گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 62)

میں واش روم میں نہا رہا تھا اور خوب مل مل کر نہا رہا تھا دوسری طرف ان دونوں میں کیا بات ہو رہی تھی یہ میں نہیں جانتا تھا ۔۔۔

میں نے خصوصی طور پر لن کو مل مل کر دھویا اور اچھی طرح ودحت کی پھدی کا رس صاف کیا صابن کے ساتھ ساتھ شیمپو سے بھی لن کو مہکایا ۔۔۔

نہا کر تولیے سے بال خشک کرتا باہر آیا تو سامنے ودحت اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کھڑی تھی ۔۔۔

جیسے کی میری اور اس کی نظریں چار ہوئیں وہ گھورنے لگی میں اس کے پاس سے گزر کر کمرے میں گھس گیا وہ میرے پیچھے آئی۔۔۔

میں نے اس کے کمرے میں ہی آ کر اس سے کہا کنگھی دو وہ بپھری ہوئی مجھ چل پل پڑی اور میرے بالوں کو مٹھی میں لے لیا۔۔۔

میں ہنستا ہوا اس سے بال چھڑوانے لگا اس نے مجھے بیڈ پر گرا لیا اور میرے پیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔

میرے گلے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی تم نے علینہ کو کیا کہا تھا سچ سچ بتاؤ وہ مجھ سے بات نہیں کر رہی ۔۔۔

میں نے ودحت سے کہا سچ بتاؤں تو کچھ بھی نہیں کہا بس اس کے سامنے تعریف کرنے لگ گیا تھا اور تو کچھ بھی نہیں کہا ۔۔۔

ودحت نے میری طرف بڑے غور سے دیکھا اور کہا تم کو یہ ضرورت کیوں پیش آئی۔۔۔

میں نے کہا مجھے ضرورت اس پیش آئی کہ وہ خود کو بڑی چیز سمجھتی ہے تو اس لیے مجھے کہنا پڑا ویسے بھی تمہارا اس سے کیا مقابلہ وہ میرے لیے اہم ہو وہ ناراض ہوتی ہے تو ہو جائے ۔۔۔

تم سے میرا جو رشتہ بن گیا ہے وہ اس سے تو نہیں ہے ناں ۔۔

ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ تعلق کی وجہ سے میری کچھ لگتی ہے۔۔۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس کے سامنے تمہاری تعریف بھی نہ کروں۔۔۔

بس باتوں باتوں میں تمہاری اور میری بات چل نکلی جس کی وجہ سے میں جذبات میں تمہاری تعریف کرنے لگا گیا۔۔۔

ودحت نے پوچھا تعریف کس طرح کی ہے یہ بھی تو مجھے پتہ چلے ۔۔۔

میں نے کہا بس اتنا کہا کہ ودحت کا جسم ایسے ہے جیسے کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہو۔۔۔

ودحت نے گھوری ڈالتے ہوئے کہا یہ الفاظ اس کے سامنے کہنا ضروری تھا۔۔۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے قریب لاتے ہوئے کہا میری جان میں کہیں بھی بول سکتا ہوں۔۔۔

تم حسن کی پری ہو تمہارے جسم سے نکلتی خوشبوئیں میرے تم بدن میں نشہ بھر دیتی ہیں۔۔۔

تمہارے سینے کے ابھاروں کی اٹھان میرے اندر ایسا جادوئی اثر رکھتی ہے کہ کر وقت ان کا تکیہ بنا کر سونے کو دل کرتا ہے۔۔۔

میں کچھ اور بھی بولنا چاہتا تھا کہ ودحت نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر مجھے خاموش کروا دیا۔۔۔

اس نے اپنے بازو میرے گرد حمائل کیے اور

میرے ساتھ چپکتے کوئے گویا ہوئی۔۔۔

بلو مجھے پتہ ہے تم لفظوں سے کھیل رہے ہو میں تمہیں اچھی تو لگ سکتی ہوں لیکن تمہاری دل میں میرے لیے وہ مقام کبھی نہیں پیدا ہو سکتا جو میں چاہتی ہوں۔۔۔

میں اپنا تن من دھن سب کچھ تمہیں سونپ چکی ہوں۔۔۔

میں نے آہستہ سے کہا اور میں بھی تو اپنا آہنی لن تمہیں دے چکا ہوں ۔۔۔

اس نے میرے سینے پر مکا مارتے ہوئے کہا بلووووو میں کتنی سیریس بات کر رہی ہوں اور تمہارے دماغ میں بس ایک ہی بات چل رہی ہے۔۔۔

وہ مجھ سے الگ ہوئی اور کہنے لگی کہ اگر میں کچھ دیر اور رکی تو مجھے لگتا ہے کہ تم نے پھر سے شروع ہو جانا ہے اب مجھے پھر نہانا پڑے گا ۔۔۔

میں نہانے جا رہی ہوں خبردار جو اب علینہ کو تنگ کیا یا اس کے ساتھ کوئی ایسی ویسی بات کی۔۔۔

میں سر جھکاتے ہوئے کہا جو حکم مائی لارڈ ۔۔

ویسے تم مجھے ایسا سمجھتی ہو کہ میں کر ایک کے ساتھ چھی چھی۔۔۔

وہ رکی اور بڑی معصوم شکل بنا کر بولی ہاں پہلے نہیں سمجھتی تھی اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تم کبھی کبھی کہیں بھی کسی کے ساتھ بھی شروع ہو سکتے ہو۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے اگر تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں میں انتظار کر رہا ہوں جلدی جاؤ نہیں تو پھر موڈ بن جانا ہے۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے باہر نکل گئی میں علینہ کے بارے میں سوچنے لگا مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب علینہ بھی میرے لن کے نیچے ہو گی ۔۔۔

کیسے ہو گی کب ہو گئی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس کی اکڑ تو میرا لوڑا کی ختم کرے گا ۔۔۔

میں وہیں بیٹھ کر انتظار کرتا رہا وہ نہا کر آئی اس کے بعد کچھ خاص نہ ہوا ۔۔۔

آنٹی اور شاہ بھی آ گئے مجھے آنٹی نے سب کچھ بتا دیا کہ وہ لوگ یہاں سے جا رہے ہیں۔۔۔

شاہ نے بتایا کہ اب یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے اچھی کے لوگ ہمیں چین سے رہنے نہیں دیں گے اس لیے ہم یہاں سے جا رہے ہیں۔۔۔

ہمارا اپنا مزار ہے گوگیرہ کے قریب وہاں چلے جائیں گے اور میں یہاں ہوسٹل میں رہ لوں گا ودحت کو ہوسٹل میں ٹھہرا لیں۔۔۔

میں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا پھر آنٹی کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن آنٹی نے کہا بیٹا ہم سب انتظام کر چکے ہیں آج رات کی نکل جائیں گے ۔۔۔

کچھ دن تک عثمان اور ودحت کالج نہیں آئیں گے اس کے بعد ان کو ہوسٹل میں بھیج دوں گی علینہ بھی ودحت کے ساتھ ہی رہے گی۔۔۔

