عابد نے خنجر مانی کے مارا مانی نے ٹریگر پر انگلی دبا دی گولی بھی چلی لیکن گولی ہوا میں چلی لیکن خنجر مانی کے کندھے پیوست ہو گیا عابد رکا نہیں اس کے خنجر کو گھما کر نکالا مانی درد سے چیخ رہا تھا سب لوگ وہاں سے تتر بتر ہو گئے ہم بھی عابد کو لے کر نکلنے لگے مانی کا تکلیف ذدہ چہرہ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا میں نے موبائل نکالا اور 15 پر کال کر دی میں بجی وہاں سے کھسک گیا میں 15 پر یہ بتایا کہ پارک میں گولی چلنے کی آواز آئی ہے۔۔۔۔
ہم وہاں سے سیدھے کالج آئے پرویز صاحب کو ساری صورتحال بتائی انہوں نے حوصلہ رکھنے کی تلقین کی اور کہا ایسا تو ہونا ہی تھا اس طرح ہی کالج میں پڑھائی کا ماحول بن سکتا تھا جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے عابدکو انہوں نے کہا تم کچھ دن کالج نہ آنا کہیں غائب ہو جاؤ معاملہ دب جائے اس کے بعد آنا شروع کر دینا۔۔۔۔
عابد کافی پریشان دکھائی دے رہا تھا اس کو ہم نے تسلی دی کہ اگر پولیس ہم سے پوچھے گی تو بات سامنے ہے اس نے پہلے پستول تانا تھا پھر پستول اس کے ہاتھ میں تھا عاذب جو سب سے سمجھدار تھا اس نے کہا دیکھ عابد سیلف ڈیفنس کا کیس ہے سیدھا سادہ اس نے فائر کیا تم نے اپنے بچاؤ میں خنجر مار دیا بس اتنی سے بات ہے ہم کسی اچھے سے وکیل سے بات کر لیں گے بے فکر ہو جاؤ۔۔۔۔
عابد وہاں سے چلا گیا آج کا دن تو خراب ہو ہی چکا تھا پولیس کالج آئی معاملات کی تحقیقات کے لیے پرنسپل صاحب واضح کر دیا کہ مانی تو ہمارے کالج کا سٹوڈنٹ ہی نہیں تو یہ کالج کی لڑائی کیسے ہو سکتی ہے اس کی وجہ کوئی اور ہو گی آپ اس پر تحقیقات کریں پولیس نے ہم سے بھی پوچھ گچھ ہم نے بس یہ بتایا کہ وہ کالج میں آیا تھاتو کالج کے لڑکوں نے اس کو یہاں سے ماربھگایا تھا اس کے بعد کیا ہوا ہم نہیں جانتے۔۔۔۔
ابتدائی تفتیش تھی پولیس نے بھی زیادہ ٹائم نہیں لگایا پرسنل صاحب پولیس انسپکٹر کو واضح کر دیا کہ کالج ہے یہاں پر پولیس کا بار بار آنا ہمیں بلکل پسند نہیں جو بھی پوچھ گچھ ہو وہ آپ جس سے بھی کریں کالج کے باہر کریں کالج میں آنے کی ضرورت نہیں کالج کے امیج پر برا اثر پڑے گا۔۔۔
انسپکٹر سب کچھ سن کر سر ہلاتا ہوا چلا گیا پرویز صاحب کا اس میں بڑا کردار تھا انہوں نے ہی پولیس کو ایسا کہنے کے لیے پرنسپل کو مجبور کیا تھا پولیس کے جانے کے بعد ہم کینٹین پر گئے اب میں اور شاہد ہی رہ گئے تھے کیونکہ عاذب کا لیکچر سٹارٹ ہو گیا تھا ۔۔۔
کینٹین میں حسب معمول رونق لگی تھی کافی لڑکے خوش گپیوں میں مصروف تھے ہمیں دیکھ کر وہ کافی مرعوب ہو جاتے تھے اتنی جلدی ایسا نام بن گیا تھا اس کی وجہ آتے ہی سب کے سامنے اکڑ کر کھڑے ہو جانا تھا پھر اوپر سے شاہد جیسے دوست سب سے بڑی وجہ بھا ہاشم کا نام تھا جس کی وجہ سے کالج میں بڑے بڑے نام بھی مجھ سے پنگا نہیں لیتے تھے مانی جیسے لوگ بھی میرا لحاظ کرتے تھے۔۔۔۔
ہم نے چائے کا آرڈر کیا ہم ہمیشہ ایک کونے میں بیٹھتے تھے وہاں ارد گرد کوئی نہیں بیٹھتا تھا ہم باتوں میں مصروف تھے کہ ایک سریلی سی آواز میرے کانوں میں پڑی ہیلو بلو جی آپ سے بات کرنی ہے کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں میرے ساتھ ساتھ شاہد نے بھی ایک دم چونک کر اوپر دیکھا بڑی بڑی جھیل سی آنکھیں جن فکر مندی جھلک رہی تھی چہرہ نقاب سے ڈھکا تھا۔۔۔۔
خوشبو کے جھونکے میرے نتھنوں سے ٹکرا رہے تھے حجاب میں بھی اس کے حسن کا اندازہ ہو رہا تھا وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی میں یہ بھول گیا کہ اس نے مجھ سے بیٹھنے کی اجازت مانگی تھی میں منہ کھولے اسی کو دیکھ رہا تھا اس نے پھر پوچھا کیا میں بیٹھ سکتی ہوں میں نے ٹرانس کے زیر اثر سر ہلا دیا ۔۔۔۔
