میجر صاحب۔۔۔نیو ورژن ۔۔۔قسط 30

صبا حیرت سے آنکھیں پھاڑے میجر کو دیکھ رہی تھی۔۔ یہ کیسے آ گیا یہاں۔۔ یہ سوچنے کی اُسے کوئی ضرورت نہیں تھی۔۔ اُفففففففففففففففففف میں کیا کیا بول گئی اِس کے سامنے۔۔ یہ تو سچ مُچ میں میرے سامنے تھا۔۔ صبا کو بس یہی خیال آنے لگا۔۔

میجر۔۔ سالی رنڈی۔۔ اِتنی جلدی کیوں آ گئی تھی وہاں سے۔۔ ابھی تو میں نے تجھے چُودا بھی نہیں تھا اور تُو بھاگ آئی۔۔ بِنا میرے پُوچھے ہی۔۔

صبا۔۔ ۔۔ ن۔۔ ن۔۔ نہیں۔۔ یہ نہیں بات۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آپ۔۔ و۔۔ و۔۔ و۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہی۔۔ نہانے۔۔ س۔۔ س۔۔ س۔۔

میجر نے ایک زور دار دھکا صبا کی چُوت کے اندر مارتے ہوئے بولا۔۔ بہن چود نہا کے آ ہی جانا تھا نا میں نے۔۔

صبا نے کوئی جواب دیے بِنا اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔

میجر نے صبا کی دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھے پر رکھا اور اُس پر جھُک گیا اور اپنا پُورا لنڈ اُس کی چُوت کے اندر دھڑا دھڑ اندر باہر کرنے لگا۔۔ صبا کی چیخیں  اور سِسکاریاں نِکلنے لگیں۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ئی۔۔ ئی۔۔ او۔۔ او۔۔ او۔۔ او۔۔ م۔۔ م۔۔ م۔۔ ای۔۔ ئی۔۔ ئی۔۔ ئی۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔

میجر۔۔ بہن چود۔۔ میں نے تجھے کہا تھا کہ آ اپنے شوہر کو چھوڑ کر مُجھ سے چُدوا جو تُو میرا نام لگا رہی ہے۔۔ حرام کی جانی۔۔ اگر نہیں دل کرتا تو نہ چُدوا اپنی پُھدی مُجھ سے۔۔

لیکن صبا کو اِس وقت کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔۔ وہ تو بس آنکھیں بند کیے ہوئے میجر کے لنڈ کا مزہ لے رہی تھی۔۔ اُس نے ہرقسم کی شرم و حیا کو ختم کرتے ہوئے اپنی دونوں بَاہیں میجر کے گلے میں ڈالیں اور اُسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔ اپنی ٹانگیں چھُڑا کر اُس کی مضبوط کمر کے گِرد مضبوطی سے باندھ لیں اور اُسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔ آج میجر کا جسم اُس کی گِرفت میں تھا۔۔ جیسے۔۔ جیسے آج وہ اُسے کہیں بھی جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔ جیسے۔۔ جیسے اُسے ڈر ہو کہ اب پھر وہ اُسے پیاسا چھوڑ کر چلا جائے گا۔۔ لیکن میجر بھی تیزی کے ساتھ اپنا لنڈ اُس کی چُوت میں اندر باہر کر رہا تھا۔۔ اُسے چُود رہا تھا۔۔ اُس کی پیاس بُجھانا چاہتا تھا۔۔

میجر نے اپنے ہونٹ صبا کے ہونٹوں پر رکھے اور صبا نے تیزی سے اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گِرفت میں لیا اور اُن کو چوسنے لگی۔۔ اِس سے پہلے کہ میجر اپنی زُبان اُس کے منہ میں ڈالتا صبا نے اپنی زُبان میجر کے منہ کے اندر ڈال دی۔۔ اپنی زُبان میجر کے منہ کے اندر اِدھر اُدھر پھیرنے لگی۔۔ کبھی اُس کے دانتوں کے اوپر اور کبھی اُس کی زُبان کو چاٹتے ہوئے۔۔ صبا اُس سے لپٹی جا رہی تھی۔۔ اُسکا لنڈ اپنی چُوت میں اندر ہی اندر بہت اندر تک کھینچتی جا رہی تھی۔۔ بہت دنوں کی اپنی پیاس بُجھانے کے لیے۔۔

کُچھ ہی دیر کے بعد میجر نے اپنا لنڈ صبا کی چُوت سے نِکال لیا۔۔ صبا نے تڑپ کر اُسے اپنی طرف کھینچا۔۔ پلیزززززز۔۔ نہیں۔۔ ابھی نہیں۔۔ اِتنی جلدی نہیں۔۔ پلیزززززززززز۔۔ ڈال دووووووووووووووو۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ صبا اُس کے سامنے تڑپنے لگی۔۔

