میری خوش نصیبی تھی کہ میں بیہوش نہیں ہوا تھا۔ بس بیہوشی والی غنودگی تھی۔ اور یہی چیز مجھے زندہ رکھنے میں کامیاب بھی رہی۔ اگر میں بھی بیہوش ہو جاتا تو ہم میں سے کسی کا بھی بچ پانا ممکن نہیں تھا۔ ہم جہاں گرے تھے، وہاں جنگلی پودے تو تھے ہی، لیکن سورج کی دھوپ بھی تھی۔
میں اور ظہیر ننگے تھے۔ اور سورج کی وجہ سے میرے جسم میں چبھن ہونے لگی۔ دلدل کا کیچڑ ظہیر سے مجھے بھی لگ گیا تھا۔ اور سورج کی دھوپ جب میرے بدن پر پڑی تو دلدل کے کیچڑ کی وجہ سے مجھے جلن ہونے لگی۔
اور پھر مجھے کچھ کچھ ہوش آنے لگا۔ جیسے ہی کچھ ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنے جسم میں جلن ہونے لگی۔ میں سوچنے لگا کہ مجھے جلن کیوں ہو رہی ہے۔ لیکن یاد نہ آیا۔
میں نے نظر گھما کر تینوں کو دیکھا۔ تینوں ہی بیہوش پڑے ہوئے تھے۔ پتا نہیں مجھے گرے ہوئے کتنی دیر ہو گئی تھی۔ میں نے اوپر دیکھا تو سورج کی دھوپ کم تھی۔ مطلب ایک گھنٹہ رہتا تھا سورج کے ڈوبنے میں۔ لیکن پھر بھی دھوپ برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تو وہاں پر سوجن ہونے لگی تھی۔
یعنی دھوپ کی وجہ سے دلدل کا پانی جو میرے جسم پر لگا ہوا تھا، وہ دھوپ کے لگنے کی وجہ سے اپنے اثر کو بڑھانے لگا تھا۔ جب میرا یہ حال ہے تو ظہیر کا پھر کیا حال ہوگا؟ یہ سوچتے ہی میں نے ظہیر کو دیکھا ۔
اگر مجھ میں پوری ہمت ہوتی تو میں زور زور سے چیختا۔ کچھ ایسی ہی حالت ظہیر کی ہو رہی تھی۔ ظہیر کچھ کچھ ہوش میں تھا۔ لیکن اس کے منہ پر سوجن ہی اتنی آ گئی تھی کہ ظہیر چیخنے کی حالت میں نہیں رہا تھا۔ بس ہلکا ہلکا ہل رہا تھا۔ دلدل کے کیچڑ کی وجہ سے دھوپ نے ظہیر کے بدن میں بھی سوجن کو بڑھنا شروع کر دیا تھا۔ اور ظہیر درد سے چھٹکارا تو نہیں پا سکتا تھا، اس لیے ہل رہا تھا۔ لیکن وہ خود کو کیسے بچا سکتا تھا؟
میرے بھی ہاتھوں میں سوجن بڑھنے لگی تھی۔ میری پیٹھ پر بھی دلدل کا پانی لگا ہوا تھا۔ لیکن وہاں دھوپ نہیں پہنچ پا رہی تھی، اس لیے بچت ہو گئی۔
میں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اتنی سکت ہی نہیں بچی تھی کہ اٹھ سکتا۔ لیکن یہاں موت کی آہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے خود کے اندر بچی کھچی ہمت کو بھی سمیٹا اور پھر اسے استعمال لاتے ہوئے لڑھکتے ہوئے ظہیر کے پاس پہنچا۔
میری کوشش تھی کہ کسی طرح سے ظہیر کو دھوپ سے بچاؤں۔ ابھی جتنے منٹ بھی دھوپ کے تھے، یہاں اس جنگل میں وہ بھی ہمارے لیے جان لیوا تھے۔ خاص کر ظہیر کے لیے۔
میں کیسے بھی کر کے ظہیر کے پاس پہنچا اور سوچنے لگا کہ ظہیر کے لیے کیا کروں۔ اب میں اسے کیسے کھینچوں؟ اور کیسے دھوپ سے دور کسی پیڑ کی چھاؤں میں لے جاؤں؟ مجھے اپنے اندر انرجی فیل نہیں ہو رہی تھی۔
لیکن زندگی کو بچانے کے لیے مجھے اپنے اندر ہمت پیدا کرنی پڑے گی۔ ورنہ یہیں مر جاؤں گا اور میرے ساتھ میرے دوست بھی مر جائیں گے۔ اور ساتھ مرے گی رانی بھی، جو اتنی ہمت کر کے بھی جنگل سے میرے ساتھ ہی نکلنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اتنا کچھ کر پانے کے بعد بھی اگر رانی مر جاتی ہے تو یہ ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ اب سمندر پاس تھا اور زندگی بچانے کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا تھا۔ یعنی اگر ہم یہاں سے نکل کر سمندر کے پاس پہنچ جائیں اور کچھ ہی صحیح، لیکن تھوڑی سی جسم میں طاقت آ جائے تو مرنا ہمارا کینسل ہو سکتا تھا۔
