گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 22)

ہم ایک دوسرے کے اعضائے تناسل کی گرمی سے اپنے آپ کر سیراب کر رہے تھے کہ اندر کہیں کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی ۔۔

میں کس حالت میں تھا اسی میں رک گیا سانس تک روک لی شانزل کا حال میرے جیسا تھا وہ بھی ساکن ہو چکی تھی ۔

ہم یہ اندزہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے مبادا کوئی اٹھ تو نہیں گیا جب کافی دیر تک کوئی ہلچل نہ ہوئی تو ہماری رکی سانسیں بحال ہوئیں ہمارے جسم اپنی اپنی گرمی ایکدوسرے کے اندر نکال چکے تھے اس لیے الگ ہو کر لیٹ گئے اور لمبی لمبی سانس لینے لگے ۔

میں نے اس سے پوچھا تم نے جھوٹ کیوں بولا کہ تمہیں ڈیٹ آئی ہوئی ہے۔

اس نے اک ادا سے آنکھوں کو گول گول گھماتے ہوئے کہا تم پھر کون سا باز آ گئے جب سب کچھ کر ہی لیا تو اب کیا فائدہ پوچھنے کا۔۔

میں نے کہا یہ بھی ٹھیک ہے اب کیا فائدہ چلو چھوڑو یہ بتاؤ کیسا لگا مزہ بھی آیا کہ نہیں۔

وہ بولی میری جان نکال دی تم نے اب بھی جلن کو رہی ہے اس کے ساتھ ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور سئیی کی آواز کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ ٹانگوں کے بیچ رکھا اور آنکھیں بند کر کے سانس روک کر ہونٹ بھینچ لیے۔

کچھ دیر بعد اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے بال ٹھیک کرنے لگی اس لمبی بال جب کمر پر لہرائے تو مجھے پھر سے وہی جاں لیوا حسن کی مورت یاد آگئی جو کل سے حواس پر سوار تھیں اس کے لہراتے بال مجھے گاؤں کے رستے پر لے گئے میں منہ کھولے کھلی انکھوں سے سارہ منظر ریپیٹ ٹیلی کاسٹ رہا تھا ۔۔

پتہ نہیں ایک دن میں میں کیا سے کیا ہو گیا تھا کہاں صرف پھدی کی طلب اور کہاں حسین صورت کے دیدار کی مچلتی خواہش میرا دل بے اختیار کو رہا تھا میں اٹھا ان لہراتے بالوں پر اپنی ناک رکھ کر خوشبو کو اپنے نتھنوں سے کھینچنے لگا جیسےکوئی نشئی نشہ کررہا ہو اپنے ہاتھوں کی انگلیاں بڑے پیار سے ان میں پھیرنے لگا گردن سے بال ہٹائے چمکدار آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا منظر خوبصورت گردن بے قابو ہو کر چوم لیا۔۔

میں نےگردن پر ہونٹ رکھے اور کمر پر ہاتھ

اپنا اگلا دھڑ اس کے پچھلے حصے سے لگایا بس کھویا سا سحر زدہ ہو کر آگے بڑھ رہا تھا کوئی شہوت نہیں تھی بس ایک تشنگی تھی جو بڑھتی جا رہی تھی۔

اچا نک سب کچھ بدل گیا مجھ سے وہ سب دور ہو گیا میں جو کسی کے حسن سے مرعوب ہو کر ایک نئے جہان سے روشناس ہو رہا تھا ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں سب سے محروم ہو گیا۔

مجھے اپنے کانوں میں ایک آواز سنائی دی بلو بس کر اب جا مجھے یہ آواز دور کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔

اپنے کندھوں پر نرم نرم لمس کا احساس ہوا اپنے چہرے پر پھرتی انگلیاں محسوس ہوئیں۔ میرا سانس رکنے لگا میرا جسم نیم جان سا ہو گیا۔

سارا حسین منظر سرور کی چاشنی سب کچھ غائب ہو گیا میں ہوش کی دنیا میں آ گیا میں نے دیکھا کہ شانزل نے میری ناک پکڑ رکھی ہے اور ہنس رہی ہے آہ اس کی مسکراہٹ کھلتے گلاب کے سے اس کے ممے ہنسنے سے ان میں بھونچال آیا ہوا تھا اچھل اچھل کر دائیں بائیں اوپر نیچے ہو رہے تھے

