
نیہا چائے بنانے لگی… اور رشمی سبزی کاٹنے لگی… رنجیت ان دونوں سے کھیل رہا تھا۔ کبھی رشمی کو چوم لیتا تو کبھی نیہا کو پیچھے سے چپکا لیتا تھا دونوں بہت انجوائے کررہی تھیں ۔ کسنگ کا جواب کسنگ سے دے رہی تھیں ۔ رنجیت نیہا کی گانڈ سے کھیل رہا تھا۔ ساڑھی کے اوپر سے اس کے فٹ بال کو دبا دبا کر مزے لے رہا تھا۔ تو وہیں رشمی کے چھاتیوں کو دبا دیتا تھا۔ ایسے تب تک چلا جب تک چائے نہ بن گئی ۔ جب چائے نیہا نے چھان لی تو… یہ لیجیے میرے آج کے پتی دیو جی… چائے پیجیے… نیہا نے بڑے پیار سے پرپوز کیا۔ رنجیت اپنی قسمت پر اِترا رہا تھا۔ بولا… لاؤ میری دیوی جی… اور وہ وہیں کچن کے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ اور داہنے ہاتھ سے چائے پکڑا اور بائیں ہاتھ سے نیہا کے کمر میں بانہیں ڈال کر اپنی اور کھینچ لیا۔ نیہا بھی ایک کپ چائے لے کر اس کے گود میں بیٹھ گئی۔ اور چائے پینے لگی… جب ایک گھونٹ لیا تو رنجیت نے بولا… ڈارلنگ میں یہ کپ کی چائے پیوں گا۔ کیوں؟ ایسا کیا ہے ان میں… اس میں تمہارے ہونٹوں کا عرق ہے۔ رنجیت نے وہ کپ نیہا سے لے لیا… اور اپنا کپ اسے دے دیا۔ رنجیت تو پہلے تو اس کپ کو دیکھتا رہا جہاں سے نیہا نے گھونٹ لیا تھا۔ وہاں پر اس کے لپ اسٹک کے نشان لگے ہوئے تھے۔ وہ اس گھونٹ کو پہلے اپنے زبان سے چاٹا… اسے چاٹ رہا تھا مانو اس کی چوت چاٹ رہا ہو۔ سارے لال اسپاٹ کو چاٹ گیا پھر پینے لگا… ایسے ہی سارے کپ ختم کیے۔۔۔۔ ابھی دونوں لڑکیاں ساڑھی میں ہی تھیں۔۔۔ ادھر رشمی سبزی کاٹ کر بنانے لگی تھی۔ وہ کنکھیوں سے دونوں کے کرتوتوں کو دیکھتے جا رہی تھی۔ اور سمائل کر دیتی تھی۔ جب نظریں ملتی تھیں رنجیت سے تو ایک آنکھ مار دیتی تھی۔ نیہا شرما جاتی۔۔۔ ویسے ہی گود میں بیٹھے رہنے سے رنجیت کا لن فل اکڑ گیاتھا ۔۔۔ جو کہ اب درد کرنے لگا تھا۔ وہ نیہا کے کان میں کچھ کہا۔۔۔
نیہا: دھت … ابھی نہیں… ایسے ہی مزے لو… یار میں بہہ جاؤں گا… سب بیکار ہو جائے گا… تو تم رشمی کو لے جاؤ… میرا ابھی موڈ نہیں ہے… ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی… کیا کہتی ہو رشمی… کیا…؟ میں نے سنا نہیں… وہ جانتی تھی کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں… نیہا نے اس کے قریب آ کر کہا… کہ وہ چدائی کے لیے بے تاب ہورہے ہیں … تم … تیار ہو… ابھی؟ کھانا کھانے کے بعد… پلیز رشمی… یار برا حال ہے… اگر تم جانا چاہتی ہو تو جاؤ… میرے بیڈروم میں… میں کھانا بنا لوں گی… رشمی کو تو صبح سے ہی چدوانے کا من تھا… وہ منع نہیں کر سکی… بولی… ٹھیک ہے جیسی تمہاری خواہش… پر نیکسٹ راؤنڈ تمہاری… ٹھیک ہے… پر میرے گرو جی… رشمی کو تم ایسے نہیں لے جا سکتے… جیسے ایک پتی اپنی بیوی کو گود میں اٹھا کر بستر میں لے جاتا ہے… اور ہاں… جم کر چودائی کرانا… ٹھیک ہے رشمی؟ رنجیت نے وقت گنوانا ضروری نہیں سمجھا… وہ رشمی سے لپٹ گیا… اس کے ہونٹ، گال، ناک، چھاتیاں، ہپس، ناف اور نیچے اس کی چوت کی جگہ پر چومنے چاٹنے لگا… پھر اسے اپنی گود میں اٹھا لیا… اور وہاں سے چل دیا۔ بغل میں ہی نیہا کے بیڈروم تھا۔ وہ دونوں پہنچتے ہی بیڈروم کی خوبصورتی کو دیکھتے ہی واہ واہ کہہ اٹھے… کیا خوبصورت بیڈروم ہے… ایک دم لگژری ۔ بستر پر سفید رنگ کا چادر اور 3 بڑے بڑے تکیے رکھے ہوئے تھے۔ رشمی سمجھ گئی کہ یہ نیہا نے کیوں کیے ہیں… یعنی کہ فل رومینٹک چدائی… کروائے گی… رشمی اور گرم ہو گئی۔ وہ پلٹ کر رنجیت کی بانہوں میں بانہیں ڈال دی… اور اسے چومنے لگی… رنجیت اس کے ہونٹوں کو چوم رہا تھا اور دوسری ہاتھوں سے اس کی ایک چھاتی کو دبا رہا تھا۔ یہ عمل قریب 5 منٹ چلا… رنجیت کا لن ایک دم راڈ ہو گیا تھا۔ وہ رشمی کو بولا… یار میری پینٹ تو کھول دو… بیچارہ پریشان ہے۔ رشمی نے سمائل کی اور جھک کر اس کی پینٹ کی زپ کھول دی۔ زپ کھلتے ہی وہ پینٹ اس کے جسم سے الگ کر دی… پھر شرٹ کو بھی کھول دیا۔ اب رنجیت بنیان اور جانگیا میں تھا۔ جانگیا وی شیپ میں تھا جس میں اس کے لن مہاراج پھنکار مار رہے تھے۔ رشمی نے اسے بھی دھیرے سے الگ کر دیا۔ بنیان کو رنجیت نے خود الگ کر دیا۔ اب رنجیت بالکل ننگا ہو گیا۔ اس کے جسم پر کچھ نہیں تھا۔ ایک ٹک تو رشمی اسے دیکھتی رہی… پھر وہ مڑی تبھی رنجیت نے اس کے ساڑھی کا آنچل پکڑ کر کھینچ دیا۔ ساڑھی اس کے بدن سے الگ ہو گئی۔ پھر اس نے پیٹی کوٹ کو بھی کھینچ کر اتار دیا ۔ اور پھر اسے اپنی بانہوں میں لے لیا… آپ اتنے بے تاب کیوں ہو؟
ابھی تو رات بھر باقی ہے… مزے لے لے کر چودو… کون منع کرتا ہے…؟ وہ تو ٹھیک ہے پر اسے کون سمجھائے…؟ یہ جب سے تم گھر سے چلی ہو تب سے یہ پریشان کر رہا ہے… اسے اس کا حق دے دو اس کے بعد جو کہو… میں کرنے کو تیار ہوں… رشمی نے جھک کر اس کے لن کو چوم لیا اور اسے اپنے ہونٹوں میں لے لیا… لن اتنا بڑا تھا کہ اس کے ہونٹوں میں نہیں جا رہا تھا… وہ دوبارہ کوشش کی… پر ناکام… پھر ہار کر اس کے سپاڈے کو چوسنے لگی… رنجیت کے جسم کا خون ابلنے لگا… تبھی نیہا کمرے میں پہنچی… کٹے ہوئے پھل اور کولڈ ڈرنک کے ساتھ… اور وہیں ٹیبل پر رکھ کر نکل گئی… کیونکہ وہ دونوں کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ رنجیت نے اس کے بلاؤز اور برا کو کھول دیا اور پھر پینٹی کو بھی… اب دونوں بالکل ننگے ہو گئے تھے… دونوں نے خوب ایک دوسرے کو چوما، کس کیا… اور چاٹا… رنجیت نے اس کی چوت، گانڈ کے ہول تک چاٹ لیا… رشمی نے اسے خوب ساتھ دے رہی تھی… پاس پڑے ڈریسنگ آئینے میں اپنے اور رنجیت کے حسن کو نکھار رہی تھی… رنجیت نے کہا… دیکھو میری جان… اپنے ان پیارے پیارے مموں کو… ایسا لگتا ہے کہ کشمش ہیں… اگر تمہاری اجازت ہو تو انہیں اپنے ہونٹوں سے چوسوں؟ آپ کو کون روک رہا ہے… اور ویسے بھی آپ ہم دونوں کے پتی ہیں… جی بھر کر چودو ہمیں اور اسے بھی… چاہے جیسے ہی ہو… اور میں آپ سے ہر سیکس پوزیشن کے بارے میں سیکھنا چاہتی ہوں… یہ چوت آپ کو پسند آئے؟ میرے پیارے پاپا جی…