اور پھر میں نے یہاں سے بھاگنے کی کوشش مرنے کے لیے تو نہیں کی تھی۔ مجھے جینا ہے اور میری طرح سے میرے دوستوں کو بھی جینے کا موقع ملنا ہی چاہیے۔ اس کا بھی زندہ رہنے کا پورا پورا حق ہے۔
ظہیر کی پل پل بگڑتی حالت مجھ میں ہمت کو بھی بڑھا رہی تھی۔ بہت ہی غلط ہو رہا تھا ظہیر کے ساتھ۔ مجھے ہمت تو مل رہی تھی، لیکن ظہیر کی حالت اور بھی بگڑتی جا رہی تھی۔
میں نے ہمت کر کے ظہیر کو کھینچنا شروع کیا۔ اور پھر کیسے بھی کر کے میں ظہیر کو گھسیٹ کر چھاؤں تک لے جانے کے کامیاب ہو ہی گیا۔ اس بیچ میری کیا حالت ہوئی، میں نے نہیں بتا سکتا۔ تھوڑا سا ہی فاصلہ طے کرنے میں میں پل پل جیا اور مرا تھا۔
پھر میں نے دیکھا تو رانی (رانی) کو بھی کچھ کچھ سوجن ہونے لگی تھی۔ لیکن اسے کیسے ہو سکتی تھی؟ وہ تو سیف رہی تھی۔ رانی تو دلدل کے پانی سے دور ہی رہی تھی۔ لیکن پھر میں نے سوچنا چھوڑ کر رانی اور سنجے کو بھی کسی طرح سے چھاؤں میں لے ہی آیا۔
اس بیچ میں اس بات پر بھی دھیان نہیں دے سکا کہ سنجے کو ظہیر کے پاس لاتے ہوئے دھوپ ختم ہو چکی تھی۔ بس دماغ میں تھا تو تینوں کو ہی ایک ساتھ کرنے کا۔ دھوپ سے بچانے کے ایک چکر میں میں نے ٹائم بھی بہت لگا دیا تھا۔ اور یہ بھی بھول گیا تھا کہ سنجے اس وقت دھوپ میں نہیں ہے۔
رانی کو جب میں کھینچ رہا تھا تو رانی کی کچھ کچھ آنکھیں کھلیں تو وہ مجھے دیکھ رہی تھی۔ لیکن اس کے چہرے پر کوئی بھی ری ایکشن نہیں تھا۔ رانی کی آنکھوں میں موت کا سا سناٹا تھا۔ میں رانی کی حالت دیکھ کر ڈر گیا۔
اب جنگل میں رات ہونے کا مطلب صاف تھا کہ موت۔ ہم کسی پیڑ پر چڑھ کر تو شاید بچ بھی سکتے تھے۔ لیکن پیڑ پر چڑھے بھی کون؟ نیچے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ کوئی کیڑا ضرور ہمیں کوئی نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اب سورج ڈوبنے میں کچھ ہی ٹائم باقی تھا اور مجھے سب کو کسی بھی طرح سے ساحل کے پاس لے جانا ہی ہوگا۔ وہاں کم خطرہ ہوگا۔ اور ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی چیز مل سکے جس سے تھوڑی انرجی اندر آ جائے۔
میں کھڑا ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن زیادہ چلنا میرے لیے مشکل تھا۔ بس کیسے بھی کر کے خود کو سنبھالے ہوئے تھا۔
میں نے ایک بار پھر ساحل کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں کچھ پیڑ دکھائی دیے۔ میں نے ایک بار تینوں کو دیکھا اور پھر اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر دل میں ایک فیصلہ لیا کہ اب کچھ بھی ہو جائے، مجھے ساحل تک جانا ہے اور کچھ نہ بھی مل سکے تو کسی ایسی جان دار کو ڈھونڈوں گا جس سے کچھ انرجی مل سکے۔
اگر ہو سکا تو سمندر کی مچھلی بھی اپنے دام میں لانے کی کوشش کروں گا۔ اگر مچھلی مل گئی تو بھوک بھی مٹ جائے گی اور پیاس بھی کم ہو جائے گی۔ کیونکہ مچھلی کو کچا کھانے سے پانی کی کمی کسی حد تک پوری ہو سکتی تھی۔
میں نے خود کو اندر سے مضبوط بناتے ہوئے ساحل کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔
بہت ٹائم لگنے لگا تھا۔ اور اگر میں بیچ راستے میں ہی کہیں گر گیا تو پھر واپس بھی نہیں جا پاؤں گا۔ اب تک سورج اتنا نیچے ہو گیا تھا کہ جنگل کے درختوں کے لمبے لمبے سائے بن گئے تھے۔ جس کی وجہ سے میری بچت ہوئی تھی۔ ورنہ پیٹھ پر دھوپ کے لگتے ہی میرا بھی ظہیر کے جیسے حال ہونا تھا۔