وہ ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اس نے بیٹھتے ہی کینٹین بوائے کی طرف دیکھا کینٹین بوائے دو کپ ٹرے میں سجائے ہوئے ہماری ٹیبل پر آیا اس نے میرے اور شاہد کے سامنے کپ رکھے مڑنے لگا تو میں کہا ایک منٹ اس لڑکی سے پوچھا آپ کیا لیں گی اس نے زیرلب کچھ کہا مجھے سنائی نہ دیا لیکن ایسا لگا جیسے اس نے کہا آپ کا دل میں نے اس سے پوچھا کیا کہا۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا کچھ نہیں میں کچھ نہیں لوں گی امید ہے برا نہیں مانیں گے میں اوکے کہا وہ لڑکا چلا گیا اس نے کچھ لمحے میرے طرف دیکھنے کے بعد کہا آپ نے کالج میں ایک اچھی شروعات کی ہیں اس پڑ ڈٹے رہیں ہمارے بلاک کی طرف سے آپ کو بھرپور تعاون ملے گا مالی اخلاقی جو بھی ہم کر سکیں گی۔۔۔۔
سب لڑکیاں آپ کی وجہ سے خود کو محفوظ محسوس کر رہی ہیں میں حیران ہو رہا تھا کہ ایسا کیا ہو جس کی وجہ سے وہ میری تعریف کر رہی تھی اگر اس کو پتہ چل گیا کہ میں کتنا بڑا چودو ہوں تو اس نے میرے منہ پر تھوکنا بھی نہیں میں بس سنے جا رہا تھا شاہد زیر لب ہنس رہا تھا ۔۔۔۔
اس لڑکی نے شاید شاہد کی ہنسی محسوس کر لی تھی اس نے شاہد کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہا آپ کو پتہ ہی نہیں آپ نے ہماری کتنی بڑی مشکل آسان کر دی ہے اگر پہلے والے حالات ہوتے تو ہم یہاں کینٹین میں نہیں آسکتی تھیں آج میں اکیلی آئی ہوں کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ کوئی میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔۔۔۔
میں نے پوچھ ہی لیا اچھا آپ کے بقول یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے اس نے کہا بالکل آپ کی وجہ سے ایسا ہوا ہے میں نے ہاتھ سے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے آنکھیں میچ کر کہا چہرے سے بھی حیرانی کا اظہار کیا اور پوچھا وہ کیسے۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا آپ کو یاد نہیں اس دن صبح کے وقت آپ نے کسی کے ساتھ جھگڑا کیا تھا میں نے کہا ہاں ہوا تھا لیکن وہ ٹو معاملہ ختم ہو گیا تھا اس کا اس سے کیا لینا دینا اس نے کہا وہی ہی تو اصل بات ہے کالج میں لڑکے ایسے ایسے آتے تھے جو کالج کے طالب علم بھی نہیں تھے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں آجاتے اور ہمیں تنگ کرتے تھے۔۔۔۔
آج جو ہوا کسی کو اندر نہیں آنے دیا گیا یہ بھی اور اس دن والا لڑکا بھی کالج کا حصہ نہیں تھا وہ خود کو ہمارے بلاک کا بتاتا تھا لیکن آتا صرف لڑکیاں تاڑنے تھا اس نے کئی لڑکیوں سے بدتمیزی کی تھی اس کی شکایتیں بھی لگائی گئیں لیکن اس کو ساتھ لانے والے پھر لے آتے تھے کیونکہ کوئی ان کو روک نہیں پاتا تھا ۔۔۔
اس کا ہمارے بلاک کے سب لڑکوں پر دبدبا تھا سب ڈرتے تھے لیکن جس دن آپ نے اس کی بھگا بھگا کر چھترول کی اسی دن لڑکیوں نے بھی اس کو اپنے جوتوں سے مارا تھا اور اسے کے منہ پر لپ سٹک لگا دی تھی وہ منہ چھپا کر بھاگ گیا تھا اس کے بعد وہ کالج میں دکھائی نہیں دیا۔۔۔
ایک اور بات بھی کرنی ہے آپ سے لیکن وہ ذرہ پرسنل قسم کی ہے پھر کبھی کروں گی آج سے ہمارا کالج پڑھائی کا مرکز ہو گا مجھے یقین ہے آپ اس کالج کی رونقیں بحال کریں گے میں نے سنا ہے یہاں سے بہت سے لوگ پڑھ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں کئی تو وزیر بھی ہیں دنیا کے کونے کونے میں اچھے اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔۔۔
اس کے علاوہ ہمارے کالج نے بہت سے کھلاڑی پیدا کیے ہیں مجھے دوسرا سال ہو گیا میں نے یہاں کسی قسم کی کوئی سپورٹس ایکٹویٹی ہوتے نہیں دیکھی اب ایسا بھی ہونا چاہئیے کالج تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہوتا ہے یہاں سے بچے زندگی کے تجربات بھی سیکھتے ہیں۔۔۔۔۔
