br>
گھر سے لے کر اسٹیشن تک میں بالکل خاموش بیٹھا رہا میرا دماغ کہیں اور ہی لگا ہوا تھا . اسٹیشن پہنچ کر ہم نے تھوڑی دیر ہی انتظار کیا اور پِھر ٹرین آ کر اسٹیشن پے رکی ہم اپنی برتھ میں آ کر بیٹھ گئے . ہماری آنے اور جانے کی ٹکٹس تو پہلے ہی نزیر چچا نے بُک کروائی ہوئی تھیں اور ہمارے پاس آنے جانے کی دونوں سائڈ کی ٹکٹس پہلے سے موجود تھیں لہذا ہم برتھ میں آ کر بیٹھ گئے . آنٹی کی بیٹی تو گھر سے لے کر اب تک سوئی ہوئی تھی . ٹرین اپنے وقعت پے چل پڑی لیکن میں بدستور خاموش تھا اور کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا . ہمیں ٹرین میں سفر کرتے ہوئے تقریباً 1 گھنٹہ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک ہم دونوں کے درمیان کوئی بات شروع نہیں ہوئی تھی . لیکن سائمہ آنٹی بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی لیکن بات کوئی نہیں کر رہی تھی . پِھر آنٹی نے ہی بات شروع کی اور مجھے پوچھا کا شی کہاں کھوئے ہوئے ہو خیر ہے نہ اتنے خاموش کیوں ہو صبح سے لے کر ابھی تک خاموش بیٹھے ہو کچھ بول کیوں نہیں رہے ہو . تم نے تو 3 دن دِل بھر کا مزہ کیا ہے پِھر منہ کیوں لٹکا ے بیٹھے ہو . میں آنٹی کی بات سن کر ان کی طرف دیکھا اور پِھر دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا لیکن آنٹی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا . آنٹی کی بیٹی ابھی تک ان کی جھولی میں ہی سوئی تھی . آنٹی نے اپنی بیٹی کو سیٹ کے اوپر لیٹا دیا اور پِھر میری طرف دیکھ کر بولی کیا بات ہے کا شی کیا مسئلہ ہے تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو . مجھے سائمہ آنٹی کو کوئی بھی بات بتانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی . لیکن پِھر سائمہ آنٹی نے کہا کیا مسئلہ ہے مجھے بتاؤ تم اتنے پریشان کیوں ہو اتنا کچھ ہمارے درمیان ہونے کے باوجود تمہیں مجھ پے اعتماد نہیں ہے. میں نے سائمہ آنٹی سے کہا ایسی بات نہیں ہے آنٹی جی بس تھوڑی پریشانی بنی ہوئی تھی اِس لیے خاموش بیٹھا تھا اور آپ کو بتانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی
آنٹی میری بات سن کر اپنی سیٹ سے اٹھ کر میری والی سیٹ پے آ کر بیٹھ گئی اور میرے کاندھے پے ہاتھ رکھ کر بولی کا شی بیٹا مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے . میں نے پِھر ہمت کی اور رات کو جو دھماکہ ہوا تھا اس کی پوری ڈیٹیل سائمہ آنٹی کو بتا دی . میری پوری بات سن کر آنٹی کا منہ لال سوراخ ہو چکا تھا اور ان کے ماتھے پے پسینہ صاف نظر آ رہا تھا . وہ میری بات سن کر پہلے تو کچھ دیر منہ نیچے کر کے بیٹھی رہی . پِھر یکدم میرے کاندھے سے پکڑ کر مجھے زور سے ہلایا اور بولی کا شی اتنی بڑی بات ہو گئی تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی یہ سب رات کا واقعہ ہے اس ٹائم سب سوئے ہوئے تھے میں اس ٹائم کس کو جا کر بتاتا اور صبح کو ہم واپسی کے لیے نکل آئے ہیں . آسمہ آنٹی کو میں بتا نہیں سکتا تھا اور آپ کی ا می بھی جاگ رہیں تھیں . اگر میں بتاتا تو کس کو بتاتا اور کب بتاتا . اور اگر آسمہ آنٹی کو بتا دیتا تو ان کا تو رات کو ہی ہارٹ فیل ہو جانا تھا . آنٹی میری بات سن کر پِھر خاموش ہو گئی اور پِھر جلدی سے اٹھی اور اپنی سیٹ پے جا کر اپنے بیگ سے موبائل نکالا اور ٹائم دیکھنے لگی ابھی تقریباً8.30ہوئے تھے. پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ نے تو آسمہ آنٹی کو پورا یقین کروایا تھا کے آپ نازیہ کو سمجھا دیں گی اور اس کو اعتماد میں کر لیں گی . کیا آپ نے نازیہ سے بات نہیں کی تھی . آنٹی نے کہا کا شی میں نے نازیہ سے اِس لیے بات نہیں کی تھی کے ابھی تو تم صرف 3 دن کے لیے آئے ہو اور 3 دن میں کون سا نازیہ کو پتہ چل جائے گا اور جب باجی راولپنڈی چلی جائیں گی تو وہاں پے میں خود باجی کے پاس کچھ دن کے لیے چلی جاؤں گی اور وہاں ہی نازیہ کو ایک دوست بن کر اعتماد میں لے لوں گی اور سب کچھ سمجھا دوں گی . لیکن مجھے کیا پتہ تھا کے اس کو اتنی جلدی بات پتہ چل جائے گی
سائمہ آنٹی کی بات سن کر میری پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی . میں نے کہا آنٹی جی اِس کا مطلب ہے کے آپ نے ابھی تک نازیہ سے کوئی بھی کسی قسِم کی بات نہیں کی ہے . تو آنٹی نے کہا ہاں کا شی ایسا ہی ہے . میں نے کہا آنٹی یہ تو کام بہت خراب ہو جائے گا اور آسمہ آنٹی کا کیا بنے گا وہ تو پہلے ہی بہت ڈری ہوئی تھی . آنٹی کا اپنے چہرہ بتا رہا تھا ان کو مجھ سے زیادہ پریشانی لگ گئی تھی. آنٹی بار بار موبائل پے ٹائم دیکھ رہی تھی میں نے آنٹی سے کہا آنٹی آپ نے اب کیا سوچا ہے . تو آنٹی نے کہا مجھے باجی کو بات پتہ لگنے سے پہلے نازیہ سے بات کرنا ہو گی اس کا منہ بند کروانا ہو گا . میں نے کہا تو آنٹی جی یہ اب کیسے ہو گا . تو آنٹی نے کہا باجی اِس ٹائم اسکول ہو گی اور وہ 2 بجے واپس آئے گی . مجھے اس سے پہلے نازیہ سے بات کرنی ہے اور نازیہ صبح 9 بجے تک اَٹھ جاتی ہے مجھے اس کے اٹھنے کا انتظار ہے پِھر میں اس سے فون پے بات کروں گی . میں نے اپنے موبائل میں دیکھا 9 بجنے میں ابھی 15 منٹ باقی تھے . پِھر ہم دونوں خاموش ہو کر بیٹھ گئے . سائمہ آنٹی کا چہرہ دیکھا تو وہ کسی گہری سوچ میں تھیں . اور میں بھی 9 بجنے کا انتظار کر رہا تھا . یکدم ہی آنٹی نے کہا کا شی مجھے موبائل پے بیلنس چاہیے کیونکہ نازیہ کا نیٹ ورک اور ہے اس پے میرا پیکج نہیں چل سکتا . میں نے کہا آنٹی جی اس کا نیٹ ورک کون سا ہے آنٹی نے کہا یو فون کا ہے میں نے کہا آنٹی جی میرا نمبر تو جیز کا ہے اگر آپ اس سے کریں گی تو پیکج کے بغیر 20 سے 25 منٹ بات ہو سکتی ہے ، آنٹی نے کہا کا شی یہ مسئلہ ایسا ہے اِس میں کافی ٹائم لگ سکتا ہے مجھے زیادہ بیلنس چاہیے
