صبا خاموش ہو گئی۔۔ تبھی کچن سے پینو اُس کے لیے جوس گلاس میں ڈال کر لائی۔۔ اور صبا کو پیش کیا۔۔ صبا نے خاموشی سے وہ گلاس لے لیا۔۔ اُسے پتہ تھا کہ وہ بِنا میجر کی اِجازت کے اب اُس کے فلیٹ سے نہیں جا سکتی۔۔ وہ تو پینو سے نظریں بھی نہیں مِلا پا رہی تھی۔۔ اِس قدر خود کو شرمندہ محسوس کر رہی تھی۔۔
میجر۔۔ اے پینو چل جلدی سے جو کام رہ رہا ہے وہ ختم کر لے۔۔
پینو۔۔ صاحب جی وہ صبا میم صاحب کے سامنے ہی۔۔ تھوڑا مُسکر کر بولی
میجر۔۔ ہاں ہاں کر لے اِس کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔۔
صبا پریشان ہو رہی تھی کہ پتہ نہیں کیا کام کرنے لگی ہیں۔۔ کہیں میرے سامنے تو اِسے چودنا شروع نہیں کر دے گا میجر۔۔ اوہ نوووووو
لیکن صبا کو تھوڑا رِلیف ہوا جب اُس نے پینو کو بیڈ روم میں جاتے دیکھا اور میجر کوچ پر بیٹھا تھا۔۔
صبا۔۔ ک۔۔ کک۔۔ کک کیا کرنے جا رہے ہو آآآآآآآآپ؟؟؟
پینو اندر سے نِکلتی ہوئی بولی۔۔ کچھ نہیں میم صاحب بس تھوڑی سی مالش کرنی ہے صاب جی کی پھر میری چُھٹی۔۔ وہ اندر سے نِکلی تو اُس کے ہاتھ میں آئل کی بوتل تھی۔۔ پتہ نہیں کیسا آئل تھا۔۔ شاید کوئی سپیشل ہی تھا۔۔
صبا کو حیرت ہوئی کہ یہ میجر اِس عورت سے اپنی مالش کرواے گا۔۔ لیکن وہ چُپ ہی رہی۔۔
پینو کوچ کی طرف بڑھی۔۔ میجر نے اپنی سلیولیس ویسٹ اُتار دی۔۔ صبا اُس کے کوچ سے صرف 2-3 فٹ کے فاصلے پر بیٹھی ہوئی تھی ایک صوفے پر۔۔ میجر نے اپنی ویسٹ صوفے پر اُچھال دی جو کہ سیدھی صبا کی گود میں آ گِری۔۔ صبا کو فوراً ہی اُس بُنیان میں سے آتی ہوئی میجر کے جسم کے پسینے کی بدبو آنے لگی۔۔ لیکن اُس نے خاموشی سے اُس بُنیان کو اپنی گود سے سرکا کر نیچے صوفے پر رکھ دیا۔۔
میجر کوچ پر لیٹ گیا۔۔ ارے آج کیا اِسی ہی کرے گی مالش۔۔ سارے کپڑے خراب کرے گی اپنے۔۔ جا چینج کر آ نا۔۔
پینو۔۔ لیکن صاب ۔۔ ووووووووو میم صاحب کے سامنے۔۔
میجر۔۔ بہن چود۔۔ بکواس کرتی ہے۔۔ جو میں نے کہا ہے ویسا ہی کر۔۔ آگے آگے مُجھے سبق نہ پڑھا۔۔
پینو تو پینو۔۔ صبا بھی یکدم میجر کے اِس رویے کی وجہ سے ڈر گئی۔۔ پینو نے جلدی سے آئل کی بوتل کوچ کے پاس ٹیبل پر رکھی اور صبا کے قریب ہی پڑی ہوئی میجر کی ویسٹ اُٹھائی اور اندر بیڈ روم میں بھاگ گئی۔۔ صبا سہمی ہوئی انتظار کر رہی تھی کہ پتہ نہیں اب کیا ہونا ہے۔۔ اُس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اُٹھ کر جانے کی بات کرے۔۔ میجر اپنے پیٹ کے بَل کوچ پر لیٹ گیا ہوا تھا۔۔ اُسکا منہ دوسری طرف تھا۔۔ وہ صبا سے بھی کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔۔ جیسے وہاں پر کوئی ہو ہی نا۔۔ صبا کی نظریں میجر کی سڈول کمر کو تاک رہی تھیں۔۔ ایک ایک مسل صاف نظر آ رہا تھا۔۔ چَند لمحوں کے لیے میجر کا خوف پھر سے گم ہو گیا کہیں اور پھر سے اُسکا جسم اُس کے حواس اور دماغ پر چھا نے لگا۔۔
