گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 10)

جیسے ہی چھنو کی بھتیجی جس کا نام صنم تھا میرے پاس سے گزری اس کے جسم کی مہک اس کے جوان سینے سے اٹھنے والی پرزور قسم کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرائی تو میرے دماغ کی بتی راشن ہو گئی یہ تو ویسی ہی شہوت بھری مہک ہے جس نے کماد میں میرے ہوش اڑا دئیے تھے ۔

پھر کیا تھا ایک ایک کر کے کڑی ملتی گئی میں نے اس کے جسم کے نشیب و فراز کو اپنے دماغ کی سکرین پر رکھ کر پرکھا پھر اس کے فگر کو ذہن نشین کیا اور دوبارہ سوچا تو مجھے کوئی فرق نظر نہیں آ رہا تھا۔

یہ میری سوچ تھی یا سچ میں وہ ہی تھی کیوں کہ مجھے تو ایک سو ایک آنے یقین ہو چلا تھا کہ کماد میں مجھے سیکس کے اصل سے روشناس کرانے والی وہ پری رو صنم ہی تھی ۔

بس پھر میں بھا کے ساتھ گھر آیا اور فورا ہی کھسک گیا اور باہر کھالے پر درختوں کے سائے میں بیٹھ کر اس ساری صورتحال پر غور کرنے لگا۔ ابھی مجھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ سیک بچہ آیا اور بولا ہمارے گاؤں کی ٹیم کا میچ ہے کھرلوں کی زمین میں گراؤنڈ بنایا ہوا ہے وہاں سب تمہیں بلا رہے ہیں۔

گاؤں سے تعلق رکھنے والے سب بھائی جانتے ہوں گے جن گاؤں میں کوئی ہائی اسکول نہیں ہوتا یا سرکاری زمین نہیں ہوتی وہاں اکثر فصل کی کٹائی کے دنوں خالی زمین ملتے ہی گاؤں کے لڑکے مل کر پچ تیار کرتے تھے اور جب تک زمین خالی رہتی کرکٹ کھیلتے تھے ۔۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے کیوں بلایا کہاں میں پھدیوں کا شوقین اور کہاں کرکٹ تو بتاتا چلوں کہ میں کافی اچھا کرکٹر تھا اس وقت گاؤں کا سب سے بہترین پلئیر ہوا کرتا تھا ہم تو۔ چھوٹے تھے لیکن ہمارے گاوں کی سئنیر ٹیم بھی مجھے اکثر کھیلنے ساتھ لے کر جاتے تھے میں ایک اچھا اوپنر تھا۔

خیر میں اس بچے کے پیچھے چل پڑا اور ہم میچ کھیلنے چکے گئیے میچ کھیلنے کے بعد ہم گھر واپس آ رہے تھے کہ ایک لڑکا جس کو ہم ڈنگی (ٹیڑھا) کہتے تھے۔ اس نے مجھ کہا تو باز آجا نہیں تاں تیری بنڈ پاڑ دینی اے مجھے بڑا غصہ آیا کہ آیا کہ سالے نے گالی کیسے دی مجھے میں کونسا اس کی بنڈ میں انگلی ڈال دی ہے جو بکواس کر رہا ہے دوستو میری سیک عادت بہت عجیب تھی میں نہ گالی دیتا تھا نہ برداشت کرتا تھا

میں نہ آو دیکھا نہ تاؤ اس کے منہ پر ایک تھپڑ ٹکا دیا وہ کھبو یعنی لیفٹی تھا اور میں سجا اس نے بھی مجھے مارنا چاہا میں نے جھکائی دی اور بچ گیا پھر کیا تھا لڑائی شروع ہو گئی وہ اپنا بایاں ہاتھ اٹھاتا مارنے کے لیے میں اس کی وکھی میں ایک جڑ دیتا چند ہی مکے لگے کہ وہ درد سے چیخنے لگا اتنے میں باقی لڑکے بھی پہنچ گئیے سب ہمیں چھڑوایا لیکن تب تک اس ڈنگی کی کمر بھی ڈنگی ہو چکی تھی۔ وہ بیہوش کو کر گر گیا جلدی سے قریب بیتے کھالے سے ایک لڑکا اپنی قمیض بگھو کر لایا اور اس کے منہ پر پانی نچوڑا اس کو ہوش آیا تو میں ابھی بھی غصے میں اس کو دیکھ رہا تھا جیسے ہی ہوش میں آیا میں پھر اس کی طرف لپکا لیکن مجھے سب نے پکڑ کر الگ کیا اور کھینچ کر لے جانے لگے میں بھی غصے ابلتا ان کے ساتھ چل پڑا ۔ مجھے غصہ کبھی کبھی آتا تھا لیکن بہت زیادہ آتا تھا بلکہ ابھی بھی ایسا ہت جب بھی غصہ اتا ہے اپنے آپ میں نہیں رہتا۔

