رانی نے مجھے سپورٹ کیا اور میں نے صبح کے جیسے دونوں کو اٹھا لیا۔ اس بار زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔ اب مجھ میں طاقت آ چکی تھی۔ اور زندہ رہنے کے لیے ناریل بھی مل چکے تھے۔ اب کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو میری ہمت کو توڑ سکے۔ اور ویسے بھی اتنی بدترین حالت میں بھی میری ہمت نہیں ٹوٹی، تو اب تو ٹوٹنا ممکن ہی نہیں تھا۔
جلد ہی میں وہاں پہنچ گیا اور میں نے دونوں کو سمندر کے ساحل سے کچھ فاصلے پر لٹا دیا۔
میں نے رانی کی طرف دیکھا تو وہ بولی
رانی: راجہ، میں کیسے تمہارا شکریہ ادا کروں؟ آج تم ہمت نہ کرتے تو ہم زندہ رہنے کے قابل نہیں رہتے۔ تمہاری ہی وجہ سے ظہیر اور سنجے کے ساتھ ساتھ میں بھی زندہ ہوں۔ ورنہ ہم میں سے کسی میں اتنا دم کہاں تھا؟
میں نے رانی کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ دی اور کہا
راجہ: اس میں تھینکس کی کوئی بات نہیں ہے۔ اور میں اگر سچ کہوں تو تم تینوں کی وجہ سے میں بھی زندہ ہوں۔ اگر تم سب میرے ساتھ نہ ہوتے تو مجھ میں اتنی ہمت نہ آتی۔ تم سب کو مرنے سے بچانے کے لیے ہی میں یہ سب کر پایا ہوں۔ ورنہ اگر میں اکیلا ہوتا تو کب کا ہمت ہار چکا ہوتا۔ میں نے تم تینوں میں جینے کی لگن دیکھی تھی اور میں یہ کیسے ہونے دیتا کہ میرے دوست زندگی پانے کے لیے اتنا کچھ کریں اور میں انہیں مرتا ہوا دیکھتا رہ جاؤں؟
رانی کی فیلنگز اب میرے لیے بدلتی جا رہی تھیں۔ اس کے اندر کی لڑکی، جو اس نے چھپائی ہوئی تھی، باہر نکلنے لگی۔ میری باتیں سن کر وہ بہت ہی زیادہ خوش ہو گئی۔ وہ اٹھی اور ایک جھٹکے میں میرے گلے لگ گئی اور میرا چہرہ چومنے لگی۔
میں ننگا ہی تھا اور میرا لنڈ میرے لنڈ کے بالوں میں چھپا ہوا تھا۔ رانا (رانی) کے میرے چہرہ چومنے سے میرے لنڈ میں کچھ ہركت ہونے لگی۔ اگر رانی کا بھید مجھ پر نہ کھلتا تو شاید میرا لنڈ کوئی بھی موومنٹ نہ کرتا۔ لیکن میری طرح وہ بھی جان گیا تھا کہ اس کے گلے لگنے والا رانا نہیں ہے، بلکہ رانی ہے۔
ناریل کی وجہ سے رانی کچھ کچھ مدہوش تھی۔ اور جنگل میں ہی وہ میری ہی طرح سے نشے میں آ گئی تھی۔ لیکن جنگل سے نکلنے کے چکر میں خود پر قابو پائے ہوئے تھی۔ وہ مجھے چومتے ہوئے ہی میری گود میں سست پڑنے لگی۔ اسے نیند آنے لگی تھی۔ اور میرا لنڈ بھی اس کے بدن کی گرمی کی وجہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔
دو منٹ میں ہی رانی بیہوشی کی نیند سو گئی۔ لیکن ابھی میرے سونے کا ٹائم نہیں تھا۔ میں نے رانی کو خود سے الگ کیا اور سنجے کے پاس ہی اسے بھی لٹا دیا۔
سنجے کے پیٹ میں کچھ چلا گیا تھا، لیکن ظہیر کے لیے ابھی میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔ ظہیر کو میں نے ناریل کا پانی نہیں پلایا تھا، کیونکہ ناریل کے پانی کی وجہ سے اس کے منہ میں جو دلدل کا تھوڑا سا کیچڑ تھا، وہ ناریل کے پانی کی وجہ سے اس کے پیٹ میں جا سکتا تھا۔
تیسرا ناریل ابھی بھی میرے پاس ہی پڑا تھا جو رانی اپنے ساتھ ہی لائی تھی۔ اب تو کوئی ٹینشن ہی نہیں تھی۔ ناریل بھی تھے اور پاس میں سمندر بھی تھا۔ تو مچھلی کام میں آ سکتی تھی۔
جیسے ہی یہ بات میرے دماغ میں آئی تو پھر ایک بات اور بھی دماغ میں آئی کہ مچھلی کا کچا گوشت کیا ظہیر کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟ مچھلی میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔
پہلے میں نے اپنے پاس موجود ناریل کو کاٹنا شروع کیا اور پھر ظہیر کو سر کے بالوں سے پکڑ کر اس کا منہ سائیڈ میں کیا اور ناریل کے پانی سے ظہیر کے منہ، ناک اور آنکھوں کو دھونے لگا۔ میری کوشش تھی کہ کسی طرح سے ظہیر کے منہ کے اندر کا کیچڑ بھی صاف ہو جائے، لیکن ایسا نہ کر پایا۔
ظہیر کا چہرہ اندھیرے میں صحیح سے نہیں دکھ رہا تھا۔ لائٹر تو تھا ہی ہمارے پاس، تو میں نے سوچا کہ آگ جلا کر ظہیر کے لیے کچھ کرتا ہوں۔ میں پھر سے ناریل کے پیڑ کے پاس پہنچا۔ جتنی لکڑی پاس میں دکھی، میں نے اٹھا لی اور ظہیر کے پاس لا کر رکھ دی۔ اور پھر میں نے رانی کے کپڑوں کے اندر سے لائٹر نکالا اور لکڑی کو آگ لگانے کی کوشش کرنے لگا۔ تھوڑی دیر لگی، لیکن لکڑی نے آگ پکڑ لی۔
میں آگ کی روشنی میں ایک بار پھر سے ظہیر کے چہرے کو ناریل کے پانی سے دھونے لگا۔ ناریل کا پانی ختم ہوا تو میں نے اور ناریل اٹھا کے ظہیر کے پاس رکھ دیے۔ ناریل کا پانی بھی ظہیر کے لیے کچھ کام آ سکتا تھا۔ اپنے حساب سے میں نے ظہیر کو صاف کرنے کے بعد اسے ناریل کا پانی پلایا۔ اب اوپر والا ہی سب جانتا تھا کہ ظہیر کے لیے آگے کیا لکھا ہوا ہے۔ جتنا مجھ سے ہو سکا، میں نے کیا تھا۔
پھر میں نے سوچا کہ نہائے ہوئے نہ جانے کتنا وقت بیت چکا ہے۔ یہ سوچتے ہی میں سمندر کے پانی میں نہانے کے لیے جانے لگا۔
آج میں کھل کر نہا رہا تھا۔ مجھے کوئی جلدی نہیں تھی۔ ایک اچھا کام یہ ہوا تھا کہ سمندر کے پانی سے دلدل کا کیچڑ بھی صاف ہو گیا تھا۔ میں اچھی طرح سے نہایا اور خود کو مل مل کے صاف کیا اور سالوں کی جمی ہوئی گرد خود پر سے صاف کی۔ ایک گھنٹے تک میں نہاتا رہا۔
نہانے سے میری ساری انرجی مجھے واپس مل گئی تھی۔ اب مجھ میں دم پہلے سے بھی زیادہ آ گیا تھا۔ زندہ رہنے کی آس جو مل گئی تھی، اور وہ آزادی والی۔
جب میں اچھی طرح سے نہا کر واپس آیا تو سنجے ہوش میں آ چکا تھا۔ اور پھر جیسے ہی ہم دونوں کی نظر ایک دوسرے سے ٹکرائی تو سنجے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے درد کو بھول کر میری طرف بھاگنے لگا۔
سنجے میرے پاس پہنچتے ہی میرے گلے سے لگ گیا۔ اور جتنی اس میں طاقت تھی، وہ اسے استعمال میں لاتے ہوئے مجھے خود میں سمانے لگا۔ سنجے اپنا پیار مجھے دکھا رہا تھا۔ اور میں بھی سنجے کے پیار کو محسوس کر پا رہا تھا۔
آج مجھے ایک بہت ہی بڑی خوشی ملی تھی۔ سنجے کے زندہ رہنے کا مجھے کوئی امکان نہیں دکھ رہا تھا۔ لیکن سنجے میرے سامنے کھڑا مجھے گلے سے لگائے ہوئے اپنے زندہ ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔
سنجے اچانک سے ہی آنسو بہانے لگا۔
راجہ: سنجے، تم رو رہے ہو؟
سنجے: (روتے ہوئے) ہاں راجہ، آج میں رو رہا ہوں۔ میں زندہ تیرے سامنے ہوں اور تیری ہی وجہ سے زندہ ہوں۔ مجھے خود کے زندہ بچ جانے کا یقین نہیں رہا تھا۔ راجہ، جب تم مجھے اٹھائے چل رہے تھے، تب کبھی کبھی مجھے ہوش آ جاتا تھا۔ میں نے تم کو ہماری زندگی کو بچانے کے لیے ہمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ راجہ، تم نے۔۔ راجہ، تم نے۔۔ میں کیا کہوں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ بس اتنا ہی کہوں گا کہ یہ زندگی تیری ہی وجہ سے ملی ہے مجھے۔