میں غائب دماغ تھا ورنہ اس خوبصورت پل کا بھرپور فائدہ اٹھاتا اس نے ہنستے ہوئے کہا کہاں کھو گئے تھے میں نے تمہیں کتنی آوازیں دیں ۔

دماغ جاگ چکا تھا اس لیے بولا

تیرے حسن کے جلوؤں کی کیا بات ہے میری جان میری روح کی غذا تمہارے حسن کی گرمی نے مجھے ہوش سے بیگانہ کر دیا تھا ورنہ میں تو یہاں ہی تھا۔

شرماتے ہوئے بولی چل جھوٹا اب اتنی بھی خوبصورت نہیں ہوں۔

میں سمجھ گیا کہ وہ اپنی تعریف سننا چاہتی ہے کیوںکہ جب کوئی لڑکی یہ کہے کہ وہ اتنی خوبصورت نہیں ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کو تعریف کروانے کا بہت شوق ہے۔

میں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا میرے دل میں جھانک کر دیکھو تمہاری تصویر کتنی خوبصورت ہے تمہارے ایک ایک انگ کی ہر زاوے سے تصویر جہاں چھپی ہے۔

تم کو دیکھ کر مجھ زندگی کا حساس ہوتا ہے خاص طور پر تمہارا تل یہ تو میری جان لے لے گا کسی دن تم ہر لحاظ سے حسن می ملکہ ہو۔

وہ شرماتی جا رہی تھی میں بولتا جا رہا تھا الفاظ اس کے لیے تھے لیکن ا نکھوں میں چہرہ کوئی اور تھا تعریف اس کی تھی کر شانزل کے سامنے رہا تھا اور یہ سمجھ رہی تھی کہ میں اس کی تعریف کر رہ ہوں ۔

یہ سچ ہے کہ شانزل بیت خوبصورت تھی لیکن پتہ نہیں اس گاؤں کی الہڑ مٹیار کی آواز اس کی چال اسکا بات کرنے کا انداز اس کے لہجے کی بے خوفی مجھے بہت بھائی تھی۔

اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک حسین جوان لڑکی برہنہ حالت میں میرے سامنے کھڑی تھی ابھی کچھ دیر پہلے تک وہ بلکل کنواری تھی اس کا پردہ بکارت میں پھاڑا اس کے جسم کی گرمی اس کی چوت کی گرمی سے کھیلا اس کی چوت میں اپنا مادہ منویہ ڈالا ابھی بھی اس کے جسم می خوشبو میرے جسم میں رچی ہوئی تھی ۔

اس سب کے باوجود میں کسی اور کے خیالوں میں کھویا تھا تو اس کے حسن کا عالم کیا ہوگا۔

میں ابھی اور تعریف کرنے کے موڈ میں تھا لیکن اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولی بس بس بس میں سمجھ گئی میں ملکئہ حسن ہوں دنیا کی سب سے حسین لڑکی ہوں میرا جسم مخروطی ہے اوکے اب بس کرو اتنی لمبی لمبی نہ چھوڑو مجھے پتہ ہے میں کیسی دکھتی ہوں۔

پتہ نہیں میں نے کتنی تعریف کر دی تھی کیا کچھ بول دیا تھا جو وہ ایسے بول رہی تھی وہ میری گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی اور بولی بلو ایک بات پوچھوں سچ سچ بتانا۔

میں نے کہا ہوں پوچھو۔۔

بولی تم مجھ سے سچ میں اتنا پیار کرتے ہو۔

میں نے کہا تمہیں کیالگتا ہے میں جھوٹ بولتا ہوں تمہاری تعریف جھوٹی کر رہا ہوں۔

بولی نہیں نا تم سمجھ نہیں رہے۔

میں نے کہا سچ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں تم میری جان ہو ۔۔

تم پہ مرنے لگے ہیں ہم

پیار کرنے لگے ہیں ہم

اس نے میرے ہونٹ چوم لیے اور بولی آئی لو یو آئی لو یووووووو ویری مچ۔

میری نظر سائڈ پر رکھے کلاک پر پڑی تو 2 بج رہے تھے میں نے کہا شانی ٹائم بہت ہو گیا ہے مجھے جانا چاہیے ۔

وہ نروٹھے پن سے بولی نہیں اور اپنی بانہیں میری گردن میں کر لیں اور میرے سر پر ٹھوڑی رکھ لی۔

میں نے نہیں جانے دینا ابھی تو ائے ہو ابھی تو میں تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں اور تم جا نے کی بات کر رہے ہو۔

میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا میری جان میں کہیں بھاگا نہیں جا رہا بس اپنے گھر جا رہا ہوں تاکہ کل پھر مل سکیں وہ خوش ہوتے ہوئے بولی پکہ کل بھی آو گے۔

میں کہا پکہ ضرور آوں گا اس نے میرا منہ اپنے مموں میں دبا لیا اور سر کو چومنے لگی۔ پھر گود سے اٹھی تو میں نے دیکھا کہ میری ٹانگوں پر خون لگا تھا جو اس کی گانڈ پر بھی چمک رہا تھا۔

بیڈ پر نظر ڈالی تو وہاں بھی خون تھا میں میں نے اثھ کر اپنی شلوار اٹھائی اور پہنتے ہوئے بولا شانی یہ چادر صاف کر لینا اس نے چادر کی طرف دیکھا اور پھر اپنی چوت کی طرف اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی آآاآا یہ کیا ہو گیا اور پریشان ہو کر اپنی چوت کو کھول کر دیکھنے لگ گئی۔

میں بڑی مشکل سے اس کو سمجھایا کہ یہ سب پہلی بار کرنے سے ہوتا ہے لیکن وہ پھر بھی ناراض ہو گئی۔ اور مجھے کہنے لگی آج کے بعد اپنی شکل نہ دکھانا۔۔۔

میں کافی کوشش کی اس کو منانے لیکن اس نے ایک نہ سنی۔۔

میں بھی غصے سے پھوں پھوں کرتا اٹھا اور اس کی بیٹھک سے نکل کر اپنی بیٹھک

میں آ گیا ۔

دوبارہ سے سارے واقعات جو گزشتہ 10 گھنٹوں سے میرے ساتھ پیش آ رہے تھے ان پر غور کرتے کرتے نیند کی وادیوں میں اترتا چلا گیا۔۔۔۔

صبح اٹھا ضروریات سے فارغ ہو کر واک کرنے چلا گیا دوستو یہ میری زندگی کا ایک لازمی حصہ تھا جب تک ہم اس ٹاؤن میں رہے نہر کنارے روز واک کرنے جاتا تھا اور صبح صبح ٹاؤن خوبصورت آنٹیوں کو تاڑ کر ٹھرک جھاڑتا تھا۔۔۔۔۔

ٹاؤن کے دو طرف ایک چھوٹی نہر جس کو راجباہ کہا جاتا ہے گول گھومتے کو بہتی تھی بلکہ ابھی بھی ہے جبکہ تیسری طرف سرکاری نرسری تھی جو چھوٹے جنگل کی شکل اختیار کر چکی تھی کافی گھنے درخت تھے جن میں سنبل اور سفیدہ کے درخت بہت زیادہ تھے۔۔۔

اس کے علاوہ پھول پھول دار پودوں کی بھی بہتات تھی۔۔۔ اس کے ساتھ ایک کوارٹر تھا جہاں ایک درجہ چہارم کا ملازم اپنی فیملی کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔ اس کی بیوی نے ٹاون میں تندور لگایا ہوا تھا۔ جہاں سارے ٹاؤن کی روٹیاں لگتی تھیں۔۔

نرسری کے ساتھ ہی بڑی نہر بہتی تھی جس کے کنارے میں اکثر جوگنگ بھی کیا کرتا تھا لیکن زیادہ تر میں بس واک ہی کرتا تھا یا تھوڑی بہت ورزش کر لیتا تھا ۔

واک یا ورزش تو ایک بہانہ ہوتا تھا میں ہمیشہ کسی نہ کسی آنٹی یا ان کے ساتھ آنےوالی لڑکیوں کو جن میں اکثر ملازمہ ہوتی تھیں تکا کرتا تھا۔۔۔

نرسری میں ایک ایسی جگہ تھی جہاں بانس کا جھنڈ تھا اس کے نیچے ایک کھائی سی بنی ہوئی تھی جس کو ہم ٹویا بھی کہتے تھے وہ بالکل اس جھنڈ کے نیچے تھی وہ عام طور پر باہر سے نظر نہیں آتی تھی ۔۔۔

میں کافی دن پہلے تندور والی آنٹی کی بڑی بیٹی پر ٹرائی کر رہا تھا جب وہ آتی تو میں گزر چکا ہوتا یا کوئی نہ کوئی گلی میں ہوتا۔۔

اس دن جب میں اس کے دروازے کے پاس سے گزرا تو وہ مجھے دروازے میں نظر آئی میں اس کی طرف دیکھ کر سمائل پاس کی اس نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا ۔۔ میں نے اچھا ریسپانس دیکھ کر اس کو نرسری میں آنے کا اشارہ کیا ۔۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا اور میں آگے چل دیا کوارٹر کیوں کہ بالکل نہر کے ساتھ تھا اور سارے ٹاؤن کے سیوریج کے نظام کا مرکز بھی تھا اس کی پچھلی طرف تو میں اس طرف نکل گیا اور اس کا انتظار کرنے لگا۔۔

میں عمر کے اس حصے میں تھا جہاں اگر پھدی کی لت لگ جائے تو نہ کوئی عمر دیکھی جاتی ہے اور نہ رنگ و صورت میری بھی ایسی ہی حالت تھی۔

دائی کی وہ لڑکی جس کا میں نام بھی نہیں جانتا تھا سانولے رنگ کی تھی۔ اس کی خوبصورتی کی واحد چیز اس کا بھرا بھرا جسم تھا باہر کو نکلے ہوئے کولہے سینے پر بڑے بڑے ممے مچان کی صورت نواب بنے کھڑے رہتے تھے جو اکثر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ہنر جانتے تھے۔۔

میں بھی اس کے ان مموں پر شیدا تھا ۔

ایسا جان لیوا فگر تھا کہ اس کی رنگت بے وقعت لگتی تھی۔۔

اس کو دیکھ کر لن انگڑائیاں لینے لگ جاتا تھا۔۔ کبھی اس کے چہرے پر غور نہیں کیا تھا بس اس کے فگر پر ہی ٹلی ہو گیا تھا۔۔

وہ اپنے دوپٹے کا پلو اپنی انگلی میں گھماتے ہوئے گانڈ مٹکاتے اچھلتی کودتی آ رہی تھی اس کو دیکھ کر اس کے اچھلتے ممے دیکھ کر میرا لن جینز کی پینٹ میں پھٹنے والا ہو گیا تھا ۔۔

اب آپ لوگ سوچو گے کہ کون بیوقوف واک کرنے جینز پہن کر جاتا ہے تو جناب یہ کام میں کیا کرتا تھا کیوں کہ واک کا تو ایک بہانہ ہوتا تھا۔۔ ویسے بھی ہم پینڈو ہر جگہ اپنا پینڈو ہونا ثابت کر کے ہی دم لیتے ہیں۔۔

وہ میرے پاس آگئی میں اس کے سینے میں آتم مچاتے مموں میں کھویا ہوا تھا اس نے ہاتھ لہرا کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا تو میں بولا کدرے ہور چلیے ۔

اس نے کہا آجا میرے پچھے پچھے۔۔۔۔

میں اس کے پیچھے چل پڑا وہ چلتی چلتی اسی جگہ جا پہنچی جس کا میں اوپر ذکر کیا تھا کہ بانس کا جھنڈ تھا۔۔

اس نے اوپر سے کچھ بانس ہٹائے اور اس کے نیچے اتر کر مجھے بھی بلایا میں بھی اتر گیا جگہ صاف تھی نیچے گھاس پھوس بچھائی گئی تھی جیسے اکثر کوئی وہاں آ کر آرام کرتا ہو۔۔

میں نیچے اتر کر اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔۔ اپنا ایک اس کے کندھے پر رکھا اور بولا کیا حال ہے ۔۔

وہ بولی ٹھیک آں تو آودے سنا بڑی اگ لگی اے تینوں روز ای آ جانا اے پچھے ۔۔ میں وی سوچیا اج خوش کر دیواں تینوں کجھ کرنا وی آندا اے یا بس ۔۔۔

وہ مجھے بھی شہری بابو سمجھ رہی تھی جیسے میں کوئی برگر ٹائپ ممی ڈیڈی بچہ ہوں کیوں کہ میری ڈریسنگ ویسی ہی ہوتی تھی ۔۔

میں کہا ایک بار آزما کر دیکھو پتہ چل جائے گا ۔

وہ بولی چل آ جا فیر ہو جا شروع۔۔۔ وہ یہ کہہ کر لیٹ گئی اور اپنی شلوار نیچے کر لی۔۔

میں تو ابھی اس کے مموں سے کھیلنا چاہتا تھا لیکن اس نے تو سیدھا ہی شلوار اتار دی یہ بھی ایک اچنبھے کی بات تھی۔۔۔

میں نے سوچا کوئی بات نہیں ایسے تو ایسے کی صحیح مارنی تو پھدی ہی ہے ۔۔۔

اپنی پینٹ کی زپ کھولی مزے کی بات میں انڈر وئیر بہت کم پہنتا تھا۔۔۔

اس لیے زپ کھول کر پینٹ کو تھوڑا سا نیچے کیا اور لن نکال لیا۔۔

اس کی ٹانگوں میں آگیا اس کی پھدی میں انگلی ڈال کر گرمی چیک کی تو ایک دم کرنٹ لگا مجھے شک گزرا کہ کہیں میں گرم چائے کی کیتلی میں تو ہاتھ نہیں ڈال دیا اتنی گرم پھدی اس کی جیسی اس نے اپنی پھدی میں اپنی ماں کا تندور فٹ کروا رکھا ہو۔۔

اس نے کہا چھیتی کر اماں دکان تے گئی اے میں اوہدے آن تو پہلے گھر جانا اے آودا لن پا بس۔۔

لگتا تھا سالی بہت ترسی ہوئی تھی لن کے لیے۔۔ میں نے بھی وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا لن اس کی ٹانگیں اٹھائیں اپنے کندھے پر رکھیں لن کو اس کی پھدی کے لبوں میں پھنسایااور خود اس کی ٹانگوں کو دباتے ہوئے اس کے اوپر آگیا۔۔۔

اس کی ٹانگیں میرے قابو میں تھیں اور لن پھدی میں جانے کے لئے تیار تھا۔۔

میں اپنے ہاتھ اس کے بازوؤں کے نیچے سے گزار کر اس کے کندھوں کو پکڑا اور ایک ہلکا سا گھسا مارا لن کی ٹوپی اندر اتر گئی۔۔ اس ہلکی سی سئی کی لیکن لن کی ٹوپی پر اس کی پھدی کی پکڑ سخت ہو گئی تھی اور اس کی پھدی کی گرمی نے اور بھی مزا دیا دہکتا انگارہ بنی اس کی پھدی میں لن کی ٹوپی بھی روسٹ ہو رہی تھی ایک سرور سا اندر اترنے لگا۔۔۔

میں اس وقت کو یاد کرنے لگا جب ایک دوست سے سنا تھا کہ کالی عورت بہت ٹھنڈی ہوتی ہے بندے کی ساری گرمی نکال دیتی ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا اس کی پھدی کی گرمی میرے دماغ تک کو گرما رہی تھی۔۔

میں کچھ دیر رک کر ایک کاندار گھسا مارا لن آدھے سے زیادہ اندر گھس گیا اس آہ کی اور اپنے ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن میں اس کو پہلے ہی اپنے بس میں کر چکا تھا۔۔

اس لیے اس کی کوشش ناکام گئی میں اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی لن کو پیچھے کھینچا اور پھر ایک دھکا مارا لن جڑ تک اس کی پھدی میں اتر گیا۔۔۔۔

اسنے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر پنا منہ بند کر لیا ۔۔ اس کی آنکھوں میں مجھے واضح درد محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

لیکن میری حالت بھی عجیب تھی اس کی پھدی مجھے گرما رہی تھی لن سے اگ نکلنے لگی تھی کم از مجھے یہ ہی محسوس ہو رہا تھا جیسے میرا لن جل رہا ہو۔۔۔

مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی کے ابھی میں فارغ ہو جاؤں گا۔۔

اسی لیے میں نے کچھ وقت لینے کے لیے سانس روکنے کی ترکیب آزمائی جو میں نے کچھ دن پہلے ہی ایک کاما سوترا نامی کتابچے میں پڑھی تھی۔۔۔