میں کہا جیسے آپ کی مرضی اگر میری کسی بھی موقع پر ضرورت ہو تو بیٹا سمجھ کر حکم کر دینا میں حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔

ودحت پیچھے کھڑی تھی میری بات سن کر مسکرانے لگ گئی اور ہاتھ سے اشارے کرنے لگی۔۔۔

میں نے نظریں جھکا لیں اور ان سے اجازت لے کر گھر آگیا۔۔۔

اگلے کئی دن ایسے ہی گزر گئے کوئی خاص بات نہ ہوئی وہ لوگ بھی جا چکے تھے میرے گھر والے بھی گاؤں شفٹ ہو گئے۔۔۔

بھا ہاشم نے مجھے مشورا دیا کہ ہاسٹل میں کمرہ لے لو یا کوئی چھوٹا موٹا گھر کرائے پر لے لو۔۔۔

میں عارضی طور پر کالج ہاسٹل میں ایک لڑکے کے ساتھ شفٹ ہو گیا تھا لیکن مجھے وہاں کا ماحول پسند نہیں آ رہا تھا۔۔۔

اوپر سے جس طرح کا میں آزاد پنچھی تھا مجھے ہاسٹل میں قید محسوس ہوتی تھی۔۔۔

پندرہ بیس دن بعد اچانک ایک رات ہاسٹل میں عابد باکسر آ گھسا اس کو کسی نے میرے کمرے میں بھیج دیا۔۔۔

وہ تو پہچانا ہی نہیں جا رہا تھا داڑھی بڑھی ہوئی تھی بڑا بن ٹھن کر رہنے والا عابد آج بری حالت میں تھا۔۔۔

میں نے اس کو ساتھ لیا شاہد کو فون کیا وہ بائیک لے آیا ۔۔۔

ہم وہاں سے ناصر کے ٹیوب ویل پر چلے گئے وہاں ناصر میں اور شاہد تھے۔۔۔

عابد پریشان تھا کافی اس نے بتایا کہ اس کو جیل سے دارے خان نے نکلوایا تھا جو اب خود جیل میں ہے۔۔۔

وہ اس کے لیے کام کرنے لگ گیا تھا اس کے ہی ٹھکانے پر ہوتا تھا۔۔۔

جس دن وہ ساری کاروائی ہوئی اس دن وہ ایک واردات پر گیا تھا جب واپس آیا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔۔۔

کچھ دن چھپ کر گزارا کیا اب وہ گھر بھی نہیں جا سکتا تھا اور باہر بھی نہیں رہ سکتا تھا ۔۔۔۔

میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ناصر کو کہا کچھ دن اسے یہاں رہنے دو اس کے کھانے پینے کا بندوبست کرو باقی بعد میں دیکھتے ہیں۔۔۔

عابد کو تسلیاں دیتے صبح ہو گئی ساری رات جاگتے گزار دی تھی اس لیے میں کالج نہ گیا وہیں سو گیا۔۔۔

بارہ بجے اٹھا اور کالج گیا ہاسٹل سے یونیفارم پہن لیا تھا۔۔۔

کالج میں کوئی خاص بات نہ ہوئی امتحانات شروع ہو رہے تھے اس لیے پڑھائی پر ہی ساری توجہ مرکوز ہو گئی تھی۔۔۔

شاہ لوگوں نے ایک گھر کرائے پر لے لیا تھا شہر کے ایک کونے میں اور ودحت علینہ اور شاہ الگ الگ جاتے تھے۔۔۔

یہ ان کی سوچ تھی کہ اس طرح سے کوئی ان کو ڈھونڈ نہیں پائے گا ۔۔۔

کیا پتہ جہاں وہ لوگ شفٹ ہوئے تھے وہاں اں کے خلاف جال بچھایا جا چکا ہو۔۔۔

کچھ بھی ہو سکتا تھا وہ بہت ڈر گئے تھے خود ہی پھنسے رہے تھے یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اچھی کے لوگوں کو ان کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہ ہو ۔۔۔

عابد نے کہیں لمبا ہاتھ مارنے کا پلان بنایا ہوا تھا اس نے کہا کہ اس کا جعلی پاسپورٹ بنوانے میں اس کی مدد کر دیں ۔۔۔

باقی کا سارا بندوبست وہ خود کر لے اس کے لیے ہمیں پھر سے پرویز صاحب کی ضرورت پڑ گئی۔۔۔

ان سے رابطہ کیا انہوں نے ہمیں اپنے پاس لاہور بلا لیا۔۔۔

ہم لاہور پرویز صاحب کے پاس پہنچ گئے ان سے ملاقات ہوئی وہ بڑے بدل گئے تھے۔۔۔

ان کا لائف سٹائل بدل چکا تھا جو سادہ لباس پہنتے تھے وہاں جا کر ساری سادگی ختم ہو گئی تھی۔۔۔

ماڈرن استاد بن چکے تھے ان کی مدد سے ہم نے عابد کا پاسپورٹ بنوا لیا ۔۔۔

وہیں پر مجھے پرویز صاحب نے ڈاکٹر عمائمہ کے بارے میں بتایا کہ وہ بھی یہاں قریب ہی رہتی ہیں۔۔۔

شاہد نے مجھے اشارے سے منع کیا کہ ان سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔

اصل میں شاہد یہ جانتا تھا کہ پرویز صاحب اور ڈاکٹر عمائمہ کا کوئی تعلق ہے وہ آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔۔۔

مجھے شاہد کے روکنے کی پوری طرح سمجھ نہ آئی کیونکہ میں بھی اتنی بات جانتا تھا ۔۔۔

ڈاکٹر کی بات ہوتی تو اس سے کیا ہو سکتا تھا پرویز صاحب کیا سوچ سکتے تھے۔۔۔

ہم نے اپنا کام کیا اور وہاں سے واپسی کی راہ لی لیکن میرا دل چاہ رہا تھا کہ اگر یہاں آگیا ہوں تو ڈاکٹر سے ملتا جاؤں ۔۔۔

شاہد اس بات پر راضی نہ ہوا ہم واپس آگئے اس کے بعد عابد اپنے کام میں لگ گیا۔۔

اس نے بتایا کہ وہ جلد باہر چلا جائے گا پھر واپس نہیں آئے گا اس کا پلان دوبئی جانے کا تھا وہاں اس کا کوئی دوست رہتا تھا۔۔۔

پیپر شروع ہو گئے ہم پیپروں میں اتنے مصروف ہوئے کہ اردگرد کی کوئی خبر ہی نہ رہی۔۔۔

دو پیپر رہ گئے تھے کہ عابد کا فون آیا وہ کھاری کے نمبر سے بات کر رہا تھا اس نے بتایا کہ وہ لوگ میرے پاس آ رہے ہیں اگلی پلاننگ کرنی ہے۔۔۔

