پتر تو اتوار والے دن بھی پڑھن چلیا ایں خیر تاں اے امی کی ممتا تھی تڑپ اٹھی اس نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا اور پریشان ہوتے ہوئے کہنے لگیں بیٹا طبیعیت تاں ٹھیک اے۔۔۔
ابا جی اندر چلے گئے اور ٹی وی پر خبریں سننے لگے بھا ہاشم بھی ہنستا ہوں باہر نکل گیا۔۔۔
میں شرمندہ ہو کر رہ گیا کچھ دیر بعد میرے ٹاون کے دوستوں میں سے کچھ لڑکے آئے اور میں امی سے اجازت لے کر ان کے ساتھ چلا گیا کرکٹ کھیلنے۔۔۔
کرکٹ کھیل رہے گراؤنڈ وہی تھا ٹاؤن کے درمیان پارک والا طارق مجھے ایک کونے میں بیٹھا نظر آیا وہ کافی سیریس منہ بنائے بیٹھا تھا۔۔۔
اس کا منہ لٹکنا بنتا بھی تھا اس نے بڑا ذلیل کیا ہوا تھا ٹاؤن کی لڑکیوں کو یہ تو مجھے موبائل کے ڈیٹا سے پتہ چل چکا تھا۔۔۔
وہ بھی ریحان کا پارٹنر تھا مال سپلائی کرتا تھا اس نے کافی گھروں میں سرنگیں بنا رکھی تھیں۔۔۔
بہت بڑا لونڈے باز سمجھا جاتا تھا اس کو کئی دفعہ گراؤنڈ سے بھی نکالا گیا تھا۔۔۔
اس پر کسی نے کوئی توجہ نہ دی ہم کھیلتے رہے ہم کھیل ہی تھے میں بیٹنگ کر رہا تھا کہ یکدم طارق گالیاں دیتا ہوا میری طرف بڑھا ۔۔۔
میں گھوم کر دیکھا تو اس کے ہاتھ ایک ڈنڈا تھا وہ میری طرف بھاگتا آ رہا تھا۔۔۔
میں بھی سیدھا ہو گیا اور اس کی طرف منہ کر لیا۔۔۔
جو لڑکا وکٹ کیپر تھا وہ میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا طارق کے منہ میں جو کچھ آرہا تھا بک رہا تھا۔۔۔
میرے قریب آ کر اس نے ڈنڈا لہرایا میں نے بیٹ اٹھا کر ڈنڈے کو روکا اور بیٹ نیچے لا کر اس کی ٹانگ پر مارا۔۔۔
وہ جھکا میں نے اس کی کمر پر زور سے مارا وہ نیچے گرتا چلا گیا اس سے پہلے کہ میں مزید وار کرتا مجھے باقی لڑکوں نے پکڑ لیا اور اس کو اٹھا کر گراؤنڈ سے لے گئے۔۔۔
وہ جاتے جاتے جاتے بھی گالیاں بک رہا تھا۔۔۔
میں نے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکالا اس کے جانے کے بعد ہم نے کھیل کو دفعہ کیا کچھ دیر گپیں مارتے رہے اور اپنے اپنے گھر کو چل دئیے۔۔۔
گھر آ کر ایک بار پھر سے نہایا نہاتے ہوئے جب بال صاف کر رہا تھا تو لن صاحب نے سر اٹھا لیا ۔۔۔
نہانے کے بعد بھی اس نے بیٹھنے سے انکار کر دیا بڑی کوشش کی لیکن ارد گرد کی صفائی نے اس کو جوش چڑھا دیا تھا۔۔۔
انڈروئیر میں لن پھنسا ہوا تھا تھوڑی دیر میں ہی لن درد کرنے لگا گیا۔۔۔
میں گھر سے نکلا اور بسمہ آنٹی کے گھر کی طرف چل دیا ان کے گھر کی بیل بجائی لیکن کوئی جواب نہ ملا دو بار بیل دینے سے جب کوئی نہ آیا تو میں وہاں سے چل دیا۔۔۔
وہاں سے مایوس ہو کر میں نے راجباہ (چھوٹی نہر) کراس کی اور پار چلا گیا۔۔۔
مجھ پر اب پھدی سوار ہو چکی تھی دماغ میں پھدی کے علاوہ کچھ نہیں تھا میں جانتا تھاجب تک پھدی نہ ملی دماغ نے کام نہیں کرنا اور لن نے بیٹھنا نہیں۔۔۔
لن کی پیاس بجھانے کے لیے میں اس آنٹی کے گھر کی طرف چل پڑا جو کھیتوں میں گھاس کاٹتے ہوئے مجھ سے پھدی مروا چکی تھی۔۔۔
میں جس کو بھول چکا تھا لن کی گرمی نے وہ بھی یاد کرو دی وہ آنٹی یاد آئی تو سارا واقعہ یاد آیا کیسے خومے کی گانڈ مارنے کے لیے اس کو منا کر لے گیا تھا اور وہاں اس آنٹی نے اپنی پھدی کی پیاس بجھوا لی تھی۔۔۔
میں پگڈنڈی پر چلتے ہوئے اس کے کچے گھر کے سامنے کا پہنچا اکلوتا گھر تھا ۔۔۔
میں دروازہ کھٹکٹایا اندر سے آنٹی باہر آئی مجھے سامنے پا کر اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا ۔۔۔
اپنی آنکھیں ملنے لگی پھر بولی مجھے یقین نہیں آرہا تم ہو پھر اس نے اپنی انگلی کو دانتوں میں دبا کر کاٹا ۔۔۔
میں مسکرا رہا تھا اس نے نے مجھے اندر آنے کے لیے رستہ دیا میں اندر داخل ہوا۔۔۔
وہ مجھے کمرے میں لے گئی باہر والا دروازہ اندر سے بند کر دیا۔۔۔
خود میری پاس آئی مسکرا کر کہنے لگی میری یاد کیسے آ گئی ۔۔۔
میں نے بس ہنسنے پر ہی اکتفا کیا جس قدر میرا لن مجھے تنگ کر رہا تھا میرا تو دل کر رہا تھا کوئی بات کیے بغیر بس لن کو پھدی میں گھسا دوں۔۔۔
میں نے آگے بڑھ کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا وہ شرما سی گئی عورت ذات جتنی مرضی کھلے ذہن کی ہو کئی موقعوں پر وہ اپنے نسوانی پن سے مجبور ہو جاتی ہے۔۔۔
شرمانا عورت کا زیور ہے اگر عورت شرمانا چھوڑ دے تو اس کو کئی خطابات دئیے جاتے ہیں۔۔۔
اس نے شرما کر نظریں جھکا لیں میں نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا ۔۔۔
اس نے شرماتے ہوئے نظریں جھکائے رکھیں میں نے اپنے ہونٹ اس کی پیشانی پر پیوست کر دئیے۔۔۔
ایک بھرپور پاری کی اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لے کر سرخ ہوتے گال باری باری چومے۔۔۔
اس نے اپنی باہیں میرے گرد پھیلا کر مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا مجھے بھی اپنے ہاتھ اس کی کمر کے گرد کسنے پڑ گئے۔۔۔
اس کے بھاری بھاری پستان میری چھاتی میں دب گئے۔۔۔
اس کے ممے بڑے نرم تھے جسم گوشت سے بھرا ہوا تھا مجھے تو اب یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اس کی پھدی کیسی تھی ۔۔۔
دماغ پر ہوس سوار کو چکی تھی میں نے اپنے ہاتھ اس کے چوتڑوں پر رکھے اور ان کو دبانے لگا۔۔۔
