امی سے طوفانی عشق۔۔۔۔(قسط 3)

امی کو ٹہلتے دیکھ کر سب امی کو دیکھنے لگے۔ ابو بولے: “کیا ہوا؟ تم ٹہلنے کیوں لگ پڑیں؟”۔
امی جان سونیا کو دیکھ کر ابو کے پاس جا کر ان کی چارپائی پر بیٹھ گئیں اور بولیں… آواز سب کو سنائی دے رہی تھی:۔
امی جان:۔
“میرے دل میں ایک بات آ رہی ہے”
میرے کان کھڑے ہو گئے۔
ابو:۔
“وہ کیا؟”
امی:۔
“کیوں نہ عمران کو اپنی بہن نسرین کے پاس بھیج دوں۔ وہاں رہ کر عمران زبیر کو قریب سے دیکھ بھی لے گا… نسرین نے ایک بار کہا تھا سونیا اور زبیر کے لیے۔ مجھے بھی زبیر پسند ہے۔ تمہیں بھی میری پسند پر کوئی اعتراض نہیں ہے جمشید… اس لیے میں سوچ رہی ہوں، عمران ہمارا بڑا لائق اور سمجھدار بیٹا ہے، بہت پیار کرتا ہے یہ مجھ سے…”۔
ابو:۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو پروین؟”
میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا، امی جان کوئی پینترا بدلنے والی تھیں۔ میں جان کر حیران ہو گیا تھا، جھٹکا تو الگ تھا۔
ادھر حنا سونیا کو چھیڑنے لگی تھی۔ بیچاری سونیا شرم سے پانی پانی ہوتی اپنے دوپٹے کا آنچل بنا کر اپنے چہرے پر ڈال گئی تھی… امجد اور لبنیٰ اپنی اپنی چارپائی سے سر نکال کر جوڑے (آپس میں) کھسر پھسر کرنے لگے۔
ہم سب کے کان امی جان کی طرف ہی تھے۔
امی جان:۔
“عمران جتنا مجھ سے پیار کرتا ہے، اتنی ہی پروا بھی کرتا ہے یہ۔ ورنہ تو عمران جتنی عمر کے لڑکوں کو دنیا کی سمجھ ہی نہیں ہے۔ میں چاہتی ہوں جمشید… کیوں نہ عمران کو نسرین کے گھر رہنے کے لیے بھیج دیں… وہیں رہ کر پڑھائی بھی کر لے گا… قریب سے نسرین اور زبیر کو بھی پرکھ لے گا”۔
وہی ہوا جس کا میرے دل کو ڈر تھا۔ امی جان بہت بڑی گیم کھیل گئی تھیں… ابو جان سوچ میں پڑ گئے، پھر بولے:۔
“دیکھ لو… عمران مجھ سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے۔ میں تو باپ ہوں، لیکن تم ماں ہو… میں دل پر پتھر رکھ بھی لوں گا، لیکن تم ماں ہو کر اپنے دل کو سنبھال نہیں پاؤ گی…”۔
امی جان مجھے دیکھ کر دکھی ہوتی ہوئی بولیں: ۔
“ہاں، عمران سے دور رہ پانا میرے لیے ممکن نہیں ہوگا… لیکن عمران تو بیٹا ہے… دنیا کو جتنا وہ سیکھے گا، ہماری بیٹیاں نہیں سیکھ سکتیں… اس لیے مجھے عمران کی زیادہ فکر نہیں ہے، بیٹیوں کی فکر زیادہ ہے…”۔
حالانکہ امی جان کو صرف اور صرف مجھ سے پریشانی تھی! واہ امی جان، کیا کھیل کھیلا ہے آپ نے اپنے ہی بیٹے کے ساتھ۔ میں بھی آپ کا ہی بیٹا ہوں امی جان، وہ بھی آج کے زمانے کا، وہ بھی اپنے لنڈ کو آپ کی چوت میں گھسانے کا ارادہ کیے ہوئے… بھلا میں آپ سے کم کیسے ہو سکتا ہوں!۔
میں:۔
“ابو، امی صحیح کہہ رہی ہیں… صحیح کہا امی جان نے… میں آپ سب سے بہت پیار کرتا ہوں، دکھاوے کے لیے نہیں، سچ مچ کا پیار کرتا ہوں… خالہ 300 کلومیٹر دور کے شہر میں رہتی ہیں نا… وہ دوسرے ملک میں بھی رہتیں تو بھی میں اپنی بہن کی اچھی زندگی کے لیے وہاں جاتا۔ چاہے اس کے لیے مجھے سات سمندر ہی پار کر کے کیوں نہ جانا پڑتا…”۔
