گھریلو عشق۔۔۔(قسط 14)

br>

اور خالہ کو دیکھتے ہی لن کو جھٹکا لگا۔ خالہ گاؤن والی نائٹی میں تھیں اور نائٹی کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا۔ پرپل کلر کی نائٹی میں سے خالہ کا سیکسی جسم دعوتِ نظارہ دے رہا تھا۔ خالہ مجھے دیکھتے ہوئے۔۔۔۔۔ کیا ہوا؟ میں خالہ کے قریب گیا اور مموں کو دباتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ خالہ کیوں بھانجے پر ظلم کرتی ہو؟ خالہ سیکسی اسمائل دیتے ہوئے۔۔۔۔۔ بھانجے تم بھی تو اپنی خالہ پر ظلم کرتے ہو جب خالہ کی چوت میں لن ڈالتے ہو۔

میں خالہ کی چوت پر ہاتھ رکھنے ہی والا تھا کہ نازی اپنے روم سے نکل کر آگئی۔ نازی نے بھی نائٹ لوز ٹراؤزر اور ایک کھلے گلے کی لوز ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ نازی خالہ کو دیکھتے ہوئے۔۔۔۔۔ خالہ زبردست نائٹی پہنی ہے آپ نے تو نائٹی میں اور۔۔۔۔۔ اور وہ چپ ہو گئی۔ خالہ بولیں۔۔۔۔۔ کیا ہوا بولو نہ؟ نازی میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔ خالہ بولیں۔۔۔۔۔ بول دو تم یہی کہنا چاہتی ہو کہ میں سیکسی لگ رہی ہوں۔ نازی نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ خالہ آپ تو بہت بولڈ ہیں۔ خالہ بولیں۔۔۔۔۔ یار ہم گھر میں تو ہیں اور گھر میں کیا شرم تم دونوں میرے سامنے کے بچے ہو۔

خالہ اور نازی کو نائٹ ڈریس میں دیکھ کر میری حالت خراب ہو رہی تھی۔ میں اٹھ کر اپنے روم میں جانے لگا تو خالہ بولیں۔۔۔۔۔ کہاں جا رہے ہو؟ میں۔۔۔۔۔ خالہ چینج کرنے۔ خالہ بولیں۔۔۔۔۔ چینج کر کے آؤ میں چائے بنا رہی ہوں۔

میں اوپر آیا کپڑے اتارے واش روم گیا لن کو ٹھنڈے پانی سے ٹھنڈا کیا اور ایک شارٹس پہن لی اور بغیر بنیان کے نیچے آگیا۔ خالہ بولیں۔۔۔۔۔ اوئے بھانجے بہت گرمی لگ رہی ہے آدھے ننگے ہی نیچے آگئے ہو۔ میں۔۔۔۔۔ خالہ گھر میں تو ہوں اور یہ دیکھیں شارٹس تو پہنا ہوا ہے۔ نازی بولی۔۔۔۔۔ بھائی یہ تو کچھ زیادہ ہی شارٹس ہے! اس کی نظریں شارٹس میں مچلتے ہوئے لن پر تھیں۔ میں بولا کہ بس چائے پی کر سونے تو جانا ہے۔ ابھی ہم باتیں بھی کر رہے تھے کہ بیل بجی۔ ٹائم دیکھا تو ایک بج رہا تھا۔ اب ہم تینوں اس پوزیشن میں تھے کہ گیٹ تک جانا مشکل تھا۔ تینوں کے نائٹ ڈریس تھے میں بھی جلدی سے اوپر گیا اور شرٹ پہن کر نیچے آیا۔ نازی اور خالہ روم میں چلے گئے۔ میں گیٹ پر گیا تو دیکھا خالہ کا دیور کھڑا ہے۔ میں نے گیٹ کھولا اور پوچھا۔۔۔۔۔ خیریت اس وقت؟ اور اس کو اندر لے کر آگیا۔ وہ بولا۔۔۔۔۔ ابو کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے تو بھابھی کو لینے آیا ہوں۔