دو منٹ میں ہی میرے ہاتھ اس کی قمیض کو اوپر اٹھا چکے تھے اس نے باہیں اوپر کرکے قمیض اتار دی ۔۔۔
میں نیچے جھکا اور اس کے پیٹ پر ہونٹ رکھ دئیے اور سفید پیٹ بالکل روئی کی طرح نرم تھا۔۔۔
اپنے ہونٹ سے چھوٹی چھوٹی پاریاں کرتے ہوئے میں اس کے مموں کے قریب پہنچ گیا۔۔۔
ممے برا میں قید تھے میں نے ہاتھ ایک ممے پر رکھا دوسرا ہاتھ نیچے اس کی شلوار کے نیفے پر لے گیا۔۔۔
شلوار کو نیچے سرکانے لگا مما بھی دبانے لگا ہونٹ مموں کے درمیانی لکیر پر رکھ دئیے ۔۔۔
زبان نکالی اور پھیرنے لگا اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر رکھ دئیے اور میرا سر دبانے لگی۔۔۔
شلوار جیسے کی نیچے سرکی میں نے ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ دئیے ۔۔۔
پھدی پانی سے نہائی ہوئی تھی میرا ہاتھ پانی سے بھیگ گیا۔۔۔
ایک انگلی پھدی کے لبوں میں گھسائی اس نے ٹانگیں آپس میں جوڑ لیں اور میرا ہاتھ دبا لیا۔۔۔
میں نے انگلی کو پھدی کے پردوں میں میں پھیرنا شروع کر دیا جیسے جیسے انگلی ہل رہی تھی ویسے ویسے وہ تڑپ رہی تھی۔۔۔
میں سیدھا کھڑا ہوا دائیں بائیں دیکھا ایک چارپائی نظر آئی اس کو چارپائی پر لے گیا اس نے بیٹھتے ہوئے خود ہی اہنی شلوار ٹانگیں سے نکال کر اتار دی۔۔۔
میں نے برا کی طرف دیکھا اس نے برا بھی اتار دی تب تک میں اپنا ٹراؤزر انڈروئیر سمیت اتار چکا تھا۔۔۔
میرا لمبا موٹا لن سیدھا پو کر لہرانے لگا وہ آنکھیں پھاڑے لن کو دیکھنے لگی۔۔۔
اس کو زیادہ موقع نہ دیا میں نے اس کو لٹاتے ہوئے اوپر آیا ۔۔۔
اس کی ٹانگیں کھول کر لن پھدی پر لگا لیا اپنا ایک ہاتھ دائیں ممے پر رکھ دیا اور دبانے لگا۔۔۔
بائیں ممے کو منہ میں لے چوسنے لگا مما کھینچ کھینچ کر چوسنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
جس تیزی سے مما چوس رہا تھا وہ بھی اتنا بری طرح تڑپ رہی تھی۔۔۔
میرا لن اس کی پھدی کے لبوں پر ٹکرا رہا تھا لن کی ٹوپی پھدی کے رسیلے پانی سے بھیگ گئی تھی۔۔۔
مجھ سے مزید برداشت نہ ہوا میں نے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر پھدی کے سوراخ پر رکھا تھوڑا دباؤ ڈالا ٹوپی اندر اتر گئی۔۔۔
ٹانگیں اٹھا کر کندھوں سے لگا لیں ٹانگوں کو کندھوں سے لگائے اس کے اوپر لیٹ گیا پھدی اور گانڈ دونوں اوپر اٹھ گئیں۔۔۔
لن پر تھوڑا زیادہ دباؤ ڈالا لن پھنستا ہوا آگے بڑھنے لگا۔۔۔
جب ٹوپی سے تھوڑا زیادہ اندر ہو گیا تو میں نے ہلکا سا پیچھے ہو کر جھٹکا مارا ۔۔۔
آدھا لن اندر اترا آنٹی کے ہاتھ میرے سینے پر دباؤ بڑھانے لگے۔۔۔
میں نے اتنا ہی لن آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا آنٹی فل گرم ہو چکی تھی اس نے آہ اہ کرنا شروع کر دیا۔۔۔
ایسے ہی گھسے مارتے مارتے میں نے تھوڑا تیز گھسا مارا لن تین حصے پھدی میں گھس گیا تھا ۔۔۔
اب آگے جانے سے انکاری تھا پھدی نے لن کو جکڑ لیا تھا اب تک شاید اس کی پھدی اتنے لن سے چدتی رہی تھی ۔۔۔
میں نے مزید زور آزمائی کی بجائے اتنے لن سے ہی چدائی شروع کر دی ۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھ اس کے مموں پر رکھے اور ممے کھینچتے ہوئے لن سے پھدی کی گہرائی ماپنے لگا۔۔۔
آہستہ آہستہ لن رواں ہوتا گیا میری سپیڈ تیز ہوتی گئی آنٹی کی سانس پھولنے لگی اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ آنے لگی۔۔۔
اس نے سسکاریاں لیتے ہوئے کہنا شروع کیا چس آ گئی وے زور نال مار میری پیاسی پھدی۔۔۔
اج تک کوئی میری پھدی کولوں جتا نییں سکیا پہلاں وی تو ای مینوں ہرایا سی اج ساری کسر کڈ دے۔۔۔
آہ آہ انج ای مار پورے زور نال مار پھدی پاڑ دے میری۔۔۔۔
اس کی ایسی باتیں سن کر میرا جوش بڑھتا گیا ۔۔۔
اس نے کہا پورا اندر پا دے اج میری بچے دانی وچ لن واڑ دے افففففف ۔۔۔۔
میں نے جوش میں تھا میں نے ایسے ہی گھسے مارتے مارتے لن سارا اندر کر دیا ۔۔۔۔
جیسے ہی سارا لن اندر گیا اس کی آواز گلے میں پھنس گئی اس نے آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھا ۔۔۔
لن بھی اندر جا کر پھنس گیا تھا میں نے پیچھے کھینچا اس کی چیخ نکلی جس کو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر دبایا۔۔۔
اسی وقت میں نے پھر گھسا مارا لن ایک بار پھر گھسا اس کی بولتی بند ہو گئی آنکھوں سے پانی پہنے لگا۔۔۔
میں کسی بات کی پرواہ کیے بغیر پھدی کی چدائی کرتا رہا۔۔۔
اگلے دو منٹ میں ہی وہ مزے کی دنیا میں واپس آ گئی ۔۔۔
وہ سسک سسک کر کہنے لگی اففف کتنا موٹا اور لمبا لن اے تیرا میری پھدی پاڑ دتی۔۔۔
میرے توں چھوٹابال میری پھدی ماری جاندا اے آہ چس آ گئی ۔۔۔
آہہہہہہ اہہہہ ہممممم انج انج ای مار ہور زور نال مار سارا زور لا دے ۔۔۔
اس کی شہوت انگیز باتیں اور تنگ پھدی کے نتیجے میں میرا لن جلد کی پھٹنے والا ہو گیا۔۔۔
میں نے چھوٹنے کے قریب اتنے زور کے گھسے مارے کہ چارپائی ٹوٹ گئی ۔۔۔
ہم نیچے گر گئے لیکن لن کو پھدی سے نہ میں نکالنا چاہتا تھا اور نہ ہی وہ نکلنے دینا چاہتی تھی۔۔۔
نیچے گر کر بھی ویسے ہی گھسے مارے پھدی ٹایٹ ہوتی گئی لن لو قابو کرتی گئی۔۔۔
لن بھی پھٹنے کے قریب ہو گیا تھا ادھر اس کی پھدی کے مسام کھلے اور لن پر پانی گرا دوسری طرف لن نے اپنی اکلوتی آنکھ سے پانی کا فوارا پھدی میں چھوڑ دیا۔۔۔
میں کافی دیر تک اس کے اوپر لیٹا فارغ ہوتا رہا آج کچھ زیادہ ہی منی نکل رہی تھی۔۔۔
جب تک لن نے آخری قطرہ بھی اس کی پھدی میں نہ بہا دیا میں اس کے اوپر لیٹا رہا۔۔۔
پھر میں ٹوٹی چارپائی پر اس کے برابر لیٹ گیا وہ پسینے سے بھیگ چکی تھی۔۔۔
میرا بھی سانس پھول گیا تھا ہم سانس بحال کرنے لگے ۔۔۔
جب سانس بحال ہوئے تو میں اٹھ کر کھڑا ہوا وہ اٹھی اور اٹھ کر سی سی کرنے لگی اور اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔
پھدی کو دبانے لگی ساتھ ہی مجھے کہنے لگی میری تاں جان کڈ دتی سی تو ۔۔۔
میں ہنسنے لگا اور کہا اس طرح کوئی نہیں مرتا اور عورت تو کبھی نہیں مرتی۔۔۔
اس نے دائیں بائیں دیکھا اور ایک کپڑا ڈھونڈ کر اس سے اپنی پھدی صاف کی۔۔۔
پھدی صاف کرکے میرا لن صاف کرنے لگی پھر لن لو ہاتھ سے پکڑ کر کہنے لگی تو سچی میری پھدی پاڑ دتی اے۔۔۔
میں نے نیچے نظریں کرکے لن لو دیکھا تو ٹوپی پر خون لگا تھا۔۔۔
خون دیکھ کر میں بھی ہنس دیا اس نے لن پر پیار سے تھپڑ مارا اور صاف کرنے لگی۔۔۔
لن صاف کر کے اس نے اپنی شلوار اٹھائی اور پہن لی میں نے بھی ٹراوزر اٹھا کر پہنا۔۔
ہم نے کپڑے پہنے تو اس نے کہا اب بیٹھ جاؤ میں دودھ گرم کرکے لاتی ہوں دودھ پی کر جانا۔۔۔
میں نے شرارتی انداز سے کہا میں دودھ پی لیا اے ۔۔۔
اس نے نے مسکراتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کوئی حال نیں تیرا۔۔۔
وہ دودھ لے آئی میں نے کہا میں نہا لوں اس نے مجھے واش روم دکھایا واش روم کا دروازہ نہیں تھا اس کے سامنے کپڑا لٹکایا ہوا تھا۔۔۔
اس میں پانی کی بالٹی بھری ہوئی پڑی تھی میں نے وہاں نہایا جلدی جلدی جسم پر پانی بہایا اور باہر نکل آیا۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے دودھ گرم کرکے لے آئی اور مجھے دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
ایک بات کہوں میں نے آج تک اتنا لمبا لن کبھی نہیں لیا۔۔۔
میں ہنسنے لگا ۔۔۔
اسنے پھر کہا میرا بندہ جو ہے ناں اوہد وی بڑا لمبا ہے لیکن تمہارا تو کھوتے جتنا ہے ۔۔۔
جدوں اندر گیا تاں میرا سانس رک گیا سی انج لگیا جیویں کسی چیز نے میری پھدی چیر دتی ہوئے توبہ توبہ۔۔۔
میں صرف مسکراتا رہا۔۔۔
وہ بولتی رہی اس نے کہا پہلے جب تم آئے تھے اس وقت اتنا لمبا نہیں تھا اب کیسے ہو گیا ہے۔۔۔
میں نے کہا بس ہو گیا ہے اب میں کیا کہہ سکتا ہوں خود ہی اتنا لمبا ہو گیا۔۔۔
وہ بڑی افسردہ سی ہو گئی اور کہنے لگی میرا بندہ بڑی محنت کر دا اے میرے نال پیار وی بڑا کردا اے پر بچہ نہیں ہوندا۔۔۔
میں کئی لوگاں کولوں پھدی مروائی بڑا دل کردا اے میری وی کوئی اولاد ہوئے پر پتہ نہیں میری قسمت وچ کی اے۔۔۔۔
عورتاں گلاں کر دیاں میں کدوں بندہ فارغ ہوندا اے عورت کے اندر اوس وقت پتہ لگ جاندا اے کہ ہن پیٹ پو جائے گا۔۔۔
مینںوں پہلا وی کئی واری اے لگیا پر میرا وہم ای رہیا اک گلا کراں قسم نال اج توں پہلاں کدی وی مینوں انا مزہ نیں آیا ۔۔۔
پتہ نہیں اوپر والا کی چاہندا اے اوہدیاں او ای جانے۔۔۔
وہ بڑی مایوس تھی مجھے اس کے بچے لیے تڑپ دیکھ کر بڑا افسوس ہوا میں نے اس وقت وہ فیصلہ کیا جو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔
جذبات میں آ کر میں نے اس سے کہا اب تم کسی اور کے پاس نہیں جاؤ گی میں تمہیں ماں بناؤں گا اگر تم سچ میں ماں بننا چاہتی ہو۔۔۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھ سے وعدہ لینے لگی میں نے اس سے وعدہ کیا اور کہا اب جب بھی موقع ملا میں آ جاوں گا ۔۔۔
اس نے مجھے گلے لگایا اور میرے گال چوم لیے۔۔۔
میں اس سے رخصت لے کر باہر نکلا ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ میرا فون بج اٹھا مجھے ناصر نے کال کی تھی۔۔۔
اس نے کہا تم جہاں کہیں بھی ہو سنبھل کر رہنا تم پر حملہ ہو سکتا ہے میں زیادہ بات نہیں کر سکتا۔۔۔
اس کی کال بند ہوئی تو مجھے انجان نمبر سے کال آئی وہ نمبر عجیب سا تھا شاید لاہور کا تھا۔۔۔
میں فون رسیو کیا تو دوسری طرف ریحان تھا اس نے کہا بلو کہیں غائب ہو جا باہر نہ نکلنا تم پر کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے۔۔۔
وہ کال بند ہوئی تھی کہ بھا ہاشم کا فون ا گیا اس کو نمبر شاید شاہ زیب نے دیا تھا کیونکہ میں نے تو بھا کو نمبر دیا نہیں تھا۔۔۔
بھا نے کہا ہم لوگ گاؤں جا رہے ہیں تم گھر نہ آنا کہیں اور چلے جاؤ میں کسی کو بھیجتا ہوں بلکہ شاہ زیب خود رابطہ کرتا ہے تم سے۔۔۔
میں جہاں کھڑا تھا وہیں رک گیا اور واپس چل پڑا دو منٹ بعد جب میں م دوبارہ آنٹی کے گھر داخل ہوا تو آنٹی حیران ہو گئی اس نے مجھے واپس آتا دیکھ کر خوشی سے چیخ ماری اور مجھے گلے لگا لیا۔۔۔
میں نے بھی اس کا ساتھ دیا لیکن میرا دماغ تانے بانے بننے میں لگا تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے اب کون میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔۔۔
آنٹی میرے سامنے بچھی جا رہی تھی میں نے آنٹی سے کہا کیا میں یہاں آج شام تک رہ سکتا ہوں۔۔۔
