گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 55)

میں زیادہ دیر وہاں رک نہ سکا کیونکہ مجھ سے ریحان کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔۔

دوسرا یہ جو کچھ بھی ہوا تھا اس سب کی وجہ میں خود کو سمجھ رہا تھا۔۔۔

مجھے شرمندگی سی محسوس ہو رہی تھی میں نے عمائمہ سے اجازت لی اور گھر سے باہر نکل آیا۔۔۔

اسی وقت بھا ہاشم کا فون آیا اس حال چال پوچھا ساری صورتحال جانی۔۔۔

میں نے بھا کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا اس نے مجھے کہا پھر بھی احتیاط ضروری ہے ۔۔۔

تم آج کالج نہ جاؤ بلکہ دو تین دن چھٹی مارو ہم بھی یہاں سے فارغ ہو کر آ جائیں گے۔۔۔

میں نے بھی نہ پوچھا گاؤں میں کیا ہوا ہے اور نہ ہی بھا نے بتایا۔۔۔

میں گھر میں اکیلا رہ کر کیا کر سکتا تھا اس لیے سوچا کافی دن ہو گئے ہیں فرحی کے گھر چکر نہیں لگا وہاں سے ہی ہو آؤں۔۔۔

میں سیدھا چاچا کے گھر جا پہنچا دروازے پر دستک دی تو فرحی نے دروازہ کھولا ہنس کر میرا استقبال کیا۔۔۔

مجھے اندر کمرے میں لے گئی میں بھی اس کے پیچھے چلتا ہوا کمرے میں پہنچا ۔۔۔

جیسے ہی کمرے میں پہنچا فرحی نے مجھے گلے لگا لیا اور مجھ پر ٹوٹ پڑی۔۔۔

میری گردن گال ہونٹ چومنے لگی اس کے انداز میں بڑی بیتابی تھی۔۔۔

اتنی گرمجوشی سے استقبال ہو تو بندے کا لوڑا بھی فوراً ہتھوڑا بن جاتا ہے ۔۔۔

میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا میرا لن انڈروئیر کو پھاڑ کر باہر آنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

میرے ہاتھ فرحی کی گانڈ پر گئے اور میں ۔ے اس کے چوتڑوں کو پکڑ کر اس کو اوپر اٹھا لیا۔۔۔

فرحی کے بڑے بڑے تھن میرےسینے میں چبھنے لگے میرا لن بڑا بے چین ہو رہا تھا ۔۔۔

فرحی کا جب کسنگ کرنے کے بعد کچھ گزارا ہوا تو مجھ سے الگ ہوتے ہوئے بولی کہاں تھے اتنے دن سے۔۔۔

میں نے کہا اتنی بار آیا ہوں لیکن موقع ہی نہیں میں نے کہاں جانا تھا۔۔۔

فرحی نے پھر کہا اچھا ناشتہ کرکے آئے یا بھوکے ہو۔۔۔

میں بھوکا تھا تو اس کو بھوکا ہوں ہی کہا اس نے مجھے بیٹھنے کا کہا اور میرے لیے ناشتہ بنانے چلی گئی۔۔۔

میرا دماغ رات کا سوچ سوچ کر ماوف ہو چکا تھا پر سکون رہنا چاہتا تھا اس لیے فرحی کے ساتھ کچھ مستی کرنے کا سوچا۔۔۔

میں اٹھ کر واش روم گیا اور اپنا انڈروئیر اتار کرآ گیا ۔۔۔

اس کی گرم جوشی نے مجھے بہت گرم کر دیا تھا ۔۔۔

وہ ناشتہ لائی میرے سامنے رکھا میں نے ہاتھ آگے بڑھایا تو اس نے میرے ہاتھ پر چپیڑ ماری۔۔۔

میں نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرانے لگی۔۔

وہ میری گود میں بیٹھ گئی اور لقمہ توڑ کر میرے منہ میں ڈالا ۔۔۔

اس کی گانڈ میرے لن پر تھی اب لن کچھ آزاد تھا کم از کم انڈروئیر والی رکاوٹ نہیں تھی۔۔

میں نے اس کے مموں پر ہاتھ رکھ کر ممے دبانے شروع کر دئیے اس نے سئی کرتے ہوئے مجھے ناشتہ کروانا جاری رکھا۔۔۔

میری بھوک تو اڑ چکی تھی اس لیے میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال کر قمیض کو اوپر اٹھانا شروع کر دیا ۔۔۔

اس نے خود ہی قمیض اتار دی میں نے اپنی شرٹ اتاری اس کو ایک طرف کیا اور پینٹ بھی اتار دی۔۔۔

وہ منہ دوسری طرف کرکے اپنے مموں پر ہاتھ رکھ کر ممے چھپاتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔۔۔

میں اس کے پیچھے گیا پیچھے سے اس جے ساتھ لگ کر شلوار کو نیچے کرنے لگا۔۔۔

شلوار کو گھٹنوں تک اتار کر میں نے اپنا ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ دیا اس نے جلدی جلدی اپنی شلوار پاؤں سے نکال دی۔۔۔

برا کو بھی میں نے مموں سے اوپر کیا اور ہک کھولے بغیر ہی اتار دیا۔۔۔

ننگے مموں کو پکڑ کر دبانے لگا لن اس کی گانڈ سے اوپر ٹچ ہو رہا تھا۔۔۔

فرحی کو ویسے ہی پکڑے ہوئے میں چارپائی پر بیٹھ گیا ایک بار پھر اس کو گود میں بٹھا لیا۔۔۔

اب ایک لقمہ میں توڑتا اور ایک وہ توڑتی میں اس کے منہ میں ڈالتا وہ میرے منہ میں ڈالتی۔۔۔

نیچے سے لن پھدی کو ڈھونڈ رہا تھا وہ بھی مسلسل ہل کر لن کو پھدی تک لے جانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

میں نے اس کے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر اس کو اوپر اٹھایا۔۔۔

اس نے آگے ہاتھ رکھے اور تھوڑا جھک گئی لن کو پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔

پھر دھیرے دھیرے اس کو لن پر بٹھانے لگا وہ بھی اپنی مرضی سے آہستہ آہستہ لن پر اپنی کو دباتی گئی۔۔۔

ایک منٹ میں اس نے سارا لن اپنی پھدی میں چھپا لیا اور بیٹھ گئئ۔۔۔

اس نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں شہوت کی پیاس تھی ۔۔۔

پھدی میں لن لیے میری گود میں بیٹھی تھی میں نے پراٹھے کا لقمہ توڑا دہی میں ڈبویا اور اس کےمنہ سے لگایا۔۔۔

فرحی نے منہ کھولا میری طرف گردن گھما کر دیکھا اور لقمہ کھا لیا۔۔۔

وہ لن پر گانڈ کو گول گول گھمانے لگی میں نے ایک ہاتھ سے ایک مما پکڑ رکھا تھا اور نپل سے کھیل رہا تھا۔۔۔

اس نے ایک لقمہ توڑا اور اس کو گول کر چمچ کی طرح بنایا اس میں دہی ڈالا اور میری طرف لائی۔۔۔

میں نے وہ لقمہ کھایا ایسے ہی کرتے کرتے ناشتہ کیا پیٹ تو پھر گیا تھا لیکن بھوک ابھی بھی باقی تھی۔۔۔

فرحی میری گود سے اٹھی برتن سمیٹے میں کھڑا ہو گیا اس کو گلے سے لگا لیا۔۔۔

میں نے ایک چیز نوٹ کی فرحی کا وزن کافی کم ہو گیا تھا وہ اب بہت سمارٹ ہو گئی تھی۔۔۔

اس کے ممے بھی اب پہلے کی نسبت ٹائٹ ہو گئے تھے سینے پر اکڑے ہوئے تھے۔۔۔

فرحی کو پکڑ کر چارپائی پر لٹایا ا سکی ٹانگیں چوڑی کیں خود درمیان میں بیٹھ گیا۔۔۔

لن لو پھدی پر رکھا اور اوپر جھک کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔

نیچے سے لن کو پھدی میں اتار دیا اور پھر ایک دم اپنی سپیڈ بڑھا دی ۔۔۔

لن سے پھدی پر تابڑ توڑ حملے کرنے لگا چارپائی چیں چیں کر رہی تھی ۔۔۔

فرحی نے مجھے اپنی طرف دبانا شروع لر دیا تھا۔۔۔

میں بھی جوش میں گھسے مارنے لگا تھا میرا سارا جسم آگ بن چکا تھا۔۔۔

فرحی کا سانس پھول گیا تھا اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہو گئیں۔۔۔

اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد لا کر مجھے کس لیا۔۔۔

لن جڑ تک اندر جا رہا تھا پھدی کی گہرائی میں اتر رہا تھا۔۔۔

فرحی تڑپ اٹھی اس نے نیچے سے گانڈ کو زور زور سے اٹھانا شروع کر دیا تھا۔۔۔

میرے ہونٹوں کو بے تحاشہ چوس رہی تھی اپنے ہاتھوں سے مجھے اپنے اوپر دبا رہی تھی۔۔۔

ایسے کرتے کرتے ہی فرحی فارغ ہو گئی فرحی کا جسم ڈھیلا پڑا۔۔۔

اس کی گرفت نرم ہو گئی لیکن میرا لوڑا ابھی بھی سخت تھا۔۔۔

میں نے ایک بار پھر لن سے پھدی پر وار شروع کر دئیے ۔۔۔

فرحی مچلنے لگی اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا لیکن میں اب رک نہیں سکتا تھا۔۔۔

میں نے اتنی زور سے گھسے مارے کہ فرحی نیچے سے کھسکتی ہوئی چارپائی کے کونے تک جا پہنچی۔۔۔

میں اس کے اوپر لیٹ گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے پکڑ لیے۔۔۔

وہ اپنی ٹانگیں پوری کھول چکی تھی لن نے اس کی پھدی کا ستیاناس کر دیا تھا۔۔۔

فرحی کی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا میں اپنی منزل کے قریب تھا اس لیے ساری طاقت لگا کر گھسے مارنے لگا۔۔۔

آخری چند گھسوں نے تو فرحی کہ چیخ نکال دی۔۔

میں جیسے ہی فارغ ہونے لگا لن کو باہر نکالا اور اس کی ناف پر لن رکھ دیا۔۔۔

لن نے اپنی گاڑھی منی سے اس کی ناف کو بھر دیا اور کچھ منی بہہ کر ایک طرف گرنے لگی۔۔۔

میں فارغ ہو کر ایک طرف گر سا گیا اور اپنا ایک ہاتھ فرحی کے کسے ہوئے مموں پر رکھ لیا اور نپلوں سے چھیڑخانی کرنے لگا۔۔۔

جب سانس بحال ہوئی تو فرحی کی طرف دیکھا جو مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

میں مسکرا دیا فرحی نے میرے بالوں میں انگلی پھیرتے ہوئے کہا اتنا تڑپتے رہے ہو۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔

اس نے میرے ہونٹ چوم لیے اور اٹھ کر کپڑے پہنتے ہوئے بولی میں ابھی واش روم سے ہو آوں۔۔۔

میں پیٹ کی طرف اشارہ کیا تو وہ رک گئی اس نے ایک گندہ کپڑا اٹھایا اور اپنا پیٹ صاف کر لیا۔۔۔

پھر مجھے کپڑا پکڑایا میں نے لن لو اچھی طرح صاف کیا۔۔۔

لن صاف کرنے کے بعد میں نے پینٹ پہنی اور شرٹ بھی پہن لی ۔۔۔

وہ واش روم سے واپس آئی تو میں واش روم گیا میں نہا کر باہر آیا ۔۔۔

فرحی نے مجھے نہایا ہوا دیکھ کر کہا کیا ہوا ہے جانے لگے ہو۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلایا اور بولا بڑا ضروری ہے یہ تو بس تمہاری یاد بہت آ رہی تھی اس لیے آ گیا۔۔۔

اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا میرا دل ابھی بھرا نہیں ہے۔۔۔

میں نے کہا کوئی بات نہیں واپسی پر بھی آوں گا۔۔۔

اس نے کہا پکا آو گے ناں ۔۔۔

میں اس کو یقین دلایا کہ پکا آوں گا۔۔۔

ہم ایک دوسرے کے گلے ملے بوس وکنار ہوئے اس نے مجھ سے پھر وعدہ لیا۔۔۔

میں وہاں سے نکل کر کالج آگیا کالج میں داخل ہوا تو مجھے کوئی غیر معمولی بات نظر نہ آئی۔۔۔

سب اپنی اپنی دنیا میں مست تھے دو دن بعد الیکشن تھا اس لیے میں نے کالج آنا ضروری سمجھا۔۔۔

عاذب کو ہماری سپورٹ کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن یہ بتانا ضروری تھا کہ ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔

یہ سارا دن اس کی کمپین میں گزر گیا کالج سے فارغ ہوئے تو پرویز صاحب سے ملا ۔۔۔

ان کو کچھ نہ بتایا شاہ زیب کا فون آیا اس نے مجھے کہا تم آج کالج کیوں آئے دماغ خراب ہے تمہارا۔۔۔

میں نے کوئی جواب نہ دیا اور فون کاٹ دیا۔۔۔

کالج سے نکلا تو تین بائیکس پر دو دو لڑکے سوار کھڑے تھے ایک پر شاہد اکیلا تھا۔۔۔

میں شاہد کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔

شاہد نے مجھے میرے گھر کے سامنے اتارا میں گھر میں گیا کپڑے بدلے اور ایک دو شرٹس ساتھ لین پسٹل اٹھایا ۔۔۔

پھر گھر سے نکل کر میں اس آنٹی کے گھر چلا گیا۔۔۔

وہ آنٹی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور شکوہ کرنے لگی رات کو ہم بڑے پریشان رہے تم واپس ہی نہیں آئے۔۔۔

میں کہا کوئی مسئلہ نہیں تھا سب ٹھیک ہو گیا ہے اب پریشانی والی کوئی بات نہیں رہی ہے۔۔۔

آنٹی مجھے اسی کمرے میں لے گئی اور مجھے آرام کرنے کا کہا۔۔۔

میں فرحی کی طرف جانا بھول گیا تھا میرے دماغ میں یہ بات تھی ہی نہیں۔۔۔

میں لیٹا تو ایسا سویا کہ آنکھ شام کو ہی کھلی۔۔۔

میں فون بند کرکے سویا تھا پتہ نہیں کیوں مجھے اپنے گھر رکنا مناسب نہ لگا آج کی رات کا جو پلان بنایا تھا اس کے لیے ضروری تھا کہ میں گھر نہ رہتا۔۔۔

کالج جانا بھی ضروری تھا کیونکہ اس دوران شادے گجر کے لڑکوں نے میرے بتائے گئے مقامات پر جانا تھا۔۔۔

رات کو اچھی ڈوگر کے لڑکوں نے آنا تھا اور باقی کی جگہوں پر میں نے خود ان کے ساتھ جانا تھا ۔۔۔

اس لیے پر سکون ہو کر سونا ضروری تھا یہ سب میں اور شاہد ہی جانتے تھے کسی لو کانوں کان خبر نہیں تھی۔۔۔

دن میں شہر کے مختلف علاقوں میں سات گھروں میں ڈکیٹی ہوئی جو دیکھنے والوں کے لیے ڈکیٹی ہی تھی۔۔۔

اب رات بہت ہنگامہ خیز ہونے والی تھی کیونکہ دن میں جو کچھ ہوا اس کی اطلاع دارے خاں تک پہنچ چکی ہو گی ۔۔۔

اس نے اپنے لوگوں کو متحرک کر دیا ہوگا لیکن میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اگر ان کو سنبھلنے کا موقع دیا تو جوابی وار ہم کر بھاری پڑے گا۔۔

اس لیے ہم نے رات کو پوری طاقت سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میری حالت عجیب ہوتی جا رہی تھی۔۔۔

میں اٹھ کر واش روم گیا واش روم سے نکلا تو آنٹی نے مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی۔۔۔

وہ آج بڑی چمک رہی تھی نہائی ہوئی تھی بال کھلے تھے دوپٹہ گلے میں لہرا رہا تھا۔۔۔

اس کا ہر انداز مجھے یہ باور کروا رہا تھا کہ میری پھدی میں اپنا لوہے جیسا لن گھسا دو۔۔۔

میں آنٹی پاس گیا بڑے رازدارانہ انداز سے پوچھا آپ کے شوہر کہاں ہیں۔۔

اس نے کہا وہ ابھی نہیں آئے گا میں نے اس کو کام بھیجا ہے وہ رات دیر سے آئے گا۔۔۔

میں نے یہ سن کر آنٹی کے ہونٹوں پر ایک بوسہ دیا۔۔۔

اتنا تو بنتا تھا ان لوگوں کو بچہ چاہئیے تھا اور وہ مجھ سے امید لگائے بیٹھی تھیں۔۔۔

میں نے آنٹی کو باہوں میں اٹھا لیا وہ ہلکی پھلکی سی میری باہوں میں شرمانے لگی۔۔۔

میں اس کو اٹھائے اسی کمرے میں لے آیا جو مجھے سونے کے لیے دیا تھا ۔۔۔

بیڈ پر لا کر لٹا دیا اور خود اوپر جھک کر اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔

اس نے میرے چہرے پر ہاتھ دونوں ہاتھ رکھ دئیے اور آنکھیں بند کرکے میرا ساتھ دینے لگی۔۔۔

کچھ دیر ایسے چوما چاٹی کرنے کے بعد میں پیچھے ہونے لگا تو اس نے میری گردن میں بانہیں ڈال دیں ۔۔۔

میں پیچھے ہوتا گیا وہ میرے ساتھ اوپر گئی اور بیٹھ گئی۔۔۔

اس کی آنکھوں میں میرے لیے کئی جذبے تھے وہ ان جذبوں میں ڈوب چکی تھی۔۔

میں نے اپنی شرٹ اتاری اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنی قمیض اتار دی ۔۔۔

اس نے نیچے بڑا سوفٹ سا برا پہنا ہوا تھا جو مموں کو چھپانے میں ناکام ہو رہا تھا۔۔۔

اس نے برا بھی اتار دی اس کے ممے جھولتے ہوئے باہر نکلے۔۔۔

میں اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھا اور اس کو گلے لگا لیا۔۔۔

اس کے گرم اور نرم ممے میرے سینے سے لگے تو میرے سارے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا ۔۔۔

میں نے ہاتھ لگا کر ممے پکڑ لیے اس کے ممے اتنے نرم تھے کہ ہاتھ سے پھسل رہے تھے۔۔۔

میں ممے دبانے لگا ایک بار پھر کسنگ کا دور شروع ہوا ۔۔۔

اس بار کسنگ میں بھی پہلے سے زیادہ جوش تھا بڑے جوش سے ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رس چوس رہے تھے۔۔۔

میں ممے دباتے ہوئے ہونٹ چوس رہا تھا ممے چوستے ہوئے اس کو بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔

پھر اس کے اوپر اس طرح آیا کہ اس نے ٹانگیں کھول لیں اور میں ٹانگوں میں لیٹ گیا۔۔۔

میرا سینہ اس کے ایک ممے پر تھا اور دوسرا مما میرے ہاتھ میں تھا ۔۔۔

ہونٹ چوستا جا رہا تھا میں نے ہاتھ کو ممے سے ہٹایا اور پیٹ پر پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف لے گیا۔۔۔

شلوار کے اوپر سے پھدی کو چھوا اس نے اپنی ٹانگیں کس کر مجھے گرین سگنل دیا۔۔۔

میں نے اپنا منہ اس کی گردن پر رکھا گردن کو چومتے ہوئے مموں کے درمیان لے آیا۔۔۔

اس کے جسم سے بڑی سہانی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔

اس نے میرے لیے بڑی تیاری کی تھی اس کے جسم کی نرم وملائم جلد سے پتہ چل رہا تھا۔۔۔

پھدی بھی ایک دم نرم لگ رہی تھی پھدی کو مسلتے ہوئے میں نے مموں میں منہ دبایا۔۔۔

ا سکے بعد ایک ممے کے چاروں طرف زبان پھیری اس کے دونوں ہاتھ میرے سر پر تھے میں زبان کو پھیرتے ہوئے ہونٹ نپل پر لے آیا۔۔۔

اپنے ہونٹوں میں نپل کو لے کھینچا اس کے ہاتھ نے میرے سر کو دبایا۔۔۔

میں نے زبان نکال کر نپل پر رکھ کر گولائی میں پھیری اس کا پورا جسم لرز گیا۔۔۔

میرا ہاتھ نیچے سے اب اس کی شلوار میں جا چکا تھا اور ننگی پھدی کو اپنے ہاتھ میں لے دبانے لگا تھا۔۔۔

وہ مچلنے لگی تھی اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا اور پینٹ کے اوپر سے ہی دباتے ہوئے اس نے پینٹ کو اتارنے کے لیے کھولنا شروع کیا۔۔۔

میں نے اپنا ہاتھ پھدی سے ہٹا کر پینٹ کا بٹن کا بٹن کھولا اس نے زپ کھول کر دونوں ہاتھ سے پینٹ کو نیچے کھینچا پھر انڈروئیر کو بھی نیچے کر دیا۔۔۔

لن کو پکڑ کر دبانے لگی وہ بڑے پیار سے مٹھی بند کرکے لن کو دبا رہی تھی لن بھی پھول کر اس کی محنت کا خراج دے رہا تھا۔۔۔

میں زور زور ممے چوس رہا تھا میں جتنے زور سے ممے چوس رہا تھا اتنے زور سے وہ میرا لن دبا رہی تھی۔۔۔

وہ پوری مستی میں آگئی تھی اس نے لن کی مٹھ لگانا شروع کر دی تھی۔۔۔

اس کا ہاتھ میرے لن کی پیمائش کر رہا تھا میں اس کے مموں کو باری باری چوس رہا تھا ۔۔۔

میں نے ایک انگلی اس کی پھدی میں ڈال اور اندر باہر کرنے لگا۔۔۔

وہ ایک دم تڑپ اٹھی اس نے اپنی شلوار کو گانڈ اٹھا کر اتار دیا۔۔۔

مجھے اپنے اوپر کر لیا میرا ہاتھ اس کی پھدی سے ہٹ گیا۔۔۔

اس نے خود ہی لن پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا اور میری گانڈ کو ہاتھوں سے دبا کر لن کو اندر لے لیا۔۔۔

اس کی پھدی اتنی گیلی تھی کہ لن جڑ تک اندر گیا۔۔۔

لن کے اندر جاتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے آگ کی انگیٹھی میں لن ڈال دیا ہو۔۔۔

اس نے مجھے اپنے اوپر کس لیا اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔

میں نے لن کو نکال کر اندر باہر کرنا شروع کر دیا لن بڑی روانی سے اندر باہر ہونے لگا۔۔۔

میں نے آہستہ آہستہ اپنی سپیڈ بڑھانا شروع کر دی۔۔۔

اس کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھا لن کو سپیڈ سے گھسانے لگا۔۔۔

وہ پہلے ہی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ اس نے آہ اہ زور سے کرو کہنا شروع کر دیا۔۔۔

میں نے اتنے زور سے گھسے مارے کہ مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میرا لن اندر کسی چیز سے ٹکرا رہا ہے۔۔۔

اس کے چہرے پر بھی درد کے آثار تھے اس نے اونچی آواز میں آہ آہ آہ کی میرے گھسوں سے تھپ تھپ کی آواز پیدا ہو رہی تھی۔۔۔

اس کے بڑے بڑے چوتڑوں سے میرے پٹ ٹکرا کر ایک ردھم سے آواز پیدا کر رہے تھے۔۔۔

وہ گانڈ اٹھا اٹھا کر اور زور اور زور کرو کہہ رہی تھی میں بھی اس کی آواز سن کر اسی سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا۔۔۔

میرے گھسے اتنے تیز ہو گئے کہ وہ ہر گھسے کے ساتھ پیچھے کو سلپ پو جاتی ایسے کرتے کرتے وہ بیڈ کے ٹیک سے جا لگی۔۔۔

میں نے اس کے اوپر لیٹ کر اس کے کندھوں کو قابو کیا اس نےمیرے ہونٹوں کو اپنے قابو میں کر لیا۔۔۔

مجھے اس کی گرم پھدی نے جلد ہی اپنی منزل کے قریب پہنچا دیا تھا۔۔۔

وہ بھی تڑپ رہی تھی اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اپنی منزل کے قریب ہے۔۔۔

میں گھسے مار رہا تھا وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی ہاں ایسے کہ چودو مجھے آہ آہ۔۔۔

اس نے پھر بونگیاں مارنی شروع کر دیں۔۔

وہ کہنے لگی ایسےچودو میرے راجہ میرے شوہر نے بھی مجھے کبھی ایسے نہیں چودا اج تک میری پھدی کو ایسا لن نہیں ملا ۔۔۔

مجھے اہنی رنڈی بنا لو میں تمہارے بچے کی ماں بن جاؤں میری پھدی میں اپنے لن کا گاڑھا پانی ڈال کر پھدی کو بھر دو۔۔۔

میری بچہ دانی میں اپنا پانی چھوڑ دو میرے راجہ ۔۔۔

آج سے میں تمہاری غلام ہوں مجھے اپنی کھیل بنا کر رکھنا میں تمہاری رکھیل رکھیل رکھیل ۔۔۔

آہ آہ تمہاری رکھیل کی پھدی لیک ہونے لگی ہے یہ دیکھو پانی چھوڑنے لگی ہے یہ لو تمہاری رنڈی نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔

میرے جسم کے مالک تمہاری غلام کی پھدی نے تمہارے لن کو نہلا دیا افففففف آہ اہ اہ میں گئی میری پھدی ہار گئی تمہارے لن نے میری پھدی کو ہرا دیا ۔۔۔۔

اففف اففف افففف ہائئئے میری جان وہ مجھے اپنے اوپر دبا رہی تھی اس کی باتیں سن کر میرا جوش بھی انتہا کو پہنچ گیا تھا۔۔۔

لن تھا کہ پھول ہی رہا تھا اب پھٹنے والا ہو گیا میری آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے میرا پورا جسم لرز اٹھا ۔۔۔

اتنا مزہ آ رہا تھا کہ سارے جسم میں کیڑیاں دوڑنے لگی میں اس کے کندھوں کو زور سے اپنی طرف کھینچا اور لن کو جڑ تک پھدی

میں گھسا دیا۔۔۔

میرا سارا خون لن پر جمع ہو گیا تھا جسم کی ساری نسیں سخت ہو گئی تھیں۔۔۔

لن نے بھی ایک دم پھول کر منی نکالی جیسے ہی لن سے منی کا پہلا قطرہ نکلا آنٹی کے جسم نے ایک زور دار جھٹکا کھایا ۔۔۔

اس کا سارا جسم لرز سا گیا اس نے میری کمر کے گرد ہاتھ رکھ کر مجھے کس لیا۔۔۔

میرے کان میں کہا میری جان آج مجھے ماں بنا دو میرے سونی کوکھ بھر دو افففف بڑی گرم منی ہے تمہاری۔۔۔

میری بچہ دانی میں جا رہی ہے آہ آہ بھر دو میری بچہ دانی کو ۔۔۔

میں اس کی پھدی میں فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا مجھے آج تک جتنی بھی پھدیاں ماری تھیں سب سے زیادہ مزہ آج آیا تھا۔۔۔

جس قدر زور سے لن نے منی چھوڑی تھی

اتنے پریشر سے کبھی نہیں نکلی تھی۔۔۔

فارغ ہوتے ہوئے جو مزہ میں نے آج چکھا تھا آج سے پہلے وہ مزہ مجھے کبھی نہیں ملا تھا۔۔۔

آنٹی نے میرے سر میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا مجھے یقین ہو گیا ہے آج میری بچہ دانی میں نطفہ آ گیا ہے۔۔۔

میں ماں بن جاؤں گی ۔۔۔

میں نے پوچھا آپ کو کیسے یقین ہے۔۔۔

اس نے کہا عورت کو پتہ چل جاتا ہے یہ بات مجھے کئی عورتوں نے کہ تھی لیکن مجھے ان کی بات پر آج یقین آیا ہے کہ عورت کو سچ میں پتہ جاتا ہے ۔۔۔

تم میرے بچے کے باپ بنو گے۔۔۔

میں اس کے اوپر سے ایک طرف ہوا وہ ویسے ہی ٹانگیں اٹھا کر کچھ دیر لیٹی رہی اس کی بچے کے لیے تڑپ دیکھ کر میرے دل سے دعا نکلی کہ ماں بن جائے۔۔۔

میں نے پینٹ پہنی اور شرٹ اٹھا کر باہر نکلنے لگا تو اس نے کہا ابھی رکو ۔۔۔

میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا وہ اٹھی ایک چادر جسم پر لپیٹ کر باہر نکل گئی ۔۔۔

دو منٹ بعد واپس آئی اس کے ہاتھ میں سرسوں کے تیل کی بوتل تھی۔۔۔

اس نے مجھے پینٹ اتارنے کا کہا میں نے کچھ بولنے کی کوشش کی اس نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔۔۔

ایک چادر اٹھا کر اس نے بیڈ پر بچھائی اور مجھے ننگا کرکے وہاں لٹا دیا۔۔۔

خود تیل ہاتھ میں ڈال کر میرے جسم پر گراتی جاتی اور مالش کرتی جاتی۔۔۔

میری اوپر کے حصے کی اچھی طرح مالش کرنے کے بعد وہ نیچے آئی اور ٹانگوں پر تیل لگا کر مالش کرنے لگی۔۔۔

اس کے ہاتھوں میں جادو تھا سارا جسم کھلتا جا رہا تھا۔۔۔

ٹانگوں کا مساج کرنے کے بعد اس نے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس پر تیل سے مالش شروع کر دی ۔۔۔

اس کے ہاتھوں میں ایسا جادو تھا کہ لن جو مجھے لگ رہا تھا ابھی تو کھڑا نہیں ہو گا کیونکہ میں مساج کو انجوائے کر رہا تھا میرا سارا دھیان اسی طرف تھا۔۔۔

لن کو کھڑا ہوتا دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی واہ میرے راجہ یہ تو پھر تیار ہو گیا ہے۔۔۔

میں کچھ نہ بولا اس کے بعد اس نے مجھے بٹھایا اور خود میرے پیچھے بیٹھ گئی اور میرے سر میں اچھی طرح سے تیل کو جذب کیا۔۔۔

اس کے مموں نے میرے اندر ہل چل پیدا کر دی تھی۔۔۔

مجھ سے برداشت نہ ہوا تیل سے لت تھا سارا جسم چکنا تھا میں نے اس کو اپنے نیچے رکھا اور ایک بار پھر سے چدائی کا دور شروع ہوا۔۔۔

اس بار پہلے سے زیادہ دیر لگی لیکن اب مزہ بھی پہلے سے دگنا آیا ۔۔۔

فارغ ہونے کے بعد وہ اٹھی باہر نکل گئی کچھ دیر بعد واپس آئی اور مجھے باہر لے گئی۔۔۔

مجھے واش روم میں لے گئی اور وہاں تولیہ اور صابن دونوں موجود تھے۔۔۔

میں نے پانی میں ہاتھ ڈال کر چیک کیا تو پانی نیم گرم تھا۔۔۔

میں اس نیم گرم پانی سے نہایا سارا جسم کھل گیا۔۔۔

نہا کر واپس کمرے میں آیا شرٹ بدل لی ایک اور شرٹ پہنی اور پسٹل بھی ایک بار پھر سے چیک کیا اس کی میگزین چیک کی اس میں بھی گولیاں تھیں۔۔۔

فون اٹھایا اور شاہد سے رابطہ کیا اس سے آج کے پلان کے بارے میں بات چیت کی ۔۔۔

اچھی ڈوگر کے لڑکوں سے رابطہ ہوا سب نے ایک ساتھ مل کر مختلف جگہوں میں ایک کی وقت میں دھاوا بولنا تھا۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment