گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 11)

میں کچھ بھی سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا شانزل کے نرم وملائم رسیلے ہونٹوں کو چومنے لگ گیا اور اپنا اتنے دن سے پیاسہ لن اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا جو سیدھا اس کی پھدی پر جا لگا اب صورتحال یہ تھی کہ شانزل میرے بازوؤں میں کسمسا رہی تھی اس کے ہاتھ میرے سینے پر مجھے دھکیلنے کی کوشش میں تھے جب کہ میں اس کو دیوار کے ساتھ لگائے اس کے ہونٹوں سے رس کشید کر رہا تھا اپنا ایک اس کی کمر پر اور دوسرا ہاتھ اس کی گردن پر تھا ساتھ ہی میں اپنے لن سے اس کی ٹانگوں میں رگڑ رگائی بیچ میں اس کی قمیض میرا ٹراؤزر اس می شلوار بھی تھی اتنے کپڑے ہونے کے باوجود مجھے اس کی پھدی ننگی لگ رہی اتنی خواری چڑھی تھی شایدمیں اتنے دن سے ترسا تھا اس لیے ایسا لگ رہا تھا میری کسنگ کی شدت دیکھتے ہوئے اس نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھ جو مجھے دیکھیلنے کے لیے سینے پر تھے اب میری کمر پر اگئیے اور اس کے گول گول سنگترے جتنے ممے میرے سینے سے لگ گئے اس کے سینہ میں چھپا وہ خزانہ مجھ سے سیکس کے لیے تڑپتے بندے کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھے ۔

بے اختیار میں نے اس کو اپنے ساتھ اور کس لیا۔اور لن کو بھی زور سے رگڑنے لگ گیا۔لن کی رگڑ جب اس کی پھدی کے لبوں سے لگا تو اس کی سسئی نکلی ساتھ ہی اس نے لن کو اہنی ٹانگوں میں کس لیا۔اور آہستہ اہستہ ہلنے لگ جیسے خود سے گھسے مار رہی ہو مجھ سے مزید برداشت نہ ہو سکا۔ میں نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اپنا لن نکالا اور اس کی شلوار کو نیچے کر کے لن اس کی پھدی کے لبوں سے لگایا اس نے اجوش سے میرے ہونٹ کاٹ لیے اور لن پر پھدی رگڑنے لگی لن اس کی پھدی سے رستے پانی نے لن کر تر کر دیا۔ اب میں نے اس کو گھمایا اس کا منہ دیوار کی طرف کیا اور اس کی گانڈ سے قمیض ہٹا کر لن اس کی پھدی پر رکھا اس کی سیکسی آواز نکلی جان پلیز نہ کرو

میں نے کہا میری جان میرا پیار کیسے پتہ چلے گا میرا لن بھی تو پیار کے ترس رہا ھے۔

وہ بولی جانو آرام سے کرنا سنا ہے بہت درد ہوتا ہے ۔

میں نے اس کی بات سن کر لن کو اس کی پھدی پر دبایا اور زور لگا کر اندر کیا ٹوپی اندر اتر گئی لیکن وہ تیزی سے آگے ہو کر سیدھی ہوئی۔لن پھدی سے نکل گیا۔ یہ اس کے لیے اور تکلیف دہ ہونے والا تھا میں اس کو دیوار سے لگایا اسکے ممرے دیوار سے پیوست ہو گیے گانڈ باہر نکل آئی میں لن کو ایک جھٹکے سے گھسایا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اس نے چیخ ماری جو منہ میں ہی دب گئی۔

مجھے اپنا لن پھنسا ہوا محسوس ہوا میں پھر گھسا مارا لیکن لن نے آگے جانے سے انکار کر شانزل کا جسم تڑپ رہا تھا میں نے لن تھوڑا سا باہر نکالا اور پھر گھسا مارا

لن پھر سے تھوڑا آگے گیا مجھے اپنا جسم تپتا محسوس ہوا میں حیران ہوا کہ لن روانم۔ نہیں کو رہا پھر نکالا پھر گھسایا لیکن روانی نہ آئی تو جتنا تھا ویسے ہی آگے پیچھے کرنے لگ گیا۔

چند ہی جھٹکوں کے بعد میرے لن نے اپنا پانی چھوڑ دیا اور میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا یہ کیا کر دیا ۔ پتہ ہے تمہیں میرے مرچیں لگی کوئی ہیں میں تھوڑا پیچھے ہوا لن باہر نکالا اسی دوران اس کی گانڈ بھی باہر کو نکلی تو میں نے دیکھا کہ لن اس کی گانڈ سے نکل رہا تھا ۔

مطلب جب میں نے دوسری بار ڈالا تھا تو لن پھدج کی بجائے گانڈ میں گھس گیا تھا ۔میں بھی حیران تھا اس کی پھدی نے تو پانی چھوڑا ہو ا تھا پھر بھی لن رواں کیوں نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ اب سمجھ آئی ۔

میں جلدی سےٹراوز ٹھیک کرتا باہر نکل گیا ۔

جب کہ وہ بھی اپنے کپڑے ثھیک کرنے لگ گئی ۔ اگلا دن ہفتہ کا تھا تو میں نے ہفتے کی شام گاؤں جانے کا پلان بنایا اور اپنے ایک کزن کے ساتھ گاؤں روانہ ہو گیاشام کو پہنچے کچھ خاص نہ بس ملںنے ملانے میں وقت گزر گیا ۔ لیکن فجے سے ملا اور حالات کا پوچھا بولا سب مزے میں کیا ۔

فجا بولا مزا ہی مزا خوب پھدیاں مار رہا ہوں تو سنا کوئی سیٹ ہوئی یا بس مٹھ ہی مار رہا ہے ۔ میں نے بھی لمبی لمبی چھوڑی بڑیاں پھدیاں ماریاں نیں وغیرہ۔

فجا بھی بولا یار مینوں وی کسی ملوا کسے شہری کڑی نوں میں نے کہا کیو ں نیں جب تو آئے گا تجھے ملوا دوں گا وہ خوش ہو گیا۔ ہم ایسے ہی ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے رات گزر گئی ۔

صبح صبح میں نے اپنا پلان بنا کیا تھا فجے کو بولا کہ شازی سے کسی طرح ٹائم بنوا اور اس نے کومل کو کہہ کر میرا پیغام پہنچا دیا۔

اور میں خود ناہید کے گھر کے سامنے سے دو تین ںار گزرا تاکہ اس تک کسی طرح میرنے آنے کی خبر پہنچ جائے کیونکہ ایک وہ ہی واحد تھی جس کی طرف دل کھینچتا تھا باقی تو بس لن کی پیاس بجھانے کے لئے تھیں ۔

لیکن کوئی باہر نہ نکلا تو میں مایوس ہو کر چھنو کی گلی کی طرف چل پڑا میں چھنو کی گلی میں مڑا ہی تھا کہ مجھے چھنو چھت پر نظر آئی اس نے ادھر ادھر دیکھ کر مجھے اشارہ کیا میں ڈرتا ہوا اس کے گھر کی طرف گیا ڈر تو تھا لیکن ایک چھنو ہی تھی جو اپنی سیکس کی جانکاری اور تجربے سے مجھے بھرپور مزا دے سکتی تھی ۔

میں لن ہاتھون مجبور کو کر اس کے گھر کے پاس گیا وہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی دروازے میں کھڑی تھی اس نے مجھے کہا پچھلی طرف آ جاو ان کے گھر کی پیچھے بیک سائیڈ پر بیٹھک تھی جس کا دروازہ گلی میں کھلتا تھا میں وہاں گیا ےو دروازہ کھلاملا میں اندر داخل ہو کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ چند منٹوں میں ہی وہ آ گئی اس نے آتے ہی مجھے اپنی باہوں میں بھرا اور مسکراتے ہوئے بولی مینوں پتہ تھا تم ہم سے ملنے آو گا۔

اس کی اردو سن کر میری ہنسی نکل گئی تو وہ بولی مینوں پتہ اے تو میری اردو تے ہسیا ایں کوئی ناں میں تیرے پیار اچ ای وی سکھ لاں گی ساتھ ہی بولی بلو میری اوس جگہ نے تینوں بہت یاد کیتا میں نے کہا کیڑی جگہ نام بتاو نہ بولی چل وڈا آیا تینوں تاں پتہ ای نہیں اور میرے ہونٹ چوم لیے میرا لن بھی اکڑ چکا تھا میں نے اس کے گرد اپنی بانہیں ڈال کر اس کو اپنی ساتھ بھیچ لیا اس کے ممے میرے سینے میں پیوست کو گئیے اس کے مموں کا سائز بڑھ چکا تھا آخری بار جب اس سے ملا تھا تب اس کے ممے بہت چھوٹے تھے میں نے ایک ہاتھ آگے لا کر اس کا مما پکڑ کر دبایا تو اس نے نیچے سے اپنی پھدی میرے لن پر دبا کر اپنی شہوت کا اظہار کیا۔

میں ہونٹ چوم رہا تھا اس نے لن کو اپنی ٹانگوں سے نکال کر میری شلوار کا نالا کھولا اور لن کو ہاتھ میں لے کرمٹھ مارنے لگ گئی ساتھ ساتھ اپنی زبان میرے منہ میں ڈال کر میری منہ کہ گہرائی ماپنے لگ گئی۔

اس کے ہاتھ کا لمس اس کی زبان کیں چاشنی نے میرے وجود میں گرمی کی انتہا کر دی میں نے بھی اپنا ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کر شلوار اتار دی اس کو ایک طرف پڑی چارپائی پر لٹایا اور اپنا لن اس کی پھدی پر رکھ کر اپنے ہاتھ سے اس کی پھدی مسلا ساتھ ہی اس کے دانے کو مروڑا۔

اس نے سسئئ کی اواز کے ساتھ کہا جان مزہ آ رہا ہے افف میں نے اس کی پھدی کو دیکھا جو پھولی ہوئی مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی میں لن کو ڈالنا بھول کر اس کی پھدی پر جھکا اور اپنی زبان نکال کر پھدی کے لبوں پر رکھ دیا اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور بولی بلوو اہ اہ تیری زبان اچ جادو اے پھیر

میں نے زبان اس کی پھدی کے لبوں پر رگڑنے کے بعد اندر داخل کر دی۔ میری زبان کو ایسا لگا جیسے کوئی مزیدار رسیلا شربت ہو میں مزے لے کر چاٹنے لگا اپنی زبان اس کی پھدی میں جہاں تک جا سکتی تھی پہچانے لگا اور اس پھدی کا رس چاٹنے لگا اس کی سسکیاں مزے کی انتہاکو پہنچنے لگیں اس نے میرا سر اپنی پھدی پر دبانا شروع کر دیا اس سے پہلے کہ وہ فارغ ہوتی میں جلدی کھڑا کو اور اپنا لن ہاتھ سے پکڑ اس کی پھدی پر رکھا اور وہ کچھ بولنے لگی تھی اس سے پہلے کہ بولتی میں ایک جھٹکے سے اندر اتار دیا اس جے منہ سے نکلا آرام سے جو کہ وہ پہلے کہنے والی تھی ساتھ ہی اسنے اپنے منہ لر ہاتھ رکھ لیا میں نے پھر لن نکالا اور اس سے دگنی سپیڈ سے گھسایا اس کی آآ ہہہہہہ نکلی ماردتا ای وے ظالماں تیرے توں آرام نال نہیں ہوندا اہہہہ میں نے اس کی کسی بات پر دھیان نہ دیا اور اپنی ساری گرمی جو اتنے دنوں سے مجھے جلا رہی تھی ساری تڑپ جو پھدی کے لیے تھی اس کے زیر اثر رہتے ہوئے لن کے چپو چلانے شروع کر دیے اس نے کچھ دیر تو آاہہہ کی لیکن پھر اس کی آہ اہ میں مزے کی سسکاریاں شامل ہو گئیں وہ پھر سے اپنے اصل روپ میں انے لگی آہہہ اہہہہ ابلوووو جان میری پھدی پاڑ دے آہہہآکہہ اے لن لے کے کے رج دی نیں اج ایہدی تراس بجھا دے بلوووو آااایججج ااااائئئہہہ اآممیہی انج ای مار آآ اس کی ٹانگیں میری کمر کے گر کسنے لگیں اور اس نے مجھے اپنے اوپر کھینچ کر میرے ہونٹ کاٹنے شروع کر دیے اس کی دیوانگی نے مجھے اور جوش دلایا میں بھی اپنے پورے زور سے چودنے لگا یکدم اس نے مجھے جکڑیا اور میرا لن کو اس کی پھدی تنگ لگنے لگی لن پھنسنے لگا یکدم اس نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھائی میرے ہونٹ بھوڑے بولی بللللووو ممممییییںںں گئییییی اور اس کے ساتھ ہی اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا وہ اوپر کو ہوئی لن اس کی پھدی کے انتہائی مقام سے ٹکرایا اور پھدی می جکڑ میں آگیا پھدی نے لن کو جکڑ نہلانا شروع کر دیا۔ اسی طرح کچھ دیر فارغ ہوتی رہی اور مجھے اپنی باہنو ں میں جکڑی رکھا

جب وہ مکمل فارغ کو گئ تو اس کی گرفت ڈھیلی ہو گئی میں پھر سے اس کی پھدی کی پیمائش کا آلا اندر تک آتارنا شروع کر دیا لن اس کی پھدی کی پیمائش میں مصروف ہوگیا ۔

پھدی سے اب شرشرپ کی اوازیں ا رہی تھی میں اس پوزیشن میں تھک گیا تھا اس کی پوزیشن بدلینے کے لیے اس کو الٹا کیا وہ گھوڑی بننے لگی تو میں ا س کو گرا دیا اس ک گانڈ پر تھپڑ مارا وہ بولی بلو تو جدوں میری مارنا ایں ناں میں اپنے آپ اچ نیں رہندی انامزہ دینا ایں ناں کہ دل کر دا اے تیرا لن لا کہ رکھ لاں۔ افففمیں اس کی گانڈ کو دیکھ مر یا پلان بنا رہا تھا شانزل می گانڈ میں لن جس طرح پھنس کر گیا تھا اور لن کو جو رگڑ لگی تھی اس سے مجھے مزا بھی بہت آیا تھا۔

لیکن میں نے اس کی گانڈ کو چھوڑ کر اس میں پھدی پر لن رکھا اور پھر اسی طرح گھسا مارا اور اندر کر دیا لن اس کی گانڈ کو رگڑتے ہوئے جب پھدی میں اترا تو اس کی چیخ نکل گئی۔ لیکن میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اپنا سارا وزن اس پر ڈال کر لیٹ گیا اور اندر باہر کرنے لگا اس طرح سے لن کی رگڑ بہت

زیادہ لگتی ہے اسی رگڑ سے وہ زور زور سے بولنے لگی اور میں بھی جوش میں آتا گیا اور اس کی پھدی میں لگاتار اندر باہر کرتا اس کی آوازوں میں تیزی اتی گئی بے ترتیب آواز سے بلنے لگی بلللووو اآااآ ئئی للللووو یییوووو اور اس کی پھدی نے جکڑ لیا اور میں بھی اس بار اس کی جکڑ سے فارغ ہونے والا ہو گیا لن ایک دم نکالا اور اس کی گانڈ میں ڈال دیا اور اس کی ایک دلخراش چیخ نکلی ۔ ساتھ ہی اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اور میں بھی اس کے اوپر لیٹ کر فارغ ہونے لگا ابھی ہم فارغ ہی ہو رہے تھے کسی نے زور سے درواز کھٹکایا۔۔۔۔۔۔۔​​





Source link

Leave a Comment