br>
نازی نے جیسے ہی اپنے دونوں ہاتھ اوپر کیے، اس کی لوز ٹی شرٹ اوپر کو اٹھی جس سے اس کے پیٹ کی نرمی اور کمر کی گولائی صاف نظر آنے لگی۔ میں نے نازی کی ٹی شرٹ کے نچلے حصے کو پکڑا اور اسے آہستہ آہستہ اوپر اٹھانے لگا۔ جیسے جیسے شرٹ اوپر ہو رہی تھی، نازی کے دودھیا بدن کی چمک میری آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ جب شرٹ سر سے گزری تو نازی کا نکھرا ہوا سراپا میرے سامنے تھا۔ اس نے نیچے برا نہیں پہنی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اس کے جوان اور سخت ممے آزاد ہو کر لہرانے لگے۔ ان کے سرے پر موجود گلابی نپل اکڑے ہوئے تھے جو اس کی شہوت کی گواہی دے رہے تھے۔
میں نے شرٹ ایک طرف پھینکی اور نازی کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ میرا ننگا سینہ اس کے گرم اور نرم مموں سے ٹکرایا تو ہم دونوں کے منہ سے ایک سسکاری نکل گئی۔ میں نے اس کے کان کے پاس جھک کر سرگوشی کی، “نازی، تم تو کسی اپسرا سے کم نہیں ہو!”
نازی نے شرماتے ہوئے اپنی نظریں جھکا لیں، لیکن اس کے ہاتھ میرے چوڑے کندھوں پر جمے ہوئے تھے۔ اب باری تھی اس کے ٹراؤزر کی۔ میں نے نیچے جھک کر اس کے لوز ٹراؤزر کے لاسٹک کو پکڑا اور اسے آہستہ سے نیچے سرکانے لگا۔ ٹراؤزر نازی کی ریشمی ٹانگوں سے پھسلتا ہوا نیچے گرا تو وہ اب مکمل طور پر برہنہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی چوت پر بالوں کی ہلکی سی جھاڑی تھی جو اس کی جوانی کو مزید پرکشش بنا رہی تھی۔
میں نے نازی کو بیڈ پر لٹایا اور خود اس کے اوپر آ گیا۔ اس کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں جیسے وہ میرا استقبال کر رہی ہوں۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو دوبارہ اپنی گرفت میں لیا اور اس بار بوسہ اور بھی گہرا اور تشنہ تھا۔ میرا ایک ہاتھ نازی کے مموں کو سہلا رہا تھا اور دوسرا ہاتھ نیچے پھسلتا ہوا اس کی ریشمی رانوں کے درمیان پہنچ گیا۔
جیسے ہی میری انگلیوں نے نازی کی چوت کی لیس دار گرمی کو چھوا، وہ تڑپ اٹھی۔ “آہھھ بھائی۔۔۔ کیا کر رہے ہو؟” اس نے سسکتے ہوئے پوچھا۔ “تمہیں جنت کی سیر کروا رہا ہوں جانو،” میں نے جواب دیا اور اپنی درمیانی انگلی اس کی گیلی چوت کے اندر اتار دی۔ نازی نے اپنی کمر اوپر اٹھائی اور میری انگلیوں کی حرکت پر سسکیاں بھرنے لگی۔ اس کی چوت سے نکلنے والا مادہ میرے ہاتھ کو چکنا کر رہا تھا۔
میں اب مزید انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ میرا لن لوہے کی طرح سخت ہو چکا تھا اور نازی کی چوت کے دہانے پر دستک دے رہا تھا۔ میں نے نازی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور لن کے ٹوپے کو اس کی گیلی دراڑ پر سیٹ کیا۔
“نازی، تیار ہو جاؤ میری بیوی بننے کے لیے،” میں نے کہا اور ایک زوردار جھٹکا مارا۔ “اوہھھھ ماں۔۔۔۔ بھائی مر گئی!” نازی نے ایک لمبی چیخ ماری اور اس کے ناخن میری کمر میں گڑھ گئے۔ اس کی چوت بہت ٹائٹ تھی، لن آدھا اندر گیا تھا لیکن نازی کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ میں وہیں رک گیا اور اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے اسے پرسکون کرنے لگا۔
تھوڑی دیر بعد جب نازی نے خود اپنی کمر کو حرکت دی، تو میں نے دوسرا زوردار جھٹکا مارا اور میرا پورا موٹا لن جڑ تک نازی کی کنواری چوت میں اتر گیا۔ نازی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے لیکن ان آنسوں میں درد کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی لذت بھی تھی۔ میں نے آہستہ آہستہ دھکے لگانا شروع کیے۔ کمرے میں گوشت سے گوشت ٹکرانے کی ‘چپک چپک’ کی آوازیں گونجنے لگیں جو ہماری ہوس اور محبت کا سنگیت تھیں۔
نازی اب دھکوں کے ساتھ ساتھ اپنی آوازیں ملا رہی تھی، “آہھھ جانو۔۔۔ اور زور سے۔۔۔ مارو مجھے۔۔۔ اپنی نازی کو اپنی منی سے بھر دو!” نازی کی یہ باتیں سن کر میرے اندر کا جانور جاگ اٹھا اور میں نے دھکوں کی رفتار تیز کر دی۔ میرا لن پوری قوت سے نازی کے رحم سے ٹکرا رہا تھا اور ہر دھکے پر نازی کا پورا جسم لہراتا تھا۔ آخر کار چند منٹ کی اس طوفانی چدائی کے بعد، میرا لن تھرتھرانے لگا اور منی کے گرم فوارے نازی کی گہرائیوں میں گرنے لگے، جبکہ نازی بھی لرزتے ہوئے فارغ ہو گئی اور ہم دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر بیڈ پر ڈھیر ہو گئے۔
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 15) appeared first on Urdu Stories.