اِتنے میں پینو اندر سے نِکلی تو صبا کی آنکھیں ہی پِھل گئیں اُس کو دیکھ کر۔۔ اُس نے میجر کی وہی اُتاری ہوئی بلیک ویسٹ پہنی ہوئی تھی۔۔ جو کہ اُس کی ہاف تھائیز تک آ رہی تھی۔۔ گلا کافی لٹک رہا تھا۔۔ جِس میں اُس کے ہاف بوبز نظر آ رہے تھے۔۔ نیچے شاید اُس نے ایک چھوٹی سی نِکر پہن رکھی تھی۔۔ لیکن اُس کی ہاف تھائیز ہی کور ہو رہی تھیں۔۔ باقی پوری ٹانگیں بالکل ننگی تھیں۔۔ صبا سے نظریں ملیں تو پینو تھوڑا سا شرماتی ہوئی مُسکرادی۔۔ صبا حیرت سے سوچنے لگی۔۔ اِس رنڈی کو بھی شرم آتی ہے کیا۔۔
پینو کوچ کی طرف بڑھی اور آئل کی بوتل ٹیبل سے اُٹھا کر کوچ کی سائیڈ پر آ گئی۔۔ پھر اُس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل سے آئل میجر کی کمر پر گرایا اور دھیرے دھیرے ہاتھ سے اُس کی کمر کا مساج کرنے لگی۔۔ آئل کمر پر گرنے اور اُس کے ملنے سے میجر کی بلیک کمر چمکنے لگی۔۔ آہستہ آہستہ پینو کے ہاتھ میجر کی پوری کمر پر سِرک رہے تھے اور وہ میجر کی کمر اور اُس کے شولڈرز اور گردن پر آئل کی مالش کر رہی تھی۔۔ پینو کے ہاتھوں کو میجر کے جسم پر پِھسلتا ہوا دیکھ کر صبا کو عجیب سی فیلنگ ہو رہی تھی۔۔
کمر پر مالش کرنے کے بعد پینو میجر کی تھائیز پر آ گئی۔۔ سولیڈ اور بلیک تھائیز پر آئل گِرا کر دھیرے دھیرے اُن کی مالش کرنے لگی۔۔ اُس کے ہاتھ میجر کی تھائیز پر پِھسل رہے تھے اور اُس کے ساتھ ساتھ صبا کی نظریں بھی میجر کے جسم پر پِھسل رہی تھیں۔۔ میجر کا سولیڈ جسم ایک بار پھر سے صبا کے جسم میں آگ لگا رہا تھا۔۔ میجر کی سولیڈ گانڈ اُس کی ٹائیٹ نِکر میں پھنسی ہوئی تھی۔۔ بہت ہی سولیڈ اور سیکسی لگ رہی تھی۔۔ بالکل جیسے کسی باڈی بلڈر کی ہو۔۔ نیچے تھائیز اور لیگز کا ایک ایک مسل الگ الگ نظر آ رہا تھا اور پینو کے آئل لگانے کی وجہ سے چمک رہا تھا۔۔ صبا کا حلق خُشک ہو رہا تھا۔۔ جیسے ہی اُسے اِس بات کا احساس ہوا تو اُسے خیال آیا کہ اُس کے ہاتھ میں تو جوس کا گلاس ہے۔۔ جسے وہ میجر کا جسم دیکھ کر بُھول ہی گئی تھی۔۔ صبا نے اُس میں سے ایک گھونٹ لیا اور اپنی خُشک ہوتی ہوئی زُبان اور گلے کو تَر کر لیا۔۔
دوسرا گھونٹ پی ہی رہی تھی کہ جیسے اچانک سے اُس کے گلے میں اٹک سا ہی گیا۔۔ کیوں کہ پینو کی آواز آئی تھی۔۔
پینو۔۔ صاب جی سیدھے ہو جائیں تھوڑا۔۔
