گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 57)

بھا نے کہا بس پہلا پیریڈ ختم ہو جانے دو اس کے بعد تمہیں کلاس میں بھیجتا ہوں جس کلاس میں فزکس کا پیریڈ ہے۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے اور پھر سے سکول میں ایسے ہی چکر لگانے لگا۔۔۔

مجھے وہاں سب عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔

وہاں جا کر مجھے پتہ چلا کہ بھا کا سکول گرلز کے لیے دہم تک ہے اور بوائز پنجم کلاس تک پڑھتے ہیں۔۔۔

مجھے جس کلاس کو پڑھانا تھا وہ گرلز کی کلاس تھی یہ بھی مجھے بھا نے بتا دیا۔۔۔

ساتھ بھا نے نصیحت بھی کہ جن کو ہم پڑھاتے ہیں وہ ہماری صرف سٹوڈنٹس ہوتی ہیں ۔۔۔

ان کے بارے میں کچھ غلط سلط مت سوچنا بڑا عزت والا پیشہ ہے ۔۔۔

ایک اچھا استاد وہ ہوتا ہے جو بچوں کو ایک استاد کی نظر سے دیکھتا ہے ۔۔۔

باپ بننے کی ضرورت نہیں اور نہ کچھ اور بننے کی کوشش کرنا تمہارا فوکس صرف پڑھانے پر ہونا چاہئیے۔۔۔

میں بھا کی ساری باتیں سنتا رہا اب اتنا تو سمجھ چکا تھا کہ بھا جو کہنا چاہ رہے ہیں اس کا مطلب کیا ہے۔۔۔

میں نے بھا کو یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہوگا آپ کو کوئی شکایت نہیں ملے گی۔۔۔

میں نے سکول کا راونڈ لگایا اپنے دل کے تاروں کو اتھل پتھل کرنے والی حسن جاناں کا دیدار دو تین بار کیا۔۔۔

اس کی آنکھوں میں شناسائی تو تھی لیکن کوئی مسکان نہ تھی وہ مسکان جو اس نے آخری بار مجھ پر نچھاور کی تھی۔۔۔

میں یہ تب ہی جان پاتا جب اس سے بات ہوتی یا اگر میں یہاں مسلسل آتا تو جان سکتا تھا۔۔۔

پیریڈ کی بیل ہوئی بھا نے مجھے کلاس دکھا دی تھی جس کو میں نے پڑھانا تھا ۔۔۔

میں اس کلاس کے سامنے جا پہنچا بھا بھی آگیا ۔۔۔

اسی وقت وہ میری جان کی دشمن اپنی تمام تر حسن کی شہنائیاں لٹاتی ہوئی ہماری طرف بڑھی۔۔۔

بھا نے مجھے بتایا کہ یہ مس افراسیاب ہیں ہماری ریاضی کی ٹیچر ہیں جو دہم کو ریاضی کروا رہی ہیں۔۔۔

ہم نے ان کو فزکس دی ہوئی ہے لیکن انہوں نے پہلے ہی معذرت کر لی تھی کہ یہ ان کا مضمون نہیں ہے نمیریکلز نہیں کروا سکیں گی۔۔۔

تم جتنے دن چھٹیاں ہیں ان کی کلاس کو نمیریکلز کروا دینا اور مس بھی کلاس میں رہیں گی۔۔۔

وہ میری طرف دیکھ رہی تھی میرا سارا اعتماد دھواں ہو گیا اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر سارا کا سارا اعتماد جو مجتمع کیا ہوا تھا بہہ گیا۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلایا اور بھا نے افرا کو کہا آپ صائم کو کلاس میں لے جائیں اور کلاس سے تعارف کروا دیں باقی کا کام بھی اس کو سمجھا دیں۔۔۔

افرا نے کہا جی سر میں لے جاتی ہوں ۔۔۔

وہ میری طرف متوجہ ہوئی اور مجھے کہا چلیں سر آ جائیں۔۔۔

بھا جا چکا تھا میں افرا کو تکے جا رہا تھا ۔۔۔

افرا نے کہا اگر ایسے ہی تکتے رہے تو تم نے پڑھا لیا ۔۔۔

اس نے کلاس میں داخل ہو کر کہا ایک منٹ بچو میں سر ہاشم کے بھائی سر صائم کو لے آتی ہوں جو کچھ دن آپ کو پڑھائیں گے۔۔۔

وہ باہر آئی اور مجھے کہا کیوں خود کو اور مجھے یہاں بدنام کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

اگر ایسے ہی مجھے دیکھتے رہے تو مجھے یہاں سے جانا پڑے گا۔۔۔

میں نے نظریں جھکا لیں اور اس کے ساتھ کلاس میں داخل ہو گیا۔۔۔

ایک پڑھانے کا پہلا تجربہ دوسرا لڑکیوں کو تیسرا اس کے سامنے جس کو دیکھ کر ویسے ہی میری بولتی بند ہو جاتی تھی۔۔۔

خیر جیسے تیسے کرکے پڑھانا سٹارٹ کیا ٹاپک تھا سمپل ہارمونک موشن اس کا فارمولا سب سے پہلے لڑکیوں سے سنا۔۔۔

اس کے بعد اس سے متعلقہ سارے نمیریکلز جو کہ پانچ بنتے تھے وہ کروائے اپنی طرف سے اچھے سے کروائے باقی اب ان کو سمجھ آئی یا نہیں آئی وہ ہی بتا سکتی تھیں۔۔۔

میں نے کسی سے کوئی تعارف نہ لیا اور نہ ہی اپنا تعارف کروایا۔۔۔

پیریڈ ختم ہوا میں باہر نکلنے لگا تو افرا کی آواز آئی سر ایک منٹ۔۔۔

میں رک گیا تو وہ میرے پاس آئی تعریف کرتے ہوئے کہا آپ بہت اچھا پڑھاتے ہیں ۔۔۔

میں نے کہا شکریہ اس نے کہا ایک پیریڈ نہم میں بھی ہے فزکس کا وہ بھی آپ نے پڑھانا ہے۔۔۔

میرے منہ سے نکل گیا آپ بھی ہوں گی وہاں۔۔۔

اس نے شرماتے ہوئے کہا ہاں میں بھی ہوں گی۔۔۔

میں نے کہا پھر وہ بھی پڑھا لیں گے۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا چلیں میں آپ کو کتاب اور عنوان بتا دیتی ہوں آپ نظر مار لیں۔۔۔

میں آفس کی طرف آیا وہ کلاس میں گئی دو منٹ بعد ہی وہ کتاب لے کر آئی اس نے مجھے کتاب دی اور عنوان بھی بتا دیا۔۔۔

دفتر میں اکیلا تھا میں نے اس سے کہا آپ کب سے یہاں پڑھا رہی ہیں۔۔۔

اس نے کہا جب آپ آخری بار ہمارے گھر کے پاس سے گزرے تھے اس سے اگلے ماہ سے۔۔۔

میں نے پوچھا آپ کو یاد ہے میرا وہاں سے گزرنا اور آپ کو دیکھنا۔۔۔

اس نے ہاں میں سر ہلایا اور چلی گئی آفس کے دروازے میں رک کر میری طرف بڑی گہری نظروں سے دیکھا اور مسکرائی۔۔۔

یہ ہی سب کچھ اگلی کلاس میں ہوا لیکن مجھے افرا کے رجحان کا پتہ چل گیا تھا ۔۔۔

اس کے دل میں بھی میرے لیے کچھ تھا یہ سب جاننے کے بعد مجھے جس قدر خوشی ہوئی وہ بیان نہیں کر سکتا۔۔۔

سکول میں میں نے پڑھانے تو دو پیریڈ ہی تھے لیکن میں وہاں چھٹی تک بیٹھا رہا۔۔۔

لیکن اس کے بعد افرا سے سامنا بھی نہ ہو سکا۔۔۔

سکول سے نکلنے کے بعد میں سٹاپ پر کھڑا ہو گیا جہاں سے گاؤں جانے والا کوئی ناں کوئی مل جاتا تھا ۔۔۔

