جو لڑکا وہاں آیا وہ پورے ٹاؤن کے لڑکوں کے لیے ممی ڈیڈی تھا اس کی وجہ اس کا کردار تھا وہ تھا بھی بہت خوبصورت بالکل لڑکیوں کی طرح تھا۔۔۔
ایک دن مومل سا جسم تھا گورا رنگ بڑی بڑی آنکھیں تھیں غرض ہر لحاظ سے وہ خوبصورت تھا۔۔۔
اس میں ایک عادت جس کی وجہ سے میں نے یہ کہا کہ وہ ٹاؤن کے سارے لڑکوں کے لیے ممی ڈیڈی تھا ۔۔۔
وہ جس سے بھی ملتا تھوڑی تنہائی ملتے ہی وہ دوسرے کا لن پکڑ لیتا تھا اب سامنے والے پر ہوتا تھا کہ وہ کیا کرتا ہے۔۔۔
ہم چلو ٹھہرے پینڈو لیکن جو خود گانڈو تھے وہ بھی اس کے پیچھے ہوتے تھے اس نے ٹاؤن کے بہت سے لڑکوں کو خوش کیا تھا لیکن میں ابھی تک اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے محروم تھا۔۔۔
وہ آیا اور آ کر میرے پاس ہی بیٹھ گیا میں نیچے گھاس پر ٹانگیں لمبی کر کے بیٹھا تھا وہ میرے قریب ہی بیٹھ گیا ۔۔۔
میں آج کی تہمینہ کی چودائی کے بارے میں سوچ رہا تھا لن بھی ٹائٹ تھا اس کو دیکھ کر پتہ نہیں میرے دل میں کیا آئی ۔۔۔
میں اس سے کہا کتنے لن لے چکے ہو ۔۔۔
اس کا نام بتاتا چلوں اس کا نام خیام تھا ہم سب اس کو خوما کہتے تھے وہ دو بھائی اور تین بہنیں تھے اس کا ابو بھی گورنمنٹ ملازم تھا۔۔۔
جب میں نے پوچھا کتنے لن کے چکے ہو تو اس نے بتایا کہ پتہ نہیں اب تو یاد بھی نہیں۔۔۔
آپ بھی سوچتے ہو گے کہ ایسا کیسے ممکن ہے دوستو بتاتا چلوں وہ لوگ جو گانڈ کے شوقین ہیں ان کو یہ سب پتا ہو گا کہ گانڈو لڑکا ہو یا کوئی چالو لڑکی سب ایسے کھلے ہوتے ہیں سب کچھ بتا دیتے ہیں۔۔۔
خیام نے بھی کھل کر مجھے بتایا اس یہ بھی بتا دیا سب سے بڑا کس کا تھا کس نے اس کی پہلی مرتبہ ماری وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
یہ باتیں سن کر میں نے کہا مجھے بھی دے دو تو وہ بولا پہلے چیک کرواؤ ساتھ ہی اس نے میرا لوڑا پکڑ لیا پکڑ فوراً ہی چھوڑ دیا اور بولا نہ بابا نہ تیرا بہت بڑا ہے میری پھٹ جائے گی۔۔۔۔
میں ایسے ہی اس کو تنگ کرنے لیے کہا اندر کروں گا باہر باہر ہی کرنے دینا لیکن وہ مان گیا۔۔۔
میں نے ٹال مٹول کرنا چاہا تو وہ بضد ہو گیا اور کہنے لگا آجا یار ۔۔۔۔
میں نے بھی حامی یہ سوچتے ہوئے بھر لی کہ کونسا جگہ ملنی کے مان جاتا ہوں لیکن وہ تو تیار بیٹھا تھا جگہ کی بھی ٹینشن نہ تھی۔۔۔
وہ اٹھا اور مجھے کہا آجاو نہر پر چلتے ہیں ہم چلتے ہوئے نہر پر چلے گئے۔۔۔۔
جیسا کہ بتایا تھا ٹاؤن کے تین دو اطراف گول گول گھومتے ہوئے ایک چھوٹی نہر گزرتی ہے وہ مجھے ایک سنسان جگہ پر درختوں کے جھنڈ میں نہر کے کنارے لے گیا۔۔۔
اس نے اپنی شرٹ اتاری اور نہر میں کود گیا میں کھڑا سوچتا رہا کہ کیا کروں اس نے پانی کے چھینٹے مجھ پر پھینکنے شروع کر دئیے میرے سارے کپڑے بھیگ گئے میں ایک تو شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اور سے سے بہت باریک تھی جس سے میرا جسم سارا نظر آنے لگا ۔۔۔۔