اگلے ہی لمحے میجر نے کروٹ لی اور اپنی کمر کے بَل کوچ پر لیٹا ہوا تھا۔۔ پینو ابھی بھی میجر کی سائیڈ میں کھڑی ہوئی تھی۔۔ آہستہ سے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل سے آئل اُس کے سینے پر گرایا اور اُس کے سینے کا مساج کرنے لگی۔۔ صبا کی نظریں تو میجر کے پُورے جسم پر پِھسل رہی تھیں۔۔ جیسے ہی اُس کی نظر میجر کے ٹائیٹ نِکر پر پہنچی تو۔۔ اُسے احساس ہوا کہ وہ تو بہت زیادہ پُھولی ہوئی ہے۔۔ بالکل ایسے جیسے اُس نے اپنی نِکر کے اندر ایک بہت بڑا سا کیلا چُھپایا ہوا ہو۔۔ جبکہ صبا کو پتہ تھا کہ یہ کیلا۔۔ تو میجر کا اپنا کیلا ہے۔۔ میجر کا کالا کیلا۔۔ میجر کا کالا لنڈ۔۔ جو اُس کی چُوت میں کئی بار قیامت مچا چُکا ہے۔۔ صبا کو صاف نظر آ رہا تھا کہ میجر کا لنڈ اُس کی نِکر میں کھڑا ہو چُکا ہوا ہے۔۔
صبا کی نظریں پینو کی نظر سے ٹکرائیں تو پینو مُسکرادی۔۔ اور صبا کو اپنی نظر جھُکانی پڑی۔۔ پینو میجر کے سینے پر سخت ہو رہے اُس کے نِپلز پر آئل لگا رہی تھی۔۔ اور دھیرے دھیرے اُن کو اپنی اُنگلیوں کے بیچ میں لے کر مَسَل رہی تھی۔۔ میجر آنکھیں بند کیے ہوئے پینو کے ہاتھوں کے مساج کو انجوائے کر رہا تھا۔۔ اُدھر صبا کی چُوت میں بھی ہلچل سی شُروع ہو چُکی تھی۔۔ دھیرے دھیرے گیلی ہونے لگی تھی۔۔ اُس کی پیاس بھی جاگنے لگی تھی۔۔
پینو اُٹھی اور اپنی ننگی ٹانگوں کے ساتھ کوچ پر چڑھی اور میجر کی دونوں ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئی۔۔ میجر نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر پینو کو بیٹھنے کی جگہ دے دی۔۔ پینو کی ننگی ٹانگیں میجر کی ننگی تھائیز سے ٹچ ہو رہی تھیں۔۔ اب اِس پوزیشن میں بیٹھ کر پینو نے میجر کی تھائیز پر آئل لگانا شُروع کر دیا۔۔ اُس کے ہاتھ میجر کی کالی سولیڈ تھائیز پر پِھسل رہے تھے۔۔ دھیرے دھیرے اُوپر کو جاتے۔۔ اُس کے لنڈ کی طرف اور دونوں طرف سے اُوپر تک جا کر نیچے کو آ جاتے واپس۔۔ جیسے جیسے پینو کے ہاتھ میجر کے لنڈ کی طرف بڑھتے ویسے ویسے صبا کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔۔ وہ اپنے سامنے ہو رہے اِس ڈرامے میں پوری طرح سے کھو چُکی ہوئی تھی۔۔ اُسے کچھ احساس نہیں تھا کہ ایک معمولی کام کرنے والی ادھ ننگی حالت میں بیٹھی ہوئی میجر کے جسم پر مالش کر رہی ہے۔۔ اُسے تو بس میجر کے لنڈ کا خیال تھا جو کہ اُس کی چھوٹی سی ٹائیٹ نِکر میں بالکل تنا ہوا تھا۔۔
پینو کا ہاتھ اب میجر کے لنڈ کے اِرد گِرد ہی پِھسل رہا تھا۔۔ وہ صبا کی طرف دیکھتی ہوئی میجر کے لنڈ کو تھوڑا سا ٹچ کر دیتی۔۔ پھر اُس نے صبا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے میجر کی نِکر کے ایلاسٹک کو پکڑا اور اُسے نیچے کھینچنے لگی۔۔
صبا کے منہ سے ہلکی سی بہت ہی ہلکی سی مزاحمتی سِسکاری نِکلی۔۔ ن۔۔ ن۔۔ نوووووووووو م۔۔ م۔۔ م۔۔
لیکن پینو نے اُس کی پروا کیے بِنا ہی میجر کا نِکر نیچے کھینچ کر اُتار دیا اور اگلے ہی لمحے میجر کا کالا لنڈ بالکل سیدھا دونوں لڑکیوں کی نظروں کے سامنے لہرانے لگا۔۔ بالکل سیدھا کھڑا تھا بِنا پینو کے ہاتھ کی سپورٹ کے بھی۔۔