آپ بھی کہیں گے میں تقریر کرنے لگ گئی ہوں میں چلتی ہوں میں نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ اچھا بولتی ہیں آپ کی باتوں میں سچائی ہے لیکن ایک بات آپ نے اندازے سے کہی میں نے اس کے لڑائی کسی اور وجہ سے کی تھی باقی جو آپ نے کہا میرا اس میں کوئی کردار نہیں ہے یہ سب بس ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا جیسا سوچا تھا ویسے ہی ہو وہ صحیح کہہ رہی تھی اچھا میں چلتی ہوں اپنا خیال رکھیے گا کسی کو آپ کی بڑی فکر رہتی ہے نے بھی مسکراتے ہوئے کہا اس کو کہنا میری فکر کرنے والا کوئی اور بھی ہے کہاں ہے کیسا ہے میں نہیں جانتا لیکن اس کو میری فکر سب سے زیادہ ہے ۔۔۔۔
وہ اس بات پر کچھ نہ بولی بس پیچھے ہٹی اپنا حجاب سنبھال کر چلنے لگی پھر رک کر واپس آئی دو قدم دور رک کر کہا میں آپ کا پیغام اس تک پہنچا دوں گی کہ آپ کی زندگی میں کوئی اور جگہ بنا چکا ہے اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اگر کوئی اور پیغام دینا ہو تو وہ بھی بتا دیں کیونکہ ہو سکتا ہے اس کے بعد مجھے یہاں آنے کے لیے یا آپ سے ملنے کے پاپڑ بیلنے پڑیں۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا اور کہا نہیں میں کوئی پیغام نہیں دینا اور دوں بھی کیسے نہ دیکھا نہ ملا تو میں کیا جانوں وہ کون کیسی دکھتی ہے اس کی سوچ کیا ہے اس کے خیالات میں میں کہاں تک ہوں میں ایک سیدھا سادہ پینڈو ہوں وہ کوئی ماڈرن نکلی تو میں کیا کر پاؤں گا ۔۔۔
ہاں ایک اور بات میں کوئی اچھا انسان نہیں ہوں انجانے میں اگر کوئی اچھا کام ہو گیا تو مجھے اچھا انسان سمجھنے کی غلطی نہ کریں اگر میری حقیقت سے واقف ہو جاؤ تو آپ سب لڑکیوں کو نصیحت کرتی نظر آئیں گی اس لیے اس کو یہ سمجھا دیں کہ میرے بارے میں سوچنا بیکار ہے ۔۔۔۔
اس نے ایک لفظ بھی نہ کہا بس سر ہلاتی چلی گئی اس کی چال میں بھی ایک ادا تھی میرا ٹھرک پن ایسا تھا کہ میں نے پیچھے اس کو دیکھ کر اس عبایا میں چھپے بدن کا اندازہ لگانا شروع کر دیا تھا شاہد جو اتنی دیر سے چپ بیٹھا تھا اس کے جانے کے بعد بولا سالیا یہ سب کیا ہے کوئی خود آ کر کہے کہ وہ تم سے پیار کرتی ہے اور اس کو انکار کر دے ایسا کوئی میں نے آج تک نہیں دیکھا اور تم ۔۔۔۔۔
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے جگر اگر ابھی سے میں پٹڑی سے اتر گیا تو کالج میں سارا معاملہ گڑ بڑ ہو جائے گا ویسے بھی میں وہ نہیں ہوں جو وہ سمجھ رہی ہے اور جہاں تک میں نے اس کی باتوں سے اندازہ لگایا ہے یہ وہی ہے جو ہماری چائے کے پیسے دیتی ہے کسی اور کا سہارہ لے کر جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ میرا کسی سے چکر ہے یا نہیں ۔۔۔
میں نے اس کو ڈبل مائنڈڈ کر دیا اب وہ سوچتی رہے گی کہ اس کا کسی سے چکر ہے یا نہیں یا وہ جان بوجھ کر مجھ سے بات نہیں کرنا چاہ رہا اسی لڑکیاں جلدی جان نہیں چھوڑتیں پھر اوپر سے وہ مجھ سے عمر میں بڑی ہے اس کی خواہش صرف دوستی نہیں ہو گی ۔۔۔
شاہد نے میرے کندھے پر مکا مارتے ہوئے کہا تو بڑی کتی شے ہے باقی کا وقت ایسے ہی گزر گیا کچھ لیکچرز لیے میں لیکچرز میں بھی اس لڑکے کی باتوں پر غور کرتا رہا وہ جو کہہ رہی تھی اس نے کھل کر نہیں کہا یا جو کہنا چاہتی تھی وہ کہہ نہیں پائی اس کے الفاظ کو ذہن میں دوہراتا رہا ۔۔۔۔
میں نے کلاس سے فارغ ہو کر عاذب کو ڈھونڈا اس سے پوچھا یار کالج میں کوئی سپورٹس وغیرہ بھی ہوتی ہیں یا نہیں اس ںے کہا آخری بار تین سال پہلے ہوئی تھیں اس کے بعد سے مانی آیا اس نے سب کچھ ختم کروا کر رکھ دیا گراؤنڈ جو کھیلنے کے لیے ہیں اب وہاں لڑائیاں ہوتی ہیں جھگڑے ہوتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ وہاں بیٹھ کر لڑکے نشہ کرتے بھی پائے گئےہیں۔۔۔۔
عاذب کی باتیں سن کر میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا اب کالج میں مانی نہیں تھا اس کے آوارہ لوفر دوست جو کالج میں پڑھنے کے لیے نہیں آتے بلکہ یہاں اپنا کاروبار چلا رہے تھے وہ کالج میں نشہ بیچتے تھے ان کے پیچھے بھی کئی بڑے لوگوں کا ہاتھ تھا یہ ساری باتیں مجھے عاذب نے بتائیں اس نے مجھے ان باتوں سے دور رہنے کا کہا ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ تو نے ماننا تو ہے نہیں کیونکہ تمہارا خون ہی ایسا ہے جو بات ٹھان لیتے ہو اس پر ہی لگے رہتے ہو ۔۔۔۔
اس کا اشارہ بھا ہاشم کی طرف تھا میں نے عاذب سے پوچھا کیا بھا ہاشم نے ان کے لوگوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تھا عاذب نے بتایا کہ ایکشن کی بات کرتے ہو اس نے تو ان سب کے پٹھے چک دئیے تھے لیکن اس وقت اتنے پاورفل لوگ شامل نہیں تھے اب تو یہاں باقاعدہ منظم طریقے سے سب کچھ ہو رہا ہے ان لوگوں نے نئے لڑکے رکھے ہوئے ہیں جو کالج کے ہی سٹوڈنٹ ہیں وہ بیچتے ہیں ۔۔۔
میں یہ سب سنتا رہا سوچتا رہا کیا کرنا چاہئیے شاہد بھی اس بارے میں غور کرتا رہا اس نے کہا اب اگر یہ سب بند کروانا ہے تو کیچڑ میں اترنا پڑے گا اس کے لیے ہمیں باقاعدہ منظم ہونا پڑے گا وہ لڑکے چاہئیں جو سلجھے ہوئے ہوں جو ایسی کسی لت میں نہ پڑ سکیں اس کے لیے ہر ایک بھروسہ بھی نہیں کیا جا سکتا ہمارے قریبی لوگوں میں سے چننے ہوں گے ۔۔۔۔
شاہد نے ایک اور بات بتائی کہ ایم اے بلاک میں بھی یہ سب چل رہا ہے اس کو اس کی دوست نے بتایا جس کی کزن یہاں پڑھتی ہے اس لڑکی کو بھی لگانے کی کوشش کی گئی میری لیے یہ بات بالکل حیران کن تھی میں کس بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتا تھا وہاں تو مرد بھی اگر شراب وغیرہ پی لیتا تھا اس کو برا بھلا کہا جاتا تھا اور عورت یا لڑکی کے بارے میں تو سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔۔
یہاں کالج میں یہ سب اور وہ کر رہے تھے جو ۔۔۔۔ میرا تو سوچ کر دماغ پھٹنے والا ہو گیا میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس گند میں اترنا ہی ہوگا جو بھی ہو جائے اب نہیں رکنا اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑ جائے کر کے ہی رہوں گا میں عاذب ،شاہد بیٹھ کر پلاننگ کرنے لگے ۔۔۔
عاذب ان لوگوں کے بارے میں اچھے سے جانتا تھا شاہد کے دوست پڑنے بھڑنے والے تھے جیسے ناصر بلی جو کہ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد چلا گیا تھا اس کے جیسے کئی دوست تھے شاہد سکول سے ہی لڑائی جھگڑوں میں پڑا رہتا تھا ایک اس کا دوست ارشد تھا جس کو جنگلی کہا جاتا تھا وہ تو بالکل وحشی ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
میں نے شاہد سے اس کے بارے میں پوچھا اس نے بتایا کہ داخلہ اس نے لیا ہے ایک دو دن تک وہ کالج آنے لگ جائے گا وہ اس بات کی وجہ سے نہیں آرہا کہ کوئی اس کو تنگ کرےگا تو لڑائی ہو جائے گی دوسرا اس کے باپ نے بھی اس کو کچھ دن نہ آنے کا کہا ہے ۔۔۔
میں نے شاہد کو کہا اس کو کہو آنے لگ جائے جو بھی دوست کالج میں ہیں سب کو بلا لو کل کرکٹ میچ کھیلتے ہیں عاذب کی ٹیم کے ساتھ دیکھتے ہیں کتنا دم خم ہے ان ایم اے والوں میں کیوں عاذب کیا خیال ہے اس نے حامی بھر لی ہم نے پرویز صاحب سے اجازت لے کر نوٹس بورڈ پر چپکا دیا کل ہماری فرسٹ ائیر کی ٹیم کا ایم اے کی ٹیم سے میچ ہو گا اس کے بعد اگلے میچ کے لیے بی اے اور سیکنڈ ائیر کا بھی لگا دیا۔۔۔
وقت اور تاریخ وہ خود طے کریں گے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اب کر ہفتے میں ایک دن میچ ہوا کرے گا جو بھی حصہ لینا چاہے وہ ہم سے رابطہ کر لے کل کا میچ سب دیکھیں اور کالج میں سپورٹس کی سرگرمیوں کی بحالی میں تعاون کریں ایسے الفاظ کے ساتھ نوٹس لگا تھا۔۔۔۔
ہم نے اپنی مرضی کے کھلاڑی چنے شاہد کو کپتان بنایا کیونکہ وہ کافی لڑکوں کو کرکٹ کے حوالے سے جانتا تھا میں بھی جانتا تھا لیکن چھوٹے پیمانے پر یہ میچ جن کے ساتھ تھا وہ نہ صرف ہم سے بڑے تھے بلکہ تجربہ کار بھی زیادہ تھے ۔۔۔
ہم نے پلاننگ کر لی شاہد نے لڑکے چن لیے میں نے شاہد کو اقر دوسرے لڑکوں کو جن کے پاس موبائل تھا اپنا نمبر دیا ان کا نمبر لیا کالج کا وقت ختم ہو گیا میں پیدل آتا تھا اس لیے پیدل ہی چل پڑا ہم لوگ تقریباً سارے بچوں کے جانے کے بعد نکلے تھے اس لیے کالج سنسان ہو گیا تھا ۔۔۔۔