میں نے بھی قمیض اتاری اور نہر میں چھلانگ لگا دی ساتھ ہی اس کو جا کر پکڑلیا سالا بالکل چکنی مچھلی کی طرح ہاتھ سے پھسل گیا ۔۔۔۔
میں اس کے پیچھے تیرا لیکن وہ کبھی ادھر جاتا تو کبھی ادھر میں بھی پیچھے جاتا اچانک میں نے غوطہ لگایا اور میں پانی کے نیچے نیچے تیرتا ہوا اس تک پہنچ گیا اور نیچے سے اس کا ٹراؤزر کھینچا جو آسانی سے اتر گیا۔۔۔۔
میں نے ٹراؤزر نہر سے باہر پھینک دیا اور اس کے پاس جا کر اس کو پکڑ لیا۔۔۔۔
اب اس نے منہ دوسری طرف کیا اور اپنی گانڈ میرے لن کے ساتھ لگا لی سالا تھا پورا چالو ایک نمبر کا گانڈو پتہ نہیں اس کو گانڈ مروانے کا اتنا شوق کہاں سے پڑ گیا تھا۔۔۔۔
اس کی گانڈ تھی بھی فوم جیسی نرم سی پانی کی وجہ سے اور بھی چکنی لگی جب میں نے گانڈ پر ہاتھ لگایا۔۔۔۔
اس نے صرف گانڈ لگانے پر ہی بس نہیں کی ہاتھ پیچھے لا کر میرا لن پکڑ کر اس کی مٹھ مارنے لگا لن صاحب تو ہر وقت تیار ہی رہتے ہیں کہ کب موقع ملے اور کھڑا ہو جاؤں۔۔۔۔
اس کے مٹھ مارنے میں بھی ایک ادا تھی ایک سٹائل تھا سالا گانڈو بہت آرام سے اپنی مٹھی میں لن کو جڑ سے پکڑ کر اوپر لاتا اور جب رنگ پر پہنچتا تو مٹھی کو سخت کر لیتا جس سے ٹوپی پر رگڑ لگتی اور لن دھاڑنے لگتا ۔۔۔
جلد ہی لن فل ٹائٹ ہو گیا اس نے اپنی گانڈ کی دراڑ میں لن پھنسا لیا اور رگڑنے لگا میں بس اس کی شہوت انگیز حرکتوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اس سے جب برداشت نہ ہوا تو اس نے خود ہی میرا ناڑا کھولا اور نہر کے کنارے کے ساتھ لگ کر جھک گیا اور گانڈ کو باہر نکال لیا ۔۔۔۔
اب مجھ پر تھا کہ اس کی گانڈ میں لن گھساتا یا وہاں سے نکل جاتا۔۔۔۔
لیکن اس کا جسم دیکھ کر لن بیٹھنے کی بجائے اور اکڑنے لگا جلد سے جلد خیام کی گانڈ میں گھسنے کی دوہائی دینے لگا۔۔۔۔
میں نے بھی لن کی سنی اور لن کو اس کی گانڈ پر رکھ دیا اس نے خود ہی ایڈجسٹ ہو کر لن کو سوراخ میں سیٹ کیا اور مجھے کہا کرو۔۔۔۔۔
میں نے دباو ڈالا لیکن لن اندر نہ گیا لیکن دباؤ روکنے کی بجائے بڑھانے لگا لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کے سوراخ میں ہی پھنس گئی ۔۔۔۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے گانڈ کے پٹ پکڑ کر کھول رکھی تھی میں نے لن پر دباؤ بڑھانا جاری رکھا کچھ ہی دیر میں لن کافی حد تک اس کی گانڈ میں اتر چکا تھا ۔۔۔۔۔
ایسا مزہ آ رہا تھا جیسے کسی کنواری لڑکی کی پھدی میں لن جا رہا ہو اتنا پھنس پھنس کر شاید کنواری پھدی میں بھی نہ جاتا ہو جیتنا اس کی گانڈ میں مزا ا رہا تھا پھدی میں نہ آتا ہو۔۔۔
میرے اس وقت کی سوچ یہ ہی تھی میں نے لن پیچھے کھینچا اور پھر اندر کرنے ہی والا تھا کہ ایک آواز گونجی ۔۔۔۔
آواز اتنی قریب سے آئی تھی کہ مجھے اپنے کان کی لوئیں گرم ہوتی محسوس ہوئیں میرا لن جس کی ٹوپی گانڈ میں تھی ایک دم پھس کر کے بیٹھ گیا۔۔۔
