈ میری بھی کافی تیز ھوگئی اسی دوران عظمی نے مجھے کس کر بڑے زور سے اپنے بازوں میں جکڑ لیے اور گانڈ اٹھا اٹھا کر پھدی کا مساج کروانے لگ گئی پھر اس نے ایک لمبی سے ھاااااااااا کی اور اپنی دونوں ٹانگوں کو آپس میں زور سے بھینچ لیا اور پھدی سے گرم گرم لاوا نکل کر میری انگلیوں کو جلاتا ھوا عظمی کی گانڈ سے نیچے گھاس پر گرنے لگا
عظمی تین چار دفعہ کانپی اور ٹھنڈی ھوگئی مگر میں تو ویسے کا ویسا ھی تھا عظمی کی سیکسی آوازیں سن کر اور اسکی پھدی کا لمس پاکر میرا جزبہ اور جنون تو اور بڑھ چکا تھا میں پھر ایک دفعہ عظمی کی پھدی کے اوپر ھی اپنی انگلیوں کو پھیرنے لگ گیا اور دوسرے ھاتھ سے عظمی کی قمیض کو زور لگا کر مموں سے اوپر کردیا اور جوش میں مما منہ ڈال لیا مجھے ایسا کر کے اتنا مزہ آرھا تھا کہ اس مزے کی کیفیت کو میں یہاں لفظوں میں بیان نھی کرسکتا
میرا ھاتھ سپیڈ سے پھدی کے اوپر ھی حرکت کر رھا تھا اور میرا لن عظمی کے پٹ کے ساتھ گھسے مارنے اور رگڑنے میں مصروف تھا
کہ اچانک جوش میں نے اپنی درمیان والی پوری انگلی عظمی کی پھدی کے اندر گھسا دی پھدی بھی گیلی تھی اور انگلی بھی گیلی
جب انگلی اور پھدی راضی
تو کیا کرے گا قاضی
جیسے ھی انگلی عظمی کی پھدی کے اندر گئی عظمی نے ایک ذور دار چیخ مار کر مجھے پیچھے کو پورے ذور سے دھکا دیا
میں عظمی کے اچانک اس رد عمل پر بہت ذیادہ ھی ڈر گیا اور پیچھے کی طرف جاگرا
اتنے میں مجھے اپنے پیچھے سے کھالے کے بنے
میں عظمی کی چیخ سن کر اور اسکے زور دار دھکے کی وجہ سے پہلے ھی سہم گیا تھا اوپر سے جیسے ھی بنے پر کسی کے دوڑے آنے کی آواز سنی تو میرے اور زیادہ ترا نکل گئے میں نے ڈر کے مارے جلدی سے ٹاہلی کی اوٹ لیتے ھوے دوسری طرف دیکھا تو مجھے چار پانچ بڑے بڑے کُتے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ھوے آگے پیچھے بنے پر ہماری طرف ھی دوڑے آتے ھوے نظر آے
کُتوں کو دیکھ کر میری تو گانڈ پھٹنے والی ہوگئی
میں نے جلدی سے عظمی کی طرف دیکھا جو اپنا نالا باندھ رھی تھی اسنے بھی کتوں کی آوازیں سن لی تھی
اس لیے رنگ اسکا بھی اڑا ھوا تھا
میں نے ڈرے ھوے انداز سے عظمی کو کہا
او تواڈی پین نوں عظمی چھیتی کر کُتے آگئے نے
عظمی نے جلدی جلدی سے کپڑے سہی کیے اور میرے پیچھے کھڑی ھو کر کُتوں کو دیکھنے لگ گئی
میں نے جلدی سے اسکا ھاتھ پکڑا
اور مکئی کی فصل کے بیچو بیچ نہر کی طرف دوڑ لگا دی
ہم نے پیچھے مڑ کر نھی دیکھا تھوڑی ھی دیر بعد بھاگتے ھوے ہم نہر پر چڑھ کر ھی پیچھے دیکھنے لگ گئے اور اپنے گُٹنوں پر ھاتھ رکھ کر جھکے ھوے زور زور سے سانس لینے لگ گئے
کچھ دیر بعد عظمی سیدھی ھوئی اور اپنے مموں پر ھاتھ رکھ کر بولی
شکر ھے آج. بچ گئے
میں نے بھی کہا ھاں یار واقعی قسمت نے بچا لیا
اور پھر ہم نے نہر سے پاوں دھوے اور منہ ھاتھ. دھو کر نہر کے کنارے پر چلتے ھوے
ٹرین کی پٹری کے پُل پر پُہنچ گئے