بستر میں میں تمہارا پاپا نہیں ہوں… راجہ جی کہو… ٹھیک ہے… میرے راجہ جی… ان چھاتیوں کو اپنے منہ میں لے کر بتاؤ… کیسا لگتا ہے… اور رنجیت نے ایک چھاتی کو مٹھی میں لے کر اس کے نپل کو ایک بچے کی طرح چوسنے لگا… رشمی کے پورے جسم میں بجلی دوڑ گئی۔ ایسا اس کا شوہر بھی نہیں کرتا تھا… جب وہ شادی شدہ تھی… اب دونوں بستر پر آ گئے۔ رنجیت نے رشمی کو پیٹھ کے بل لٹا دیا اور خود اس کے اوپر سوار ہو گیا۔ اپنے لن کو اس کی چوت پر لگایا اور ایک پٹ کی آواز کے ساتھ اندر کر دیا۔ اور چودنے لگا…
لن پسٹن کی طرح اندر – باہر ہونے لگا… رنجیت نے آئینے میں سب دیکھ رہا تھا۔ وہ رشمی کو بوسہ دیا اور بولا… ڈارلنگ تم اپنی چوت کو دیکھو آئینے میں… کیسے لن لے رہی ہے۔ رشمی نے گردن موڑ کر دیکھنے لگی… اسے تھوڑا سا شرم آئی پھر گردن گھما کر اپنے حرامی باپ کے ہونٹوں کو چوسنے لگی… خوب چودو پاپا… میں تمہاری بیوی ہوں۔ میں حاملہ بھی ہونا چاہتی ہوں… آج ہی میری کوکھ میں بچہ بھر دو… رنجیت یہ سن کر اور جوش میں آ گیا… اور اس نے پسٹن اور تیز کر دیا۔ ایسا مسلسل چلتا رہا… اب یو ٹرن ہو گیا۔ یعنی رشمی اوپر کو آ گئی اور رنجیت نیچے۔ ایسا کرنے میں لن اس کی چوت سے باہر آ گیا۔ رنجیت نے دوبارہ اس کے چوت میں لگایا اور رشمی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا… میری رانی… چودو…؟ رشمی تو پہلے سے تیار تھی۔ چودئیے میرے پران ناتھ… اور وہ خود اپنی گانڈ کو اٹھا کر دوبارہ رکھ دیتی جس سے لن اوپر نیچے ہو جاتا۔ کبھی کبھی رنجیت اپنی کمر کو اٹھا کر دبا دیتا تھا جس سے اس کا پورا لن اس کی چوت میں گھس جاتا تھا۔ اب دونوں کی کمریں چپک گئی تھیں۔ رشمی کی بانہیں اور رنجیت کی بانہیں ایک دوسرے کے جسم کو جکڑ کر رکھی تھیں۔
رشمی: پاپا سچ سچ بتانا… میں اچھی لگتی ہوں یا نیہا… ہر عورت یہی سننا چاہتی ہے… رنجیت مسکرایا… تم… کیونکہ تم میری بہت اچھی گڑیا ہو۔ آج جب تم یہ ساڑھی پہنے تھی نا تو مجھے وہ رات یاد آ گئی جب تم دلہن بنی تھی… اس دن بالکل نئی نویلی دلہن لگ رہی تھی… اور ویسے تمہاری دوست کا بھی کیا کہنا؟ ایک دم مست ہے۔ تم دونوں ہی خوبصورت اور سمجھدار ہو۔ رشمی: پاپا آپ چاہے جس کے ساتھ سوئے… ہمیں اعتراض نہیں پر ماں کو اگنور مت کرنا… اسے بھی سیکس چاہیے… رنجیت: میں بھی یہی چاہتا ہوں… پر تمہاری ماں اب سیکس میں بہت کم دلچسپی لیتی ہے ۔۔ ایسا کیوں ہے مجھے معلوم نہیں۔ رشمی: پاپا عورتوں میں ایک خاصیت ہوتی ہے کہ وہ سمے سے پہلے اپنے آپ کو اولڈ مین سمجھ لیتی ہیں… پر میں سمجھاؤں گی…