صبا کی نظریں بھی میجر کے لنڈ پر ہی تھیں۔۔ جب اُس نے دیکھا کہ دونوں۔۔ میجر اور پینو۔۔ اُسی کو دیکھ رہے ہیں تو اُس نے اپنی نظریں جُھکا لیں۔۔ لیکن زیادہ دیر تک اپنی آنکھوں کو اُس سے ہٹا نہ سکی اور پھر سے اُس کی نظر جا کر اُسی لنڈ پر ٹھہر گئی۔۔ پینو نے آہستہ سے اپنا ہاتھ میجر کے کھڑے ہوئے لنڈ پر پھیرنا شُروع کر دیا۔۔
اپنی بوتل اُٹھائی اور آہستہ سے اُس میں سے آئل میجر کے لنڈ کے اوپر گرانے لگی۔۔ آئل اُوپر سے بہتا ہوا نیچے کو جانے لگا۔۔ پینو نے فوراً سے ہی اُس آئل کو واپس اُوپر کی طرف لے جا کر اُس کے لنڈ پر مَلنا شُروع کر دیا۔۔ میجر کا کالا لنڈ آئل سے چمکنے لگا۔۔ پینو دھیرے دھیرے نیچے سے اُوپر اور اوپر سے نیچے کو میجر کے لنڈ کی مالش کر رہی تھی۔۔
اپنے دونوں ہاتھوں میں اُس نے میجر کا لنڈ پکڑا اور دونوں ہاتھوں کی مُٹھی میں اُس پر آئل اُوپر سے نیچے کو مَلنے لگی۔۔ کالے لنڈ کے اوپر چمکتی ہوئی بالکل سیاہ پُھولی ہوئی ٹوپی آہستہ آہستہ اور بھی پُھولتی جا رہی تھی۔۔ کبھی دونوں ہاتھوں سے مَلنے لگتی لنڈ کو کبھی میجر کے لنڈ کے نیچے کی گُولیوں کو سہلانے لگتی۔۔
بار بار آئل لگا کر میجر کے لنڈ کو اور بھی چکنا کیے جا رہی تھی۔۔ پینو کے ہاتھ لگنے اور مالش کی وجہ سے میجر کا لنڈ اور بھی سخت ہو گیا ہوا تھا۔۔ میجر آنکھیں بند کیے پینو کے ہاتھوں کا مزہ لے رہا تھا۔۔ اور صبا تو آنکھیں پھاڑے بس میجر کے لنڈ کو دیکھ رہی تھی۔۔ اُسے اب یہ بھی ہوش نہیں تھی کہ پینو اُسے دیکھ رہی ہے۔۔ اُسے تو اب پینو سے بھی جیلسی فیل ہو رہی تھی کہ وہ میجر کے اِس قدر پیارے نظر آنے والے لنڈ سے کھیل رہی ہے۔۔ ویسے تو کئی بار یہ لنڈ اُس کی چُوت کے اندر جا چُکا تھا لیکن آج تک کبھی بھی صبا نے اِتنے غور سے۔۔ اِتنی دیر اور اِتنے قریب سے اِس لنڈ کو نہیں دیکھا تھا۔۔ اُس کی چُوت گیلی ہو رہی تھی۔۔ وہ اپنی دونوں تھائیز کو دباتے ہوئے اپنی چُوت کو دبانے اور سہلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اُسکا تو دل چاہ رہا تھا کہ پینو کو ہٹا کر خود اُسکا لنڈ اپنے ہاتھوں میں لے لے اور اُس کی مالش کرنا شُروع کر دے۔۔ لیکن پتہ نہیں کیسے اور کیوں وہ خود کو روکے بیٹھی تھی۔۔
اُدھر پینو میجر کا لنڈ ہاتھ میں لیے اُس پر آئل کی مالش کر رہی تھی۔۔ بڑے ہی پیار سے اُس کی پُھولی ہوئی ٹوپی کے اوپر آئل مَل رہی تھی۔۔ جیسے اُسے اچھے سے چکنا کر کے اپنی چُوت میں لینا چاہ رہی ہو۔۔ پینو اب میجر کی ٹانگوں کے درمیان میں جھُکی ہوئی تھی۔۔ اپنے گھٹنوں کے بَل اور اُس کا چہرہ میجر کے لنڈ کے بالکل قریب آ رہا تھا۔۔ صرف چند اِنچ کے فاصلے پر۔۔ پینو نے اپنی زُبان سے میجر کے لنڈ کی ٹوپی کو چُھو لیا۔۔
سسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسس جَیسے ہی زُبان تو پینو کی چُھوئی میجر کے لنڈ سے لیکن سِسکاری صبا کے منہ سے نِکل گئی۔۔ اور وہ بھی اِتنی تیز کہ میجر اور پینو دونوں نے ہی سُن لی۔۔ اور دونوں ہی صبا کی طرف دیکھنے لگے۔۔ صبا نے دونوں کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا تو یکدم سے شرما گئی اور میجر کے لنڈ پر سے اپنی نظر ہٹا کر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اور جیسے ہی دروازے کی طرف بڑھنے لگی تو۔۔
میجر کی رُعب دار آواز سُن کر صبا گھبرا گئی۔۔
صبا۔۔ گ۔۔ گ۔۔ گھر جا رہی ہوں۔۔
میجر۔۔ میں نے اِجازت دی ہے کیا تجھے۔۔؟؟؟؟؟؟ چل بیٹھ جا چُپ کر کے جہاں بیٹھی ہوئی تھی۔۔
صبا گھبرا گئی ہوئی تھی۔۔ ڈر گئی ہوئی تھی۔۔ میجر کی آواز سُن کر دوبارہ سے دُبک کر بیٹھ گئی اُسی کرسی پر۔۔ جہاں پر اب اُس سے بیٹھنا مُشکل ہو رہا تھا۔۔ کیوں کہ اُس کی چُوت۔۔ اُسکا جسم۔۔ اُس کی پیاس اُسے تنگ کر رہے تھے۔۔ صبا کی چُوت نے تڑپتے ہوئے پانی چھوڑنا شُروع کر دیا ہوا تھا۔۔ لیکن بے بسی سے پینو کی طرف ایک نظر ڈالی اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔
پینو کا ہاتھ ابھی بھی میجر کے لنڈ پر ہی تھا جِسے وہ بہت ہی پیار سے سہلا رہی تھی۔۔ اُس کی جھجک بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔ صبا کی نظریں بھی دوبارہ سے میجر کے لنڈ پر جم گئیں۔۔
میجر۔۔ بہن چود۔۔ رنڈی کو سب کچھ اچھا لگ رہا ہے دیکھنا بس ایسے ہی نخرے چُھوڑنے کا شوق ہے۔۔
میجر کی بات سن کر صبا اور بھی شرمندہ ہو گئی۔۔ اور اپنی نظریں میجر کے لنڈ سے ہٹا کر نیچے فرش پر ٹِکا لیں۔۔ لیکن آخر کب تک۔۔
پینو آہستہ آہستہ اپنی زبان سے میجر کے لنڈ کو چُھو رہی تھی۔۔ اُس کی پُھولی ہوئی ٹوپی کو آہستہ آہستہ سے چاٹ رہی تھی۔۔ اُس کے نیچے کے رِم پر آہستہ آہستہ اپنی زُبان پھیر رہی تھی۔۔ اور اُس کی ٹوپی کے اُوپر اپنی زُبان پھیرتے ہوئے میجر کے کالے کالے گول بالز کو بھی سہلا رہی تھی۔۔ میجر کا لنڈ پُورے کا پُورا چمک رہا تھا۔۔
پینو نے میجر کے لنڈ کی پُھولی ہوئی ٹوپی کو اپنے ہونٹوں کے اندر لیا اور اُسے آہستہ آہستہ چوسنے لگی۔۔ میجر کے لنڈ کو اپنے منہ کے اندر تک لے جانے لگی۔۔ آہستہ آہستہ۔۔ اپنے منہ کو نیچے لاتے ہوئے۔۔ میجر کا لنڈ اندر لے جاتے ہوئے۔۔ صبا کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ صبا نے بھی واپس اُسی کو دیکھنا شُروع کر دیا ہوا تھا۔۔ دونوں کی نظریں مل گئی ہوئی تھیں۔۔ بِنا ہٹائے ہوئے۔۔ اور پینو بھی صبا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے میجر کے لنڈ کو چوس رہی تھی۔۔