میجر ہنسا۔۔ سالی کہیں نہیں جا رہا۔۔ چل اُٹھ کے کھڑی ہو جا یہاں بیڈ پر۔۔

صبا کو میجر نے بیڈ پر کھڑا کیا اور اُسے بیڈ کی بیک کو پکڑ کر جھُکنے کے لیے بولا۔۔ صبا جلدی سے اُسی پوزیشن میں آ گئی کہ اپنے ہی بیڈ کے اوپر وہ اُس کی بیک کو پکڑ کر کھڑی تھی گھوڑی بنی ہوئی۔۔ میجر اُس کے پیچھے آیا اور اُس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔ سالی تیری گانڈ بڑی گوری، ملائم  اور موٹی ہے۔۔ بہن چود دل کرتا ہے کہ تیری گانڈ ہی مار لوں۔۔

صبا تڑپ کر سیدھی ہوئی۔۔ نہیں نہیں پلیز نہیں۔۔ اِدھر نہیں۔۔ پلیز میں مر جاؤں گی۔۔ وہاں نہیں۔۔

میجر ہنسا اور اُس کی گانڈ پر ایک زور کا تھپڑ مار کر بولا۔۔ نہیں ماروں گا تیری گانڈ آج تو نہیں ماروں گا۔۔ لیکن ایک نہ ایک دن ضرور چُودوں گا تیری گانڈ جِس دِن میرا دل کیا۔۔ ابھی تو چُوت ہی چُودنے دے۔۔ ڈر نا۔۔

صبا دوبارہ سے گھوڑی بن گئی اور میجر نے اپنا لنڈ صبا کی چُوت پر رکھا اور آہستہ آہستہ۔۔ اپنا لنڈ صبا کی چُوت میں اُتار دیا۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ م۔۔ م۔۔ م۔۔ س۔۔ س۔۔ س۔۔ صبا ایک بار پھر تڑپ اُٹھی۔۔

میجر نے اپنی دونوں ہاتھ صبا کی پتلی کمر پر رکھے اور اب دھڑا دھڑ اپنا لنڈ اُس کی چُوت کے اندر باہر کرتے ہوئے اُسے چُودنے لگا۔۔ تیزی سے میجر کا لنڈ صبا کی چُوت کے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔ اور صبا بھی خود سے ہی اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کرتے ہوئے اپنی چُوت کو میجر کے لنڈ پر دھکے دے رہی تھی۔۔ چند ہی دھکوں کے بعد صبا کی چُوت نے پانی چھوڑنا شُروع کر دیا۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ م۔۔ م۔۔ م۔۔ س۔۔ س۔۔ س۔۔ صبا کا جسم جھٹکے لینے لگا۔۔ اُس کی چُوت میجر کے لنڈ کو بھینچنے لگی۔۔ دبانے لگی۔۔ اپنا پانی چھوڑنے لگی۔۔ صبا کی آنکھیں بند ہو گئیں اور اُسکا جسم ڈھیلا پڑ گیا تھا۔۔ بہت ہی سٹرونگ قِسم کا orgasm ہوا تھا صبا کا۔۔ جِس نے اُس کی ساری پیاس بُجھا دی تھی۔۔ پُورے جسم کو ریلیکس کر دیا تھا۔۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد میجر کے لنڈ سے بھی منی نکلنے والی ہو گئی۔۔ میجر نے اپنا پُورا لنڈ آخر تک صبا کی چُوت کے اندر پش کیا اور چند ہی لمحوں کے بعد اُس کے لنڈ نے اپنی منی صبا کی چُوت کے اندر چھوڑنی شُروع کر دی۔۔ صبا کو جیسے سکون ملنے لگا۔۔ اُس کی چُوت کی آگ اُس گرم گرم پانی سے ٹھنڈی ہونے لگی۔۔

میجر نے اپنا لنڈ اُس کی چُوت سے نِکالا اور اُس کے بیڈ پر ہی لیٹ گیا۔۔ صبا بھی نڈھال ہو کر میجر کے پہلو میں لیٹ گئی۔۔ اُس کی چُوت سے منی نِکل کر اُس کے اپنے بیڈ پر گِرنے لگی۔۔ بہتی ہوئی۔۔ میجر کی منی۔۔ جو صبا کی چُوت کے اندر ڈسچارج ہوئی تھی۔۔ دھیرے دھیرے صبا کے بیڈ کو خراب کر رہی تھی۔۔ لیکن صبا آنکھیں بند کیے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔۔ آج تو میجر نے اُسے بِنا پُورا ننگا کیے ہی چُود دیا تھا۔۔ اُس کی شرٹ اور برا اب بھی اُس کے جسم پر تھی۔۔

صبا چُدنے کے بعد میجر کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی۔۔ میجر نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے اپنی طرف موڑا اور ایک جھٹکے سے اُسے اپنے جسم کے اُوپر لے لیا۔۔ صبا نے اپنی آنکھیں کھول کر میجر کو دیکھا۔۔

میجر۔۔ بس اب تو خوش ہے نا۔۔ اب تو ہو گئی نا تیری تسلی۔۔ اب تو بُجھ گئی نا تیری چُوت کی پیاس۔۔

صبا نے شرما کر اپنی آنکھیں جھُکا لیں۔۔ اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مُسکرآہٹ تھی۔۔ صبا نے دھیرے سے اپنا سر میجر کے چوڑے سینے پر رکھ دیا۔۔ اپنے گال کو اُس کے سینے پر ٹِکا کر۔۔ میجر کے مضبوط  سینے کو اپنے گال کے نیچے محسوس کرتے ہوئے۔۔ میجر کا ہاتھ اُس کی کمر کو سہلا رہا تھا۔۔ دھیرے دھیرے۔۔ بہت ہی پیار سے۔۔ صبا کو اپنی ننگی تھائیز کے نیچے میجر کا لنڈ محسوس ہو رہا تھا۔۔ جو کہ فارغ ہونے کے باوجود بھی بہت زیادہ چھوٹا نہیں ہوا تھا۔۔

میجر نے اپنا ہاتھ صبا کی شرٹ کے نیچے سے ڈالا اور اُس کی ننگی گانڈ کو سہلانے لگا۔۔ اور پھر ہاتھ شرٹ کے نیچے سرکتا ہوا اُوپر کو جانے لگا۔۔ ننگی کمر پر۔۔ جیسے ہی اُس کی ننگی کمر کو میجر نے سہلایا تو صبا نے اپنے ہونٹ میجر کے سینے پر رکھے اور اُس کے سینے کو چُومنے لگی۔۔ اپنے پتلے پتلے گُلاَبی ہونٹوں سے۔۔

میجر نے اُس کی شرٹ کو اُوپر کو اُٹھانا شُروع کیا۔۔ صبا نے بِنا کوئی اعتراض کیے ہی تھوڑی سی اُونچی ہو کر اپنی شرٹ میجر کو اُتارنے دی۔۔ اور اگلے ہی لمحے صبا اب صرف ایک بَرا میں تھی۔۔ اور دوبارہ سے میجر کے سینے پر لیٹ چُکی تھی۔۔ پتہ نہیں کیوں۔۔ لیکن خود سے ہی اپنی تھائی کی میجر کے لنڈ کے اوپر رگڑنے لگی۔۔ آہستہ آہستہ۔۔

میجر نے صبا کے سر کے بالوں کو پکڑا اور تھوڑا سے پیچھے کو کھینچ کر اُسکا چہرہ سیدھا کرتے ہوئے بولا۔۔ کیا بات ہے ابھی اور چُدوانا ہے کیا۔۔ ۔۔ صبا نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ ایک لمحہ میجر کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اپنے ہونٹوں کو میجر کے موٹے موٹے کالے ہونٹوں پر رکھا۔۔ اور اُسے چُومنے لگی۔۔ اُسے اِس وقت کسی بھی چیز کی فکر نہیں تھی۔۔ نہ ہی کسی اور چیز کی ضرورت۔۔ اُسے تو بس میجر چاہیے تھا اور اُسکا لنڈ۔۔ اور آج میجر بھی اُسے مایوس کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔ اُس نے بھی دھیرے سے صبا کی ملائم گانڈ  کے درمیان سے اپنی اُنگلی اُس کی چُوت میں ڈال دی اور اُسے سہلانے لگا۔۔ پہلے سے ہی تیار صبا کو ایک اور راؤنڈ کے لیے تیار کرنے کے لیے۔۔ اور صبا سوچ رہی تھی کہ یہ کیسا انسان ہے۔۔ کبھی تو مُجھ سے اِتنا بُرا سلوک کرتا ہے۔۔ اِتنی تذلیل کرتا ہے۔۔ اور کبھی اِتنا خیال کرتا ہے۔۔ جانور ہے یہ تو پُورے کا پُورا۔۔ اور دھیرے سے میجر کے سینے کو چُوم لیا اور خود کو اُس کے سُپرد کر دیا دوبارہ سے چُدنے کے لیے۔۔





Source link

Leave a Comment