میں نے ان کو ویلکم کہا وہ ہاسٹل ہی آ گئے۔۔۔

وہاں سے اپنے اڈے پر یعنی ناصر کے ٹویب ویل پر چلے گئے ۔۔۔

وہاں عابد نے بتایا کہ وہ بہاولنگر کے علاقے سے بارڈر کراس کرے گا اور انڈیا جائے گا۔۔۔

انڈیا میں اس کی سیٹنگ ہو چکی ہے وہاں سے وہ دوبئی نکل جائے گا۔۔۔

میں نے اس کو کہا یار لوگ ایران عراق کے علاقے سے ترکی جاتے ہیں اور یورپ نکل جاتے ہیں۔۔۔

دوبئی جانے کے لیے کراچی سے شپ کے ذریعے جاتے ہیں انڈیا میں کیسے کرے گا یہ سب۔۔۔

لیکن اس نے اپنے ایجنٹ کا بتایا کہ وہ اس کو انڈیا کے رستے پہنچاسکتا ہے کیونکہ انڈیا سے کسی بھی عرب ریاست جانا زیادہ آسان ہے۔۔۔

وہ عابد کو انڈین پاسپورٹ دے گا جس پر وہ انڈین شہری بن کر سفر کرے گا۔۔۔

عابد کی باتیں میرے لیے بالکل انوکھی تھیں میں نے کہا جیسے تمہیں ٹھیک لگے ۔۔

میری ضرورت ہے یا میں کیا کر سکتا ہوں وہ مجھے بتاؤ ۔۔۔

اس نے مجھے کہا جس دن آخری پیپر کے اس رات ہم نے یہاں سے نکلنا ہے مجھے بارڈر تک چھوڑ کر آناہے دوسری طرف گزر جاؤں گا۔۔۔

ایجنٹ بھی ہمارے ساتھ ہو گا اس کو سارا رستہ معلوم ہے تم لوگ ساتھ ہو گے تو مجھے حوصلہ رہے گا۔۔۔

اس بات کا ڈر بھی نہیں رہے گا کہ ایجنٹ ڈبل کراس کر جائے گا۔۔۔

اس کی بات سمجھ گیا اور میں نے شاہد سے کہا تو پھر تیار ہو جانے کے لیے۔۔۔

شاہد نے اوکے کر دیا ہم نے وقت اور باقی سب کچھ طے کر لیا۔۔۔

عابد نے کہا میں نے اس کو کچھ پیسے دئیے ہیں باقی آپ لوگوں کو پکڑا دوں گا جب میں وہاں سے اوکے کروں تو اس کودینا۔۔۔

اس کے بعد اگلا دن بھی مصروف گزر گیا آخری پیپر میتھ کا تھا جس میں میرا ہاتھ صاف تھا اور مجھے ریاضی اچھی آتی تھی۔۔۔

مجھے اس وقت تک یہ نہیں پتہ تھا کہ علینہ کس کلاس میں پڑھتی ہے شاہ نے مجھے کہا یار ایک کام ہے جو تو کر سکتا ہے۔۔۔

مجھے امی نے بھی یہ بات سمجھائی تھی کہ تمہارے علاوہ کسی پر بھروسہ نہ کروں۔۔۔

میں نے کہا سالیا اتنی لمبی تمہید نہ باندھ جو بات ہے صاف صاف کر۔۔۔

شاہ نے کہا تو جانتا ہے مجھے ریاضی نہیں آتی اس وجہ سے میں یہ مضمون بھی نہیں رکھا۔۔۔

میں نے کہا ہاں جانتا ہوں۔۔۔

شاہ نے کہا میں نے علینہ کو سمجھایا بھی تھا کہ وہ نہ رکھے لیکن وہ نہیں مانی تھی کل پیپر ہے اور اس کی تیاری نہیں ہے۔۔۔

تو تو جانتا ہے حالات کیسے رہے ہیں ان حالات میں وہ اچھی سے پڑھ نہیں سکی۔۔۔

میں نے کہا وہ سب چھوڑ تو یہ بتا اب تو چاہتا کیا ہے کیا کرنا ہے۔۔۔

اس نے کہا بس اس کو آج تیاری کروا دو اس نے مجھے کہا ہے اور امی نے بھی مجھے کہا ہے تو مجھے کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔

کسی اور پر بھروسہ نہیں کر سکتے اب تم ہی کچھ کر سکتے ہو۔۔۔

میں نے کہا چوتیے اتنی بات کے لیے اتنی لمبی تمہید باندھنی ضروری تھی صاف صاف کہتا کہ علینہ نے تیاری کرنی ہے اور میری ضرورت ہے۔۔۔

میں نے کبھی تمہیں انکار کیا ہے پھر ماں جی نے کہا ہے تو میرے لیے حکم برابر ہے ٹھیک ہے چلتے ہیں۔۔۔

پھر ایک بات ہے کل میرابھی پیپر ہے تو مجھے بھی تیاری کرنی ہے رات وہاں ہی رہ لیتا ہوں اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو۔۔۔

اس نے مجھے ساتھ لیا اور ہم اس کے گھر پہنچ گئے ایک چھوٹا سا گھر تھا جس میں دو کمرے تھے اور ایک کچن اور چھوٹی سی بیٹھک تھی ۔۔۔

ایک کمرے میں علینہ اور ودحت سوتی تھیں دوسرا انہوں نے ٹی وی لاونج بنایا ہوا تھا۔۔۔

شاہ بیٹھک میں سوتا تھا مجھے شاہ گھر لے گیا گھر میں کوئی نہیں تھا میں نے لاونج میں کتابیں رکھیں ۔۔۔

شاہ کچن میں گھس گیا وہ چائے بنا لایا اور اس نے کہا علینہ آئے گی تو وہ کھانا بنائے گی ۔۔۔

وہ باہر سے سبزی وغیرہ بھی لے آیا یہ ہم باتیں کرنے لگے علینہ آئی اس نے مجھے سلام کیا اور اپنے کام میں لگ گئی۔۔۔

ودحت آئی مجھے بڑی گرم جوشی سے سلام کیا اور سیدھی کچن میں گھس گئی۔۔۔

علینہ کو اس نے اور کام لگا دیا ہم ٹی وی دیکھتے رہے۔۔۔

کھانا کھایا اور میں شاہ کے ساتھ بیٹھک میں چلا گیا ہاسٹل لائف عجیب تھی وہاں شور کبھی رکتا ہی نہیں تھا ۔۔

گھر میں سکون ملا تو میں تھوڑی دیر میں ہی سو گیا۔۔۔

میری آنکھ کسی کے ہلانے سے کھلی دیکھا تو ودحت کھڑی تھی مجھے جاگتا دیکھ کر وہ میرے اوپر جھک گئی۔۔۔

اس نے میرے ہونٹوں پر کس کی اور کہا نواب صاحب اٹھ جاؤ منہ ہاتھ دھو لو عثمان بھی آنے والا ہوگا پھر کھانا کھا لو۔۔۔

میں اٹھ کر فریش ہوا شام ہونے والی تھی میں باہر نکل کر لاونج میں آیا تو وہاں علینہ بیٹھی میتھ کر رہی تھی۔۔۔