آپ کو اب عورتوں کی کمی نہیں ہوگی سیکس کے لیے… 3 لوگ تو ہیں ہی… میں، نیہا اور ماں… ممی مجھ سے کچھ نہیں چھپاتی… پہلی بار اسی نے بتایا کہ آپ کا ہتھیار کافی بڑا ہے… وہ پوری طرح نہیں لے پاتی… رنجیت: ہاہا … تمہیں کیسے معلوم… کیا ممتا تمہیں ساری باتیں بتاتی ہے؟ رشمی: جی پاپا… آپ جس دن رانی کو اپارٹمنٹ میں چود رہے تھے… تو اس دن سیما کا بھی فون آیا تھا… جسے ممی نے اٹھایا تھا… وہ کچھ نہیں بولی… … سیما نے اپنی چودائی کا پروپوز رکھا… کہا کہ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی… پلیز مجھے اس فلیٹ نمبر پر رابطہ کرو… شروع شروع میں وہ گھبرائی پھر وہ نارمل ہو گئی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ آپ کو کبھی بھی روکا نہیں… سیکس کے لیے… پر میری ریکوئسٹ ہے کہ اسے اگنور نہ کرو… رہی بات انہیں منانے کی تو یہ کام میں اور نیہا کر لیں گی… انہیں آپ کے لیے میں تیار کروں گی… ایک دم ماڈرن لیڈی… اوکے…
اوکے میری ماں… اب تو چودنے دو… پانی نکلنے والا ہے… اور چودائی اور زور سے شروع ہو گئی۔ تبھی زور کی پچکاری چھوٹ گئی۔ رنجیت نے رشمی کو دبوچ لیا اور اس کے اوپر گر گیا۔ رشمی تو پہلے ہی 2 بار جھڑ چکی تھی۔ اسے اپنی بانہوں میں لے لیا… لن ابھی بھی اندر باہر ہو رہا تھا۔ رشمی کے چوت پر بال نہ ہونے کی وجہ سے لن کا رس رشمی کی گانڈ میں جانے لگا… اور پھر بستر پر گر گیا۔ قریب 15 منٹ اور چودتے رہی رشمی… جب سارا وریہ بہہ گیا۔ تو دونوں الگ ہو گئے۔ رشمی اسے اپنی بانہوں میں لیے ہوئے بوسہ دیا… اور کہا… تھینکس میرے راجہ جی… آئی لو یو… دونوں وہیں چپکے رہے۔ قریب 10 منٹ اور کے بعد رشمی الگ ہونا چاہی… پر رنجیت نے اسے اپنی اور کھینچ لیا اور کہا… ڈارلنگ میں تمہاری گانڈ چودنا چاہتا ہوں… رشمی: گانڈ…؟ نہیں بابا… بہت درد ہوگا… ابھی میں تیار نہیں ہوں ۔ ویسے نیہا تیار ہو جائے گی… اگر منایا جائے تو… رنجیت: تمہیں کیسے معلوم؟ رشمی: وہ بول رہی تھی کہ تمہارے پاپا ستار نہیں ڈھول بجانا چاہتے ہیں… رنجیت: ہا ہا ہا ہنستے ہوئے… مطلب…؟
رشمی: مطلب ستار مینز چوت… ڈھول مینز گانڈ… رنجیت: سو اسٹرینج… کیا مطلب نکالا ہے… ارے مزے لینے کے لیے یہ سب ضروری ہے… اور پھر تم لن کو منہ میں لی ہے… یہ بھی تو گندا ہے… اگر جسم میں جائے گا تو انفیکشن ہو سکتا ہے… ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی تم نے اور نیہا نے اسے جی بھر کر چوسا ہے… منہ تک تو ٹھیک ہے… پر اگر آپ پیشاب کو پینے اور وریہ کو کھانے کی بات کریں گے تو جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے… میں جانتی ہوں… پھر بھی… میں کہتا ہوں کہ اپنے گانڈ سے کھیلنے دو… میں وعدہ تو نہیں کر سکتی… پر آپ میرے اس ہول کو چوم، چاٹ اور اپنے لن کو رگڑ سکتے ہیں… تھینکس میری رانی اور اسے چھوڑ دیا۔ تبھی کمرے میں نیہا آ گئی۔ آپ کا سیشن کافی لمبا چلا… سبزی بن گئی ہے… صرف روٹی بننی ہے… اور وہ…؟ رشمی: مجھے معلوم ہے کہ روٹی میں بناؤں گی… پر میں تو اس حالت میں ہوں۔ ابھی تھوڑی دیر بعد… نیہا نے دونوں کے جسم کو اور غور سے دیکھ رہی تھی۔ رشمی کو ننگی وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی… اس کے جسم کے پارٹس کو دیکھتے ہوئے اسے جلن ہو رہی تھی۔ واقعی… رنجیت صحیح کہتا ہے کہ نیہا… اور رشمی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ رشمی کا جسم واقعی بہت سیکسی تھا ۔ چوت کا ابھار کافی بڑا تھا۔ رشمی نے صبح ہی اپنی چوت کے بال صاف کیے تھے ۔ اب رنجیت کے لن پر دھیان دیا۔ لن پر رشمی کے چوت کا پانی لگا ہوا تھا جو کہ وہی ٹشو پیپر سے صاف کر رہا تھا رنجیت نے… اب دونوں باتھ روم میں چلے گئے۔ نیہا نے اسے ایک گاؤن دے دیا… اور رنجیت کو ایک ٹاول۔ ریفریش ہونے کے بعد دونوں باپ بیٹی روم میں آئے۔ نیہا نے کہا… کہ رشمی تم میرے روم میں جاؤ… اور کبورڈ سے ساڑھی نکال کر پہن لو… اور تیار ہو جانا…
اور آپ یہ پہن لو… ایک نیکر دیتے ہوئے کہا… رنجیت نے فٹافٹ نیکر پہن لیا جب نیکر پہنے رہا تھا تو نیہا کو وہیں پر رکھا… ٹاول اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ بالکل ننگا ہو گیا۔ نیہا مسکرانے لگی… رنجیت نے اسے اپنی بانہوں میں لے کر اس کے ہونٹ چوسنے لگا… تب تک اس کا لن پھر کھڑا ہو گیا۔ یہ دیکھتے ہی نیہا چیخ پڑی… کتنی طاقت ہے اس میں… ابھی رشمی کی سواری کی ہے… پھر بھی پھنکار رہا ہے… لگتا ہے مانو مجھے کھا جائے گا۔ ایسا ہی ہے میری جان… یہ ایک پولیس کا لن ہے… دو دو ڈاکٹروں کا بینڈ بجائے گا۔ پھر بولا… پینٹ پہننے کی کیا ضرورت ہے… اور نیہا کے نیکر کے زپ کھولنے لگا… نیہا نے منع کیا… نو… ابھی نہیں… چلو کچن میں… پر تمہارے مموں کو دبا سکتے ہیں نا… تو اس میں کیا ہے… یہ لو… یہ ٹیکس فری ہے… پر ہاں… نیچے والا ابھی نہیں… رشمی آ گئی… وہ ایک سلک ساڑی ود میچ پہن رکھی تھی۔ رنجیت اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ کیا غضب سی خوبصورت لگ رہی تھی… اس کے گھر میں تو ہیرا ہے ہیرا… بیکار میں دوسرے تتلیوں کے پیچھے وہ گیا تھا۔ اس کے ایک ٹک دیکھتے ہی رشمی شرما گئی۔ نیہا نے کہا… چلو روٹی بناتے ہیں… پر یاد ہے نا انکل کیا کرنا ہے… ہاں ہا یاد ہے۔ چلو… رشمی کچن میں گئی۔ ایک تھالی میں آٹا لیا اور اس میں پانی ڈال کر گوندھنے لگی… رنجیت نے اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دونوں مموں کو دبانے لگا… رشمی نے کل 7 لوئی بنائی روٹی کے لیے… روٹی کے لیے توا چڑھایا اور پہلے روٹی بیل کر توا پر چڑھا دیا۔ ادھر رنجیت نے اس کی ساڑی اتار دی… وہ پوری ننگی ہو گئی۔ نیہا نے تالی بجا کر دونوں کا استقبال کیا۔ رشمی نے مڑ کر اسے چوم لیا۔۔۔