میں نے کہا آنٹی جی پِھر تو تھوڑی دیر میں اگلا اسٹیشن آنے والا ہے میں وہاں سے آپ کو 500 کا بیلنس ڈلوا دیتا ہوں آپ آرام سے کھل کر بات کر لینا . تو آنٹی نے کہا ٹھیک ہے . جب اسٹیشن پے گاڑی رکے تو فوراً جا کر بیلنس ڈال دو مجھے جلد سے جلد نازیہ سے بات کرنی ہے . میں نے کہا آنٹی جی آپ فکر نہ کریں . کوئی.15 9 کا ٹائم ہو گا جب ٹرین نے اپنا ہارن بجایا تو میں سمجھ گیا اگلا اسٹیشن آ گیا ہے میں وہاں سے فوراً اٹھا اور ٹرین کے دروازے پے چلا گیا اور کوئی 5 منٹ بَعْد ہی ٹرین اسٹیشن پے جا کر رکی میں فوراً اونچے اترا اور جا کر اسٹیشن پے ایک شاپ بنی تھی وہاں سے دکاندار کو کہا بھائی موبائل کارڈ چاہیے تو اس نے کہا کارڈز نہیں ہیں ایزی لوڈ ہے . میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے آپ کو میں نمبر لکھواتا ہوں مجھے اس پے 500 کا بیلنس ڈال دیں اس نے فوراً نمبر پے بیلنس ٹرانسفر کر دیا میں نے اس کو 500 دیئے اور کچھ کھانے پینےکی اور چیزیں لیں اور کچھ دیر بَعْد اپنی برتھ میں آ گیا . جب میں برتھ میں اندر داخل ہوا تو سائمہ آنٹی نے شاید نازیہ کو کال ملائی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر سائمہ آنٹی نے اشارہ کیا کے خاموشی سے بیٹھ جاؤ . میں وہاں سیٹ پے ہی چیزیں رکھ دیں آنٹی پہلے تو اس کے ساتھ نارمل یہاں وہاں کی باتیں کر رہی تھی پِھر میں نے سوچا آنٹی کو آرام سے بات کرنی چاہیے میں اٹھ کر برتھ سے باہر نکل آیا اور دروازے کے پاس کھڑا ہو کر باہر دیکھنے لگا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا لگ رہی تھی میں وہاں ہی دروازے میں بیٹھ گیا. مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے پتہ ہی نہیں چلا کافی ٹائم ہو گیا تھا میں نے موبائل پے ٹائم دیکھا تو مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے تقریباً 1 گھنٹہ گزر چکا تھا
میں وہاں سے اٹھا اور اپنی برتھ کی طرف چلا گیا جب برتھ کے پاس پہنچا تو دیکھا آنٹی فون پے بات کر رہی تھی . میں یہ دیکھ کر حیراں بھی ہوا . میں نے برتھ کی بجاے وہاں سے سیدھا باتھ روم میں چلا گیا اور پِھر باتھ روم سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو باتھ روم کے دروازے پے ایک بڑی ہی سیکسی سی کوئی لگ بھاگ 23یا24 سال کی لڑکی کھڑی باتھ روم خالی ہونے کا انتظار کر رہی تھی . جب ہم دونوں کی نظر آپس میں ملی تو میں اس کو دیکھ کر سمائل پاس کی اس نے بھی مجھے ہلکی سی سمائل پاس کی اور فوراً باتھ روم میں گھس کر دروازہ بند کر لیا میں وہاں ہی ساتھ میں ٹرین کے دروازے پے کھڑا ہو گیا اور باہر کی ٹھنڈی ہوا لینے لگا . کوئی 5 منٹ بَعْد ہی باتھ روم کا دروازہ کھلا اور وہ لڑکی باہر نکلی اور دوبارہ پِھر ہماری نظر ملی تو وہ اب تھوڑا شرما گئی اور سمائل دے کر اپنی برتھ کی طرف چلی گئی . جب وہ اپنی برتھ کی طرف جا رہی تھی تو اس کا پیچھے سے جسم دیکھا تو لن کو ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ اس کی گانڈ اس کی کمر کے حساب سے کافی بڑی اور باہر کو نکلی ہوئی تھی اور چلتے ہوئے اوپر نیچے مٹک رہی تھی میں ابھی اس کی بُنڈ کا نظارہ ہی لے رہا تھا کے یکدم وہ لڑکی اپنی برتھ کے پاس پہنچ کر میری طرف دیکھا تو میں ڈر گیا اس نے شاید مجھے اپنی گانڈ کو گھور تے ہوئے دیکھ لیا تھا . اس نے مجھے مصنوعی سا غصہ دکھایا اور پِھر ہلکی سی سمائل دے کر اور شرما کر اپنی برتھ میں چلی گئی . میں اس لڑکی کو سمجھ گیا تھا کے اِس کو دانہ ڈالا جا سکتا ہے . میں وہاں دروازے پے ہی کھڑا ہو کر اس کے بارے میں سوچنے لگا کے شاید کوئی بات بن جائے . پِھر یکدم میرے دماغ میں ایک خیال آیا . میں نے یہاں وہاں دیکھا اور بوگی کے دوسرے کون پے ایک بندہ کھڑا سگریٹ پی رہا تھا میں چلتا ہوا وہاں گیا اور اس کو کہا بھائی صاحب آپ کے پاس کوئی پین ہے . تو اس نے اپنی فرنٹ جیب میں لگی پین مجھے دی میں نے اس کو اپنی جیب میں رکھی جو ٹکٹ تھی اس کو پھاڑ کر اس پے اپنا نمبر لکھا اور پین واپس اس بندے کو دے کر دوبارہ اس ہی دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور انتظار کرنے لگا شاید وہ لڑکی دوبارہ آئے تو کوئی دانہ ڈالوں گا
اور پِھر میرا شق ٹھیک ثابت ہوا کوئی 15 منٹ بعد دوبارہ وہ اپنی برتھ سے باہر نکلی اور دوبارہ باتھ روم کی طرف آنے لگی جب وہ رستے میں آ رہی تھی تو مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . میں نے دوسرے بندے کی نظر سے بچ کر جلدی سے وہ نمبر والا کاغذ باتھ روم کے بالکل سامنے بنی ہوئی کھڑکی میں پھنسا دیا اور اس لڑکی کو اشارے سے سمجھا دیا اور دوبارہ دروازے سے باہر دیکھنے لگا جب وہ لڑکی باتھ روم میں چلی گئی میں فوراً وہاں سے چلتا ہوا اپنی برتھ میں آ گیا اور آ کر اپنی سیٹ پے بیٹھ گیا. جب میں سیٹ پے آ کر بیٹھا تو دیکھا اس ٹائم سائمہ آنٹی اپنا موبائل اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی . لگتا تھا ابھی شاید کال بند ہوئی ہے . پِھر میں نے آنٹی سائمہ کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پے ایک اطمینان تھا . میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی کیا ہوا کچھ مجھے بھی بتاؤ نازیہ نے کیا کہا ہے . آنٹی نے ایک لمبی سی سانس لی اور مجھے کہا کے کا شی بے فکر ہو جاؤ اب کوئی خطرے کی بات نہیں ہے میں نے نازیہ سے پوری بات کر لی ہے اور اس کو مکمل اعتماد میں لے لیا ہے اور وہ اب اپنی امی سے کسی بھی قسم کی بات نہیں کرے گی . میں نے کہا آنٹی پِھر بھی آپ بتاؤ تو آپ نے کیسے اس کو منایا ہے . تو آنٹی نے کہا یہ لمبی اسٹوری ہے میں پِھر کسی وقعت تمہیں بتاؤں گی ابھی ٹائم تھوڑا رہ گیا ہے شیخوپورہ آنے میں تھوڑا ٹائم باقی رہ گیا ہے . میں پِھر کسی دن تمہیں ڈیٹیل میں بتاؤں گی . ابھی تو میں نے نازیہ کو سمجھا دیا ہے اور مکمل اپنے اعتماد میں لے لیا ہے اب مجھے گھر پہنچ کر باجی سے بات کرنی ہے اور ان کو مکمل یقین کروانا ہے اور باقی رہی تمہاری بات میں آج باجی کے سکول سے چھٹی کرنے سے پہلے پہلے بات کر لوں گی
لیکن تم نے باجی کے ساتھ فلحال نہ ہی فون پے کوئی بھی رابطہ نہیں کرنا ہے اور نا ہی جب وہ راولپنڈی میں ہوں گی تو . جب باجی تمہیں خود راولپنڈی میں سیٹ ہو کر حالات سیٹ ہو جائیں گے تو وہ خود تم سے رابطہ کریں گی میں بھی ان کوسمجھا دوں گی . لیکن اس سے پہلے ان سے رابطہ نہ کرنا کیونکہ میں نازیہ کو پورا اعتماد اور موقع دینا چاہتی ہوں تا کہ بَعْد میں بھی کوئی مسئلہ نہ ہو . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جیسے آپ کی مرضی . اور پِھر میں نے آنٹی کو کھانے پینے کی چیزیں دی اور پِھر ہم یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے . اور میں یہ بھی سوچ رہا تھا کے شاید اس لڑکی نے وہ کاغذ وہاں سے اٹھایا بھی ہے کے نہیں . اور اگر اٹھا بھی لیا تو پتہ نہیں فون کرے گی بھی یا نہیں . تقریباً پونے بارہ بجے ہم شیخوپورہ اسٹیشن پے پہنچ گئے. پِھر اسٹیشن سے رکشہ کروایا اور سیدھا سائمہ آنٹی کے گھر آ گئے میں نے ان کو وہاں ان کے گھر چھوڑا اور اپنے گھر کی طرف آ گیا مجھے چچی کی امی نے بہت روکا کے كھانا کھا کر چلے جانا لیکن میں نے کہا مجھے بھوک نہیں ہے اور وہاں سے نکل کر اپنے گھر آ گیا اور جب گھر آیا چچی گھر پے ہی تھیں انہوں نے دروازہ کھولا پِھر مجھ سے سب کے بارے میں حال احوال پوچھا اور میں پِھر گرمی کی وجہ سے تنگ ہو گیا تھا میں نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا. پِھر وہ دن بھی یوں ہی عام دن کے طرح گزر گیا اور میں اپنی روٹین کے مطابق ٹی وی دیکھ رہا تھا کے یکدم مجھے چچی کا وہ کام یاد آ گیا جو انہوں نے مجھے کہا تھا کے بلال جو کے ان کی چھوٹی بہن کا دیور ہے اس کو چچی کے لیے تیار کرنا ہے . میں تو یہ بھول ہی گیا تھا اور سوچنے لگا چچی نے میرے اتنے کام کرواےہیں اور میں نے اب تک ان کا ایک بھی کام نہیں کیا . میرے پاس اب دن بھی تھوڑے رہ گئے تھے آج جمعرات تھی اور اتوار والے دن مجھے واپس بھی جانا تھا . پِھر میں نے سوچا مجھے بلال والا کام آج سے ہی شروع کر دینا چاہیے اور اگر زیادہ کوئی مسئلہ ہوا تھا 2 یا 3 دن اور رہ لوں گا اور بلال والا کام کر کے ہی واپس اسلام آباد جاؤں گا . بس یہ ہی خیال آتے ہی میں نے ٹی وی بند کیا اور باہر آیا تو چچی کچن کا کام کر رہی تھی اور ابھی صبح کے10 ہی بجے تھے
میں نے چچی سے کہا چچی میں باہر جا رہا ہوں مجھے تھوڑی دیر ہو جائے گی آپ دروازہ بند کر لیں . تو چچی نے کہا کا شی بیٹا آج یکدم کہاں کا پروگرام بنا لیا ہے. میں نے کہا چچی جان ٹائم تھوڑا ہے اور آپ کا کام بھی تو کرنا ہے میں تو بھول گیا تھا اب یاد آیا ہے اِس لیے اس کام کے لیے جا رہا ہوں . میری بات سن کر چچی کے چہرے پے ایک رونق سی آ گئی . پِھر وہاں سے نکلا رکشہ کروایا اور سیدھا چچی کی امی کے محلے میں آ گیا جہاں پے بلال کی دکان تھی . جب میں بلال کی دکان پے پہنچا تو مجھے دیکھا کر حیران ہو گیا اور دکان سے باہر آ کر مجھے گلے لگا کر ملا اور بولا. ) واہ کا شی یار آج چن کیتھوں نکل آیا اے (میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے . اور پِھر ہم دونوں گپ لگاتے ہوئے اندر دکان میں آ کر بیٹھ گئے بلال نے اپنی دکان سے ہی ٹھنڈی پیپسی کی بوتل کھول کر مجھے پیش کی جو میں گرمی ہونے کی وجہ سے بنا دیر کیے پی گیا .
بلال مجھ سے پوچھنے لگا یار کا شی تم اتنے دن سے یہاں آئے ہوئے ہو میری طرف آنے کا آج ٹائم ملا ہے. میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے میں ذرا گھر کے کاموں میں مصروف تھا اِس لیے ٹائم نہیں مل سکا . میں نے کہا تم سناؤ کام دھندہ کیسا چل رہا ہے اور گھر میں سب کیسے ہیں . تو کہنے لگا گھر میں سب ٹھیک ہے کام بھی اچھا چل رہا ہے دال روٹی نکل آتی ہے . پِھر ہم یوں ہی یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے . باتوں ہی باتوں میں نے اس سے پوچھا یار شادی کب کر رہا ہے اب تو تم ہی گھر میں اکیلے رہ گئے ہو . تو وہ آگے سے بولا یار میری کس کو فکر ہے ہے یہاں جب بھی گھر والوں کو کہتا ہوں آگے سے کہتے ہیں ابھی دو یا چار سال صبر کرو . یار کا شی خود ہی بتا بندہ کتنا انتظار کرے اب تو دکان کو چلا تا ہوں پورا پورا خرچہ گھر میں دیتا ہوں
لیکن پِھر بھی میرے لیے کوئی ابھی راضی نہیں ہوتا بندہ ا ب کیا کرے کیسے گھر والوں کو کہے کے ا ب اکیلا گزارا نہیں ہوتا ہے . میں نے بلال کی کمر پے ہاتھ رکھ کر کہا یار حوصلہ رکھ ہو جائے گا . پِھر میں نے ویسے ہی گول مول کر کے کہا یار شادی نہیں ہوئی تو تم کون سا ویسے ہی بیٹھے ہو گے کسی نہ کسی کے ساتھ تو اپنا چکر لگایا ہی ہو گا . وہ میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کا شی یار یہ شہر نہیں ہے کے یہاں اتنا آسانی سے بندہ چکر چلا لیتا ہے . یہاں پے گلی محلے میں ہر بندے کی دوسرے بندے پے نظر ہوتی ہے . میں نے کہا یار اب ایسی بھی بات نہیں ہے کے تیرے جیسا بندہ چُپ کر کے بیٹھا ہو اور کچھ بھی نہ کیا ہو . بلال میری طرف دیکھنے لگا پِھر اٹھ کر دکان کے دونوں طرف دیکھا پِھر کرسی پے بیٹھ گیا اور بولا یار ایسی بات نہیں ہے کا شی یار ایک آدھا بندہ تو رکھنا ہی پڑتا ہے لیکن یار اس کا بھی ڈر ہی لگا رہتا ہے محلے داری ہے اور سب لوگ یہاں جانتے ہیں . اِس لیے آج تک اس سے زیادہ مزہ نہیں مل پایا. میں نے کہا یار ہاں یہ تو ہے لیکن چلو یہ تو ہے کے تیرا ہفتے میں ایک دفعہ پانی تو نکلوا ہی دیتی ہو گی . تو بلال نے کہا ہاں یار ایک دفعہ تو ہو ہی جاتا ہے لیکن کبھی نہیں بھی ہوتا وہ بھی ڈرتی رہتی ہے اور مجھے بھی ڈر ہی لگا رہتا ہے . میں نے کہا یار بلال وہ خوش نصیب کون ہے جس کا تیرے ساتھ چکر ہے کوئی اپنی رشتہ دار ہے یا باہر گلی محلے کی ہے . تو بلال نے کہا کا شی یار اپنی کوئی رشتہ دار ہوتی تو کیا ہی بات تھی رشتہ دار سے تو بندے کو ڈر نہیں ہوتا ہے بندہ اپنے رشتہ داروں کے گھر تو آتا جاتا رہتا ہے اِس لیے زیادہ مسئلہ نہیں بنتا . یہ والی تو گلی کی ہے شادی شدہ ہے اِس کی دو ہی بیٹیاں ہیں میاں اس کا فوت ہو چکا ہے . میری دکان سے سودا سلف لینی آتی جاتی رہتی ہے بس ایسے ہی اس کے ساتھ بات سیٹ ہو گئی تھی اور پِھر آہستہ آہستہ اس کو لائن پے لے آیا تھا اب کبھی کبھی موقع ملتا ہے تو اپنا مزہ لے لیتا ہوں . لیکن یار ہر وقعت دِل میں ڈر ہی لگا رہتا ہے کے کسی نہ کسی کو پتہ چل گیا تو بڑی ہی بدنامی ہو گی . میں نے کہا یار یہ بات تو ہے لیکن پِھر تو کسی رشتہ داروں میں ہی کیوں نہیں کسی سے چکر چلا لیتا تم تو یہاں ہی رہتے ہو تھوڑی سی ہمت کرو آگے پیچھے دیکھو کوئی نہ کوئی مل جائے گی . تو فوراً بولا یار کا شی دیکھنا کیا ہے بندے تو 2 ہیں جن کا پکا پتہ ہے وہ پہلے بھی کسی کے ساتھ سیٹ ہیں بس میری ہی ہمت نہیں ہوتی . یہ بات کر کے بلال ایک دم خاموش ہو گیا شاید وہ یہ بات نہیں بتانا چاہتا تھا . وہ اب مجھ سے نظر چرا رہا تھا
میں نے کہا یار بلال کیا ہوا چُپ کیوں ہو گئے ہو تو وہ آگے سے کچھ نا بولا میں اس کے اندر کا خوف سمجھ چکا تھا . میں اپنی کرسی اس کی کرسی کے نزدیک کی اور کہا یار بلال تو میرا یار ہے اور ہم آپس میں رشتہ دار بھی ہیں اور تیری میری اتنی کھلی گپ شپ ہے پِھر تم کیوں ڈر گئے ہو . میں تمہاری کوئی بھی بات کسی کو نہیں بتاؤں گا . تم کھل کر بتاؤ مجھے کون ہے اپنے رشتہ داروں میں جس کا تمہیں پتہ ہے . بلال تھوڑی دیر خاموش رہا پِھر بولا دیکھ یار کا شی اگر میں تمہیں اگر بتا بھی دوں گا تم غصہ کرو گے اور ہماری رشتہ داری خراب ہو جائے گی . میں نے کہا یار بلال میرے اوپر پورا بھروسہ رکھ نہ ہی میں تم سے ناراض ہوں گا اور نہ ہی غصہ کروں گا . بلال بولا سوچ لو کا شی اگر تمہیں بات پتہ چلی تو پِھر مجھے نہیں پتہ تمہارا آگے سے کیا ری ایکشن ہو گا . میں نے کہا یار تو فکر نہ کر یار تم نے تو پِھر یہاں پے کوئی نہ کوئی پھدی کا مزہ لے لیا ہے لیکن میں نے آج تک پھدی کی شکل تک نہیں دیکھی ہے . بلال ہکا بقا ہو کر میرا منہ دیکھنے لگا اور بولا یار کا شی آب جانے دے یار اسلام آباد جیسے شہر میں رہ کر تم نے آج تک پھدی نہیں دیکھی ہو گی . یہ بات مجھے حزم نہیں ہو رہی ہے . میں نے کہا یار بلال میرے سے قسم لے لو جو آج تک کسی پھدی کی شکل تک دیکھی ہو . یار یہ بات سچ ہے کے شہر میں یہ سب ہوتا ہے لیکن یار میں آج تک نہیں کر سکا کوئی لڑکی نہیں ملی اگر مل بھی جاتی تو اس کو کہاں لے کر جاتا اور مزہ کرتا اور تمہیں تو میرے ابو کا پتہ ہے ان کو شق بھی ہوا تو میری چمڑی اُتار دیں گے . بلال بولا ہاں یار یہ تو بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے تیرے ابو والی بات تو مجھے پتہ ہے . میں نے کہا یار بلال تم تو بڑے شکاری ہو یار مجھے بھی کوئی مزہ کروا دو . میری بات سن کر بلال ہنسنے لگا اور بولا اچھا یار تو بھی کیا یار کرے گا میں تیرے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہوں . پِھر میں نے کہا یار بلال بتا نہ اپنے رشتہ داروں میں کون ہے تو بلال پِھر کھڑا ہوا دکان کے دونوں طرف دیکھا اور پِھر اپنی کرسی پے بیٹھ کر لمبی سی سانس لی اور میرے نزدیک ہو کر بولا یار کا شی بندے تو دو ہیں. جن کا مجھے پکا پتہ ہے وہ دو جگہ پے مزہ لے رہے ہیں . ایک تو باجی ثوبیہ ہے جو نعیم بھائی کی سالی ہے اس کی شادی اپنی خا لہ کے بیٹے سے ہوئی ہے اس کا میاں کراچی میں کسی کمپنی میں کام کرتا ہے اور 2 مہینے بَعْد ہی گھر آ تا جاتا ہے . اور باجی ثوبیہ نے اپنے ہی دیور کے ساتھ چکر چلا یا ہوا ہے اس کے دیور کو تم جانتے ہی ہو . میں نے کہا ہاں جانتا ہوں خالد کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں وہ تو ہمارا ہی ہم عمر ہے لیکن یار باجی خالد سے تو کافی بڑی ہیں کم سے کم بھی 6 یا 7 سال کا فرق ہے . تو یہ کیسے ممکن ہے كے وہ خالد سے ہی مزہ لے رہی ہے . بلال نے کہا یار کا شی عورت کو بس تگھڑے لن کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ نہیں . اور ویسے بھی خالد سے میری بڑی گپ شپ ہے وہ بہت بڑا رنڈی بازہے اس نے کافی مال رکھا ہوا ہے . لیکن اس بہن چودنے آج تک دوست ہوتے ہوئے بھی مجھے کبھی کوئی مال ٹیسٹ نہیں کروایا .
میں نے کہا جب تمہیں یہ پتہ ہے تو تم نے باجی کو ڈائریکٹ ہی دانہ ڈال دینا تھا . تو بلال بولا یار دانہ تو کب کا ہی ڈال دینا تھا لیکن تھوڑا مشکل تھا کیونکہ خالد ہر ٹائم گھر میں ہوتا ہے . اب خالد لاہور جار ہا ہے اب وہ وہاں ہاسٹل میں ہی رہے گا اور ہفتے کے ہفتے ہی گھر آیا کرے گا اِس لیے میں اب اپنا دانہ باجی کو ڈالوں گا
میں نے کہا اچھا تو دوسرا بندہ کون ہے . ابھی میں نے یہ سوال پوچھا ہی تھا کے یکدم دکان پے ایک عورت آ کر کھڑی ہوئی اور آ کر بولی بلال یہ یہ چیزیں دے دو . بلال اس عورت کو دیکھ کرمسکرا رہا تھا لیکن اس عورت نے اپنے چہرے پے کوئی بھی بات عیاں نہ ہونے دی . میں تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر دکان سے باہر آ گیا تا کہ بلال آرام سے اس عورت کو فارغ کر سکے میں جب باہر آیا تو پِھر اس عورت پے غور کیا وہ ایک درمیانےقد کی تھی اور اس کا جسم بھرا ہوا تھا لیکن وہ موٹی نہیں تھی اس کی گانڈ بھی کافی باہر کی نکلی ہوئی تھی اور ممے بھی موٹے موٹے تھے اس کا رنگ سانولا تھا .
وہ عورت کوئی 10منٹ تک وہاں کھڑی چیزیں لیتی رہی اس کے ساتھ ایک 8 یا 9 سال کی بچی بھی تھی شاید اس کی بیٹی تھی . پِھر وہ عورت اپنا سامان لے کر چلی گئی میں دوبارہ دکان کے اندر آ کر کرسی پے بیٹھ گیا . میں نے بلال سے پوچھا یار یہ عورت کون تھی جس کو دیکھ کر تم بڑا مسکرا رہے تھے . تو بلال میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی یہ ہی تو وہ ہے جس کے ساتھ تیرے بھائی کا چکر ہے یہ ہی تو آج کل میری جان بنی ہوئی ہے اور میں اِس سے پورا پورا مزہ لے رہا ہوں . میں نے کہا یار بلال مال تو بڑا فٹ تم نے رکھا ہوا ہے . بلال نے کہا ہاں یار بڑی ہی گرم چیز ہے فل مزہ دیتی ہے . لیکن تو فکر نہ کر تیرا کام اِس سے کروا دوں گا . میں نے کہا واہ بلال یار میرے منہ کی بات لے لی ہے . بلال نے کہا مجھے 2 یا 3 دن دے دو میں تیرے لیے اِس کو رازی کر لوں گا . پِھر میں نے کہا یار ٹائم ہی ٹائم ہے یار . میں نے کہا یار بلال اب بتا بھی دو اپنے رشتہ داروں میں دوسرا بندہ کون ہے. تو بلال نے کہا دیکھ کا شی جس کا میں ابھی بتانے لگا ہوں اس کا سن کر تم نے غصہ نہیں کرنا ہے لیکن میں یہ بات پکی بتا رہا ہوں کے یہ بات سچ ہے . میں نے کہا یار تو بے فکر ہو جا مجھے بتاؤ کون ہے وہ . تو بلال نے کہا وہ کوئی اور نہیں تمہاری چچی ثمینہ ہے . میں نے ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا کیا.. تو بلال فوراً بولا میں نے کہا تھا نہ تم غصہ کر جاؤ گے اِس لیے میں نہیں بتا رہا تھا . میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے مجھے غصہ نہیں آ رہا ہے اصل میں مجھے یقین نہیں آ رہا ہے . بلال نے کہا کا شی یار یہ سچ ہے ثمینہ باجی کا بہت عرصے سے چکر چل رہا ہے وہ اس کے ساتھ پورا پورا مزہ لیتی ہے میں نے کہا کون ہے تو بلال نے کہا اس کا اپنا کزن شوکت ہے جس سے وہ بہت عرصہ پہلے سے مزہ لے رہی ہے اور مجھے بھی بہت پہلے کا پتہ ہے . میں نے کہا جب تمہیں پتہ تھا تم نے پِھر ثمینہ چچی کو کیوں نہیں دانہ ڈَا لا . تو پِھر اس نے مجھے وہ والا واقعہ سنایا جو مجھے چچی نے بھی اپنی بہن کی شادی کا سنایا تھا . بلال نے کہا اس کے بَعْد میں نے دوبارہ کوشش نہیں کی لیکن ثمینہ باجی ابھی بھی شوکت سے مزہ لیتی ہے . پِھر میں نے بلال کو کہا یار تم نے مجھے بہت بڑی بات بتائی ہے مجھے تو یقین نہیں ہو رہا ہے . بلال نے کہا یار یقین آ جائے گا . بلال نے کہا جب سے تم آئے ہو ثمینہ باجی اپنے گھر میں ہی شوکت کو مل چکی ہے تمہیں پتہ نہیں ہے . میں نے کہا یار تم کیا بات کر رہے ہو تو وہ بولا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں جب شوکت ثمینہ باجی کے گھر گیا تھا تو میں اس کا پیچھا کرتے کرتے ثمینہ باجی کے گھر تک گیا تھا وہ اندر تمھارے گھر گیا تھا . میں نے کہا یار یہ کس دن کی با ت ہے تو بلال نے مجھے دن یاد کروایا تو میں نے فوراً کہا ہاں یار مجھے یاد آیا اس دن چچی نے مجھے کچھ سامان لینے کے لیے بازار بھیجا تھا ہو سکتا ہے اس ٹائم میں وہ آیا ہو گا . تو بلال نے کہا ہاں یار یہ ہی ہوا ہو گا . پِھر بلال نے کہا کا شی اگر تم یہاں کچھ اور دن رہو گے تو میں تمہیں تمہاری آنکھوں سے دیکھا دوں گا جب شوکت ثمینہ باجی کے گھر جائے گا . تو میں نے کہا یار کوئی بات نہیں ہے میں کچھ دن اور رک جاؤں گا میں یہ کھیل دیکھ کر ہی جاؤں گا . مجھے بلال کی دکان پے بیٹھے بیٹھے بہت ٹائم گزر چکا تھا جب ٹائم دیکھا تو 3 بجنے والے تھے میں نے بلال سے کہا یار بہت ٹائم ہو گیا ہے میں اب گھر چلتا ہوں کل پِھر دوبارہ چکر لگاؤں گا پِھر بیٹھ کر باتیں کریں گے . تو بلال نے کہا یار میں بھی دکان بند کر کے گھر جاؤں گا كھانا کھانے کے لیے تم بھی چلو كھانا کھا کر ہی جانا میں نے کہا نہیں یار چچی انتظار کر رہی ہوں گی . میں پِھر کسی دن کھا لوں گا . تو بلال نے کہا چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی اور میں وہاں سے نکل کر رکشہ کروایا اور واپس گھر آ گیا میں جب گھر واپس آیا تو بچے اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے اور چچی بھی دروازہ کھول کر خود اپنے کمرے میں چلی گئی میں باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا نہا کر ٹی وی والے کمرے میں آ گیا تھوڑی دیر بَعْد چچی نے مجھے كھانا دیا
اور میں كھانا کھانے لگا میرے كھانا کھانے کے بَعْد چچی نے برتن اٹھا لیے اور کچن میں چلی گئی میں وہاں بیٹھا ٹی وی دیکھنے لگا چچی کچن سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور تقریباً کوئی 15 منٹ بَعْد ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور مجھے سے بلا ل کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو گلی والی عورت کے علاوہ پوری بات بتا دی جو میرے اور بلال کے درمیان ہوئی تھی جس کو سن کر چچی کو کافی اطمینان ہو گیا تھا . پِھر انہوں نے پوچھا کا شی نعیم بھائی کی سالی تو بہت بڑی کھلاڑی نکلی ہے میں تو جب بھی اس کو کسی رشتہ دار کے گھر میں دیکھا ہے وہ بہت ہی معصوم سی اور بھولی بھالی نظر آتی ہے مجھے یہ نہیں پتہ تھا کے وہ تو ہر روز لن لے کر سوتی ہے . اب میں اپنی بھابی کو بھی سیدھا کر دوں گی اس نے ہمارے گھر میں سب کو تنگ کر کے رکھا ہوا ہے اب مجھے جو بات پتہ چلی ہے میں تو اب اس کا منہ توڑدوں گی . پِھر چچی نے کہا خیر یہ باتیں چھوڑو یہ بتاؤ اب آگے کیا سوچا ہے بلال کو کیسے تیار کرنا ہے . میں نے کہا چچی جان آپ بے فکر ہو جاؤ . میں آپ کا مسئلہ حَل کر کے ہی جاؤں گا . چچی میری بات سن کر خوش ہو گئی . اتنی دیر میں ہی چچی کی بیٹی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی ا می دیکھو نا بھائی مجھے میری گیم نہیں دے رہا ہے وہ مجھے مار رہا ہے . چچی اپنی بیٹی کی بات سن کر اس کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی. پِھر رات تک کوئی خاص بات نہ ہوئی اور وہ دن بھی یوں ہی گزر گیا اگلے دن میں جان بوجھ کر بلال کی دکان پے نہیں گیا . اور چچی بھی یہ دیکھ کر حیرا ن ہوئی لیکن مجھے سے کوئی بات نہ کی اور وہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا . اگلے دن میں نے دوبارہ چچی کو بلال کا بولا اور اس کی دکان پے چلا گیا . وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو گیا اور پوچھنے لگا یار کا شی کل کیوں نہیں آیا . میں نے کہا یار چچا کا ایک ضروری کام تھا اِس لیے وہاں چلا گیا اور تمہاری طرف نہیں آ سکا.
پِھر میں نے پوچھا اور سنا کیا نئی تازی ہے . تو وہ بولا یار کل تم نہیں آئے تھے میں کل اپنی محلے والی کے پاس گیا تھا اور جم کر اس کو چودا ہے اگر تم یہاں کل آ جاتے تو میں تمہیں دکان پے بیٹھا کر خود چلا جاتا لیکن تم نہیں آئے اِس لیے میں دکان بند کر کے ہی چلا گیا تھا . لیکن تیرے لیے ایک خوش خبری ہے کا شی میرے یار . میں نے فوراً کہا کیا خوش خبری ہے یار جلدی بتا . تو وہ بولا میں کل گیا تھا اپنی محلے والی کے پاس تو میں نے وہاں اپنا مزہ لے کر تیری بات اس سے کی تھی . پہلے تو وہ سن کر ناراض ہو گئی اور میری بات ہی نہیں مان رہی تھی . پِھر میں نے اس کو آخر میں دھمکی لگائی کے اگر تم میرے کزن کو خوش نہیں کرو گی تو میرے ساتھ تمہارا تعلق ختم اور میں دوبارہ تمھارے پاس نہیں آیا کروں گا . میں نے کہا تو پِھر اس نے کیا کہا تو وہ آگے سے بولا بولنا کیا تھا میری دھمکی کام کر گئی تھی اس کو بھی میرے علاوہ کس نے محلے میں پوچھنا تھا کیونکہ وہ بہت ڈرتی ہے اور میرے ساتھ بھی کوئی 1 سال بَعْد جا کر راضی ہوئی تھی . اِس لیے وہ مجھے نہیں چھوڑ سکتی اور ویسے بھی تیرا بھائی کا ہتھیار جو عورت لے لیتی ہے وہ دیوانی ہو جاتی ہے . میں نے کہا یار بلال پِھر کب مجھے بھی مزہ کروا رہا ہے . تو وہ بولا یار ہو جائے گا جلدی ہو جائے گا اس کی بڑی بیٹی کی عمر 16 سال ہے وہ بڑی ہے سب سمجھتی ہے وہ ہر اتوار کو اپنی دادی کے گھر جاتی ہے اس دن ہی میں اپنی پوری کوشش کروں گا تیرا کام ہو جائے . میں نے کہا یار بلال اگر تم میرا یہ کام کروا دو تو میں بھی تمہاری ایک مدد کر سکتا ہوں . وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا اور بولا کیسی مدد کا شی یار . میں نے کہا دیکھ بلال تم نے مجھے اس دن بتایا تھا کے ثمینہ چچی کا شوکت کے ساتھ چکر ہے
اگر تم بھی چچی کا مزہ لینا ہو تو میں کچھ مدد کر سکتا ہوں . وہ حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگا اور کرسی میرے نزدیک کر کے مجھ سے بولا یار کا شی تو کیا پہیلیاں بجھا رہا ہے پوری بات بتا نہ . میں نے کہا یار میں تمہیں چچی کی ڈائریکٹ تو پھدی لے کر دے نہیں سکتا ہاں تمہیں اس کی پھدی تک پہنچنے تک کا راستہ بتا سکتا ہوں بلال نے کہا
کا شی یار میں ثمینہ باجی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں بس تم مجھے بتاؤ کرنا کیا ہے . میں نے کہا ہو گا یہ کے جس دن شوکت اب چچی کو ملنے آئے گا اس دن چچی لازمی مجھے باہر کسی کام کے لیے بھیج دے گی اس دن میں جب بازار جاؤں گا تو تم ہمارے گھر کے نزدیک ہی مجھے ملنا میں تمہیں گھر کی چابی دے دوں گا میں بازار چلا جاؤں گا تم ہمارے گھر چلے جانا اور آرام سے دروازہ کھول کر اندر چچی کے کمرے کے پاس چلے جانا اور میں کوشش کروں گا ان کے کمرے کی کھڑکی کھلی رکھوں تم وہاں سے ان کو خود دیکھ لینا اور پِھر اپنے موبائل پے ان کے شو کی چھوٹی سی ویڈیو بنا لینا اور وہاں سے نکل آنا اور پِھر تمھارے پاس پکا ثبوت ہو گا تم چچی کو بلیک میل کر کے ان کو چو د سکتے ہو . بلال میری بات سن کر خوش ہو گیا اور مجھے گلے لگا لیا . پِھر میں نے کہا بلال یار میں تو چچی کے ساتھ مزہ لے نہیں سکتا کیونکہ وہ میری سگی چچی ہے میرا ان کا رشتہ بھی ایسا ہے کے میں کچھ نہیں کر سکتا . لیکن تم جو بھی کرو گے . اس میں ایک بات کا خیال رکھنا کے اگر تمہارا چچی کے ساتھ کام بن جاتا ہے تو کسی کو بھی نہیں بتانا نہیں تو تمہیں پتہ ہے نہ بدنامی کتنی ہو گی . جیسے تم نے مجھے گلی والی عورت کا بتایا ہے بھول کر بھی کسی اور کو اپنا اور چچی کا نہیں بتانا . نہیں تو رشتہ داری بھی خراب ہو جائے گی اور بدنامی بھی بہت ہو گی . بلال بات سن کر بولا کا شی یار تم نے مجھے اتنا پاگل یا کم عقل سمجھا ہوا ہے . کے میں اپنے ہی رشتہ دار کی بات کسی اور کو بتاؤں گا مجھے ثمینہ باجی کی بات 2 سال سے پتہ ہے لیکن آج تک کسی کو نہیں بتائی تمہیں بھی ڈر کے ہی بتائی ہے اور تم رشتہ دار بھی ہو میرے یار بھی ہو اور رہی بات اس گلی والی عورت کی وہ کون سا ہماری رشتہ دار ہے اور ویسے بھی تم پہلے بندے ہو جس کے ساتھ وہ میرے علاوہ کرے گی وہ بھی میری اِجازَت کے ساتھ نہیں تو وہ میرے علاوہ کسی کو گھاس بھی نہیں ڈالتی ہے . اور ثمینہ چچی کا بتا کر میں اپنے پاؤں پے خود کلہاڑی نہیں ماروں گا . تم میری طرف سے بے فکر ہو جاؤ یہ بات مرتے دم تک میرے دِل میں ہی رہے گی . بلال کی باتیں سن کر اطمینان ہو گیا تھا اور اب میں سکون میں تھا. میں نے کہا بلال یار میں پِھر اتوار والے دن کا پروگرام پکا سمجھوں
تو بلال نے کہا ہاں یار پکا ہی پکا ہے اب تو ہر حال میں اتوار والے دن تیرا کام کروا دوں گا . تم کل کو دن 11بجے تک آ جانا جب دوپہرکا ٹائم ہو گا میں دکان بند کر کے تمہیں اس کے گھر لے جاؤں گا اور خود كھانا کھانے گھر چلا جاؤں گا تمھارے پاس تقریباً 1 گھنٹے سے زیادہ کا ٹائم ہو گا تم آرام سے مزہ لے لینا اور مجھے پِھر مس کال کر دینا میں تمہیں آ کر لے جاؤں گا . میں نے کہا یہ ٹھیک پروگرام ہے میں ضرور کل 11 بجے تک پہنچ جاؤں گا . میں نے بلال کو کہا یار تمہیں کیا لگتا ہے اب شوکت آئے گا دوبارہ چچی کی ملنے تو بلال بولا یار کا شی وہ تو ہر ہفتے میں ایک چکر ضرور لگاتا ہے یہ تم آئے ہوئے ہو اِس لیے وہ ڈ ر کے مارے نہیں آ رہا . ویسے بھی اس کو اب چکر لگا ئے ہوئے ہفتہ ہونے والا ہے وہ اِس ہفتے میں ضرور آئے گا . پِھر میں نے پوچھا یار بلال ایک بات تو بتا یہ گلی والی آنٹی بُنڈ میں بھی لیتی ہے یا نہیں تو بلال ہنسنے لگا اور بولا یار سچی بات ہے مجھے تو آج تک اس نے بُنڈ میں کرنے نہیں دیا ہو سکتا ہے تمہیں کرنے دے لیکن پکا کچھ کہہ نہیں سکتا . ویسے کا شی یار بُنڈ کا تو مجھے بھی بڑا شوق ہے یار تنگ موری کس کو نہیں اچھی لگتی . اور یار ایک بات بتاؤں وہ ثویبہ باجی بُنڈ میں بھی لیتی ہے . اس کے ساتھ اگر میرا چکر چل گیا تو اس کی بُنڈ میں ضرور ڈ الوں گا. میں نے بلال سے پوچھا ویسے یار تم کو پہلی دفعہ خالد اور ثوبیہ باجی کا کیسے پتہ چلا تھا . تو بلال نے کہا یار تمہیں تو پتہ ہے ہمارا گھر اور خالد لوگوں کا گھر ساتھ ساتھ ہیں بس ایسے ہی ایک دن میں دوپہرکو گھر كھانا کھانے گیا ہوا تھا تو میں نے نہا کر کپڑے بھی بدلنے تھے اِس لیے میری ا می نے سارے کپڑے دھو کر چھت پے ڈالے ہوئے تھے میں اپنے کپڑے لینے کے لیے جب چھت پے گیا تو خالد لوگوں کی دوسری سٹوری ہماری چھت سے صاف نظر آتی ہے اور ان کا کچن بھی باہر والی سائڈ پے صحن میں بنا ہوا ہے اور شادی کے بعد سے لے کر ثوبیہ باجی اوپر والی اسٹوری پے ہی رہتی ہیں . میں جب اوپر چھت پے گیا تھا میری نظر ان کے صحن میں بنے ہوئے کچن میں گئی تو میں نے وہاں خالد کو ثوبیہ باجی کو چودتےہوئے دیکھا تھا . ثوبیہ باجی کچن کے شیلف پے بازو رکھ کر جھکی ہوئی تھی اور ان کی شلوار نیچے پاؤں میں پڑی تھی اور قمیض کمر تک اوپر اُٹھی ہوئی تھی اور پیچھے سے خالد نےسرف بنیان پہنی ہوئی تھی اور شلوار اس کی بھی پاؤں میں پڑی ہوئی تھی اور وہ ثوبیہ باجی کی بُنڈ میں لن اندر باہر کر رہا تھا . بس وہاں پے ہی ان کا پورا شو دیکھا تھا اور پِھر جب خالد دکان پے آتا تھا تو میں نے اس کو پوچھا تھا جو بعد میں اس نے اپنے اور ثوبیہ باجی کے تعلق کا مجھے پورا بتایا تھا . بلال کی باتیں سن کر میرا لن پورے جوش میں کھڑا ہو گیا تھا کیونکہ میں چچی کی بھابی کی بھی جانتا تھا اور اس کی بہن ثوبیہ کو بھی دونوں بہن بم تھیں دونوں بہن کا مست قسِم کا جسم تھا
دونوں بہن کا مست قسِم کا جسم تھا. پِھر میں نے کہا یار بلال تو ثوبیہ باجی کو دانہ ڈال اور پہلے اپنے کام سیدھا کر میں جب اگلی دفعہ آؤں گا تو پِھر مجھے بھی مزہ کروا دینا ابھی تو میرے پاس زیادہ دن نہیں ہیں اِس لیے گلی والے مال سے ہی مزہ لے لیتا ہوں . بلال نے کہا ٹھیک ہے کا شی یار اب جب تم اگلی دفعہ آؤ گے تو تمہیں ثوبیہ باجی کا مزہ کروا دوں . گا . ہو سکتا ہے کوئی اور مال بھی تمہیں چیک کروا دوں . میں حیران ہو کر بلال کی طرف دیکھنے لگا کے اور مال کون سا ہے جس کی بات کر رہا ہے . بلال میرا ری ایکشن دیکھ کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی بے فکر رہو یار میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کے جب ثوبیہ باجی کو اپنے ساتھ سیٹ کر لوں گا تو ہو سکتا ہے ثوبیہ باجی کی مدد سے کوئی اور مال بھی رشتہ دار وںمیں کھانے کو مل جائے تم یہ عورتوں کو نہیں جانتے یہ بڑی چالاک ہوتی ہیں ان کو اندر خانہ سب کی خبر ہوتی ہے . میں بلال کی بات سن کر سوچنے لگا کے یار بلال کہہ تو ٹھیک رہا ہے . چلو اگلی دفعہ آؤں گا تو دیکھتے ہیں ثوبیہ باجی کے علاوہ اور کون سا مال کھانے کو ملے گا . پِھر میں اور بلال یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے اور میں پِھر وہاں سے گھر آ گیا اور آ کر چچی کو اپنے پروگرام کی علاوہ سب بتا دیا اور میں نے کہا چچی
آپ منگل کو شوکت کو بلا لو اور اس سے مزہ بھی لے لو اور بلال والا کام بھی اس دن پورا ہو جائے گا پِھر اس کو میں آپ کا نمبر دے جاؤں گا وہ آپ کو خود کال کرے گا اور بس پِھر تھوڑا سا غصہ اور نخرا دکھا کر مان جانا اور گھر بلا کر مزہ لے لینا پِھر ایک دفعہ راسته کھل گیا تو پِھر آگے کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا. چچی میرا پلان سن کر ایک دم خوش ہو گئی اور آگے ہو کر مجھے ایک لمبی سی فرینچ کس دی . پِھر میں نے چچی کو کہا چچی جی آپ عشرت آنٹی سے بات کر لینا میں بدھ کو ان کی طرف جاؤں گا اور مزہ لوں گا اور جمعرات کو میں نے آپ کو نورین کو دونوں کو ایک ساتھ چودنا ہے میرا وعدہ یاد ہے نہ آپ کو اور پِھر جمه کو صبح میں نے اسلام آباد واپس جانا ہے . چچی میری بات سن کر بولی ہاں کا شی میری جان مجھے اپنا وعدہ یاد ہے تم بے فکر ہو جاؤ میں عشرت کو بول دوں گی اور بدھ کو اس کی طرف چلے جانا اور جمعرات کو میرے اور نورین کے ساتھ بھی کر لینا اب خوش ہو . میں نے کہا چچی جان خوش ہی خوش ہوں