ہم اسی طرح واپس آ گئیے واپسی پر مجھے فجا مل گیا جو مجھیں اوہ سوری بھینسیں لے کر جا رہا تھا اس نے مجھے آواز دی میں اس کے ساتھ چل پڑا تو اس نے میرا موڈ دیکھ کر کہا کیا ہوا میں اس کو سب بتایا تو بولا اچھا تو یہ بات ہے یہ تو ہونا ہی تھا۔

میں نے حیرانی سے اس ستے پوچھا کیامطلب تو بولا ویکھ سدی جی گل اے کہ تینوں دسیا سی کہ صنم دا کسے نال چکر اے میں کہا ہاں پر اس بات کا س سے کیا لینا دینا۔

تو فجا بول ٹھنڈ رکھ اتنا سب بتاتا ہوں تجھے میں نے صرف یہ بتایا تھا کہ اس کا کسی کے ساتھ چکر ہے یہ نہیں بتایا تھا کہ کس کے ساتھ میں نے ہونقوں کی اس طرف دیکھ کر کہا سیدھی طرح بتا یار یہ بجھارتیں نہ ڈال ۔

اس نے کہا پہلے سن تا لو پھر بولنا بیچ میں اپنی ٹانگ نہ اڑا۔

میں نے کہا چل بول نہیں ایک ہی بار میں ساری بات بتا ۔

تو اس نے کہا جس کے ساتھ اس کا چکر ہے وہ ڈنگی ہی ہے۔ تو میں نے کہا پھر بھی اس بات کا س سے کیا لینا دینا۔

فجا غصے سے بولا لن اے تو اوہدی معشوق دی پھدی ماردا پھریں تے اہو تینوں کجھ وی نہ اکھے۔

میں بھی اسی کے لیجےث لہجے میں کہا میں کدوں اوہدی معشوق دی پھدی مار لئی او تا مینو گھا وی نیں پاندی۔

فجا بولا تو کی سمجھنا ایں بس تو ای سیانا ایں تے باقی سارے پھدو نے ۔ میری بات سن یہ بات جو میں بتا رہا ہوں غور سے سن تو نے شازی کے پھدی ماری میں نے ہاں ماری۔

اس نے کہا اس کے بعد کہاں گیا تھا میں نے کہا گھر وہ بولا میرے کول تاں جھوٹ نہ بک۔

اس کے بعد تو نے کماد میں کس کی پھدی ماری تو مجھے اس بات کا جو میں سوچ رہا تھا یقین ہو گیا کہ وہ صنم ہی تھی ۔

میں بولا پتہ نہیں کون تھی پر تھی بہت کمال میں ابھی بھی نہیں ظاہر کر رہا تھا کہ سب سمجھ ا گئی ہے ۔

اس نے پھدی مار کی اور یہ نہیں پتہ کس کی ماری واہ میرے منہ پر لکھا ہے کہ میں چوتیا ہوں۔

میں نے سچ میں یار اس نے منہ پر مڑاسہ مارا ہوا تھا بس مجھے کھیچا اور لے گئی پھر کیا تھا مجھ پر کسی بھوکی شیرنی کی طرح چڑھ دوڑی میں نے بھی پھر مار ڈالی اب مجھے کیا پتہ وہ کون تھی ۔ تو فجا بولا پھر اب میری بات سن اس دن جب تو نے اس کی پھدی ماری تو اس وقت کومل اور شازی بھی واپس آ رہی تھیں انہوں نے اس کو کماد سے نکلتے دیکھ لیا تھا لیکن اس نے کسی کو نہیں دیکھا وہ جلدی سے گھر کی طرف دیکھا چلی گئی ان کو شک ہوا تو وہ رک کر انتظار کرتی رہیں کچھ دیر بعد تو بھی نکلا تو ان کی نظروں میں آگیا مجھے یہ سب کومل نے بتایا اور یہ بھی کہ شازی نے چھنو کو بھی بتایا اور لگتا ہے ڈنگی کو بھی پتہ چل گیا ہے ہو سکتا ہے شازی نے بتایا ہو اب ساری بات میری سمجھ میں آ گئی میں نے اس سے کہا چل تو جا میں گھر جاتا ہوں میں واپس مڑا اور تھوڑی دور جا کر سڑک اے اتر کر شازی کی بیری کی طرف چل پڑا کہ آج اس کی پھدی پھاڑتا ہوں اس کی ہمت کیسے ہوئی ۔

