شانزل فارغ ہو گئی لیکن میں اپنی اسی سپیڈ سے لگا ہوا تھا ۔شانزل نے مجھے رکنے کا کہا بھی لیکن میں جس پوزیشن میں پہنچ چکا تھا وہاں رکنا بہت مشکل تھا۔میں جیسے جیسے منزل کے قریب پہنچ رہا تھا ویسے ویسے میری سپیڈ انتہا کو چھوتی جا رہی تھی۔۔۔
شانزل بھی اتنے طاقتور گھسوں کے لیے تیار نہیں تھی وہ زور زور سے آہ آہ بلو بس کر بلوووووا درد ہوندی پئی اے اوئیییی کر رہی تھی۔۔۔
مجھ تو جنون سوار تھا لن کا پانی نکالنا تھا میرا جسم پسینے سے بھیگ گیا لن جب پھدی میں جاتا تو شڑڑڑپ کی آواز آتی ۔۔۔
میرا لوڑا ایسے گھستا جیسے پھدی میں پسٹن گھس رہا ہوں جب لن اندر جاتا تو شانزل کا پورا جسم جھٹکا کھاتا ہر اگلا گھسہ پہلے سے تیز مار رہا تھا۔۔۔۔
شانزل کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا میں بھی اپنی منزل کے قریب ترین پہنچ گیا تھا اب اپنی اصل جون میں آگیا تھا میں نے لن نکالا ایک دم شانزل کو گھمایا الٹا لٹایا ۔۔۔۔۔
گانڈ کے سوراخ کے نیچے سے پھدی میں پن گھسا دیا اس نے تڑپ کر اپنا سر اٹھایا میں اس کے اوپر لیٹ گیا اور اس کا سر نیچے دبا دیا۔۔۔۔
میں آخری ساتھ آٹھ گھسے اتنے زور سے مارے کہ بیڈ کے ساتھ پڑے سائیڈ ٹیبل پر موجود برتن ایک ایک کرکے نیچے گر گئے۔۔۔
شانزل نے اپنا منہ بیڈ میں دبا لیا تھا میں نے ایک دم لن باہر نکالا اور گانڈ کی دراڑ میں رکھ کر لیٹ گیا اپنے ہاتھ اس کے نیچے ڈال کر مموں کو پکڑا ۔۔۔۔
ایک دم زور سے میرے جسم کو جھٹکا لگا میرا پورا جسم ہل گیا میں نے اپنا سارا زور شانزل پر لگا دیا اس کو مموں سے پکڑ کر اپنی طرف دبایا اور سے اپنے ہونٹ اس کی گردن پر رکھ کر کس کیا۔۔۔۔
لن نے جب پہلی پچکاری کھائی تو میرے جسم میں مزے کی لہر دوڑی جو ٹانگوں سے اوپر کی طرف آئی ۔۔۔
کچھ دیر ایسے کی جھٹکے کھا کھا کر فارغ ہونے کے بعد میں ندھال سا ہو کر اس کے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔
شانزل ویسے ہی لیٹی رہی میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے گال پر آئے بال ہٹائے اس نے زخمی نظروں سے مجھے دیکھا ۔۔۔
اس کی نظروں میں کیا کچھ نہیں تھا گلا شکوہ شکایت لیکن یہ بس کچھ سیکنڈ کے لیے تھا وہ ویسے ہی الٹی لیٹی میرے قریب آئی ۔۔۔۔
میرے کندھے پر ہاتھ رکھا پھر کھسک کر اپنا سر کندھے پر رکھا اور ہاتھ سینے پر رکھ کر پھیرنے لگی۔۔۔
میں نے بھی چہرہ اس کی طرف گھمایا اور اس کی پیشانی پر کس کیا ایک ہاتھ اس کمر پر پھیرنے لگا۔۔۔۔
اس کی اداؤں میں ایک سکون تھا اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ بہت سکون میں ہے جیسے سب کچھ پا لیا ہو۔۔۔۔
وہ تھوڑا اور کھسک کر میرے ساتھ لگی ہلکی سے سرگوشی کرتے ہوئے بولی بلو تم بڑے ظالم ہو میرا پورا جسم درد کر رہا ہے۔۔۔۔
میں سوچوں میں گم تھا میں شمع کے بارے میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا لیکن اس بات سے ڈر رہا تھا کہ شانزل جو اگر غصہ آگیا تو پھر اس کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔
وہ جس طرح مجھ پر وارے جا رہی تھی میں نے فیصلہ کیا کہ ابھی نہیں بعد میں دیکھی جائے گا ۔۔۔
شانزل نے مجھے کہا بلو تمہارے لیے ایک گفٹ لائی تھی لیکن تم نے تو مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔۔۔۔
میں نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرایا پھر بڑے کی اچھے موڈ میں اس سے کہا میں نے سنبھلنے نہیں دیا یا تمہارے حسن کے وار نے مجھے ہوش سے بیگانہ کر دیا تھا۔۔۔۔
وہ شرما سی گئی اور بولی اچھا جی مکھن لگانا تو کوئی تم سے سیکھے اب ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ تم میری یوں تعریفیں کرتے رہو۔۔۔
اچھا ایک بات بتاؤ تمہیں آج میں کسی لگ رہی تھی میں نےاس کو کہا ابھی پھر ثابت کرکے دوں ۔۔۔
اس نے فوراً کہا نہیں رہنے دو مجھے سب سمجھ آگئی ہے۔ میں نے کہا نہیں نہیں اگر کوئی شک ہے کہ مجھے تم تھوڑا وقت دو میں ابھی ثابت کر دیتا ہوں۔۔۔
اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولی اگر ایسے ثابت کرنا ہے تو میں نہیں پوچھتی ۔۔۔
میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں تو تمہیں دیکھ کر ہوش میں ہی نہیں رہا تھا تم بہت بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
اس نے کہا بس پیاری لگ رہی تھی میں نے اس کو کہا صرف پیاری توبہ توبہ تم تو قیامت ڈھا رہی تھی میں سدھ بدھ کھو بیٹھا تھا ۔۔۔
تمہارے حسن کو آج پہلی بار نہیں دیکھا لیکن آج تم حد سے زیادہ حسین لگ رہی تھی میرا دل کر رہا تھا تمہیں سامنے بٹھا کر دیکھتا رہوں۔۔۔
وہ شرمانے لگی ہوا کچھ یوں کہ اس کے منہ سے گفٹ کا سن کر میرا لہجہ ہی بدل گیا تھا میں اس کو سیدھا تو نہیں کہہ رہا تھا لیکن میری تعریف کا لب لباب یہ ہی تھا۔۔۔