میں روم میں گیا اور خالہ کو بتایا کہ آپ کا دیور آیا ہے اور آپ کے سسر کو دل کا دورہ پڑا ہے وہ آپ کو لینے آیا ہے۔ خالہ بولیں۔۔۔۔۔ تم جا کر اس کے پاس بیٹھو میں چینج کر کے آتی ہوں۔ میں باہر لاؤنج میں آکر اس کے پاس بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد خالہ بھی کپڑے چینج کر کے آگئیں اور اس سے پوری تفصیل پوچھی۔ پھر خالہ بولیں۔۔۔۔۔ کامی میں جا رہی ہوں کل تو ویسے بھی تمہاری اور نازیہ کی چھٹی ہے تو میں چلتی ہوں سسر جی کو دیکھ کر شام تک آجاؤں گی۔ میں۔۔۔۔۔ نہیں خالہ آپ آرام سے جائیں میں ہوں گھر پر۔

پھر خالہ اپنے دیور کے ساتھ ہاسپیٹل چلی گئیں۔ میں ان کو گیٹ تک چھوڑنے گیا اور گیٹ بند کر کے اندر لاؤنج میں آیا تو نازی لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھی۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی کیا ہوا خالہ کے سسر کو؟ میں نے نازی کو ساری ڈیٹیل بتائی۔ نازی بولی۔۔۔۔۔ بھائی چائے لاؤں؟ میں۔۔۔۔۔ ہاں لے کر آؤ۔

نازی کچن میں چائے لینے گئی تو میں نے شرٹ اتار دی اور ایزی ہو گیا۔ نازی چائے لے کر آئی اور جب کپ پکڑانے لگی تو نازی کے جسم سے بہت اچھی خوشبو آرہی تھی۔ نازی چائے دے کر میرے سامنے بیٹھ گئی اور بولی۔۔۔۔۔ بھائی ایک بات پوچھوں؟ میں۔۔۔۔۔ ہاں پوچھو۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی آپ اور خالہ بہت کلوز ہو گئے ہیں ان دو دن میں۔ میں۔۔۔۔۔ وہ کیسے؟ نازی۔۔۔۔۔ مجھے لگا کیونکہ اس سے پہلے خالہ ہمارے گھر آتی تھیں تو آپ سے اس طرح بات نہیں کرتی تھیں لیکن اب تو خالہ کا انداز بھی اور لگ رہا تھا۔ آج تو خالہ نے ایسی نائٹی پہنی ہوئی تھی کہ بس۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ نازی خالہ تو اپنے موڈ کی مالک ہیں اور مجھے تو نائٹی میں ایسا کچھ نہیں لگا۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی مجھے سب پتا چل رہا تھا آپ خالہ کے جسم کو دیکھ رہے تھے اور جب میں روم سے نکل رہی تھی تو آپ خالہ کے بہت قریب تھے خالہ کے بوبز پر ہاتھ رکھ کر کھڑے تھے اور کل جب میں کالج سے واپس آئی تو اس ٹائم بھی خالہ کا حلیہ ٹھیک نہیں تھا بال بکھرے ہوئے تھے اور خالہ کپڑے بھی الٹے پہن کر آئی تھیں شرٹ اور ٹراؤزر الٹے پہنے ہوئے تھے اور کل آپ دونوں گھر میں اکیلے تھے۔ میں۔۔۔۔۔ نازی پھر تم کیا سمجھیں؟ نازی۔۔۔۔۔ میں کیا بتاؤں یہ تو آپ کو پتا ہو گا جو میں نے دیکھا وہ بتا دیا اور آپ کو پتا وہاں ہوٹل میں کھانا کھانے گئے تھے لوگ ہمیں کس طرح دیکھ رہے تھے۔ میں۔۔۔۔۔ تم اور خالہ بھی ایسی تیار ہوئی تھیں کہ سب لوگ تم لوگوں کو ہی دیکھ رہے تھے۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی ایک عورت تو کہہ رہی تھی کہ یہ تو دونوں اس آدمی کی بیویاں لگتی ہیں ایک چھوٹی بیوی ہے اور دوسری بڑی۔ میں۔۔۔۔۔ واہ جی کیا بات ہے جبھی ایک کپل نے ہمیں دیکھ کر کہا تھا ناں نائس کپلز۔

