میں شرمندہ سا ہو کر واپس کمرے میں آیا چھوٹی کے منہ میں دودھ کا فیڈر ڈالا ۔۔۔
ٹی وی پر چینل بدلنے لگا چاچا لوگوں نے کیبل کا کنکشن لیا ہوا تھا اس لیے کافی چینل آتے تھے ۔۔۔
ان میں فلموں والے چینل بھی کافی تھے میں ایسے ہی چینل گھماتے گھماتے ایک جگہ ایک اچھی فلم لگی تھی کم از کم مجھے ایسا لگا وہ فلم دیکھنے لگا۔۔۔
فلم کافی رومانٹک تھی اس کے ساتھ اس میں ایکشن بھی تھا میں فلم دیکھنے میں محو نہ ہو سکا بار بار جب بھی کوئی لڑکی سین میں آتی تو میرے دماغ میں فرح باجی کے ممے آ جاتے۔۔۔
کوئی دس منٹ بعد فرح باجی کمرے میں آئیں انہوں نے دوپٹہ ایک کندھے پر لٹکایا ہوا تھا آ کر پنکھے کے نیچے کھڑی ہو گئیں۔۔۔
قمیض کے کے گلے کو اٹھا کر کھول کر اپنے مموں کو ہوا دینے لگیں میں قمیض کے اندر چھپے ان مموں کو تصور میں دیکھنے لگا۔۔۔
میری نظریں پھر ان گداز سینے کا طواف کرنے لگیں وہ میری طرف دیکھ کر بھی ان دیکھا کر رہی تھیں۔۔۔
جب ان کا پسینہ خشک ہو گیا تو انہوں نے اپنا دوپٹہ مموں پر اس طرح سے کیا کہ ایک مما اوپر سے دوسرا نیچے سے قمیض کے اندر سے نظر آ رہا تھا۔۔۔
مجھے اب پتہ چلا کہ فرحی باجی نے قمیض کافی پتلی پہنی ہوئی تھی کیونکہ مجھے ممے صاف نظر آ رہے تھے۔۔۔
ایک تو پسینے کی وجہ سے کافی بھیگے ہوئے تھے دوسرا قمیض پتلی مزے کی بات فرحی باجی کو پتہ تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں پھر بھی وہ انجان بن رہی تھی۔۔۔
میں چینل بدلنا بھول گیا تھا فلم میں کافی سیکسی سین چل رہا تھا فرح باجی نے ٹی سکرین پر دیکھا پھر مجھے دیکھا پھر ٹی وی پر دیکھنے لگی۔۔۔
میں نے نے جب ٹی وی کی طرف دیکھا تو سین دیکھ کر شرمندہ ہو گیا ۔۔۔
میں جس نظر سے بھی فرحی باجی کو دیکھ رہا تھا لیکن ابھی ہمارے درمیان ایسا تعلق نہیں بنا تھا کہ ہم مل بیٹھ کر ایسا سین دیکھتے۔۔۔
میں نے جلدی سے چینل بدل دیا دوسرے چینل پر ایک انگلش فلم چل رہی تھی وہاں اس سے بھی سیکسی سین تھا۔۔۔
میں نے کافی سارے چینل آگے گھما دئیے تو ٹین سپورٹ آگیا وہاں ریسلنگ لگی تھی میں وہ دیکھنے لگا۔۔۔
میں نے فرح باجی کی طرف دیکھا تو وہ ہلکا ہلکا مسکرا رہی تھی اس نے کہا میں بستر نکال کر لاتی ہوں ۔۔۔
میں نے ٹھیک ہے وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی جہاں کافی سارے بستر اوپر نیچے جوڑ کر رکھے ہوئے تھے ۔۔۔
اس کمرے میں پیٹیاں تھیں اور ان کے اوپر چھوٹے صندوق تھے پھر اوپر بستر تھے وہ وہاں بستر اٹھانے گئی۔۔۔
میں ریسلنگ دیکھنے لگا مجھے ریسلنگ کا اتنا شوق نہیں تھا لیکن بس اگر اب لگ گیا تھا تو دیکھنا تو تھا ہی۔۔۔
ابھی ایک منٹ ہی گزرا تھا کہ مجھے فرحی باجی کی آواز آئی بلو ۔۔۔
میں جلدی سے اس کمرے میں گیا تو دیکھا کہ فرح باجی نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر کیا ہوا تھا کہ اور ایک صندوق کو اوپر دھکیل رہی تھی۔۔۔
مجھے کہا بلو میری مدد کرو یہ نیچے گر رہا ہے اوپر سے بستر اتارنے لگی تو یہ نیچے آگیا۔۔۔
میں فرحی کے ساتھ کھڑا ہو کر اس کو دھکیلنے لگا لیکن زور نہیں لگ رہا تھا فرحی باجی ایک چھوٹے سٹول پر کھڑی تھی۔۔۔
ان کے بازو کے ساتھ میرے بازو لگ رہے تھے جب اس طرح سے مشکل ہوئی تو میں فرح باجی کے پیچھے آگیا اور صندوق کو اوپر کرنے لگا۔۔۔
صندوق تو آسانی سے اوپر جا رہا تھا لیکن میرے شیطانی دماغ میں کچھ اور چل رہا تھا۔۔۔
ایک بار جب میرے ساتھ فرحی باجی کی گانڈ ٹچ ہوئی تو لن صاحب نے اپنی سر اٹھانا شروع کر دیا ۔۔
ایک سیکنڈ میں ہی فل اکڑ کر کھڑا ہو گیا جب میں نے فرحی کے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اپنے ہاتھ رکھ کر صندوق کو دھکا دیا ۔۔۔
دھکا تو صندوق کو دیا لیکن نیچے سے لن کو بھی گانڈ سے لگا دیا لن گانڈ کی نرماہٹ کو پا کر سرشار ہو گیا۔۔۔
اب صورتحال یہ تھی کہ میں صندوق سے زیادہ گانڈ پر نظر رکھے ہوئے تھا میرا لن فرحی باجی کی گانڈ سے چھو رہا تھا۔۔۔
جب فرح باجی نے کوئی ہلچل نہ کی تو میں تھوڑا اور آگے ہوا اب لن فرحی باجی کے گانڈ میں نیچے کی طرف پھنس گیا۔۔۔
گانڈ کے نیچے لمبا ہو گیا تھامیں صندوق کو زور سے دھکا دیا اور اسی طرح میرا لن بھی زور سے فرحی باجی کی ٹانگوں میں گھس گیا۔۔۔
صندوق تو اوپر ہو گیا لیکن لن قمیض کو اندر دھیکیلتے ہوئے گانڈ کے نیچے سے آگے والی سائیڈ پر پھدی پر جا کر رگڑ کھانے لگا۔۔۔
میں واضح محسوس کیا کہ فرح باجی کا جسم کانپ گیا تھا اس کے منہ سے اممم کی آواز بھی نکلی۔۔۔
رگڑ شاید زیادہ لگ گئی تھی اس لیے فرح باجی چپ تھی کوئی حرکت نہیں کر رہی تھی۔۔۔