اس نے کہا میں نے کافی دن پہلے ایک گفٹ لیا تھا تمہارے لیے لیکن دے نہیں سکی تھی میں جب بھی موقع ملتا تمہیں دینا بھول جاتی تھی ۔۔۔
اصل میں ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا تھا ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا کہ ابھی کوئی آیا کہ ابھی پکڑے جائیں گے۔۔۔
آج صحیح معنوں میں موقع ملا ہے تو میرا دل کر رہا ہے کہ تم پر سب کچھ وار دوں بلو اگر تم مجھ سے کچھ بھی مانگو گے تو میں انکار نہیں کروں گی۔۔۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کچھ بھی مانگ لوں تو انکار نہیں کرو گی۔۔۔
اس نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا ہاں کچھ بھی مانگ لو ایک بار آزما کر دیکھ لو میں تمہارے یقین پر پورا اتروں گی۔۔۔
میں نے آگے بڑھ کر اس کا گال چوم لیا اور بولا میرے لیے سب سے بڑا گفٹ تم ہو مجھے کچھ نہیں چاہئیے بس تم خوش رہو میرے لیے یہ ہی کافی ہے۔۔۔
وہ ایک دم اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت پیکٹ تھا وہ بیڈ پر بیٹھی میں اس کو اس ننگی حالت میں باہر جاتے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔۔۔
بے شک گھر میں کوئی نہیں تھا لیکن شمع تو تھی وہ ایسے بے دھڑک ننگی ہی باہر نکل گئی تھی اس کی دیدہ دلیری تھی یا کچھ اور تھا میں نے اس پر دماغ لڑانا فی الحال ملتوی کر دیا۔۔۔
اس نے میرے پاس بیٹھتے ہوئے کہا اٹھو میں اٹھ کر بیٹھ گیا اس نے پیکٹ مجھے دیتے ہوئے کہا اس کو ابھی کھولو میرے سامنے اگر پسند نہ آئے تو میں اور لے آوں گی۔۔۔
میں اس کو کہا اس کی کیا ضرورت تھی تم نے ایسے کی تکلف کیا ہے میں نے یہ کہتے ہوئے پیکٹ کھول لیا۔۔۔
پیکٹ میں اہک خوبصورت گھڑی تھی جس کا ڈائل بلیو رنگ کا تھا کافی اچھی لگ رہی تھی میں نے گھڑی دیکھ کر اس کا شکریہ ادا کیا اور اس کو بیٹھے بیٹھے گلے لگایا۔۔۔
وہ خوش ہو گئی میرے دل میں جو ایک شک تھا وہ دور ہو گیا میں نے شانزل کو یہ نہ بتایا کہ شمع نے ویڈیو بنائی تھی وغیرہ وغیرہ کیونکہ مجھے اس پر بھی شک تھا شمع کی باتوں نے ہی مجھے شک میں مبتلا کیا تھا۔۔۔
وہ کہہ رہی تھی شانزل کوپتہ کے میرے لیے یہ بات بڑے معنی رکھتی تھی ورنہ اس طرح پھدی کر لن رکھ کر چودے بغیر پیچھے ہٹ جانا میرے لیے کس قدر مشکل تھا میں کی جانتا ہوں۔۔۔
اس نے وہ گھڑی خود میری کلائی میں باندھی اور مسکرانے لگی ساتھ ہی اس نے کہابلو آج کل موبائل آئے ہوئے ہیں تم بھی لے کو بات ہو جایا کرے گی۔۔۔
میں نے اس کو کہا بس کچھ دنوں تک لے لوں گا دیکھتا ہوں کالج میں کیا صورتحال ہوتی ہے اگر وہاں پڑھائی ہوئی تو ٹیوشن چھوڑ دوں گا پھر موبائل لے لوں گا۔۔۔
شانزل نے کہا موبائل لینے سے ٹیوشن چھوڑنے کا کیا تعلق ہے ۔۔۔
میں نے اس کو بڑے ڈھیلے سے انداز میں کہاتعلق ہے تو کہہ رہا ہوں نہ ۔۔۔
شانزل نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہابتاو کیا تعلق ہے ۔۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ ٹیوشن فیس بچ جائے گی اس سے موبائل لے لوں گا۔۔۔
شانزل نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا بس اتنی سی بات ہے تم موبائل پسند کرو مجھے بتانا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
میں نے کافی انکار کیا لیکن وہ نہ مانی اس نے مجھے منا کر ہی دم لیا کہ وہ مجھے پیسے دے گی جن سے میں موبائل خریدوں گا۔۔۔
ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ہم ننگے کی سو گئے صبح کے کسی وقت میری آنکھ کھلی تو شانزل میرے اوپر لیٹی تھی میرا لن اس کی پھدی پر لگ رہا تھا۔۔۔
میں ایک بار پھر اکڑے لن کو اس کی پھدی میں گھسا دیا وہ اٹھ گئی ویسے ہی میرے سینے پر لیٹی رہی میں نے اس کی پھدی بجانی شروع کر دی۔۔۔
صبح صبح پھدی مارنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے ہم نے ایک بار پھر یمن کٹیتا کیا اور میں کپڑے پہن کر باہر نکلا شانزل نے بھی کپڑے پہنے۔۔۔
میں شانزل کو گلے لگا کر اور کس کرکے اپنے گھر آگیا۔۔۔
گھر آ کر نہایا کپڑے وغیرہ بدلے باہر آیا تو شانزل آئی کھڑی تھی اس کے ہاتھ میں ناشتہ تھا۔۔۔
امی کو کہہ رہی تھی خالا ایسا کیسے کو سکتا ہے بلو ہمارے گھر میں سویا تھا تو ناشتہ تو کرکے آتا۔۔۔
میں اس کو جگانے گئی تو دیکھا کہ یہ غائب ہے ہمیں بتا کر بھی نہیں آیا ۔۔۔
اس کو یہاں دیکھ کر مجھے موبائل کا خیال آیا جو میں نے شمع سے چوری اٹھایا تھا اور شانزل والے کمرے میں رکھا تھا۔۔۔
میں نے شانزل کو کہا اوہ مجھے یاد ہی نہیں رہا میں کتابیں بھول آیا ہوں میں ابھی کتابیں لے کر آتا ہوں۔۔۔
میں جانے لگا تو شانزل نے کہا کتابیں میں لے آتی ہوں تم ناشتہ کرو ٹائم دیکھا ہے لیٹ ہو جاؤ گے۔۔۔
امی نے بھی مجھے کہا وہ لے آتی کے تم ناشتہ کر لو دیکھو کتنا خیال رکھنے والی ہے یہ سب تربیت کے کتنی اچھی تربیت کی ہے اس کی امی نے۔۔۔