ابو مجھے فخر سے دیکھ کر سراہنے لگے، وہیں لبنیٰ اور امجد کے منہ حیرت کے مارے کھل گئے… وہیں حنا اور سونیا جو زیادہ سمجھدار تھیں، اپنے لیے میرا پیار اور پروا دیکھ کر جذباتی ہونے لگیں… میں نے سر ہلا کر انہیں قریب آنے کو کہہ دیا۔ میں ایسے اٹھ بیٹھا، میرا لنڈ میری ٹانگوں کے بیچ چھپ کر دب گیا تھا۔
سونیا اور حنا دونوں میرے قریب آ گئیں… چارپائی کے کنارے بیٹھ کر سسکنے لگیں۔
سونیا: ۔
“بھائی، تم ہم سے اتنا پیار کرتے ہو؟”
حنا سسکتی ہوئی: ۔
“مجھے پتا ہی نہیں تھا بھائی… میرا بڑا بھائی میری اچھی زندگی کے لیے اتنا کچھ کر سکتا ہے”۔
میں نے دونوں کو ایک ساتھ گلے سے لگا لیا… امی جان کی حیرت جا ہی نہیں رہی تھی… وہیں لبنیٰ اور امجد پھدک کر اپنی اپنی چارپائی سے اترے اور آ کر مجھ سے پیچھے سے لپٹ کر اونچی آواز میں رونے لگے۔
پھر امجد جوش بھرے انداز میں بولا: ۔
“میں بھی باجیوں کے لیے سمندر پار کر جاؤں گا بھیا…!”۔
امی جان نے کھیلی تو گیم تھی، لیکن اب وہ بھی جذباتی ہو کر ابو کے ساتھ ہمارے قریب آ گئیں… ہم ایک چارپائی پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے۔
امی جان میرے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں… یہاں لنڈ کو دیر نہیں لگی اور وہ ڈھیلا پڑ گیا… یہاں بات ہوس کی نہیں، سچے پیار کی آ گئی تھی۔
ابو: ۔
“اٹھ کر گلے سے لگ جا یار… آج پہلی بار ایسا لگ رہا ہے جیسے میں پھر سے جوان ہو گیا ہوں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے سر سے سارا بوجھ اتر گیا ہے”۔
میں کھڑا ہوا تو مجھے امی جان کے چہرے پر گھبراہٹ دکھی۔ امی جان نے جھٹ سے میری ٹانگوں کے بیچ دیکھا، کہیں میرا لنڈ میرے باپ کے لنڈ سے نہ ٹکرا جائے… بھلا وہ کیسے ٹکراتا، وہ تو اب بیٹھ چکا تھا۔ امی جان نے راحت کی سانس لی، اسے میرا لنڈ کھڑا نہیں دکھا تھا۔ میں ابو کے گلے ملا… پھر امی کے گلے ملا… صحن میں اب اندھیرا تھا، اسی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر میں نے امی جان کی ران پر ہاتھ پھیر دیا۔ امی جان کسمسائیں، لیکن مجھ سے الگ نہیں ہوئیں۔
میں امی جان کے گلے لگا رہا… ایسے ہی گلے لگائے ہوئے ہی ابو سے بولا:۔
“ابو… میں تھوڑے ہی دن اب یہاں ہوں، اس لیے میں چاہتا ہوں آپ سب کو خوب سارا پیار دے دوں… آج کی رات میں چھت پر بستر لگا کر امی جان کے ساتھ سونا چاہتا ہوں…”۔
امی جان حیران ہوئیں اور میری آنکھوں میں دیکھنے لگیں… وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ جس بال پر وہ چھکا لگا گئی تھیں، میں سپر مین بن کر اڑتا ہوا بال کو پکڑ کر امی جان کو آؤٹ کر دوں گا… امی جان اب اپنی ہی چال میں پھنس چکی تھیں…۔
ابو: ۔
“جیسے تمہیں اچھا لگے بیٹا… اوپر چھت پر بھی محفوظ ہی ہے… اچھا ہے، وہاں ٹھنڈی ہوا زیادہ لگے گی… جاؤ بیٹا، اپنی امی کے ساتھ چھت پر”۔