آنٹی نے خوش ہوتے ہوئے کہا کیوں نہیں یہ گھر ہی تمہارا ہے جب تک چاہو رہ لو ۔۔۔
میں نے کہا آپ کا شوہر ۔۔۔
اس نے کہا اوس نوں میں خود سمجھا لوں گی تم فکر نہ کرو۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے اس نے فون باہر نکل کر زور سے کسی کو آواز دی جواب میں اس کو بھی کسی نے کچھ کہا۔۔۔
وہ اندر آگئی اور میرے لیے چارپائی پر چادر بچھا دی مجھے کہا یہاں لیٹ جاو میں روٹی پکاتی ہوں۔۔۔
کوئی پندرہ منٹ بعد ایک پکی عمر کا صحت مند آدمی گھر میں داخل ہوا۔۔۔
میں اس کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا ۔۔۔
آنٹی اس کو بتایا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے آج رات یہاں رکنا چاہتا ہوں ۔۔۔
وہ آدمی مجھے عجیب نظروں سے دیکھنے لگا آنٹی اس کو ایک طرف لے گئی اس نے اس کو کیسے منایا میں نہیں جانتا لیکن وہ مان گیا۔۔۔
وہ دونوں آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے میرا فون بج اٹھا میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف ارشد تھا اس نے کہا جہاں بھی ہو وہیں رہو میں دس منٹ بعد رابطہ کرتا ہوں۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے اس نے کہا کوئی ہتھیار وغیرہ ہے تو وہ پاس رکھنا کسی وقت بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔
میں نے اس کو کہا میرے پاس ہتھیار کہاں سے آئے تم جانتے ہو میں اس طرح کا انسان نہیں ہوں اور نہ ہی ہماری خاندان میں لبھی کسی نے ہتھیار رکھے ہیں۔۔۔
بھا ہاشم کا میسج آیا کہ کپڑے شانزل کے گھر پکڑا دئیے ہیں وہاں سے لے لینا میں شام تک واپس آ جاؤں گا۔۔۔
میں نے میسج کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔
اب میں سچ میں پریشان ہو گیا تھا اور میرا دماغ کام نہیں کر رہا تھا ۔۔۔
باقی لوگوں کی تو خیر سمجھ آتی تھی کہ وہ میرے خیر خواہ ہیں لیکن ریحان نے بھی مجھے دور رہنے کا کہا تھا یہ بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
میں اپنی سوچوں میں گم تھا کہ وہ آدمی جس کا نام بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔
وہ میرے پاس آیا میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا بیٹا میں آپ کو جانتا تو نہیں ہوں لیکن یہ سمجھ گیا ہوں آپ کسی مصیبت میں ہیں۔۔۔
میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا وہ پڑھا لکھا معلوم ہو رہا تھا۔۔۔
اس کا لب ولہجہ بھی سلجھا ہوا تھا اس نے مجھے کہا میرے ساتھ آو۔۔۔
اس نے جیب سے چابی نکالی اور ساتھ والے کمرے کا تالا کھولا مجھے اندر لے گیا۔۔۔
اندر اندھیرا تھا اس نے ماچس نکالی اور دیا سلائی جلائی پھر ایک طرف پڑی لالٹین کو روشن کیا۔۔۔
کمرے میں روشنی ہوئی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کمرا اندر سے کسی صورت بھی اس گھر کا حصہ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
ڈبل بیڈ ساتھ صوفہ لگا ہوا تھا کمرے میں ایک طرف کئی باررودی ہتھیار لٹک رہے تھے۔۔۔
اس نے ایک دراز کھولی اس میں سے ایک پسٹل نکالا اور مجھے پکڑاتے ہوئے کہا یہ میرا پسندیدہ ہے۔۔۔
میں اس کو پکڑ کر چیک کیا جرمن نسل کا تھا اس کے نے اس کے بعد مجھے تین میگزین بھی دیں اور کارتوس کی پیٹی بھی دی ۔۔۔
میں یہ سب دیکھ کر حیران ہو رہا تھا اسی وقت میرا فون بجا میں نے فون اٹھانے سے پہلے اس آدمی سے پوچھا کیا یہاں رہ سکتا ہوں۔۔۔
ا سنے ہاں میں سر ہلایا میں نے کہا ٹھیک ہے فون رسیو کیا۔۔۔
ارشد کا فون تھا اس نے کہا کہاں ہو میں چھوٹی نہر کے پاس ہوں ۔۔۔
میں نے پوچھا ابھی کہاں جانا ہے اس نے کہا مجھے شاہ زیب نے ناصر کے ٹیوب ویل پر لے جانے کا کہا ہے۔۔۔
میں نے کہا اس کی ضرورت نہیں ہے تم بس میرے نمبر پر بیلنس کروا دو باقی میں بہت محفوظ جگہ پر ہوں۔۔۔
ا سنے کہا پھر ٹھیک ہے اس نے فون کاٹا میں نے اس آدمی کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
وہ مجھے وہیں بٹھا کر باہر نکل گیا۔۔۔
میں اسی کمرے میں بیڈ پر لیٹ گیا اور آنے والے حالات اور گزرے وقت کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔
میرے نمبر بیلنس آگیا تھا میں نے سب سے رابطہ کیا شاہ زیب نے بتایا مجھے جو لگ رہا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے بندوں کو کالج میں منشیات بیچنے کا موقع نہیں مل رہا۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ یہ صرف اتنی بات نہیں ہو سکتی معاملہ کافی الجھا ہوا ہے جیسا تم سب مجھے بتا رہے ہو اس لحاظ سے تو بات بہت آگے کی ہے ۔۔۔
جو لوگ ایسا کام کرتے ہیں وہ چھپ کر وار کرتے ہیں جب کہ یہاں ایسا نہیں ہو رہا۔۔۔
شاہ زیب تو فون کاٹ گیا لیکن میرے دماغ میں ریحان کا خیال آیا اس نے بھی تو مجھے فون کیا تھا۔۔۔
میں نے اس کا نمبر ملایا تو بند ملا کئی بار ٹرائی کیا لیکن کال نہ ہو سکی۔۔۔
میں نے عمائمہ کو فون کیا اس نے روتے ہوئے کہا بلو تم جہاں بھی ہو وہیں رہنا ریحان کو اس کے باپ نے ہی وہاں پکڑ لیا ہے۔۔۔
زار و قطار رو رہی تھی اس کی بات میں تو مجھے سچ نظر نہ آیا لیکن اس کے رونے نے مجھے یقین کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔
شام ہو چکی تھی میں ایک ہی کمرے میں بند ہوا بیٹھا تھا نہ تو وہ آنٹی آئی اور نہ ہی اس کا شوہر آیا۔۔۔
مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی میں باہر نکلا اندھیرا پھیل چکا تھا کمرے میں اتنا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
مجھے چارپائی کی چیں چیں کی آواز سنائی دی پیشاب بہت تیز آیا تھا اس لیے واش روم گھس گیا۔۔۔
جلدی جلدی پیشاب کیا بالٹی سے پانی لے کر ہاتھ دھوئے ۔۔۔
باہر آیا تو مجھے دو لوگوں کے آپس میں بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔
میں نے غور کیا تو عورت کہہ رہی تھی میں ماں بن سکتی ہوں جہاں اتنی بار کوشش کر چکے ہیں ایک بار اور کر لینے دو۔۔۔
آدمی نے کہا یہ ابھی بچہ ہے مجھے اچھا نہیں لگ رہا ۔۔۔
عورت نے کہا کیا پتہ میرے نصیب میں اس کے بچے کی ماں بننا ہی لکھا ہو۔۔۔
اس نے جیسے تیسے کر کے آدمی کو منا لیا آدمی نے کہا یہ لڑکا مجھے کسی بڑے گینگ کا حصہ لگ رہا ہے یہ نہ ہو کہ بعد میں ہم کسی مصیبت میں پھنس جائیں اور سارا بھانڈا پھوٹ جائے۔۔۔
اس کے بعد کس کرنے کی آواز آئی کس کے بعد عورت نے کہا آپ بھی ناں وہ مصیبت میں ہے اس کی مدد کر رہے ہو پھر بھی ایسا سوچ رہے ہو۔۔۔
میں ان کو باتیں کرتا چھوڑا اور واپس کمرے میں چلا گیا۔۔۔
میں نے ایک بار پھر سے کمرے میں نظر دوڑائی وہاں موجود ہتھیار دیکھے ۔۔۔
کمرے کی بناوٹ پر غور کیا ایک بڑی الماری موجود تھی جس کو لاک لگا تھا ۔۔۔
کچھ تو تھا یہاں جو میری نظروں میں نہیں آرہا تھا۔۔۔
میں اس کا دیا ہوا پسٹل چیک کیا پسٹل چلانا تو دور کی بات میں تو کبھی ہاتھ میں پکڑا بھی نہیں تھا۔۔۔
میں یہ ہی سوچ رہا تھا کہ مجھے عمائمہ کا فون آیا اس نے بتایا کہ میں تمہیں کچھ تصاویر بھیج رہی ہوں یہ ان لوگوں کی ہیں جن کو تمہارے پیچھے لگایا گیا ہے۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے پانچ منٹ بعد مجھے ایم ایم ایس موصول ہوا میں تصاویر ڈانلوڈ کیں۔۔۔
تصاویر دیکھیں ان میں جو لوگ تھے ان میں سے ایک کو میں اچھی طرح سے جانتا تھا تین تصاویر تھیں ۔۔۔
دوسرے لوگوں کو میں نے دیکھا ہوا تھا لیکن ان سے واقفیت نہیں تھی ۔۔۔
میں نے شاہد کو فون کر کے پوچھا کہاں ہو اس نے کہا میں شہر کے ساتھ والے گاؤں میں ہوں ایک بندے سے کام ہے۔۔۔
شہر کے بالکل ساتھ ایک گاؤں ہے جہاں کے لوگوں کا دھندا آج منشیات فروشی چوری ڈکیٹی سپاری کلر بھی اس گاؤں میں موجود ہیں۔۔۔
تصاویر میں موجود دوسرے دو لوگوں کا تعلق اسی گاؤں سے تھا ۔۔۔
میں جانتا تھا کہ شاہد کا اس گاؤں کے کافی لوگوں سے رابطہ ہے کچھ اس کے دوست بھی ہیں۔۔۔
اسی لیے میں نے شاہد کو فون کیا تھا اور شاہد موجود ہی وہیں تھا ۔۔۔
میں اس سے پوچھا کہ خیریت ہے وہاں کس کام سے گئے ہو۔۔۔
شاہد نے بتایا کہ جن کو ہماری سپاری ملی ہے وہ یہاں ہی ہیں ان سے ملنے گیا ہوں۔۔۔
اس نے میرا پوچھا کہاں ہو میں نے کہا میں محفوظ مقام پر ہوں۔۔۔
میں نے میں آرہا ہوں وہاں اور تمہیں تصویریں بھیج رہا ہوں۔۔۔
میں نے شاہد کو تصویریں بھیجیں اور شاہ کو فون کیا اور بائیک لے کر آنے کا کہا۔۔۔
شاہ دس منٹ بعد بائیک لے کر آ گیا میں نے شاہد کو فون کیا اور کہا میں بھی وہاں آ رہا ہوں۔۔۔
شاہد نے کہا آجاؤ میں انہیں کے پاس بیٹھا ہوں۔۔۔
میں نے شاہ کو بتانا کہاں جانا ہے اور اس کے پیچھے بیٹھ گیا ۔۔۔
شاہ کے پاس میں خود اس گھر سے نکل کر ٹاؤن میں آیا تھا۔۔۔
میں اور شاہ اس گاؤں میں داخل ہوئے تو رات کے وقت وہاں کے لوگوں نے ہمیں بڑے غور سے دیکھنا شروع کیا ۔۔۔
میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں شرعام خرید و فروخت ہو رہی تھی۔۔۔
ہمیں بھی ایک دو نے آواز دے کر پوچھا کیا چاہئیے ۔۔۔
شاہد کے بتائے ہوئے گھر کے سامنے پہنچے تو شاہد خود باہر کھڑا تھا۔۔۔
میرے پاس نیفے میں پسٹل تھا اور پیٹی بھی لگائی ہوئی تھی۔۔۔
ہم دونوں کو شاہد اندر لے گیا بیٹھک نما کمرے سے گزر کر ہم آگے چلے گئے۔۔۔
تین چار دروازوں سے گزر کر ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔
کمرہ اندر سے بڑی اچھی طرح سے سجایا گیا تھا۔۔۔
مجھے دیکھ کر وہاں جو لوگ تھے سب نے حیرانی سے شاہد کی طرف دیکھا۔۔۔
شاہد نے ان کو بتانے سے پہلے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کا مجھ سے تعارف کروایا۔۔۔
ان کا سربراہ جو لگ رہا تھا اس کا نام شادا گجر تھا ایک آنکھ نہیں تھی۔۔۔
جو کسی لڑائی میں ضائع ہو گئی تھی اس نے شاہد سے کہا یار یہ تو ہاشم کا بھائی نہیں ہے بھلا۔۔۔
شاہد نے کہا ہاں ہاشم کا بھائی بلو ہے۔۔۔
شادا بولو بڑا جی دار بندا تھا ہاشم ایسا غائب ہوا ہے کہ کوئی خبر ہی نہیں ہے۔۔۔
شادے نے اپنے سب لڑکوں کو بتایا کہ یہ بلو ہے اپنے یار کا بھائی اپنے یار کا یار ۔۔۔
تم سب لوگ میری بات سمجھ رہے ہو ناں میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔
اس کے ساتھ دو دو تعلق ہیں اس پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہئیے ۔۔۔
تم سب اپنے دماغ میں اس کی تصویر اور نام نقش کر لو کبھی بھی کوئی بھی معاملہ ہو اس کا پورا پورا ساتھ دینا ہے۔۔۔
