چاچی کا دیوانہ ۔۔۔سیزن ون ۔۔(آخری قسط)

br>

اِس لیے میں اس کو اتنے لوگوں سے خراب نہیں کروانا چاہتی وہ بس تمھارے ساتھ کبھی کبھی جب تم یہاں آؤ گے یا عرفان بھائی کے ساتھ ہی ٹھیک ہے بلال کے لیے نہیں کر سکتی . اور رہی بات سائمہ کی وہ میری بھابی ہے تمھارے ساتھ بھی اس کاکام مجبور ہو کر کروایا تھا . اگر بلال کو سائمہ کا بھی پتہ لگ گیا تو خاندان میں بات نکلتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور ویسے بھی بلال میری چھوٹی بہن کا دیور ہے اس کو اِس بات کا پتہ بھی نہیں چلنا چاہیے. میں نے کہا چچی جان میں آپ کی بات اچھی طرح سمجھ گیا ہوں . پِھر میں اور چچی یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور تقریباً 1 بج گیا تھا پِھر چچی نے کہا تم بیٹھو میں کچن میں جا رہی ہوں كھانا بھی تیار کرنا ہے. چچی کے جانے کے بعد میں بھی اٹھ کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا . پِھر وہ باقی دن بھی معمول کی طرح ہی گزر گیا . اگلی صبح میں ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا میں نے میسیج کر کے بلال کو سارا پروگرام سمجھا دیا تھا اور اس کو11 بجے سے پہلے ہی ایک جگہ کا بتا دیا جہاں سے ہم دونوں کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا پِھر تقریباً 10.15 پے میں نے چچی کو ساری بات بتائی اور ان سے چابی لے کر گھر سے باہر آ گیا اور وہاں جا کر انتظار کرنے لگا جہاں میں نے بلال کو ٹائم دیا ہوا تھا . تقریباً 10.35 پے بلال اس جگہ پے آ گیا جہاں میں نے اس کو بلایا تھا ہم وہاں ایک سائڈ پے ہو کر بیٹھ گئے اور میں نے بلال کو کہا یار بلال مجھے لگتا ہے آج شوکت آئے گا کیونکہ مجھے چچی نے آج بازار سامان لینے کے لیے بھیج دیا ہے. بلال میری بات سن کر اچھلنے لگا اور بولا یار کا شی آج میں خوشی سے پاگل ہو جاؤں گا . آج میں ثمینہ باجی کو شوکت کے ساتھ دیکھوں گا اور پِھر بعد میں ثمینہ باجی کی میں بھی ماروں گا یہ سوچ کر ہی میں خوشی سے پاگل ہو رہا ہوں . میں نے کہا اچھا یار ٹھیک ہے لیکن اتنا پاگل نا بن جانا سارا کام ہی خراب کر دو یہ سارا کام بڑا ہی دھیان سے کرنا نہیں تو مشکل ہو جائے گی میں نے تو واپس چلا جانا ہے تم نے پیچھے سے سنبھالنا ہے . بلال سریس ہو گیا اور بولا کا شی میرے یار تو بے فکر ہو جا . میں نے اس کو گھر کی چابی دی اور موبائل پے ٹائم دیکھا 11بج چکے تھے . میں نے کہا میں بازار جا رہا ہوں تم کوئی 15 سے 20 منٹ کے بعد گھر چلے جانا اور زیادہ شور نہیں کرنا اور آرام سے اندر داخل ہو کر اور اپنا کام پورا کر کے اِس جگہ ہی آ جانا میں تمھارا یہاں ہی انتظار کروں گا . شوکت کو اور چچی کو تمھارے گھر میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی آواز بھی نہیں آنی چاہیے . بلال بولا کا شی یار تو بے فکر ہو جا کسی کو کانو کان خبر نہیں ہو گی . پِھر میں اس کو چابی دے کر بازار کی طرف نکل آیا. میں بازار میں گھوم رہا تھا تقریباً12.20 ٹائم ہو گا جب مجھے بلال کی کال آ گئی . اور وہ مجھے بولا کا شی تم کہاں ہو میں اس جگہ ہی تمہارا انتظار کر رہا ہوں . میں نے کہا تم 15 سے 20 منٹ میرا وہاں ہی انتظار کرو میں آ رہا ہوں . میں بازار سے سیدھا نکلا اور تقریباً12.40 پے بلال کے پاس پہنچ گیا اور بلال نے مجھے ویڈیو دکھائی اس نے کوئی 6 منٹ کی ویڈیو بنائی ہوئی تھی اس میں شوکت چچی کی لیٹا کر پھدی مار رہا تھا. میں نے ویڈیو دیکھ کر جان بوجھ کر ایکٹنگ کی اور بولا یار بلال تم واقعہ ہی ٹھیک کہہ رہے تھے یہ تو سچ میں شوکت چچی کو چودتا ہے . بلال نے کہا دیکھا کا شی میں نے کہا تھا نہ . اب یقین آ گیا ہے . میں نے کہا سچ میں یار تم بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے

میں نے کہا بلال آب تم کیسے کرو گے . تو بلال نے کہا کا شی تم مجھے ثمینہ باجی کا موبائل نمبر دے دو . ویسے تو میں اپنی بھابی ثمینہ کی بہن سے بھی لے سکتا ہوں لیکن میں اس کو کسی شق میں نہیں ڈالنا چاہتا . اِس لیے تم مجھے نمبر دے دو پِھر دیکھو میں ثمینہ باجی کو کیسے دانہ ڈالتا ہوں
میں نے کہا ٹھیک ہے بلال یار میں تمہیں نمبر دے دیتا ہوں لیکن میں 1 شرط ہے . تو بلال بولا کا شی یار تیری 2 شرط مجھے منظور ہے تو بتا کیا کرنا ہے . میں نے کہا ایک تو تم نے چچی کو کال میرے جانے کے بعد کرنی ہے میں جمه کو واپس جا رہا ہوں تم بے شک ہفتے والے دن کال کر لینا لیکن چچی کو پیار محبت سے راضی کرنا . جلد بازی نہیں کرنا یہ نہ ہو کام خراب ہو جائے . تو بلال بولا کا شی یار تو میری طرف سے بے فکر ہو جا یار مجھے پتہ ہے اِس کام میں رشتہ داری بھی جا سکتی ہے اور بدنامی بھی ہو سکتی ہے اِس لیے میں پیار محبت سے راضی کروں گا . پِھر میں نے کہا دوسری شرط یہ ہے کے جب میں دوبارہ واپس آؤں گا تو مجھے ثوبیہ باجی کی پھدی کا چانس لے کر دے گا . میری بات سن کر بلال ہنسنے لگا اور بولا کا شی میرے یار یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے تو بے فکر ہو جا جب تم دوبارہ آؤ گے تو ثوبیہ باجی کی پھدی اور بُنڈ تمہیں گفٹ دوں گا اور ہو سکتا ہے کسی اور رشتہ دار کی پھدی بھی مل جائے . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور پِھر بلال نے مجھے چابی دی اور کہا میں دکان پے جا رہا ہوں . تم کل میری طرف چکر لگا لینا میں نے کہا کل تو مشکل ہے میں پرسوں ضرور چاکر لگا لوں گا تو بلال نے کہا ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی اور وہ وہاں سے چلا گیا . میں وہاں کافی دیر اکیلا بیٹھا رہا پِھر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے ٹائم دیکھا تو 1.10 ہو چکے تھے میں نے سوچا اب تو شوکت چلا گیا ہو گا . کیونکہ چچی نے کہا تھا کے تم 1 بجے واپس آ جانا . میں وہاں سے اٹھا اور گھر کی طرف آ گیا اور آ کر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور سامنے دیکھا چچی کے دروازے کی ایک سائڈ کھلی ہوئی تھی میں سمجھ گیا کے شوکت چلا گیا ہے . میں دروازہ بند کر کے چچی کے کمرے میں چلا گیا چچی باتھ روم میں نہا رہی تھی اِس دفعہ دروازہ بند تھا . میں وہاں ہی کرسی پے بیٹھ کر چچی کا انتظار کرنے لگا. 10منٹ کے بعد چچی نہا کر باہر نکلی اور مجھے سامنے دیکھا تو دیکھا مسکرا نے لگی میں بھی جواب میں مسکرا نے لگا . 