لبنیٰ اور امجد کے ساتھ: ۔
“ہم بھی آج چھت پر سونے جائیں گے”
امی جان کی بولتی بند تھی… اپنے ہی دام میں صیاد آپ آ گیا تھا ۔
سونیا امجد سے بولی: ۔
“نہیں، تم آج میرے ساتھ سو جانا… امی جان عمران کے پیار کو گلے لگا کر سکون سے سوئیں گی اور میں تمہارے پیار کو گلے سے لگا کر…”۔
امجد خوش ہو گیا۔
لبنیٰ معصوم چہرہ بنا کر: ۔
“میں کس کے ساتھ سوؤں گی؟”
حنا اس کے گال کو چوم کر بولی:۔
“آ جا میری لاڈو، آج تو میرے ساتھ سوئے گی”

ابو کی جاگیر امی تھیں، لیکن آج وہ اکیلے سونے والے تھے۔ میں ایک ہاتھ میں بستر اٹھا کر، دوسرے ہاتھ سے امی جان کا ہاتھ تھام کر چھت پر جانے لگا…۔
اور امی جان مرے ہوئے قدموں کے ساتھ میرے ساتھ چھت پر جانے لگیں…۔

میں نے بستر چھت پر بچھا دیا تھا۔ چھت کی دیوار اتنی اونچی تھی کہ کوئی جھانک کر دیکھ نہیں سکتا تھا۔ وہاں کپڑے سکھانے کے لیے ایک تار بھی چھت کے بیچ میں موجود تھی۔ امی جان دیوار کے ایک کونے کے قریب دوسری سائیڈ منہ کیے تھوڑی سی جھک کر کھڑی تھیں۔
میں امی جان کے ساتھ اکیلا تھا، اور امی جان تنہائی میں میرے لیے ایک جسم ہوا کرتی تھیں۔ اور جسم کو سوچ کر لنڈ بنا دیر کیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ میں تو نیا نیا جوان ہوا لڑکا تھا، ڈھیروں جذبے میرے اندر مچلتے ہوئے طوفان برپا کیے ہوئے تھے۔ کیسے دیر لگتی… میرا لنڈ ایک بار پھر سے کھڑا ہو چکا تھا۔ میں اپنے لنڈ کو مسل کر امی جان کو دیکھنے لگا…۔
اور میرا کھڑا لنڈ امی جان پہلے بھی کئی بار اوپر اوپر سے دیکھ چکی تھیں۔ میں اپنے لنڈ کو مسلتا ہوا امی جان کے قریب ان کے پیچھے جا پہنچا… پھر پیچھے سے امی جان کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ میرا کھڑا لنڈ امی جان کی گانڈ کی لکیر میں جا لگا۔ ہمارے ہاں کوئی بھی عورت یا لڑکی پینٹی، چڈی جیسا کبھی کچھ استعمال نہیں کیا کرتی تھی۔ ہم شہری نہیں تھے، عام زندگی جینے والے تھے۔ ممے ضرور چھپا لیتی تھیں ہمارے ہاں کی عورتیں اور لڑکیاں، نپلز دکھ جو جایا کرتے ہیں، ورنہ تو چوت کی حفاظت کے لیے دو ٹانگیں ہی کافی ہوتی ہیں۔ گانڈ تو پھر بھی بہت گہرائی میں سوراخ بنا کے چھپی رہتی ہے، کہاں چوت اور گانڈ کے سوراخ کسی کو دکھائی دیتے ہیں… اس لیے پینٹی کی ضرورت ہمارے لیول کی عورتیں شاذ و نادر ہی کیا کرتی ہیں۔
میں امی جان کے پیچھے جا کر انہیں گلے لگاتا ہوا اپنا لنڈ امی جان کی گانڈ کی لکیر میں گھسا گیا… میں حیران ہوا یہ دیکھ کر کہ امی جان نے نہ مجھے ٹوکا، نہ مجھ سے الگ ہو کر مجھے کوئی چانٹا مارا، نہ ہی سختی کی… یہ دیکھ کر میں بہت خوش ہوا۔ مجھے لگا میں جیت رہا ہوں، امی جان میری ضد کے آگے ہار مان گئی ہیں، اس لیے میں اپنے لنڈ کو امی جان کی گانڈ میں رگڑتا ہوا اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر امی جان کی قمیض میں ڈال کر ننگے پیٹ پر رکھ گیا۔ میری سانس تیز چلنے لگی تھی، میرا جسم گرم ہونے لگا تھا، سرور کی انتہا کو میں پہنچنے لگا تھا۔ امی جان کا ننگا پیٹ پہلی بار میرے ہاتھ چھو رہے تھے۔ امی جان نے اس بار بھی مجھے نہیں روکا ٹوکا، نہ ہی میرے ہاتھ اپنی قمیض کے اندر سے نکالے…۔
میں اور بھی جوش میں آتا ہوا ایک ہاتھ وہی پیٹ پر رکھ کر امی جان کے ملائم پیٹ کو سہلانے لگا… دوسرے ہاتھ کو پیچھے لا کر امی جان کی قمیض کا پچھلا پلو اٹھا کر اپنے لنڈ کو ڈائریکٹ ریشمی شلوار کے اوپر رکھتا ہوا امی جان کی گانڈ پر لگا گیا…۔
آہہہ اممممممممم، اب صحیح سے مزا مل رہا تھا مجھے… میرے اندر کا ابال بڑھنے لگا، نشہ نس نس میں اترنے لگا۔ پھر میں نے پیٹ والا ہاتھ سرکایا اور امی جان کی شلوار میں قید چوت پر رکھ دیا… آہہہہ، میں زندگی میں پہلی بار امی جان کی چوت پر ہاتھ رکھ رہا تھا، آج پہلی بار امی جان کی پھولی ہوئی چوت میرا ہاتھ محسوس کر رہا تھا… میں بے صبروں کی طرح اپنے لنڈ کو امی جان کی چوت پر دھکوں کی صورت دباتا ہوا امی جان کی چوت کے لبوں میں ایک انگلی شلوار کے اوپر سے ہی گھسا کر امی جان کی چوت کی لکیر میں اوپر نیچے کرنے لگا… ہلکی گیلی چوت گرم بھی تھی… کتنا مزا تھا امی جان کی چوت میں انگلی کرنے کا…۔
میں مست ہونے لگا… پیچھے سے اپنے لنڈ سے امی جان کی گانڈ اور آگے سے اپنی ایک انگلی سے میں امی جان کی چوت کے ساتھ کھیل رہا تھا… میں مست ہوا دوسرا ہاتھ اٹھا کر آگے لایا اور امی جان کے ایک ممے کو پکڑ کر مسل دیا۔
تبھی مجھے امی جان کی سسکی سنائی دی… اور میں چونکتا ہوا ہوش میں آ گیا۔ امی جان کے منہ سے نکلی سسکی مزے اور لذت میں ڈوبی ہوئی سسکی نہیں تھی… امی جان رو رہی تھیں! میں ہڑبڑا کر امی جان کے ممے کو چھوڑ، چوت پر سے ہاتھ ہٹا کر، لنڈ بھی گانڈ سے ہٹا کر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔
امی جان بے آواز رونے لگیں۔ میرے دل میں درد اٹھا، لیکن لنڈ نہیں مان رہا تھا… وہ پورے جوبن پر تھا، میرے جسم میں سرور ہی سرور دوڑ رہا تھا۔ امی جان کا رونا جان کر دل میں درد اٹھا، لیکن ہوس غالب رہی۔
پھر بھی میں امی جان کو کندھے سے پکڑ کر گھما گیا۔ امی جان سر جھکائے رو رہی تھیں… چاندنی رات کی روشنی میں امی جان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ جتنے آنسو ان کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے، جتنی دیر میں نے ان کی گانڈ سے لنڈ لگائے رکھا تھا، جتنی دیر ان کی چوت میں انگلی کی تھی، امی جان کی چوت کو رونا چاہیے تھا، لیکن چوت آنسو نہ بہا کر امی جان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں…۔
بیٹا تھا میں آخر… درد اٹھنا ہی تھا دل میں… بھلے ہی دل میں درد کی شدت کم تھی، لنڈ میں جوش اور اکڑن زیادہ تھی، پھر بھی امی جان کا رونا دیکھ کر میں امی جان کو اپنے گلے سے لگا گیا۔ لنڈ شریف سیدھا جا کر امی جان کی چوت کو چومنے لگا… امی جان ایسے ہی میرے گلے سے لگی سسکتی رہیں…۔
پھر امی جان نے مجھ سے الگ ہوتی ہوئیں میری آنکھوں میں بھیگی آنکھوں سے دیکھا… پھر میرا ہاتھ پکڑ کر بستر کے قریب لائیں، خود لیٹ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔
اور پھر امی جان نے ایک ہاتھ اپنی شلوار کے ناڑے پر ڈال کر ناڑا کھینچ دیا… شلوار ڈھیلی ہوئی تو امی جان اپنی قمیض کو اچھے سے نیچے تک سیٹ کرتی ہوئیں روتی ہوئی بولیں:۔
امی جان: ۔
“میں تجھے نہیں روکوں گی عمران… تو جو میرے ساتھ کرنا چاہتا ہے، کر لے… جا اپنا دل راضی کر لے… تو سالوں سے مجھے سوچ سوچ کر جسم کی آگ میں جل رہا ہے نا… بجھا لے آج تو اپنی ماں کے جسم سے اپنے جسم کی آگ۔ تجھے بہت پسند ہے نا اپنی ماں کا جسم… دیکھ میں نے تیرے لیے اپنا وہ راستہ کھلا چھوڑ دیا ہے، جو تیرے لیے کبھی بنا ہی نہیں تھا… گھس جا، کر لے اپنے من کو راضی…”۔
امی جان سسکتی ہوئیں، روتی ہوئیں اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر مجھے بول رہی تھیں کہ میں ان کی چوت میں گھس سکتا ہوں… کتنے دکھ سے امی جان رو رہی تھیں! وہ کیا کہا تھا امی جان نے؟ جو راستہ میرے لیے بنا ہی نہیں… میں وہاں گھس جاؤں؟ امی جان بھول گئی تھیں، جس راستے میرے گھسنے پر اعتراض اٹھا رہی تھیں، اسی راستے سے تو میں اس دنیا میں آیا تھا… جب آ ہی گیا تھا تو پھر واپس سے کیوں نہیں جا سکتا تھا؟ یہی تو میری سب سے بڑی آرزو تھی، اور امی جان اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر میرے لیے آسانی بنا گئی تھیں…۔
آہہہ امی جان… جسم کی آگ میں تو آپ بھی برسوں سے جل رہی ہیں… میں بھی جل رہا ہوں، بہت پیاسا ہوں میں… جتنا پیاسا ہوں، اس سے کہیں بڑھ کر میرا لنڈ پیاسا تھا آپ کی چوت کا رس پینے کے لیے… وہی ایک ایسی چیز تھی جس سے میرے لنڈ کی پیاس بجھ سکتی تھی…۔
اور اس وقت میں کھڑے لنڈ کے ساتھ ہوش میں تھا ہی کہاں… اوپر سے امی جان نے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا ہوا تھا۔ بھلے ہی امی جان کی قمیض نے امی جان کی چوت کو چھپایا ہوا تھا، لیکن میں تو جیسے ننگی ہی دیکھ رہا تھا چاند کی چاندنی میں امی جان کی چوت کو… کچھ لمحے پہلے ہی تو میرے ہاتھ کی انگلی نے امی جان کی اسی چوت کو بہت اچھے سے محسوس کیا تھا…۔
ہوس مجھ پر غالب آنے لگی… ادھر امی جان کی آنکھیں برس رہی تھیں، ادھر میں ایک ہاتھ سے اپنے لنڈ کو مسلتا ہوا دوسرے ہاتھ سے امی جان کی قمیض کے پلو کو پکڑ کر اوپر کرنے لگا… یہی ایک پلو ہی تو تھا… جسے ہٹا دینے سے دنیا کی سب سے خوشبودار، لذت دار اور خوبصورت چیز مجھے دکھائی دینے والی تھی… یہی وہ جگہ بھی تھی جہاں سے میں نکلا تھا…۔
میں کانپتے ہاتھ کے ساتھ امی جان کی قمیض کے پلو کو اوپر اٹھاتا چلا گیا… امی جان نے ذرا سی بھی اپنے ہاتھوں کو حرکت نہیں دی مجھے روکنے کے لیے۔

جاری ہے۔





Source link

Leave a Comment