میں دل میں ہنسنے لگا اب مجھ سے زیادہ اس کون جانتا تھا ۔۔۔
میں کتابیں لینے کم موبائل اٹھانے زیادہ جانے والا تھا میرامقصد موبائل اٹھانا تھا لیکن امی کی انٹری نے کام خراب کر دیا اب میرے پاس سوائے بیٹھ کر ناشتہ کرنے کے کوئی حل نہیں تھا میں ایک بار پھر کوشش کی لیکن تب تک شانزل چل پڑی تھی ۔۔۔
میں ناشتہ کرنے بیٹھ گیا لیکن میرا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا میں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور تب تک شانزل نہ آئی میں نے ایک کتاب اٹھائی اور باہر نکل گیا امی کو بتایا کہ میں وہاں سے کتابیں لے کر چلا جاؤں گا۔۔۔
میں اپنے گھر سے نکل کر شانزل کے گھر میں چلا گیا دروازہ کھلا تھا اس لیے میں بلاججھک اندر گھس گیا۔۔۔۔
سامنے سے شانزل ہاتھ میں میری کتابیں اور اپنا بیگ اٹھائے آ رہی تھی وہ یونیفارم پہنے تیار تھی۔۔۔
میں یہ تو بھول ہی گیا تھا کہ اس کا آج ٹیسٹ ہے اس نے بھی جانا ہے لیکن شمع نہیں جا رہی تھی میں نے اس بارے کیا سوچنا تھا۔۔۔
شانزل میرے پاس آئی اور اس نے کہا مجھے بھی ساتھ لیتے جاؤ واپسی پر میں اپنی دوستوں کے ساتھ آ جاؤں گی ۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور بار بار دیکھا شانزل نے میرے اس طرح دیکھنے کو نوٹ کر لیا اس نے پوچھ ہی لیا کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔
میں نے کہا میری ایک چیز رہ گئی تھی میں ابھی دیکھ کر آتا ہوں میں آگے بڑھنے لگا تو اس نے کہا رک جاؤ مجھے پتہ ہے کیا چیز ہے چلو میں تمہیں رستے میں بتاتی ہوں۔۔۔
میں چپ کرکے اس کے ساتھ چل پڑا ہم ٹاؤن سے باہر نکلے تو اس نے اپنے بیگ سے موبائل نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا یہ لو تم یہ ڈھونڈ رہے تھے ناں۔۔۔
میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا تمہیں کہاں سےملا تو اس نے بتایا رات کو میرے نیچے آگیا تھا اس لیے مجھے پتہ ہے میں نے رکھ لیا تھا۔۔۔
اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ویسے یہ تمہارے ہاتھ کیسے لگ گیا میں تو کافی دن سے اس کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
لیکن میرے ہاتھ نہیں آرہا تھا مجھے یہ تو پتہ تھا کہ شمع کے پاس ہے وہ چھپ کر استعمال کرتی ہے اور جب اس نے ٹیوشن جانا ہوتا ہے وہ واش روم میں موبائل لے جاتی ہے۔۔۔
کافی کافی دیر لگاتی ہے ایک دو بار میں نے اس کو اکیلی بیٹھے باتیں کرتے بھی سنا ہے لیکن جب وہ مجھے دیکھتی تھی تو چپ کر جاتی تھی۔۔۔
پھر اس نے مجھے کافی ڈرایا کہ وہ امی کو میرے اور تمہارے بارے میں بتا دے گی میں نہ ڈری تو اس نے ماموں کی دھمکی دی ۔۔۔
اس نے خالا کو بتا دیا ہے یہ بات اس نے مجھے کل کہی تھی اور مجھے کہا تھا کہ اس نے تم سے کوئی بات کرنی ہے اگر میں اس کا ساتھ دوں تو وہ کر لے گی۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات کرنی ہے تو اس نے مجھے وہ والی بات بتائی کہ جن کے گھر وہ ٹیوشن پڑھنے جاتی ہے ان کے لڑکے کے بارے میں بات کرنی ہے وہ اس کو تنگ کرتا ہے اور ڈرا رہا ہے۔۔۔
میں اس چپ کرکے اس کی ساری باتیں سنتا جارہا تھااس نے سارا رستہ شمع سے کی گئی باتیں کیں اس کا سکول آگیا تو اس نے مجھے موبائل پکڑایا اور کہا پتہ لگانا ہے کس کا ہے اور وہ کس سے باتیں کرتی ہے۔۔۔
میں نے موبائل پکڑا اور ٹھیک ہے کہا وہ سکول میں چلی گئی میں آگے اپنے کالج کی طرف نکل پڑا آج کالج میں دوسرا دن تھا لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کوئی بہت پرانا یہاں کا پڑھنے والا ہوں۔۔۔
کالج کی گلی میں داخل ہوتے ہی جو لڑکا بھی ملتا مجھے دیکھ کر مسکراتا یا سلام بلاتا ایک دن میں اس طرح کالج کے لڑکوں کی نظروں میں آنا میرے لیے بڑی حیرانی کی بات تھی۔۔۔
جو مجھے سلام کر رہے تھے ان میں زیادہ تر لڑکے نئے تھے جو فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے میں جیسے ہی کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوا وہاں مجھے شاہ مل گیا۔۔۔
پتہ نہیں کیا بات تھی کہ جب بھی شاہ کو دیکھتا میرے منہ سے بلا تواتر گالیاں نکلنے کو تیار ہوتی تھیں ۔۔۔
اب بھی وہی ہوا تھا میرے منہ سے گالیاں نکلنے لگیں میں نے کہا اوہ بہن چود تو اینی جلدی ماں چدوان آگیا ایں تینوں تان ہن اہنی رات آلی باجیاں نوں واپس لیانا ہندا سے جا پت جا پہلے اوہناں نوں گھر چھڈ آ نہیں تاں گاہک مفت اچ فیر واریاں لاں لگ جاں گے۔۔۔ہاہا۔۔
شاہ بھی کوئی انتہا کا کمینہ پیدا ہوا تھا بلا شرمائے بولا اج میری ڈیوٹی نہیں تھی آج ان کو گاہک خود چھوڑیں گے اگر نہ چھوڑا تو ایک دن ایکسٹرا چارج ہو گا۔۔۔
سالا چوتیا بے غیرتی کی انتہا پر تھا مجھے کبھی کبھی لگتا تھا یہ شاہ تو صرف نام کا ہے اس کا تعلق کسی چنگڑ خاندان سے ہے ۔۔۔