میں وہاں پہنچا تو شازی کے ساتھ اس کی بڑی بہن بھی تھی وہ بیر توڑ رہی تھیں شازی ۔ے مجھے مست نظروں سے دیکھا اور اس کی بہن نے آ بلو بیر کھان آیا این میں نے جی ۔ اس نے شازی کو کہا تسی بیر توڑو میں اب کپاس چن لوں وہ چلی گئی شاید اس کو جلدی تھی کیونکہ گاؤں میں اکثر عورتیں اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی کپاس چنا کرتی تھیں پھر اس میں سے حصہ لیتی تھیں جیسے کی وہ نظروں سے اوجھل ہوئی میں نےشازی کو کیا حال ہے میں نے رستے میں اتے ہوئے سوچا ابھی اس سے نہیں پوچھتا کوئی مناسب موقع دیکھ کر پوچھوں گایا اس سے بدلا لوں گا ۔

اس لیے اس سے باتیں کرنے لگا باتیں کرتے کرتے ہم ایک دوسرے کے قریب ہو کر بیٹھ گئے اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس کے ہونٹو ں مے ہونٹ کیے تو اس نے مجھے پیچھے دھکیلتے ہوا نہ کر کوئی آ جائے گا میں کچھ نہیں ہوتا اب کس نے آنا تو وہ بولا ایتھے نہیں کسی اور جگہ چلتے ہیں اور وہ مجھے لے کر ایک قدرے محفوظ جگہ چلی گئی وہاں جاتے ہی اس نے مجھے دھکا دیا نیچے لٹا لیا اور میرے اوپر لیٹ کر میرے ہونٹ چوسنے لگ گئی ہونٹ چوستے چوست اس نے اپنی شلوار اتاری اور ایک طرف ہو کر لیٹ گئی اور مجھے اشارہ کیا اجاو میں نے بھی اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر شلوار کو نیچے کیا اور اس کی ٹانگوں کے بیچ ا کر اس کی ٹانگیں اٹھائیں اپنا ہتھیار ڈال کر چودنے لگا وہ مزے سے اہیں بھرنےلگی میں بھی اس کی آہوں لطف اندوز ہونے لگا۔ کچھ دیر اسی طرح اس کی ٹانگیں اٹھا چودنے کے بعد ااس کی ٹانگیں نیچے کیں اور اس کو الٹا کیا گھڑی بنانے کے لیے لیکن وہ انجان تھی الٹی لیٹ لیکن اپنی ٹانگیں کھول کر مجھے پھدی کا رستہ دکھا دیا میں نے بھی پیچھے سے اس کی گانڈ کے نیچے سے پھدی میں گھسا دیا اور اس کو چودنے لگا چند ہی منٹوں میں اس کی بس ہو گئی کیونکہ اس طرح اس کو رگڑ بہت زیادہ لگ رہی تھی اور وہ رگڑ برداشت نہیں کر پائی اور بولنے لگی آہہہہ ااااااااہہۃہہہ مزا آنداااا پپپیییییااا اااییییی زور نال ماااارررر آاہہہ اور اس مے جسم کو جھٹکا لگا اور وہ فارغ ہو گئی اس کی آوازوں کا اثر اور کچھ لگنے رگڑ کا میرا بھی ٹائم ا گیا میں بھی اس کی پھدی میں فارغ ہونے لگا تو مجھے ایک فلم ما سین یاد آیا جلدی سے باہر نکالا اور اس کے کولہوں کی دراڑ میں میں اپنے لن کا رس نکال دیا اس نے مڑ دیکھا اور بولی گند میرے تے کیوں کیتا سائڈ پر کر لیتا۔