میں بھی رک گیا تھا ہم ایک ہی پوزیشن میں کچھ دیر رکے رہے فرح باجی نے ہلکی سی گانڈ ہلا کر لن سے دور کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
میں وہیں رکا رہا اب اتنا لمبا لن ہلکا سے آگے ہونے سے تو نکل نہیں سکتا تھا فرحی باجی کی کوشش بیکار گئی۔۔۔
اس کی گہرائی میں ڈوبی ہوئی آواز آئی بلو بستر ۔۔۔ پکڑو ۔۔۔یہ۔۔۔ لو۔۔۔
میں لن کی مستی میں مست تھا مجھے اس آواز کی سمجھ دیر سے آئی ۔۔۔
میں اوپر دیکھا تو فرحی باجی نے بستر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا لیکن اٹھایا نہیں تھا۔۔۔
میں نے غیر محسوس انداز میں لن کو رگڑتے ہوئے پیچھے کھینچنا شروع کیا تو فرحی نے اپنی ٹانگیں آپس میں جوڑ لیں۔۔۔
جس سے لن کافی رگڑ کھاتے ہوئے پیچھے ہوا میرا دل نہیں کر رہا تھا کہ پیچھے ہٹوں لیکن ڈر بھی رہا تھا ۔۔۔
میں نے لن کو پیچھے ہٹایا اپنے ہاتھ صندوق سے اٹھائے اور پیچھے ہونے سے پہلے جان بوجھ کر اپنا دایاں ہاتھ فرحی باجی کے بازو پر پھیرا ۔۔۔۔
کندھے پر ہلکا سا دباؤ ڈالا اور پیچھے ہو گیا میں نے فرحی باجی کی گانڈ کر نظر ڈالی تو اس میں قمیض اندر پھنسی ہوئی تھی۔۔۔
جہاں لن تھا وہاں سے قمیض اس کی گانڈ سے نیچے ٹانگوں میں تھی گانڈ کافی ابھری ہوئی تھی دونوں پھاڑیاں الگ الگ ہو کر لن گھسانے کی دعوت دے رہی تھیں۔۔۔
اسی وقت سٹول ہلا فرحی باجی کی آہ کی آواز آئی وہ پیچھے گری میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر دوسرا پیٹ پر رکھ کر سہارا دیا۔۔۔
وہ گرنے سے تو بچ گئی لیکن اس کی سانس اکھڑ گئی تھی میرا ہاتھ جو پیٹ پر فرحی باجی کے نیچے پھسلنے کہ وجہ سے مموں کے قریب ہو گیا تھا۔۔۔
میرے ہاتھ کی وجہ سے ممے بھی اوپر کو اٹھ گیے تھے اس کا سر میرے کندھے پر آگیا میں دوسرا ہاتھ آگے کیا اور فرحی باجی کے پیٹ پر رکھ دیا۔۔۔۔
فرح باجی کی گرم گرم سانس میرے کان کے قریب مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کر دباؤ ڈالا اور اس کو اٹھانے لگا۔۔۔
اٹھانے کی لیے زور لگایا تو میرا اوپر والا ہاتھ مموں پر چلا گیا نیچے والا ہاتھ پیٹ لر ہی تھا۔۔۔
فرحی کی کمر اپنے پیٹ سے لگائے میں نے اس کو اٹھایا اور صندوق سے نیچے اتار دیا۔۔۔
میں اس کو چھوڑا تو وہ گرتے ہوئے میرھ ساتھ چپک گئی اس کی سانس کافی اکھڑ چکی تھی ۔۔۔
فرحی باجی کا سر میرے سینے پر تھا اس کے ہاتھ میرے ارد گرد مجھے قابو کیے ہوئے تھے۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھ اس کی کمر پر رکھ کر تھپکی دی وہ اور مجھے سے چپک گئی ۔۔۔
فرحی کے بڑے بڑے ممے میرے پیٹ کے اوپر والے حصے میں چبھنے لگے۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی کھڑے رہے پھر فرحی باجی بولی بستر اتار دو میں بستر اتارے اور ہم واپس کمرے میں آگئے۔۔۔۔
کمرے میں آ کر وہ چھوٹی کے ساتھ چارپائی میں لیٹ گئی میں الگ چارپائی پر لیٹ گیا ۔۔۔
نیند مجھ سے کوسوں دور تھی میں خیالوں میں کھویا تھا فرحی کے جسم کی گرمی مجھے سونے نہیں دے رہی تھی۔۔۔
لن فل اکڑے مجھے فرح باجی پر چڑھ دوڑنے کے لیے اکسا رہا تھا میں لن کی وجہ سے اوازا تھا۔۔۔
فرحی بھی کروٹیں بدل رہی تھی رات کے گیارہ بجے کے قریب فون کی گھنٹی بجی فرحی ہڑا بڑا کر اٹھی ۔۔
اس نے فون کان سے لگایا اور ہیلو کہہ کر سننے لگی پھر کہا چلو کوئی نیں امی بلو کو چھوڑ گئی تھی وہ ہے میرے پاس۔۔۔
ہاں وہ سو گئی ہے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ اچھا میں کہہ دوں گی۔۔۔
اس نے فون رکھ دیا میں اس کی طرف کی دیکھ رہا تھا وہ چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولی ابو کا فون تھا وہ کہہ رہے تھے کہ وہ وہاں سے سیدھے فوتگی پر چلے گئیے تھے۔۔۔۔
میں نے کہا اچھا ۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ اچھا تم ابھی تک سوئے نہیں ۔۔۔
میں۔۔۔ مجھے نیند نہیں آ رہی ۔۔۔۔
فرحی ۔۔۔ مجھے بھی نیند نہیں آ رہی۔۔۔ ویسے نیند کیوں نہیں آ رہی۔۔۔
میں ۔۔۔ ایسے ہی نئی جگہ پر نیند مشکل سے آتی ہے۔۔۔ تمہیں کیوں نہیں آ رہی۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔۔ بس ایسے ہی اکیلے ہیں ناں ہم دونوں تو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
میں۔ ۔۔ لوجی اس میں ڈرنے والی کونسی بات ہے آپ بھی بس بالکل ہی ڈرپوک نکلی۔۔۔
فرحی باجی چارپائی پر پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئی تھی اپنے پاؤں ہلاتے ہوئے ناخن کھانے لگی میں نے اس کے چہرے پر دیکھا کافی الجھن کا شکار تھی۔۔۔