شاہ سے اپنی گالیوں کی شروعات کرنے کے بعد میں اگے بڑھا ہی تھا کہ ایک اچھا خاصا قد کاٹھ والا لڑکا ایک مریل سے لڑکے سے جھگڑ رہا تھا صبح صبح ہی ایسا دیکھ کر مجھے تپ چڑھ گئی۔۔۔
ایک تو دماغ رات سے کافی گرم تھا اوپر سے میں ویسے بھی آج کل کافی گرم رہنے لگا تھا میں آگے بڑھا اور اس لڑکے کو جو بڑا تھا جا پکڑا۔۔۔
شاہ مجھے دیکھ کر مجھ سے پہلے ہی اس پر جھپٹ پڑا یہ بہن چود پتہ نہیں کیا چاہتا تھا میں تو اس کو شاید سمجھاتا لیکن شاہ نے جاتے ہی اچھل اس کے سر کے پچھلے حصے میں ایک جڑ دی۔۔۔
وہ ایک دم ماں بہن کی گالیاں دیتا گھوما اور اس نے شاہ کو پکڑ لیا جیسے کی دوسرے لڑکے کو اس نے چھوڑا وہ یہ جا وہ جا غائب ہو گیا میں نے جب شاہ کو اس کے ہاتھوں کے شکنجے میں دیکھا تو ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا اور تماشہ دیکھنے لگا۔۔۔
تماشہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ میں اس کو یہ بھی کہہ رہا تھا مارو اس بہن چود کو یہ کسی کو بندہ کی نہیں سمجھتا ابھی مجھے کہہ رہا تھا اس ہاتھی کے بچے کو میں سبق سکھاتاہوں ۔۔۔
آج تک اس کا کسی مرد سے سامنا نہیں ہوا ہوگا اس کی گانڈ میں راڈ گھسا دوں گا پکڑو اس بھوسڑی کے بچے کو ۔۔۔
وہ لڑکا شاہ کو مارنے کی بجائے میری طرف دیکھنے لگا میں نے اس کو کہا مارو یار کیا ہوگیا ہے اس میں جگرا نہیں ہے یہ چتو ہے سالا اس کی گانڈ بھی مار لو تو برا نہیں منائے گا۔۔۔۔
میری بات سن کر اس نے شاہ کا گریبان ایک ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے سے اس کے منہ پر ایک دو تین چار تھپڑ مارے اس سے پہلے کہ وہ اور مارتا میں نے اس کو روکتے ہوئے کہا یار اتنی بڑی لاش ہے اس چوہے کو مار رہے کوشرم کرو۔۔۔
اس کو چھوڑ دو وہ بھی کوئی سر پھرا ہی تھا اس نے شاہ کو چھوڑا میری طرف پھنکارتے ہوئے گھوما میں نے نیچے جھک کر اس کے ٹٹوں پر لات ماری اور وہ جیسے ہی جھکا اس کے جبڑے پر ایک زور دار مکا جڑ دیا ۔۔۔۔
وہ درد سے بلبلا اٹھا وہ اس طرح کے حملے کے لیے تیار نہیں تھا ٹٹوں پر پڑنے والی ٹھوکر نے ہی اس کو اماں یاد کروا دی تھی۔۔۔
اسی وقت ایک طرف سے بھگدڑ مچ گئی سب لڑکے جو کالج میں آ رہے تھے وہ بھی بھاگنے لگے ہم بھی اس رش میں بھاگ پڑے وہ ہاتھی بھی ایک طرف کھسک گیا۔۔۔
بعد میں پتہ چلا وہ لمبا چوڑا لڑکا ایم اے کا تھا جس کو وہ مار رہا تھا وہ سیکنڈ ائیر کا تھا مار کھانے والا لڑکا روز ماسٹرز کلاس کی لڑکیوں کو تنگ کرتا تھا اس لیے اس کو آج مار پڑ رہی تھی ۔۔۔
اوپر لڑکیاں بھی کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھیں شاید اس کی کوئی کزن تھی یا پھر سچ میں کزن تھی۔۔۔
ہماری لڑائی کی خبر کالج کے کسی پروفیسر کو پتہ چل گئی تھی جو ڈسپلن انچارج تھے اور کافی سخت گیر تھے یہ الگ بات تھی کہ ان کا زور صرف نئے آنے والوں پر ہی چلتا تھا پرانے یا جو کسی کی نا سننے والے تھے وہ اس سب کو لن پر بھی نہیں رکھتے تھے۔۔۔۔
ہم وہاں سے نکل کر ایسے ہی دائیں بائیں گھومنے لگے کالج کی بیل ہوئی لیکن ابھی تک آدھے لڑکے بھی نہیں آئے تھے میرا آج ارادہ تو نہیں تھا کہ کلاس اٹینڈ کروں لیکن جب کوئی دوست نہ ملا تو میں نے جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاہ بھی ساتھ تھا تو بتا دوں اس کو لوگ میرے دوست سے کم سہیلی کہنے لگ گئے شروع کے چند دن چھوڑ کر میں تو اس کو پہلے بھی دوست کم کمینہ زیادہ کہتا تھا۔۔۔
خیر ابھی کلاس شروع ہی ہوئی تھی کہ کچھ لڑکے جو کافی زیادہ عمر کے تھے ہماری کلاس کے سامنے آئے پروفیسر سے اجازت لی اور ان کو ایک کاغذ دکھایا۔۔۔
ان میں سے میں ایک کو پہلے سے جانتا تھا وہ ہمارے ٹاؤن کا رہنے والا تھا اس نے مجھے دیکھ لیا تھا ۔۔۔
پروفیسر نے ان کو اجازت دے دی اور ہمیں دیکھ کر بولے کلاس کل ہو گی سب کی حاضری لگا دی جائے گی ان بھائیوں کی بات سن لیں۔۔۔
لڑکے کافی سمجھدار اور سلجھے ہوئے لگ رہے تھے انہوں نے ہمیں ایک لیکچر دیا جس میں انہوں نے لڑکیوں کی عزت پر بات کی اور ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ سب لڑکیوں کہ عزت کیا کریں ۔۔۔
اس سب میں کچھ نہیں رکھا ہمارے کالج میں جو لڑکیاں ماسٹرز کر رہی ہیں ایک تو وہ تم لوگوں سے بڑی ہیں دوسرا وہ ہمارے کالج کی عزت ہیں۔۔۔
ان کی باتوں نے وقتی طور پر مجھے بڑا متاثر کیا میں نے یہ فیصلہ بھی کر لیا کہ آج کے بعد کسی لڑکی کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھوں گا لیکن جب وہ لوگ چلے گئے اور ہم ایک پھر باہر نکلے اور مجھے سامنے ماسٹرز کا انگلش ڈیپارٹمنٹ نظر آیا اور وہاں اوپر پھرتی لڑکیاں نظر آئیں تو ان کا آدھے گھنٹے کا لیکچر ایک سیکنڈ میں لن پڑ چڑھ گیا۔۔۔
ہم وہاں سے ابھی تھوڑا آگے بڑھے ہی تھے کہ میرے سر پر ایک زور دار تھپڑ پڑا ۔۔۔۔
میرے منہ سے بے اختیار نکلا اوہ تیرہ ماں نوں لن دبا بہن چود کون اے جیڑا اپنی بھنوئیے نوں مارہیا اے ۔۔۔
بس یہ آخری الفاظ تھے جو میرے منہ سے نکلے اس کے بعد مجھ پر تابڑ توڑ مکے گھونسے برسنے لگے میں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھے اپنا منہ اور سر چھپا لیا۔۔۔
ایک دم میرے اوسان خطا ہو گئے پتہ نہیں یہ کیا آفت نازل ہو گئی اس دن میں نے سیکھا جب مار پڑ رہی ہو تو سر اور منہ چھپا لو ۔ مارنے والے شاید تھک گئے تھے کم از کم مجھے ایسا ہی لگا جب مجھ پر برسنے والے گھونسے اور مکے رک گئے میں اٹھ کر کھڑا ہوا تو دیکھ وہاں سین ہی بدل گیا ۔۔۔
وہاں تو ایک دنگل جاری تھا کافی لوگ ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھا ان میں سے میں نے صرف چہرے کی دیکھے تھے وہ بھی چند ایک لیکن میں ان کو جانتا نہیں تھا۔۔۔
میں ابھی کچھ سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ مجھے شاہد نظر آیا جو ایک لمبے لڑکے کو پکڑ اس کی دھلائی کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔
میں نے غور کیا تو پتہ چلا یہ تو وہی لمبو تھا جس کے ساتھ کالج میں آتے ہی مڈ بھیڑ ہوئی تھی۔۔۔
مطلب یہ سب اس نے منگوائے تھے میرا دماغ گھوم گیا میں دائیں بائیں لڑنے والوں مو دھیکیلتا ہوا اس کے پاس جا پہنچا اور شاہد کے ساتھ مل کر اس کی پھینٹی لگانی شروع کر دی۔۔۔
مجھ پر جنون سوار ہو گیا تھا میں نے اس کے مکوں لاتوں چپیٹوں کی برسات کر دی شاہد نے مجھے پکڑا لیکن میں اس سے خود کو چھڑوا کر پھر اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔
وہ میرے آگے آگے بھاگتا اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جا پہنچا میں اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا گیا وہ ایک کلاس میں داخل ہوا وہاں ایک پروفیسر پڑھا رہے تھے ۔۔۔
میں دروازے پر رک گیا ان سے اجازت مانگی انہوں نے سر ہلا کر مجھے اندر آنے کی اجازت دی میں نے اندر جا کر بڑے اچھے انداز میں سر سے کہا سر اس لڑکے کو باہر بھیج دیں۔۔۔
میں نے ابھی تک وہاں موجود کسی سٹوڈنٹ پر غور کرنا تو دور ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی۔۔۔
پروفیسر صاحب نے کہا وہ تو پیچھے سے نکل گیا ہے جس کو آپ ڈھونڈ رہے ہو میں نے جیسے کی پیچھے کلاس کی طرف نظر کی تو میں چپ کرکے رہ گیا۔۔۔
وہاں تو لڑکیاں ہی لڑکیاں تھی شاید یہ کلاس ہی لڑکیوں کی تھی میں اور کچھ بولے وہاں سے نکل آیا ایک دفعہ پھر اس کو ڈھونڈنے لگا ۔۔۔
وہ تو نہ ملا لیکن مجھے ڈھونڈتے ہوئے شاہد وہاں آگیا اس نے میرا بازو پکڑا اور مجھے کھینچتے ہوئے باہر لے گیا۔۔۔
باہر جا کر دیکھا تو سٹوڈنٹس کا ایک ہجوم برپا تھا سارا گراؤنڈ لڑکوں سے بھرا ہوا تھا مزے کی بات ان میں دونوں پارٹیوں کے لڑکے تھے ۔۔۔
وہ سب ایک دوسرے کے سامنے تھے ایک طرف عابد باکسر تھا تو دوسری طرف مونی تھا دونوں کا آپس میں اٹ کتے دا ویر سی تے میں اوہناں دا یار سی۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے لڑکوں پر الزام لگا رہے تھے کہ میرے ساتھ لڑنے والے ان کے لڑکے تھے۔۔۔
میں جب وہاں پہنچا تو عابد اور مونی دونوں میری طرف آئے میں نے وہاں ان دونوں کو کہا آپ میں سے کسے کے گروپ کا کوئی پنگا نہیں ہے یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔۔۔
ان دونوں نے بیک وقت کہا مجھے بتاؤ کون ہے میں ہنستے ہوئے بولا جو بھی ہے اب تو میں بالکل نہیں بتاؤں گا آپ لوگ میری وجہ سے بالکل کسی سے لڑائی نہ کریں۔۔۔
میرا جو بھی معاملہ ہوگا میں خود ہینڈل کر لوں گا اور دوسری بات میں آپ دونوں کی عزت کرتا ہوں مجھے کسی گروپ کا حصہ نہ سمجھیں۔۔۔
میں نہیں چاہتا میں آپ لوگوں کے درمیان کسی فساد کا سبب بنوں کیونکہ میرا اپنا ایک لائف سٹائل ہے میں انجوائے کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
میں کسی گروپ تنظیم یا پارٹی کا حصہ نہیں بننا چاہتا اگر آپ کو میری کسی قسم کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔۔۔
ویسے بھی میں کل آیا ہوں اور آج تک آپ دونوں نے دیکھ لیا ہے میرے معاملات بگڑتے جائیں گے میں اب خود ہی بچ کر رہوں گا ایسے معاملات میں پڑنے سے گریز کروں گا۔۔۔۔
وہ دونوں چپ کرکے میری بات سنتے رہے پھر مونی بولا ہم کب چاہتے ہیں تم ہمارے ساتھ شامل ہو لیکن ہاشم نے تمہارا خیال رکھنے کا کہا ہے اب کوئی میرے ہوتے ہوئے تمہیں مار جائے میں ہاشم کو کیا جواب دوں گا۔۔۔
عابد بولا دیکھ بلو تو میرا دوست ہے میرا بھی فرض بنتا ہے میں تمہارا خیال رکھوں کوئی چٹ پونجیا تمہیں ہاتھ لگائے میں کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔۔۔
میں ہنسا اور بولا اسی لیے کہہ رہا ہوں میرا جہاں مرضی کوئی مسئلہ ہو پلیز آپ لوگ اس میں انوالو نہ ہونا میں خود سنبھال لوں گا اگر آپ لوگوں کی ضرورت پڑی تو میں خود بتا دوں گا۔۔۔
حیرت کی بات تھی جب وہ دونوں کالج کے لڑکوں کو اکٹھا کرتے تھے تو کالج کی انتظامیہ کوئی اقدام نہیں کرتی تھی ۔۔۔
میں نے ان سے اجازت لے کر شاہد کے ساتھ چل پڑا چلتے ہوئے مجھے یاد آیا وہ شاہ کہاں گیا میں نے شاہد سے پوچھا ۔۔۔
شاہد بھی حیران ہوا اس نے کہا میں نے بس ایک بار اس کو دیکھا تھا جب میں نے وہاں لڑائی ہوتے دیکھی تھی اسی وقت وہاں اور لڑکے بھی ٹپک پڑے جنہوں نے ان سب کو پکڑ لیا۔۔۔
ہم شاہ کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ گئے جہاں یہ سارا سین ہوا تھا تو ہم نے دیکھا کہ شاہ ایک طرف گھاس پر لیٹا تھا ۔۔۔
ہم بھاگ کر اس کے پاس گئے اس کو اٹھایا اس نے اٹھتے ہوئے کہا بلو تیری بنڈ ماراں سالیاں اج سچی میری بنڈ وج جانی سی۔۔۔
میری اس کی بات سن ہنسی نکل گئی اس نے پھر گالی دیتے ہوئے کہا سالیا میری بنڈ پاٹی پئی اے تے تو ہسی جا رہیا ایں اٹھاو میںنوں تے اوس سالے نوں لبھو جنے میری بنڈ وچ انگلی دتی اے۔۔۔
میرا ہسنتے ہوئے برا حال ہو گیا اس کی بات سن کر شاہد بھی تالی بجا کر ہنسنے لگا لیکن وہ ایک دم سیریس تھا ۔۔
عثمان شاہ عرف شاہ جی ایک ایسی فلم تھا جس کے دونوں طرف صرف چولیں ہی تھیں وہ ہمیشہ ایسی کی باتیں کرتا تھا پتہ اس کو کیا مزہ آتا تھا اپنی بے عزتی والی باتیں کرکے۔۔۔
شاہد نے اس کو اٹھایا اور ایک دم سنجیدہ ہو کر اس سے پوچھا اچھا تم اس کو پہچان لو گی جس نے تیری بنڈ ماری اوہ سوری تیری بنڈ وچ انگل دتی۔۔۔
وہ اپنی ہنسی نہ روک سکا اس لیے بات ختم کرتے ہی وہ ہنسنے لگا شاہ نے اس کی ہنسی کو سیریس نہ لیا اور بولا ہاں بلکل مجھے لگتا ہے وہ تو ہی تھا ایک تم تو ہو جو سکول سے میری بنڈ نے پیچھے لگے ہو۔۔۔
اے بنڈ نہ ہوئی کوئی کرشمہ کپور کہ چکنی چوت ہو گئی جس کے لیے تم نے پورے دو سال میرے آگے پیچھے پھرتے گزار دئیے شاہد شرمندہ سا ہو گیا ۔۔۔
اس کی یہ بات کافی حد تک سچ بھی تھی شاہد نے اس کے پیچھے کافی وقت برباد کیا تھا اور شاہ تھا کہ ہر بار بس کھا پی کر ڈکار لیتا تھا۔۔۔
میں نے کہا چل دفعہ کرو آو چلتے ہیں وہ بندہ ڈھونڈتے ہیں شاہ کو پکڑ کر کھڑا کیا اور ہم ایک بار پھر گراؤنڈ کی طرف چل پڑے ۔۔۔
گراؤنڈ اب کچھ سکون تھا لیکن لڑکے ابھی بھی وہاں موجود تھے میں نے ایک طرف کھڑے ہو کر اونچی آواز میں سب کو متوجہ کیا اور جب وہ سب میری طرف متوجہ ہو گئے تو میں شاہ کا ہاتھ کھڑا کرکے کہا ۔۔۔
کسی لڑکے نے میرے اس دوست کے ساتھ بدتمیزی کی ہے جس نے بھی کی ہے وہ سامنے آجائے بعد میں اگر ہم نے خود ڈھونڈا تو بات بڑھ سکتی ہے۔۔۔
شاہ نے اپنا ہاتھ نیچے کھینچ لیا اور بولا یہ کیا ہے تو میرا دوست یا دشمن سالیا جن کو نہیں پتہ ان کو بھی بتائے گا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔۔
میں نے کہا اب خود بتا اور کیا کروں خود ہی تو کہہ رہے تھے کہ کسی نے بنڈ ماری ہے اب اگر میں ڈھونڈنا چاہ رہا ہوں تو میں غلط اگر نہ ڈھونڈیں تو بھی غلط یار تو ایک فیصلہ کرلے کیا کریں۔۔۔
ہم ابھی بات ہی کر رہے تھے کہ ایک پینڈو سا لڑکا ہمارے پاس آیا وہ شکل سے ہی لونڈے باز لگ رہا تھا اس نے آ کر شاہ کو دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔
اس کا انداز دیکھ کر شاہد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اوہ ہیلو کا مسئلہ ہے کیا کہنا چاہتے ہو یہاں کیوں آئے ہو ۔۔۔
اس نے کہا وہ آپ لوگ پوچھ رہے تھے جس نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے سامنے آئے تو میں یہ دیکھنے آیا تھا کہ یہ ہے کیسا جس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے کسی نے اگر میں ہوتا تو بڑا کچھ کرتا ۔۔۔
شاہد کو اس پر انتہا کا غصہ آیا اس نے اسے پکڑ کر دو تین لگائیں اب تو وہاں ہمارا کافی ہوا بن چکا تھا اس لیے وہ چپ کرکے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
لیکن اس کے جانے کے بعد میں نے جب شاہ کی طرگ دیکھا تو میری ہنسی نکل گئی۔۔۔
شاہ کا چہرہ دیکھنے والا تھا وہ رونے والا ہو گیا تھا شاہد بھی زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔
خیر جیسے تیسے ہم نے خود پر کنٹرول پایا اور سوچا آج پڑھائی تو ہونی نہیں جو ہونا تھا وہ ہوگیا ویسے بھی مجھے یہاں پڑھائی والا سین لگ نہیں رہا تھا۔۔۔
ہم وہاں سے کنٹین چلے گئے وہاں جا کر چائے کا آرڈر دیا تو اسی وقت چائے اور اس کے ساتھ سموسے بھی آگئے ۔۔۔
میں نے اس لڑکے کو کہا کاکے یہ کس کا آرڈر لے آیا ہے ہم نے تو چائے کہی تھی یہ سموسے کسی اور کے ہیں۔۔۔
اس نے کہا بھائی مجھے جو کہا گیا وہ لے آیا اب آپ جانو اور بل جانے میں تو جا رہا ہوں۔۔۔
میں نے اٹھ کر اس سے پوچھنے کا سوچا ابھی کھڑا ہی ہونے لگا تھا کہ شاہد نے کہا چل یار اگر آگئے ہیں تو کھا ہی لیتے ہیں مجھے بھی بھوک لگی ہے آج ناشتہ نہیں کیا تھا۔۔۔
ہم نے چائے کی سموسے کھائے اور شاہد اٹھ کر بل دینے چلا گیا لیکن وہاں جا کر ایک بار پھر بحث ہو گئی ۔۔۔
کینٹین والے نے پیسے لینے سے انکار کر دیا اور بولا آپ لوگوں کا بل ہو گیا ہے شاہد نے پوچھا کیسے ہو گیا ہے ہم نے تو دیا نہیں۔۔۔
اس نے کہا بس کوئی دے گیا ہے اور کہہ گیا کہ آپ جب بھی یہاں آو جو بھی کھاؤ پیو بل نہ لوں۔۔۔
ہم نے کافی بحث کی اس سے لیکن وہ نہ مانا اور نہ ہی اس نے اس کا نام بتایا ہماری ساری بحث ایک طرف اور شاہ کی باتیں ایک طرف ہم اس سے کہہ رہے تھے کہ ہم مفت خورے نہیں ہیں جبکہ شاہ کہہ رہا تھا اگر مفت میں کھانے پینے کو مل رہا ہے تو کہا حرج ہے موجیں کرو ۔۔۔
کیا کر سکتے تھے ہم چپ کرکے آ گئے شاہ بھی اپنی بنڈ کا رونا بھول گیا تھا لیکن جب یار ہمارے جیسے ہوں تو کیسے بھول سکتا تھا چلتے چلتے ایک لڑکے کو دیکھ کر شاہد نے کہا اوئے شاہ بندہ مل گیا شاہ نے پوچھا کونسا بندہ شاہد نے اس کو کہا وہی کس نے تمہاری بنڈ پاڑی ہے۔۔۔۔ہاہا۔۔۔
میں نے بھی شاہد کے اشارے کی سمت میں دیکھ وہاں ایک دھوش قسم کا لڑکا کھڑا تھا اس کو دیکھ کر ہنسی نکل گئی لیکن شاہ کا چہرہ دیکھ کر تو ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہونے لگا۔۔۔
شاہ نے تقریباً روتے ہوئے کہا یار اگر آج تک میری بنڈ نہیں ماری کسی نے تو تم لوگ یہاں ضرور مروا دو سالیو تسی میرے یار اوہ یا دشمن جہاں دیکھو وہاں میری بنڈ کے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔۔۔
وہ کسی سولہ سالا لڑکی کی طرح نکھرے کرتا ہم سے آگے نکل گیا ایک منٹ سے بھی پہلے واپس آیا اور ہانپتے ہوئے بولا اوئے بلو تینوں کوئی لبھدا پیا ای۔۔۔
میں نے پوچھا کون ۔۔۔؟؟۔ اس نے کہا کوئی لڑکے ہیں ہمارے کالج کے تو بلکل بھی نہیں ہیں ۔۔۔
میں نے پوچھا کتنے ہیں اس نے بتایا کہ مجھے تو پانچ چھ لگ رہے ہیں ایک لڑکا بڑا پپو سا ہے جو تمہارا نام لے کر پوچھ رہا تھا میں نے وہیں سے ریورس گئیر لگا دیا۔۔۔۔
ہم چلتے چلتے وہاں پہنچ گئے جہاں کی وہ بات کر رہا تھا سامنے کی ایک لڑکا کھڑا تھا جس کی میری طرف پیٹھ تھی اس کے سامنے دو لڑکے کھڑے تھے جن سے وہ میرے بارے میں بات کر رہا تھا شاید۔۔۔
مجھے دیکھ کر وہ دونوں لڑکے وہاں سے اڑن چھو ہو گئے اس لڑکے نے پیچھے گھوم کر مجھے دیکھا تو وہ میرا ٹاؤن کا دوست ریحان تھا جس کی والدہ ڈاکٹر ہیں۔۔۔
ہم ایک دوسرے سے بڑے تپاک سے ملے میں نے شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے دانتوں کے نیچے نچلا ہونٹ دبا کر اس کو گھورا وہ سر کھجانے لگا۔۔۔۔
میں ریحان اور شاہد ،شاہ کا آپس میں تعارف کروایا اور ریحان سے پوچھا خیر تو ہے یہاں کیسے آنا ہوا۔۔۔
اس نے شاہد اور شاہ کی طرف دیکھا اور بولا یار تم سے ایک کام ہے بڑا ضروری اکیلے میں بات کرنی ہے۔۔۔
میں نے کہا ایسی کیا بات ہے یہ یار ہیں اپنے ان سے کیا چھپانا کرو بات ۔اس نے کہا نہیں یار بات ایسی ہے کہ ان کے سامنے نہیں کر سکتا اور کرنی بھی ضروری ہے۔۔۔
میں نے شاہد کو کہا میں اس سے بات کر لوں آپ لوگ چلو میں آتا ہوں میں نے ریحان کو ساتھ لیا اور کینٹین چلا گیا وہاں ایک کونے میں ٹیبل پر جا بیٹھا ۔۔۔
میں نے بیٹھ کر ریحان سے پوچھا ہاں اب بولو کیا بات ہے اس نے دائیں بائیں دیکھا اور بولا یار یہاں کافی لوگ ہیں کہیں اکیلے بیٹھ جائیں تو اچھا ہوگا۔۔۔
اسی وقت کیٹنین والے کا لڑکا دو چائے لے آیا اور ساتھ پیسٹری بھی لایا ریحان نے حیرانی سے دیکھا جو دیکھا میں نے بھی اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا بھائی لے لیں۔۔۔
وہ اتنا بول کر لوازمات رکھتے ہی چلا گیا میں نے ریحان کو کہا لو چائے پیو یہاں یہ کی سمجھو کوئی نہیں ہے ہماری بات کوئی نہیں سنے گا ۔۔۔
ریحان نے کہا یار بات ایسی ہے کہ وہ پھر چپ ہو گیا اس کے چہرے پر الجھن تھی جیسے بات کرنا بھی چاہ رہا ہو لیکن کر نا پا رہا ہو۔۔۔
میں نے چاہے کا کپ اٹھا کر اس کو پکڑایا اور کہا یار بے فکر ہو کر بولو جو بھی بات ہے ججھک کیوں رہے ہو ہم آپس میں دوست ہیں ۔۔۔
اس نے کہا تمہارے پاس کسی کی امانت ہے جو تم نے کہیں سے لی ہے یا اٹھائی ہے وہ واپس کر دو ۔۔۔
میں نے حیرانی سے پوچھا کیا امانت ہے اور کس کی امانت ہے ۔
ریحان نے کہا وہ رات کو تم کہاں تھے میری دماغ میں ایک دم جھماکا ہوا میں سب سمجھ گیا وہ کس چیز کی بات کر رہا ہے۔۔۔
میں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا اپنے گھر تھا اور کہا ہونا ہے ریحان نے کہا تم گھر نہیں تھے مجھے سچ بتاؤ یار اگر نہیں بتانا تو بھی کوئی بات نہیں ۔۔۔
میں نے کہا تم بات بتاؤ جو کرنی ہے یہ پہلیاں نہ بجھاؤ میری کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے ۔۔۔
اس نے کہا چلو ٹھیک ہو گیا تمہارے پاس موبائل ہے جو تم نے رات کو شمع سے لیا ہے وہ دے دو ۔۔۔