شاہد اپنے رستے بس سٹاپ کی طرف بڑھ گیا میں اپنے رستے پر گھر کی طرف چل پڑا تھوڑی دور ہی گیا تھا میرے پاس گاڑی کا ہارن ہوا میں نے رک کر دیکھا تو ڈاکٹر آنٹی تھی اس نے دروزہ کھولا میں گاڑی میں بیٹھ گیا اس نے گاڑی آگے بڑھا دی اور وہ بڑی دلکش مسکراہٹ سے مجھے دیکھتے ہوئے گاڑی چلا رہی تھی۔۔۔۔
ڈاکٹر آنٹی نے مجھ سے پوچھا سناؤ کالج کیسا جا رہا ہے میں نے زبردست مزہ آرہا ہے کالج میں آپ سناو ہسپتال نہیں گئیں اس نے کہا ہسپتال سے ہی نکلی ہوں میں سوچا تم پیدل جا رہے ہو گے تمہیں گھر تک چھوڑ دوں میں نے کہا واہ جی واہ اتنی نوازش وہ بھی میرے لیے جو آپ کے بقول بڑا ظالم ہے تو اس ظالم کے لیے اتنی نوازشیں ۔۔۔۔
وہ کھلکھلا کر ہنسی اور کہا ایسے ظالم ہر عورت کو پسند ہوتے ہیں میں بھی ہنسنے لگا ٹاؤن سے پہلے گاڑی روک کر مجھے کہنے لگی میں نے یہاں سے اس طرف جانا ہے تم آگے چلے جاؤ گے ناں میں نے کہا ہاں کیوں نہیں میں چلا جاؤں گا میں اترنے لگا تو ایسے ہی پچھلی سیٹ پر دیکھا تو وہاں کارٹن پڑے تھے مجھے وہ عجیب سے لگے لیکن میں نے ان کا کیا کرنا تھا اس لیے چپ کرکے اتر گیا اس نے گاڑی کو موڑ لیا لیکن مڑتے ہوئے جب میں نے پچھلی سیٹ کر دیکھا تو وہاں جو کارٹن تھے میں بوتلیں تھیں۔۔۔۔
میں دماغ پر غور دیتا ہوا گھر جانے لگا ایسی بوتل میں نے کہاں دیکھی ہے لیکن یاد نہ آیا میں گھر پہنچ گیا گھر جا کر نہا کر لیٹ گیا کچھ ہی دیر میں نیند آگئی پھر امی کے اٹھانے پر ہی آنکھ کھلی جب سو کر اٹھ گیا تو بھا ہاشم نے مجھے بلایا اور گھر سے باہر لے گیا مارکیٹ میں جا کر مجھ سے کالج میں آج جو کچھ ہوا اس کے بارے میں پوچھنے لگا میں سب کچھ سچ سچ بتا دیا اس نے ہممم کیا ۔۔۔
مجھ سے کہا تم بے فکر رہو کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا تم کل کالج میں شاہ زیب سے ملنا اس کو میرا بتانا کوئی بھی مسئلہ ہوا تو وہ سنبھال لے گا پھر میرے سامنے ہی بھا نے ایک نمبر ملایا اس کا حال چال پوچھا اس کے بعد میرا نام لے کر اس کو بتایا کہ میرا بھائی ہے خیال رکھنا پھر دوسری طرف کی بات سننے لگا اور میری طرف حیرت سے دیکھنے لگا بھا کے ایکسپریشن دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ میرے بارے میں ہی بات ہو رہی ہے اب یہ شاہ زیب کون ہے اور بھا کو وہ کیا بتا رہا ہے ۔۔۔۔
میں ڈر بھی رہا تھا پتہ نہیں وہ بھا کو کیا بتا رہا ہے میں دائیں بائیں دیکھنے لگا مجھے تہمینہ نظر آئی وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی وہ دوکان سے کوئی سامان لینے آئی تھی اس نے مجھے اشارے سے کچھ کہا میرے پلے کچھ نہ پڑا میں ہلنے لگا تو بھا نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے روک لیا اور کہنے لگا آخر بھائی کس کا ہے ۔۔۔
ہاں ہاں بس اس کا خیال رکھنا باقی جیسا تم کہہ رہے ہو وہ خود ہی سنبھال لے گا لیکن تم جانتے تو ہو وہاں کیسے کیسے مگر مچھ منہ پھیلائے ہوتے ہیں۔۔۔۔
پھر بھی یار دھیان رکھنا ابھی بچہ ہے کہیں کوئی غلطی نہ کر بیٹھے یا یہ خیال رکھنا کہیں استعمال تو نہیں ہو رہا ہممم۔۔۔اچھا۔۔۔اوہ نہیں یار کیا کہہ رہے ہو ہیییں کیییا چلو ٹھیک ہے میں نے اس کو کہا ہے وہ کل تم سے ملے گا ٹھیک ہے اوکے پھر بھا نے فون بند کر دیا اور مجھے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔
دیکھو جو تم کالج میں کر رہے ہو وہ بھی اتنے دنوں میں کیا ہے تمہارے جاتے ہی اتنا کچھ ہو گیا اور مجھے پتہ تک نہیں چار دن ہوئے ہیں تمہیں کالج جاتے ہوئے ان چار دنوں میں کیا کر دیا ہے تم نے میں نے جس سے بھی بات کی ہے وہ تمہاری ہی باتیں کر رہا ہے ۔۔۔