میں اٹھ کر نازی کے برابر میں بیٹھ گیا اور نازی کے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ تو تم میری چھوٹی بیوی ہو بڑی تو ہم دونوں کو اکیلا چھوڑ گئی۔ نازی۔۔۔۔۔ تو اس کا مطلب آپ کے اور خالہ کے درمیان کچھ ہوا ہے؟ میں۔۔۔۔۔ یار مذاق کر رہا تھا تم تو سیریس ہو گئیں۔

اور اپنا ہاتھ شرٹ کے اندر ڈال کر نازی کے ممے کو دبانے لگا۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی یہ کیا کر رہے ہیں؟ میں۔۔۔۔۔ اپنی بیوی کو پیار۔ نازی۔۔۔۔۔ میں آپ کی بہن ہوں بیوی نہیں۔ میں۔۔۔۔۔ نازی ان باتوں کو چھوڑو اور میرے پیار کو انجوائے کرو اب تو باہر کے لوگ بھی تم کو میری بیوی بنا چکے ہیں۔ نازی۔۔۔۔۔ وہ تو خالہ کو بھی بنا چکے ہیں۔ میں۔۔۔۔۔ خالہ تو اپنے شوہر کی بیوی ہے۔

میں نازی کے ممے دبا رہا تھا نازی کے نپل اکڑ گئے تھے۔ نازی بھی گرم ہو رہی تھی اور آنکھیں بند کر لی تھیں۔ میں نے نازی کے گالوں پر پیار کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ نازی آج میری بیوی بن جاؤ۔ نازی نے آنکھیں کھولیں اس کی آنکھیں سیکس کی گرمی کی وجہ سے لال ہو رہی تھیں۔ میں۔۔۔۔۔ نازی کیا موڈ ہے؟ نازی نے شرماتے ہوئے اپنا سر میرے سینے میں چھپاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ بھائی مجھے نہیں پتا۔

میں نے نازی کا سر اوپر کیا اور اپنے ہونٹ نازی کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ ہونٹ رکھتے ہی نازی کو ایک جھٹکا لگا اور وہ ایک دم کھڑی ہو گئی اور تیز تیز سانس لینے سے اس کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ میں کھڑا ہوا اور نازی کو اپنے ساتھ لپٹا کر اپنے ہونٹ نازی کے نرم نرم ہونٹوں پر رکھ دیے۔ نازی نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔ میں۔۔۔۔۔ نازی آنکھیں کھولو میری جان۔ نازی نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا۔ میں۔۔۔۔۔ آئی لو یو نازی۔ نازی۔۔۔۔۔ سچی بھائی؟ میں۔۔۔۔۔ جی جان میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں کب سے یہ کہنا چاہتا تھا۔ نازی۔۔۔۔۔ آپ کی کوئی گرل فرینڈ تو نہیں ہے ناں؟ میں۔۔۔۔۔ آئی لو یو ٹو بھائی جان میری گرل فرینڈ تو میرے سامنے ہے جو مجھ سے لپٹی ہوئی ہے۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی میرے علاوہ آپ نے اب کسی گرل فرینڈ یا کسی اور لڑکی کے بارے میں سوچا بھی تو اس کو بھی اور آپ کو بھی جان سے مار دوں گی اور ہاں آج کے بعد بس میں ہوں آپ کی سب کچھ ہوں۔

یہ کہتے ہوئے نازی مجھ سے اور ٹائٹ سے لپٹ گئی۔ نازی نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ملا دیے۔ ہم دونوں بھائی بہن لاؤنج میں ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے۔ نیچے میرا لن ٹراؤزر کے اوپر سے نازی کی چوت کو پیار کر رہا تھا۔ ہم دونوں اب فرینچ کسنگ کر رہے تھے۔ میں نے نازی کو لپٹا کر اپنے دونوں ہاتھ سے نازی کی گانڈ کو بھی سہلاتا جا رہا تھا۔ لن اب نازی کی چوت کے ساتھ ٹکا ہوا تھا۔ نازی نے میرے منہ میں اپنی زبان ڈال دی تھی ہم ایک دوسرے کی زبانوں کو چوس رہے تھے۔ میں نازی کی کمر اور گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی بہن کے گلابی ہونٹوں کا رس پی رہا تھا۔ نازی اب اپنی چوت سے میرے لن کو دبا رہی تھی۔

نازی اب گرم ہو چکی تھی۔ میں اسی طرح لپٹائے ہوئے نازی کو امی کے کمرے میں لے کر آگیا۔ کیسا اتفاق تھا کہ امی کے کمرے میں امی کی چودائی کی پھر امی کی بہن یعنی اپنی خالہ کو چودا اور آج اسی کمرے میں اپنی بہن کو بھی چودنے کے لیے لے کر جا رہا تھا۔ روم میں جا کر میں نے لائٹ آن کی اور نازی سے کہا۔۔۔۔۔ جان اب ان کپڑوں کی کیا ضرورت ہے؟ نازی۔۔۔۔۔ پہلے آپ اپنے کپڑے اتاریں۔

یہ کہتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ میں اس کے سامنے کھڑا ہوا اور اپنی شارٹس اتار دیں۔ شارٹس اتارتے ہی میرا کھڑا لن نازی کے سامنے آگیا اور نازی کو سلامی دے رہا تھا۔ نازی لن کو دیکھتے ہی بولی۔۔۔۔۔ اف بھائی اتنا بڑا یہ تو بالکل بلو فلموں کی طرح موٹا اور لمبا ہے۔ میں۔۔۔۔۔ بلو فلم کہاں دیکھی؟ نازی۔۔۔۔۔ بھائی کالج کی فرینڈ ہے وہ اپنے موبائل پر دکھاتی ہے۔ میں۔۔۔۔۔ اس کو پکڑو۔

نازی تھوڑا آگے ہوئی اور اپنے نازک ہاتھوں سے میرے اکڑے ہوئے لن کو پکڑتے ہی بولی۔۔۔۔۔ بھائی یہ تو بہت گرم ہو رہا ہے اور سخت کتنا ہے۔ نازی لن کو ہاتھ میں پکڑے اس کو سہلا بھی رہی تھی۔ میں۔۔۔۔۔ بلو فلم دیکھی ہے تو اس میں لن چوستے ہوئے بھی دیکھا ہو گا۔ نازی شرماتے ہوئے۔۔۔۔۔ جی بھائی۔ میں۔۔۔۔۔ پھر شروع کرو اپنے بھائی کا لن چوسنا۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی کا نہیں اپنے جانو شوہر کا!

اور یہ کہتے ہوئے نازی نے میرے لن کے ٹوپے پر زبان پھیرنا شروع کیا۔ میرے لن پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے تھوڑا سا منہ کھولا اور لن کا ٹوپا منہ میں لے لیا۔ اف کیا جادو تھا نازی کے منہ میں لن تو جیسے خوشی میں پھول کر اور موٹا ہو گیا تھا۔ نازی نے اب لن کو تھوڑا اور منہ میں لے کر چوس رہی تھی۔ نازی کا بلو فلم دیکھنے کا ایک تو فائدہ ہوا کہ اس کو لن چوسنے کا پتا تھا۔ نازی بہت پیار سے اپنے بھائی کا لن منہ میں لے کر چوس رہی تھی۔ اب وہ لن منہ میں اندر باہر کر رہی تھی۔ نازی کے تھوک سے لن چمک رہا تھا۔ نازی نے لن منہ سے نکال کر کہا۔۔۔۔۔ بھائی کیسا لگا؟ میں۔۔۔۔۔ جانی بہت مزہ آیا میری جان نکال دی اور چوسو۔

یہ سنتے ہی نازی نے پھر لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا تھا اور ایک ہاتھ سے میرے ٹٹوں کو بھی سہلا رہی تھی۔ نازی کے نازک نازک ہاتھ ٹٹوں اور لن پر ایک الگ ہی مزہ دے رہے تھے۔ نازی اب لن کو جتنا منہ میں لے کر چوس سکتی تھی چوس رہی تھی۔ نازی لن منہ سے باہر نکال کر مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ بھائی آپ کا لن بہت مزیدار ہے! اور یہ کہتے ہوئے اب تیز تیز لن کو چوسنے لگی۔ نازی کے اس طرح چوسنے سے لن میں گدگدی سی ہونے لگی۔ اس سے پہلے کہ لن اپنی منی نازی کے منہ میں نکالتا میں نے لن نازی کے منہ سے نکال کر نازی کو کھڑا کیا تو نازی نے دونوں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ بھائی شرٹ اور ٹراؤزر اتار دیں۔

The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 14) appeared first on Urdu Stories.

Leave a Comment