میں نے حیرت سے کہا موبائل اور شمع اور پھر میں ۔۔اس سب میں کیا تعلق ہے خیر تو ہے کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا بلو یار تم جھوٹ نہ بولو کہ تمہیں نہیں پتہ تمہارے پاس موبائل ہے اور شمع سے لیا ہے یا وہاں سے اٹھایا ہے اگر تمہارے پاس نہیں ہے تو کہاں ہے ۔۔۔
میں نے کہا واہ کیا بات ہے یار تو بھی کمال کرتا ہے میرا شمع سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور تم کہہ رہے ہو میں نے اس سے موبائل لیا ہے۔۔۔
ریحان نے ہنستے ہوئے کہا شمع سے تو نہیں ہے لیکن اس کی بڑی سسٹر شانزل سے تو تعلق ہے ۔۔۔
میرے لیے یہ بات شاک تھی میں اس کا منہ تکنے لگا وہ مسکرا رہا تھا مجھے اپنی طرف دیکھتے پا کر بولا ایسے کیا دیکھ رہے ہو میں سب جانتا ہوں کیسے تمہارا اس سے تعلق بنا کب کب تم لوگ ملے ایک ایک بات مجھے پتہ ہے۔۔۔
میں نے ہممم کیا اور بولا ٹھیک ہو گیا مان لیا سب پتہ ہے تو اس ساری انفارمیشن کا سورس کیا ہے یہ سب کیسے پتہ چلا۔۔۔
وہ بولا میں تو سمجھتا تھا تم بڑے سمجھدار ہو لیکن نہیں یار میں غلط تھا ابھی بتایا تو ہے شمع سے موبائل لیا ہے تم نے تم پھر بھی نہ سمجھ پائے سنو وہ جو موبائل ہے وہ میں نے ہی شمع کو دیا ہوا ہے ۔۔۔
اس موبائل سے ہی ہمارا رابطہ رہتا ہے دوسری بات شمع سے میرا تعلق تمہارے تعلق کے بعد بنا ہے ۔۔۔
میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شمع تو ٹیوشن والے گھر کی بات کر رہی تھی اور یہاں ریحان آیا بیٹھا تھا اس سب چکر نے میرا دماغ گھما دیا ۔۔۔
یہ کیسا گھن چکر ہے میں الجھ گیا تھا میں نے ریحان سے کہا تمہاری سب باتیں ٹھیک ہیں لیکن موبائل میرے پاس نہیں ہے کیوں کہ شمع کا موبائل اس کے پاس ہو سکتا ہے میرے نہیں۔۔۔
ویسے بھی میں وہاں اس سے ملنے تو جاتا نہیں جو میرے ہاتھ اس کا موبائل لگ جائے یا تو وہ جھوٹ بول رہی ہے یا پھر کوئی اور سین ہے جو بھی ہے سب گڑ بڑ اسی کی ہے۔۔۔
ریحان میری بات سنتا رہا اور بولا چلو ٹھیک ہو گیا بس آج سے ہم ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے ہیں رازدار جو ٹھہرے اور مجھے یقین ہے تم راز کو راز رکھنا جانتے ہو۔۔۔۔
میں ہنسا اور بولا میرے بھی ایسے کی خیالات ہیں تمہارے بارے میں کہ تم کبھی مجھے شک میں نہیں پڑنے دو گے۔۔۔۔
ہم وہاں سے اٹھے اور چپ کرکے کینٹین سے نکل گئے ابھی نکل ہی رہے تھے کہ ایک لڑکی کینٹین کے دروازے پر آئی اس نے مجھے نظر بھر کر دیکھا ریحان کو بھی بڑے غور سے دیکھا اور اندر چلی گئی۔۔۔
ریحان نے حیرت سے پوچھا یہاں اور لڑکیاں یہ سب کیا سین ہے میں نے اس کو بتایا کہ یہاں ماسٹرز کی کلاسیں لگتی ہیں جو کمبائن ہوتی ہیں وہاں لڑکیاں پڑھتی ہیں۔۔۔
ریحان نے جاتے جاتے کہا یار آجاؤ چلتے ہیں اسی وقت شاہد بھی آگیا اس کے ساتھ شاہ نہیں تھا شاہد نے کہا بلو کچھ دن کلاسیں ایسے ہی ہوں گی آج بھی نہیں لگیں گی۔۔۔
میں نے کہا پھر چلتے ہیں اور شاہ کہاں ہے تو اس نے بتایا وہ تو اسی وقت کی گھر چلا گیا تھا کہہ رہا تھا کہ اس کی طبیعیت خراب ہے۔۔۔
ہم باہر نکلے شاہد نے اپنی بائیک نکالی ریحان بھی بائیک پر تھا اس نے بھی نکالی اور بولا یار مما رات کو بھی کہہ رہی تھی تمہیں ہسپتال لے کر آوں وہ تمہارے کچھ ٹیسٹ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔
وہ مجھے اپنی مما کے کلینک لے گیا وہاں کاؤنٹر پر اس نے میرا اور اپنا نام بتایا ایک منٹ بعد ہی ہمیں اندر بلا لیا گیا۔۔۔
اندر داخل ہوا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ریحان کی مما یعنی ڈاکٹر آنٹی نے ایک چست سا پاچامہ پہنا ہوا تھا اور اوپر ایک انتہائی چھوٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔۔
اس کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ میں کسی چھوٹے شہر میں ہوں ایسا لباس میں نے اج تک صرف فلموں میں دیکھا تھا۔۔۔
اس نے ہمیں بٹھایا اور مجھ سے کہا بس دو منٹ دو میں سارا انتظام کرتی ہوں پھر تمہارے ٹیسٹ وغیرہ کرتی ہوں تمہارا چیک اپ بھی کرتی ہوں ایک بار پھر۔۔۔
وہ اٹھی اور مجھے کہا وہ پیچھے آ کر لیٹ جاؤ اس بیڈ پر کلینک میں جیسے بیڈ ہوتے ہیں ویسا ہی ایک بیڈ پردے کے پیچھے پڑا تھا ۔۔۔۔
ڈاکٹر آنٹی نے پردہ برابر کر دیا اور مجھے بالکل سیدھا لیٹنے کو کہا وہ خود میرے اوپر جھک گئی اور میری ٹانگیں سیدھی کیں ۔۔۔
اس کے جھکنے سے میرا لن پھڑپھڑایا جیسے جیسے وہ جھکے جھکے میرے سامنے آتی گئی لن میرے اختیار سے نکلتا گیا اور نا چاہتے ہوئے بھی کھڑا ہو گیا۔۔۔
اس نے میری قمیض کے بٹن کھولے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا تو لن نے جھٹکے کھانے شروع کر دئیے۔۔۔۔
پھر میرے سر کو آہستہ آہستہ دبانے لگی اور ساتھ ساتھ کم از مجھے ایسا لگا کہ وہ جان بوجھ کر زیادہ جھک رہی تھی اور ہل رکی تھی جس سے اس کے ممے بھی شرٹ میں گھوم رہے تھے میں واضح طور محسوس کر سکتا تھا کہ اس نے نیچے برا نہیں پہنی ہوئی۔۔۔۔