دیکھو تم کالج پڑھنے جاتے ہو اپنی پڑھائی پر توجہ دو باقی سب کرنے کی کیا ضرورت ہے میں نے کہا میں تو اسی نیت سے گیا تھا بس پہلے دن جو کچھ ہوا اس کے بعد خود بخود ہی آگے بڑھنے لگا مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی خاص طور پر جب میری سامنے ہو رہی ہو میرے ساتھ کوئی غلط کرے تو برداشت ہو سکتا ہے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کر رہا ہو برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
بھا نے کہا یہ جو کچھ آج ہوا ہے اگر اس پر غور کریں تو اس کی وجہ بھی تم ہو نہ تم وہ پلان بناتے نہ یہ سب ہوتا وہ مانی بھی دماغ سے پیدل ہے اس نے مجھے فون کیا تھا آج میں نے اس کو کہا بھی تھا کہ چپ کرکے واپس آجائے لیکن اس نے اپنی چول مار ہی دی۔۔۔
عابد اچھا لڑکا ہے لیکن اس کو بھی یہ سب لے ڈوبا اب تو اس کی زندگی برباد ہو جائے گی یہ کیس ختم نہیں ہوگا پڑھائی ختم کیریئر برباد بس عدالتوں کے چکر کاٹتا رہ جائے گا ایک بات کا خیال رہے ابھی جو تم سوچ رہے ہو منشیات فروشوں والا پنگا نہہں ڈالنا کچھ دن انتظار کرو تم بہت جلد نظروں میں آگئے ہو ایسا کرنے کے لیے وقت لگتا ہے ۔۔۔۔
جب بندہ نظروں میں آ جائے تو بچاؤ مشکل ہو جاتا ہے اور ایک بات بات دوں تم ریحان سے دوستی نہ رکھو اگر یہ سب کرنے والے ہو تو جب گھر آو تو دھیان سے آیا کرو آج کل تمہاری سرگرمیاں مشکوک ہو گئی ہیں رپورٹس اچھی نہیں ہیں ان سب کاموں سے بچ کر رہو خاص کر جہاں تم کل شام کو تھے وہاں سے بچ کر ۔۔۔۔
بھا اتنا کچھ جانتا ہے میرے بارے میں میرے لیے یہ حیران کن بات تھی بھا تو کل رات گھر بھی نہیں تھا پھر بھی اس کو سب پتہ تھا میں نے حیرانی چھپا لی نہ تردید کی اور نہ کی تصدیق بس سر جھکائے کھڑا رہا بھا نے کہا چلو اب جاؤ ٹیوشن بھی جانا ہے اور ہاں پرویز صاحب کو بھی اپنا تعارف کرو دینا میرے حوالے سے ۔۔۔۔
میں نے ٹھیک ہے کہا اور وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی بھا اتنا کچھ کیسے جان گیا تھا کالج کا تو مان لیا کہ اس کے دوست وہاں ہیں لیکن کل شام کو میں آنٹی کی پھدی وجا رہا تھا یہ تو وہ ہی جانتی تھی میں نے اچھے سے دیکھا تھا گلی میں کوئی نہیں تھا پھر بھی اس کو پتہ چل گیا تھا۔۔۔۔
میں یہ سب سوچتا ہوا گھر آیا کھانا کھا کر ٹیوشن چلا گیا ہمارے ٹاؤن کا ایک لڑکا بائیک پر جاتا تھا وہ مجھے مل گیا اس کے ساتھ جلدی پہنچ گیا جب ہم اکیڈمی پہنچے تو وہاں تالا دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی۔۔۔
میں جہاں تک سنا تھا اس اکیڈمی میں کبھی چھٹی نہیں ہوتی تھی اس لیے کافی حیران ہوا تھا ہم وہاں ایسے ہی کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگے وہاں اور بھی لڑکے آنے لگے ایک لڑکا پرویز صاحب کا ہمسایہ تھا اس نے بتایا کہ پرویز صاحب کو پولیس نے تھانے بلایا ہے ہم نے کوئی بات نہ سنی اسی وقت سب لڑکے نکلنے لگے ایک سمجھدار لڑکا بولا یار ایسے نہیں اور لڑکوں کو بھی اکٹھا کرتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں۔۔۔
سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ ایسا ہی کرتے ہیں میں نے شاہد کو فون کیا ساری بات بتائی عاذب سے بات ہوئی اس نے کہا کچھ بھی نہیں کرنا میں آ رہا ہوں میرا انتظار کرو ایسا کرو وہاں سے سٹیڈیم میں آ جاؤ سب لوگ وہاں آ کر بات کرتے ہیں پھر دیکھتے ہیں معاملہ کیا ہے شاہد عاذب سے پہلے پہنچ گیا وہ کہیں قریب ہی تھا اس کے ساتھ چار پانچ اور لڑکے بھی تھے ۔۔۔
ہم سٹیڈیم میں اکٹھے ہونے لگے ہمیں آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ وہاں کوئی پانچ سو کے قریب لڑکا اکٹھا ہو گیا جن میں سارے گروپس کے لڑکے شامل تھے عاذب نے مشورہ دیا کہ ہم چند لڑکے جا کر پتہ کرتے ہیں اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو آپ لوگوں کو بھی بلا لیں گے ایسے کوئی ہنگامہ نہیں کرتے پہلے صورتحال کا تو پتہ چلے ہو سکتا ہے بات کچھ اور ہو۔۔۔