خیام بھی اچھلا ہمارے صرف اوپر کے دھڑ پانی سے باہر تھے باقی کا جسم پانی میں تھا ۔۔۔۔
میں نے سر اوپر کر کے دیکھا تو ایک کسے بدن والی عورت ہمارے سر پر ہاتھ میں درانتی پکڑے کھڑی ہمیں غور رہی تھی۔۔۔
خیام نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی تو اس عورت نے جھک کر اس کے بالوں کو پکڑ کر کھینچا اور بولی او کاکے کدھر ہن رک جا تینوں میں دسدی آں ۔۔۔۔
اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولی تے تو وی آپے باہر آجا نہیں تاں میں آ گئی نہ تے تیری للی وڈ دینی اے ۔۔۔۔
وہ سمجھ رہی تھی کہ ہم بچے ہیں ایسے ہی شوق میں ایک دوسرے کی بنڈ مار رہے ہیں ۔۔۔۔
وہ سوچ ےو صیحیح رہی تھی کیونکہ کافی دفعہ ہمارے ٹاؤن کے لڑکے واری وٹہ کرتے پکڑے گئے تھے یہ بہت عام ہو چکا تھا ۔۔۔۔
اس نے خیام کو تو پکڑ کر باہر کھینچ لیا اور درانتی لہراتے ہوئے مجھ سے بولی باہر نکل آ نہیں تا میں داتی مارنی اے تیرے۔۔۔
میں سہما ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
میں جب باہر نکلا تو سمجھ آئی کہ ہم ٹاؤن کی دوسری سمت والے کنارے پر تھے جس طرف کپاس کی فصل تھی اور وہ عورت وہاں گھاس کاٹنے آئی تھی پتہ نہیں ہماری قسمت خراب تھی جو وہ نہر کے کنارے آ گئی ورنہ اس کا اس کنارے کوئی کام نہیں بنتا تھا۔۔۔۔
میں جب اپنی شلوار کو تھامتے بایر نکلا تو شلوار باریک تھی جس سے سب کچھ واضح نظر آ رہا تھا لن کی ٹوپی کپڑوں سے لپٹی ہوئی اپنا رنگ واضح کر رہی تھی اس نے غور سے لن کی ٹوپی کی طرف دیکھا اور بولی آجاؤ اج تہانوں میں سبق سکھانی آن کیویں واری وٹہ کری دا اے۔۔۔۔
اس نے میرے گلے لر درانتی لگائی میری سانس رک گئی میں نے دل میں خیام کو پندرہ سو گالیاں دیں اور سوچا بلو اج نہیں بچدا اج تیری موت پکی آ عورت اج تیری جان لے کے ای باز آؤ گی۔۔۔۔
وہ خیام کو اسی طرح گھسیٹتے ہوئے میرے گلے سے درانتی لگائے کم دونوں کو دوسرے کنارے سے نیچے کپاس کی فصل میں کے گئی۔۔۔۔
وہ ہمیں پکڑے لے کر چلتی ہوئی قدرے کھلی جگہ چلی گئی جہاں کیکر کا درخت تھا اور اس کی چھاؤں کافی گہری تھی۔۔۔
چھاؤں میں جا کر اس نے خیام کو گھاس کی گٹھری پر پھینکا جو شاید اس کی ہی تھی اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔
ہن میرے سامنے اہندی بنڈ مار مینوں وی پتہ لگے کیویں بنڈ وجدی اے۔۔۔
میں کچھ نہ بولا چپ کھڑا رہا اس انے میرا بازو پکڑا اور کھینچ کر اپنے پاس کیا پھر جھے شلوار اتارنے کا کہنے لگی۔۔۔
میں نے کہا جو کرنا ہے کر لو لیکن اس کے ساتھ اس کو گاند مروانے کا شوق بہت شوق ہے ۔۔۔۔
تو وہ عجیب سے لہجے میں بولی اوووو اچھا تے اس کو بنڈ مروانے دا شوق اے تے تینووووں۔۔۔۔۔
ہاتھ سے اشارہ بھی کیا اب پہلی بار میں نے اس کے جسم پر نظر دوڑائی وہ کوئی 35 سے 40 کے بیچ کی عمر کی چھریرے بدن والی گندمی رنگت والی عورت تھی۔۔۔۔
اس کے چہرے پر کوئی سخت نظر نہیں آ رہی تھی لیکن پھر بھی وہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
پسینہ آنے کی وجہ سے اس کے کپڑے جسم سے چپکے ہوئے تھےجو اس کے فگر کو عیاں کر رہے تھے۔۔۔۔
اوپر سے اس نے دوپٹے کو اپنے پیچھے باندھا ہوا تھا اور اس کا ایک پلو سر پر تھا اکثر گاوں کی عورتیں جو گھاس کاٹتی ہیں یا کپاس کی چنائی کرتی ہیں تو ایک چادر کو اپنے سر سے باندھ کر اس کے دوسری سائیڈ کے پلو پیچھے سے گزار کراپنے پیٹ پر باندھ لیتی ہیں اور اس جھولی بولتی ہیں کپاس چن کر اس میں ڈالتی جاتی ہیں اگر گھاس کاٹ رہی ہوں تو اس کو اس میں ڈالتی جاتی ہیں پھر کافی ساری کاٹنے کے بعد ایک جگہ رکھتی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔
پیٹ پر اس کے پیچھے لٹکنے والی چادر باندھی ہونے کی وجہ سے اس کے سینے پر ممے ہوشربا نظارہ پیش کر رہے تھے ۔۔۔۔
ایک تو پسینے سے شرابور جسم دوسرا بھاری بھرکم چھاتیاں جن کو چھپانے میں اس کے کپڑے ناکام ہو رہے تھے میں اس کے جسم کا ایکسرے کر رہا تھا۔۔۔۔
اس نے ترچھی نظر سے میری طرف دیکھا اور جھک کر خیام کو پکڑ لیا مجھے ایسا لگا جیسے وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہی ہے کیونکہ اس نے خیام کو دوسری طرف سے جا کر پکڑا تھا جہاں سے مجھے اس کے گلے سے باکر جھانکتے مموں پر ٹھرک جھاڑنے کا موقع مل رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے خیام کو جیسے ہی پکڑا خیام تونے لگ گیا بولا آنٹی توبہ میری توبہ مجھے معاف کر دو اب کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔۔۔۔
خیام کی رونی صورت دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی وہ بولی چپ نہیں تاں تیری بنڈ وچ داتری پا دینی میں بکواس کری جاندا ایں ۔۔۔
پھر میری طرف دیکھ کر بولی چل شلوار لا تے میرے سامنے ننگا ہو کے اپنی للی ایدی بنڈ اچ پا ۔۔۔۔
میرا لن تو اس کے مموں کے درشن کرنے کے بعد ہی کھڑا ہو گیا تھا جس کو میں اپنے چڈوں میں دبا رکھا تھا ۔۔۔۔
خیام کو الٹا لٹا کر اس نے مجھے جلدی آنے کو کہا اور درانتی مارنے کی دھمکی دی ۔۔۔۔
میں نے خیام کے پاس جا کر اس کے اوپر ہوتے ہوئے اپنا ناڑا کھول کر لن کو ہاتھ میں چھپاتے ہوئے اس کی گاند کے سوراخ پر رکھا ۔۔۔۔
لیکن لن کیسے چھپ سکتا تھا اتنا موٹا ہو چکا تھا یہ مجھے آج پتہ چلا جب دن کے اجالے میں میں دیکھا میں شاید نہ دیکھتا اگر وہ عورت آنکھیں پھاڑ کر ادھر نہ دیکھتی ۔۔۔۔
میں نے اس کی آنکھوں میں شہوت دیکھ لی تھی اب اس کو راضی کرنا میری مہارت پر تھا۔۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مسلا اور منہ سے تھوک لگایا پھر مٹھ مارنے کے انداز میں لن کی مالش کرنے لگا۔۔۔۔
وہ دیدے پھاڑے کبھی مجھے دیکھتی کبھی لن کو اس سے برداشت نہ ہو ا اور بول پڑی ۔۔۔۔
تو اے سارا ایدی بنڈ اچ پایا سی ۔۔۔
میں نے بھی پنجابی میں کہا نیں ہاکے پان کگا سی کہ تسی آ گئے ویسے وی میری گل ہویی سی کہ اندر نیں کرنا۔۔۔
اس نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری میں نے لن کر ہاتھ پھیرا اور تھوک کا گولا بنا کر خیام کی گاند کر پھینکا ۔۔۔۔
خیام بولا پلیز بلو نہ کرنا یہ میں نہیں لے پاؤں گا اتنا بڑا ہے تمہارا پلیز۔۔۔
میں نے لن کو اس کی بنڈ کی موری پر رکھا اور اس کے اوپر لیٹ کر اس کے کان میں کہا دیکھ اگر تو چاہتا ہے کہ بچ جائیں تو گانڈ تو مروانی پڑے گی۔۔۔۔
وہ بولا لیکن بلو اتنا بڑا میری گانڈ پھٹ جائے گی۔۔۔
اب میں سچ میں اپنے لن کو بہت بڑا سمجھنے لگا یہ حقیقت تھی کہ میرا لن اپنی عمر کے لڑکوں سے بڑا تھا لیکن اتنا بھی نہیں تھا کہ کر کوئی کں کو موٹا اور لمبا بولتا پھرے۔۔۔۔
خیام نے زور زور سے رونا شروع کر دیا وہ عورت بولی چل نہ مار ایدی بنڈ رک جا خسرے دے منہ آلا مر ای نہ جاوے۔۔۔۔
میں ہنسنے لگا وہ میری طرف دیکھ کر بولی کبھی کسی لڑکی سے بھی کیا ہے ۔۔۔۔
میں نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا توبہ ایسا کبھی نہیں ہوا میں نے تو کبھی گانڈ بھی نہیں ماری آج پہلی بار آیا ۔۔۔۔
وہ میرے قریب آ کر بیٹھ گئی اور لن کو دیکھتے ہوئے بولی سچ میں نہیں ماری کسی لڑکی کی۔۔۔۔
میں نے کہا سچی میں کبھی نہیں۔۔۔
خیام کا رونا رک چکا تھا وہ سالا ننگا ہی تھا اس کا گورا جسم لال ہو چکا تھا اور چمک رہا تھا۔۔۔۔
اس عورت نے مجھے کہا اگر میں تمہیں طریقہ بتاؤں تو ۔۔۔۔
میں نے خیام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ہم کو جانے دو گی۔۔۔
اس نے کہا پھر جان دیاں گی اگر تو اویں کریں جداں میں کواں ۔۔۔
میں نے کہا لیکن اگر کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔
میں تسلی کرنا چاہ رہا تھا کہ وہ راضی ہو گئی ہے کہ اس کے دماغ میں کچھ اور چل رہا ہے۔۔۔
وہ بولی کجھ وی نیں ہونا تو بس انج ای کریں جداں میں کہی جاواں۔۔۔
میں نےکہا ٹھیک اے۔۔۔
اس نے میرا لن پکڑ لیا اس کے کھردرے ہاتھ جیسے ہی لن پر لگے لن کو سکون مل گیا۔۔۔
اس نے لن کی مٹھ مارتے ہوئے کہا تیوں ویکھ کے لگدا نیں کہ تیرا اے۔۔۔
میں نے نا سمجھی میں کہا کیا ۔۔۔؟
وہ لن کو کھینچتی ہوئی بولی آ جہیڑا نیں پھڑیا ہویا اے۔۔۔
میں نے کہا ابھی بھی شک ہے جس کے ساتھ لگا ہے اس کا ہی ہے۔۔۔
اس نے خیام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اس دی تاں چھوٹی جئی للی اے تیرا کیویں وڈا ہو گیا۔۔۔
ساتھ ہی اس نے اپنی شلوار اتارنے کے لیے ایک ٹانگ اٹھائی اور اس میں سے شلوار نکال دی اور گھاس پر جہاں تھوڑی دیر پہلے خیام اپنی گانڈ نکالے لیٹا تھا وہاں لیٹ گئی اور مجھے کہا آجا تیون سکھاواں کیویں ماری دی اے۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر کہا کہاں آ جاؤں ۔۔۔
اس نے ایک ٹانگ آٹھائی اور بولی ایتھے آ اپنا لن پا دے۔۔۔
میں نے اس پر لیٹتے ہوئے پھر کہا اس کے بعد جانے دو گی نا۔۔۔۔
وہ بولی کہہ تاں دتا اے جان دیاں گی ہن تیونں لکھ کے دیواں چل آ جا۔۔۔۔
وہ اتاولی ہو رہی تھی میں نے لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور کہا بس اب ۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ آگے لا کر لن کو پھدی کے سوراخ پر رکھا اور میری گانڈ پر ہاتھ رکھ کر بولی ہن دھکا لا ۔۔۔
میں نے دل میں سوچا دھکا تا ایسا لگاؤں گا کہ یاد رکھو گی اور اپنی اب تک کی گئی ساری چدائیوں سے بڑھ کر زور سے گھسا لگا دیا لن ٹھا کر کے اس کے اندر جا لگا اس کے منہ سے ہائے اوئے حرام دیا اے کی کیتا ای۔۔۔
میں نے فوراً لن نکال لیا اور بولا کیا ہوا۔۔۔
اس نے کن کو پھر سے پکڑتے ہوئے کہا تیری ماں دا سر ہویا اے انج کری دا اے۔۔۔
میں نے کہا مجھے کیا پتہ بتایا تو ہے کبھی نہیں کیا۔۔۔
اس نے کہا ب ڈالو اس کے آنکھوں میں آنسو تھے جو میں نے دیکھ لیے تھے ۔۔۔
میں بھی اب تک کے اس کے رویے کا پورا بدلا لینے کے موڈ میں تھا۔۔۔
ایک بار پھر لن کو اسی سپیڈ سے گھسا دیا لیکن اس بار اس نے کچھ نہ بولا تو میں نے لن کو باہر نکالا صرف ٹوپی اندر رہنے دی پھر گھسا دیا ۔۔۔۔
دوسری بار گھسانے کے بعد جب پھر نکالنے لگا تو اس نے میری کمر پر ہاتھ رکھ کر مجھے اپنے بھاری بھرکم سینے میں دبا لیا ۔۔۔
اور لیکن میں اب رکنے والا نیں تھا لن کو آزادی سے اس کی پھدی میں گھسانے لگا لیکن اب سپیڈ کم تھی اس نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر کے گرد کس لیں اور ہاتھ میری گردن پر رکھ کر مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔۔۔
میں نیچے سے لگاتار گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
میں نے اپنی طرف سے فل سپیڈ سے گھسے مارنے کی کوشش کی لیکن اس عورت نے مجھے اپنی باہوں کے گھیرے میں لیے رکھا جس سے سپیڈ زیادہ نہ ہو سکی۔۔۔۔
اسی طرح ایک ہی سٹائل میں کوئی 5 منٹ چودائی کے بعد اس نے زور زور سے کہنا شروع کر دیا ہور زور نال آہ آہ اہ انج ای مار آ ہ آہ ایتھے مار آہہہہہہ آہہہ مزہ ا گیا ہاں ہاں اینج ای مار زور زووووررررررر نالللللل مممماااااررررررر ۔۔۔
ایسی آوازیں نکالنے کے ساتھ ساتھ اس نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر خود سے لن کو اپنی کھلی ہوئی پھدی میں لینے لگی۔۔۔۔
پھر یکدم وہ چیخ نما آہہہہہہ کے ساتھ مجھے اپنے ساتھ کستے ہوئے میرے کندھے پر اپنے دانت گاڑتے ہوئے مچلنے لگی۔۔۔۔ اور اس کی پھدی کے سارے مسام ایک ساتھ میرے لن پر اپنی گرفت سخت کرنے لگے میرا لن اس کی پھدی میں پھنس پھنس کر جانے لگا پھر ایک وقت آیا جب اس نے اپنی ساری طاقت صرف کرتے ہوئے مجھے اپنے اوپر کس لیا میری کمر پر اس کی گرفت پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوئی اور اس نے اپنا منہ میرے کندھے سے ہٹا کر میرے ہونٹوں رکھ دیا دیوانہ وار میرے ہونٹ چوسنے لگی ۔۔۔۔
نیچے سے اس نے لن کو پوتا اندر لینے کے لیے گاند اٹھائی اور پھر میرے منہ میں ہہہممممم کرتے ہوئے اس کی پھدی نے اپنے گرم لاوے سے لن کو گرماہٹ دینا شروع کڑ دی۔۔۔۔
لن اس گرم پانی سے نہانے لگا جب کہ وہ عورت ہر جھٹکے کے ساتھ ہمممم کرتی اور مجھے چومنے لگ جاتی ۔۔۔۔
جب فارغ ہو گئی تو مجھے کہا بس ہن تسی جا سکدے او۔۔۔۔
میں بولا ایسے کیسے جا سکتا ہوں ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ۔۔۔
اس نے ناسمجھی سے میری طرف دیکھا میں اس کے اوپر سے اترا اور لن کو ہاتھ میں پکڑا جو کہ اس کی پھدی کے کیس دار پانی سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔
اس کو لن دکھاتے ہوئے کہا اس کا کیا کروں جو ابھی اکڑا ہوا ہے ۔۔۔۔
بڑے غور سے میری طرف دیکھا اور پھر لن کی طرف اور بولی۔۔۔
کی مطلب تو ہالے فارغ نہیں ہویا۔۔۔
میں نےنفی میں سر ہلایا۔۔۔
اس نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہییں ہالے تک نیں ہویا۔۔۔
میں نے کہا ناں۔۔۔
اس نے پھر ٹانگیں کھولیں اور کہا آجا۔۔۔
میں نے کہا ایسے اب تھک گیا ہوں کوئی اور سٹائل بناو۔۔۔
وہ پھر بولی کیڑا سٹال بناواں ایویں ای کر ۔۔۔
میں اس کے قریب گیا اور بولا اپنی پھدی کو کھول لیکن کوڈی ہو جا میں پچھوں تیزی پھری اچ پاواں گا ۔۔۔۔
وہ بولی نہ انج ای کر۔۔۔
میں نے کہا چل ٹھیک اے جے تو تھک گئی تاں میں نیں ہٹنا فیر نہ کہیں ہن بس کر۔۔۔
وہ بولی کی مطلب تو کی کریں گا جہیڑا میں تھک جاں گی۔۔۔
میں نے جوئی جواب نہ دیا ادھر ادھر دیکھا تو خیام کپڑے پہنے کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں میری قمیض بھی تھی شاید وہ تب ہی لے آیا تھا جب میں اس کی پھدی میں لن گھسائے چود رہا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کی ایک ٹانگ اٹھائی اور لن کو اس کی پھدی پر ایڈجسٹ کیا اڈ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی گھسا مارا اور اندر کر دیا۔۔۔
وہ اوئی ماں کرتے ہوئے بوکی تیرے توں ہولی نیں ہوندا کی کھادا ہویا اے تو۔۔۔
میں نے بغیر کچھ بولے ایک بار پھر لن نکالا اور اسی ظرح گھسایا وہ پھر بولی تو تاں کہیندا سی کہ کدی وی پھدی نیں ماری آ سب کی اے ۔۔۔
میں مسکراتے ہوئے بولا ویکھ کے فیر کی اے۔۔۔
اور گھسے شروع کر دئیے اب اس کی ایک ٹانگ میرے کندھے پر تھی جب کہ دوسری سیدھی تھی لن رگڑ کھاتا ہوا اس کی پھدی کے موٹے لبوں کو چیرتا ہوا اندر جا رہا تھا۔۔۔۔
جلد ہی اس نے ہائے ہائے کرنا شروع کر دی آہ اہ آہ آہ آہ ہن نہ رکیں لگیا رہے مزا آ رہیا اے ۔۔۔۔
اہہ اہہہہہہآہہہہ آوو ماں آ نکا جیا بال میری پاڑی جاندا اے امیییی جیییی آہہ میں گئی اس کے ساتھ ہی وہ فارغ ہوگئی لیکن میں رکنے کا نام نیں لے رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے کہا ہن میری لت تھلے رکھ دے سیدھی طرح کر۔۔۔
میں نے کہا ناں اب نیں اب ایسے ہی کروں گا۔۔۔
اب لن اس کی پھدی پچک پچک کی آواز سے جا رہا تھا ۔۔۔۔
اس کے فارغ ہونے کی وجہ سے پھدی بیت گیلی ہو گئی تھی ۔۔۔۔
مجھے فارغ ہونے کے کوئی چانسز نظر نیں آ رہے تھے اب کھل کر چود رہا تھا اس کے ممے اب قمیض میں ہل چل مچا رہے تھے ۔۔۔۔
میری نظر ان پر پڑی اور اس کی ٹانگ کو چھوڑتے ہوئے اس کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں قمیض جے اوپر سے ہی دبانے لگا۔۔۔
اس نے جب میرا موڈ دیکھا تو اپنی قمیض کو نیچے سے اوپر کرنے لگی میں بھی اوپر ہو گیا اس نے اپنی گانڈ اٹھائی قمیض اوپر کی اور ممے ننگے کر لیے۔۔۔۔
اس کے بڑے بڑے ممے کالے رنگ کے برا میں قید آزادی کے کیے تڑپ رہے تھے ۔۔۔
اس کا جسم روئی کے گالوں کی طرح سفید تھا جبکہ اس کا چہرہ جو کہ گندمی تھا اس سے بالکل بھی میچ نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کے مموں پر سے برا اوپر کیا ممے جو کہ برا میں پھنسے ہوئے تھے ایک دم اچھل کر باہر ا گئے ۔۔۔۔
میں نیچے ہو کر مموں پر ٹوٹ پڑا ایک ہاتھ سے گول بڑے بڑے ایک ممے کو پکڑا اور دبانے لگا جبکہ دوسرے پر اپنا منہ رکھ کر دائیں بائیں سے اوپر سے نیچے سے چومنے لگا میں نے نپل چھوڑ کر ہر جگہ سے چوسا نیچے سے لن بھی مسلسل اس کی پھدی کی گہرائی ماپنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
اس کی ایک بار پھر سسکاریاں شروع ہو گئیں اس نے میرا سر اپنے ممے پر دبانا شروع کر دیا ۔۔۔
ساتھ ساتھ اپنی پھدی کو لن پر گول گول گھمانے لگی پتہ نہیں وہ یہ سب کیسے کر رہی تھی لیکن میرا لن پھنس رہا تھا۔۔۔
میں اس طرح گول گول گھمانے سے میں مزے کی انتہا پر پہنچنے لگا وہ بھی آہوں اہوں سے ماحول کو گرمانے لگی ساتھ ساتھ میری پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر میرا جوش بڑھاتی میری بھی اب بس ہو چکی تھی۔۔۔
لیکن لن تھا کہ فارغ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔۔
اس یکدم پھدی میرے لن پر سخت ہونے لگی میری ٹانگوں سے سارا خون لن کی طرف دوڑنے لگا۔۔۔۔
اس کی سسکاریاں اب لا یعنی آوازوں میں بدل گئیں ۔۔۔۔ آہہہہہک آہککک اااہککممممم ہمممم انججججج اااییییی ۔۔۔۔
میں نے اپنے آخری جھٹکے جاندار مارے گھپ چک کی آواز کے ساتھ لن اس کی پھدی میں جاتا ٹٹے اس کے گانڈ کے گوشت سے ٹکراتے۔۔۔۔۔
اس نے بھی اہ آہ اہ کے ساتھ اپنی پھدی کی گرفت ٹائٹ کر لی اور میرے لن پر پانی کی برسات کر دی ۔۔۔۔
میرے لن نے بھی اس کی پھدی کے گرم پانی کے سامنے ہار مانتے ہوئے اپنی اکلوتی آنکھ سے آنسو بہانے کا آغاز کر دیا ۔۔۔۔
جب میرے لن نے اپنے پانی کا آخری قطرہ بھی اس کی پھدی میں ڈال دیا تو میں اس کے اوپر سے سائیڈ پر ہوا۔۔۔۔