چچی اپنی ڈریسنگ ٹیبل پے بیٹھ گئی اور بال سکھانے لگی. پِھر چچی نے کہا سناؤ
کا شی کیا بنا . میں نے کہا چچی جی میرا کام ختم ہو گیا ہے اور آپ کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے میرا رول جہاں تک تھا وہ پورا ہو چکا ہے . اب آگے آپ کا اور بلال کا رول ہے . چچی میری بات سن کر خوش ہو گئی اور اطمینان ان کے چہرے پے عیاں تھا. میں نے کہا چچی آپ کل عشرت آنٹی کی طرف کیوں نہیں گیں تھیں . تو چچی نے کہا میں نے جانا تھا لیکن میری آنکھ لگ گئی تھی جب آنکھ کھلی تو 5 بجنے میں تھوڑا ٹائم ہی باقی رہ گیا تھا پِھر تمھارے چچا نے آ جانا تھا تو میں نہیں نکل سکتی تھی . لیکن تم بے فکر رہو میں آج ضرور جاؤں گی بچوں کو آنے دو كھانا دے کر میں عشرت کی طرف ضرور جاؤں گی . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے چچی جیسے آپ کی مرضی میں نہانے جا رہا ہوں آج بہت گرمی تھی اور میں کمرے سے نکل کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا. میں نہا کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور پِھر بچے بھی اسکول سے آ گئے اور چچی نے مجھے بھی كھانا دیا اور اپنے بچوں کو بھی كھانا دیا . كھانا کھا کر چچی نے برتن کچن میں رکھ کر کچن کا کام مکمل کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی اور تقریباً10 منٹ بعد میں نے دیکھا چچی تیار ہو کر گھر سے باہر چلی گئی . میں سمجھ گیا تھا کے چچی اب عشرت آنٹی کی طرف گئی ہیں . اور میں ٹی وی دیکھنے لگا . کافی دیر بعد چچی واپس آ گئی میں نے دروازہ کھولا وہ گھر میں اندر آ کر اپنے کمرے میں چلی گئی . میں دوبارہ پِھر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا . اس دن میری چچی سے دوبارہ کوئی بات نہ ہوئی اور نہ ہی چچی نے عشرت کے گھر سے واپس آنے کے بعد بھی مجھے کچھ بتایا . اور باقی کا دن بھی ایسے ہی گزر گیا. اگلے دن صبح جب سب اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے اور میں بھی ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا تو تقریباً 10بجے کے قریب چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی کے ابھی تقریباً 11بجے تک نورین آ جائے گی تو تم کوئی بہانہ بنا کر گھر سے باہر چلے جانا اور پِھر عشرت کے گھر چلے جانا وہ تمہارا انتظار کر رہی ہو گی . اور 1 بجے تک اپنا کام پورا کر کے واپس آ جانا. میں چچی کی بات سن کر خوش ہو گیا اور آگے سے بولا ٹھیک ہے میں سمجھ گیا . اور پِھر چچی دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں ٹی وی دیکھنے لگا . تقریباً 11بجے باہر گھنٹی بجی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے نورین کھڑی تھی مجھے دیکھ کر شرما گئی . اور اندر آ گئی . میں دروازہ بند کر کے واپس ٹی وی والے کمرے میں آیا تو نورین کچن کے دروازے کے پاس کھڑی ہو کر مجھے ہی دیکھ رہی تھی

میں نے اس کو فلائنگ کس کر دی وہ شرما گئی اور مسکرا کر اندر کچن میں دیکھنے لگی. میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور10 منٹ تک بیٹھا رہا پِھر ٹی وی بند کیا اور باہر نکل کر چچی کو کہا چچی جان میں ذرا بلال کی طرف جا رہا ہوں . تھوڑی دیر تک واپس آ جاؤں گا . نورین نے مڑ کر مجھے دیکھا جب میں نے اس کا چہرہ دیکھا تو تھوڑا سا اداس تھی مجھے اس پے بڑا پیار آیا . میں نے اس کو دوبارہ فلائنگ کس کی تو وہ خوش ہو گئی. میں گھر سے نکل کر سیدھا عشرت آنٹی کے دروازے پے جا کر دستک دی کوئی 1 منٹ بعد ہی عشرت آنٹی نے دروازہ کھولا مجھے دیکھا کر تھوڑا شرما گئی پِھر مجھے کہا آؤ بیٹا اندر آ جاؤ . میں اندر داخل ہو کر سیدھا آنٹی کے بیڈروم میں آ گیا آنٹی نے دروازہ بند کیا اور شاید وہ کچن میں چلی گئی تھی . میں نے جلدی سے اپنے سارے کپڑے اُتار دیئے اور پورا ننگا ہو کر بیڈ پے لیٹ گیا . کوئی 5 منٹ بعد ہی عشرت آنٹی شربت بنا کر کمرے میں داخل ہوئی تو مجھے اپنے بیڈ پے ننگا دیکھا کر شرما گئی اور نظر نیچے کر لی اور چلتی ہوئی شربت کی ٹرے کو ڈریسنگ ٹیبل پے رکھنے لگی میں فوراً سے اٹھا ان کو ٹرے رکھنے کے بعد ان کو پیچھے سے پکڑ لیا وہ اور زیادہ شرما گئی اور اپنے منہ پے ہاتھ رکھ لیے. میں نے ہاتھ آگے کر کے ان کی قمیض میں ہاتھ ڈال کر ان کے ممے پکڑ لیے اور ان کی مموں کو مسلنے لگا خوشی بھی ہوئی انہوں نے قمیض کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا تھا میں نے ان کے کان میں کہا جانے من چھوڑو اِس شربت کو آؤ مل کر ایک دوسرے کا شربت پیتے ہیں میرے ہاتھ ان کے مموں پے لگتے ہی وہ گرم ہو گئی اور پیچھے کو مڑ کر میری گرد میں بازو ڈال لیے اور مجھے ہونٹوں پے کس کرنے لگی. پِھر میں نے جھٹ پٹ میں ان کو پورا ننگا کر دیا اور اٹھا کر بیڈ پے لے آیا اور پِھر میں نے تقریباً ان کو دو سے ڈھائی گھنٹے میں جم کر ان کی پھدی اور بُنڈ کو بجایا کے مزہ آ گیا اور عشرت آنٹی کو 3 دفعہ فارغ کروایا اور خود 2 دفعہ ہوا. آخر میں جب ہم دونوں مکمل طور پے مطمئن ہو گئے 

تو عشرت آنٹی نے کہا کا شی ثمینہ بتا رہی تھی تم جمه کو واپس جا رہے ہو . دوبارہ پِھر کب آؤ گے . میں نے کہا آنٹی جی جلدی تو چکر نہیں لگے گا لیکن امید ہے جب دسمبر میں آخری دنوں کی10 سے 15 چھٹیاں ہوں گی تب ہی کوئی چکر لگے گا. تو عشرت آنٹی تھوڑا اداس ہو گئی اور بولی اِس کا مطلب ہے اب دسمبر تک انتظار کرنا پڑے گا . میں نے کہا آنٹی جی یہ تو ہے . لیکن آپ فکر نہ کریں میں چچی کو بولوں گا وہ آپ کا خیال ضرور کریں گی . آپ کو تو پتہ ہے نہ ان کے پاس کوئی نا کوئی جگاڑ ضرور ہوتا ہے . میں بھی آپ کے لیے ان کو بول دوں گا. عشرت آنٹی نے نیچے سے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر مجھے ایک لمبی سی فرینچ کس کی اور بولی
کا شی تم ضرور ثمینہ سے میری بات کر کے جانا . وہ میری بات سے زیادہ تمہاری بات زیادہ سنتی ہے . ورنہ دسمبر تک میرا کیا ہو گا. میں نے عشرت آنٹی کی بُنڈ کی موری میں انگلی ڈال کر بولا جانے من بے فکر ہو جاؤ میں آپ کی بات کر کے جاؤں گا اور ان کو بول جاؤں گا کے عشرت آنٹی کا دسمبر تک خیال لازمی رکھے . عشرت میری بات سن خوش ہو گئی . پِھر میں نے اور عشرت آنٹی نے مل کر نہایا وہاں بھی خوب مزہ لیا اور پِھر میں عشرت آنٹی کو آخری لمبی کس کر کے اپنے گھر آ گیا. جب میں گھر واپس آ کر دروازے پے گھنٹی دی تو تھوڑی دیر بعد نورین نے ہی دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر اس کے چہرہ کھل اٹھا . میں نے پِھر فلائنگ کس کی تو اِس دفعہ اس نے کیچ کر کے اپنے ہونٹوں پے لگا لی . میں اس کی یہ ادا دیکھ کر خوش ہو گیا . پِھر وہ اندر چچی کی کمرے میں چلی گئی میں نے خود دروازہ بند کیا اور سیدھا چچی کے کمرے میں چلا گیا چچی بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی اور نورین بیڈ کے پاس رکھی کرسی پے بیٹھی تھی . میں بھی نورین کی ساتھ والی کرسی پے بیٹھ گیا . چچی نے پوچھا کا شی آ گئے ہو سناؤ بلال کیسا ہے کیا تم ان کے گھر بھی گئے تھے میری چھوٹی بہن سے ملاقات ہوئی ہے . میں نے کہا چچی جان بلال ٹھیک ہے میں ان کے گھر نہیں گیا بس دکان پے ہی بیٹھ کر گپ شپ لگا لی تھی پِھر وہاں سے گھر آ گیا ہوں. چچی نے کہا اچھا ٹھیک ہے اور پِھر بیڈ سے اٹھ کر بولی میں تھوڑا کچن میں کام کر لوں ابھی آتی ہوں 

چچی یہ بول کر کمرے سے چلی گئی اور اب میں اور نورین اکیلے تھے. چچی کے باہر جاتے ہی نورین اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گئی میں بھی اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گیا اور نورین کی گردن میں ایک ہاتھ ڈال کر اور دوسرا ہاتھ اس کی بُنڈ کے نیچے سے ڈال کر اٹھا کر اپنی جھولی میں بیٹھا لیا اور اپنے دوں ہاتھ اس کے قمیض کے اندر ڈال کر اس کی نپلز کو پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ مسلنے لگا . نورین نے آنکھیں بند کر لیں تھیں اور اپنا سر پیچھے میرے کاندھے پے رکھ کر منہ سے گرم گرم لمبی لمبی سانسیں لینے لگی . میں نے اس کے کان میں کہا نورین میری جان کیا حال ہے . وہ منہ سے کچھ نہیں بول رہی تھی . بس سر ہلا کر کہا ٹھیک ہوں . پِھر میں نے کہا جان آج اتنے دن بعد اپنی زیارت نصیب کروائی ہے . تو پِھر بھی کچھ نہ بولی اور لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی دوسری طرف میں مسلسل اس کی نپلز کو مسئلہ رہا تھا . پِھر میں نے اس کے کان میں کہا نورین میری جان کل کا کیا پروگرام ہے کل پِھر مزہ کروا رہی ہو کے نہیں . تو اِس دفعہ آہستہ سی آواز میں بولی جی میں تو روز تیار ہوں آپ ہی ٹائم نہیں دیتے ہیں. میں نے اپنا منہ آگے کر کے اس کے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لے کر چُوسنے لگا اور پِھر کچھ دیر بَعْد بولا جان آپ کے لیے تو ٹائم ہی ٹائم ہے کہو تو ابھی شروع کریں . تو وہ فوراً بولی نہیں ابھی نہیں ابھی مجھے گھر جانا ہے بہت دیر ہو گئی ہےامی انتظار کر رہی ہوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے جان کل ہی کر لیں گے . پِھر وہ آہستہ سے بولی آپ سے ایک بات پوچھنی تھی . میں نے کہا ہاں جان ضرور پوچھو کیا پوچھنا ہے . تو وہ بولی باجی ثمینہ بتا رہیں تھیں کہ اور پِھر وہ خاموش ہو گئی . میں نے کہا کیا کہا چچی نے تو وہ بولی وہ کہہ رہیں تھیں کے آپ باجی ثمینہ اور مجھے دونوں کو ایک ساتھ کرنا چاھتے ہیں . میں نے کہا ہاں جان میں نے ہی کہا ہے کیوں کیا بات ہے تمہیں کوئی مسئلہ ہے . تو وہ بولی مسئلہ تو کوئی نہیں ہے لیکن شرم بہت آئے گی باجی ثمینہ کے سامنے ہی میں کیسے کر سکتی ہوں . میں نے ایک لمبی فرینچ کس کی اور کہا نورین میری جان اِس میں شرم کی کون سی بات ہے ان کو تمہارا سب کچھ پتہ ہے تمہیں ان کا سب کچھ پتہ ہے . اور تو اور تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سکنگ اور کسسنگ کر کے بھی تو مزہ لیتی ہو . پِھر میرے ساتھ میں کیا مسئلہ ہے . میری بات سن کر اس کا چہرہ لال سرخ ہو گیا اور خاموش ہو گئی . پِھر میں نے کہا اچھا جان اگر تمہارا دِل نہیں کرتا تو رہنے دو میں بھی نہیں کروں گا . وہ بولی جی نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ کے لیے تو کچھ بھی کر سکتی ہوں . بس تھوڑی سی شرم آ رہی تھی 

لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کر لوں گی . میں نے کہا سوچ لو اگر تمہارا دِل نہیں ہے تو بتا دو میں تمہیں زبردستی نہیں کروں گا . کیونکہ تم تو میری جان ہو . وہ میری بات سن کر شرما گئی اور بولی نہیں نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں دِل سے خوش ہوں . میں کل آ جاؤں گی پِھر مل کر کریں گے . میں ابھی تک اس کی نپلز کو مسئل رہا تھا پِھر یکدم چچی کمرے میں آ گئی اور جب نورین کو میری جھولی میں دیکھا اور میرے ہاتھ نورین کی نپلز پے دیکھے تو مجھے دیکھا کر مسکرا نے لگی لیکن نورین نے اپنے ہاتھ اپنے منہ پے رکھ لیے تھے وہ شرما رہی تھی . چچی چلتی ہوئی ہمارے نزدیک آئی اور پہلے نورین کے منہ سے اس کے ہاتھ ہٹا ے اور پِھر اپنا منہ آگے کر کے نورین کو ایک لمبی سی فرینچ کس کی پِھر میرے منہ کے پاس کر کے مجھے کی اور نورین کو بولا نورین اپنی باجی سے کیا شرمانا تم مجھے اور میں تمہیں کتنی دفعہ ننگی دیکھ چکی ہیں اور مزہ بھی لے چکی ہیں . نورین چچی کی بات سن کر مسکرا نے لگی پِھر وہ کچھ دیر ایسے ہی بیٹھی رہی پِھر وہاں سے اٹھی اور اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور بولی میں گھر جا رہی ہوں میں کل صبح آج والے ٹائم پے ہی آ جاؤں گی . اور وہ پِھر اپنے گھر چلی گئی.
نورین کے چلے جانے کے بعد چچی بھی دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں بھی چچی کے کمرے میں سے اٹھا اور ٹی وی والے کمرے میں چلا گیا میں جب عشرت آنٹی کے گھر گیا تھا تو اپنا موبائل ٹی وی والے کمرے میں ہی چارجنگ پے لگا کر گیا تھا . میں نے جا کر موبائل چارجنگ سے ہٹایا اور دیکھا تو اس پے 4 مس کال ان نون نمبر سے آئی ہوئی تھیں . یہ نمبر میرے لیے انجان تھا اور مس کال کے ساتھ ایک ایس ایم ایس بھی آیا ہوا تھا . میں نے ایس ایم ایس کو اوپن کیا اور اس میں لکھا تھا آپ کا کیا حال ہے . آپ تو ہم کو بھول ہی گئے ہیں اور اب کال بھی نہیں اٹھاتے . میں حیران تھا یہ کون ہے جو مجھے جانتا ہے اور میں نہیں جانتا . میں ٹی وی والے کمرے میں ہی بیٹھ کر کافی دیر تک سوچتا رہا آخر یہ کون ہے . پِھر میں نے اٹھ کر باہر دیکھا تو چچی کچن میں کام کر رہی تھی میں ٹی وی والے کمرے میں سے نکلا اور اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں جا کر دروازہ بند کر کے میں نے اس ہی ان نون نمبر پے کال ملا دی . تھوڑی دیر بعد رنگ جانا شروع ہو گئی . کافی دیر تک رنگ بجتی رہی لیکن آگے سے کسی نے کال پک نہیں کی . میں تقریباً 5 منٹ انتظار کر کے دوبارہ پِھر کال کی لیکن پِھر کسی نے کال پک نہیں کی . آخر کار میں نے ایس ایم ایس اس نمبر پے بھیج دیا اور پوچھا کے آپ کون ہیں اور آپ مجھے کیسے جانتے ہیں اور میرے نمبر کہاں سے ملا ہے . پِھر میں اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا. میں کافی دیر تک ایس ایم ایس کے جواب کا انتظار کرتا رہا لیکن کوئی جواب نہیں آیا پِھر بچے بھی گھر آ گئے تھے چچی نے ہم سب کو كھانا دیا جب میں كھانا کھا رہا تھا میرے موبائل پے ایس ایم ایس آیا میں جلدی سے كھانا ختم کیا اور جا کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا اور اپنے موبائل میں ایس ایم ایس کو اوپن کیا تو اس میں لکھا تھا کے واہ جی واہ جناب تو اتنی جلدی ہی ہمیں بھول گئے ہیں

میں جواب دیا میں بھولا نہیں ہوں جی بس یاد نہیں آ رہا آپ مہربانی کر کے یاد کروا دیں . پِھر آگے سے جواب آیا اچھا جی آپ تو ٹرین میں ایسے مسکرا رہے تھے اور گھور رہے تھے جیسے میرے ساتھ آپ کا کوئی پرانا رشتہ ہو . میں اس کا آخری ایس ایم ایس پڑ ھ کر حیرت کا جھٹکا لگا کے یہ تو وہ ہی ٹرین والی لڑکی ہے جس کو میں نے کاغذ پائے نمبر لکھ کر چھوڑ آیا تھا . میں نے فوراً اس لڑکی کو جواب دیا میں معافی چاہتا ہوں مجھے پتہ نہیں چلا کے یہ آپ ہیں . پِھر اس لڑکی کا ایس ایم ایس آیا شکر ہے آپ نے مجھے پہچان لیے نہیں تو میں سمجھی تھی ٹرین میں صرف اتفاق ہی ہو سکتا ہے حقیقت نہیں ہو سکتا. میں نے ایس ایم ایس کیا کے مجھے یقین نہیں تھا آپ وہاں کھڑکی سے میرا نمبر اٹھاؤ گی . لیکن آج یقین ہو گیا ہے ویسے آپ چیز ہی ایسی ہیں آپ کو کوئی بھول سکتا ہے . . . آگے سے اس لڑکی کا ایس ایم ایس آیا جس میں بس اِموشن شو کیا تھا م م م م م…پِھر میں نے اس لڑکی کو کہا اتنی دیر ہو گئی ہے یہ تو بتا دیں میں کس دلربہ سے بات کر رہا ہوں کوئی نام تو ہو گا آپ کا . آگے سے اس کا ایس ایم ایس آیا میں حنا ہوں اور بطورنرس جاب کرتی ہوں اور لاہور کی رہنے والی ہوں . آپ کی تعریف کیا ہے. میں نے اس کو اپنا نام ٹھیک بتایا اور کہا میں ابھی پڑ ھ رہا ہوں . لیکن اس کو یہ بتایا کے میرا تعلق شیخوپورہ سے ہے یہ نہیں بتایا کے میں اسلام آباد میں رہتا ہوں. میں نے پِھر اس سے پوچھا کے آپ ٹرین میں کہاں سے آ رہی تھیں . تو حنا کا جواب آیا کے میں راولپنڈی میں سرکاری اسپتال میں بطور نرس کام کرتی ہوں میں اس دن اپنی مہینہ وار چھٹیوں پے راولپنڈی سے اپنے گھر لاہور آ رہی تھی. جب مجھے پتہ چلا حنا راولپنڈی میں میں کام کرتی ہے تو میں خوشی سے پاگل ہو گیا تھا میرا دِل قابو میں نہیں رہا تھا . میں نے اپنے دِل میں سوچا واہ کیا حَسِین اتفاق ہے کے اب اپنے ہی شہر میں دو دو کنواری پھد یوں کا مزہ ملے گا میرا یہ سوچ کر دِل میں لڈ و پھوٹ رہے تھے. میں نے دِل میں فیصلہ کر لیا میں جب واپس جاؤں گا تو سب سے پہلے حنا کو اسپتال میں مل کر سرپرائز دوں گا ابھی اس کو نہیں بتاؤں گا کہ میں بھی آپ کے نزدیک اسلام آباد میں رہتا ہوں. پِھر میں نے ایس ایم ایس کیا کے آپ کتنے دن کی چھوٹی پے گھر آتی ہو تو اس نے جواب دیا مجھے ہر مہینے 6 چھٹیاں ملتی ہیں . میں آب سوموار کو واپس ڈیوٹی جوائن کروں گی. پِھر میں نے ایس ایم ایس کیا حنا جی پِھر کیا سوچا ہے