ٹرین کی پٹری ہمارے گاوں کے پاس سے ھی گزرتی تھی ہم تھوڑی دیر وہاں کھڑے رھے اور پٹری پر ھی گاوں کی طرف چل دئیے
میں نے عظمی کو کہا چلو دیکھتے ہیں کون پٹری کے اوپر زیادہ دیر تک چلتا ھے عظمی بولی مجھ سے نھی چلا جانا میرے پہلے ھی جلن ھورھی ھے
میں نے کہا کہاں جلن ھورھی ھے
تو وہ غصے سے بولی
جتھے توں چول ماری اے
میں امی نوں دساں گی کہ میرے نال گندے کم کردا اے
تو میں نے کہا
یار ایک تو تم روز مجھے امی کی دھمکیاں دیتی رھتی ھو جاو بتا دو
میں بھی تمہاری ساری کرتوت بتاوں گا تو عظمی بولی جاو بتا دینا
میں نے عظمی کا ھاتھ پکڑتے ھوے کہا
اچھا بتاو نہ کہاں جلن ھورھی ھے میں دبا دیتا ھوں
تو عظمی بولی
بوتا شوخا نہ بن وڈا آیا دبان والا
میں نے کہا عظمی
تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی
کی اے
تو میں نے کہا یار معاف کردو غلطی سے ھوگیا تھا
تو وہ بولی غلطی سے ھوا تھا یا پھر جان بوجھ کر کیا تھا
تو میں نے کہا قسم سے مجھے پتہ ھی نھی چلا اور میں نے انگلی اندر کردی مجھے مزا ھی اتنا آرھا تھا کہ مجھے ہوش ھی نہ رھا
تو عظمی بولی
تمہیں پتہ بھی ھے کہ کتنی درد ھوئی تھی میری. ایک دم سے جان نکل گئی تھی
میں نے کہا ہاں یار واقعی تمہاری تو چیخ ھی نکل ،،،،،گئی تھی،،
مگر مجھے بعد میں پتہ چلا کہ سالی نے مزے والی چیخ ماری تھی،،،
اور میں نے حیرانگی سے،،
عظمی کی طرف دیکھا اور عظمی سے کہا یار تم بھی لڑکی ھو اور وہ فرحت بھی تو لڑکی ھی ھے
مگر اسے نے تو
،،،،،،،،،،،،
اتنا کہہ کر میں خاموش ھوگیا
تو عظمی بولی
کیا اسنے تو
میں نے کہا کچھ نھی
چلو نہ یار پٹری کے اوپر چلتے ہیں عظمی بولی نئی پہلے بتاو
کہ کہا کہنے لگے تھے
میں نے کہا یار پھر کبھی بتاوں گا لمبی بات ھے ابھی اندھیرا ھو رھا ھے یہ نہ ھو کہ امی لوگ ہمیں ڈھونڈنے کھیت میں پہنچ جائیں
عظمی نے جب امی کا سنا تو تیز تیز چلنے لگ گئی
اتنی دیر میں ہم گاوں پہنچ گئے اور تیز تیز چلتے جب گلی کی نکڑ پر پہنچے تو سامنے سے نسرین چلی آرھی تھی
ہم بھی نسرین کی طرف چل دیے تو وہ بڑے غصے سے بولی
مل گیا ٹیم ویلیاں نوں کار آندا
تسی کار چلو اک واری آوارہ گردو
ابو دس دے نے توانوں
عظمی بولی
چل چل آئی وڈی کماں والی
اور یہ کہہ کر اسکو نظر انداز کرتی ھوئی گھر کی طرف چلدی نسرین بھی اسکے پیچھے پیر پٹختی پُھوں پُھوں کرتی چلدی
میں تو سیدھا اپنے گھر ھی چلا گیا
مجھے انکل سے ویسے ھی ڈر لگتا تھا
ایسے ھی دن گزرتے رھے
ہمارے پیپر شروع ھوگئے پھر رزلٹ بھی آگیا میں. کلاس میں فرسٹ آیا تھا
اور عظمی اور نسرین نے بھی اچھے نمبر لیے تھے مگر وہ صرف پاس ھی ھوئی اس دوران
میری عظمی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ چلتی رھی
موقع ملتے ھی ہم کسنگ بھی کرلیتے
عظمی نے کئی دفعہ مجھ سے پوچھا تھا کہ اس دن کیا بتانے لگے تھے مگر میں ہر دفعہ یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ پھر بتاوں گا
عظمی نے بھی اب مجھے پوچھنا چھوڑ دیا تھا
ادھر سکول میں
ہم نے دوبارا فرحت کو نھی دیکھا شاید ماسٹر جی نے اسے چودنے کے لیے کسی اور جگہ کا بندوبست کرلیا تھا
رزلٹ کے بعد اب ہم تینوں نے شہر کے سکول میں داخلہ لینا تھا
کچھ دنوں بعد. ہماری نئی یونیفارم کتابیں اور بیگ بھی آگیا
ابو مجھے شہر کے گورمنٹ مڈل سکول میں داخل کروا آے اور عظمی نسرین میرے سکول کے کچھ فاصلے پر گرلز مڈل سکول میں داخل ھوگئی،،،
دوستو پہلا دن تو میرا سکول میں بڑا ھی کنفیوژن میں گزرا میں سکول کی عمارت کو کمروں کو اور کمروں میں پڑے ڈیسکوں کو اور چھت پر لگے پنکھوں کو اور دیواروں پر لگے رنگ برنگے چارٹوں کو دیکھ دیکھ کر بہت خوش ھوتا رھا
اوپر سے ہماری کلاس میں زیادہ بچے شہری ھی تھے جو فر فر اردو بولتے تھے
کچھ ممی ڈیڈی بچوں نے میرا خوب مزاق بھی اڑایا اور میری ٹوٹی پھوٹی اردو سن کر کھلکھلا کر ہنسنے لگ جاتے
میں شرمندہ سا ھوجاتا
سکول میں سب سے زیادہ مزہ مجھے جس چیز کو دیکھ کر آیا وہ تھی برآمدوں میں دیواروں کے اوپر پینٹنگ کی ھوئی علامہ اقبال اور قائد اعظم کی تصویر یں
میں انکو بڑے غور سے دیکھتا اور دوسری طرف جاتا تو وہ دونوں میری ھی طرف دیکھ رھے ھوتے پھر دوسری طرف جاتا تو تب بھی میری ھی طرف دیکھ رھے ھوتے. میں یہ سب دیکھ کر بہت خوش ھوتا رھا اور اس چیز کو بہت انجواے کیا
خیر ہم صبح صبح جلدی جلدی تیار ھو کر سکول کی طرف نکل پڑتے کیوں کہ ہمیں سکول جانے سے زیادہ خوشی شہر جانے کی ھوتی
اور ہم نے جانا بھی پیدل ھوتا تھا وہ بھی کھیتوں کے بیچ سے کیوں کے ادھر سے ہمیں شارٹ کٹ پڑتا تھا نہر پر ایک چھوٹا سا لکڑی کا پُل بنا ھوا تھا جس سے گزر کر ہم شہر کی طرف جاتے تھے
سکول جاتے ھوے بھی عظمی سے کھڑمستیاں نھی ھوسکتی تھی کیوں کے ہمارے ساتھ باجی صدف ھوتی تھی جو عظمی اور نسرین کی ٹیویشن ٹیچر بھی تھی اور شہر کڑھائی اور سلائی کا کام سیکھنے جاتی تھی
واپسی پر وہ ہمارے ساتھ نہی ھوتی تھی کیوں کہ انکو چھٹی لیٹ ھوتی تھی
مگر پھر بھی واپسی پر نسرین کے ہوتے ھوے میں عظمی سے سواے ہنسی مزاق کے اور کچھ نھی کرسکتا تھا
باجی صدف بھی کافی شوخ مزاج تھی
اسکی عمر کوئی بیس سال کے لگ بھگ تھی اور
تھی بڑی سیکسی سی
چھتیس سائز کے ممے تھے جو برقے میں بھی باہر کو نکلے نظر آتے تھے اور موٹی موٹی آنکھیں پیٹ نہ ھونے کے برابر تھا اور اسکی گانڈ تو کمال کی تھی بلکل گول مٹول اور باہر کو نکلی ھوئی ایک تو وہ برقعہ بھی بڑا فٹنگ والا پہنتی تھی جس سے اسکے ممے اور گانڈ بلکل برقعہ میں پھنسے ھوتے اور جب وہ چلتی تو پیچھے سے ہلتی ھوئی گانڈ کا نظارا ھی الگ ھوتا
رنگ اسکا تھوڑا گندمی تھا مگر اسکے رنگ میں ایک کشش تھی جو
ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتی بات کرتے ھوے آنکھوں کو وہ اکثر بڑی ادا سے جھپکا جھپکا کے بات کرتی
جب وہ میرے آگے آگے بنے پر چلتی ھوتی تو میری کوشش یہ ھی ھوتی کی میں باجی صدف کے پیچھے ھی رھوں اور اسکی ہلتی ھوئی گانڈ شہر تک جاتے دیکھتا رھوں
وہ اکثر مجھے چھیڑتی رہتی
جب بھی وہ ہمارے ساتھ سکول جانے کے لیے شامل ھوتی تو آتے ھی میری گال پر چُٹکی کاٹ کر کہتی سنا شزادے چلیں
میں اپنی گال کو مسلتا ھوا کہتا کہ چلو باجی
مگر دل ھی دل میں اس کو گالیاں دیتا کہ سالی روز اتنی زور سے چٹکی کاٹ دیتی ھی،،
کسے دن میں ایدی بُنڈ تے دندی وڈ کے پج جانا اے،
مگر یہ میرا خیالی پلان تھا میں ایسا صرف سوچ ھی سکتا تھا پریکٹیکل کرنا ناممکن تھا
دوستو
کافی دن ایسا ھی چلتا رھا
ہماری کلاس میں ایک لڑکا تھا اسد
جس کو سب اونٹ کہتے تھے
کیوں کہ اسکی عمر کوئی اٹھارہ سال کے لگ بھگ تھی اور اسکا قد ساری کلاس کے لڑکوں سے بڑا تھا وہ واقعی ھی ہمارے بیچ اونٹ ھی لگتا
اسد پڑھائی میں بلکل نلائق تھا اسی وجہ سے وہ ابھی تک چھٹی کلاس میں ھی رھا تھا
ویسے اسکے ٹشن وشن سے لگتا تھا کہ یہ کسی کھاتے پیتے گھرانے کا لڑکا ھے
سارا دن بس کتاب کو دیکھتا ھی رھتا پڑھتا کچھ بھی نہ
شکل سے بلکل سالا پُھکرا لگتا تھا
اوپر سے میری بدقسمتی اس سالے کی سیٹ بھی میرے ساتھ ڈیسک پر ھی تھی
میں نے اکثر نوٹ کیا کہ اسد جان بوجھ کر کبھی میرے پٹ پر ہاتھ رکھ دیتا تھا اور کبھی بینچ پر ھاتھ رکھ کر انگلیاں میری گانڈ کے نیچے پھنسا دیتا
میں کافی دن اسکو اتفاق سمجھ کر اگنور کر دیتا
تھا
ایک دن میں نے دیکھا. کہ اسد بڑا مست ھوا ڈیسک کے خانے میں کتاب رکھے بڑے غور سے کتاب کو دیکھ رھا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے لن کو پکڑ کر مسلی جا رھا تھا میں کافی دیر اسکی حرکتوں کو نوٹ کرتا رھا پہلے تو میں سمجھا شاید اسکے خارش ھورھی ھے مگر اس نے ایک دفعہ کتاب کا صفحہ پلٹنے کے لیے لن سے ھاتھ ہٹایا تو اسکی شلوار میں تمبو بنا ھوا تھا جو قمیض کو بھی اوپر تک اٹھاے ھوے تھا
میں یہ سب دیکھ کر ایکدم چونکا اور کتاب کو غور سے دیکھنے لگ گیا جیسے ھی میری نظر کتاب پر پڑی.،،
میرے تو پسینے چھوٹ گئے اور ایکدم میں نے جھر جُھری سی لی اور آنکھیں پھاڑے کتاب کو ھی دیکھے جارھا تھا ،
جو اصل میں سیکسی پکچر کا رسالہ تھا جسے میں کتاب سمجھ رھا تھا
رسالے میں انگریز لڑکوں اور لڑکیوں کی تصویریں تھی
جس میں کسی جگہ
لڑکا لڑکی کی پھدی کو چاٹ رھا تھا کہیں لڑکی لڑکے کے لن کو منہ میں لے کر چوس رھی تھی کہیں گوری گھوڑی بنی ھوئی تھی اور گورے نے اسکے بال پکڑے ھوے تھے اور لن پیچھے. سے اسکی پھدی میں ڈالا ھوا تھا
کسی جگہ. گوری اپنے ممے چسوا رھی تھی کسی جگہ دو دو گورے ایک گوری کو آگے پیچھے سے چود رھے تھے اور کسی جگہ دو گوریاں آپس میں ھے ایک دوسری کی پھدی چاٹ رھی تھی یا ممے چوس رھی تھی کہیں گوری اپنی انگلی پھدی میں ڈال کر لیٹی ھوئی تھی
ایسے بہت سے پوز تھے
میں رسالا دیکھنے میں فل مگن ھوگیا تھا اور نیچے سے میرا لن اچھل اچھل کر مجھے آوازیں دے رھا تھا مگر میں لن سے بیگانہ ھوکر بس انگریز گوریوں کی پھدیاں اور ممے اور چٹی چٹی بُنڈیں دیکھنے میں مصروف تھا کہ اچانک مجھے جھٹکا لگا اور میں نے گبھرا کر جب نیچے دیکھا