میں بھی ڈرتے ہوئے نہیں پوچھ رہا تھا کہیں وہ مجھے کچھ برا بھلا ہی نہ کہہ دے۔۔۔
فرح باجی۔۔۔ بلو ایسا کرو اپنی چارپائی یہاں لے آؤ ہماری چارپائی کے ساتھ۔۔۔
میں۔۔۔ ہنستے ہوئے سچ میں ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ تمہیں مذاق لگ رہا ہے ۔۔۔
میں شرمندہ ہو گیا اور چارپائی سے اٹھ کر کھڑا ہوا تو میرا ہتھیار جو پہلے ہی کھڑا تھا وہ شلوار میں چھومنے لگا۔۔۔
فرحی باجی کی نظر میری ٹانگوں میں جھولتے میرے لوڑے پر پڑی تو وہ دیکھتی ہی رہی۔۔۔
میں جان بوجھ کر لن کو سانس روک کر جھٹکے دے رہا تھاجیسے جیسے لن اچھل رہا تھا ویسے ویسے فرحی باجی کی نظریں اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔۔۔
فرحی باجی کو جب اپنی نظروں کا احساس ہوا تو اس نے سر جھکا لیا۔۔۔
میں چارپائی کھینچ کر فرحی باجی کی چارپائی کے قریب کرلی۔۔۔۔
اب فرحی باجی پاؤں نیچے لٹکائے بیٹھی تھی میں اس کے سامنے ہی نزدیک ہو کر کھڑا تھا۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر اپنا لن اس کے سامنے ایک بار پھر ہلایا ایسے ہلایا کہ اس کو شک بھی نہ ہو اور وہ دیکھ بھی لے۔۔۔
میں چارپائی کر بیٹھنے لگا تو اس نے چارپائی ساتھ لگانے کو کہا ہے تم نے بیچ میں فاصلہ چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔
میں وہیں رک گیا اور کہا اپنی ٹانگیں اٹھاؤ گی تو ہی ساتھ لگے گی اس نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور کھڑی ہو کر درمیان سے دوسری طرف نکل گئی۔۔۔
جب وہ کھڑی ہوئی تو تھوڑا مجھے سے ہٹ کر ہوئی تھی میں دوسری طرف نکل گیا ایک طرف سے اس نے چارپائی کو کھینچ کر ساتھ لگایا دوسری طرف سے میں نے۔۔۔
جب وہ جھک کر چارپائی اٹھانے لگی تو اس بڑے بڑے خربوزے باہر نکلنے کو بیقرار ہو گئے۔۔۔
مموں کے درمیان کلیویج بہت کی سیکسی بنی میں تو اسی تاڑ میں تھا پھر جب چارپائی نیچے رکھی تب بھی میری نظر وہاں ہی تھی۔۔۔
فرحی باجی خاموش تھی کچھ تو تھا ورنہ وہ ایسے چپ ہونے والی نہیں تھی۔۔۔
چارپائی رکھ کر وہ خاموشی سے سرہاندی والی سائیڈ سے چارپائی پر آ کر میری طرف ہو کر سیدھی چھت کی طرف منہ کر کے لیٹ گئی۔۔۔۔
اس کے ممے اوپر کو واضح محسوس ہو رہے تھے اس نے ان پر دوپٹہ کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔
میں نے اس کی کی طرف منہ کیا اور نیم وا آنکھوں سے اس کو دیکھنے لگا اس کی سانس کے ساتھ ممے بھی اوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔۔
فرحی باجی نے ایک دم میری طرف منہ گھمایا اور مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔
میں نے آنکھیں کھول دیں اس کی طرف دیکھا مجھے ویسے بھی لائٹ جل رہی ہو تو نیند نہیں آتی تھی۔۔۔
میں۔۔۔ باجی لائٹ بند کر دوں مجھے نیند نہیں آ رہی۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ نہیں آن ہی رہنے دو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
میں۔۔۔ کہیں مجھ سے تو ڈر نہیں لگ رہ۔۔۔
فرحی باجی ۔۔۔ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی نہیں ۔۔۔
میں۔۔۔ تو پھر کس بات سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
فرحی باجی نے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور کہا وہ بند کر دو ۔۔۔
میں اٹھ کر گیا دروازہ بند کر دیا اور واپس آنے لگا تو اس نے کہا لائٹ بھی بند کر دو۔۔۔
لائٹ بجھا دی اور چارپائی پر آ کر لیٹ گیا فرحی باجی سے پوچھا زیادہ ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
فرحی باجی ۔۔۔۔ہاں بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔
میں۔۔۔ اگر برا نہ محسوس کرو تو میرے ساتھ آ جاؤ۔۔۔
میں نےم۔ ڈرتے ڈرتے کہا تھا وہ فوراً میری چارپائی پر آ گئی اور میں چونکہ درمیان میں لیٹا تھا اس لیے اس کا سارا جسم ایک سائیڈ سے میرے ساتھ لگ گیا۔۔۔
میں نے تھوڑا کھسک کر اس کی لیے جگہ بنائی وہ کھل کر لیٹ گئی اس کا جسم آگ کی طرح گرم تھا۔۔۔
میں نے کہا آپ کو تو بخار ہے پہلے بتانا چاہئیے تھا ۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے ایسے ہی جسم تپ گیا ہے۔۔۔
میں۔۔۔ اس کا ہاتھ ٹٹول کر پکڑ ہاتھ پکڑتے ہوئے میرا ہاتھ اس کے پیٹ پر لگا تھا۔۔۔
میرے ہاتھ پکڑنے سے اس کے جسم کو جھرجھری سی آ گئی۔۔۔
نبض چیک کی اس کا جسم کافی زیادہ گرم تھا میں نے پھر کہا بخار ہے کوئی دوائی لے لو۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ آرام نال سو جا کچھ نہیں ہے مجھے۔۔۔
میں چپ کر گیا اس کے انداز میں اوازاری تھی میں نے سائیڈ بدلی دوسری طرف منہ کرکے لیٹ گیا۔۔۔