عمائمہ نے جو تصویر بھیجی تھی وہ ان میں ایک شادا تھا اور دوسرا اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔
میں نے کہا شکریہ بھائی لیکن ایک اور بھائی بھی ہے جو مجھے نظر نہیں آ رہا۔۔۔
یہ وہ تھا جس کو میں جانتا تھا لیکن وہ یہاں نہیں تھا تو پھر کہاں ہو گا۔۔۔
شادے نے کہا کس کی بات کر رہے ہو۔۔۔
میں نے کہا اچھی ڈوگر ۔۔۔
اس نے بڑی حیرانی سے میری طرف دیکھا اور بولا کیا مطلب ۔۔۔
میں نے کہا بھائی جن لوگوں کو میرے پیچھے لگانے کی کوشش کی گئی ہے ان میں سے ایک وہ بھی ہے۔۔۔
شادے نے شاہد کی طرف دیکھا اور حیرت سے پوچھا یہ سچ کہہ رہا ہے۔۔۔
شاہد نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
شادے نے کہا مجھے فون آیا تھا کہ کچھ بند چاہئیں کسی پڑھانا ہے۔۔۔
پڑھانا ان کی زبان میں بندے کی خوب چھترول کرنی ہے اور اس کو سمجھانا ہے کہ ان کے رستے میں نہ آئے۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے اور اپنی ڈیمانڈ بتا دی انہوں نے نام اور باقی تفصیلات بتا دیں۔۔۔
نام اور باقی تفصیلات کون سی ہیں۔۔۔
شادے نے کہا نام میاں صائم نواز ڈانگرا ہے اور گورنمنٹ کالج میں پڑھتا ہے گھر کا پتہ بھی بتایا تھا لیکن یہ کہا تھا کہ گھر پر کس قسم کی کوئی کاروائی نہ کی جائے۔۔۔
شاہد ابھی تک میاں صائم نواز ڈانگرا پر اٹکا ہوا تھا اس نے کہا میاں صائم نواز ڈانگرا یہ ہی کہا ہے ناں۔۔۔
شادے نے کہا ہاں یہ ہی کہا ہے۔۔۔
شاہد نے پوچھا بس ایک ہی نام ہے یا کوئی اور بھی ۔۔۔
شادے نے کہا دوسرا نام شاہد بن کنول نذیر ہے۔۔۔
شاہد کی ہنسی نکل گئی اس نے کہا ان سالوں کے پاس اتنی معلومات ہیں کہ وہ نام جو ہم خود بھی شاید بھول چکے ہیں ان کو یاد ہیں۔۔۔
شادے نے آنکھیں سکوڑ کر پوچھا کیا مطلب شاہد بن کنول زبیر تم ہو۔۔۔
شاہد نے کہا ہاں جی اور مزے کی بات بتاوص میاں صائم نواز ڈانگرا کوئی اور نہیں یہ اپنا بلو ہے۔۔۔
شادے نے کہا اوہ تیری میاں ہاشم نواز ڈانگرا کا بھائی صائم نواز ڈانگرا ہو سکتا ہے میرے ذہن میں کیوں نہ آیا۔۔۔
کھڑا ہوا اور مجھے گلے لگایا اس نے آواز دے کر لڑکوں کو کہا جاؤ اوئے کچھ کھانے پینے کے لیے لاؤ۔۔۔
میرے ناں ناں کرتے کرتے اس نے شربت منگوا لیا۔۔۔
شربت پیتے ہوئے اس نے کہا اب اچھی ڈوگر نہیں مانے گا میں نے کہا بس آپ مجھے اس کا ایڈریس سمجھا دیں باقی میں خود دیکھ لوں گا۔۔۔
اس نے پتہ سمجھا دیا شاہ کی تو ان کو دیکھ کر ہی بولتی بند ہو گئی تھی۔۔۔
بڑی بڑی مونچھیں اور اسلحے سے لیس آدمی جن آنکھیں لال تھیں ان سب کے چہروں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔
شادے نے کہا ہماری بات ان سے ہو چکی ہے اور ہم زبان سے نہیں پھرتے ہوتے۔۔۔
شاہ اتنی بات سن کر میرے ساتھ چپک گیا اس نے میرا بازو پکڑ لیا۔۔۔
شاہد نے کہا آپ اپنا کام کرو ہم اپنا کرتے ہیں ہمیں صرف اس کا نام بتا دیں جس نے یہ کام آپ کو دیا ہے۔۔۔
شادے نے جو نام بتایا وہ سن کر ہمیں جھٹکا لگا ہمارے علاقے کا ایک نامی گرامی بندہ تھا ۔۔۔
اس بار الیکشن ہارا تھا لیکن کئی بار الیکشن میں کامیاب ہو کر وہ ممبر صوبائی اسمبلی رہ چکا تھا۔۔۔
دارے خاں ایک نامی گرامی سیاست دان تھا یہ بات ہمارے لیے بڑی حیران کن تھی کہ ایک ایسا بندہ جس کی لوگ بڑی عزت کرتے ہیں اس کی میرے جیسے ایک طالب علم سے کہا رنجش ہو سکتی ہے۔۔۔
شادے نے اس کے بارے میں ہمیں بتایا کہ وہ لڑکیوں کا بہت بڑا ڈیلر ہے علاقے کی معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر یا اغواء کرکے بیرون ملک بھیج دیتا ہے۔۔۔
یہ ساری باتیں سن کر میرا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا شاہد بھی چپ ہو گیا۔۔۔
شادے نے کہا اس کے علاوہ وہ سارے ضلع میں منشیات کا سب سے بڑا ڈیلر ہے۔۔۔
شادے نے بتایا مجھے بلو کے بارے میں ایک ایک بات کا پتہ ہے جو کچھ تم لوگوں نے پچھلے عرصہ میں کیا۔۔۔
اس کا سب بڑا اڈا کالج تھا اس کے بعد اس نے کئی لڑکیاں رکھی ہوئی تھیں جو منشیات سپلائی کرتی تھیں۔۔۔
لڑکیاں گھروں میں عورتوں کو اور نوجوان لڑکوں کو بیچتی تھیں ۔۔۔
اب تم لوگوں نے بیک وقت اس کو دونوں جگہ پر نقصان پہنچایا۔۔۔
کالج میں اس کا کام بلکل ٹھپ کروا دیا مانی کو اور اس کے گینگ کو ختم کرکے۔۔۔
دوسرا جو بلو نے کیا لڑکیاں ورغلانے والا ریحان تھا ڈاکٹر کا بیٹا اس کو ایسا پھنسایا کہ اس کے ہاتھ میں جو لڑکیاں تھیں وہ سب نکل گئیں۔۔۔
اس سب سے انہیں کروڑوں کا نقصان ہوا ہے وہ زخمی سانپ کی طرح تم لوگوں کے پیچھے پڑا ہے۔۔۔
ایک اور بات عمائمہ جو ڈاکٹر ہے اس کا گینگ ریپ ہوا ہے یہ بات سب جانتے ہیں اور اس میں بھی تمہارا نام لیا جاتا ہے۔۔۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ تم نے کروایا ہے وہ تو ڈاکٹر نہیں مانی ورنہ تم پر اگلے دن ہی ایف آئی آر درج ہو جاتی ۔۔۔
شاہد اور اس کی باتیں سن رہے تھے جبکہ شاہ یہ سب سن کر کانپ رہا تھا۔۔۔
میرے ساتھ بیٹھا تھا میرا بازو پکڑ رکھا تھا خود تو کانپ رہا تھا مجھے بھی ہلا رہا تھا۔۔۔
شاہد نے کہا اب تم کیا کرو گے میں نہیں جانتا لیکن یہ لڑکا جو تمہارے سامنے بیٹھا ہے اس نے ایک ایسا کام شروع کیا ہے جس سے ہر کسی کو تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔
جن کو تکلیف ہو رہی ہے ان میں وہ سارے لوگ ہیں جن کے کاروبار ڈھپ ہو رہے ہیں۔۔۔
اس نے منشیات فروشوں کے خلاف قدم اٹھایا ہے اور میں جانتا ہوں تم بھی اپنا بھائی اسی وجہ سے کھو چکے ہیں۔۔۔
ہم نے تو اب فیصلہ کر لیا ہے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اب اگر ایک بار اتر گئے ہیں تو پھر ڈرنا کیسا ۔۔
شادے نے گھمبیر لہجے میں کہا میں خود ایسے لوگوں کے خلاف ہوں لیکن کیا کروں کچھ کر نہیں سکتا مجھے انہی لوگوں کی سپورٹ حاصل ہے ۔۔۔
میں جو کچھ کرتا ہوں اگر مجھے کسی کی سپورٹ نہ ہو تو میں دوسرے دن لوڑے لگ جاؤں گا۔۔۔
میں نے اس کی باتوں سے اندازا لگایا کہ وہ خود یہ چاہ رہا ہے کہ ایسے لوگوں سے نمٹا جائے لیکن کچھ کر نہیں پا رہا۔۔۔
میں نے کہا اس کا حل میرے پاس ہے میرے پاس ایسا پلان ہے جس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔۔۔
پھر میں نے شادے کو ساری بات سمجھائی کو اسی وقت میرے دماغ میں آئی تھی شادے کو میرا پلان پسند آیا ۔۔۔
اس نے ہماری مدد کرنے کی حامی بھر لی لیکن خود سامنے آئے بغیر وہ سب کچھ کرنے کو تیار تھا۔۔۔
ہمیں بھی ایسے بندے کی ضرورت تھی جس کے پاس بندوں کی کمی نہ ہو اور بوقت ضرورت اسلحہ بھی لا سکے۔۔۔
وہاں سے نکل کر میں نے شاہد کو کہا اب اچھی ڈوگر کی طرف چلتے ہیں۔۔۔
شاہد نے کہا وہ بندہ بہت ٹیڑھا ہے اس کے پاس جانے کا مطلب ہے موت کے منہ خود جانا۔۔۔
میں نے اس کی ایک نہ سنی اس کو کہا چلو چلتے ہیں۔۔۔
شاہد نے ناصر لوگوں کو فون کر دیا کہ ہم اچھی کی طرف جا رہے ہیں ادھر آ جاؤ ۔۔۔
ہم وہاں سے نکلے میں نہیں جانتا تھا کہ ناصر لوگ کہاں ہیں کیونکہ ہماری جو بات طے ہوئی اس کے مطابق اب ہم نے ان سے براہ راست ملنے سے کترانا تھا۔۔۔
ہم گاؤں سے نکلے شاہد نے بائیک ایک کچے رستے پر موڑ دی ایک بائیک پر میں اور شاہ تھے دوسری پر شاہد تھا۔۔۔
کچا رستہ اندھیرے رات میں بڑا خوفناک لگ رہا تھا شاہ میرے پیچھے بیٹھا کانپ رہا تھا ۔۔
اس نے کہا یار یہاں سے ہی واپس چلتے ہیں پتہ نہیں وہاں کیا صورتحال ہو گی۔۔۔
میں نے اس کو جھڑک دیا وہ چپ تو ہو گیا لیکن اس کا ڈرنا جاری رہا۔۔۔
ہم کافی دور نکل آئے تھے آگے جھاڑیاں شروع ہو گئی تھیں دریائے راوی کا علاقہ تھا ۔۔۔
ریتلی زمین اور اوپر سے اردگرد خوفناک نظر آنے والی جھاڑیاں بڑا پر اسرار منظر پیش کر رہی تھیں۔۔۔
ٹیڑھے میڑھے رستے پر جب ہم موڑ مڑتے تو ایسا لگتا جیسے آگے کئی لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوں۔۔۔
یہ سب دیکھ کر کئی بار تو میرا دل بھی ہول گیا تھا۔۔۔
تھوڑا اور آگے بڑھے تو ہمیں پانچ بندوق بردرا لوگوں نے روک لیا۔۔۔
انہوں نے اپنی بندوقیں سیدھی کیں ہمارے چہروں پر روشنی ماری۔۔۔
شاہد نے بائیک بند کی اور نیچے اتر گیا میں بھی اس کے ساتھ ہی بائیک بند کرکے اتر گیا ۔۔۔
ان کے پاس گئے ان میں سے ایک جو شاید ان کا سربراہ تھا اس نے مجھے دیکھ کر کہا تم کو کہیں دیکھا ہے۔۔۔
میں نے کہا مجھے کہا دیکھا ہوگا میں کالج میں پڑھتا ہوں یہ میرے کلاس فیلو ہیں ہم اچھی بھائی سے ملنے جا رہے ہیں۔۔۔۔
اس نے ایک بندے کو کہا شیدے ان کو لے جا یہ بچے ہیں اچھی کے کسی کام آ جائیں گے۔۔۔
اس نے بڑے ذو معنی انداز میں شاہ کی طرف دیکھ کر یہ بات کی تھی۔۔۔
شاہ کی تو پہلے ہی بنڈ بندوق ہو چکی تھی یہ سن کر اس پر کہا بیتی ہو گی میں سمجھ سکتا تھا۔۔۔
شیدا ہمارے آگے چل پڑا بائیک وہیں کھڑی کر دی تھی کیونکہ آگے راستہ بند تھا۔۔۔
جھاڑیوں میں سے گزرتے ہوئے ہم آگے بڑھنے لگے ریت میں پاؤں دھنسے جا رہے تھے۔۔۔
شیدے کے ہاتھ میں ایک ٹارچ تھی جس کو وہ بار بار جلا بجھا رہا تھا۔۔۔
یہ شاید ان کا کوئی اشارہ تھا جس کو کم از کم ہم نہیں سمجھ سکتے تھے۔۔۔
دس منٹ پیدل چلنے کے بعد ہمیں روشنی دکھائی دی۔۔۔
جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے روشنی واضح ہوتی گئی ۔۔۔
ہمیں اندازہ نہیں تھا ہم کس سمت کتنی دیر تک چلتے رہے ہیں۔۔۔
روشنی جے قریب پہنچ کر شیدے نے پیچھے مڑ کر ہماری طرف دیکھا اور بولا ہم پہنچ گئے ہیں۔۔۔
وہ پھر آگے بڑھا اور جھونپڑی نما کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔
ہمیں اس نے باہر رکنے کا اشارہ کیا ایک منٹ بعد باہر آیا اور ہمیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ سامنے ایک بکرا سالم کا سالم انہوں نے لٹکا رکھا ہے اس سے گوشت چھریوں کے ذریعے کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔۔۔
ایک طرف ایک لڑکے کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا۔۔۔
اچھی ایک طرف موڑھے پر بیٹھا تھا شراب پی رہا تھا وہاں کل ملا کر چار آدمی تھے ۔۔۔
جن میں سے ایک اچھی خود تھا دو اس کے ساتھی اور ایک وہ لڑکا جس کو باندھا ہوا تھا۔۔۔
اچھی نے باری باری ہماری طرف دیکھا اور پھر شاہ کو غور سے دیکھا شاہ اس کے اس طرح دیکھنے سے میرے پیچھے ہو گیا۔۔۔
اچھی کھلکھلا کر ہنسنے لگا اور مجھے کہا اوئے کاکے تو یہاں کیسے سب خیر تاں اے۔۔۔
میں نے کہا بھائی خیر ہی تو نہیں ہے اگر خیر ہوتی تو آپ کے پاس آ سکتے تھے۔۔۔
اس نے شیدے کو کہا اوئے شیدے ان کو موڑھے دے اوئے مجھے اپنےپاس پڑے موڑھے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
شیدے کو اس نے اشارہ کیا وہ باہر نکل گیا شاہد کی طرف دیکھ کر اس نے کہا تم تو مجھے لگتا ہے یہ پیتے ہو لو پیو۔۔۔
اچھی نے شراب کا جام اس کی طرف بڑھایا لیکن شاہد نے انکار کر دیا۔۔۔
اس کے بعد اچھی نے مجھے کہا ہاں بھئی کاکے اب بتا کی گل اے جہیڑا تو انی رات نوں ایتھے آیا ایں۔۔۔
میں نے اس کو ساری بات بتائی اور یہ بھی بتایا کہ میں ہی میاں صائم نواز ڈانگرا ہوں۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا بلو عرف صائم مواز ڈانگرا مطلب اے گل اوہناں نوں نیں پتہ ۔۔۔
ہن تو میری گل غور نال سن اوہناں نے صائم دی سپاری دتی اے صائم نوں مارنا پینا اے ٹھیک اے تو صائم ہے نیں تو ایں بلو۔۔۔
بس گل مک گئی جے تو میری جان نہ بچائی ہندی تاں اج ایتھوں واپس نیں کا سکدا سی ۔۔۔
میں نے کہا بھائی میں جانتا ہوں آپ یاروں کے یار ہیں اسی لیے یہاں آیا کیونکہ مجھے یقین تھا آپ مجھے نہیں بھولےہوں گے۔۔۔
اچھی نے کہا اس دن جہیڑے پلسیے میرے پچھے لگے سی تے جناں نے لائے سی اوہ سب میرے ہتھوں مر چکے نیں۔۔۔
اس نے ہمیں گوشت کاٹ کاٹ کر کھلایا اور شاہ کی طرف بار بار دیکھ رہا تھا۔۔۔
شاہ کو اس کے اس طرح دیکھنےسے کوفت ہو رہی تھی۔۔۔
اسی دوران اس لڑکے کے کراہنے کی آواز آئی پانی پانی۔۔۔
اچھی نے ماں کی گالی دیتے ہوئے کہا چپ کر نہیں تاں تیرے منہ اچ موت دینا اے۔۔۔
آواز مجھے جانی پہچانی سی لگی میں نے گھوم کر اس طرف دیکھا تو لیکن تب تک اس لڑکے کا منہ دوسری طرف ہو چکا تھا۔۔۔
اچھی سے بات چیت طے ہو گئی اور اس نے بھی ہمیں مکل سپورٹ کا یقین دلایا میں نے اس سے تسلی کی کہ کہیں وہ منشیات فروشوں کے ساتھ ملا تو نہیں ہوا۔۔۔
اس نے کہا میں پیتا ہوں لیکن سونگھتا والا اور کھینچنے والا نشہ نہیں کرتا اور نہ بیچنے والوں کا ساتھ دیتا ہوں۔۔۔
میں نے اس کوساری بات بتا دی کہ میرے پیچھے یہ لوگ کیوں پڑے ہیں۔۔۔
اس نے ہمارے بیٹھے بیٹھے ہی اپنے لڑکوں کو فون کرکے بتا دیا کہ صائم ڈانگرا مارا گیا ہے یہ خبر پھیلا دو اور وہ جو صائم ہم نے مارا تھا اس کی لاش دارے خاں کو لو دکھا دو۔۔
یہ طلاع دے کر اس نے مجھے کہا کیا دارے خاں نے تمہیں دیکھا ہوا ہے۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ کبھی ملاقات نام کی کوئی چیز نہیں ہوئی۔۔۔
میں نے اس کا صرف نام سنا ہوا ہے وہ سالا حرامی لڑکیاں اغوا بھی کرواتا ہے ۔۔۔
اس کے اپنے بندے ہیں تو تم لوگوں کو اس نے یہ کام کیوں دیا ہے۔۔۔
اچھی نے چونک کر میری طرف دیکھا اور بولا گل تاں سوچن آلی اے ۔۔۔
وہاں ہمیں کوئی دو گھنٹے لگ گئے تھے اچھی سے مل کر ہم واپس آئے شاہ نے توبہ کرتے ہوئے کہا آج کے بعد میں کبھی تم لوگوں کے ساتھ ایسی جگہوں پر نہیں جاؤں گا۔۔۔
شاہد نے اس کو چھیڑتے ہوئے کہا ان دونوں نے صرف تمہاری وجہ سے ہی تو ہماری بات سنی ہے۔۔۔
شاہ نے کہا میرا لوڑا۔۔۔
شاہد نے ہنستے ہوئے کہاوہ بھی اپنا لوڑا تیری بنڈ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔۔۔
شاہ چڑ گیا اس نے بک بک شروع کر دی مجھے انہوں نے میرے گھر کے سامنے چھوڑا اور نکل گئے۔۔۔
میرے پاس گھر کی ایک چابی تھی میں نے تالا کھولا اور گھر میں داخل گیا۔۔۔
رات کافی ہو چکی تھی اس لیے لیٹتے ہی نیند آگئی اور پھر صبح ہی آنکھ کھلی۔۔۔
صبح تازہ دم ہو کر میں سیر کے لیے گیا اچھی طرح کسرت کی کیونکہ اب مجھے لگ رہا تھا کہ کسرتی جسم کی ضرورت پڑنے والی ہے۔۔۔
سیر کے بعد میں گھر آیا تیار شیار ہو کر کالج کے لیے نکل پڑا ۔۔۔
ریحان کے گھر کے سامنے پہنچا تو دیکھا دروازہ کھلا ہے میں نے بیل دی تو عمائمہ نے دروازہ کھول دیا۔۔۔
وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگی اس نے میرا بازو پکڑا اور اندر کھینچ لیا۔۔
سامنے ریحان بے سد پڑا تھا سارا جسم لہولہان تھا جیسے کسی نے تسلی سے اس پر تشدد کیا ہو۔۔۔
عمائمہ نے بتایا کہ رات کو مجھے اطلاع ملی تھی کہ تمہیں مار دیا گیا ہے اس لیے ان لوگوں نے ریحان لو چھوڑ دیا ہے۔۔۔
میں ہنسنے لگ گیا اور کہا ہاں ان لوگوں نے مجھے مار دیا ہے ۔۔۔
اب آپ ریحان کو لے کر یہاں سے کسی دوسرے شہر چلی جائیں ورنہ معاملات پھر سے بگڑ سکتے ہیں۔۔
اس نے کہا ریحان لو تو ابھی لے کر جا رہی ہوں اس کا کپڑوں کا بیگ پاس پڑا تھا۔۔۔
ریحان نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور ڈوبی ہوئی آواز میں بولا مما یہ رات کو وہاں گیا تھا ۔۔۔
اس کے آنے کے بعد مجھے ان لوگوں نے یہاں چھوڑا ہے۔۔۔
ورنہ میں تو ہمت ہار چکا تھا پتہ نہیں ان لوگوں نے اس درندے کو کیا کہا کہ ان کے وہاں سے نکلتے ہی مجھے بھی وہاں سے اٹھا کر یہاں لے آئے۔۔۔
میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک خوبصورت نوجوان لڑکے کو اتنی بری حالت میں آتے دیکھ لیا تھا۔۔۔
یہ سب اس کے برے کرموں کا پھل تھا لیکن کمال کا دوست تھا اس نے اپنی حالت خراب کروا لی لیکن میرا پتہ نہیں بتایا۔۔۔
عمائمہ نے مجھے اپنا نیا نمبر دیا اور کہا ہم جب وہاں سیٹل ہو جائیں گے تو تمہیں دعوت دوں گی۔۔