اِس ناچیز سے دوستی کرنا پسند کریں گی . تو اس کا جواب آیا آپ ناچیز کہاں ہیں آپ تو ہر چیز کو بڑے ہی پرکھ سے دیکھتے ہیں. میں حنا کی بات سمجھ گیا تھا وہ مجھے اپنی گانڈ کو گور نے کا اشارہ دے رہی تھی . میں نے آگے سے اِموشن ایس ایم ایس کیا پِھر میں نے کہا حنا جی میں نے آپ کو اپنی گڈ بُک میں رکھ لیا ہے آپ بھی مجھے اپنی گڈ بُک میں سیو کر لیں اب تو ملاقات ہوتی رہے گی . آگے سے اس کا ایس ایم ایس آیا جی ٹھیک ہے لیکن آپ تو شیخوپورہ میں رہتے ہیں میں لاہور میں بس چھٹیوں میں ہی آتی ہوں پِھر ملاقات کہاں ہو گی. میں نے جواب دیا کے حنا جی دِل میں جگہ ہونی چاہیے ملاقات بھی ہو جائے گی آپ کیوں فکر کرتی ہیں لاہور ہو یا راولپنڈی دونوں ہی پاکستان میں ہیں کون سا پاکستان سے باہر ہیں جو ملاقات نہیں ہو سکے گی. میں نے پوچھا ویسے حنا جی آپ کی شادی ہوئی ہے یا ابھی کنواری ہی ہیں . تو آگے سے جواب آیا شادی تو ابھی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ابھی تک کسی کو چھونے دیا ہے لیکن میں بھی جوان ہوں جذبات رکھتی ہوں کبھی کبھی خود ہی اپنے سے مزہ کر لیتی ہوں اتنا تو حق ہے نہ مجھے میں نے جواب دیا کیوں نہیں حنا جی . کیا ہمیں بھی اپنی زیارت کا کبھی موقع دیں گی یا ہم اپنا منہ بند ہی رکھیں . تو آگے سے حنا کا جواب آیا ابھی تو شروعات ہے آگے آگے دیکھیں شاید کچھ آپ کو فائدہ ہو ہی جائے امید پے دنیا قائم ہے. میں حنا کا جواب سن کر خوش ہو گیا اور مجھے سمجھ لگ گئی تھی کے یہ لڑکی لمبے عرصے تک ساتھ چلنے والی ہے . پِھر حنا کا ایس ایم ایس آیا کے ابھی جب تک میں یہاں لاہور اپنے گھر پے ہوں آپ مجھے کال نہ کریں اور نہ ہی خود ایس ایم ایس کریں میں خود آپ سے رابطہ کروں گی میں جب واپس ڈیوٹی پے جاؤں گی تو آپ کو کال کر کے بتا دوں گی پِھر کال پے ہی گپ شپ لگا لیا کریں گے. میں نے حنا کو کہا حنا جی آپ کا حکم سر آنکھوں پے آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہو گا. پِھر حنا کی طرف سے آخری ایس ایم ایس آیا ابھی مجھے کچھ گھر کا کام ہے میں پِھر ٹائم نکال کر بات کروں گی 

یا واپس راولپنڈی جا کر ہی لمبی بات کریں گے . میں نے بھی جواب میں او کے لکھ کر ساتھ میں کسسنگ والے سمائلی اِموشن بھیج دیئے. پِھر میں وہاں بیٹھ کر کافی دیر تک حنا کے بارے میں سوچتا رہا اور کئی پلان بناتا رہا مجھے پتہ ہی نہیں چلا شام کے 5 بجنے والے تھے چچا کے آنے کا ٹائم ہو گیا تھا. پِھر وہ باقی کا دن بھی گزر گیا اور اگلا دن جمعرات تھی میرا یہاں آخری دن تھا لیکن یادگار دن تھا . کیونکہ آج کے دن ہی میں نے نورین کو اور چچی کو اکٹھا چود نا تھا. میں ناشتہ کر کے کچھ دیر تک ٹی وی دیکھتا رہا اور پِھر تقریباً 10بجے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں میں نے زیتون کے تیل سے 1 گھنٹہ لگا کر لن کی مالش کی اور پِھر اٹھ کر باہر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا جب میں نہا کر باہر نکلا تو دیکھا نورین آئی ہوئی تھی اور چچی کے کمرے میں ہی بیٹھی تھی آج اس نے کالے رنگ کا لان کا سوٹ پہنا تھا وہ اس میں قیامت لگ رہی تھی. چچی نے مجھے باتھ روم سے باہر نکلتے دیکھا اور اشارہ کیا کے میں ان کے کمرے میں بیٹھوںوہ کچن کا کام ختم کر کے آتی ہیں . میں پہلے اپنے کمرے میں گیا وہاں سے بس ٹر او زَر اور اوپر بنیان پہنی اور پِھر کمرے سے نکل کر چچی کے کمرے میں چلا گیا نورین بیڈ پے لیٹی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی. میں نے نورین کو کہا اٹھ کیوں گئی ہو لیٹی رہو اور آنکھ مار کر بولا آج تو سارا لیٹ کر ہی کام ہونا ہے . وہ میری بات سن کر شرما گئی اور اپنا منہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا . پِھر میں بھی جا کر بیڈ پے اس کے ساتھ لیٹ گیا اور اس کو بھی لیٹا لیا . اور اس کا منہ اپنی طرف کر کے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے لیے اور ان کو سک کرنے لگا. ہم دونوں ابھی کسسنگ ہی کر رہے تھے تو چچی بھی آ گیں اور بولی صبر کرو یار مجھے بھی تو ساتھ میں شامل کرو اور پِھر چچی نے اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا کھڑکی بھی بند کر کے پردہ بھی آگے کر دیا . پِھر بیڈ پے آ گئی . اور اب چچی میرے ایک طرف اور نورین میرے دوسرے طرف لیٹی ہوئی تھیں پہلے میں نے نورین کو کس کرتا رہا اور چچی مجھے میری گردن پے اور میرے کان پے کس کر رہی تھی اور ساتھ میں ہی نیچے سے ٹر او زَر کے اندر ہاتھ ڈال کر میرے لن کو بھی آہستہ آہستہ سہلا رہی تھی پِھر کچھ دیر بعد میں نے نورین کو چھوڑ کر چچی کو کس کرنے لگا چچی نورین کے مقابلے میں تھوڑا زیادہ تجربہ رکھتی تھی اِس لیے ان کی سکنگ اور کسسنگ کافی جاندار تھی جب میں چچی کے ساتھ کس کر رہا تھا تو نورین میرے گالوں پے پر میری گردن پے کسسنگ کر رہی تھی چچی نے اپنے ہاتھ میرے ٹر او زَر سے نکالا اور نورین کر ہاتھ پکڑ کر میرے ٹر او زَر میں گسادیا اور میرے لن اس کے ہاتھ میں دیا نورین کا ہاتھ لگتے ہی مجھے عجیب سا مزہ ملا نورین کا جسم کافی نرم تھا اس کے ہاتھ بھی کافی سوفٹ اور نرم تھے. میں اِس طرح ہی کافی دیر تک چچی کے ساتھ مزہ کرتا رہا پِھر چچی اٹھ کر بیٹھ گئی

اور نورین سے بولی نورین چلو اپنے کپڑے اُتار دو اور خود بھی کپڑے اُتار نے لگی میں نے بھی ان کے دیکھا دیکھی اپنے کپڑے اُتار دیئے اور چند لمحوں بعد ہی میں نورین اور چچی پورے ننگے ہو گئے تھے چچی نے بھی تازہ تازہ شیو کی تھی ان کی پھدی بھی چمک رہی تھی . اور نورین کی تو پھدی ہے ہی بڑی سوفٹ تھی اور اس کا منہ بھی چھوٹا سا تھا . پِھر چچی نے کہا کا شی نورین نیچے لیٹ جائے گی تم اِس کی ٹانگوں میں لیٹ کر اِس کی پھدی کو مزہ دو میں نورین کے منہ میں اپنی پھدی رکھ کر مزہ لیتی ہوں . ویسے بھی نورین کہتی ہے میں نے کا شی سے ہی اپنی پھدی چسوا نی ہے. میں نے کہا کیوں نہیں چچی جان نورین کا حکم ہے تو ضرور کروں گا . اور پِھر نورین اپنی ٹانگوں کو کھول کر لیٹ گئی اور میں بھی اس کی ٹانگوں میں منہ کے بل لیٹ گیا اور اس کو پھدی سے لے کر بُنڈ کے سوراخ تک پہلے کس کرتا رہا پِھر آہستہ آہستہ اپنی زُبان سے اس کو چاٹنے لگا. جب میں نے پہلی دفعہ اپنی زُبان نورین کی پھدی سے لے کر بُنڈ کی موری تک پھیری تو اس کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا اور اس کے پورا جسم آہستہ آہستہ کانپنے لگا. اور دوسری طرف چچی اپنے اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا کر نورین کے منہ پر گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی اور نیچے سے نورین اپنی زُبان سے چچی کی پھدی چاٹ رہی تھی. چچی کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہیں تھیں . پِھر میں نے یہاں نورین کی پھدی پے اپنی رفتار تھوڑی تیر کر دی تھی اور اس کو پھدی اور بُنڈ کی موری کو اچھی طرح سک کر رہا تھا . یہ سلسلہ کوئی 5 سے 7 منٹ تک چلتا رہا میں نے اب نورین کو اور مزہ دینے کا سوچا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے اس کی پھدی کو کھولا پِھر اپنی زُبان کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا میری اِس حرکت سے اب نورین کا جسم اور زیادہ کانپنے لگا تھا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا اور پِھر کوئی 5 منٹ بعد ہی میں نے اپنی رفتار تیز کر دی اور اپنی زُبان کو اندر باہر کر کے نورین کی پھدی کو زُبان سے ہی چودنے لگا اب نورین بھی جوش میں آ گئی تھی

اور وہ اپنی بُنڈ نیچے سے اٹھا اٹھا کر زُبان اندر لینے لگی اور دوسری طرف چچی کی منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں اب وہ کہہ رہی تھی ہا اے نی نورین آج اپنی پا بھی دی پھدی نوں کچہ کھا جا نی . اور اونچی اونچی آہ آہ اوہ اوہ آہ کی آوازیں نکال رہی تھی آوازیں تو شاید نورین کی بھی میری زُبان کی چدائی کی وجہ سے نکل رہی تھیں لیکن نورین کے منہ پے چچی کی پھدی ہونے کی وجہ سے آواز زیادہ نہیں نکل رہی تھی. پِھر میں نے بھی اپنی سپیڈ تیز کر دی اور زُبان کو پھدی کے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد مجھے نورین کا جسم اکڑتا ہوا محسوس ہوا میں سمجھ گیا اب نورین اپنی پیک پے ہے وہ اب چند ہی لمحوں میں اپنا پانی چھوڑ دے گی اور وہ ہی ہوا اگلے 2 منٹ میں دونوں نورین نے اور چچی نے ایک ساتھ اپنا پانی چھوڑا دیا چچی اور نورین دونوں بیڈ پے گر گیں تھیں اور دونوں ہانپ رہیں تھیں. پِھر میں وہاں سے اٹھا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا اور اپنا منہ دھویا اور کلی کی اور پِھر دوبارہ آ کر بیڈ پے لیٹ گیا . کچھ دیر بعد چچی اور نورین کی سانسیں بَحال ہو چکی تھیں . پِھر چچی نے کہا کا شی کیسا لگا مزہ آیا کے نہیں . میں نے کہا چچی جی مجھے تو بہت مزہ آیا ہے اب بس اپنے لن کو آپ دونوں کا مزہ کروانا ہے اِس دفعہ نورین نے میرا لن ہاتھ میں پکڑ کر بولی کا شی جی اِس کا بھی بندوبست کر دیتے ہیں آپ فکر کیوں کرتے ہیں . میں نے نورین کو فرینچ کس کی ہنسنے لگا . پِھر ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے . پِھر میں نے پوچھا چچی جی اب آگے کا کیا موڈ ہے تو چچی نے کہا تم بتاؤ آج تمہاری مرضی چلے گی . میں نے نورین کی طرف دیکھا اور پوچھا نورین تم کیا کہتی ہو تو نورین نے کہا آپ جو کہیں گے مجھے منظور ہو گا . میں نے کہا چچی بات یہ ہے کے نورین تو گانڈ میں لے گی نہیں اِس لیے میرا دِل ہے پہلے نورین کی پھدی مار لی جائے پِھر بعد میں دوسرا رائونڈ آپ کے ساتھ آپ کی گانڈ میں لگا لیں گے آپ کیا کہتی ہیں. چچی اور نورین دونوں بولی ہمیں منظور ہے . میں نے پِھر نورین کو کہا نورین پِھر سیدھا لیٹ کر اپنی تھوڑی ٹانگیں کھول لو

نورین نے ایسے ہی کیا اور لیٹ گئی میں اس کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا اس کو دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھوں پے رکھ چچی دوسری طرف آ کر لیٹ گئی اور اپنی سائڈ نورین کی طرف کر لی پِھر میرا لن ہاتھ میں پکڑ کر نورین کی پھدی پے سیٹ کیا اور مجھے بولا کا شی آرام سے کرنا یہ میری شہزادی ہے اِس کو درد نہیں ہونا چاہیے. میں نے کہا چچی جی آپ بے فکر ہو جائیں نورین میری جان ہے میں آرام سے ہی کروں گا . اور پِھر چچی نے لن کو موری پے سیٹ کروایا اور بولی ٹوپی کو آہستہ آہستہ اندر کرو میں نے اپنے لن کو حرکت دی اور ہلکا سا پُش کیا میری آدھی ٹوپی نورین کی پھدی میں چلی گئی جس کو نورین آرام سے برداشت کر گئی . پِھر میں نے دوسری دفعہ پِھر زور لگایا اور پُش کیا اِس دفعہ پوری ٹوپی رنگ تک پھدی میں چلی گئی . اور نورین کے منہ سے ہلکی سی آہ نکل گئی . چچی فوراً بولی کا شی آرام سے کرو میری شہزادی کو درد ہو رہا ہے . میں نے کہا جی چچی جان .نورین کی آنکھیں بند تھیں . پِھر میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا چچی نے آگے ہو کر میرا لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور شاید وہ ناپ رہی تھی پِھر میری آنکھوں میں دیکھا اور مجھے مسکرا کر اشارہ کیا کے باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دو . میں چچی کی طرف حیران ہو کر دیکھا لیکن چچی نے کہا جانے دو . میں نے بھی جوش میں آ کر ایک زوردار جھٹکا مارا اور اپنا پورا کا پورا لن نورین کی پھدی میں جڑ تک اُتار دیا پِھر نورین کے منہ سے اونچی سی آواز نکلی ہا اے ثمینہ باجی میں میں مر گئی. چچی نے فوراً اپنا منہ نورین کے منہ پے رکھ دیا اور اس کو پیار سے کس کرنے لگی اور کہنے لگی کچھ نہیں ہوا نورین میری جان مزہ لینے کے لیے اتنا دردتو سہنا پڑتا ہے . پِھر کچھ دیر بعد نورین کو راحت محسوس ہوئی اس نے آنکھیں کھولیں اور چچی کو کہا باجی آپ بڑی ظالم ہیں جب آپ کا شی کو اشارہ کر رہیں تھیں میں نے دیکھ لیا تھا . چچی ہنسنے لگی اور بولی میری بنو جب تک درد نہ ہو تو مزہ نہیں ملتا . اب جو ہونا تھا ہو گیا اب مزہ ہی مزہ ہے . پِھر چچی نے اپنا ایک ممہ پکڑ کر اس کی نپل نورین کے منہ میں دے دی اور مجھے کہا کا شی بیٹا اب تم اپنا کام شروع کرو. میں نے پِھر آہستہ آہستہ اپنا لن نورین کی پھدی میں اندر باہر کرنے لگا جب میرا لن رواں ہو گیا تو میں نے اپنی سپیڈ تھوڑی تیز کر دی آب شاید نورین کو بھی مزہ آ رہا تھا وہ بھی اپنے منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی 

میں اس کو 5 سے 7 منٹ تک چودتا رہا . پِھر میں نے اپنے آخری ایکشن کا سوچا اور اپنی سپیڈ کو مزید تیز کر دیا جس سے نورین کو بھی جوش مل گیا تھا وہ بھی نیچے سے بُنڈ اٹھا اٹھا کر لن اندر کروا رہی تھی . پِھر میں نے نورین کی ٹانگوں کو نیچے رکھا اور آگے کو جھک کر اپنے طوفانی جھٹکے لگانے لگا نورین نے اب اپنی ٹانگیں میری کمر کے پیچھے کر کے مجھے جڑ. لیا تھا اور وہ بھی بُنڈ فل ہوا میں اٹھا کا ساتھ دے تھی . میرے 3 سے 4 منٹ کے جھٹکوں نے نورین کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا تھا اِس لیے اس نے اپنی منی کا فوارہ اندر چھوڑ دیا تھا جو كے مجھے اپنے لن پے بھی محسوس ہو رہا تھا . مجھ سے اب اور زیادہ برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا میں نے کوئی 2 منٹ ہی اور جھٹکے لگا کر میں بھی نورین کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر ہی منہ کے بل گر گیا اور ہانپنے لگا. پِھر کچھ دیر بعد میں اٹھ کر نورین کے ساتھ بیڈ پے لیٹ گیا . کافی دیر بعد چچی نے نورین کو پوچھا سناؤ میری بنو کیسا لگا مزہ آیا کے نہیں . تو تھوڑی بعد نورین بولی باجی مزہ تو آتا ہی کا شی سے ہے . عرفان بھائی كے لن میں وہ بات نہیں ہے جو کا شی میں ہے . چچی نے کہا ہاں میری بنو یہ بات تو ہے لیکن یہ بھی دیکھو کا شی اور عرفان بھائی کی عمر میں کتنا فرق ہے کا شی ابھی جوان ہے تازہ خون ہے . عرفان بھائی اِس عمر میں اب کا شی کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے . لیکن یہ بھی تو سوچو جب کا شی چلا جائے گا تو نہ ہونے سے بہتر ہے عرفان بھائی سے اپنا ٹائم پاس کر سکتے ہیں . تو نورین بولی جی باجی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں . پِھر چچی شلوار قمیض پہن کر باہر جانے لگی تو نورین نے پوچھا باجی آپ کہاں جا رہی ہیں تو چچی نے کہا میں کچن سے کچھ طاقت والی چیز لے کر آتی ہوں میری بنو اور میرا بھتیجا تھک گئے ہوں گے . نورین چچی کی بات سن کر خوش ہو گئی. پِھر تھوڑی دیر بعد چچی 2 گلاس میں دودھ ڈال کر لے آئی دودھ میں چچی نے چھو ارے پیس کر ڈالے ہوئے تھے

میں نے اور نورین نے دودھ پی لیا دودھ پی کر مجھے کافی اچھا محسوس ہو رہا تھا توانائی بَحال ہو گئی تھی. پِھر میں اور نورین اور چچی کافی دیر تک آپس میں باتیں کرتے رہے چچی نے گھڑی پے ٹائم دیکھا تو 1 بجنے والا تھا چچی نے کہا کا شی کیا موڈ ہے آخری رائونڈ لگا لیں پِھر نورین کو بھی گھر جانا ہے اور بچے بھی آ جائیں گے . میں نے کہا ٹھیک ہے چچی جان تھوڑا ساتھ دو اور لن کو تیار کرو تا کہ وہ آپ کی خدمت کر سکے . تو نورین فوراً بولی باجی میں تیار کر دوں . تو چچی نے کہا چلو میری بنو کر دو پِھر نورین نے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور پہلے اس کو ہاتھ سے کچھ دیر سہلایا جب لن نیم حالت میں ہو گیا تو پِھر نورین نے اس کو منہ میں لے لیا اور اس کے چو پے لگانے لگی نورین کی زُبان میرے لن پے عجیب ہی مزہ چھوڑ رہی تھی ، نورین نے 5 منٹ کے اندر ہی میرے لن میں فل جان ڈال دی اور میرے لن لوہے کی راڈ کی طرح کھڑا ہو گیا. میں نے چچی کو کہا چچی جان آپ بیڈ سے اُتَر کر نیچے کھڑی ہو جائیں اور اپنی ایک ٹانگ آگے کر کے بیڈ پے رکھ لیں اور دوسری ٹانگ زمین پے ہی رہنے دیں اور گھوڑی سٹائل میں جھک جائیں میں پیچھے سے کھڑا ہو کر لن ڈالوں گا. چچی نے میری بتائی ہوئی پوزیشن بنا لی میں بیڈ سے اٹھ کر نیچے کھڑا ہو گیا اب چچی کی گانڈ کی موری بالکل میرے لن کے سامنے تھی میں نے اپنا لن ان کی موری پے فٹ کیا تو نورین میرے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی میرے لن کو پکڑ کر بولی کا شی جی آرام سے کرنا میری دفعہ بھی آپ نے بہت ظلم کیا تھا یہ بُنڈ کی موری ہے اِس میں دردہوتا ہے باجی کو تکلیف ہو گی . میں نے کہا نورین جانی بے فکر رہو مجھے پتہ ہے یہ بُنڈ کی موری ہے . میں نے لن کو موری پے فٹ کر کے ہلکا سا جھٹکا مارا تو میری ٹوپی چچی کی بُنڈ میں آدھی اندر چلی گئی . لیکن چچی نے کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیا تھا . مجھے پتہ تھا چچی کافی دفعہ کروا چکی ہیں ان کو خاص فرق نئی پڑ ے گا . پِھر میں نے اِس دفعہ تھوڑا زور کا جھٹکا مارا میری پوری ٹوپی اندر موری میں گھس گئی چچی کا جسم نیچے سے تھوڑا کسمسا گیا. مجھے پتہ تھا میرے لن کی ٹوپی تھوڑی زیادہ بڑی ہے اِس لیے چچی کی اب کافی محسوس ہوئی ہے . پِھر میں وہاں ہی رک گیا اور تھوڑی دیر انتظار کرنے لگا پِھر چند لمحوں بعد میں نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور اپنا پورا لن چچی کی گانڈ میں اُتار دیا چچی کو میرا یہ جھٹکا کافی محسوس ہوا وہ اِس جھٹکے سے آگے کو مزید جھک گئی اور منہ سے آواز نکلی ہا اے. نورین یہ دیکھ کر فوراً بولی کا شی جی آپ کتنے ظالم ہیں میری باجی کو کتنی تکلیف دے رہے ہیں . میں نے کہا نورین جان یہ تکلیف تو تم نے بھی سہی ہے اس ٹائم تو چچی نے ہی کہا تھا کے پورا اندر ڈال دو

تو نورین بولی میری بات اور ہے لیکن ثمینہ باجی کو تو آپ بہت تکلیف دے رہے ہیں . پِھر کچھ دیر بعد چچی کو جب کچھ راحت محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا نورین میری بنو یہ مزہ ایسا ہے کے اِس میں درد نہ ہو تو مزہ نہیں آتا اِس لیے تم میری فکر نہیں کرو اور مجھ سے کہا کا شی بیٹا تم اب اندر باہر کرو . میں نے آہستہ آہستہ اپنے لن کو اندر باہر باہر کرنا شروع کر دیا کوئی 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرے لن کافی حد تک رواں ہو چکا تھا میں نے اب اپنی سپیڈ تھوڑی تیز کر دی تھی اور اب چچی بھی آگے پیچھے ہو کر ساتھ دے رہی تھی چچی کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں آہ آہ اوہ آہ اوہ آہ اوہ. میں اِس پوزیشن میں چچی کو لگاتار 7 سے 8 منٹ تک چودتا رہا میں خود اب تھوڑا تھک چکا تھا میں نے چچی کو کہا چچی جان آپ بیڈ پے گھوڑی بن جاؤ میں اب وہاں آپ کو چودتا ہوں . چچی بھی شاید اِس پوزیشن میں تھک چکی تھی اِس لیے وہ فوراً بیڈ کے اوپر جا کر گھوڑی بن گئی میں نے پیچھے جا کر کھڑا ہو کر تھوڑا جھک کر لن دوبارہ اندر ڈال دیا اِس دفعہ میں نے 2 سے 3 جھٹکوں میں لن اندر کیا اور پِھر میں نے کچھ دیر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کیا پِھر اپنی سپیڈ تیز کر دی اِس پوزیشن میں لن اندر گہرائی تک جا کر محسوس ہوتا ہے عورت کو مزہ بھی اور تکلیف بھی ہوتی ہے . میں جھٹکے پے جھٹکے لگا رہا تھا . اور ہمارے جسم آپس میں ٹکرانے کی وجہ سےدھپ دھپ کی آوازیں کمرے میں گونج رہیں تھیں اور چچی بھی اونچی آواز میں آہ آہ اوہ آہ اوہ آہ کر رہی تھی . نورین پاس میں بیٹھی لن کو اندر باہر ہوتے ہوئے بڑے ہی غورسے دیکھ رہی تھی . پِھر میں نے اپنا لن چچی کی پھدی سے نکالا اور نورین کو بولا نورین جانی اِس کو اپنے منہ میں لے کر تھوڑا گیلا کرو پِھر تمہاری باجی کو درد شاید کم ہو گا . اس نے پہلے اپنی پاس رکھی قمیض سے میرے لن کو صاف کیا اور پِھر اپنے منہ میں لے کر چوپا لگانے لگی 2 منٹ بَعْد میرا لن کافی گیلا ہو چکا تھا نورین نے اپنے منہ کا کافی تھوک بھی میرے لن پے مل دیا تھا . میں نے دوبارہ لن چچی کی پھدی میں گسا دیا اور جھٹکے مارے لگا اِس دفعہ نورین نے نیچے سے ہاتھ ڈال کر اپنی دو انگلیاں چچی کی پھدی میں گسا دیں اور اندر باہر کرنے لگی اب چچی کو دونوں طرف سے مزہ مل رہا تھا. میں نے بھی اوپر سے اپنے جھٹکے مزید تیز کر دیئے تھے چچی کے منہ سے غوں غوں کی آوازیں نکل رہی تھیں

مجھے اِس پوزیشن میں چچی کی گانڈ مارتے ہوئے 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے مجھے اب اپنی ٹانگوں میں تھکن صاف محسوس ہو رہی تھی . مجھے پتہ تھا اب میں اپنا پانی چھوڑ دوں گا اِس لیے میں نے اپنے آخری طاقت سے جھٹکے لگانے لگا اور کوئی مزید 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرے لن نے منی کا لاوا چچی کی بُنڈ کے اندر ہی چھوڑ دیا تھا اور شاید چچی بھی نیچے سے نورین کی انگللیوں کی وجہ سے اپنا پانی چھوڑ چکی تھی . چچی ویسے ہی منہ کے بل لیٹ گئی اور میں بھی ان کے اوپر منہ کے بل لیٹ گیا میرا لن ابھی تک چچی کی بُنڈ کے اندر تھا . جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تومیں نے اپنا لن باہر نکال کر چچی کے پہلو میں ہی لیٹ گیا . پِھر میں اور چچی کافی دیر تک ایسے ہی لیٹے رہے . کوئی 10منٹ بعد جب ہماری سانسیں بَحال ہوئیں تو چچی نے کہا واہ کا شی میری جان آج تو چس آ گئی ہے . بُنڈ میں لن تھا اور نیچے سے نورین کی انگلیاں تھیں یقین کرو مزہ آ گیا ہے پِھر چچی نے گھڑی پے ٹائم دیکھ کر کہا کا شی 1.40ہو گئے ہیں نورین کو بھی گھر سے آئے ہوئے بہت ٹائم ہو گیا ہے بچے بھی آنے والے ہیں میں نے روٹی بھی بنانی ہے . اب ہم کو اٹھنا چاہیے پِھر میں نے اور نورین نے اور چچی نے اپنے اپنے کپڑے پہن لیے اور چچی اور نورین نے کمرے کی حالت بھی ٹھیک کر دی پِھر میں نے دروازہ کھول دیا نورین بولی باجی میں جا رہی ہوں . وہ جب جانے لگی تو میں نے اس کو آخری لمبی سی فرینچ کس دی اور پِھر وہ اپنے گھر چلی گئی اور میں وہاں سے سیدھا باتھ روم میں نہانے کے لیے گھس گیا اور چچی کچن میں چلی گئی . پِھر باقی کا دن بھی گزر گیا رات کو چچا سے کافی دیر باتیں ہوتی رہیں دادی کے ساتھ بھی کچھ ٹائم گزارا پِھر سب سو گئے . لیکن رات کے تقریباً 2 بجے مجھے چچی نے آرام سے اٹھا دیا اور چھت پے ہی بنے ہوئے کمرے میں بلا کر لے گئی وہاں پے میں نے چچی کو 1 دفعہ مزید چودا لیکن اِس دفعہ چچی کی پھدی کو بجایا اور اپنا اور چچی کا ایک دفعہ پانی نکلوایا. پِھر میں اور چچی سو گئے صبح میں اپنے ٹائم پے ہی اٹھ گیا کیونکہ مجھے آج واپس جانا تھا میں نیچے جا کر نہا دھو کر سب کے ساتھ ناشتہ کیا اور پِھر چچا اور بچے مجھ سے مل کر چلے گئے میں نے 9 بجے گاڑی میں بیٹھنا تھا 

پِھر میں نے آخری دفعہ چچی کو کچن میں پکڑ کر 2 سے 3 دفعہ لمبی فرینچ کس کی اور پِھر دادی کے کمرے میں جا کر ان کو سلام دعا کر کے گھر سے نکل آیا اور باہر آ کر رکشہ لیا اور شیخوپورہ آ گیا اور 9 بجے اسلام آباد والی گاڑی میں بیٹھ گیا اپنے گھر اسلام آباد واپس آ گیا۔۔(سیزن ون دی اینڈ)



Leave a Comment