فرحی باجی کچھ دیر لیٹی رہی پھر اس نے بھی دوسری طرف منہ کروٹ کر لی۔۔۔
کافی دیر ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد نیند آگئی نیند میں کروٹ بدلی تو میں فرحی باجی کی ساتھ جا لگا۔۔۔
میرا لن تو نیند میں راڈ بن جاتا تھا لن گانڈ اس کی چڈوں میں گھس گیا۔۔۔
میری آنکھ کھل گئی میں نے غور سے دیکھا تو فرحی باجی کا رخ میری طرف تھا میں اس کے سینے سے لگ چکا تھا۔۔۔۔
اس نے اپنے بازو اٹھا کر میرے اوپر رکھ لیے میں نے کچھ حرکت نہ کی لن تو چڈوں میں گھس چکا تھا۔۔۔۔
ویسے ہی لیٹا رہا میں نے انکھیں بند کرکے سونے کی ایکٹنگ شروع کر دی ۔۔۔
کافی دیر بے حس و حرکت لیٹا رہا مجھے ایک دم جھٹکا لگا جب لن پر رگڑ کا احساس ہوا۔۔۔
میں تھوڑی سی آنکھیں کھول کر دیکھا تو فرح باجی کی آنکھیں بند تھیں لیکن لن پر رگڑ ٹانگوں سے لگ رہی تھی۔۔۔
میں ویسے ہی لیٹا رہا اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ جان بوجھ کر رہی ہے یا نیند میں ہو رہا ہے۔۔۔۔
پھر جب فرحی باجی کے بازو کی گرفت سخت ہونے لگی تو میں سمجھ گیا کہ وہ جاگ رہی ہے نیند میں ایسا نہیں کر رہی۔۔۔۔
فرحی باجی نے اپنے آپ کو نیچے کھسکا کر پھدی کو لن پر رگڑنا شروع کر دیا تھا اور اس کے ممے پوری طرح میرے سینے میں چبھ رہے تھے۔۔۔۔
اس کا بازو جو میرے اوپر تھا اس کی گرفت بھی کافی سخت ہو گئی تھی۔۔۔
میں مزے لینے لگا جس جسم کو چھونے کی خواہش کچھ دن پہلے کی تھی وہ مجھے پکڑے ہوئے تھا۔۔۔۔
میں مزے سے سرشار ہو گیا تھا میرا دل کیا کہ ابھی فرحی باجی کو ننگا کرکے لن اس کی پھدی میں گھسا دو۔۔۔
پھر یہ سوچ کر چپ ہوگیا کہ پہلے دیکھوں تو صحیح ہو کہاں تک جاتی ہے۔۔۔
اس کی پھدی کی رگڑ تیز ہوتی جا رہی تھی اس نے اپنے بازو کو بھی بہت زیادہ کس لیا تھا ۔۔۔۔
میں آرام سے لیٹا مزے کر رہا تھا ایسے کی کوئی پانچ منٹ بعد اس کا جسم اکڑا اس نے بہت تیز تیز اپنی پھدی کو لن پر مارا ۔۔۔۔
ایک دم اس نے جھٹکا کھایا اور جسم ڈھیلا ہو گیا۔۔۔
جیسے ہی فرحی باجی کا جسم ڈھیلا ہوا وہ پیچھے ہٹ گئی اس نے اپنے ہاتھ کو بہت آرام سے پیچھے کیا۔۔۔
پھر اسی طرح بہت مہارت کے ساتھ اپنا سارا جسم مجھے سے پیچھے کرتے ہوئے چارپائی کے کنارے چلی گئی۔۔۔۔
میں خود پر کنٹرول کیے لیٹا رہا وہ چند منٹ وہیں لیٹی رہی اور پھر کھسکتے ہوئے اپنی چارپائی پر پہنچ گئی۔۔۔
میں جو کچھ ہوا اس کے بارے میں سوچنے لگا فرحی باجی کو کیا ہوا تھا اس نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔
ایک بات تو واضح ہو گئی کہ اب فرحی باجی کی پھدی میرا لن مانگ رہی ہے اگر ہمارے درمیان کچھ نہیں ہو پایا تو اس کے پیچھے صرف جھجھک تھی۔۔۔
میں اس جھجھک کو ختم کرنے کا پلان بنانے لگا کافی دیر اس بارے میں سوچتا رہا طرح طرح کے پلان بنائے لیکن مجھے سب میں ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
بات یہ تھی کہ گھنٹی کیسے باندھی جائے بات وہیں آ کر رک جاتی ڈر مجھے ڈر تھا کہ اگر وک ہتھے سے اکھڑ گئی تو کیا ہوگا۔۔۔۔
ایسے کی سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی صبح آنکھ کھلی تو دیکھا فرحی باجی اپنے بستر پر نہیں ہیں چھوٹی سو رہی تھی۔۔۔
میں سیدھا چھت کی طرف منہ کرکے لیٹا تھا میں اگر سیدھا لیٹا تھا تو میرا گھوڑا جو مجھ سے بھی پہلے اٹھ جاتا تھا وہ شلوار میں تنبو بنائے کھڑا چھت کو سلامی دے رہا تھا۔۔۔۔
میں نے آنکھیں بند کیں اور سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا اور انتظار کرنے لگا کہ فرحی باجی آئیں تو ان کا ری ایکشن دیکھوں۔۔۔۔
مجھے قدموں کی چاپ سنائی دی میں نے لن کو تھوڑی سی آنکھ کھول کر دیکھا تو وہ فل موڈ میں اکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
پھر قدموں کی آواز کمرے میں داخل ہوئی اور ایک جگہ رک گئی میں نے آنکھوں کو تھوڑا کھلا رکھا تھا۔۔۔۔
میں نے دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ شاید دور تھی پھر ہلکی سی آہٹ محسوس ہوئی۔۔۔
فرحی باجی مجھے چارپائی کے قریب آتی نظر آئی میں نے اسی طرح ان کی طرف دیکھا تو وہ میرے لن کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
ایک دو بار میرے چہرے کی طرف دیکھا پھر لن کو دیکھنے لگی ان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا یہ جاننے کے لیے انتظار ضروری تھا۔۔۔۔
میں ایسا محسوس کروانے لگا جیسے گھوڑے بیچ کر سو رہا ہوں ۔۔۔۔
فرحی باجی نے لن کو دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا پھر میرے چہرے کی طرف دیکھا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔۔۔
ایک دو بار اسی طرح کیا لیکن ہاتھ لن تک نہ لائی پھر وہ اسی طرح پیچھے ہٹ گئی ۔۔۔۔
میں نے کچھ دیر مزید انتظار کیا لیکن وہ کمرے سے جا چکی تھی جب مجھے کوئی امید نظر نہ آئی تو اٹھ بیٹھا۔۔۔۔
چند لمحے چارپائی پر بیٹھا رہا پھر اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا فرحی باجی کچن کے دروزے میں سے نکل رہی تھی۔۔۔
مجھ سے نظریں چراتے ہوئے پوچھا اٹھ گئے تم کتنا سوتے ہو میں کب سے تمہارے اٹھنے کا انتظار کر رہی ہوں۔۔۔
میں نے ان کے چہرے پر گہری سوچ دیکھی وہ کچھ الجھی سی تھی میں مسکرایا اور بولا۔۔۔
میں۔۔۔ کیوں میرا اتنا انتظار کس لیے۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ سٹپٹا گئی ۔۔۔ اس نے کہا ایسے ہی دودھ دوہنے جانا تھا۔۔۔
میں۔۔۔ اوہ اچھا تو اس لیے انتظار ہو رہا تھا ہممم۔۔۔
فرحی باجی نے غور سے میری طرف دیکھا پھر کچن میں چلی گئی میرا تیر نشانے پر لگا تھا۔۔۔۔
میں جو چاہ رہا تھا وہ ہو رہا تھا اس کو اشارتاً سمجھا رہا تھا۔۔۔
میں ضروری حاجات سے فارغ ہوا تب تک اس نے چھوٹی کو بھی اٹھا لیا ۔۔۔
میں نے منہ ہاتھ دھویا اس نے دودھ کے لیے برتن اٹھایا اور چابی لے کر بغیر مجھے بلائے چل پڑی۔۔۔
میں بھی تیزی سے اس کے پیچھے گیا میں باہر نکلا اس نے تالا لگایا اور ہم بھینس والے احاطے میں چلے گئے۔۔۔۔
سب سے پہلے اس نے چارہ چیک کیا آج کا تھا اس نے مجھے کچھ نہ کہا خود ہی بھینس کے آگے چارہ ڈالا ۔۔۔
میں اس کی طرف دیکھتا رہا چھوٹی نے آتے ہی پانی والا پائپ اٹھا لیا تھا اور ادھر ادھر پانی پھینک رہی تھی۔۔۔
اس کے نشانے پر میں بھی آ گیا اس نے مجھے بھگو دیا پھر اس نے فرحی باجی کی طرف رخ کیا اور اس کو بھگو دیا ۔۔۔
میں یہ سب دیکھ کر ہنسنے لگا ہنستے ہنستے میرا پیٹ درد کرنے لگا فرحی کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اس نے چھوٹی کو ڈانٹا اور پائپ بند کر دیا چھوٹی ایک طرف ہو کر بیٹھ گئی اور مٹی سے کھیلنے لگی۔۔۔
فرحی کے سارے کپڑے بھیگ گئے تھے نیلے رنگ کا باریک سوٹ پہنے تھے جس میں اس کا جسم بھیگنے سے قیامت ڈھا رہا تھا۔۔۔۔
میں فرحی باجی کے جسم کے نشیب و فراز میں کھویا تھا ۔۔۔ وہ مجھے دیکھتے ہوئے بھینس کے نیچے بیٹھ کر دودھ دوہنے لگی۔۔۔
لیکن اس کی نظریں بار بار میری طرف اٹھ رہی تھیں اس میں کل والی خود اعتمادی مفقود تھی۔۔۔
اس نے جلدی جلدی دودھ دوہیا اور چھوٹی کو آواز دی آجاؤ چلیں۔۔۔
میں جان بوجھ کر کھڑا رہا ایسے ہی بھینس کے آگے چارے کو ہلاتے رہا ۔۔۔
فرحی چھوٹی کو لے کر دروازے کے پاس جا کر رک گئی لیکن میں اپنی جگہ کھڑا رہا ۔۔۔
وہاں رک کر اس نے پیچھے مڑ مجھے دیکھا کہا تینوں ہن کمی بھیج کے بلاواں تو وی آجا۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا کمی بھیجنے کی کہا ضرورت ہے خود ہی بلا لو میں بھاگتا چلا آوں گا۔۔۔
اس نے کچھ نہ کہا اور دروازہ کھولنے لگی میں بھاگ کر اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہوا۔۔۔
جان بوجھ کر اس کے قریب کھڑا ہوا تھا کیونکہ میں جانتا تھا دروازہ اندر کی طرف کھلے گا تو وہ پیچھے ہٹے گی۔۔۔
وہی ہوا جو میں سوچ رہا تھا وہ پیچھے ہوئی اس کے بیک سائیڈ میرے ساتھ ٹکرائی ۔۔۔
وہ ایک دم پیچھے گھومی اور میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھ کر دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے بولی تالا لگاتے آنا۔۔۔
مجھے آرڈر دے کر وہ یہ جا وہ جا ایک ہاتھ میں دودھ والی بالٹی پکڑے دوسرے سے چھوٹی کی انگلی تھامے وہ تیز تیز چلتی گھر کی طرف چلی گئی۔۔۔
میں نے جلدی سے تالا لگایا اور اس کے پیچھے چلتا ہوا گھر کے دروازے تک پہنچا تو وہ تالا کھول کر گھر میں جا چکی تھی۔۔۔۔
میں بھی گھر میں داخل ہو گیا تب تک وہ کچن میں جا چکی تھی میں نے دروازہ بند کیا اور اندر کمرے میں چلا گیا۔۔۔
ٹی وی چلایا اور ایسے فضول بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا۔۔۔
باجی فرحی نے ناشتہ بنایا مجھے دیا میں نے چپ کرکے ناشتہ کیا وہ بھی اٹھ کر گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئی۔۔۔
میں چھوٹی کے ساتھ مستیاں کرتا رہا وہ باہر کام کرتی رہی سارے کام مکمل کرکے بھی وہ کمرے میں نہ آئی۔۔۔
بارہ بجے کے قریب چاچی اور بالو آ گئے میں نے چاچی سے اجازت لی اور گھر آنے سے پہلے باجی فرحی کو دیکھا ۔۔۔
وہ کچن میں تھی اس کے پاس گیا اور کہا ویسے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ ۔۔۔
فرحی باجی نے کہا میں نے کہا ہے تمہیں اور تمہاری اس بات کا مطلب کیا ہے۔۔۔
میں نے کہا مجھے ایک کہاوت یاد آ گئی تمہارے بدلتے روپ دیکھ کر۔۔۔
اس نے پوچھا کونسی کہاوت ۔۔۔
میں نے کہا ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور۔۔۔
فرحی باجی کے چہرے کا رنگ بدل گیا اس نے نظریں جھکا لیں لیکن بولی کچھ نا۔۔۔
میں نے پھر کہا اچھا نہیں کیا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا باقی تمہاری مرضی ہے میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔
یہ کہہ کر میں وہاں سے اپنے گھر آ گیا گھر آ کر نہایا اور سو گیا شام سے کچھ دیر پہلے سو کر اٹھا اور کرکٹ کھیلنے چلا گیا۔۔۔
اتنے دنوں بعد کھیلنے گیا سب دوستوں نے کافی گرم جوشی دکھائی حال احوال پوچھے ۔۔۔
کرکٹ کھیلی تو مزہ نہ آیا آج تھکا تھکا سا لگا اتنے دنوں بعد گراؤنڈ میں گیا تھا تھکاوٹ تو ویسے ہی ہو گئی تھی۔۔۔
واپس گھر آیا کچھ خاص بات نہ ہوئی بس شانزل کی امی آئی جس کو میرے آنے کا پتہ نہیں چلا میں اندر ہی بیٹھا رہا۔۔۔۔
دوسرے دن وہی روٹین شروع ہو گئی سحر خیزی عادت پھر سے اپنانا پڑی۔۔۔
صبح اٹھ کر جب سیر کے لیے گیا تو سب کچھ بدلا بدلا سا لگا ایسا لگا جیسے میں کئی سال بعد آیا ہوں۔۔۔
مجھے ماحول میں نیا پن محسوس ہو رہا تھا ایسے ہی سوچتے واک کرتا رہا لیکن اندر کوئی خاص خوشی نہیں تھی۔۔۔
دل بجھا بجھا سا تھا کسی چیز کی کمی محسوس ہوتی رہی۔۔۔
واپسی پر مجھے دائی کی بیٹی بھی نظر آئی لیکن اس میں بھی کچھ کشش نہ محسوس ہوئی۔۔۔
میں اسی بجھے پن کا شکار گھر آیا نہا کر ناشتہ کیا تو ابو نے کہا کہ کالج پتہ کرنا تھا کوئی لسٹ وغیرہ بھی لگی ہے کہ نہیں۔۔۔
میں نے جی اچھا کہا وہ اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے میں پھر سے اندر گھس کر سو گیا۔۔۔
دوپہر کے قریب اٹھا تو امی سے یہ کر باہر چلا گیا کہ کالج پتہ کر لوں کالج کے گیٹ پر ہی مجھے لسٹ نظر آ گئی جس میں میرا نام بھی تھا۔۔۔
میں نے لسٹ پڑھی اس کے نیچے کلاسز کے شروع ہونے کی تاریخ بھی درج تھی میں پڑھ کر واپس آیا۔۔۔
ابھی اس میں تین دن باقی تھی واپسی پر میرا دل کیا چاچا کے گھر چکر لگا لوں لیکن پھر ارادہ کینسل کر دیا۔۔۔
گھر آ کر کھانا کھایا کرکٹ چینل لگا کر پچھلے کسی میچ کی جھکیاں دیکھنے لگا۔۔۔
پھر اپنے پرانے وقت پر کرکٹ کھیلنے چلا گیا وہاں جا کر ایک انوکھی بات ہو گئی مجھے میرے دوست نے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔۔۔
میں جب اس کے پاس گیا تو اس نے ایک طرف انگلی کرتے ہوئے کہا اوئے تجھے پتہ ہے ۔۔۔
میں نے کہا کچھ بتائے گا تو ہی بتاوں گا پتہ ہے یا نہیں۔۔۔
اس نے کہا وہ جو لڑکی آ رہی ہے میں اس کی انگلی کے اشارے کی سمت میں دیکھا تو تہمینہ آ رہی تھی۔۔۔
میں نے کہا ہاں وہ جو آ رہی ہے مجھے بھی دکھ رہی ہے اس کو کیا ہے۔۔۔
اس نے بتایا کہ اس کی پھدی میرے بھا ہاشم نے ماری ہے جس کا لائیو شو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔۔
میں نے چل اوئے ایوں ناں یبھلیاں ماری جا ۔۔۔
اس نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے نرسری میں ان کا کھیل دیکھا یے۔۔۔
مجھے یہ جان کر بھا پر تو نہیں لیکن اس تہمینہ پر بڑا غصہ آیا اس سالی کو کی پھدی کو اتنی آگ لگی تھی کہ میرے بھا سے بھی چدوا لی۔۔۔
خیر میں اس کے سامنے تو اس کا اظہار کر نہیں سکتا تھا اس لیے بس چپ ہی رہا۔۔۔
کرکٹ کھیل کر فارغ ہوئے واپس گھر آیا تو شانزل اپنی امی کے ساتھ ہمارے گھر سے نکل رہی تھی ۔۔۔
میں شانزل کی امی کو سلام کیا شانزل سے کوئی بات نہ کی اس نے مجھے دیکھا میں نے نظر بھر کر بھی اس کو نہ دیکھا۔۔۔۔
وہ اپنے گھر چلی گئی میں اپنے گھر میں داخل ہو گیا کھانا کھایا اور ایک بار پھر باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اصل میں مجھے سکون نہیں آرہا تھا بار بار گاؤں میں ہونے والے واقعات میرے دماغ میں گھوم رہے تھے ۔۔۔
مجھے سب سے زیادہ فجے کے بارے میں سوچتے ہوئے غصہ آرہا تھا اور یقین کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا اس سب میں وہ ہی تھا۔۔۔۔
میں نے ایک فیصلہ کر لیا تھا کہ اب گاؤں نہیں جاؤں گا اس وجہ سے زیادہ الجھن ہو رہی تھی۔۔۔
ایسے ہی گلیوں میں گھومتا رہا ایک گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ اس کی کھڑکی کے سامنے سے پردہ ہٹا ہوا تھا۔۔۔
میں نے ایسے ہی دل پشوری کے لیے اندر جھانکا تو اندر کا سین دیکھ کر میرا رکنا بنتا تھا۔۔۔
اندر بڑا اخیر کا سین چل رہا تھا ایک آنٹی نیچے بیٹھی تھی جب کہ ایک نوجون لڑکا اس کے سامنے ننگا کھڑا تھا۔۔۔۔
آنٹی کے منہ میں اس لڑکے کا لن تھا جس کو وہ لالی پوپ کی کی چوس رہی تھی۔۔۔
آنٹی بڑی ماہر تھی بڑے سٹائل سے لن کے چوپے لگا رہی تھی پردہ بار بار ہل کر آگے جاتا تھا ۔۔۔
اصل میں پردہ سارا ایک طرف نہیں تھا تھوڑا ساسائیڈ پر تھا جب ہوا چلتی تو وہ آگے پیچھے ہل رہا تھا۔۔۔
میں گلی میں بھی نظریں دوڑا رہا تھا کوئی دیکھ تو نہیں رہا اور اندر کا سین بھی مس نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
گلی بھی سنسان تھی کیونکہ ٹاؤن گھر کافی دور دور تھے کئی پلاٹ خالی پڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
اس گلی میں بس دو ہی گھر تھے ایک وہ جس میں سیکس سین چل رہا تھا دوسرا اس گلی کا آخری گھر تھا۔۔۔۔
آنٹی کے چوپے لگانے کا انداز دیکھ کر میرا لن بھی کھڑا ہو گیا میرا دل بھی کسی کے منہ میں لن گھسانے کو کرنے لگا۔۔۔
میں ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر میں تھا میرا لن ٹراؤزر پھاڑ کر باہر آنا چاہ رہا تھا مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔۔۔
میں نے لن پر پر ہاتھ رکھا اور اندر کا سین دیکھنے لگا آنٹی اس کے سامنے گھوڑی بن گئی۔۔۔
اس لڑکے نے اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر اس کی سختی چیک کی جب اس لڑکے کا لن دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی۔۔۔
اس کا لن میرے لن کا آدھا بھی نہیں تھا اس نے آنٹی کی گانڈ والی سائیڈ سے پھدی میں لن گھسایا ۔۔۔
ایک دم سپیڈ سے گھسے مارنے لگا اس نے بمشکل دس سے بارہ گھسے مارے اور آنٹی کے پیچھے سے ہٹ گیا۔۔۔۔
مجھے یہ دیکھ کر اس گانڈو پر بڑا غصہ آیا سالے کے سامنے ایسی مست پھدی تھی اور وہ اس کی تسلی نہ کرواسکا۔۔۔۔
ایسی مست آنٹی کی پھیکی چودائی دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا میں اس گانڈو کو دیکھنے کے چکر میں کافی دیر وہاں کھڑا رہا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔۔۔
آنٹی اس کے سامنے ٹانگیں اٹھا کر لیٹ گئی تھی اس لڑکے کی کمر میری طرف تھی وہ پھدی میں اپنا منہ گھسا کر چاٹنے لگا۔۔۔
میں وہاں سے آگے بڑھ گیا ایسے ہی ایک دو گلیوں میں گھوم کر واپس گھر آیا اور سو گیا۔۔۔
صبح اپنے وقت پر اٹھا کوئی خاص فرق نہ پڑا وہی روٹین والا دن گزرا بس ایک فرق تھا کل ٹیوشن نہیں گیا تھا آج گیا۔۔۔
گھر آیا اور سو گیا عجیب سی حالت تھی کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا بار بار گاؤں میں ہونے والی دھلائی یاد آ جاتی تھی۔۔۔
شام سے پہلے اٹھا تو طبیعیت کافی بہتر تھی بوجھل پن کم تھا میں نہا کر فریش ہوا اور کھیلنے چلا گیا۔۔۔
کرکٹ کھیل کر پھر گھر آیا اور شام کو شانزل کی جھلک نظر آئی لیکن اس نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔۔۔
میں نے بھی کوئی خاص دھیان نہ دیا اور سو گیا اگلے دن پھر وہی روٹین رہی ٹوشن سے واپسی پر میرے دل میں آیا چاچا کے گھر چکر لگا لوں۔۔۔
میں چاچا کے گھر گیا چاچی سے پیار لیا لیکن فرحی باجی نظر نہ آئی میں نے بھی نہ پوچھا تو چاچی نے خود ہی بتایا کہ فرحی ہمسائیوں کے گھر گئی ہے۔۔۔
میں کچھ دیر بیٹھا رہا پھر گھر آ گیا آج دماغ پر کوئی بوجھ نہیں تھا ایک فرحی کے رویے کا اثر تھا تو دوسرا گاؤں والی بات دماغ سے نہیں نکل رہی تھی۔۔۔
لیکن آج مجھے سارا اثر زائل ہوتا محسوس ہوا وہ سب قصہ پارینہ کی باتیں لگ رہی تھیں۔۔۔
آج کرکٹ بھی خوب جم کر کھیلی ہمارا ایک ٹیم کے ساتھ دوستانہ میچ تھا جس میں میں نے خوب جم کر بیٹنگ کی۔۔۔
سب نے ہی تعریف کی بلے بلے ہو گئی ہم میچ بھی اچھے رنز سے جیت گئے۔۔۔
شام کو جب واپس گھر آ رہے تھے تو میرے اسی دوست نے جس کی مما ڈاکٹر تھیں کہا مما تمہارا پوچھ رہی تھیں۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا کیا پوچھ رہی تھیں تو اس نے کہا یہ ہی کہ پھر تو طبیعیت خراب نہیں ہوئی۔۔۔
میں نے کہا بالکل گھی نہیں اب تو گھوڑا بھی خوب دوڑ رہا ہے۔۔۔
وہ ہنسنے لگ گیا اور کہا لگتا ہے گھوڑے کی کافی لگامیں کھینچ رہے ہو آج کل۔۔۔
میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا آہو بڑی موجیں کی ہیں گاؤں میں بھی اور ماموں لوگوں کے کے ہاں بھی۔۔۔
ایسے ہی باتیں کرتے میں گھر پہنچ گیا اس سے اس ٹا ٹا کرتا گھر چلا گیا۔۔۔
آج شانزل ایک بار پھر کتابیں لے کر موجود تھی میں نے منہ ہاتھ دھویا تو امی نے کہا شانزل آئی ہے اس کا کل کوئی ٹیسٹ ہے اس کو کچھ دیر پڑھا دو۔۔۔
میں امی کی بات ٹال نہیں سکتا ویسے بھی دل میں تو لڈو پھوٹ رہے تھے شانزل کے پاس گیا ۔۔۔
اس سے حال چال پوچھا یہ تو میں جانتا تھا کہ وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتی تھی کیوں کہ اس کے دل میں میرے لیے پیار کا جو دیپ جلتے تھے وہ میں اچھی طرح جانتا تھا۔۔۔
یہ الگ بات تھی کہ میں اس کے پیار کو سمجھ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔
میرے اندر تو اس کے جسم کی بھوک تھی کبھی کبھی ضمیر کی لتر پریڈ بھی جھیلنا پڑتی تھی۔۔۔
میں نے اس کو سمجھانے کی کوشش بھی کی لیکن سب بے سود گیا تھا اس کے پیار کے آگے بند باندھنا میرے جیسے ہوس کے پجاری کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔
میں دماغ یا دل سے نہیں سوچتا تھا میرے سوچنے کا رستہ لن سے شروع ہوتا تھا ۔۔۔
لن کہتا یہ پھدی پرفیکٹ ہے تو وہ لڑکی بھی اچھی لگتی تھی آج تک جو بھی ملی کالی فوری موٹی پتلی جیسی بھی ان میں مجھے بس پھدی نظر آتی تھی۔۔۔
اسی پھدی کے جنون نے میرے دل میں پیار کو صرف ایک لفظ بنا دیا تھا۔۔۔
مجھ پر وہ بات سچ بیٹھتی تھی۔۔۔
ایک لڑکی نے اپنی دادی سے پوچھا دادی اماں یہ پیار کیا ہوتا ہے۔۔۔
دادی اماں نے بڑا زبردست جواب دیا تھا جو مجھے لگتا ہے صرف میرے لیے ہی کہا گیا تھا۔۔۔
دادی اماں پتر اے پیار ویار کجھ نیں اے سب مفت پھدی مارن دا طریقہ اے۔۔۔
بات کہیں کی کہیں نکل گئی شانزل نے خوش دلی سے مجھے حال احوال بتائے مجھے اس کے چہرے پر خوشی نظر آ رہی تھی۔۔۔
میں ۔۔۔ اب بتاؤ کونسا ٹیسٹ ہے جس کی تیاری کرنی ہے۔۔۔
شانزل۔۔۔ مسکرا کر بتا دوں۔۔۔
میں اس کے مزاج سے کافی روشناس ہو چکا تھا پل میں ماشہ پل میں تولا ہو جاتی تھی۔۔۔
اس کا کوئی بھروسہ نہیں تھا ابھی مسکرا رہی تھی تو اگلے پل پھر ہتھے سے اکھڑ جائے۔۔۔
اس لیے میں نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا اور کہا۔۔۔
میں۔۔۔ ہاں بتاؤ گی تو ہی مجھے کچھ پتہ چلے گا ۔۔۔ ساتھ ہی میں نے آنکھ مار دی۔۔۔
اس کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ میں ایک چاشنی تھی ایسی مسکراہٹ جو دل موہ لیتی تھی۔۔۔
مسکراتے ہوئے اس کی آنکھیں ایک پل کے لیے بند ہو جاتی تھیں گال پر پڑے والے ڈمپل اس کے چہرے کو اور بھی خوبصورت بنا دیتے تھے۔۔۔۔
میں بھی مسکرا دیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا پھر ٹیسٹ دینے کے لیے تیار ہو۔۔۔
شانزل ۔۔۔ میں تو صدیوں سے تیار ہوں بس ٹیسٹ لینے والے کا ہی دل نہیں کرتا۔۔۔
میں۔۔۔ اوہ تو اگر ٹیسٹ لینے والا ٹیسٹ مشکل دے تو بھی پاس کر لو گی۔۔۔
شانزل۔۔۔ ٹیسٹ جتنا بھی مشکل ہو اگر لگن سچی ہو اور پاس کرنے کا جذبہ ہو تو پاس ہو ہی جاتا ہے۔۔۔
میں۔۔۔ پھر ٹیسٹ کب ہے۔۔۔؟
شانزل ۔۔۔ اس کے چہرے میں شرمیلی سے مسکراہٹ پھیل گئی شرماتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی جب وہ چاہے ٹیسٹ لے لو۔۔۔
میں اس کی بات سن کر مسکرا دیا اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگا۔۔۔
وہ مجھ سے شرما رہی تھی اس کا شرمانا مجھے اچھا لگ رہا تھا آخری بار جب ہم ملے تھے اس وقت والی شانزل میں آج والی شانزل میں کافی کچھ بدل گیا تھا۔۔۔۔
یہ وہ شانزل لگ ہی نہیں رہی تھی اس کا انداز اس کی باتیں ان میں چھپے معنی سب کچھ الگ تھا۔۔۔
میں۔۔۔ اگر ابھی ڈیمو لیا جائے تو اس کے لیے تیار ہو۔۔۔
وہ منہ سے کچھ نہ بولی بس ہاں میں سر ہلا دیا اور اپنے چہرے کو چھپانے کی کوشش کی ۔۔۔
میں۔۔۔ اگر اس طرح شرماتی رہو گی تو کسی نے تمہیں دیکھ کر شک کر لینا ہے ۔۔۔
وہ ایک دم سیدھی ہو گئی لیکن اس کی نظریں ابھی بھی جھکی ہوئی تھیں۔۔۔
میں ۔۔۔ چلو پھر ڈیمو کے لیے تیار ہو جاو جہاں ٹیسٹ دینا ہے اس جگہ کا پتہ ہے نا۔۔۔
اس نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں واش روم کی طرف اشارہ کیا وہ سمجھ گئی۔۔۔
میں اٹھ کر باہر نکل گیا باہر والی سائڈ سے واش روم کے دروازے پر گیا تو شانزل اندر آ چکی تھی۔۔۔
میں نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کیا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
شانزل نے اب بھی نظریں جھکائی ہوئی تھیں اور شرما رہی تھی۔۔۔
میں آگے بڑھا اور اس کو گلے لگا لیا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گردن پھیلا دئیے ۔۔۔
وہ پنجوں کے بل ہو گئی تھی اس کے ممے میرے سینے میں لگے تو ایک کرنٹ دوڑ گیا ۔۔۔
میں نے دیوانہ وار اس کو چومنا شروع کر دیا اس کے گالوں کو اس قدر چوما کہ ان پر جابجا تھوک لگ گیا۔۔۔