مجھے اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوا۔۔ میں نے کچھ دیر بعد جب اس نے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا تو ہلکے ہلکے گھسے مارنے شروع کر دیے ۔۔

ساتھ ہی اس کے مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگا اس کی سئ سئی کی اواز بھی آنے لگی۔۔

میں نے جب دیکھا کہ وہ اب مزہ لینے لگی ہے تو ایک ہاتھ سے اس کی قمیض کو پکڑ کر اوپر کرنے لگا ساتھ ساتھ نیچے سے گھے بھی مارتا رہا اس نے بھی قمیض کو اپر کرنے میں مدد کی۔۔

جب اس کی قمیض مموں سے اوپر ہو گئی تو میرے لیے حیرانی می بات تھی کہ اس نے برا نہیں پہنی تھی جبکہ میں اس کے مموں کی سختی کو دیکھ کر یہ ہی سمجھ رہا تھا کہ اس نے برا پہنی ہوئی ہے۔۔ ایسے ٹائیٹ ممے کہ بغیر بریزئیر کے بھی اکڑرے ہو ئے تھے۔۔ میرے لیے تو پہلی بار تھا۔۔۔

میں اپنا منہ ان پر رکھ دیا اور لگا چوسنے ساتھ ساتھ نیچے سے ٹھکائی جاری رکھی۔۔

لن کو زور سے اندر کرتا اور پھر اتنا باہر نکالتا کہ ٹوپی سے تھوڑا زیادہ اندر رہ جاتا پھر زور سے گھسا مارتا۔۔ اس کا پورا جسم ہلتا ۔۔

جب میں مموں کو چوسنا شروع کیا تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر میرا منہ مموں میں دبا لیا اور سسکاریاں بھرنے لگی آہہہ آہہ آہ اااآہآہہہ کرنے لگی ساتھ ہی اس کی گرفت بھی سخت ہونے لگی میرا لن بھی اس کی پھدی کی جکڑ میں آنے لگا۔۔

اس کی پھدی کی دیواریں میرے لن پر اتنی سخت ہو گئیں کہ لن کا باہر نکلنا مشکل ہو گیا اب لن بھی اپنی انتہا کو پہنچ رہا تھا میرے ساتھ پہلی دفعہ ایسا تھا کہ میں پھدی کی گرمی برداشت نہیں کر پارہا تھا ۔۔۔

بڑی مشکل سے خود کو سنبھال رہا تھا لیکن مجھے کامیابی ملتی نظر نہیں آ رہی تھی۔۔

اس کی پھدی یکدم پھولی اس کے بازو میری گردن کر سخت ہوئے اس نے گاند کو اٹھایا اور ایک جھٹکا اور ااااوووووووںنن کی آواز کے ساتھ میرے لن پر گرم گرم لاوا پھینک دیا میرا لن تو جل کر رکھ ہو گیا اس نے پھدی کی گرمی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنا فوارا چلا دیا اور پھدی کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔

اسی کوشش میں اپنا سارا مادہ اس کے اندر ہی انڈیل دیا خود پر کنٹرول کرنے کے چکر میں مجھے کافی سانس چڑھ گیا تھا میرا سانس پھول گیا تھا۔۔۔

جب وہ جھٹکے کھاتے کھاتے فارغ ہو گئی اور میرا لن اپنا سارا پانی اس کی پھدی میں بھر چکا تو اس نے مجھے پیچھے ہونے کو کہا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی شلوار پہنتے ہوئے بولی واہ تو تاں کمال ایں تیرے بیلی تاں بس ویلے نیں ۔

مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا کہ یہ میرے دوستوں سے بھی چدوا چکی ہے۔۔

میں پوچھنا چاہا لیکن پھر کچھ سوچ کر چپ ہوگیا ۔۔ تو وہ بولی اچھا میں جانی آں تو ہن نہر نہر تے جاییں یا نرسری دے اندر چلدا ہویا اگے نکل جائیں نیں تا میری ماں نوں شک ہو جانا ۔۔۔

میں نے اچھا کہتے ہوئے سر ہلایا تو اسی طرح اوپر چڑھ کر وہاں اے نکل گئی میں بھی کچھ دیر بعد وہاں سے نکلا اور گھوم کر گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔





Source link

Leave a Comment