میں مسکرایا اور ایک طرف ہو اپنا ناڑا باندھا تو اس نے کہا بلو ایک بات پوچھوں میں نے کہا ہاں پوچھو تو بولی اس دن وہ کون تھی کماد میں میں نے کہا پتہ نہیں ایک بار سوچا سب بتا دوں پھر سوچا رہنے دوں آخر میں کہا سب بتا دے کچھ دنوں بعد شہر چلے جانا اے میرا کی جانا ۔ اس نے کہا میں نے خود دیکھا تھا کسی کو نکلتے ہوئے ۔اور تمہیں بھی تو میں نے اس کو ساری بات کچھ مرچ مصالحہ لگا کر بتائی جیسے اس کی دیوانہ وار چودائی اس کا سیکسی بدن اس کا مجھے لٹا کر سیکس کرنا ساری پوزیشن خاص طور پر لن چوسنے والی بات خاصی تفصیل سے سنائی اور ساتھ اس مے چہرے کے ایکسپریشن بھی نوٹ کرتا رہا جب میری بات مکمل ہوئئ تب تک وہ میری شلوار کا ناڑا کھول چکی تھی اور میرا لن اس کے منہ میں تھا جس کو وہ مزے لے کر چوس رہی تھی اس کے نرم ہونٹ مجھے اپنے لن کی ٹوپی پر پگھلتی آئس کریم لگ رہے تھے جہاں جہاں چلتے میرے اندر مزے کی لہر دوڑ جاتی جب اس کا منہ لن چوس کر دھک گیا تو اس نے شلوار اتاری اور مجھے نیچے لیٹا کر اوپر چڑھ آئی میں یہ ہی تو چاہتا تھا اسی لیے تو اس کو تیل لگا کر کہانی سنائی تھی جس کا پھل مجھے فوراً مل گیا اور اب میرا گھوڑا اس کی رس میں میں تھا جس کو اس کی تنگ سرنگ نے اپنے اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔

اس نے تھوڑا تھوڑا کر کے سارا اندر کیا اور پھر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی جب کافی دیر وہ ایسے کرتی رہی تو اس کی سانس اکھڑنے لگی اور میرے اوپر گر گئ میرے ہونٹ اپنے میٹھے ہونٹوں میں لے کر چوستے ہوئے میرے لن پر اپنی پھدی مو کس لیا اور ایک زوردار جھٹکا لیا اور فارغ ہونے لگ گئی کچھ دیر اسی طرح فارغ ہوتی رہی جب اس کا جسم پر سکون ہوا تو میں نے اس کو اپنے نیچے رکھا اور لن سیٹ کر اس کی ایک ٹانگ ٹھائی اور لن گھسا کر فل سپیڈ سے رگڑائی شروع کر دی اس طرح سے اس کے جی سپاٹ کو رگڑ لگنے لگی وہ پھر سے مست ہو گئی کچھ ہی منٹوں میں اس کی بس ہو گئی اور میری بھی ہمت جواب دینے لگ گئی ادھر اس کے جسم جھٹکا کھایا اور گانڈ اوپر اٹھا کر لن کو جڑ تک اندر لیا ادھر میں نے بھی زور لگا کر سارا لن اندر کر دیا ۔ اور اس کے اوپر لیٹ کر فارغ ہونے لگا۔ ۔۔۔

ابھی میں صحیح طرح فارغ بھی نہیں ہوا تھا کہ مجھے شازی کی باجی کی آواز سنائی دی جو اس کو بلا رہی تھی شازی نے مجھے پیچھے دھکیلا اور شلوار پہن کر

بولی ادھر ہی رہنا ۔۔۔۔۔

مجھے بولی ادھر ہی رہنا اور خودچلی گئی اور میں نے وہاں رکنا مناسب نہ سمجھا اور بیٹھے بیٹھے کھسک کر وہاں سے نکلا اور گھر آ گیا ۔

پھر ایک دو دن وہاں رہے میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح کوئی پھدی مل جائے لیکن کوئی ہاتھ نہ ائی ۔

دو دن بعد ہم سب شہر آ گئے یہاں آ کر لن نے تنگ کرنا شروع کر دیا تو میں نے بھی کوشش کرنی شروع کر دی ہمسائے میں رہنے والی ایک لڑکی تھی جن کے گھر ہمارا کافی آنا جانا تھا ۔ وہ تھی بھی بہت خوبصورت اس پر لائن مارنے لگا اس نے بھی لفٹ کروانا شروع کر دی ایک دن میں چھت پر گیا اس کو اشارہ کیا اور اس کے اورپر آنے کا انتظار کرنے لگا ان کی چھت کی دیوار پر چڑھ گیا کچھ دیر بعد سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی آواز آئی اور پھر چھت پر کوئی آیا ۔ کوئی اس لیے کہا کہ وہ نہیں تھی جس کو اشارہ کیا تھا بلکہ یہ تو اس کی چھوٹی بہن تھی۔

ہمارے ہمسائے گاؤں میں بھی ہمارے ہمسائے تھے یہ نہیں کہ وہ ہمارے گاؤں کے تھے وہ تو ہمارے ساتھ والے گاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے ہمارا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔

وہ کل 6 افراد تھے دو لڑکیاں بڑی کا نام شانزل جس کا رنگ سرخ بھرا بھرا جسم موٹی گانڈ جب چلتی تھی تو اکہتر بہتر ہوتی تھی اور جب بولتی تھی تو آنکھیں مٹکا مٹکا کر بات کرتی تھی گول مٹول ممے جتنے ٹین ایجرز کے ہو سکتے تھے ہشتم کلاس کی طالبہ تھی لیکن لگتی دہم کی تھی فٹنگ والے کپڑے پہنتی جس سے اس کا انگ انگ واضح ہوتا تھا اس کے پیٹ پر موجود ناف کی گہرائی میں کئی بار اندازے سے چیک کر چکا تھا اتنے ٹائیٹ کپڑے پہنتی تھی کہ کئی بار اس کو دیکھ کر ایسا لگتا جیسے اس نے کچھ نہیں پہنا ہوا۔

ایک اور چیز جس کی وجہ سے میں اس کی متوجہ ہوا وہ تھا اس کا دائیں گال کا ڈمپل اور اس کے پتلے انار رنگ کے ہونٹ جب ہنستی تھی تو ایسا لگتا تھا جیسے پھول برس رہے ہوں ۔

اس کی چھوٹی بہن کا نام شمع تھا جو خوبصورتی میں بڑی سے چار قدم آگے تھے کیونکہ وہ بہت چھوٹی تھی اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی لیکن 12 سال کی ہو گی ابھی اس کے سینے میں کوئی ابھارچواضح نہیں ہوا تھا لیکن بہت تیز تھی ۔ سبز رنگ کی آنکھیں تھیں بہت پیاری لگتی تھی اور اس کے دو چھوٹے بھائی بھی تھے ۔

جب وہ اوپر آئی مجھے دیکھ کر مسکرائی اوربلاوجہ کھڑی ہو گئی تو مجھے نیچے جانا پڑا ۔

میں جب نیچے اتر رہا تھا تو میری نظر سامنے کی چھت ہر ہڑی وہاں سامنے والوں کی نوکرانی چھت پر کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی وہ بھی قیامت تھی ایسی نوکرانی کسی گھر میں نہیں تھی۔ لگتا ہی نہ تھا کہ وہ نوکرانی ہے بلکہ وہ گھر کی مالکن لگتی تھی عمر میں مجھ سے زیادہ تھی لیکن بلا کی حسین تھی ۔

میں جلدی سے نیچے اترا اور باہر نکل گیا ۔ اسی طرح آنکھ مٹکا کرتے وقت گزرتا رہا ۔لیکن کوئی ہاتھ نہ آئی جیسے گاؤں میں پھدی مل جاتی تھی یہاں نصیب نہ ہوئی ۔

کافی دن محنت کے بعد ایک دن موقع ملا شانزل ہمارے گھر آئی مجھ سے کوئی سوال سمجھنے سمجھتے ہوئے اشارے سے واشروم کی طرف اشارہ کیا اور اٹھ کر چلی گئی دوستو جس گھر میں ہم رہتے تھے اس کے واشروم تین تھے ایک ڈرائنگ روم میں تھا ایک باہر اور تیسرا روم میں تھا جس سیک دروازہ گیراج میں تھا اور گھر کا صحن دوسری ظرف تھا یعنی کمروں جا رخ گلی کی مخالف سمت تھا ایک گیلری تھی جو گیراج سے صحن والی سائیڈ پر جاتی تھی ۔

جیسے ہی وہ واشروم گئی میں اٹھ کر گیراج والے دراوزے کی ظرف گیا وہ دروزے کی جھری سے دیکھ رہی تھی اس نے دروازہ کھولا اور میں اندر چلا گیا۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور میں جو اتنے دن سے پھدی کے لیے ترس رہا تھا اس کو دیکھ کر اس پر چڑھ دوڑا اس نے کافی ہل چل مچائی اور بولی آئی لو یو سنو تو صیحیح لیکن میں سننے کی پوزیشن میں نہیں تھا میرے لن نے مجھے سننے ہی نہیں دیا اور میں نے اس کو بانہوں بھرا اور اس کے پتلے ہونٹوں کو چومنے لگا۔ ​​



Source link

Leave a Comment