سکول کی چھٹی کا وقت تھا گورنمنٹ سکول میں پڑھنے والے لڑکے جا رہے تھے جن میں ہمارے گاؤں کے بھی کئی لڑکے تھے۔۔۔

میں ایک لڑکے کے ساتھ بیٹھ کر گاؤں چلا گیا گاؤں جاتے ہوئے عجیب سے تاثرات تھے۔۔

اتنے عرصے بعد گاوں جا رہا تھا بڑا عجیب لگ رہا تھا جب آخری بار گیا تھا تب بھی کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

گھر گیا تائی امی سے ملا کیونکہ گاؤں میں میرا تایا اور اس کی فیملی ہی میرے دادا کی اولاد میں سے رہتے تھے۔۔۔

باقی کے رشتہ دار بھی تھے لیکن جن کو میں حقیقی رشتے دار سمجھتا تھا وہ صرف تایا تائی ہی تھے۔۔۔

تائی نے مجھے کہا ہن آگیا ایں تاں ایویں ڈووں ڈووں نہ کردا فریں فجے توں دور رہیں۔۔۔

میلا تو تھا ہی ساتھ میں گاؤں میں بھی خوشی کا ساماں ہوتا تھا۔۔۔

ہر گھر نیاز بانٹتا تھا جس کی وجہ سے تقریباً سارا علاقہ اکٹھا ہوتا تھا۔۔۔

میلے کی انتظامیہ ہمارا خاندان ہوتا تھا اس لیے ہمیں خصوصی عزت ملتی تھی۔۔۔

مجھے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ ججی آگیا جو کہ میری پھپھو کا بیٹا تھا ۔۔۔

اسنے مجھے کہا کہ آجاؤ میلے پر چلیں وہاں تو رونق لگی ہے تو یہاں بیٹھا ہے۔۔۔

میں نے کہا آتا ہوں تائی نے لسی کا گلاس دیا میں نے پیا۔۔۔

تائی بڑبڑانے لگی اک منٹ وی سکون نیں دو منٹ بہہ جان دیں اہناں نوں چنگا نہیں لگدا۔۔۔

میں ہنسنے لگ گیا کیونکہ سب ہی تائی کی عادت سے واقف تھے وہ دل کی بری نہیں تھیں بس زبان کی تیز تھیں۔۔۔

لسی پینے کے بعد تائی نے کہا روٹی کھا لے میں نے کہا میلے پر آیا ہوں وہاں کچھ کھا لوں گا۔۔۔

تائی نے کہا تیرا تایا وی دیگاں لے گیا اے اوتھوں کھا لیں پتہ نیں لوگ کی کجھ پاندے نیں چاولاں اچ تو آپنے کھا لیں بھکا ناں پھر دا رہیں۔۔۔

میں جی اچھا کہتا ہوا اٹھ کر چل پڑا سب رشتہ داروں سے ملتا ہوا ججی کے ساتھ جا ملا ۔۔۔

ججی پگڈنڈی پر جا رہا تھا میں بھی اس کے ساتھ مل گیا ۔۔۔

اس سے باتیں کرتا ہوا میلے کی جگہ پہنچ گیا جو کہ ہمارا ٹیوب ویل ہی تھا ۔۔۔

ٹیوب ویل کے پاس ہی قبرستان تھا جہاں بزرگ کا مزار بھی تھا نام تو اس کا کوئی بھی نہیں جانتا تھا کم از کم میں تو یہ سمجھتا تھا۔۔۔

میلے کی رونق عروج پر تھی سپیشل فرمائشی گانے سپیکر پر چل رہے تھے۔۔۔

نام لے لے کر گانے چلائے جا رہے تھے یہ ایک الگ ہی ماحول تھا۔۔۔

کوئی اپنے دوست کے نام گانا لگوا رہا تھا تو کوئی کسی خاص کے لیے چلوا رہا تھا ۔۔۔

میں سن سن کر خوش ہو رہا تھا تایا سے ملا باقی بھی سب رشتہ دار تھے ۔۔۔

فجا اور ججی چچازاد تھے اور ان کے ابو لوگ پانچ بھائی تھے وہ سب بھائی وہاں موجود تھے۔۔۔

سب فجے کی طرح لڑائی میں ٹانگ اڑائے رکھتے تھے ڈرنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔

ہم کزنوں کو ملا کر تقریباً پچاس کے قریب بن جاتے تھے ایک پوری فوج بن جاتی تھی۔۔۔

اسی وقت میرے نام سے کسی نے گانا لگوا دیا ساتھ سپیکر والے نے یہ بھی کہا یہ کسی بڑے ہی خاص انسان کی طرف سے خاص سے خاص گانا ہے گانا نہیں ہے اس کے دل کی آواز ہے۔۔۔

جواد احمد کا مشہور گانا ۔۔۔

سجناں دور گیا

تیرے کول وسنا

اے گل یاد رکھنا۔۔

میرے دل نے کہا یہ اور کوئی نہیں لگوانے والی چھنو ای ہے اور وہ یہاں ہی ہے۔۔۔

جب یہ گانا چلا تو فجے نے میری طرف دیکھا اور ہنسنے لگ گیا اس کے اس طرح دیکھنے سے مجھے حیرت نہیں ہوئی تھی۔۔۔

پاس ہی اس کا سب سے چھوٹا چاچا کھڑا تھا اس کو میں بھی چاچو کہتا تھا ۔۔۔

اس نے میری طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے کہنے لگا ہممم واہ کیا بات ہے بڑے لوگ انتظار کر دے نیں۔۔۔

میں بس ہنس کر رہ گیا وہاں سے لنگر کھایا اور مزار پر حاضری دینے کا کہہ کر چلا گیا۔۔۔

گاؤں میں مزاروں پر گڑولی کے نام سے عورتیں اور لڑکیاں ایک گھڑی میں دودھ کھیر یا گرمیوں میں لیموں پانی وغیرہ لا کر لوگوں کو پلاتی ہیں۔۔۔

یہ ایک طرح کی منت ہوتی ہے جو عورتیں اپنے بچوں کی یا اپنی مانتی ہیں اور کئی کئی سال تک ہر سال عرس کے دنوں میں گڑولی بھرتی ہیں۔۔۔

ایسے موقعوں پر بڑا مزہ آتا تھا اب بھی کئی جگہوں پر یہ سب چل رہا ہے۔۔۔

میں جب مزار کے قریب پہنچا تو اس وقت بھی ایک گڑولی آئی ہوئی تھی میرے پیچھے پیچھے فجا بھی آگیا تھا۔۔۔

عورتیں مزار کے احاطے میں بیٹھی تھیں اور کھیر ڈال ڈال کر دے رہی تھیں ان کے ساتھ چھوٹی چھوٹی لڑکیاں تھیں جو آگے جا کر لوگوں کو دے رہی تھیں۔۔۔

جب گڑولی آتی تھی تو لڑکے اور مرد مزار کا صحن خالی کر دیتے تھے اور دور ہو کر بیٹھ جاتے تھے یا کھڑے ہو جاتے تھے۔۔۔

ہم بھی پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو گئے فجے نے میرے کہنی ماری میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔۔۔

میں نے اس طرف دیکھا تو وہاں چھنو شازی اور صنم تینوں کھڑی میری طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔

میں ان کی طرف دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کس کو دیکھوں کیونکہ وہ تینوں مجھے تک رہی تھیں۔۔۔

میں نے نظریں گھما لیں فجے سے باتیں کرنے لگا اسی وقت کسی نے میرا نام لے کر کہا بھائی بلو ۔۔۔

میں نے آواز کی سمت دیکھا تو ایک پیاری سی بچی جس کی عمر بمشکل چھ سال ہو گی ہاتھ میں کھیر کی پلیٹ لیے کھڑی تھی۔۔۔

میں نے کھیر والی پلیٹ پکڑی اور کہا شکریہ بیٹا اس نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ باجی نے بھیجی ہے۔۔۔

میں نے اس طرف دیکھا تو وہاں ناہید کھڑی تھی فجے نے کہا اوہ تیری لے بھئی بلو ہن تو جان تے تیرا کم جانے ۔۔۔

میں نے چھنو کی طرف دیکھا تو وہ مجھے گھور رہی تھی اس نے ایک بچی کو بھیجا میں دیکھتا رہا ۔۔۔

اب چھنو اکیلی کھڑی تھی شازی اور صنم اس کے ساتھ نہیں تھیں۔۔۔

چھنو کی بھیجی ہوئی بچی بھی کھیر لے آئی میں نے وہ بھی رکھ لی اس کے بعد ایک اور بچی آئی اس نے بھی مجھے کھیر دی جو کہ شازی نے بھیجی تھی۔۔۔

اب تین پلیٹیں وہ بھی کھیر کی اور کھیر بھی خالص دودھ کی جس میں بادام کشمش اور کئی طرح کے مغز ڈالے ہوتے تھے۔۔۔

میں نے ایک پلیٹ میں دو پلیٹوں کو ڈال لیا اور کھانے لگا۔۔۔

فجا واپس آگیا تھا اس نے کھانے کی کوشش کی میں نے اس کو پیچھے دھکیل دیا۔۔۔

اس وقت کوئی ایسا بھی تھا جو یہ سب دیکھ رہا تھا اور اس کو یہ سب ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔۔۔

میں نے دو پلیٹیں بڑی مشکل سے کھائیں اور تیسری پلیٹ کھانے لگا۔۔۔

آدھی ہی کھائی ہو گی کہ ججی آ گیا اس نے میرے ساتھ کھانا شروع کر دی ۔۔۔

فجے نے ہنستے ہوئے مجھے دیکھا اور بولا ہن روکیا نیں ایہنوں۔۔۔

میں نے فجے کو بھی ملا لیا کھیر کھانے کے بعد ہم دوسری طرف نکل گئے ۔۔۔

ہم گھوم پھر کر میلا دیکھنے لگے جھولوں پر بچے جھولے لے رہے تھے۔۔۔

تماشہ دکھانے والے کے پاس کافی رش تھا لوگ خوش ہو کر پیسے دے رہے تھے۔۔۔

غرض میلے میں طرح طرح کے لوگ طرح طرح کے تماشے دیکھ رہے تھے۔۔۔

پھر سپیکر پر کبڈی کا اعلان ہوا اور گراؤنڈ میں سب کو بلایا جانے لگا۔۔۔

ہم بھی گراؤنڈ کی طرف بڑھ گئے گراؤنڈ میں ہمارے بڑے چارپائیوں پر بیٹھے تھے ہم ان سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو گئے۔۔۔

ہمارے ساتھ ہمارے دوسرے کزن بھی اکٹھے ہو گئے تھے ہم دس بارہ لڑکے ایک طرف تھے۔۔۔

ہم سے بڑے ایک طرف کھڑے تھے اور ہمارے سب کے بڑے درمیان میں چارپائیوں پر بیٹھے تھے۔۔۔

دوسری ٹیم کو لانے والے بھی ہمارے سامنے گراؤنڈ کی دوسری طرف اسی انداز میں تھے۔۔۔

میچ کے ریفری ایک سابق قومی کھلاڑی تھے۔۔۔

ٹاس ہوا میچ شروع ہوا پوائنٹس ٹیبل پر دونوں ٹیمیں برابر جا رہی تھیں۔۔۔۔

دس دس پوائنٹس کے بعد ہماری ٹیم ایک پوائنٹ آگے ہو گئی اس کے بعد مخالفین نے شور کرنا شروع کر دیا۔۔۔

پھر یہ شور بڑھتا گیا بات گالیوں تک جا پہنچی ہمارے بڑے ہمیں پر سکون رہنے کا کہتے رہے۔۔۔

ان کی پارٹی میں سے ایک انتہائی کمینہ شخص تھا جس کا کام ہے ہی پنگے ڈالنا تھا یا دوسروں کو لڑا کر تماشا دیکھنا تھا۔۔۔

اس کے منہ کے ساتھ کتا بندھا ہوا تھا بات بات پر گالی دینا اس کی عادت تھی۔۔۔

اس نے گراؤنڈ میں آ کر کھلاڑی کو جو ہماری ٹیم کا حصہ تھا گالی دے دی۔۔۔

وہ کھلاڑی تھا چپ کر گیا اور ہماری طرف دیکھا اس وقت تک فجا اور ججی گراونڈ میں پہنچ چکے تھے ہمارے کھلاڑیوں کو انہوں نے باہر بھیج دیا ۔۔۔

اس کے بعد اس کو گالی دینے والے کو کھینچ کر گراونڈ میں لے آئے پھر تو کسی کو کوئی سمجھ نہ آئی کیا ہو رہا ہے۔۔۔

ان کے لوگ اور ہمارے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے اور ایک دوسرے کی دھلائی شروع کر دی۔۔۔

چھڑوانے والا کوئی نہ تھا سب لڑنے والے تھے ہمارے بزرگ کھلاڑیوں کو لے کر ٹیوب ویل پر چلے گئے۔۔۔

پھر سب نے کھل کر دھلائی شروع کر دی اور وہ دھلائی ہوئی کہ کسی کی شکل نہیں پہچانی جا رہی تھی۔۔۔

کسی کے ناک سے خون نکل رہا تھا تو کسی کے ہونٹ پھٹے تھے مجھے بھی بہت پڑیں میرا بھی جسم ٹوٹ رہا تھا۔۔۔

جب سب تھک گئے تو پیچھے ہو کر بیٹھ گئے ان کے کھلاڑی ایک طرف کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔

فجے نے ان کو ساتھ لیا اور ٹیوب ویل پر لے گیا کیونکہ وہ جانتا تھا اب ان کو بھی کچھ نہیں ملے گا نہ کھانے کو اور نہ ہی میچ کھیلنے کی فیس۔۔۔

میرے تائے نے ان کو بھی فیس دی کھانا کھلایا اور ان کو روانہ کیا۔۔۔

ہم سب ٹیوب ویل پر نہائے ہمارے مخالف بھی ہمارے ٹیوب ویل پر ہی نہائے ۔۔۔

عجیب سین تھا ہم سب کچھ دیر پہلے ایک دوسرے کو مار رہے تھے اور اب ایک ہی جگہ نہا رہے تھے۔۔۔

دوسری طرف ہمارے بڑے بیٹھ کر معاملے کو حل کر رہے تھے نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ٹیم کی جیت قرارا پائی۔۔۔

عجیب پاگل برادری تھی پنجابی بھی عجیب لوگ ہوتے ہیں عقل سے پیدل ۔۔۔

پنجابیوں کے لیے یہ کہاوت ایک دم درست بیٹھتی ہے۔۔۔

جٹ انگلی نہیں سہندا چپا سہہ لیندا اے۔۔۔

ایک دوسرے کے سر پھاڑ لیے سارا مزہ خراب کر لیا نقصان بھی ہو گیا بدنامی بھی ہو گئی ۔۔۔

اتنے سالوں بعد ایک ساتھ میلا کروایا گیا سارا علاقہ اکٹھا ہوا لیکن میچ بغیر کسی نتیجے کے لڑائی پر ختم ہوا لوگ چلے گئے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو پیسے بھی دے دئیے ۔۔۔

میچ کا فیصلہ خود بیٹھ کر کر لیا۔۔۔

شام ہو چکی تھی ہم سب گھروں کو واپس چلے ڈنگی مجھے بڑا گھور رہا تھا لڑائی کے دوران بھی اس نے مجھے کافی دفعہ مکے مارے لیکن ہر بار میرا مکا کھا کر پیچھے ہٹ جاتا۔۔۔

ڈنگی ہمارے مخالف گروپ میں سے تھا برادری تو تھی لیکن گروپ الگ تھا۔۔۔

ہمارے گاؤں میں ہمارا حال ایسا ہی تھا جیسے انڈیا پاکستان کا۔۔۔

واپسی پر بھی ہم ایک ساتھ سڑک کے رستے پیدل ہی گاؤں آئے۔۔۔

دوکان پر رک کر میں نے فجے کو بوتل پلائی ڈنگی کو بھی روک لیا اس کو بھی بوتل پلائی۔۔۔

باتوں باتوں میں ڈنگی نے کہا بلو تو کیوں آیا ایں کنے تینوں سدیا اے۔۔۔

میں نے کہا سچی دسا کس نے سدیا اے۔۔۔

ڈنگی نے پہلو بدلا۔۔۔۔

فجا ہنسنے لگا۔۔۔۔

ڈنگی پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔۔۔

میں نے کہا یار ہمارے گاؤں کا میلا ہو اور میں نہ آؤں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔

اگر تم کچھ اور سوچ رہے ہو تو وہ تمہاری اپنی سوچ ہے۔۔۔

ڈنگی نے مجھے خونخوار نظروں سے دیکھا اور چلا گیا۔۔۔

ہم ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ ایک بائیک بڑی تیزی سے ہمارے پاس آ کر رکی اس پر دو لڑکے سوار تھے ایک نے پستول نکال کر ہمارے سامنے لہرایا ۔۔۔

اس نے کہا چپ کرکے کھڑے رہو دوسرا بائیک سے اترا اور دوکان کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

اس نے دوکاندار سے ساری نقدی نکلوائی واپس مڑا میری طرف دیکھا اور ٹھٹھک کر رک گیا۔۔۔

وہ کوئی اور نہیں لمبا چوڑا کشادہ سینہ باڈی بلڈر ٹائپ کا جوان عابد باکسر تھا۔۔۔

ابھی کل ہی تو مجھے عاذب بتا رہا تھا کہ عابد کو سزا ہو گئی ہے لیکن یہ یہاں اور اس روپ میں۔۔۔

میں نے عابد کی طرف دیکھا اس نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھا۔۔۔

اس کے ساتھی نے پستول نیچے کیا فجا ہم دونوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

عابد نے پیسے دوکاندار کو واپس کیے اور آ کر بائیک پر بیٹھ گیا میں آگے بڑھنے لگا تو اس نے پستول میری طرف دکھاتے ہوئے کہا آگے کوئی جگہ ہے جہاں ہم بات کر سکیں۔۔۔

فجے نے کہا میلا لگا ہے وہاں چلو ہم آتے ہیں وہاں۔۔۔

وہ بائیک بھگا کر لے گیا فجے نے وہاں موجود بائیک کی چابی لی پتہ نہیں کس کی تھی۔۔۔

میں اس کے پیچھے بیٹھا اور عابد کے پیچھے چل پڑے۔۔۔

فجے نے بائیک کافی بھگائی لیکن ہم جب پہنچے تو وہاں کوئی نہ تھا۔۔۔

ہم نے سارا میلا کھنگال لیا ٹیوب ویل پر لوگوں سے پوچھا بھی لیکن ان کی کوئی خبر نہ ملی۔۔۔

وہاں سے مایوس ہو کر واپس لوٹے جس کی بائیک تھی اس کو دی دوکاندار نے ہمارا شکریہ ادا کیا وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ ہم نے اس کو ڈرایا دھمکایا جس کی وجہ سے وہ لوگ ڈر کر پیسے واپس کر گئے تھے۔۔۔

وہاں زیادہ دیر نہ رکے اور ہم گھر کی طرف چل پڑے ابھی ہم چھنو کی گلی میں داخل ہی ہوئے تھے کہ فجے نے کہا تو جا میں آتا ہوں۔۔۔

فجا واپس چل دیا اور میں گھر کی طرف چھنو کے دروازے سے پہلے ہی مجھے ایک بچے نے روک لیا۔۔۔

میں نے اس کی طرف دیکھا تو یہ وکی چھوٹو تھا جو ایک دفعہ پہلے بھی چھنو کا پیغام لایا تھا۔۔۔۔

اس نے اسی طرح کوئی بات کرنے سے پہلے میری سامنے ہاتھ کیا۔۔۔

میں نے جیب سے پیسے نکال کر اس کو دئیے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور چھنو کی بیٹھک کے سامنے چھوڑ کر آ گے نکل گیا۔۔۔

اندر سے چھنو کی آواز آئی رات کو آ سکتے ہو کیا۔۔۔

میں نے کہا ہاں آ تو سکتا ہوں لیکن مسئلہ ہو گیا تو۔۔۔

اس نے کہا ابو گھر پر نہیں ہیں اور نہ ہی امی ہے میں چھوٹی اور بھائی ہے بھائی بھی اس کا چھوٹا تھا۔۔۔

میں نے کہا پھر کہاں آنا ہے۔۔

اس نے کہا اب سے تین گھنٹے بعد مطلب دس بجے کے بعد آ جانا دروازہ کھلا ملے گا۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں وہاں سے گھر آگیا۔۔۔

میں تائی کے پاس گیا تائی نے میرا چہرہ روشنی میں کر کے اچھی طرح دیکھا پھر شکر ادا کیا۔۔۔

اتنی پیار کرنے والی تائی بھی کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔۔۔

تائی نے کہا انا سوہنا منہ اے مینوں جدوں پتہ لگیا کہ لڑائی ہوئی اے میں اوس ویلے دی تیرے بارے ای سوچی جانی آں کناں سوہنا اے میرا پتر تائی نے میرا ماتھا چوم لیا۔۔۔

تایا کا بیٹا بھی بیٹھا تھا اس نے کہا میں بھی ہوں کبھی میرا بھی خیال رکھ لیا کرو امی جی۔۔۔

تائی نے کہا بس ہو جا شروع تو وی ہن تو تاں روز ایتھے ہونا ایں ۔۔۔

مجھے تائی نے کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلایا اس کے بعد دودھ کا گلاس پلایا۔۔۔

پھر مجھے کہا ہن کل توں واپس چلا جائیں ایتھے تیرا رنگ کالا ہو جانا اے انی دھپ مٹی تو بیمار ہو جائیں گا۔۔۔

میں ہنسنے لگا تائی کے پیار کا انداز نرالا تھا مجھ سے پیار بھی کرتی تھی اور مجھے دھوپ گرمی اور ان لوگوں سے دور رکھنا چاہتی تھی۔۔۔

تائی کہا کرتی تھی اے سارے ان پڑھ چٹے جاہل نیں تو ایہناں کولے ناں بہیا کر تینوں وی آودے ورگا بنا دیں گے۔۔۔

بھولی تائی بیچاری کیا جانے میں ان سب سے کتنا آگے جا چکا تھا۔۔۔

اس کے بعد میں اٹھ کر ڈیرے میں آگیا میں نے تائی کو کہا ڈیرے میں نیند اچھی آتی ہے وہاں کوئی تنگ بھی نہیں کرے گا۔۔۔

تائی بڑی مشکل سے مانی تھی ڈیرے میں کافی لوگ جمع تھے جو آج کی لڑائی کے بارے میں ہی باتیں کر رہے تھے۔۔۔

ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اکسانے کا کام کرتے تھے۔۔۔

تایا ان سب کو اچھی طرح جانتا تھا اس لیے وہ ہم سب کو بتا دیتے تھے اور یاد دہانی کرواتے رہتے تھے ان لوگوں کی باتوں میں آ کر کبھی کوئی غلط قدم نہ اٹھانا۔۔۔

میں جب ڈیرے پر آیا تو تایا نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا بھا بوٹا بھی بیٹھا تھا۔۔۔

تایا نے کہا ہاں بھی شہری بابو کی حال نیں تیرے۔۔۔

میں شرما سا گیا کیوں کہ تایا اس طرح بات نہیں کرتے تھے جس طرح آج انہوں نے مجھے بلایا تھا۔۔۔

کافی دیر گپ شپ چلتی رہی میں وہاں سے اٹھ کر فجے کی بیٹھک میں آگیا وہاں اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں سویا تھا۔۔۔

میں اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا موبائل پر بار بار ٹائم دیکھ رہا تھا۔۔۔

فجے نے موبائل دیکھا اور مجھ سے نمبر لے لیا اس نے کہا میرے دوست کے پاس بھی ہے میں فون کیا کروں گا۔۔۔

فجے نے مجھے کہا اس کو کام ہے وہ جا رہا ہے رات کو واپس آ جائے گا میں سو جاؤں۔۔۔

دس بجتے ہی میں بھی اندر والی طرف کی کنڈی چیک کرکے باہر سے لگا کر نکل گیا۔۔۔

میں ادھر ادھر دیکھتا گلی میں داخل ہوا۔۔۔

چھنو کے ہمسائیوں کا ایک کتا تھا جو چپاتی آ کر کاٹ لیتا تھا چپاتی کا مطلب چپکے سے آتا اور کاٹ لیتا اس سے مجھے بڑا ڈر لگتا تھا۔۔۔

میں ڈرتا ڈرتا چھنو کے دروازے تک پہنچ گیا جب دروازے کو دھکیلنا چاہا تو وہ بند تھا مجھے مایوسی ہوئی ۔۔۔

میں واپس مڑنے لگا تو سوچا کیوں ناں ان کی بیٹھک چیک کر لوں شاید اس نے مجھے بیٹھک میں آنے کا کہا ہو۔۔۔

میں آگے بڑھ گیا اور اس کی بیٹھک کے دروازے کو چیک کیا تو وہ کھلا تھا۔۔۔

میں خوش ہوتے ہوئے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گیا۔۔۔

اندر مکمل اندھیرا تھا میں اندازے سے آگے بڑھنے لگا دروازے کو میں نے ساتھ لگا دیا تھا۔۔۔

کمرے میں داخل ہوا وہاں بھی گھپ اندھیرا تھا میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔

میں ایسے ہی ڈرتے ہوئے آگے بڑھا اور یکدم مجھے جھٹکا لگا۔۔۔

میرے ہاتھ کو کسی نے سختی سے تھام لیا میرا سانس تک گیا۔۔۔

میں اندر تک دہل گیا تھا میں کچھ بھی نہ بولا جہاں تھا وہیں رک گیا ۔۔۔

چند سیکنڈ ایسے ہی گزر گئے پھر اس ہاتھ نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔

میں بھی کوئی مزاحمت کیے بغیر چلتا گیا اس ہاتھ کے ساتھ دوسرا ہاتھ بھی شامل ہو گیا اور مجھے بازوؤں سے پکڑ کر ایک طرف گرا لیا۔۔۔

میں صوفے پر گرتا چلا گیا ابھی تک نہ اس نے کوئی آواز نکالی تھی اور نہ ہی میں نے۔۔۔

بس چپ تھے لیکن میرے اندر ڈر کی وجہ سے بھونچال آیا ہوا تھا۔۔۔

پھر وہ ہاتھ میری ٹانگوں پر پھرنے لگا اور پھرتا ہوا میرے نیفے تک آگیا۔۔۔

اس دوران مجھے یہ پتہ چل گیا کہ وہ کوئی زنانی ہے اگر زنانی ہے تو چھنو ہی ہو گی یہ سوچ کر ہی میرے لن میں کرنٹ دوڑنے لگا۔۔۔

چھنو کا تصور ہی ایسا ظالم تھا کہ میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔

مجھے اس سیکس کی دنیا سے روشناس کروانے والی چھنو ہی تھی میرے لن کو زنانہ شرم گاہ کی گہرائی کا مزہ بھی پہلی بار چھنو نے اپنی چوت میں لے کر دیا تھا۔۔۔

میں اب ریلیکس ہو گیا تھا اس کے ہاتھوں نے میرا ناڑا کھولا اور شلوار میں سے لن کو باہر نکال لیا۔۔۔

لن کے ساتھ اس نے کھیلنا شروع کر دیا لن کو دباتی جاتی جڑ سے پکڑ کر اوپر تک جاتی پھر ٹوپی پر انگوٹھا پھیرتی اور نیچے آتی۔۔۔

دو تین بار ایسا کرنے کے بعد ہی میرا لن غصے سے پھنکارنے لگا تھا۔۔۔

اس کے ہاتھوں میں جادو تھا ویسے بھی چھنو کا تصور ہی میرے لیے بہت معنی رکھتا تھا کجا کہ چھنو کے ہاتھ میں میرا لن ہو۔۔۔

اس کے چھونے کے انداز سے ہی مجھے سب پتہ چل چکا تھا کہ چھنو جادو چلا رہی ہے اس نے بڑے پیار سے لن کو سہلانا شروع کیا۔۔۔

اس کے بعد بہت ہی آہستہ روی سے میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم رگڑتے ہوئے اوپر آنے لگی۔۔۔

لن کے ساتھ کھیلنا جاری رکھتے ہوئے اپنے مموں کو رگڑتے ہوئے میرے سینے کے برابر لے آئی۔۔۔

اس کی گرم سانسیں میرے چہرے پر پڑیں اس نے نشے میں ڈوبی آواز میں کہا۔۔۔

بلو تو اب بہت بدل گیا ہے تیرے جسم سے اب کئی قسم کے ذائقوں کی خوشبو آ رہی ہے۔۔۔

میں کچھ نہ بول سکا اس کا مطلب میں سمجھ رہا تھا۔۔۔

اس نے کہا تیرا یہ جو سخت ہتھیار ہے اس نے بڑے رنگ برنگے خون چکھ لیے ہیں۔۔۔

کہاں کہاں گھساتا پھرتا ہے تجھے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ یہ ہر جگہ گھسایا نہیں جاتا۔۔۔

چھنو ایسے بات کر رہی تھی جیسے اس کے سامنے کوئی فلم چل رہی ہو وہ یہ سب میرے لن کو ٹٹولتے ہوئے بولی جا رہی تھی۔۔۔

اس کے کھوئے کھوئے سے انداز سے اس کے اندر جلن کا اندازہ ہو رہا تھا۔۔۔

لیکن اس جلن کے باوجود وہ مجھ سے چدوانے کے لیے میرے لوڑے کو تیار کر رہی تھی۔۔۔

لوڑا تو اس کے چھونے سے ہی سخت کو چکا تھا ۔۔۔

میں نے ابھی تک اس کو چھو کر بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔

اس کی سانسیں میرے نزدیک ہوتی گئیں اس نے میرے ہونٹ کے قریب اپنے ہونٹ کیے اور گرم سانس چھوڑتے ہوئے بولی ۔۔۔

ان لبوں پر کس کس کے لب لگے ہیں بلو مجھے ان پر رشک ہو رہا ہے جنہوں نے اس عرصے میں ان لبوں سے اپنے لبوں کو سرشار کیا ہے۔۔۔

اس کے ساتھ ہی اس نے یہ کہتے ہوئے میرے بلاں کی ترا بجھا دے بلو میں ترس گئی آں تیرے چمن نوں۔۔۔

میں نے تھوڑا سا ہل کر اپنا منہ اس کے قریب کیا تو وہ میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔۔۔

میں نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر اس کی کمر پر رکھا تو حیران رہ گیا وہ کپڑوں کے بغیر تھی۔۔۔

اس کے جسم کی نرمی اس سے اٹھتی تپش کی لہریں مجھے نہال کرنے لگی۔۔۔

میرے ہونٹوں نے اس کے ہونٹوں کو قابو میں لے لیا اور اتنے دن کا خراج وصول کرنے لگے۔۔۔

ہم ایک دوسرے کی باہوں میں سمائے ہونٹوں میں ہونٹ دئیے دنیا و مافیا سے بے خبر لگے تھے۔۔۔

اس کا ایک ہاتھ ابھی تک میرے لن کو مسل رہا تھا پانچ منٹ تک ہمارے بوس وکنار کا دور چلا۔۔۔

چھنو پیچھے ہوئی اور میرے شلوار کھینچ کر اتار دی۔۔۔

اس کے بعد وہ میری ٹانگوں میں آئی اور لن کو پکڑ کر مٹھ مارنے لگی۔۔۔

اس نے مٹھ صرف دو منٹ ہی ماری میرے بازو پکڑ کر مجھے بٹھایا اور میری قمیض اور بنیان دونوں اتار دیں۔۔۔۔

اس کے بعد وہ میرے سینے پر اپنے ممے رکھ کر سیدھی لیٹ گئی۔۔۔

اس کے ممے میرے سینے پر اور پھدی میرے لن کے پاس تھی ایک بار پھر ہم کسنگ کرنے لگ گئے۔۔۔

اس بار کی کسنگ کافی زیادہ دیر چلی میرے ہاتھ چھنو کے جسم کے نشیب و فراز ماپ رہے تھے۔۔۔

کبھی میں اس کے گانڈ کے ابھاروں کو دباتا تو کبھی کمر پر ہاتھ پھیرتا ہوا اس کی گردن تک آتا۔۔۔

چھنو نے اپنا ایک بازو میری گردن کے نیچے رکھ کر میرا چہرہ اوپر کیا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے میرے چہرے کو پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھے تھے۔۔۔۔

وہ تھوڑا سا نیچے کو ہوئی اور میرے شیش ناگ کی طرح پھن پھیلائے لن پر اپنی پھدی کو رگڑنے لگی۔۔۔۔

اس کی پھدی اتنے آنسو بہا چکی تھی کہ اس سے نکلا پانی پھدی کے در دیوار کے علاوہ محل وقوع کو بھی گیلا کر چکا تھا۔۔۔

لن اس پھسلن پر اپنی ٹوپی لگتے ہی جھٹکے کھانے لگا گیا۔۔۔

میں نے اپنا ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھ کر خود کو نیچے سے ایڈجسٹ کرکے لن پھدی کے لبوں میں لے جا کر گانڈ کو اٹھا کر پھیرنا ہل ہل کر پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔۔

چھنو نے اپنی ٹانگیں کس لیں اور تھوڑا تیز ہو کر پھدی کو رگڑنے لگی۔۔۔

جتنی تیزی سے وہ پھدی کو لن پر رگڑتی اس سے زیادہ تیز وہ میرے ہونٹ چوستی ۔۔۔

یکدم وہ میرے اوپر سے ایک طرف کھسک گئی اور میرے سینے پر ہاتھ پھیر کر میرے ہونٹوں سے نیچے آنے لگی۔۔۔

اپنی زبان نکالے میرے سینے کے درمیان میں پھیرنے لگی اور اپنے ہاتھوں میں میرے چھوٹے چھوٹے نپلوں کو مروڑنے لگی۔۔۔

پھس گیی جان شکنجے اندر کے مصداق میرا جسم تڑپنے لگا میرے پورے وجود میں کیڑیاں دوڑنے لگی۔۔۔

میں نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ کر اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے میرے ہاتھ جھٹک دئیے۔۔۔۔

یہ عمل کوئی تین چار منٹ جاری رہا جو میرے لیے بہت تڑپانے والا تھا۔۔۔

جیسے ہی اس نے اپنی زبان ہٹائی میں نے اس کو گھما کر اپنے نیچے کر لیا۔۔۔

اس کے اوپر آیا تو اس نے ٹانگیں کھول کر میری کمر کے گرد کس لیں میرا لن سیدھا اس کی پھدی پر دستک دینے لگا۔۔۔

وہ مجھے ٹانگوں سے اپنی پھدی پر دبانے لگی لیکن میں اس کے اوپر جھکتا چلا گیا۔۔۔

میں نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں پکڑا اور اپنی ناک مموں کے درمیان والی وادی میں رکھ دی اور ناک سکیڑ کر اس کی سیکسی بو سونگھنے لگا۔۔۔

میرے تن بدن پر مدہوشی چھانے لگی اپنی زبان نکالی اور دونوں طرف مموں کے ساتھ باری باری پھیر کر ذائقہ چکھنے لگا۔۔۔

میرے ہاتھ چھنو کے بھرے بھرے مموں کو دبا کر ان کی نرمی کو سختی میں بدل رہے تھے۔۔۔

زبان کو نیچے لا کر میں نے باری باری دونوں مموں کو نیچے والی سائڈ سے چاٹا۔۔۔

اس کے بعد دائیں طرف سے زبان کے ساتھ مموں پر اپنی تھوک لگانے کر ان کو چکنا کرنے لگا۔۔۔

میرے نتھنوں میں بڑی پر سرور سی شہوت انگیز مہک اتر رہی تھی۔۔۔

اپنی زبان پھیرتے ہوئے مموں کی اونچائی پر آیا سر پستان کے اردگرد باری باری دونوں مموں کو چاٹا۔۔۔

اب چھنو کی لن کو پھدی میں لیںنے کی تڑپ بڑھتی جا رہی تھی اس لیے وہ مسلسل نیچے سے گانڈ اٹھا کر پھدی کو لن سے ٹکرا رہی تھی اوپر سے ٹانگوں کی مدد سے مجھے دبا بھی رہی تھی۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھ میرے سر پر تھے جس کو مموں پر دبائے جا رہی تھی۔۔۔

میں نے یکدم دائیں ممے کے نپل کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور کھینچ کر چھوڑا۔۔۔

چھنو کا پورا جسم جھٹکے سے اوپر اٹھا اور لن کی ٹوپی اس کے پھدی میں گھس گئی۔۔۔

اس کی ٹانگوں نے مجھے وہیں جکڑ لیا میں نے نپل کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔

لن کی ٹوپی کو پھدی کے اندر لگی آگ کی تپش محسوس ہو رہی تھی میرا دل کر رہا تھا ایک ہی جھٹکے میں سارا لن اندر گھسا دوں لیکن میں چھنو کو پورا مزہ دینا چاہتا تھا۔۔۔۔

ایک ممے کے نپل کو چوسنا اور دوسرے ممے کو ہاتھ دبانا جاری رکھا چھنو مجھے اپنے مموں پر دبا رہی تھی۔۔۔

باری باری باری دونوں مموں کو چوس چوس کر گیلا کر دیا اور چھنو کی پھدی نے بھی ہار مان کر میرے لن کی ٹوپی کو نہلا دیا تھا۔۔۔

وہ تڑپ تڑپ کر فارغ ہو گئی تو اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا بلو کیوں مینوں ترسائی جانا ایں ہن تے پا دے کدوں دی ترسی جاندی اے۔۔۔

میں بڑے پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اس کے لبوں کو چوما اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر کھولا ۔۔۔

اپنی پوزیشن ٹھیک کی اور لن پر دباؤ بڑھا دیا لن اندر گھسنے لگا چھنو کا جسم اکڑ گیا۔۔۔

آدھا لن اندر چلا گیا تو میں نے رک کر تے تھوڑا باہر نکالا اور پھر تھوڑا تیز جھٹکا دیا ۔۔۔

لن تین حصے اندر گھس گیا چھنو کے منہ سے آہ بلوووو کی آواز نکلی۔۔۔

میں نے اتنے ہی لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔

چھنو ہممم ہمممم کی آوازیں نکلانے لگی اس کے ہاتھ میری کمر پر تھے۔۔۔

میں تھوڑا اوپر اٹھا اپنے بازو اس کی ٹانگوں کے دونوں طرف سے گزارے اور ٹانگوں کو اس کے مموں سے لگا لیا۔۔۔

پھدی اوپر اٹھ گئی میں نے لن کو باہر نکال کر پھدی کے لبوں میں گھسایا اور پھر ایک دم سارا زور لگا کر لن گھسا دیا ۔۔۔۔

سخت راڈ کی طرح ہو چکا لن پھدی کی سختی کو تہس نہس کرتا ہوا اندر جڑ تک جا پہنچا ۔۔۔

چھنو کے منہ سے ایک لمبی آہ کے ساتھ سئییی ممممم کی آواز نکلی۔۔۔

ا سکے ہاتھ میرے بازوؤں پر آ گئے اور بازوؤں کو کس کر پکڑ لیا۔۔۔

چند سیکنڈ رکنے کے بعد میں نے ایک ردھم کے ساتھ جھٹکے دینے شروع کر دئیے۔۔۔

چند منٹ بعد ہی چھنو کے ہاتھ جو مجھے روکنے کے لیے بازوؤں پر تھے مجھے اپنے اوپر کھینچنے لگے۔۔۔

میں نے ویسے ہی بیٹھے بیٹھے دونوں مموں کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور کھینچ کھینچ کر گھسے مارنے لگا۔۔۔

چھنو نے شاید کافی عرصہ لن نہیں لیا تھا اس لیے بڑی زیادہ گرم تھی وہ دوسری بار بھی فارغ ہونے لگی۔۔۔

اس کی پھدی کی گرمی مجھے بھی عقل سے بیگانہ کرنے لگی میں نے جھٹکوں کی سپیڈ فل تیز کر دی۔۔۔

مجھے کوئی ہوش نہیں تھا میں کتنے زور سے پھدی میں لن گھسا رہا ہوں ۔۔۔

چھنو کی آہ آہ اہ بلوووو ہولی کر کی آوازیں مجھے اور جوش دلا رہی تھیں ۔۔۔

مموں کو بھنبھوڑتے ہوئے میں پھدی کے چیتھڑے اڑانے لگا۔۔۔

پھدی سے اب شڑپ شڑپ شڑڑڑپ کی آوازیں آ رہی تھیں پورا کمرہ چھنو کے دو بار فارغ ہونے سے نکلنے والے پانی کی مہک سے مہک رہا تھا۔۔۔

میرے جھٹکے تیز ہوتے گئے چھنو کی گرفت اور سخت ہوتی گئی۔۔۔

میں اپنے پورے جوش سے گھسے مار رہا تھا ہاتھ مموں پر تھے اور اتنے زور سے دبا رہا تھا کہ چھنو کی منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں اور میرے ہاتھوں کو دبا رہی تھی۔۔۔

میں نے مموں کو کھینچتے ہوئے گھسے مارنے جاری رکھے ۔۔۔

جیسے جیسے میرا فارغ ہونے کا وقت قریب آ رہا تھا میری سپیڈ تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔

لن باہر نکال کر ایک دم اندر گھساتا میرا اگلا حصہ اس کے بڑے بڑے چوتڑوں سے ٹکراتا تھپ تھپ کی آواز پیدا ہوتی۔۔۔

ایسے ایسے تیز تیز گھسے مارتے ہوئے میرے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگا سارا خون لوڑے کی طرف دوڑنے لگا۔۔۔

لن سخت سخت تر ہوتا گیا ایسا لگنے لگا جیسے پھٹنے والا ہو۔۔۔

میں نے اپنے ہاتھ چھنو کے سر کے نیچے رکھے اور اس کو اوپر اٹھا لیا۔۔۔

چھنو کی درد کے مارے مت وج گئی تھی ٹانگوں کو پہلے ہی اس کے مموں پر لگا چکا تھا وہ میرے نیچے شکنجے میں پھنسی ہوئی تھی۔۔۔

اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھے تو وہ ہونٹوں کو کاٹنے لگی پھدی بھی چیخ رہی تھی۔۔۔

لن اپنی لوہے توڑ سختی کے ساتھ پھدی کو اندر رگڑ رہا تھا چھنو یہ سب برداشت نہ کر سکی ایک بار پھر ا سکا جسم اکڑا ادھر میرے لن نے بھی ہار مان لی۔۔۔

چھنو فارغ ہونے لگی میں اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر سپرنگ کی طرح اچھل اچھل کر اس کی پھدی کی گہرائی تک لن اتار رہا تھا۔۔۔

جب لن پھدی میں جاتا تو گھپپ گھپپپ کی آواز آتی۔۔۔

یکدم چھنو نے میرے ہونٹ چھوڑے اور مجھے پیچھے دھکیلنے لگی لیکن میں جس حالت میں تھا اس کو چھوڑ نہیں سکتا تھا۔۔۔

چھنو نے کہا ہائے امییی جیی میری پاٹ گئی بلووو بس کر میری جان نکی جاندی اے ۔۔۔

میں نے ایک دم لن باہر نکالا اور اس کی گردن کو چھوڑ کر پیچھے ہوا اس کی ٹانگوں کو جوڑ کر لن ٹانگوں میں پھنسا لیا۔۔۔

چھ سات گھسے مارے ہوں گے کہ لن نے زور دار پچکاری ماری میرے منہ سے بے اختیار آہہہہ ہممم کی آواز نکلی اور لن نے آگ برسانا شروع کر دی۔۔۔

میں فارغ ہوا اور اس کی ٹانگوں کو چھوڑ کر ایک طرف لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔۔۔

چھنو ابھی تک آہ آہ کر رہی تھی اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے سینے پر الٹا رکھا ہوا تھا اور پھیر رہی تھی۔۔۔

دو منٹ تک ہم کچھ نہ بولے اس کے بعد چھنو اٹھی اس نے کوئی کپڑا ڈھونڈا اس سے اپنا پیٹ صاف کیا پھر مجھے کپڑا پکڑایا میں نے بھی لن اس کے ارد گرد کی جگہ جو پانی سے گیلی ہو چکی تھی صاف کی۔۔۔

چھنو نے کروٹ لی اور میری طرف ہو گئی اس کا مما میرے بازو کے اوپر آ گیا ۔۔۔

میں نے بازو ہٹا کر اس کے سر کے نیچے رکھا اور اس کی طرف گھوم گیا۔۔۔

اس نے مجھے گلے لگا لیا اور میرے گال کو چوم کر بولی بلو تو یقین نہیں کرنا میں تیرے لئی کنی تڑپی آں ۔۔۔

رات نوں نیند نہیں آندی ساری ساری رات میں تیرے بارے سوچدی رہندی آں ۔۔۔

انج لگدا اے جیویں تو ہن آیا بس ہن آیا میرے انگ انگ وچ تیرا خون رچ گیا اے ۔۔۔

تو جو مرضی کر جندی مرضی مار مینوں کوئی فرق نیں پیندا بس مینوں ناں چھڈیں ۔۔۔

میں جاندی آں آپنا ویاہ نیں ہو سکدا پر میں تینوں فیر وی نیں چھڈناں ۔۔۔۔

میں نے اس کو اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے اپنے ساتھ کس لیا اس نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر میرے اوپر رکھی۔۔۔

میرا مرجھایا ہوا لن اس کی پھدی کے آس پاس لگا تو مجھے اس کی پھدی کی گرماہٹ محسوس ہونے لگی۔۔۔

حالانکہ ابھی ابھی پھدی وجا کر فارغ ہوا تھا اور اتنے دن بعد رج کر ماری تھی پھر بھی پھدی نے جب لن کو سگنل دئیے تو لن پھر اکڑنے لگا۔۔۔

ہم کافی دیر ایسے ہی ایک دوسرے کی باہوں میں لیٹے رہے میں نے اس کو نہ چھوڑنے کے وعدے کیے اس نے میرے لیے سب کچھ قربان کرنے کی قسمیں کھائیں۔۔۔

ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ہم ایک بار پھر چمیاں کرنے لگے ایک دوسرے کی سانسوں میں سانسوں کی گرمی انڈیلنے لگے۔۔۔

لن اور پھدی آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے جب لن پھدی ایک دوسرے سے لپا لپ کے لیے تیار تھے تو ہم کیا کر سکتے تھے۔۔۔

لن اور پھدی کا ملاپ لیٹے لیٹے ہی شروع ہو گیا چھنو نے اپنی ٹانگ پوری طرح میرے اوپر کر دی ۔۔۔

میں نے نیچے سے زور لگا کر لن کو پھدی کے غار میں گھسا دیا ہونٹوں سے ہونٹ ملائے سینہ بہ سینہ ہوئے ہم ایک دوسرے پر پیار نچھاور کرنے لگے۔۔۔

پیار کی برسات لن کے رستے پھدی میں ہوئی جس کے لیے کوئی بیس سے پچیس منٹ لگے تھے۔۔۔

ان بیس سے پچیس منٹ میں کبھی چھنو میرے اوپر آئی کبھی میں اس کے پیچھے سے پھدی میں لن گھسائے اس کی لگامیں کھینچتا رہا۔۔۔

کبھی وہ میری گود میں بیٹھ کر میری طرف کمر کیے اٹھک بیٹھک کرتی رہی کبھی میں اس کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا اٹھا کر پش اپس لگواتارہا۔۔۔

کبھی وہ میرے اوپر لیٹ کر مجھے اپنے تھنوں سے دودھ پلاتی رہی کبھی میں اس کو گود میں لے کر اچھالتے ہوئے فیڈروں کو کھینچ کھینچ کر اپنے ہونٹوں کی پیاس بجھاتارہا۔۔۔

اس دوران چھنو کی چوت نے میرے لن کے واروں کے سامنے دو بار ہار مان کر اس کو آگ بکارت سے نہلایا۔۔۔

آخر میں نے چھنو کو چت لٹا کر اس کی ٹانگوں کو سیدھا کرکے پھدی میں لن گھسائے خندق کھودتے ہوئے لن کے پانی سے پھدی کے تڑپتے لرزتے لبوں کو نہلا کر صاف کیا۔۔۔

کمرے میں میرے لن کی منی چھنو کی پھدی کے پانی کی ملی جلی بو ہر سو پھیل چکی تھی۔۔۔

کوئی کمرے میں داخل ہوتا تو اس کو ایک سیکنڈ میں پتہ چل جانا تھا کہ یہاں دو جسموں نے اپنی اپنی آگ نکال کر ایک نیا کمپاونڈ بنا دیا ہے کو صرف ذہن و دماغ کو عقل و خرد سے بیگانہ کرنے کا کام کرتا ہے۔۔۔

اس جان توڑ چدائی نے ہم دونوں کو نڈھال کر دیا تھا چھنو نے ہنستے ہوئے کہا بلو آج تاں تو نے میری سچ میں پاڑ کے رکھ دتی اے۔۔۔

انی بری حالت تاں پہلی واری نیں ہوئی سی جدوں میں پہلی واری لن لیا سی۔۔۔

میں مسکرانے لگا اور اس کو سینے سے لگا لیا وہ بھری لاڈ بھری سسکاری لیتے ہوئے میرے ساتھ چپک گئی۔۔۔

کافی دیر ایسے ہی لیٹے رہے پھر میں نے کہا چھنو ٹائم بہت ہو گیا ہے میں چلتا ہوں۔۔۔

اس نے مجھے زور سے جپھی ڈال لی اور ناں میں سر ہلا کر میرے کندھے پر رکھ دیا۔۔۔

میں نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہونٹوں کو چوما اور اس کو بڑے پیار سے کہا کوئی آ جائے گا پھر ہم کبھی مل بھی نہیں سکیں گے۔۔۔

اس نے ضدی بچے کی طرح کہا مینوں نیں پتہ توں فیر چھیتی نہیں آنا بس میں تینوں نیں جان دینا۔۔۔

اس کو منانے میں پانچ منٹ لگ گئے اس کے بعد ہم اٹھ کر بیٹھ گئے اندھیرے میں کپڑے ڈھونڈے اور پہننے لگے۔۔۔

کپڑے پہن کر میں نے کہا چھنو وہ ایک دم میری آواز سن میرے گلے سے آ لگی میں گرتے گرتے بچا۔۔۔

کافی زور سے مجھے گلے ملی اس کی آواز میں بھی گیلا پن تھا۔۔۔

پھر ایسے ہی گلے لگی ہوئی میرے ساتھ باہر آئی اس کے بعد میرے پورے چہرے کو چوما میں آگے بڑھا تو وہ بھاگ کر پیچھے سے گلے لگ گئی ۔۔۔

اس کے اس طرح کرنے سے میرا دل بھی جانے کو نہیں کر رہا تھا لیکن کیا کر سکتا تھا جانا تو تھا ہی اس لیے اس کو پکڑ کر اپنے سامنے کیا دروازہ آ چکا تھا دروازہ کھولنے لگا تو اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔

میں نے اس کے ہونٹوں کو چوما بڑے پیار سے اس کا ہاتھ دروازے کی کنڈی سے ہٹایا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔۔

ابھی دو قدم ہی چلا تھا صنم کی دیوار سے کوئی باہر کودا اس نے میری طرف دیکھا پھر دوسری طرف دوڑنے لگا۔۔۔

میں بھی اس کے پیچھے بھاگا وہ گلی کا موڑ مڑ کر رک گیا تھا میں اس کے قریب پہنچتا جا رہا تھا ۔۔۔

مجھے کچھ شک سا ہوا جیسے اس کے ہاتھ میں کوئی چیز سے میں رک گیا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔۔۔

میں بہت آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا سامنے والے کے قریب جاتے جاتے میں نے اس کو پہچان لیا تھا۔۔۔

میں ایک بار پھر کھڑا ہو کر اس کو تولنے لگا کہ اس کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے یا نہیں ۔۔۔

اسی وقت میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا میں ہڑا بڑا گیا میں نے دل میں سوچ لیا کہ لے بھئی بلو پھس گیا ایں اج تیری جان نہ چھٹنی ۔۔۔

اس کے بعد میرے کان کے قریب دھیمی سی آواز آئی آ ڈنڈا پکڑ تے ایہنوں اج جان نہ دییں۔۔۔

وہ آواز چھنو کی تھی میرے سانس بحال ہوئے اور میں نے ہاتھ بڑھا کر ڈنڈا پکڑ لیا چھنو شاید وہاں سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔۔

میں ڈندا ہاتھ میں لہراتا آگے بڑھا تو سامنے والا سیدھا ہو کر کھڑا ہو گیا اس کے ہاتھ میں بھی ڈنڈا تھا وہ ڈنگی تھا۔۔۔

اس نے جب مجھے جارحانہ انداز میں اپنی طرف بڑھتے دیکھا تو وہ پیچھے کی طرف ہٹنے لگا۔۔۔

وہ پیچھے ہٹ رہا تھا ساتھ والی گلی سے فجا نکل آیا اس نے پیچھے سے اس کو جپھی ڈال کر ڈنگی کو قابو میں کر لیا۔۔۔

ڈنگی کی بنڈ بندوق ہو گئی اس نے کسی قسم کی مزاحمت نہ کی۔۔۔

میں قریب پہنچا اور اس کے کان میں کہا ہن کوئی فائدہ نہیں چل چاپ ہمارے ساتھ کچھ نہیں کہتے تمہیں بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں ۔۔۔

اس نے ہاں میں سر ہلایا فجے نے اس کے ہاتھ سے ڈنڈا پکڑ لیا اور ہم ہماری بیٹھک کی طرف چل پڑے۔۔۔

ڈنگی کو ساتھ لیے ہم اپنی بیٹھک میں آ گئے ڈنگی کافی ڈرا ہوا تھا فجا میری طرف بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

میں ڈنگی کو دیکھ کر مسکرایا اور بولا یار تو میرے ساتھ اتنے غصے سے کیوں پیش آتا ہے میں نے تیری بنڈ ماری ہے کیا۔۔۔

فجا ہنسنے لگ گیا اور ڈنگی غصے سے دیکھنے لگا۔۔۔

میں نے کہا دیکھ ڈنگی ہم ایک برادری ہیں اس سے ہٹ کر ہم دونوں ایک دوسرے کے راز جانتے ہیں تو پھر کیوں اٹ کتے دا ویر رکھنا۔۔۔

ہمیں چاہئیے کہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں اگر ساتھ نہیں دے سکتے تو چپ رہیں بات ختم اس طرح کرنے سے ہم اپنا نقصان کریں گے۔۔۔

پھدی کبھی کسی کی نہیں ہوئی وہ صرف اس کی جو اس میں لن واڑی رکھتا ہے اور تو ایک لڑکی کی وجہ سے میرے ساتھ ویر پال رہا ہے۔۔۔

میرے دوست ہم نے بچپن میں ایک ساتھ گلی ڈنڈا بھی کھیلا اور کینچے میں کھیلے ہیں لڑکیاں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں اور ہم کتوں کی طرح ان کی خاطر آپس میں گتھم گتھا ہوتے رہتے ہیں۔۔۔

ڈنگی پہلی بار بولا تو ٹھیک کہہ رہا ہے میں بلاوجہ تم سے نفرت کرنے لگا تھا حالانکہ میں نے کئی بار غور کیا کہ اس کی وجہ کیا ہے لیکن مجھے کوئی خاص بات نہیں ملی ۔۔۔

فجے نے کہا تے گانڈو فیر تو لن پاروں ہر ویلے گھوریاں پاندا رہنا ایں ۔۔۔

ڈنگی ہنس پڑا اس کے بعد کافی دیر تک وہ بیٹھا رہا ہم گپیں مارتے رہے۔۔۔

وہ گھر چلا گیا اور ہم دونوں بھی لمبی تان کر سو گئے۔۔۔

صبح کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ تائی امی تھیں۔۔۔​​



Source link

Leave a Comment