عاذب میں اور شاہد ایک بائیک پر سوار ہوئے ساتھ تین لڑکے اور الگ بائیک پر سوار ہو گئے وہاں موجود لڑکوں میں سے ایک کا نمبر شاہد نے موبائل میں سیو کیا اور ہم تھانے پہنچ گئے عاذب ایک سمجھدار سلجھا ہوا لڑکا تھا اس ایسے معاملات کا پہلے سے ہی کافی تجربہ تھا ہم تھانے کے اندر گئے تو پتہ چلا کہ پرویز صاحب کو تھانے دار نے معاملے کی اصل وجہ جاننے کے لیے بلایا تھا اور وہ وہاں سے نکلنے ہی والے تھے ۔۔۔۔
ہمیں وہاں دیکھ کر پرویز صاحب کو تھانے دار نے جانے کا کہا اور ساتھ یہ بھی کہا سر آپ جلدی جائیں کہیں بچے ہنگامہ آرائی پر ہی نہ اتر آئیں آپ قوم کے معمار ہیں میں اساتذہ کی عزت کرتا ہوں میں تو خود آنا چاہتا تھا لیکن میری مجبوری تھی جو آپ کو بتا دی پرویز صاحب نے ان سے اجازت لی اور باہر آ گئے ابھی ہم تھانے سے باہر ہی نکلے تھے کہ لڑکوں کا ہجوم آتا دکھائی دیا ۔۔۔
پرویز صاحب خود آگے بڑھے اور ان کو واپسی کا کہا سب بہت غصے میں تھے ہمارے لیے یہ حیرانی کی بات تھی کہ ہم تو ان کو وہاں روک کر آئے تھے تو یہ کیوں آئے اس کی وجہ تو بعد میں معلوم کی جا سکتی تھی ابھی یہاں سے جانا ضروری تھا پرویز صاحب نے سب کو واپس جانے کا کہا اور خود بھی اپنی سائیکل پر چل پڑے ۔۔۔
میں یہاں بتاتا چلوں پرویز صاحب اس وقت بھی سائیکل پر ہوتے تھے اور آج بھی جب ان کو ملتا ہوں تو وہ سائیکل پر ہی ہوتے ہیں مجھے کافی حیرانی ہوتی ہے اس بات پر تب تو ان کی تنخواہ بہت کم ہوتی تھی لیکن اب تو کالج کے پرنسپل ہیں پھر بھی سائیکل پر کالج جا رہے ہوتے ہیں جب ہر دوسرا بندہ بائیک لیے گھوم رہا ہے ۔۔۔
ایک دن میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ سر اب تو آپ بائیک لے ہی لیں تو انہوں نے کہا جس دن میں نے سائیکل چھوڑا اس دن میں ناکارہ ہو جاؤں گا سائیکل میری مجبوری ہے میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا انہوں نے بتایا کہ ان کو اس سائیکل سے ہی سب کچھ ملا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سائیکل میرے ابا کی یاد دلاتا ہے وہ ساری زندگی اس سائیکل پر مجھے پڑھانے کے لیے پھل بیچا کرتے تھے گرمی ہو یا سردی وہ چھٹی نہیں کرتے تھے ۔۔۔
ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ کافی غمزدہ نظر آئے اپنے باپ کی محنت جو اس نے پرویز صاحب کو پڑھانے کے لیے کی تھی وہ بڑھاپے میں بھی نہیں بھولے تھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں جب سائیکل چلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں تو یہ سوچ کر ہمت آتی ہے کہ میرا باپ کتنا مہان تھا جس نے مجھ سے نافرمان کے لیے اتنی محنت کی اور میں ان کے لیے کچھ بھی نہ کر سکا۔۔۔۔
اب وہ اتنے غمزدہ کیوں تھے اس کے پیچھے صرف اتنی سی بات تو ہو نہیں سکتی تھی نہ ہی میری ہمت ہوئی کہ ان سے مزید کچھ پوچھ سکوں وہ سائیکل کر سوار ہو کر ہمارے آگے آگے جانے لگے عجیب کی سماں تھا ایک استاد سائیکل پر سوار جا رہا ہے اس کے پیچھے ایک ہجوم ٹریفک کو جام کیے رواں دواں ہے سارا شہر رک رک کر دیکھ رہا تھا کمال ہے کہ پرویز صاحب نے مڑ کر بھی دیکھا ہو ۔۔۔۔
وہ تیز تیز سائیکل چلاتے جا رہے تھے ہم ام کے پیچھے پیچھے ہی چلتے رہے پیچھے آنے والی ساری ٹریفک مجبور تھی ان کو رستہ نہیں مل رہا تھا آگے چوک آیا جہاں ٹریفک وارڈن بھی شاید ان کا شاگرد تھا اس نے ہجوم دیکھ کر سارے اطراف کی ٹریفک روک دی اور اپنے استاد کو سلیوٹ کیا ۔۔۔۔
اس دن پورے شہر کو پتہ چلا کہ استاد کے احترام میں اس کے شاگرد اس کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں ہم جب تھانے سے نکلے تھے تو اتنی تعداد میں نہیں تھے سٹیڈیم میں اتنے کم وقت میں اتنے لڑکے اکٹھے ہوئے پھر تھانے تک پہنچے وہاں سے واپسی پر اور بھی لڑکے ملتے گئے روڈ بلاک ہوتا گیا۔۔۔۔
پرویز صاحب نے اپنا رخ سٹیڈیم کی طرف کیا وہاں جا کر وہ سائیکل سے اترے ایک لڑکے نے ان کی سائیکل پکڑی وہ ایک اونچی جگہ پر کھڑے ہو گئے سب لڑکوں کو گھر جانے کا کہا اور ساتھ یہ بھی نصیحت کی کہ کچھ بھی ہو جائے کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہونی چاہئیے۔۔۔۔
پولیس اپنا کام کر رہی ہے ان کو جو معلومات چاہئیے تھی میں نے دے دی ہیں اب وہ مجھے پھر بھی بلا سکتے ہیں لیکن ہر بار اس طرح شہر کے لوگوں کو تنگ کرنا اچھا نہیں لگتا اس لیے ایسا ہرگز نہیں کرنا اس کے بعد ان سے مزید بولا نہیں گیا وہ کافی جذباتی ہو گئے تھے ۔۔۔
سب لڑکوں کو جانے کا کہہ کر مجھے کہا جو لڑکے ٹیوشن پڑھتے ہیں انہیں اکیڈمی چلنے کا کہو اکیڈمی کھل گئی ہو گی میں ام کا پیغام دے دیا لڑکے ایک ایک کرکے وہاں سے جانے لگے میں ان نے ساتھ جانے لگا شاہد اور عاذب بھی جا رہے تھے پرویز صاحب نے ان کو روک لیا ۔۔۔
ہم پیدل ہی چل پڑے شاہد نے ان کی سائیکل پکڑ لی انہوں نے کہا مانی کو ہوش آگیا تھا اس نے عابد نے ساتھ کچھ اور لڑکوں کا بھی نام لیا ہے لیکن یہ کہا ہے وہ مجھ سے لڑنے نہیں آئے میری لڑائی صرف عابد سے تھی مجھے صرف اس لیے بلایا گیا تھا کہ میں ان کی مدد کروں لیکن میں نے انکار کر دیا ہے۔۔۔۔
عابد بھی پکڑا گیا ہے لیکن ان کے پاس گواہ جو ہیں وہ کالج کے لڑکے نہیں ہیں عابد کو سزا تو ہو گی میں نے کہا اگر ہم عابد کے حق میں گواہی دیں تو پھر کیسے ہو گی سزا پرویز صاحب بولے ایسا کیوں کرو گے تم لوگ بس جو ہو رہا ہے ہونے دو فضول کے پھڈے میں اپنی ٹانگ نہیں اڑاؤ جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے ۔۔۔۔
اس سے کالج کا ماحول ٹھیک کرنے کا موقع مل گیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں تم سب اچھے لڑکے ہو وہ بات کر رہے تھے میرا فون بجا میں نے رک کر فون دیکھا تو ڈاکٹر آنٹی کا تھا اس نے کہا کیا بات ہے پورا شہر ہی ہلا کر رکھ دیا تم لوگوں نے میں نے کہا میں فری ہو کر بات کرتا ہوں آنٹی نے کہا دھیان سے کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں پروفیسر کا خیال رکھنا۔۔۔۔
آنٹی کی بات پر غور نہ کیا اور ہم اکیڈمی پہنچ گئے وہاں پڑھائی تو کیا ہونی تھی بس کالج اور مانی اور عابد کی لڑائی کی باتیں ہوتی رہیں عاذب نے وہاں منشیات کی بات چھیڑ دی پرویز صاحب نے کہا دیکھو اگر کالج میں کچھ سکون ہے تو اس کے پیچھے بھی تم لوگوں جیسے بچوں کا ہاتھ ہے ورنہ یہ سیاستدان لوگ تو کب کا کالج کو کلب بنا چکے ہوتے۔۔۔۔
ہم نے کافی کریدا لیکن پرویز صاحب نے اس کے بعد اس موضوع پر بات نہ کی بس یہ ہی کہا کہ بہت سے لوگ ملوث ہیں اس سب میں اور اگر تم لوگوں نے کوئی قدم اٹھایا تو وہ تم لوگوں کے بھی پیچھے پڑ جائیں گے اس لیے ان باتوں کو چھوڑو اور پڑھائی پر فوکس کرو اب کالج میں کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہونی چاہئیے۔۔۔۔
پرویز صاحب کا رویہ یکدم بدل گیا تھا وہ کافی ٹینش میں آ گیے تھے ہمیں جانے کا کہہ کر وہ خود اپنے کمرے میں چلے گئے تھے جس کو وہ دفتر کے طور پر استعمال کرتے تھے ہم بھی وہاں سے نکل آئے میں نے عاذب سے پرویز صاحب کے رویے کی بات کی تو اس نے کہا صرف اکلوتے یہ ہی ہیں جو کالج میں ان کاموں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔۔۔۔
ان کو اکثر دھمکیاں بھی ملتی رہتی ہیں کئی دفعہ ان پر رات میں حملہ بھی ہو چکا ہے لیکن یہ کبھی ڈرے نہیں اج ان کا رویہ بتا رہا تھا کہ یہ کچھ زیادہ پریشان ہیں اس کے پیچھے مانی اور عابد کی لڑائی نہیں ہے بات کچھ اور ہے جو وہ ہم سے چھپا رہے ہیں۔۔۔
ہم سب بھی ایک ایک کرکے نکلنے لگے جب میں اور عاذب رہ گئے تو پرویز صاحب نے ہمیں اندر بلایا ہم گئے تو ان کے سامنے ایک فائل پڑی تھی جس میں کافی لوگوں کے نام تھے انہوں نے کہا دیکھو میں نہیں چاہتا تم لوگ کسی مصیبت میں پڑو اسلیے تم سب ان لوگوں سے دور رہو اور اگر کالج کا کوئی لڑکا ان سے ملتا نظر آئے تو اس کو سمجھانا تم لوگوں کا کام ہے۔۔۔۔
میں کافی زیادہ الجھ رہا تھا وہ خود ہی الجھے ہوئے تھے عاذب نے کہا ٹھیک ہے سر آپ آرام فرمائیں کل کالج میں ملاقات ہو گی۔ ہم بھی وہاں سے نکل آئے اور اپنے اپنے گھر کی راہ لی۔۔۔