گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 61)

شاہ کی امی بہت ہی پیار کرنے والی خاتون تھیں ایک ملنسار خیال رکھنے والی تھیں۔۔۔

مجھے چھری پکڑا کر کہنے لگیں بیٹا ہیپی برتھ ڈے تم صدا خوش رہو آباد رہو اوپر والا تم پر اپنا کرم بنائے رکھے۔۔۔

اس کے ساتھ ہی ودحت جو میری ایک طرف کھڑی تھی اس نے میرے بازو کے ساتھ چپکتے ہوئے کہا اب کیک کاٹو یہ حیران بعد میں ہوتے رہنا اور میرے کان میں آہستہ سے کہا ابھی تو ایک سرپرائز باقی ہے جو بہت مزیدار ہوگا ۔۔۔

میں نے ودحت کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر سارے جہاں کی خوشیاں اور وارفتگی تھی وہ مجھ پر واری صدقے جا رہی تھی ۔۔۔

ایک طرف سے میرا ہاتھ آنٹی نے پکڑا دوسری طرف سے میرے ہاتھ کو ودحت نے پکڑا اور کیک کاٹنے لگیں جیسے ہی کیک کٹ گیا تو آنٹی نے میری پیشانی چوم کر مجھے گلے لگا لیا اور ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے کہا اب آپ لوگ ہنسو کھیلو میں تو اندر جا رہی ہوں۔۔۔۔

ودحت نے میرے ہاتھ سے کیک کا ٹکڑا اٹھوا کر خود ہی اپنے منہ میں ڈال لیا پھر مجھے کھلایا میوزک کا شور تھا کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔

ودحت نے میرے کان میں کہا تم نے ابھی جانا نہیں ہے عثمان اور آنٹی نے ایک شادی پر جانا ہے آنٹی سے میں نے پوچھ لیا ہے ان کی مرضی سے ہی تم کو روک رہی ہوں ۔۔۔

یہ بات کرتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ چہک رہی تھی اس کو دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا جیسے اس کی شادی ہو رہی ہو ۔۔۔

وہ سب کو باری باری کیک کھلانے لگی باہر بھی اس نے عثمان کے ہاتھ کیک بھجوا دیا پھر سب کو کھانا کھلانے لگی اس سب میں ایک گھنٹہ لگ گیا ۔۔۔

میں باہر دوستوں کے پاس بیٹھ گیا عثمان نے مجھے بلایا اور کہا امی بلا رہی ہیں ان کی بات سن لو میں اٹھ کر اندر چلا گیا۔۔۔

آنٹی نے مجھے کہا بیٹا ہم شادی پر جا رہے ہیں وہاں دیر بھی ہو سکتی ہے جانا بڑا ضروری ہے بہت قریبی شادی ہے اگر برا نہ مانو تو ہمارے آنے تک ودحت لوگوں کے پاس رک جاؤ ۔۔۔

میں نے عثمان کی طرف دیکھا پھر ان کی طرف اور کہا آنٹی رک تو جاؤں لیکن بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں آپ سب سمجھتی ہیں پہلے بھی اتنی پریشانی ہوئی میں نہیں چاہتا کہ پھر کوئی بات بنے اور آپ کو میری وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔۔۔

آنٹی نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ودحت نے مجھے سب بتا دیا ہے بیٹا میں اس سب کے لیے معذرت چاہتی ہوں کہ تم پر شک کیا آج صرف اس سب کا مداوا کرنے کے لیے ودحت نے یہ سب کچھ کیا ہے میں بھی چاہتی تھی کہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکوں ۔۔۔۔

میں نے کہا آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں آپ بڑی ہیں بڑے کبھی جان بوجھ کر چھوٹوں کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کرتے اس میں کچھ نہ کچھ حکمت ہوتی ہے ۔۔۔

جیسا آپ کہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے میں آپ کے آنے تک رک جاتا ہوں لیکن زیادہ دیر نہ ہو جائے اس بات کا خیال رکھنا کیونکہ میں پہلے بھی کافی دن گھر نہیں گیا تھا میری وجہ سے سب گھر والے پریشان ہو جائیں گے۔۔۔

آنٹی نے خوش ہوتے ہوئے کہا بیٹا میری پوری کوشش ہو گی کہ جیسے ہی فنکشن ختم ہو ہم لوگ واپس آ جائیں ۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی ۔۔۔

وہ اور عثمان جانے کے لیے تیار ہونے لگے اور باقی لوگ بھی آہستہ آہستہ گھروں کو نکل گئے ۔۔۔۔

جب آنٹی اور عثمان بھی چلے گئے تو پیچھے دو لڑکیاں رہ گئیں ایک ودحت اور خوبصورت لڑکی جو یقیناً عثمان کی بہن تھی مجھے وہ چہرہ آج بھی یاد تھا یہ وہی تھی جس نے اس دن ہمیں دیکھا تھا۔۔۔

مسکرا کر ودحت کو دیکھ رہی تھی اور ودحت بار بار مجھے دیکھ کر شرما رہی تھی۔۔۔

پھر ودحت نے کہا علینہ چلو سب برتن اکٹھے کر لیتے ہیں اور مجھے کہا آپ کو کچھ اور چاہئیے تو بتا دیں ۔۔۔

میں نے نہ میں سر ہلایا اور علینہ کی طرف دیکھا جو مجھے ہی دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ جاری تھی ۔۔۔

ودحت نے کہا میں چائے لاتی ہوں آپ اندر کمرے میں چل کر بیٹھیں اس نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

میں اس کمرے میں چلا گیا سادہ سا کمرہ تھا جس میں دو سنگل بیڈ الگ الگ پڑے تھے درمیان میں ایک چھوٹی سی میز تھی جس پر کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔۔۔

ایک طرف کھونٹی لگی تھی جس پر عبایا اور کچھ کپڑے لٹک رہے تھے یہ کمرہ صاف ساف بتا رہا تھا کہ اس میں لڑکیاں رہتی ہیں۔۔۔

میں ایک بیڈ پر چاروں طرف نظریں گھماتے ہوئے بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا کہ ودحت کب آتی ہے ۔۔

مجھے بس پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دروازے میں ودحت نظر آئی اس نے اندر آتے ہی مجھے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر کہا آہ سچ کہتے ہیں پیار کرنے والوں کو اپنے معشوق کی چیزوں کی پہچان ہو ہی جاتی ہے۔۔۔

میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا مطلب۔۔۔؟؟

اس نے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس بیڈ پر بیٹھے ہو پتہ ہے کس کا ہے یہ میرا ہے اور مجھے یقین تھا کہ تم اسی بیڈ پر بیٹھو گے۔۔۔

اس نے چائے میز پر رکھی اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کر لیا اور پھر ایک دم مجھے اپنے گلے لگا لیا اور زور سے میرے ساتھ چپک گئی۔۔۔

ایک بھرپور جپھی کے بعد وہ الگ ہوئی اور میرے گال پر کس کرکے باہر نکل گئی اور جاتے جاتے کہہ گئی کہ چائے پیو پھر سب کچھ نمکین ہی ملے گا۔۔۔

وہ باہر نکل گئی اور میں چائے پینے لگا چائے ختم کرنے کے بعد میں بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔

کافی دیر بعد کمرے میں ودحت داخل ہوئی اور اس نے آتے ہی کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔۔۔

میں اٹھ کر بیٹھ گیا وہ ایک کونے میں گئی اس نے میوزک چلا دیا پھر میری طرف گھومی تو میں اس کو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔

ہونٹوں پر گلابی لب سٹک لگائے آنکھوں میں کاجل قمیض کا کھلا گلا اس میں جھلکتے اس کے ممے مموں کی لکیر واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔

جیسے ہی گانا شروع ہوا اس نے ہلکا ہلکا تھرکنا شروع کر دیا اس نے کمر ہلاتے ہوئے ڈانس شروع کر دیا۔۔۔

ایسے حسن کو نچانا مجھے پسند نہیں تھا ویسے بھی اس کو دیکھ کر میں سارا دید لحاظ بھول چکا تھا ۔۔۔

اس نے بڑی چست قمیض پہنی ہوئی تھی اس پر قیامت اس کے ٹانٹ پاجامی ڈھا رہی تھی جو اس کی رانوں کے اوپر اس کی گانڈ کے ابھاروں کو قمیض سے باہر نکلنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔

اس کے ممے بھی باہر کو ابل رہی تھے دوپٹہ لینے کی بھی اس نے زحمت نہیں کی تھی جس کی وجہ سے اس کے جسم کے نشیب وفراز مجھ پر بجلیاں گرا رہے تھے۔۔۔

اس کے جسم کی بجلیوں کی لہریں میرے لن تک پہنچ چکی تھیں اور لن تن گیا تھا۔۔۔

میں کھڑا ہو کر اس کے پاس گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کیا وہ تھرکتی ہوئی میرے پاس ہوئی اور اپنی کمر لچکانے لگی اس کے جسم میں تو جیسے کسی ڈانسر کی توح سرایت کر گئی تھی۔۔۔

میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا تو اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے ممے میرے سینے سے ٹچ کرتے ہوئے کمر کو ہلانا جاری رکھا۔۔۔

پھر وہ ایک دم گھوم گئی اور میری طرف اپنی کمر کرکے لہرانے لگی اس کی کمر کی لچک گانڈ کا تھرتھرانا میرے انگ انگ میں مستی بھر رہا تھا۔۔۔

میں اس کے قریب ہوا اس کے بازوؤں کو دونوں طرف سے پکڑا اپنی طرف گھمایا وہ گھومی پھر لہراتی ہوئی نیچے ہوئی اور مسکراتی ہوئی پیچھے ہو گئی۔۔۔

میں واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا وہ ناچتی ہوئی میرے پاس آئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا میں نے اس کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور دونوں بازوؤں میں کس لیا ۔۔

وہ مچلی شرمائی لیکن میری گرفت سخت تھی میں اس کو بیڈ پر گرا لیا اور خود اس پر سوار ہو گیا۔۔۔

اس کی سانسیں تیز تھیں میں نے اس کے لرزتے تپتے گالوں کو باری باری چوما جو سرخ انار کی طرح ہو چکے تھے۔۔۔

اس کے ممے اٹھ اٹھ کر میرے سینے میں مساج کر رہے تھے ۔۔۔

اس کا سانس پھولا ہوا تھا پیٹ بھی ابھر بیٹھ رہا تھا۔۔۔

میں نے اپنے ہاتھ سے اس کے ماتھے پر آئے بال ہٹائے انگلی پھیرتے ہوئے ہونٹوں پر رکھی اور وہاں سے گال سے کان کی لو تک لے گیا۔۔۔

اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے قریب کیے اس نے مسکرا کر میرا استقبال کیا۔۔۔

اس کے گلابی لپ سٹک سے اٹے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر سٹرابری کا ذائقہ اپنے معدے میں انڈیلنے لگا۔۔۔

پھر پورے جوش سے ہم ایک دوسرے کے ہونٹوں سے لطف اندوز ہونے لگے۔۔۔

میرے ہاتھوں کی شرارتیں شروع ہو گئیں اور اس کے سینے کے ابھاروں کو ٹٹولنے لگا۔۔۔

میں بڑی بے دردی سے اس کے ممے دبانے لگا اس نے اپنی ٹانگیں کھول دیں جس سے میں اس کی ٹانگوں میں آ گیا۔۔۔

پینٹ میں لن پھنسا ہوا باہر آنے کی دہائیاں دے رہا تھا میں اس کو آزاد کرنا چاہتا تھا۔۔۔

ودحت نے سرگوشی کے انداز میں کہا جانی آہستہ دباؤ درد ہو رہا ہے۔۔۔

میں اوپر اٹھا وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کی قمیض کو دونوں طرف سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔۔۔

قمیض اوپر اٹھتی جارہی تھی اس کا گورا سفید رنگ کا جسم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ننگا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔

میری آنکھیں اس کے جسم کی خوبصورت رنگت کو دیکھ کر پھٹی جا رہی تھیں جیسے جیسے اس کی قمیض اوپر اٹھا رہا تھا ویسے ویسے وہ شرماتے ہوئے سر کو جھکا رہی تھی۔۔۔

قمیض مموں تک اوپر اٹھی چکی تھی نیچے اس کی سبز رنگ کی برا نظر آنے لگی فومی برا میں اس کے جکڑے ہوئے تھے۔۔۔

قمیض جب اتر گئی تو میں نے اس کے برا کو پکڑا اس نے میرے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر سر نفی میں ہلایا۔۔۔

وہ مجھے برا اتارنے سے روک رہی تھی میں نے بھی زبردستی نہ کی اور اس کو پیچھے لٹا لیا اور اس کے اوپر آگیا۔۔۔

گردن کو چومنے لگا ہاتھ اس کے ننگے پیٹ پر پھیرنے لگا۔۔۔

میں اس کے ایک طرف لیٹ گیا اور ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرنے لگا دوسرے ہاتھ کو اس کے سر کے نیچے رکھ دیا۔۔۔

وہ میرے بازو پر لیٹی تھی اور آنکھیں بند کیے ان لمحات کو انجوائے کر رہی تھی۔۔۔

میں نے گردن کو چوم کر ہونٹ اس کے مموں سے اوپر سینے پر رکھے اور زبان نکال کر پھیرتے ہوئے نیچے آنے لگا۔۔۔

جب مموں کے قریب آیا تو دوسرے ہاتھ سے برا کو اوپر کر دیا اس کے ننگے مموں کو دیکھ کر میری آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔۔۔

ایک دم کسے ہوئے ممے ایک سائیڈ پر لیٹا ہونے کی وجہ سے مجھے ان پر کوئی ٹیٹو بنا نظر آیا۔۔۔

نپل پر سرخ رنگ سے کوئی پھول بنا ہوا تھا میں اٹھ کر سیدھا ہوا تو دیکھ کر میں حیران رہ گیا ۔۔۔

اس نے اپنے دونوں مموں کے نپل کے اردگرد میرا نام لکھا ہوا تھا ۔۔۔

مجھے یوں دیکھتا پر کر اس نے آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھ لیے۔۔۔

میں نے انگلیاں اس کے نپل پر پھیرنی شروع کیں وہ دائیں بائیں سر مارنے لگی ۔۔۔

میں اس پر جھکا اور زبان اس کے مموں کے درمیان رکھ کر نیچے آنے لگا ۔۔۔

اب مجھ میں مزید برداشت نہیں بچی تھی اس کے دل میں میرے لیے جو کچھ تھا اس کے مموں پر لکھے میرے نام سے پتہ چل رہا تھا ۔۔۔

جب میں اس کی ناف پر پہنچا تو ناف میں زبان داخل کر دی اور ایک ہاتھ اس کی شلوار میں داخل کر دیا۔۔۔

ناف میں زبان گھمانے لگا اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔

شلوار والا ہاتھ اس کی پھدی کو چھونے لگا میں نے پھدی پر ہاتھ پھیرا۔۔۔

اس کی پھدی پانی سے بھر چکی تھی پھدی کے باہر تک پانی تھا۔۔۔

میں نے پیچھے ہو کر اپنی شرٹ اتار دی اور پینٹ کھولنے لگا۔۔۔

ایک منٹ میں پینٹ اور شرٹ اتار دی اس کے بعد اس کی شلوار اتاری ۔۔۔

میں نے انڈروئیر بھی اتار دیا اور لن پکڑ کر اس کی ٹانگوں میں آگیا۔۔۔

ٹانگوں میں آنے کے بعد اس کی پھدی کو دیکھا تو وہاں بھی میرے نام کا پہلا حرف مہندی سے لکھا ہوا تھا۔۔۔

بالوں سے صاف سرخ پھدی جس کے لب آپس میں ملے ہوئے تھے ۔۔

اس کی پھدی اتنی کسی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ اس میں میرا موٹا تازہ لمبا لن گھس بھی نہیں پائے گا۔۔۔

میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا بلو میری جان ہو تم میرا سب کچھ تمہارے لیے ہیں۔۔۔

میں نے اس سب پر تمہارا نام صرف دکھانے کے لیے نہیں لکھا بلکہ ان پر صرف تمہارا حق ہے اور یہ صرف تمہارے لیے ہی ہیں۔۔۔

ان کے ساتھ جو چاہے کرو جیسے چاہے کرو میرا جسم میری جان میرا سب کچھ صرف تمہارا ہے۔۔۔

میں نے جوش میں آ کر اس کے ہونٹ چوم لیے اور اس پر لیٹ کر ایک بار پھر سے کسنگ شروع کر دی۔۔۔

اب میں دل سے مجبور ہو کر اس کو چوم رہا تھا پہلے جو کر رہا تھا اس میں ہوس تھی۔۔۔

ایسی کسنگ ہوئی کہ ہماری سانسیں پھول گئیں میرا ننگا لن اس کی پھدی پر رگڑ کھا رہا تھا پھدی نے اپنے آنسو بہا کر لن کو بھگو دیا تھا۔۔۔

اس کی ٹانگیں میری کمر پر تھیں اس کے کسے ہوئے سخت ممے میرے سینے میں چبھ رہے تھے۔۔۔

اس کا جسم اکڑنے لگا تھا وہ نیچے سے پھدی کو لن کے ساتھ بہت تیزی سے رگڑ رہی تھی۔۔۔

میں اس کی بے چینی سمجھ گیا میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر لن کو پھدی کے لبوں میں پھنسایا۔۔۔۔

جب لن پھدی کے سوراخ پر سیٹ ہو گیا تو میں نے لن پر دباؤ ڈالا لن کی ٹوپی اندر گھس گئی ۔۔۔

ودحت کی آہ میرے منہ میں دب کر رہ گئی میں مزید دباؤ ڈالا ٹوپی سے مزید لن انڈر اتر گیا۔۔۔

تھوڑا سا رک کر میں نے ہلکا سا گھسا مارا لن آدھا اندر ہو گیا۔۔۔

ودحت کی آنکھیں بند تھیں وہ لن کو پھدی میں محسوس کر رہی تھی۔۔۔

میں نے پیچھے ہو کر ہاتھ اس کے مموں پر رکھے اور مموں کو دبانے لگا چند لمحوں بعد لن کو تھوڑا باہر نکالا اور پھر ایک زور دار گھسا مارا لن تین گنا اندر اتر گیا۔۔۔

ودحت کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی جس کو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا۔۔۔

میں کچھ دیر رکا اور ممے مسلنے لگا ودحت کا ہاتھ میرے پیٹ پر تھا وہ مجھے روک رہی تھی۔۔۔

میں نے اگلے ایک منٹ میں باقی کا لن بھی اندر اتاردیا ۔۔۔

اس کے بعد اس کی ٹانگوں کو اٹھا کر اپنے کندھے کر رکھا اور گھسے مارنے لگا۔۔۔

شروع میں آرام سے گھسے مارتا رہا ا سکے بعد سپیڈ تیز ہوتی گئی۔۔۔

ودحت بھی مزے میں آ گئی تھی وہ اب مجھے روک نہیں رہی تھی بلکہ نیچے سے گاند اٹھا کر لن لینے لگی تھی ۔۔۔

سیدھا بیٹھ کر پھدی مارنے کا مزہ تو بہت آتا ہے لیکن انسان تھک جلدی جاتا ہے۔۔۔

میں بھی دو منٹ میں ہی تھک گیا تھا ودحت کے اوپر لیٹ گیا اور سینہ اس کے مموں پر رکھ لیا۔۔۔

اس کے مموں کی گرمی میرے سینے کو پگھلانے لگی میں نے نیچے سے زور زور سے لن گھسانا شروع کر دیا۔۔۔

اگلے ایک منٹ میں ودحت کی پھدی پانی چھوڑ چکی تھی میں بھی اب اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا۔۔۔

میں نے زور سے گھسے مارنے جاری رکھے لیکن اب ودحت کی آہ آہ آہ سئیی افففف کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔۔

فارغ ہونے کے بعد اس کو درد محسوس ہونے لگا تھا اس کے چہرے پر بھی درد تھا ۔۔۔

لیکن میں اس کی حالت پر ترس کھانے والی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔۔

میں پوری طاقت سے گھسے مارے ودحت ایک بار پھر ساتھ دینے لگ گئی۔۔۔

لن اب بڑی روانی سے پھدی کی سیر کر رہا تھا پھدی کے پانی سے چکنا ہونے کے بعد لن کے پھدی میں جانے سے پچک پچک شڑڑڑپ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔

میرا جسم جب اس کے جسم سے ٹکراتا تو اس کی گانڈ کے ابھار ٹکراتے جس سے تھپ تھااااپ تھپپپ کی آواز آتی۔۔۔

میں اتنی زور سے گھسے مار رہا تھا کہ بیڈ بھی چیییں چیییں کرنے لگ گیا تھا۔۔۔

ودحت نے اپنے دونوں ہاتھ میری کمر پر رکھے اور جہاں اس کے منہ جاتا وہاں سے چومنے لگ گئی تھی۔۔۔

میں نے جب اپنا چہرہ اس کے سامنے کیا تو اس نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے اور چوسنے لگی۔۔۔

اس کے ہونٹوں کا نمکین ذائقہ میرے اندر اترنے لگا۔۔۔

میں اب فارغ ہونے والا تھا اس لیے پورے زور سے گھسے مار رہا تھا۔۔۔

ودحت بھی اسی حساب سے ساتھ دے رہی تھی پھر پتہ نہیں ودحت کو کیا ہوا کہ اس نے آہ آہ اہ کرتے ہوئے میری کمر پر ناخن پیوست کر دئیے۔۔۔

میں بھی فارغ ہونے والا تھا اس درد کو بھی انجوائے کرنے لگا اور سانس روکے آخری گھسے مارے۔۔۔

اندر میرے لن سے پچکاری نکلی ادھر ودحت نے زور سے چیخ ماری اور مجھے اپنے اوپر کی کس لیا۔۔۔

میں بھی لن کو پھدی کے آخری پردے میں گھسا کر رک گیا۔۔۔

اگلے دو منٹ ہم ایسے ہی ایک دوسرے سے لپٹے لیٹے رہے میں فارغ ہوتا رہا اس کی پھدی بھی لن کو مساج دیتی رہی۔۔۔

جب اچھی طرح فارغ ہو گئے تو میں اس کے ہونٹ چوم کر اس کے اوپر سے اتر کر ایک طرف لیٹ گیا۔۔۔

وہ سیدھی لیٹی چھت کی طرف دیکھتی رہی ہم ایک دوسرے سکون دینے کے بعد سانسیں بحال کرنے لگے۔۔۔

ودحت نے اٹھنے کی کوشش کی تو آہ کی لمبی آواز کے ساتھ اس نے پھدی کو دبا لیا اور پھر لیٹ گئی۔۔۔

میں نے پوچھا کیا ہوا اس نے کہا درد ہو رہی ہے جلن بھی کافی ہو رہی ہے۔۔۔

میں نے اس سے کہا کوئی کریم وغیرہ ہے تو مجھے بتاؤ کہاں ہے لگا دیتا ہوں۔۔۔

اس نے نہ میں سر ہلایا اور کہا نہیں لگانی مجھے یہ درد سہنا ہے جتنے دن یہ ہوتا رہے گا میں تمہیں خود میں محسوس کرتی رہوں گی۔۔۔

مجھے اس پر بڑا پیار آیا میں آگے ہو کر اس کے ہونٹ چوم لیے۔۔۔

وہ مسکرا کر مجھے دیکھتی رہی پھر آہستہ آہستہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔

میں بھی اٹھ کر بیٹھا اور اپنے کپڑے پہننے لگا اس نے بھی کپڑے پہن لیے میوزک ابھی بھی چل رہا تھا۔۔۔

کپڑے پہن کر اس نے دروازہ کھولا اور میوزک سسٹم کو بند کیا۔۔۔

میں نے اس سے کہا وہ جو تمہاری کزن ہے علینہ پہلے بھی اس نے آنٹی کو شکایت کی تھی اگر اب بھی اس نے ایسا کر دیا تو۔۔۔

ودحت نے ہنسنتے ہوئے کہا اس کا بھی علاج ہو جائے گا اگر اس نے دوبارہ ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی ۔۔۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اب ایسا نہیں کرے گی بالفرض اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اس کا حل میرے پاس موجود ہے تم پریشان نہ ہو۔۔۔

میں نے کہا مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا لڑکوں پر ایسے الزام لگتے رہتے ہیں جو سچ بھی ہوتے ہیں۔۔۔

بات تمہاری ہے اگر تم پر کوئی بات ہوتی ہے تو تمہاری عزت خراب ہو گی جو کہ اچھی بات نہیں ہے ۔۔۔

ودحت نے پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا سچ میں تمہیں میری اتنی فکر ہے۔۔۔

میں نے یہ ہنستے ہوئے کہا صرف تمہاری ہی نہیں ہر لڑکی کی میں اتنی فکر کرتا ہوں۔۔۔

ودحت میرے گلے میں باہیں ڈال کر بولی اچھا جی تو اس کا مطلب ہوا کہ میں بھی ہر ایک میں شامل ہوں ابھی تک۔۔۔

عجیب مخلوق ہوتی ہیں یہ لڑکیاں بھی ایسے انداز سے ایسی بات کریں گی کہ بندہ نہ ہاں کر سکتا ہے اور نہ ہی۔۔۔

اگر میرے جیسا پھدی باز ہو تو اس کے لیے مشکل بڑھ جاتی ہے کیونکہ جھوٹ پکڑے جانے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

میں نے ناں میں سر ہلایا لیکن بولا کچھ ناں ۔۔۔

ودحت نے میری ٹھوڑی پر انگلی پھیرتے ہوئے ممے سینے میں رگڑے اور بولی تو پھر میں کیا ہوں۔۔۔

میں نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور کہا بہت خاص ۔۔۔

لڑکی تھی میرے چھونے سے ہی سمجھ گئی کہ میں یہ کس لحاظ سے کہہ رہا ہوں۔۔۔

اس نے کہا جس لحاظ سے کہہ رہے اس لحاظ سے کوئی اور بھی تو ہو گی جو خاص ہو۔۔۔

اس کے اندازے سے میری تو پھٹ گئی تھی اب اس نے ایسے ہی بات کی تھی یا جان بوجھ کر کی لیکن میرے لیے مشکل ہو گیا تھا مزید جھوٹ بولنا۔۔۔

میں نے کہا دیکھو ودحت میں ایک بات بتا دوں اگر میری زندگی میں کوئی اور ہے بھی تو اس کا اپنا مقام ہے اور تمہارا اپنا۔۔۔

اس نے کہا تو اس کا مطلب ہوا کہ میری کوئی حیثیت نہیں ہے اس دل میں اس نے انگلی سیدھی میرے دل پر رکھ دی۔۔۔

میں نے کہا کس نے کہا اگر میرے دل میں تمہارے لیے کچھ نہ ہوتا تو میں اس وقت یہاں تمہارے ساتھ نہ ہوتا ۔۔۔

میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میں نے ایک بات کہی تھی شاید تمہیں یاد ہو کہ میں ایک آزاد پنچھی کی طرح ہوں جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔۔۔

میری زندگی میں پتہ نہیں کیا کچھ ہو رہا ہے بعض دفعہ تو مجھے خود سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔

پچھلے دنوں جو کچھ ہوا تمہیں یاد ہوگا کیسے افراتفری میں تم لوگوں کو یہاں سے نکالا تھا۔۔۔

میں خود پھنس گیا تھا دو دن بعد کہاں کہاں سے ہو کر آیا یہ کوئی نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کچھ ہوا میں کہاں تھا کیسے بچ کر آیا کس نے میری مدد کی کون میرا دشمن تھا۔۔۔

یہ سب باتیں میری زندگی کا حصہ ہیں میری زندگی میں ہر موڑ پر کوئی ناں کوئی آتا رہتا ہے ۔۔۔

کبھی تم جانو گی تو حیران رہ جاؤ گی اتنی کم عمری میں کیا کچھ کر بیٹھا ہوں اور آگے نظر دوڑاو گی تو اور حیرانی ہوگی۔۔۔

ودحت مجھے چھوڑ کر پیچھے ہو چکی تھی اس نے میری طرف دیکھا بھی ناں میں بات کو جان بوجھ کر کسی اور طرف لے گیا تھا۔۔۔

ودحت نے کہا صاف بات کہہ دو کہ تم مجھے جو مقام دیتے ہو ۔۔۔

اس طرح ادھر ادھر کی نہ چھوڑو ویسے بھی میں سب جانتی ہوں تمہاری معاملات الجھے ہوئے ہیں ۔۔۔

جس معاملے کی وجہ سے ہمیں یہاں سے جانا پڑا تھا وہ بھی جانتی ہوں ۔۔۔

ایک اور بات بتا دوں یہ جو عثمان اور خالا شادی کا کہہ کر گئے وہ جھوٹ ہے وہ مکان کے پیسے لینے گئے ہیں یہ مکان بک چکا ہے۔۔۔

یہ لوگ یہاں سے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے مجھے بھی واپس گاؤں اپنے ماں باپ کے پاس جانا پڑے گا۔۔۔

وہ رونے لگ گئی اب میں کیا کروں اسی شش و پنج میں تھا کہ دروازے میں آہٹ ہوئی ۔۔۔

میں نے گھوم کر دیکھا تو علینہ کھڑی تھی اس نے ہکلاتے ہوئے کہا وہ میں یہ بتانے آئی تھی کہ امی اور عثمان آ رہے ہیں ابھی ان کا فون آیا تھا۔۔۔

ودحت نے دوسری طرف منہ کر لیا تھا اس نے ہاتھوں سے رگڑ کر آنسو صاف کیے ۔۔۔

ودحت سیدھی ہوئی اور علینہ سے کہا علینہ تم صحیح نہیں ہو تم نے غلط کہا تھا کہ بلو کسی کا نہیں ہو سکتا۔۔۔

عثمان بھی جھوٹ بول رہا تھا بلو کسی کے ساتھ غلط کر ہی نہیں سکتا یہ بات ثابت ہو گئی ہے۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے علینہ کے سامنے ہی میرے گلے لگ گئی اور میرے کان میں کہا مجھے شک ہے علینہ بھی تم سے پیار کرتی ہے اور اس وقت جھوٹ بول رہی ہے ۔۔۔

میں کچھ بولنے لگا تھا کہ اس نے کہا پھر کہا عثمان کا فون میرے پاس ہے اور یہ کہہ رہی ہے اس کا فون آیا ہے خالا کے پاس فون نہیں ہے اور نہ ہی ان کے گھر میں فون لگا ہوا ہے۔۔۔

یہ کہہ کر وہ پوچھی ہو گئی میں نے علینہ کی طرف دیکھا تو وہ ودحت کو گھور رہی تھی۔۔۔

ودحت نے علینہ کو کہا میں ابھی آتی ہوں واش روم ہو آوں نہانا بھی تو ہے مجھے الجھن ہو رہی ہے۔۔۔

ودحت تیزی سے نکل گئی لیکن مجھے الجھا گئی میں سچ میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ یہ لڑکیاں خود اتنی کیوں نہیں الجھتی جتنا ہمیں الجھا جاتی ہیں۔۔۔

ایک منٹ پہلے رو رہی ہوتی ہیں اگلے پل وہ ایسے بات کر رہی ہوتی ہیں جیسے کوئی بات ہوئی ہی نہیں۔۔۔

وہ تو باہر نکل گئی لیکن مجھے الجھا چکی تھی اوپر سے علینہ کا مجھے دیکھنا میرے لیے اس کی نظروں کا سامنا کرنا مشکل تھا۔۔۔

علینہ ودحت سے کم عمر تھی لیکن اس کی آنکھوں سے مکاری جھلکتی تھی۔۔۔

میں نے اس سے نظریں چراتے ہوئے کہا میں چلتا ہوں۔۔

علینہ نے کہا کدھر چلتا ہوں ابھی تو میں نے بات کرنی ہے۔۔۔

میں نے کہا کیا بات کرنی ہے میری آواز میں لرزش آ چکی تھی۔۔۔

اس کا انداز ہی بڑا رعب دارانہ تھا۔۔۔

اس کے لہجے میں جو کرختگی نظر آ رہی تھی اس سے مجھے ڈرنا پڑا ۔۔۔

اس نے اسی لہجے میں کہا بتاتی ہوں پہلے بیٹھو آرام سے۔۔۔

میں پیچھے ہو کر بیڈ پر بیٹھ گیا اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

اس نے کہا تم کیا سمجھتے ہو کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں چل رہا یہ جو کچھ تم کر رہے۔۔۔

میں نے کہا میں کیا کر رہا ہوں وہ اٹھی اور اس نے میوزک سسٹم کے اوپر سے کچھ اٹھایا اور اس میں دیکھنے لگی۔۔۔

اس کے بعد وہ ہنستے ہوئے بولی واہ میرے پاس یہ ثبوت ہے ۔۔۔

اس نے کیمرہ مجھے دکھایا اس نے کہا یہ کیمرہ اس کیمرے میں رکھ دیا تھا جب ودحت نے مجھے یہ بتایا کہ تم یہاں اس سے ملو گے۔۔۔

اس کی بات سن کر میں نے بڑے غور سے اس کیمرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

میری ہنسی نکلتے نکلتے رہ گئی لیکن میں نے اس پر ظاہر نہ کیا۔۔۔

وہ عام تصاویر بنانے والا کیمرہ تھا اس وقت وہ کیمرے بڑے عام تھے توشیبہ کا کیمرہ تھا۔۔۔

میں نے کہا اچھا سوری مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ سب ہو جائے گا۔۔۔

میں کیا کرتا اس نے مجھے مجبور کر دیا تھا میں بھی تیار تھا لیکن اس سب کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اس کی خوبصورتی کے سامنے میں ٹک نہ پایا اور وہ سب ہو گیا۔۔۔

اس نے غصے سے مجھے دیکھا اور کہا کوئی بھی خوبصورت لڑکی دیکھو گے تو اس کے ساتھ یہ سب کر لو۔۔۔

میں نے پہلے ہاں میں سر ہلایا پھر تیزی سے ناں میں سر ہلایا۔۔۔

علینہ نے مجھے گھوری ڈالتے ہوئے کہا کیا مطلب ہے اس سب کا۔۔۔

میں نے کہا وہ میرا مطلب ہے کہ اگر کوئی خوبصورت جوان لڑکی جیسا کہ تم ہو مجھے کہے تو اس کو انکار کرنا زیادتی ہوگی ۔۔۔

دیکھو اگر تم مجھے کہو مثال دے رہا ہوں سچ نہ سمجھنا ۔۔۔

اگر تم مجھے کہو پیار کرنے کے لیے اور میں انکار کر دوں تو تمہاری خوبصورتی کو انکار کروں گا۔۔۔

بس اس لیے میں کسی خوبصورت لڑکی کو انکار نہیں کر پاتا چاہو تو آزما لو۔۔۔

اب پریشان ہونے کی باری اس کی تھی وہ جب بولی تو اس کی آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔۔

اس نے کہا بکواس مت کرو اپنے کام سے کام رکھو میں امی کو بتا دوں گی پھر دیکھنا وہ جو تمہاری تعریفیں کرتی ہیں تمہارا کیا حشر کرتیں۔۔۔

میں نے ڈرنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا پلیز ان کو مت بتانا جو تم کہو گی وہ کروں گا قسم سے ۔۔۔

اگر یقین نہیں تو ایک بار بول کر دیکھو میں فوراً تمہاری بات مانوں گا۔۔۔

علینہ نے بڑے غور سے مجھے دیکھا اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔

اس نے اسی ٹون میں پھر کہا تم میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہو جو یہ سب بول رہے ہو۔۔۔

میں نے کہا میں نے کیا سوچنا ہے تم خوبصورت ہو اور ذہین بھی ہو میں بھلا کیا کہہ سکتا ہوں ۔۔۔

ہاں ایک بات ہے تم ودحت کا مقابلہ نہیں کر سکتی وہ خوبصورت اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ بولڈ بھی ہے ۔۔۔

علینہ تنک کر بولی جی نہیں میں اس سے زیادہ بولڈ ہوں اور خوبصورتی میں وہ میرے برابر کہاں سے لگتی ہے تمہیں۔۔۔

کسی اچھے پھدی بازی کی کہی گئی بات مجھے آج آزمانے کا موقع مل رہا تھا جس نے کہا تھا اگر ایک لڑکی کے سامنے دوسری کی تعریف کی جائے تو وہ خود کو ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتی ہے خاص طور کسی ایسی لڑکی کی جس سے وہ جلتی ہو۔۔۔

میں نے بھی علینہ کو پھنسانے کا ارادہ کر لیا تھا وہ مجھے پھنسانے آئی تھی ویسے بھی اس پر مجھے غصہ کرنا چاہئیے تھا لیکن غصہ کر نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

نازک مزاج اور خوبصورت لڑکیاں غصہ کرنے کے لیے نہیں ہوتیں وہ پیار کرنے کے بنی ہوتی ہیں ان کی پھدیوں کا رس نکالنا چاہئیے ناں کہ ان کو ناراض کیا جائے۔۔۔

میرا ایک بہت خاص دوست کہتا ہے جس کے پاس پھدی ہے اس میں کسی کا تو لن جانا ہے تو کسی اور کا کیوں جائے اگر موقع مل جائے تو اپنا گھسا دو۔۔۔

میں نے کہا دیکھو تم غصہ کر جاؤ گی اگر میں نے کچھ اور کہا تو تم رہنے دو۔۔۔

اس نے کہا نہیں تم مجھے بتاؤ تمہیں کس اینگل سے وہ خوبصورت لگتی ہے۔۔۔

میں نے کچھ دیر سوچنے کی اداکاری کی اور پھر کہا۔۔۔

دیکھو میں صرف تمہارے کہنے پر وہ کہنے لگا ہوں اگر تم ناراض ہوئی تو پھر میں نہیں کہتا۔۔۔

اس نے کہا میں ناراض نہیں ہوتی تم مجھے بتاؤ کہاں سے وہ خوبصورت ہے۔۔۔

میں اٹھ کر کھڑا ہوا اس نے کہا بیٹھ کر بتاؤ کھڑے کیوں ہو گئے ہو۔۔۔

میں نے بیٹھتے ہوئے اس کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا۔۔۔

وہ اچھی خاصی سلم تھی اس کے ممے ودحت کے مقابلے میں بڑے تھے پیٹ نہ ہونے کے برابر تھا آنکھیں بڑی بڑی تھیں ستواں ناک باریک سے لب جن کا قدرتی رنگ لال تھا چھوٹی سے ٹھوڑی تھی جس کے وجہ سے منہ کا دہانہ بھی چھوٹا تھا۔۔۔

غرض وہ لحاظ سے خوبصورت لگ رہی تھی لیکن میں اس کو ودحت سے کم ثابت کرنے والا تھا۔۔۔

میں نے کہا دیکھو ودحت تم سے خوبصورت ہے بس میں نہیں کہہ سکتا تم ناراض ہو جاؤ گی۔۔۔

اس نے چڑتے ہوئے کہا ودحت ودحت کیا لگا رکھی ہے وہ میرے سامنے دوسرے بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔

مجھے بتاؤ تم کیسے کہہ سکتے ہو وہ خوبصورت ہے ۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے اگر تم ضد کر رہی ہو تو میں بتاتا ہوں۔۔۔

اس کا فگر تم سے اچھا ہے یہ کہہ کر میں نے منہ پھیر لیا۔۔۔

اس کی طرف بالکل خاموشی رہی پھر کچھ لمحوں بعد دھیمی آواز میں اس نے کہا تم نے میرا فگر کب دیکھا جو تم یہ کہہ رہے ہو۔۔

میں نے کہا وہ نظر آرہا ہے اس کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے اور بس۔۔۔

میں اور کچھ نہیں بتا سکتا تمہارے سامنے کیسے بولوں مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔

اس نے اسی طرح آہستہ سے کہا کیا اچھا نہیں لگ رہا ۔۔۔

میں سمجھ چکا تھا کہ وہ جو جاننا چاہ رہی ہے ۔۔۔

میں نے اس کے سینے کی طرف دیکھا جس کو اس نے دوپٹے میں ڈھانپ لیا تھا پہلے سینہ کچھ ننگا تھا جس کی وجہ سے اس کے سینے کا ابھار واضح محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

میں نے آنکھیں وہیں ٹکا کر کہا وہ تمہارے اس سے چھوٹے ہیں۔۔۔

اس نے فوراً میری طرف دیکھا پھر میری آنکھوں کی سمت کو دیکھ کر اس نے ایک بار پھر دوپٹہ ٹھیک کیا۔۔۔

وہ اٹھی اور جانے لگی تو میں نے کہا پلیز یہ بات ودحت کو نہ بتانا کہ میں نے تم سے ایسے بات کی ہے ورنہ وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی۔۔۔

وہ رک گئی مجھے بڑے غور سے دیکھا اور واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی ۔۔۔

میں ایک بات بتاؤں تمہیں نہیں پتہ اس کا سائز مجھ سے چھوٹا ہے ۔۔۔۔

میں نے کہا نہیں اس کے بڑے ہیں میں نے خود دیکھے ہیں اور پکڑے ہیں اوہ سوری میرا مطلب ۔۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔

علینہ نے ہنستے ہوئے کہا اتنا ڈر کیوں رہے ہو مجھے سب پتہ ہے ودحت نے مجھے سب بتا دیا تھا ویسے بھی اس دن میں نے تم دونوں کو دیکھا بھی تو تھا۔۔۔

میں نے سر جھکا لیا اور کہا وہ بس ہو گیا تھا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔

علینہ نے کہا مجھے پتہ ہے ایسا ہو جاتا ہے۔۔۔

میں نے کہا جب حسن سامنے ہو اور وہ آپ سے پیار بھی کرتا ہو تو اس کے حسن کو خراج تحسین پیش کرنا فرض عین ہو جاتا ہے۔۔۔

علینہ نے کہا ہممم۔۔۔۔

میں نے کہا اگر تم کو لگتا ہے کہ ودحت سے زیادہ خوبصورت ہو تو اس بات کو ذہن سے نکال دو۔۔۔

علینہ نے تنک کر کہا کیوں نکال دوں میرا فگر کیا میں ہر لحاظ سے اس سے خوبصورت ہوں۔۔۔

میں نے اس کو دیکھا اور کہا میں نہیں مان سکتا۔۔۔

اس نے کہا تمہیں ماننا پڑے گا ایک منٹ وہ کھڑی ہوئی اس نے دوپٹہ ایک طرف کر دیا ۔۔۔

اس کے ایک دم تنے ہوئے ممے ٹائٹ قمیض میں پھنسے ہوئے تھے۔۔۔

جو ہر لحاظ سے ودحت سے بڑے تھے ان کی اٹھان بھی کمال تھی۔۔۔

میں نے پھر بھی کہا اس طرح تو کوئی بھی کہہ سکتی ہے کہ اس کا فگر اچھا ہے ۔۔۔

ودحت کے بڑے ہیں اور ٹائٹ ہیں جب کہ تمہارے مجھے ٹائٹ نہیں لگ رہے۔۔۔

اس کو میرے بات سن کر شرمانا چاہئیے تھا لیکن وہ مجھے گھورتے ہوئے بولی کیا کہا ۔۔۔

یہ ٹائٹ نہیں ہیں تم اندھے ہو دیکھو غور سے دیکھو ان کو یہ ٹائٹ نہیں ہیں کیا۔۔؟؟

میں نے کہا اگر تم اجازت دو تو میں ہاتھ لگا کر چیک کر کے بتا سکتا ہوں۔۔۔

علینہ چل کر میرے سامنے آ گئی اور کہا دیکھو۔۔۔

میں نے کہا ابھی بھی ودحت کے مموں سے چھوٹے لگ رہے ہیں۔۔۔

علینہ کو شاید ودحت سے کچھ زیادہ ہی جلن محسوس ہوتی تھی ۔۔۔

علینہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے مموں پر رکھ دیا اور کہا اب بتاؤ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

میں نے اس کے ممے دبا دئیے اور کہا مجھے تو چھوٹے ہی لگ رہے ہیں۔۔۔

میں نے جب ممے دبائے تو اس کی سئی نکل گئی تھی۔۔۔

اس نے کوئی جواب نہ دیا میں نے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک مما پکڑ رکھا تھا ۔۔۔

یکدم علینہ پیچھے ہوئی اور منہ دوسری طرف کرکے کہا اب بتاؤ۔۔۔

میں نے کہا تم نے نیچے کچھ پہن رکھا ہے جس سے لگ رہا ہے کہ یہ بڑے ہیں اس لیے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔۔۔

اس نے بے بس سی آواز سے کہا تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔

میں نے کہا مجھے کیا ضرورت ہے تمہیں لگتا ہے کہ جھوٹ بول رہا ہوں تو رہنے دو۔۔۔

اس نے کہا اچھا ۔۔۔

میں چپ ہو گیا لیکن اب میرا لن کھڑا ہو چکا تھا میں رک نہیں سکتا تھا۔۔۔

اٹھ کر کھڑا ہوا اور اس کے پیچھے کھڑا ہو کہا تم یقین مانو ایک بار پھر پکڑ کر دیکھا تو پتہ چل جائے گا۔۔۔

وہ کچھ نہ بولی میں نے اس کی چپ کو ہاں سمجھا اور ہاتھ آگے لے جا کر اس کے دونوں مموں کو ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔

مموں کو صرف پکڑا نہیں دبانے بھی لگا اور ساتھ ہی اس کے ساتھ پیچھے سے لگ گیا۔۔۔

وہ تھوڑا سا کسمسائی لیکن میں نے مموں کو زور سے دبایا تو اس کا جسم کانپنے لگا۔۔۔

اس نے میرے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر ہلکی سی مزاحمت کی لیکن میں نے اس کے ہاتھوں کو جھٹک دیا۔۔۔

میں بڑے پیار سے اس کے مموں کو دبا رہا تھا آہستہ آہستہ اس کے جسم میں بھی شاید گرمی بڑھ رہی تھی۔۔۔

اس نے ایک دو بار ہلکی سی آواز میں کہا بس کرو اب چیک کر لیے ہیں۔۔۔

چیک کون کر رہا تھا میں تو مزے لے رہا تھا اس نے اپنی گانڈ کو میرے لن کے پینٹ میں بنے ہوئے ابھار سے رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کرتا باہر قدموں کی آواز آئی جس کو سن کر علینہ ایک دم وہاں سے کھسک گئی اور میں بیٹھ گیا۔۔۔

علینہ کمرے سے باہر نکل گئی اس کے نکلتے ہی ودحت کمرے میں آئی اس کے بال گیلے تھے جن سے پانی کی بوندیں گر رہی تھیں۔۔۔

میں اٹھ کر اس کے پاس گیا اس کے گیلے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے شیمپو کی خوشبو سونگھی۔۔۔

میرا موڈ بن چکا تھا اب لن کو بٹھائے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اس لیے میں نے آسان ٹارگٹ ودحت کی پھدی پر اٹیک کا سوچا۔۔۔

میں نے ودحت کو گلے لگا لیا اور کسنگ شروع کر دی مجھے پتہ تھا کہ علینہ دیکھ رہی ہو گی۔۔۔

اس لیے میں نے کسنگ کرتے ہوئے اس کی گانڈ کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔

اس کے بعد ودحت کو گھمایا اور اس کا رخ اس طرح سے کر دیا کہ باہر سے ایک سائڈ نظر آ رہی تھی۔۔۔

میں نے باہر دیکھا تو مجھے علینہ نظر آ گئی جو چھپ کر اندر جھانک رہی تھی ۔۔۔

اس کی نظر میرے ہاتھوں پر تھی جو ودحت کے ممے دبا رہے تھے ۔۔

ودحت نے کہا نہ کرو ناں ابھی نہا کر آئی ہوں۔۔۔

میں نے کہا تم کہہ رہی تھی ناں کہ میرے نزدیک تمہاری کیا حیثیت ہے تو دیکھو میں تب سے تمہیں پیار کرنے کے لیے تڑپ رہا ہوں۔۔۔

تمہارا شک دور کرنے کے لیے تم جو یہ سمجھ رہی ہو کہ میں تم سے پیار نہیں کرتا تمہاری پرواہ نہیں کرتا ۔۔۔

پتہ چلتا ہے تم میری خاطر کیا کر سکتی ہو مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو۔۔۔

اس نے کہا بلو میں کچھ بھی کر سکتی ہوں جو تم کہو ۔۔۔

میں نے کہا سوچ لو بعد میں مکر نہ جانا۔۔۔

اس نے پر عزم لہجے میں کہا سوچ لیا ہے ۔۔۔

میں نے کہا ابھی تو مجھے پیار کرنے دو باقی میں بعد میں دیکھ لوں گا کہا کرنا ہے۔۔۔

میں نے ہاتھ اس کی قمیض میں ڈالے اور قمیض اوپر کر دی جس سے اس کے ممے باہر نکل آئے۔۔۔۔

میں نے برا سے بھی باہر نکال لیے اور ان کو دبانے لگا۔۔۔

میرا لن مجھے تنگ کر رہا تھا میں نے زپ کھولی اور انڈروئیر سے نکال لیا۔۔۔

ودحت کو گھما کر بیڈ کے ساتھ جھکا لیا اس کی شلوار نیچے کی پھدی پر ہاتھ پھیر کر چیک کیا تو پھدی گیلی تھی پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔

میں نے تھوڑا سا جھک کر لن اس کی گانڈ کے نیچے سے پھدی کے لبوں میں گھسایا ۔۔۔

آہستہ آہستہ کرتے سارا لن اندر کر دیا اور پھر اندر باہر کرنے لگا۔۔۔

چند گھسوں میں لن رواں ہو گیا اس لے بعد میں نے سپیڈ تیز کر دی ۔۔۔

ہاتھ آگے بڑھا کر مموں کو پکڑا اور ممے کھینچتے ہوئے گھسے مارنے لگا۔۔۔

میرا ٹارگٹ جلدی جلدی منی نکالنا تھا اس لیے تیز تیز گھسے مار رہا تھا ۔۔۔

ودحت کی آہ آہ آہ شروع ہو چکی تھی میں نے گردن گھما کر دروازے میں دیکھا تو علینہ کھڑی تھی۔۔۔

وہ مجھے دیکھتا پا کر شرمندہ ہو گئی اور ایک طرف ہو گئی ۔۔۔

میں نے اس کے بعد علینہ کی طرف نہ دیکھا بس ودحت کو چودتا رہا۔۔۔

ودحت اس طرح تھکی تو اس کو لٹا کر ٹانگیں اٹھا کر ایک ہاتھ میں پکڑ کر چودتا رہا۔۔۔

میں اب پورے زور سے پھدی میں لن ٹھوک رہا تھا۔۔۔

ودحت کی آہ اہ اہ بلوووو آرام سے پلیززز کی آوازیں آ رہی تھیں لیکن میں اس کی ایک نہیں سن رہا تھا۔۔۔۔

کوئی پانچ منٹ کی اس دھواں دھار چدائی نے ودحت کی مت مار دی تھی تو میری بھی بس ہو گئی تھی۔۔۔

فارغ ہونے کے بعد میں بیڈ پر لیٹ گیا اور ودحت نے اٹھ کر کپڑا ڈھونڈا جس سے میرا لنڈ ہاتھ سے پکڑ کر صاف کیا ۔۔

پھر اپنی پھدی صاف کی اور سیی سیی کرتی رہی ساتھ بولتی رہی بلو تم بڑے ظالم ہو ۔۔۔

میری بس ہو گئی پہلے ہی جلن ہو رہی تھی اب تو درد بھی ہو رہی ہے ۔۔۔

میں نے کہا کتنی درد ہو رہی ہے اگر زیادہ ہو رہی ہے تو دوائی لا دیتا ہوں ۔۔

اس نے کہا نہیں تم رہنے دو میں خود ہی کچھ کر لوں گی۔۔۔

پھر وہ میری طرف گھوم کر بیٹھ گئی ہم کپڑے ٹھیک کر چکے تھے ۔۔۔

اس نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اچھا میں جب اندر آئی تھی تو علینہ بڑی تیزی سے باہر نکل رہی تھی۔۔۔

میں نے کہا ہاں تو۔۔۔

اس نے کہا وہ کیوں ایسے جا رہی تھی۔۔۔

میں نے کہا یہ تو علینہ سے پوچھنا پڑے گا ایک منٹ میں پوچھتا ہوں۔۔۔

میں نے اونچی آواز میں کہا علینہ ادھر آنا۔۔۔

علینہ جو دروازے میں کھڑی جھانک رہی تھی سٹپٹا کر اندر آ گئی۔۔۔

میں نے اس سے کہا علینہ یہ جو ودحت ہے ناں بڑی شکی مزاج ہے ۔۔۔

علینہ نے سوالیہ نظروں سے ودحت کی طرف دیکھا۔۔۔

ودحت نے مجھے گھور کر دیکھا اور بولی کیا مطلب۔۔۔

میں نے علینہ سے ہی مخاطب ہوتے ہوئے کہا یہ کہہ رہی ہے کہ تم نے علینہ کو کچھ کہا ہوگا جو وہ ناراض ہو کر کمرے سے نکل رہی تھی۔۔۔

علینہ نے کہا کیا مطلب تم نے مجھے کچھ کہا ہوگا اور یہ ودحت آپی نے کہا ہے۔۔۔

ودحت نے کہا علینہ اس کی بات کا یقین نہ کرنا یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔

یہ ہم دونوں لڑانا چاہتا ہے اس لیے ایسا کہہ رہا ہے۔۔۔

چلو ٹھیک ہے علینہ اگر تمہیں مجھ پر یقین نہیں تو تمہاری مرضی ۔۔

ویسے ایک بات اور بھی بتادوں۔۔۔

میں نے ودحت سے وہ والی بات بھی کیا اور چیک بھی کیا ہے تم جانتی ہو۔۔۔

علینہ کے کان کھڑے ہو گئے ۔۔۔

اس نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے مجھے دیکھا تو میں نے کہا جو میں نے کہا تھا وہ ہی ودحت کہتی ہے۔۔۔

ودحت اب ودحت سوالیہ انداز میں کبھی مجھے دیکھ کر رہی تھی تو کبھی علینہ کو۔۔۔۔

علینہ حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی وہ حیران ہو رہی تھی کہ میں کتنا بےشرم ہوں اس کی کزن کے سامنے ہی ویسی باتیں کرنے لگا ہوں۔۔۔

علینہ کو یہ باور کرانا ضروری تھا کہ میں کسی بات سے نہیں ڈرتا ہوں۔۔۔

میں اٹھ کر کھڑا ہوا تو ودحت بھی کھڑی ہو گئی ودحت نے دوپٹہ نہیں لیا ہوا تھا۔۔۔

علینہ کی نظر اس کے سینے پر ہی ٹکی ہوئی تھی۔۔۔

ودحت نے اس کی نظروں کو دیکھا پھر میری طرف دیکھا تو میں ہنسنے لگ گیا۔۔۔

ودحت بلووو کے بچے کہتی ہوئی میرے پیچھے بھاگی میں کمرے سے نکل کر واش روم میں گھس گیا اور نہانے لگا۔۔۔۔





Source link

Leave a Comment