اس نے مجھے سرسری سا دیکھا اور پھر کتاب میں گھس گئی۔۔۔

میں فضول بیٹھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ودحت آئی اور اس نے کہا تم نے سارے پیپر ایسے ہی دئیے ہیں ۔۔۔

میں نا سمجھی سے بولا کیا مطلب۔۔؟۔

اس نے کہا یوں ہی سوتے ہوئے کل پیپر ہے اور تم سو رہے ہو یہ جب سے آئی ہے پڑھ رہی ہے اور تم بس سو ہی رہے ہو۔۔۔

میں نے مذاق کرتے ہوئے کہا پڑھتے وہ ہیں جن کو کچھ نہ آتا ہو۔۔۔

میں تو پہلے ہی بہت ذہین ہوں مجھے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔

علینہ نے مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا میں نے اس کو ایک مسکراہٹ پیش کی ساتھ ہی آنکھ مار دی۔۔۔

ودحت نے کہا آہو میں جانتی ہوں تم کتنے ذہین ہو جو کچھ تم کرتے پھر رہے ہو اس سے ہی سب کچھ نظر آ رہا ہے۔۔۔

دعا کرو تم پاس ہو جاؤ یہ نہ ہو کہ بعد میں نہ کالج کے رہو ناں گھر کے۔۔۔ہاہا۔

میں نے اس کو دیکھ کر کہا تم چاہو گی کہ میں فیل ہو جاؤں اور گھر والے مجھے نکال دیں اورررر۔۔۔۔ہاہا

علینہ نے بھی ایک دم چونک کر میری طرف دیکھا ودحت شرمسار سی ہو گئی اور دفعہ ہو تم سے تو بات کرنا ہے ہی فضول ہے کہتی ہو اٹھ گئی۔۔۔

اس کے جانے کے بعد علینہ نے کہا تمہیں کچھ بھی دید لحاظ نہیں ہے ۔۔۔

میں نے کہا نہ بالکل بھی نہیں ۔۔۔

اگر ودحت دیکھ لیتی تو کہا سوچتی جو تم نے کیا تھا۔۔۔

میں نے ہونٹوں سے کس کا اشارہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا کیا کیا تھا میں نے۔۔۔ہاہا۔۔

اس کا چہرہ لال سرخ ہو گیا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے جان سے مار ڈالے۔۔۔

میں نے اس کو دیکھنا جاری رکھا اس کی بولتی بند ہو گئی تھی وہ نظریں جھکا کر بیٹھ گئی۔۔۔

منہ میں کچھ بڑبڑانے لگی۔۔۔

میں نے اس کو گھورنا جاری رکھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد اس نے غصے سے سر اوپر اٹھایا اور بولی اب کیا ہے ۔۔۔؟؟

میں نے مسکراتے ہوئے کہا اب میں نے کیا کر دیا ہے میں چپ بیٹھا ہوں۔۔۔

اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی کچھ پل بعد ودحت کی آواز آئی کون اس مے بعد اس نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔

میں نے کتاب اٹھا لی اور کھول کر تعریفیں پڑھنے لگا۔۔۔

شاہ اندر داخل ہوا اس نے علینہ کو سوال کرتے دیکھا اور مجھے دیکھا پھر بولا علینہ کو بھی مسئلہ ہو بلو سے سمجھ لینا یہ آج یہاں صرف اسی لیے ہے۔۔۔

علینہ نے مجھے دیکھا پھر شاہ کو دیکھا اور پھر منہ میں کچھ بڑ بڑائی شاہ کا دھیان اس طرف نہیں تھا لیکن میں اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

شاہ بیٹھ گیا چند منٹ بعد ودحت کھانا لے آئی ہم نے مل کھانا کھایا۔۔۔

ودحت اور علینہ نے باہر جا کر دوسرے کمرے میں کھانا کھایا تھا۔۔۔

کھانا کھا کر میں نے اپنے ہتھیار نکا لیے اور پیپر کی تیاری شروع کر دی۔۔۔

ایک رجسٹر جو پتہ نہیں کتنا پرانا تھا اس پر سوال کرنے لگا ۔۔۔

میں نے ٹی وی چلا کر سپورٹس چینل لگا دیا تھا جس کی آواز بھی کافی اونچی کر دی۔۔۔

شاہ مجھے دیکھ کر حیران ہو رہا تھا اس نے کہا بھی یار اس طرح کیسے پڑھ سکتے ہو۔۔۔

میں نے اس کو کہا شور نہ کو تو مجھ سے ریاضی نہیں کی جاتی اس لیے میں جیسے کر رہا ہوں کرنے دو مجھے ڈسٹرب نہ کرنا۔۔۔

شاہ اٹھ کر چلا گیا اور میں اپنے کام میں غرق ہو گیا ۔۔۔

جب کبھی بھی میں نے ریاضی کرنی ہوتی تھی میرا یہ کی طریقہ تھا مجھے کوئی ہوش نہیں رہتا تھا میں اتنا غرق ہو جاتا تھا کہ کوئی مجھے آواز بھی دیتا تو سنائی نہیں دیتا تھا۔۔۔

میں سوالات حل کرتا جا رہا تھا مجھے کوئی پتہ نہیں تھا کہ ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔۔۔

علینہ کب آئی کتنی دیر مجھے دیکھتی رہی مجھے ککھ نہیں پتہ تھا۔۔۔

میرا انہماک تب ٹوٹا جب ٹی وی بند ہوا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ریموٹ علینہ کے ہاتھ میں تھا اور وہ مجھے حیرانی سےدیکھ رہی تھی۔۔۔

ودحت بھی دروازے میں کھڑی مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

میں نے اس سے ہاتھ ہلا کر پوچھا کیا ہوا ہے یوں کیوں کھڑی ہو۔۔۔

علینہ نے ناں میں سر ہلا کر کہا کچھ نہیں ودحت کو دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔

وہ اندر آئی اور اس نے مجھے کہا تم سچ میں عجیب انسان ہو ۔۔۔

میں نے نے رجسٹر اور کتاب بند کر دی اور اس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا صرف میں عجیب ہوں یا میرا سب کچھ عجیب ہے۔۔۔

اس بار وہ غصہ نہ ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی ری ایکشن دیا ۔۔۔

اس نے ہنسنتے ہوئے کہا تم پورے کے پورے ہی عجیب ہو تمہیں سمجھنا مشکل ہے ۔۔۔

میں نے کہا بڑا آسان ہے ویسے بھی تم تو بہت کچھ جانتی ہو میرے بارے میں جتنا گہرائی سے تم نے مجھے جانا ہے علینہ کو اس کے بارے کچھ بھی نہیں پتہ۔۔۔۔

ودحت نے غصے سے دیکھا جو کہ مصنوعی تھا اور کہا بس ہو جاؤ شروع ۔۔۔

تمہیں ایسی باتیں کرتے دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ تم پڑھتے ہوئے کتنے معصوم لگتے ہو ۔۔۔

میں تو حیران ہی رہ گئی کہ یہ وہی بلو ہے جو کچھ دیر پہلے فضول باتیں کر رہا تھا۔۔۔

میں نے کہا ریاضی بھی کچھ لوگوں کے لیے فضول ہے اور شوق ہے پڑھنے کا۔۔۔ہاہا۔۔

علینہ پہلو بدل کر رہ گئی لیکن بولی کچھ نہ وہ تو جیسے کسی ٹرانس میں تھی بس مجھے دیکھی جا رہی تھی۔۔۔

میں نے ودحت سے کہا ویسے میں اگر غلط نہیں ہوں تو تمہاری جسم میں بھی کچھ سینٹی میٹر تک تبدیلی آ گئی ہے۔۔۔

اس نے کہا کیییا۔۔؟

میں نے ہنستے ہوئے کہا علینہ بیٹھی ہے نہیں تو صاف الفاظ میں بتاتا کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔

یہ کہتے ہوئے میری نظر اس کے مموں پر تھی جو کہ قمیض میں پھنسے ہوئے تھے۔۔۔

علینہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی روکی ۔۔۔

ودحت نے اس کی طرف دیکھا اور مجھے گھورتی ہوئی بولی بھاڑ میں جاؤ تم بھی اور تمہارے اندازے میں ۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ باہر چلی گئی پھر واپس آئی اور علینہ سے ریموٹ لے کر ٹی وی چلاتے ہوئے بولی تمہیں کس نے کہا تھا کہ اس کو چھیڑو کرنے دو جو کر رہا ہے ۔۔۔

تم بھی اپنا کام کرو دیکھو اس کو وہ کس قدر توجہ سے پڑھ رہا تھا اور تم بس بولنے میں ہی تیز ہو۔۔۔

وہ ایک بار پھر پھوں پھوں کرتی باہر نکل گئی اور دروازہ بھی بند کر گئی۔۔۔

میں نے علینہ کو دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے اس کو بتایا کہ اس کے ممے آج پہلے سے بھی بڑے لگ رہے تھے۔۔۔

علینہ نے منہ ہی منہ میں مجھے کئی گالیاں دیں جو میں سمجھ نہ سکا لیکن اس کو ہونٹ بند کر کے ہوائی کس کرکے پھر سے رجسٹر اٹھا لیا اور سوال کرنے لگا۔۔۔

کافی دیر میں کرتا رہا علینہ کو میں گاہے بگاہے دیکھ لیتا کہ وہ کر رہی ہے یا نہیں وہ بھی لگی ہوئی تھی۔۔۔

ایک بار عثمان بھی آیا اس نے بھی ہمیں پڑھتے دیکھا اور چلا گیا علینہ نے اس کو بھی ٹی وی بند کرنے کا کہا تو اس نے آواز دھیمی کرکے اس کو سمجھایا ۔۔۔

ریاضی کرنے کا یہ فارمولا صرف بلو کا ہی ہے اس کو اس کے بغیر ریاضی کرنے میں مزہ نہیں آتا۔۔۔

علینہ نے کہا تو پھر امتحانی مرکز میں بھی ساونڈ سسٹم ساتھ لے کر جاتا ہوگا۔۔۔

میں ہنس کر رہ گیا عثمان بھی ہنستا ہوا باہر چلا گیا ۔۔۔

اسکے بعد ودحت آئی اس نے چائے کا تھرماس میز پر رکھا اور کہا اگر یہ ختم ہو جائے تو علینہ نئی بنا لانا بلو چائے بھی بہت پیتا ہے عثمان بتا رہا تھا ۔۔

میں نے چائے ڈالی اور چائے کہ چسکیاں لیتے ہوئے سوالات کرنے لگا۔۔۔

گیارہ بجے کے قریب علینہ نے مجھے کہا اگر اس کو بند کر دوں تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔۔۔

میں نے کہا نہیں کر دو اگر تنگ ہو رہی ہو۔۔۔

میں بھی اس وقت تک ردھم میں آچکا تھا مجھے کوئی الجھن نہیں تھی ۔۔۔

علینہ نے ٹی وی کی آواز دھیمی کر دی اور میرے قریب آ کر بیٹھ کر ۔۔۔

میں نے ایک دم پیچھے ہوتے ہوئے کہا میرے ساتھ کیا کرنے لگی ہو۔۔۔

میرا انداز شرارتانہ تھا علینہ سمجھ گئی اس نے کہا کھانے والی ہوں بچ کر دکھاؤ۔۔۔

میں نے کہا پھر ٹھیک ہے اگر اتنی حسین لڑکی کھانا چاہے تو ڈرنا نہیں چاہئیے۔۔۔

اس نے کہا بکو مت مجھے جو سوال نہیں آ رہے وہ میں نے نوٹ کر لیے ہیں مجھے کروا دو۔۔۔

میں نے اس کو سوال کروانے لگا میرا ذہن اس وقت کہیں اور نہیں تھا بس سمجھانے میں مصروف تھا۔۔۔

وہ صوفے پر میرے بالکل قریب ہو چکی تھی لیکن میرا دھیان اس کی قربت پر نہیں تھا۔۔۔

اس کو سوالات کروانے سےمیرا بھی فائدہ ہو رہا تھا مجھے وہ کرنے نہیں پڑھنے تھے ۔۔۔

علینہ بھی سمجھتے ہوئے میرے ساتھ جڑ گئی جب اس کو کسی بات کی سمجھ نہ آتی تو وہ اور قریب ہو جاتی۔۔۔

کئی دفعہ اس کے ممے میرے بازو سے چھو گیے تھے کبھی اس کا ہاتھ میرے ہاتھ سے لگتا۔۔۔

اس سب کے باوجود میں صرف سوالات سمجھانے میں مگن تھا۔۔۔

کوئی ایک بجے کا ٹائم ہو گا جب ہم تقریباً ساری تیاری مکمل کر چکے تھے علینہ اب خود کر رہی تھی۔۔۔

میں نے صوفے کے ساتھ کمر لگا کر انگڑائی لی اور علینہ کو دیکھا جو میرے ساتھ صوفے پر بیٹھی تھی اور جھک کر سوال کر رہی تھی۔۔۔

اس کا دوپٹہ غائب تھا بالوں کی چوٹی باندھی ہوئی تھی جو اس کے ایک طرف لہرا رہی تھی۔۔۔

اس کی کمر کر قمیض میں سے برا کی سٹرپ واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

جھکنے سے اس کے ممے بھی نیچے کو لٹک رہے تھے جیسے اپنی بے بسی پر رو رہے ہوں۔۔۔

جب سے ہم پڑھنے لگے تھے اس وقت سے لے کر اب تک میرے دماغ میں ذرہ برابر بھی کوئی ایسا خیال نہیں آیا تھا۔۔۔

اب اس کو ایسے دیکھا تو میرے لن نے میرے دماغ میں کہا ایسا پرشباب جسم ساتھ ہے اور تم ریاضی کے فارمولوں میں الجھے ہوئے ہو۔۔۔

علینہ نے بھی شاید میرے دیکھنے کو نوٹ کر لیا تھا اس نے ویسے ہی جھکے جھکے گردن گھما کر مجھے دیکھتے ہوئے آنکھ کے اشارے سے پوچھا کیا ہوا۔۔۔

میں اس وقت تک ریاضی کو دماغ سے نکال چکا تھا میرے دماغ پر حسین جسم کی نزاکت چھا گئی تھی۔۔۔

میں نے اس کی کمر سے مموں تک نظر لاتے ہوئے علینہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیں اور دیکھنے لگا۔۔۔

وہ سیدھی ہوئی اور بولی کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔

میں نے کہا علینہ ۔۔۔۔

اس نے پوچھا ہاں بولو۔۔۔

میں نے کہا علینہ تم کتنی خوبصورت ہو میں کتنا بیوقوف ہوں کہ تم میرے ساتھ ہو اور میں ریاضی میں لگا ہوا ہوں۔۔۔

اس نے آنکھیں سکوڑ کر مجھے دیکھا اور کہا کیا مطلب ہے اس سب کا۔۔۔

میں نے کہا مجھے ریاضی کی نہیں تمہارے ساتھ ریاض کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

اس کو سب سمجھ آ رہی تھی لیکن مچلی بنی ہوئی تھی اب وہ اتنی بیوقوف تو تھی نہیں اتنا تو میں جانتا تھا۔۔۔

میں نے اس کی بالوں کی چوٹی کو پکڑا اور کھول دیا اور اپنا منہ اس کے کانوں کے قریب لے جا کر کہا ۔۔۔

ایک بات بتاؤں تمہیں سچ سچ۔۔۔

اس نے اپنے بالوں کو سمیٹتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولی ہاں بتاؤ۔۔۔

میں اس کے سینے کو دیکھنے لگ گیا وہ بالوں کو ہاتھ پیچھے لیجا کر سمیٹ رہی تھی اس کے ممے میری دھڑکن بکھیر رہے تھے۔۔۔

اس کے ابھرے ہوئے ممے قمیض کو پھاڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھے اور میرا لن شلوار میں سے نکلنے کے لیے پھنکارنے لگا۔۔۔۔

میں اتنے دن کا پھدی کے لیے ترسا ہوا تھا مجھ سے برداشت نہ ہوا میں نے اس کے مموں پر ہاتھ رکھ کر ان کو پکڑا لیا۔۔۔

وہ جس حالت میں تھی وہیں رک گئی اور آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔

میں نے مموں وہ دبانا شروع کر دیا اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے میرے ہاتھ جھٹکے اور دوسری طرف منہ کرکے بیٹھ گئی۔۔۔

میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور اس کو پیچھے گھمایا لیکن اس نے جسم اکڑا لیا اور پیچھے نہ گھومی۔۔۔

میں پیچھے سے اس کے قریب ہو گیا اور اس کو اپنی گود میں لٹا لیا۔۔۔

اس نے منہ پھیر لیا اس کے انداز سے مزاحمت کم سپردگی زیادہ ٹپک رہی تھی۔۔۔

گود میں لٹا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا اور دوسرے ہاتھ میں اس کا نرم و نازک ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔

اس کے ہاتھ کو اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے لگا کر چوم لیا۔۔۔

اس نے چہرے کو میری طرف گھمایا اور میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔

اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا آنکھوں میں نشیلا پن تھا۔۔۔

ہونٹ لرز رہے تھے میں نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے گالوں پر لے آیا۔۔۔

انگوٹھے کو اس کے لبوں پر پھیرا تو اس نے آنکھیں بند کر لیں اور تیز سانس لینے لگی۔۔۔

میں جھکا اپنے ہونٹ اس کے انار کی طرح سرخ ہوتے گالوں پر رکھ دئیے اور چومنے لگا۔۔۔

اس نے میرے ہاتھ کو کس کر پکڑ لیا جیسے اس کو ڈر ہو کہ میں چھوڑ جاؤں گا۔۔۔

بڑے پیار سے گال چوم کر میں نے اس کی پیشانی کو چوما اور جو ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا اس کو اس کے پیٹ پر لے آیا ۔۔۔

اس کا پیٹ بالکل نرم تھا اور تھرتھرا رہا تھا ناف پر ہاتھ کو رکھ کر ہلکا ہلکا مساج کرنے لگا ۔۔۔

اس کے جسم میں ہلچل تیز ہونے لگی اس کا سینہ تیزی سے اوپر نیچے ہو رہا تھا۔۔۔

ہاتھ کو پیٹ سے اوپر لاتا گیا اور اس کے مموں کے قریب لا کر رک گیا۔۔۔

انگوٹھے کو الگ کیا اور انگلیوں کا رخ نیچے کی طرف کرکے انگوٹھے کو مموں کے درمیان دبانے لگا۔۔۔۔

اس کی حالت بدل چکی تھی آہستہ آہستہ وہ گرم ہونے لگی تھی۔۔۔

میں ایک بار پھر اس کے اوپر جھکا اس بار میرا ایک ہاتھ اس کے مموں پر تھا دوسرا ہاتھ اس کے سر کے نیچے تھا ۔۔۔

میں نے اس کے سر کو اوپر اٹھا کر اس کے ہونٹ چوم لیے اوپر ہوا پھر چومے۔۔۔

وہ آنکھیں چند کیے ہوئے تھی اور اس کے ہونٹ وا ہو چکے تھے۔۔۔

میں نے تیسری بار ہونٹ اس کے شربتی لبوں پر رکھے اور چومنے لگا۔۔۔

اب اس کا ہاتھ میرے سر پر آ گیا اس نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کر دیں ۔۔۔

میں نے کچھ لمحے ویسے کی لب چومے اس کے بعد اس کا ایک ہونٹ اپنے ہونٹوں کے درمیان لے کر چوسنے لگا۔۔۔

ساتھ ساتھ مموں کو بھی دبانے لگا وہ گرم ہوچکی تھی اب میں آگے بڑھنا چاہتا تھا ۔۔۔

لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری تھا کہ اسکا پردہ بکارت باقی ہے یا کنوارہ پن گنوا چکی ہے ۔۔۔

میں نے اس کو اٹھ کر بٹھایا اور اپنی طرف گھمایا اس کو کھڑا کر لیا اور خود بھی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔

رات کا سناٹا تھا کمرے میں کیا پورے گھر میں مکمل خامشی کا راج تھا ۔۔۔

ہمارے جسم ایک دوسرے میں سمانے کے لیے تیار تھے میں نے اس کو گلے لگایا وہ بھی گلے لگ گئی۔۔۔

اس کے بازو میرے گرد لپٹ گئے اور میرے ہاتھ اس کی گانڈ کو دبانے لگے۔۔۔

میں نے سر نیچے کیا اس نے منہ اوپر اٹھایا ہونٹوں سے ہونٹ جڑے پھر کسنگ شروع ہوئی ۔۔۔

اس کے کسنگ میں اناڑی پن سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ سیکس کی لذت پہلی بار چکھ رہی ہے ۔۔۔

میں نے اس کا اوپر والا ہونٹ چوسنا شروع کیا وہ میرے نیچے والے ہونٹ کو چوس رہی تھی۔۔۔

میں ہاتھوں سے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو کھینچ کر دبا رہا تھا۔۔۔

میرا لن اکڑ کر اس کی ناف گھس رہا تھا وہ بار بار اوپر ہو کر لن کو پھدی تک رسائی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

میں تھوڑا جھکا اور لن کو اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا اس نے ٹانگوں کو دبا کر لن پھدی سے لگا لیا۔۔۔

کچھ ہی پل گزرے تھے کہ اس نے پھدی کو لن سے رگڑنا شروع کر دیا میں نے لن کو ٹانگوں سے نکال لیا۔۔۔

ہاتھ سے قمیض کو پکڑ کر اوپر کرنے لگا اس نے ہلکی سی مزاحمت کی لیکن میرے کھینچنے سے اس نے چھوڑ دی۔۔۔

قمیض کو اوپر لایا اس کے بازوؤں سے نکال دیا افففف اسکا گورا چٹا صاف چکمتا جسم میرے سامنے تھا۔۔۔

اتنا صاف شفاف جسم جس پر ایک داغ کا بھی نشان نہ تھا۔۔۔

میں خود کو روک نہ پایا اور اس کو صوفے پر لٹا کر اس کا جسم چومنے لگا ۔۔۔

پیٹ پر ہونٹ رکھے اور چومتے ہوئے مموں تک گیا پھر برا کو ہٹا کر اس کے ممے نکال لیے جو ودحت سے کہیں زیادہ پیارے تھے۔۔۔

ایک دم تنے ہوئے سفید دودھ جن پر سرخ رنگ کا ایک چھوٹا سا نپل تھا اور اس گر گرد گلابی رنگ کا دائرہ ۔۔۔

میں نے اپنے ہونٹ ایک ممے پر رکھ دئیے اور چومنے لگا دوسرے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے دبانے لگا۔۔۔

اس نے اپنا سر دائیں بائیں مارنا شروع کر دیا مجھے مموں سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔

ہلکی ہلکی سیی سیی کی آواز نکالتے ہوئے اس نے کہا پلیز نہ کرو مجھے کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔

اس کی بیتابی دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے وہ فارغ ہونے والی ہو میں نے فوراً ہونٹ اس کے مموں سے ہٹا لیے۔۔۔

اپنا ناڑا کھولا اور لن باہر نکال لیا اس کے اوپر آیا اور اس کی شلوار کو ہاتھ سے پکڑ کر نیچے کرتا گیا۔۔۔۔

اس نے کوئی مزاحمت نہ کی بڑی آسانی سے شلوار اتر گئی ۔۔۔

شلوار اتار کر میں نے اس کی پھدی پر ہاتھ رکھا اور مساج کرنے کے انداز میں دبانے لگا۔۔۔

وہ تڑپ رہی تھی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں سانسیں بہت زیادہ تیز ہو چکی تھیں۔۔۔

میں نے ایک انگلی الگ کی اور اس کی پھدی کے سوراخ میں گھسا دی ۔۔۔

اس کا خوبصورت جسم دیکھ کر مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ اس کی پھدی کو دیکھتا مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ اگر میں نے نیچے دیکھ لیا تو میں خود پر کنٹرول کھو دوں گا ۔۔۔۔

میری انگلی اس کی پھدی میں گھس چکی تھی اس کی پھدی پانی سے لبالب بھر چکی تھی۔۔۔

انگلی کو کچھ دیر اندر باہر کرتا رہا اور دائیں بائیں دیکھتا رہا ۔۔۔

مجھے اپنے مطلب کی چیز ایک طرف مل گئی میں نے علینہ کے ہونٹوں پر ایک کس کی ممے دبائے اور کہا ایک منٹ۔۔۔

شلوار کو پکڑ کر لن کو چھپا کر اٹھ کھڑا ہوا اور ایک طرف پڑی لوشن کی بوتل اٹھا لی۔۔۔

واپس اس کے پاس آیا اور لوشن کی بوتل کھول کر ہاتھ پر لوشن ڈالا اور اس کی پھدی پر لگانے لگا۔۔۔

پھدی کو اچھی طرح لوشن سے تر کیا پھر شلوار میں اپنی ٹانگوں کی مدد سے اتار دیا اور اس کی ٹانگیں اٹھا لیں۔۔۔

ٹانگیں اٹھا کر میں نے پھر لوشن کو ہاتھ میں پکڑ کر ہتھیلی پر ڈالا اور لن پر مسل دیا ۔۔۔

لن کی ٹوپی کو خاص طور پر چکنا کیا اور ٹانگوں کو کھول لیا۔۔۔

اس کی پھدی کو دیکھا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی چھوٹی سی گلابی پھدی جس کے لب آپس میں ملے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ان میں میری ایک انگلی بھی نہیں جائے گی۔۔۔

میں تھوڑا پیچھے ہوا اور اس کی پھدی کے گلابی لبوں کو جھک کر چوم لیا۔۔۔

اس کا ہاتھ میرے سر پر آگیا تھا وہ پاگل ہو رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ لن کو پھدی میں لے۔۔۔

میں ٹانگیں کھول کر اس کے اوپر لیٹ گیا اور ہونٹوں کو چومنے لگا ۔۔۔

اس کے ممے میرے سینے کے نیچے دب گئے اس نے میرے قمیض کو پکڑ کر کھینچا۔۔۔

میں نے سیدھا ہو کرقمیض اتار دی اور پھر اس کے اوپر آ گیا۔۔۔

اس نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھے اور مجھے اپنے اوپر دبانے لگی۔۔۔

نیچے سے اس نے پھدی کو ہلا کر لن سے رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔

میں ہونٹ چوسنے لگا وہ بھی بھرپور ساتھ دے رہی تھی لن کبھی پھدی کے لبوں میں رگڑ کھاتا تو کبھی پھدی کے اوپر سے رگڑ کر گزر جاتا۔۔۔۔

میں نے ایک ہاتھ نیچے لے جا کر لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں میں سیٹ کیا ۔۔۔

لن کو سوراخ پر رکھا اور ہونٹ اپنے ہونٹوں میں دبا لیے لن پر دباؤ ڈالا لیکن لن سلپ ہو کر نکل گیا۔۔۔

میں نے پھر کوشش کی پھر نکل گیا وہ تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی وہ جس قدر جلدی لن لینا چاہ رہی تھی اس کی پھدی اسی قدر تنگ تھی۔۔۔

میں پیچھے ہوا لن کو پھدی کے لبوں میں گھسا کر سیٹ کیا اور ہاتھ سے پکڑے اس کے اوپر لیٹا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔

نیچے سے لن کو ہاتھ سے پکڑے پھدی میں گھسانے لگا لن اندر جانے لگا ٹوپی نے پھدی کو فتح کر لیا۔۔۔

وہ ایک دم اکڑ گئی سارا جسم سخت کر لیا اور اس کے ناخن میری کمر پر چبھنے لگے۔۔۔

اس کا سینہ بھی زور زور سے میرے سینے سے ٹکرانے لگا تھا۔۔۔

میں نے دو منٹ انتظار کیا لیکن جب اس کی حالت میں فرق نہ پڑا تو میں نے اپنا ہاتھ اس کے سر کے نیچے سے گزار کر اس کو قابو کیا۔۔۔

پھر لن پر دباؤ بڑھانے لگا میں اس کے بعد تب رکا جب مجھے پھدی میں رکاوٹ کا احساس ہوا۔۔۔

اب اتنا لن اندر ہو چکا تھا کہ ایک جھٹکا اور لگاتا تو اس کی پھدی کے کنوارے پن کا ضامن بند ٹوٹ جاتا۔۔۔

میں نے آہستہ سے لن کو پیچھے کھینچا اور اسی طرح اندر کیا ایک دو بار ایسا کرنے کے بعد میں نے لن کو تھوڑا آگے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اتنے آرام سے آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔۔۔

میں نے لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اندر کیا لن نے اب پھدی میں جگہ بنا لی تھی علینہ بھی اب درد کو برداشت کر رہی تھی۔۔۔

میں نے ایسے کی کرنا شروع کر دیا اور چند گھسوں کے بعد میں نے ایک زور دار گھسا مارا اور پردہ چیر کر لن اندر گھس گیا۔۔۔

علینہ کے منہ سے آہ آہ کی آواز نکلی جس کو میں نے اپنے ہونٹوں سے دبا لیا۔۔۔۔

اب رکنا بیکار تھا اگر مزید رکتا تو اس کو درد زیادہ ہونا تھا میں نے لن کو پیچھے کھینچ کر پھر تھوڑا سپیڈ سے گھسا مارا۔۔۔

لن پہلے سے تھوڑا آگے گیا اس کے بعد ہر بار تھوڑا آگے کرتا رہا پھر ایک مقام ایسا آیا جب علینہ نے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مجھے روکا کیونکہ اس سے آگے لن نے جانے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔

میں نے جتنا اندر تھا اتنے کو کی آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا اور ایک تسلسل کے ساتھ گھسے مارنے لگا ۔۔۔

لن رواں ہوتا جا رہا تھا علینہ بھی آہستہ آہستہ درد سے باہر آ رہی تھی ۔۔۔

میں نے اس کے مموں کو دباتے ہوئے گھسے مارنے جاری رکھے۔۔۔

پانچ منٹ میں پھدی میں رواں ہو چکا تھا اور میری سپیڈ بھی کافی تیز ہو گئی تھی۔۔۔

اب علینہ بھی آہ اہ کرنے لگی تھی لیکن اس کی آواز بڑی دھیمی تھی جیسے وہ خود کو آہ آہ کرنے سے روک رہی ہو۔۔۔

میں نے جب دیکھا کہ اب علینہ درد سے آہ آہ نہیں کر رہی تو میں نے اپنی سپیڈ بڑھانا شروع کر دی۔۔۔

اس نے اپنی ٹانگیں میرے گرد لپیٹ لی تھیں اور میں نے اس کے مموں کو چھوڑ دیا تھا اور اوپر اٹھ چکا تھا۔۔۔

ایسے کی گھسے مارتے ہوئے میں نے ایک زور کا گھسہ مارا اور سارا لن اندر اتار دیا۔۔۔۔

علینہ کی آپ تھوڑی اونچی نکلی جس کو اس نے روکنے کی بھی کوشش کی لیکن نہ روک سکی۔۔۔۔

میں رک گیا اور اس سے کہا آہستہ کوئی اٹھ جائے گا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے وہ درد کو برداشت کرتے کرتے رونے لگی تھی۔۔۔۔

مجھے اس وقت مزہ آ رہا تھا اس کو چھوڑ نہیں سکتا تھا اس لیے میں نے اپنے گھسے جاری رکھے اب قدرے آہستہ لن لو اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ پھر سے نارمل ہو گئئ میری سپیڈ پھر تیز ہو گئی اتنی دیر سے لن پھدی میں تھا ۔۔۔

مجھے اس کی پھدی لن کے لیے تنگ لگنے لگی تھی میں بہت مزے میں آگیا تھا۔۔۔

علینہ بھی جوش میں آگئی تھی نیچے سے پھدی کو ہلانے لگی تھی۔۔۔

میں نے گھسے تیز کر دئیے پھر کچھ زیادہ کی تیز کر دئیے جس کی وجہ سے کبھی کبھی علینہ کی اونچی آواز نکل جاتی ۔۔۔

میں ایسے ہی گھسے مارتا رہا اور رکنےکا نام نہ لیا۔۔۔

آخر میں جب فارغ ہونے لگا تو اپنی ازلی ہٹ دھرمی پر آگیا اور پوری طاقت سے گھسے مارنے لگا۔۔۔

علینہ بھی خود پر کنٹرول کھو چکی تھی وہ بھی اب آہ آہ آہ کرنے لگی تھی۔۔۔

اس کی آہ آہ سے میرا جوش بڑھتا جا رہا تھا جتنا وہ اونچا آہ کرتی اتنا کی تیز گھسا مارتا۔۔۔

میں جیسے جیسے فارغ ہونے کے قریب جا رہا تھا میری سپیڈ بڑھ رہی تھی۔۔۔

آخر میں تو میں طوفانی گھسے مارنے جس سے یقینی طور پر علینہ کی آواز ساتھ والے کمرے میں گئی ہو گی۔۔۔

میرے گھسوں کے سامنے علینہ نہ ٹک پائی اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔

فارغ ہوتے ہوئے اس نے ذور ذور سے آہ آہ اوئی ماں سئییی کیا۔۔۔

اس کے ساتھ ہی میں نے بھی لن باہر نکالا اور اس لے گلابی ہو چکے پیٹ پر منی نکال دی۔۔۔۔۔

ابھی لن منی لے فوارے چھوڑ ہی رہا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا میں اس کے اوپر تھا میرا چہرہ دروازے کی طرف تھا۔۔۔

میری منی جو نکل چکی تھی وہ تو نکل گئی لیکن مجھے ایسا لگا جیسے باقی کی منی لن میں ہی جم گئی۔۔۔۔

دروازے میں کھڑی شخصیت کو دیکھ کر میرا لن وہیں مرجھا گیا میرا چہرہ بھی جھک گیا۔۔۔۔

علینہ کو بھی پتہ چل گیا کہ کوئی آ گیا ہے وہ فوراً میرے نیچے سے نکلی اور اپنے کپڑے پہننے لگی ۔۔۔

میں نے شلوار اٹھائی اور پہننے لگا۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment