“جدائی کی رات اور اندر کا طوفان

br>

بیٹے نے بینا کے سر کو اوپر کیا اور “بینا کے منہ میں اپنا منہ ڈال دیا” بینا بیٹے کا ببلو پکڑ کر سہلانے لگی میں چڈی میں بیٹے کا کھڑا ببلو دیکھ کر شرما رھی تھی بینا نے میرے بیٹے کے منہ سے اپنا منہ ہٹا کر میرے منہ میں اپنا منہ ڈال دیا بیٹے نے اپنی چڈی اتار دی بیٹے کا ببلو فٹ کر کے باہر نکل کر ہلنے لگا میں نے بیٹے کو منع نہیں کیا بیٹا بینا کے پیچھے جاکر کام کرنے لگا بینا نے میرے سینے کو بوسہ کر رھی تھی مجھے کہتی اف آپی بہت مزہ آرہا ھے کچھ دیر بیٹے نے بینا کا کام کیا پھر سامنے آکر بینا کو ببلو دیکھایا بینا نے ببلو کو منہ میں لیا بیٹے کا ببلو دیکھ کر میں بھی شرما رھی تھی اب بینا ایک ہاتھ سے میری ببلی میں انگلی کرتی اور بیٹے کا ببلو چوس رھی تھی بینا نے میرے بیٹے سے کہا کام کرو

بینا گھوڑی بنی تھی میں نیچے لیٹی تھی پھر بینا میری ٹانگیں اٹھا کر میری ببلی چاٹ رھی تھی بیٹا پیچھے سے بینا کی کا کام کر رہا کچھ دیر بعد بیٹا لیٹ کر بینا کو اپنے اوپر کیا بینا نے ببلو کو ببلی میں لےکر زبردست کروائی کرنے لگی مجھے بھی بینا مزے دے رھی تھی ھم تینوں ننگے تھے میں فارغ ھو گئی تو شرم کے مارے میں کپڑے اٹھا کر ننگی باہر آئی کپڑے پہن کر کچن میں مصروف ھو گئی کچھ دیر 

بینا آئی مجھے چومنے لگی بولی آپی تمہارے بیٹے کی جتنی تعریف کروں کم ھے کچھ دیر بعد پھر بیٹا آیا اور بینا کو اٹھا کر روم لے گیا مجھ سے بھی نہ رہا گیا میں بھی اندر آئی اور بینا کو چومنے لگی بیٹا صرف بینا پر مست تھا میں بینا کے ساتھ مست تھی بیٹے کا ببلو تو مجھے بہت پیارا لگتا اب میں بار بار بیٹے کے ببلو کو دیکھتی بینا میری ببلی چاٹتی انگلی کرتی رھی بیٹا بینا کی کروائی کرتا رہا 

پھر میں اور بینا فارغ ھو گئی میں تو باہر آگئی مگر بینا کو بیٹے نے نہیں چھوڑا بینا اپنی ببلی اور ڈکی میں بھی  فل مستی میں کرواتی اس کے بعد پھر ہماری باری باری ختم ھو گئی 

جب بیٹا اور بینا کروائی کرتے تو میں جاکر بینا کے ساتھ مست ھو جاتی یا میں اور بینا مستی میں لگی ھوتی تو بیٹا آکر بینا کی کروائی کرنے لگ جاتا اس طرح بینا کے ساتھ چار مہینے ھو گئے ایک دن بینا نے کہا بیٹے کا تم دیکھتی ھو لینے کو من کرتا ھے میں شرما کے مسکرا کر بولی یار وہ میرا بیٹا ھے میں کیسے لے سکتی ھوں پھر بینا نے اس پر بات نہ کی اب بیٹا میرے سامنے بینا کی کروائی کرنے لگ جاتا جب دونوں کام پر ھوتے تو مجھے دونوں کی یاد آتی بینا کو بولتی یار جلدی آنا میری ببلی بہت ترس رھی ھے اور بہت گرم ھے بینا بولتی اچھا جلدی آجاؤ گی اپنی آپی کی ببلی کو بہت چاٹوں کبھی بولتی تیری ببلی کا رس مزے کا ھے 

چاٹنے میں مزہ آتا ھے اب ایسا ھو گیا کے جب تک بیٹا ہمارے ساتھ نہ ھوتا مزہ نہ آتا بینا تو میرے بیٹے کے ببلو کی بہت تعریف کرتی رات کو جب ھم تینوں شروع ھوتے تو بس لگے رہتے بیٹے کا ببلو دیکھ کر مجھے سکون مل جاتا اسی طرح 

چھ مہینے ھو گئے ایک دن بینا جاب سے خوشی خوشی جلدی گھر آگئی میں پوچھی کیا بات ھے کیوں خوش ھو تو بینا نے بتایا کے ترقی ھو گئی ھے اور دوسرے ملک میں پوسٹنگ ھو گئی ھے میرے دل پر تو پہاڑ سا گر پڑا لیکن میں بینا کو خوش دیکھ کر بینا کو احساس نہ ھونے دیا کے مجھے کتنا افسوس ھو رہا ھے جب بیٹے کو پتا چلا تو بیٹے نے بینا کو منع کیا مگر میں نے بیٹے کو سمجھایا کے منع نہ کرو اسے ترقی کرنے دو بس بینا کا ساتھ یہی تک تھا دوسرے دن بینا 

چلی گئی کچھ دن میں اور بیٹا بہت اداس رھے بیٹا تو رو پڑتا تھا بینا کیلئے میں بھی کبھی کبھی رو پڑتی تھی کچھ دن ہمیں صبر آگیا اور بینا کا غم ہلکہ ھو گیا لیکن میرے اندر سیکس کا ایک طوفان سا اٹھنے لگا جب بیٹے کو اٹھانے جاتی تو بیٹے کے کھڑے ببلو کو دیکھ کر میں بہت گرم ھو جاتی 

بیٹا بھی بہت گرم تھا مگر سمجھ نہیں آتا کے اب کیا کیا جائے بینا کے جانے کے بعد بیٹا کبھی مسکرایا بھی نہیں تھا میں بہت گرم تھی ایک رات بیٹا اپنے روم میں رو رہا تھا اچانک میں بیٹے کے روم میں آئی اور بیٹے کو روتا دیکھ کر بیٹے کو گلے سے لگایا بس میرے اندر سے ایک سرسراہٹ سی رینگنے لگی اور میں 



Leave a Comment