میں نے آنٹی کا ہاتھ پکڑا اور ہلکا ہلکا دباتے ہوئے پوچھا کیا ہوا۔۔۔؟؟
آنٹی نے خود کو دھیمی سے آواز سے کہا مجھے سیدھا کرو۔۔۔
میں نے اس کو بڑے پیار سے سیدھا کیا اور اس کے چہرے کو دیکھا ۔۔۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے ساتھ لٹا لیا۔۔۔
میں آنٹی کی طرف دیکھنے لگا اس کی حالت چہرے سے اتنی خراب نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
جتنا میں ڈر گیا تھا اس حساب سے تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔
آنٹی نے مجھے اپنے بازو پر لٹا لیا اور گردن موڑ کر مجھے دیکھنے لگی۔۔۔
پھر اس نے کہا بس تھوڑی سی درد ہوئی تھی کیونکہ میری حالت ویسی ہے اس لیے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔۔
میں نے پوچھا اب کیسی طبیعیت ہے کیا ابھی بھی درد ہو رہا ہے۔۔۔
آنٹی نے جواب دیا ابھی درد تو نہیں ہو رہا لیکن ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی تک تمہارا وہ اندر ہے۔۔۔
آنٹی نے ہاتھ بڑھا کر میرا لن پکڑ لیا اور اس کی مٹھ مارنے لگی۔۔۔
اتنی دیر میں لن تو لوڑے لگ گیا تھا سکڑ کر چھوارا بن چکا تھا ۔۔۔
میں ابھی تک پریشان تھا لیکن آنٹی خود پر قابو پا چکی تھی ۔۔۔
اس نے لن کو سہلاتے ہوئے مجھے دیکھ کر مسکرانا شروع کر دیا۔۔۔
میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پہاڑ جیسے مموں پر رکھ دیا ۔۔۔
میں نے مما پکڑ کر دبانا شروع کر دیا اور کروٹ لے آنٹی کی طرف ہو گیا ۔۔۔
دونوں مموں کو باری باری دبانے لگا اور اپنے ہونٹ آنٹی کے ہونٹوں پر رکھ دئیے ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں لن فل ٹائٹ ہو گیا اور آنٹی کے ہاتھ کی سپیڈ بھی تیز ہو گئی ۔۔۔
وہ بار بار اپنی پھدی پر ہاتھ لگا کر اپنی پھدی کا پانی لن پر لگا رہی تھی اور لن کو گیلا کر کے مٹھ لگا رہی تھی۔۔۔
اگلے ایک دو منٹ میں ہی اس نے مجھے فارغ کر دیا میں جب فارغ ہونے لگا آنٹی کے بالکل ساتھ لگ گیا۔۔۔
آنٹی نے بھی کروٹ بدل لی اور لن کو ٹانگوں میں لے لیا۔۔۔
میں نے ساری منی اس کی ٹانگوں میں نکال دی ۔۔۔
فارغ ہوکر آنٹی کو گلے لگا کر لیٹ گیا ننگے جسم ایک دوسرے سے لپٹے ہوں اور اس وقت لپٹے ہوں جب بندہ فارغ ہوا ہو ایک الگ ہی سکون ملتا ہے۔۔۔
ایسے ہی لیٹے لیٹے نیند کی وادیوں میں اتر گئے۔۔۔
صبح جب آنکھ کھلی تو میرا لن نرم جگہ میں گھسا ہوا تھا۔۔۔
ہم اسی طرح سینہ با سینہ تھے آنٹی کی ایک ٹانگ میرے اوپر تھی ۔۔۔
آنکھیں آنٹی کی بھی بند تھیں میں نے بھی آنکھیں بند کیں اور اس کے چوتڑ پر ہاتھ رکھ کر ہلنا شروع کر دیا۔۔۔
مموں کا گرم گرم لمس میرے سینے کو حرارت دے رہا تھا پھدی کی پکڑ لن پر ٹکور کر رہی تھی۔۔۔
سانسوں کی گرماہٹ میرے چہرے پر مساج کر رہی تھی ۔۔۔
میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا تھا مزے اور سرور کی اس وادی میں ڈوب چکا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ ہلتے ہوئے میں آنٹی کی گانڈ کی پھاڑیوں کو دبانے لگا۔۔۔
آنٹی میری کمر پر ہاتھ پھیر کر میرے ساتھ ہل رہی تھی ۔۔۔
اس پوزیشن میں جتنا لن اندر جا سکتا تھا جا رہا تھا ۔۔۔
آنٹی بھی اس قدر ہی ہل رہی تھی جس قدر ہل سکتی تھی ۔۔۔
میں اپنے ہونٹ بند آنکھوں کے ساتھ آنٹی کے ہونٹوں کے قریب لے گیا ۔۔۔
آنٹی نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر لاک کر لیے اور کھا جانے والے انداز سے چوسنے لگی۔۔۔
آنٹی کے انداز میں بڑا والہانہ پن تھا اس کی ادا میں جنون تھا۔۔۔
اسی جنون میں اس نے نیچے سے پھدی کو لن پر تھوڑا زور سے مارنا شروع کر دیا۔۔۔
گرمی اور نرمی کے احساسات میں ڈوبےیں نے بھی مزے میں آ کر قدرے تیز لن کو پھدی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔۔۔۔
اب صورتحال یہ تھی کہ ہم دونوں دنیا و مافیا سے بے خبر ایک دوسرے کے اعضائے تناسل میں ڈوبے تھے ۔۔۔
میرا لمبا موٹا لن اس کی گہری چکنی گلابی ہونٹوں والی موٹے لبوں والی پھدی کے دہانے کو پار کرکے اندر کے سارے مساموں کو رگڑ رہا تھا۔۔۔۔
میں لن کو پورے زور سے اندر گھسا نہیں پا رہا تھا لن آنٹی اپنی مزے میں ڈوبی اپنا آدھا جسم میرے اوپر لا کر گانڈ کو اٹھا اٹھا کر لن پر ما رہی تھی۔۔۔۔
جب وہ ایسا کرتی تو میرے ہاتھ پر اس کی گانڈ کے ارتعاش کا احساس مجھے مزے کی وادیوں میں پہنچا رہا تھا۔۔۔
میں اب لیٹا بس اس کی گانڈ کو دبا رہا تھا اور ہونٹوں سے رس کشید کر رہا تھا۔۔۔
آنٹی کی ہلنے کی سپیڈ تیز ہوتی گئی اور ساتھ ساتھ اس کا ہونٹ چوسنے کے انداز میں بھی جوش بڑھتا گیا۔۔۔۔
یکدم وہ لن کو پھدی میں لیے ہوئے ہی میرے اوپر آ گئی اور میرے دونوں طرف ٹانگیں رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔
اس نے اپنے ہاتھ بیڈ پر میرے بازوؤں کے دائیں بائیں رکھے اور تیز تیز پھدی کو لن پر مارنے لگی۔۔۔
وہ اس تیزی تیزی سے ہل رہی تھی جیسے کوئی مشین لگی ہوئی ہو۔۔۔
جب وہ ہلتی تھی تو اس کے ممے بھی اسی سپیڈ سے اتھل پتھل ہو رہے تھی۔۔۔
وہ میرے اوپر جھکی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن پھدی میں لے رہی تھی ۔۔۔
اس کے بال کھل کر پھیل چکے تھے وہ اسی طرح لن پر اچھلتے ہوئے سیدھی ہوئی اور بالوں کی چوٹی باندھنے لگی۔۔۔
اس کے ممے افففف مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ہاتھ بڑھا کر دونوں مموں کو پکڑ لیا۔۔۔
میں صرف پکڑ کی سکا کیوں کہ جس سپیڈ سے وہ لن پر اچھل رہی تھی مموں کو پکڑ لینا ہی کافی تھا۔۔۔
نرم نرم ممے میرے ہاتھوں میں تھے اس نے بال باندھ کر میرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور دباتے ہوئے پھدی سے کو لن سے چدوانے لگی۔۔۔۔
لن گھڑاپ کی آواز سے پھدی میں غائب ہو جاتا۔۔۔
اس کی پھدی سے پانی بہہ کر میرے ٹٹوں تک کو بھگو چکا تھا پتہ نہیں کتنی پیاسی تھی اس کی پھدی ۔۔۔
اس کی سپیڈ اب بہت تیز ہو چکی تھی اور میں بھی نیچے سے گانڈ اٹھا کر گھسے مارنے لگا تھا۔۔۔
وہ پھدی کو لن پر مارتی نیچے سے میں اوپر کو لن گھساتا ماحول بڑا شہوت انگیز ہو چکا تھا۔۔۔
کمرے میں بس دو جسموں کے نازک اعضاء کے آپس میں ٹکرانے ایک دوسرے میں گھسنے کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔۔
ہمیں اردگرد کا کوئی ہوش نہیں تھا بس چدائی میں ڈوبے تھے ۔۔۔
میں لن کے ہاتھوں مجبور تھا تو آنٹی بھی اپنی پھدی کے ہاتھوں مجبور تھی۔۔۔
اس کی پھدی کو تگڑا لن چاہئیے تھا تو میرے لن کو صرف پھدی چاہئیے تھی پھدی ہو جیسی مرضی ہو گوری ہو کالی ہو لال ہو گلابی ہو چھوٹی ہو بڑی کو کھلی ہو یا تنگ ہو۔۔۔
کوئی فرق نہیں پڑتا تھا مجھے اب محسوس ہونے لگ گیا تھا میں پھدی پرست بنتا جا رہا ہوں ۔۔۔
موقع محل دیکھے بنا پھدی کی تاڑ میں لگ جاتا تھا۔۔۔
مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرا سارا خون ایک جگہ اکٹھا ہو رہا ہے ۔۔
سارے جسم میں کیڑیاں دوڑنے لگیں جسم میں آگ جلنے لگی۔۔۔
پورے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے لن بھی جیسے پہلے سے موٹا ہو گیا۔۔۔
مجھے پھدی تنگ محسوس ہونے لگی میں نے آنٹی کو گھما کر اپنے نیچے کیا ۔۔۔
اس کی ٹانگیں اٹھا لیں لن پھدی میں رکھا اور گھسا دیا پھر اندھا دھند پھدی وجانے لگا۔۔۔۔
میری سانسیں اکھڑ چکی تھی جسم میں گرمی بھر گئی تھی۔۔۔
آنٹی بھی اففففف آہ آہ آہ ہائےےےے ہائیییی اوئیییی سییییییی ۔۔۔۔کر رہی تھی۔۔۔
میرے پورے جسم میں جیسے کسی نے گرم تیل بھر دیا ہو ۔۔۔
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میں آگ میں جھلس رہا ہوں۔۔۔
تن بدن میں آگ لگ چکی تھی لن بھی آگ بنا ہوا تھا ۔۔۔
پھدی کی دیواریں مجھے مزہ دے رہی تھیں لن پھنس پھنس کر جا رہا تھا۔۔۔
آنٹی نے بازو اٹھا کر مجھے اپنے اوپر آنے کا کہا میں اس کے مموں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔
نیچے سے لن کا ایکشن جاری رکھا میرے منہ سے بے ربط آوازیں نکلنے لگیں۔۔۔
آنٹی نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر میرا منہ بند کر دیا ۔۔۔
ہم دونوں کی ایک دوسرے کی گرمی میں جھلس رہے تھے ۔۔۔۔
پھر آنٹی کی پھدی تنگ سے تنگ ہوتی گئی لن اندر جاتے ہوئے پھنسنے لگا ۔۔۔
ایک دو گھسوں میں ہی لن کو پھدی نے اپنے رنگ میں جکڑ لیا۔۔۔
اس کے بعد آنٹی کے جسم نے ایک جھرجھری سی لی اور پھدی نے لن کو نہلانا شروع کر دیا۔۔۔
پھدی کے آنسو دیکھ کر لن سے بھی نہ رہا گیا لن نے بھی پھدی کو اپنے گرم لاوے سے بھرنا شروع کر دیا۔۔۔
تیز تیز سانسیں لیتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی گرمی سے ٹھنڈا کرتے رہے۔۔۔
ہمارے جسم پسینے سے بھیگ چکے تھے پانچ منٹ تک ہم اسی پوزیشن میں لیٹے رہے ۔۔۔
صبح صبح ناشتے میں اگر اگر پھدی مل جائے تو سارا دن ہشاش بشاش گزرتا ہے۔۔۔
کافی دیر بعد ہم ایک دوسرے سے الگ ہوئے میں اوپر سے اتر کر آنٹی کے ساتھ کی بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
آنٹی نے ہاتھ لمبا کر میرے ماتھے سے بال ہٹائے اور کروٹ بدل کر میرے سینے پر انگلیاں پھیرنے لگی۔۔۔
میں نے گردن گھما کر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں میرے لیے پیار ہی پیار تھا۔۔۔
وہ آگے کھسکی اور مجھے سائیڈ سے کس کر گلے لگا لیا اور میرے گال پر ایک پاری کی۔۔۔۔
اسی وقت باہر سے آواز آئی بی بی جی ناشتہ بنا دیا ہے ابھی لگا دوں یا بعد میں کریں گی۔۔۔
ہم ایک دم اچھل پڑے دروازے کی طرف دیکھا تو دروازہ کھلا تھا۔۔۔
ہم نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا آنٹی جلدی سے اٹھ کر کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھس گئی۔۔۔
اور جاتے ہوئے بولی تم کچن کی صفائی کرو میں خود ناشتہ لگا لوں گی۔۔۔
دوسری طرف سے جی اچھا کہا گیا میں ویسے ہی ننگا لیٹا تھا۔۔۔
میں اٹھا اور بیڈ سے نیچے اترا لن جو کہ اب نیم بی ہوشی کی حالت میں ٹانگوں کے درمیان جھول رہا تھا۔۔۔
میں نے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر ہلایا اور دروازے کی طرف گیا ۔۔۔
میں نے کھلے دروازے سے باہر دیکھا تو دروازے کے پاس کی ایک لڑکی کھڑی تھی۔۔۔
جس کو نہ تو لڑکی کہا جا سکتا تھا اور نہ عورت کیونکہ وہ تیس سے اوپر تھی اس نے میری ٹانگوں میں دیکھا اور منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی ہاااااااا ۔۔۔ ایییڈا وڈااااا۔۔۔
میں مسکرایا اور دروازہ بند کرتے ہوئے بولا اے ستا ہویا اے جدوں کھڑا ہندا اے کڈا ہووے گا ذرہ سوچ کے ویکھ۔۔۔
دروازہ بند کرکے میں کپڑے پہنے اور باہر والے واش روم میں جا کر نہانے لگا۔۔۔
میں جب باہر نکلا تو وہ لڑکی ٹی وی لاونج کی صفائی کر رہی تھی ۔۔۔
اس نے میری طرف دیکھا لیکن اس کے چہرے میں مایوسی تھی جیسے وہ کچھ اور کی امید کر رہی ہو اور سامنے کچھ اور آ گیا ہو۔۔۔
خیر میں نہایا اور نہا کر جب کمرے میں آیا تو وہ لڑکی کمرے کی صفائی کر رہی تھی میرے کپڑے استری کیے ہوئے پڑے تھے۔۔۔
اس نے مجھے کپڑے دئیے میں نے وہیں کھڑے ہو کر قمیض اتاری پھر بنیان اتاری ۔۔۔
وہ لڑکی بڑے تجسس سے میری طرف دیکھ رہی تھی دونوں اتارنے کے بعد میں کپڑے اٹھائے اور ہسنتے ہوئے واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔
کپڑے بندل کر میں نے ناشتہ کیا اور پھر آنٹی کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔۔۔
کافی دیر گپ شپ کے بعد جب وہ کام والی چلی گئی تو آنٹی نے کہا اب میں بھی کام پر چلتی ہوں۔۔۔
میں بڑا حیران ہوا کام پر ۔۔۔
میں نے پوچھا کونسا کام کیسا کام اور کہاں کام کرتی ہیں۔۔۔
اس نے کہا تم نہیں سمجھو گے یہ سب باتیں۔۔۔
مجھے گھر کی چابی دی اور دوائی کا طریقہ بھی سمجھا دیا ۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے وہ تیار ہو کر مجھے گلے ملی اور ایک بھرپور کس کرنے کے بعد وہ باہر نکل گئی ۔۔۔
میں نے دروازہ بند کیا اور اپنے کپڑے وغیرہ ڈھونڈ کر بیگ میں ڈالے جو کچھ ہاتھ میں لگا جو میرے کام کا ہو سکتا تھا وہ ڈال لیا۔۔۔
میرے اندر جو چیز سب سے زیادہ تھی وہ یہی تھی کہ میں کسی کے ماتحت یا کسی کے قبضے میں نہیں رہ سکتا تھا۔۔۔
مجھے میری انا کسی کا حکم نہیں ماننے دیتی تھی گھر میں بھی میرا یہ مسئلہ ہی ہوتا تھا کوئی مجھے کام نہیں کہتا تھا۔۔۔
اگر کہتے تھے تو ابا جی اور امی جی باقی میں کسی کا کام نہیں کرتا تھا۔۔۔
یہاں تک کہ چاقی رشتہ داروں میں سے بھی اگر کوئی کام کہتا تو صاف انکار کر دیتا تھا۔۔۔
اگر کوئی یہ کہتا کہ میرا ایک کام کرو گے تو میں کام کی نوعیت جانے بغیر ہی صاف جواب دے دیتا کہ نہیں کروں گا۔۔۔
سب لوگ مجھ سے اس بات پر نالاں ہی رہتے تھے۔۔۔
میں نے اپنی طرف ہر کام کی چیز ڈھونڈ کر بیگ میں ڈال لی جن میں پستول بھی تھا ۔۔۔
میرے ہاتھ وہاں سے ایک اور پستول بھی لگ گیا میں نے وہ بھی ڈال لیا اور پیسے بھی جو تھے سب ایک الگ بیگ میں ڈالے اور دو بڑے بڑے بیگ بھر کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔
گھر سے نکلتے ہی میں نے شاہد کو فون کیا اور اس کو اپنی لوکیشن سمجھائی ۔۔۔
جیسے ہی میں ٹاؤن کے گیٹ کے قریب پہنچا شاہد وہاں پہنچ چکا تھا اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔۔۔
اب ہماری منزل میرا گاوں تھا شاہد کو میں نے کہا کہ مجھے گاؤں چھوڑ آؤ۔۔۔
شاہد کو میں نے وہ پیسے دئیے جو ایجنٹ کو دینے کے لیے عابد نے دئیے تھے۔۔۔
شاہد کو سمجھا دیا کہ کیسے اس تک پہنچانے ہیں مجھے عابد کا فون آگیا تھا۔۔۔
شاہد مجھے میرے گاؤں سے باہر ہی اتار کر واپس آگیا تھا۔۔۔
میں پیدل چلتا ہوں کچی سڑک پر گاؤں کی پرسکون فضا میں لمبے لمبے سانس لینے لگا۔۔۔
ایسا پر سکون ماحول ہر طرف سکون ہی سکون پھیلا تھا ۔۔۔
میں نے گاؤں سے باہر سے ہی ایک پگڈنڈی پکڑ لی اور گاؤں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔
گاؤں سے کوئی پچیس تیس ایکڑ دور ایک چھوٹا سا ٹیلہ تھا جس کے آس پاس صرف کھیت ہی تھی ۔۔۔
اس جگہ ایک خاندان آباد تھا لیکن وہ لوگ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے سب کچھ بیچ کر چلے گئے تھے۔۔۔
اب وہ ٹیلہ اور اس کے آس پاس کی زمین ہماری ملکیت تھی میرا رخ اس طرف تھا ۔۔۔
میں فصلوں میں چلتا ہوا وہاں پہنچا اور ٹیلے پر نظریں دوڑانے لگا۔۔۔
مجھے ایک قدرے سخت سی لکڑی ملی میں نے وہ لکڑی اٹھائی اور تین مختلف جگہوں پر گڑھے چھوٹے چھوٹے گڑھے کھود لیے۔۔۔
پستول جو کہ میں نے وہاں سے اٹھاتے ہوئے کی ایک شاپر میں لپیٹ لیے تھے ۔۔۔
ایک پستول اور اسی شاپر میں کچھ پیسے ڈال کر ایک کھڈے میں دبا دئیے۔۔۔
ٹیلے کے ایک طرف ایک کھڈا کھودا تھا دوسری طرف ایک کھڈا اور ان کھڈوں کے لیے بھی میں نشانیاں لگائی تھیں۔۔۔
پیسے کافی زیادہ تھے میرے اندازے کے مطابق کوئی بیس لاکھ روپے ہوں گے میرے لیے تو حد سے زیادہ رقم تھی۔۔۔
باقی میں سے بھی پیسے نکال کر ایک شاپر میں ڈالے اور اس کو بھی ایک کھڈے میں چھپا دیا۔۔۔
اسی طرح تین جگہوں پر پیسوں کو چھپانے کے بعد میں نے باقی بچے پیسے اور ایک پستول اپنے پاس رکھ لیا ۔۔۔
ایک بیگ کو میں نے تالا لگایا ہوا تھا اس میں وہ دونوں چیزیں ڈال لیں۔۔۔
میں ایک بار واپس گاؤں کو جانے والی کچی سڑک پر آ گیا لیکن پگڈنڈی سے سڑک پر آتے ہوئے مجھے ایک عورت نے دیکھ لیا تھا۔۔۔
اس نے مجھے پوچھا وے تو بلو ایں ناں۔۔۔
میں نے کہا ہاں ماسی بلو ای آں ۔۔۔
اس نے پھر پوچھا ایتھے کی کردا فرنا ایں۔۔۔
میں نے کہا ماسی شہروں آیا آں بس پیشاب تیز آیا برداشت نہ ہویا بس اوہ ای کرن گیا سی۔۔۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کوئی حال نیں تیرا بے شرما اور میرے سر پر پیار دے کر آگے بڑھ گئی۔۔۔
میں چلتا ہوا گھر آگیا امی کو ملا امی مجھے دیکھ کر بڑی خوش ہوئیں۔۔۔
میں نے اپنا بیگ اور سامان اندر کمرے میں رکھا جو سٹور کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔۔۔
ایک بڑا کمرہ تھا جس میں سب سوتے تھے اور سامنے مخالف سمت پر ایک کچی اینٹوں کا بنا ہوا برآمدہ اس کے دونوں طرف دو کمرے میں تھے۔۔۔
ایک چھوٹا کمرہ جو سردیوں میں کچن کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور دوسری طرف ایک بڑا کمرہ تھا وہ بھی کچی اینٹوں سے بنا تھا اس میں بھی ہم لوگ سو جایا کرتے تھے۔۔۔۔
میں ابھی کمرے میں بیٹھ ہی رہا تھا کہ تائی امی آگئیں انہوں نے آتے ہی میرا ماتھا چوم کر مجھے پیار کیا ۔۔۔
پھر مجھے سمجھانے لگ گئئ ساتھ ہی صدقے واری جانے لگیں۔۔۔
کہنے لگی ویکھ پتر تو آ تاں گیا ایں پر ایتھوں دے حالات ٹھیک نہیں نیں تو اپنا خیال رکھیں۔۔۔
ایویں ای منہ چک کے نہ ٹریا پھریں سارا رنگ کالا ہو جانا اے۔۔۔
ایک بار پھر میرا ماتھا چوم لیا۔۔۔
امی نے پانی پلایا دوپہر ہو چکی تھی سب لوگ ٹاہلی کے نیچے اکٹھے تھے میں سب کو ملا ۔۔۔
سب نے مجھے دعائیں دیں جو میرے ہم عمر تھے ان سے ہاتھ ملایا جو بڑے تھے ان سے پیار لیا۔۔۔
میں وہیں کھڑا تھا کہ ججی آگیا اس نے مجھے گلے لگایا اور ہم ایک چارپائی پر بیٹھ گئے۔۔۔
تائی میرے لیے لسی لے آئی امی بھی لا رہی تھی جس کو تائی نے آواز دے کر روک دیا۔۔۔
میں نے اور ججی نے لسی پی یہاں زیادہ تر گھر کی عورتیں ہی آرام کر رہی تھیں اور ایک دوسرے سے گلے شکوے بھی کر رہی تھیں سارے گاؤں کی عورتوں کی برائیاں بھی ہو رہی تھیں۔۔۔
ہم اٹھ کر باہر بیٹھک میں چلے گئے وہاں سب کزن جمع تھے تاش کھیل رہے تھے مجھے بھی شامل کر لیا میں بھی ان کے ساتھ تاش کھیلتا رہا۔۔۔
عصر سے کچھ پہلے ایک لڑکا آیا اس نے ججی کو کہا بھائی آج ہمارے گاؤں کا میچ ہے ساتھ والے گاؤں سے سب لڑکے انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
ججی نے میری طرف دیکھا اور اس کو جاو ہم آرہے ہیں اور نورے کو کہنا بلو بھی آیا ہوا ہے وہ بھی آ رہا ہے۔۔۔
میں گھر گیا ٹراوزر شرٹ پہنا جوگرز پہنے اور سائیکل نکال لیا۔۔۔
اس وقت ہمارے گھر میں سائیکل ہوا کرتا یہ وہی سائیکل تھا جس پر ابا جی سٹاپ تک جایا کرتے تھے وہاں سے بس پر سوار ہو کر شہر چلے جاتے تھے۔۔۔
ہم کرکٹ کھیلنے چلے گئے ساتھ والے گاؤں کی ٹیم ہماری ٹیم سے اچھی ٹیم تھی یہ ہمارے ٹیم کے سارے لڑکے مجھے پورا رستہ سمجھاتے گئے اور ڈراتے گیے تھے۔۔۔
لیکن ڈنگی جانتا تھا کہ جب میں آیا ہوں تو ڈنگی کے ساتھ میری جوڑی کسی کو بھی آسانی سے جیتنے نہیں دیتی تھی۔۔۔
ڈنگی لیفٹی تھا اور میں رائٹ ہنیڈر تھا دونوں ایک دوسرے کے جتنے مخالف تھے اتنی ہی ہماری آپس میں جوڑی مشہور تھی۔۔۔
ہم ایک دوسرے کی نفسیات کو سمجھتے تھے جب ایک ساتھ بیٹنگ کرتے تو مخالف بالر ماں بہن ایک کر دیتے تھے۔۔۔
ڈنگی ان لڑکوں کی باتیں سن کر ہنس رہا تھا اور میں بھی کوئی جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔
ججی نے کہا یار ڈر کیوں رہے ہو آج دیکھ لینا ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے ڈنگی اور بلو کو ہی اگر وہ آوٹ کر لیں تو پھر کہنا وہ جتنے بھی مضبوط پلئیر ہوں سب کو لوڑا وکھا دیں گے۔۔۔
پھر وہی ہوا میچ شروع ہوا ہم ٹاس جیتے میں اور ڈنگی کھیلنے گئے ایک دوسرے سے ہاتھ تک نہ ملایا۔۔۔
جب ہم بیٹنگ کے لیے جاتے تھے تو اننگز کا آغاز میں کرتا تھا اس لیے میں ہی بیٹنگ اینڈ پر گیا۔۔۔
بالر کی پہلی بار مجھے سمجھ نہ آئی لیفٹ ہینڈر فاسٹ سوئننگ کر رہا تھا۔۔۔
ڈنگی نے میری طرف دیکھا میں نے اگلی بال پر سنگل رن لیا۔۔۔
اس کے بعد ڈنگی نے اس کو پہلے ہی اوور میں چار چھکے جڑ دئیے۔۔۔
اگلا باؤلر آیا اس کو میں دو چھکے مارے تیسرا سنگل کیا لیکن ڈنگی نے اس کو بھی تین جڑ دئیے۔۔۔
اس طرح ہم نے چھ اوور میں 127 رنز بنا لیے تھے چھ اوور کا میچ تھا۔۔۔
مخالف ٹیم کو ہم نے پچاس پر ڈھیر کر دیا تھا ہم نے ان سے تین میچ کھیلے اور تینوں میں ہم ہی جیتے۔۔۔
وہاں سے واپس آئے دوکان پر کھڑے ہو کر مستیاں کرنے لگے سب میری اور ڈنگی کی جوڑی کی تعریف کر رہے تھے۔۔۔
فجا ٹیوب ویل سے واپس آرہا تھا اس نے آتے ہی کہا خیر اے زور کیوں پایا ہویا اے۔۔۔
ایک لڑکے نے بھا فجے بلو اور ڈنگی کی جوڑی نے آج ہمیں تین میچ جتوا دئیے ہیں اس خوشی میں ۔۔۔
فجے نے کہا اچھا جی اے کدوں دی جوڑی بنی اے لگدا اے موریاں وی بدل لیا نیں۔۔۔
ڈنگی کو بڑا غصہ آیا میں بھی ہنس پڑا اور کہا لوڑیا تو کر وقت لن موری دے پچھے اج پیا رہیا کر نکی جئی للی اے تیری کسی دن اے غائب ای کو جانی اے کسے دی موٹی بنڈ وچ ۔۔۔ہاہاہا
میری بات سن کر فجے نے بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا اور باقی لڑکے بھی زور زور سے ہنسنے لگے۔۔۔
لیکن ڈنگی آگ بگولا ہو گیا اور پھوں پھوں کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
فجے نے کہا اچھا یار میں گھر چلتا ہوں ایک لڑکا بولا گھر ای چلیا ایں یا ڈنگی دی موٹی بنڈ پچھے ۔۔۔
سب ہنس پڑے فجا بھی ہنسا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا ایسے ہی ہم سب ہنسی مذاق کرتے رہے ۔۔۔
میں اور ججی جب وہاں سے گھر جا رہے تھے تو مجھے ہنی کا فون آیا اس نے بتایا کہ بھائی بتا رہے تھے کہ دارے خاں نے ہائیکورٹ میں درخواست دی تھی جو منظور ہو گئی ہے ۔۔۔
اب کیس دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور اس کے سارے ثبوت وہاں پیش ہونے ہیں۔۔۔
میں نے اس سے ادھر ادھر کی باتیں اور پوچھا کہ کہاں ہو اس نے کہا کہ ابھی بڑے خان صاحب کے پاس ہی ہیں ہم لوگ ۔۔۔
آنے کا ہی سوچ رہے تھے کہ بھائی نے فون کرکے منع کر دیا ہے ۔۔۔
میں نے اس سے اس کے بھائی کا نمبر لیا اور اس سے ساری تفصلی بات کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اس معاملے میں بڑا ایکٹو تھا۔۔۔
شام کا کھانا کھانے کے بعد میں اور فجا ایسے ہی کچی سڑک پر چلنے پھرنے کے لیے نکل پڑے ۔۔۔
میں وہاں چلتے ہوئے ہنی کے بھائی سے فون پر رابطہ کیا اس سے پتہ چلا کہ کیس ہائیکورٹ میں اس لیے چلا ہے کہ دارے خان نے ثبوتوں کے سارھ چھیڑخانی کی ہے۔۔۔
اس نے سارے ثبوت نہ صحیح لیکن کافی ثبوت مٹا دئیے ہیں۔۔۔
جہاں تک مجھے پتہ چلا ہے اس نے وہ آفیسر مروا دیا ہے جس کے پاس ثبوتوں والی فائل تھی۔۔۔
میں اس کی بات سنتا رہا اور نیا پلان بناتا رہا میرے دماغ میں ایک نیا آئیڈیا آیا میں نے اس پر عمل کرنے فیصلہ کر لیا۔۔۔
میں سامنے آئے بغیر سب کرنا چاہتا تھا جس کے لیے مجھے سب مہروں کو اچھے سے استعمال کرنا تھا۔۔۔
میں نے ہنی کے بھائی سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے اس نے مجھے بتایا وہ ابھی تو لاہور ہے آج عدالت میں پیش ہوئے تھے۔۔۔
اگلی پیشی تک جج نے سارے ثبوت مانگے ہیں جو کہ موجود نہیں ہیں اور اگلی پیشی سات دن بعد ہے۔۔۔
میں نے اس سے کہا یار ایک بات بتاؤ اگر ثبوت نہ ملے تو کیا ہوگا۔۔۔
اس نے کہا صاف بات کے دارے خان باہر آ جائے گا ۔۔۔
میں نے پوچھا اس کے بعد سب سے زیادہ کس کا نقصان ہوگا۔۔۔
اس نے کہا نقصان تو کئی لوگوں کا ہوگا لیکن سب سے زیادہ میرا نقصان ہوگا۔۔۔
میں نے پوچھا واپس کب آ رہے ہو جب یہاں آو تو مجھے ملنا میرے پاس ایک پلان ہے ۔۔۔
اس نے کہا اگر پلان میرے لیے فائدہ مند ہے تو میں ابھی نکل رہا ہوں صبح ہم مل لیں گے کیوں کہ اب وقت بہت کم ہے۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے آ جاؤ میں بھی پتہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ واقعی ثبوت موجود ہیں یا نہیں۔۔۔۔
میں نے ناصر کو فون کیا اور اس سے ساری بات کی اور پتہ کرنے کا کہا کہ کیا یہ سچ ہے کہ ثبوت بدل دئیے گئے ہیں۔۔۔
اس نے مجھے بتایا کہ ثبوت بدلے نہیں گئے خرید لیے گئے ہیں دارے خاں کا سارا دھندا ایک بند سنبھال رہا ہے اس کے بعد ۔۔۔
میں نے پوچھا کیا مطلب کون ہے اس نے مجھے بتایا کہ اس کے پیچھے شاہ زیب کا ہاتھ ہے اس نے کیس کو ری اوپن بھی کروایا ہے لیکن وہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔۔۔
اس نے ڈائریکٹ اوپر رابطے کر لیے ہیں اس وقت وہ خود ڈیل کر رہا ہے اس نے بڑے ڈیلروں کو یہ یقین دلایا ہے کہ دوارے خاں جیسے ہارے ہوئے گھوڑے پر پیسے لگانے سے بہتر ہے کہ تازہ دم دم گھوڑا میدان میں اتار جائے۔۔۔
سب سے سارا دھندا وہ خود کرنے والا ہے جلد ہی اس تک مال پہنچ جائے گا اور جو لوگ تمہارا پیچھا کر رہے تھے وہ بھی اس نے منگوائے تھے۔۔۔
جن سے اس کی ڈیل ہوئی ہے وہ کراچی کے ڈیلر ہیں کراچی سے وہ لوگ آئے تھے ان کو علاقے کا نہیں پتہ تھا ۔۔۔
تمہارے ان سے بچ نکلنے کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ وہ لوگ گلیوں کے بارے میں نہیں جانتے تھے ۔۔۔
ناصر نے مجھے کافی زیادہ معلومات دی تھیں کیونکہ اس نے جو بندے لگا رکھے تھے ان میں ایک ایسا تھا جو شاہ زیب کا دایاں بازو بن چکا تھا ۔۔۔
اس نے ہی دارے خان کے مال لاکر شاہ زیب کو دیا تھا جس سے شاہ زیب کو اس پر یقین آیا۔۔۔
وہ لڑکا ناصر کا تھا یہ سب ناصر کی کروا رہا تھا کیونکہ ناصر نے ہی اس کو میرے بتائی کوئی جگہ اور خفیہ رستے میں دارے خاں کی حویلی میں داخل کروایا تھا جس سے ان کے ہاتھ کافی مال لگا تھا۔۔۔۔
اب دو گروپ تھے ایک ایسا تھا جو مارکیٹ میں تھا اور سارے ثبوت اس کے ہاتھ میں تھے۔۔۔
وہ شاہ زیب تھا شاہ زیب جو گیم کھیل رہا تھا وہ اس لیے تھی کہ دارے خان کے بندے اس کے ساتھ تھے وہ ساتھ رہیں ان کو یقین دلا رہا تھا کہ وہ دارے خان کو رہا کروائے گا۔۔۔
دوسری طرف وہ خود ڈیل کر رہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ دارے خاں باہر آئے یہ بات صرف چند لوگ ہی جانتے تھے۔۔۔
وہ ثبوت حاصل کرکے دارے خاں تک یہ پیغام پہنچا چکا تھا کہ اب اس کو رہا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔
دوسری طرف وہ یہ ثبوت خود کسی طرح عدالت پہنچانا چاہتا تھا جس کے لیے یقیناً وہ ہنی کے بھائی سے رابطہ کرے گا ۔۔۔
ناصر سے فون پر بات کرنے بعد میں تو سب کچھ سمجھ چکا تھا اب یہ بات ہنی کے بھائی کو سمجھانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
جو میں نے سوچا تھا وہ اس سب سے ہٹ کر تھی شاہ زیب کے سامنے آنے کے بعد تو میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اب وہ ہی ہو کر رہے گا جو میں نے سوچا ہے۔۔۔
میں نے فجے کی طرف دیکھا تو وہ مجھے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
اس کو لے کر اس ٹیلے پر چلا گیا وہاں اس کو ایک نئی کہانی سنائی۔۔۔۔۔
فجا چپ تھا اس کو حیرت ہو رہی تھی کہ میں یہ سب کیا کرتا پھر رہا ہوں۔۔۔
اس کو میری باتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں یہ سب کر سکتا ہوں۔۔۔
اس کو میری کہانی پر یقین نہیں آ رہا تھا کیونکہ وہ میری ساری باتیں سن چکا تھا ۔۔۔
اتنی لمبی بات چیت ہوئی پہلے ہنی کے بھائی سے اس کے بعد ناصر سے اتنی دیر تک بات ہوئی۔۔۔
وہ میری سنائی ہوئی کہانی پر کیسے یقین کر سکتا تھا ۔۔۔
میں نے اس کو ساری بات سنا دی الف سے لے کر ے تک ۔۔۔
میری بات سن کر اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔
پھر میں نے اس کو بڑی مشکل سے سمجھایا کہ یہ سب کس لیے ہوا ہے۔۔
اس نے کہا اسی لیے ہمارے گاؤں میں اب کچھ لوگوں کو مال نہیں مل رہا۔۔۔
ساتھ والے گاؤں کے جو لوگ یہ دھندا کرتے تھے وہ بھی کچھ دنوں سے مال نہیں دے رہے۔۔۔
میرے کان کھڑے ہو گئے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ میں شہر اور اس کے گرد و نواح کی بھل صفائی میں لگا تھا اور یہاں میرے اپنے گاؤں میں لوگ مال بیچ رہے ہیں۔۔۔
میں نے باتوں باتوں میں فجے سے کافی کچھ اگلوا لیا کافی معلومات مجھے یہاں کے لوگوں کے بارے میں مل گئیں۔۔۔
لیکن یہ سب بعد کے لیے چھوڑ دیا پھر فجے سے میں نے کہا دفعہ کر یار یہاں جو کر رہے ہیں ان سے ہمیں کیا۔۔۔
تو مجھے کوئی ایسا بندہ ڈھونڈ کر دے جو پیسے لے کر کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جائے۔۔۔
فجے نے پوچھا مثلآ کیسا کام کرنا ہوگا ۔۔۔
میں نے کہا یار کام تھوڑا ٹیڑھا ہے جس میں کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔۔۔
یہ کام وہ ہی کر سکتا ہے جو غلط کاموں میں پڑا ہو یا جس کو کسی بات کا کوئی ڈر خوف نہ ہو۔۔۔
فجے کے لیے ایک اور دھماکہ تھا اس نے کہا سالیا تو میری بنڈ دا پانی کڈن لگیا ہویا ایں چل نکل۔۔۔
میں نے اس کا بازو پکڑا اور اس کو بٹھا لیا اور اپنے نیفے سے پستول نکال کر اس کو دکھایا ۔۔۔
فجا ہکا بکا رہ گیا اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے پاس پستول بھی ہوگا۔۔۔
فجے نے کچھ دیر سوچا پھر مجھے کہا ٹھیک ہے میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔
ہم وہاں سے واپس گھر آ گئے کوئی خاص بات نہ ہوئی۔۔۔
ہم دونوں فجے کی بیٹھک میں سونے کے لیے لیٹ گئے۔۔۔
مجھے یکدم کھاری کا خیال آیا میں نے اس کو فون کیا ۔۔۔
فجا جاگ رہا تھا اس کا سارا دھیان میری طرف ہی تھا۔۔۔
کھاری سے میں نے ایسے ہی بات چیت کی اس کو بتایا کہ میں بھی گاؤں آیا ہوا ہوں۔۔۔
اب جب تک کالج نہیں لگ جاتے میں یہاں ہی رہوں گا ۔۔۔
اس سے بات کرنے کے بعد میں نے سونے کی کوشش کی لیکن فجے نے مجھے سونے نہ دیا ۔۔۔
اس نے مجھ سے ایک بار سے ساری باتیں تفصیل سے پوچھیں۔۔۔
جب اس کی تسلی ہو گئی تو اس نے میری جان چھوڑی ۔۔۔
رات دیر سے سونے کے باوجود بھی صبح جلدی آنکھ کھل گئی۔۔۔
میں اٹھ کر اپنی عادت کے مطابق سیر کے لیے نکل گیا کچی سڑک پر دور تک دوڑ لگائی۔۔۔
گاؤں کی صبح صاف شفاف فضا گرد و غبار سے پاک ماحول ۔۔۔
نہ کوئی شور نہ دھواں فصلوں کی وجہ سے ٹھنڈی ٹھنڈی تازہ ہوا لگ رہی تھی۔۔۔
خوب جاگنگ کرکے میں واپس گھر آیا اور نہا کر ناشتہ کیا۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد میں نے ناصر سے رابطہ کیا اور اس کو ملنے کے لیے بلایا۔۔۔
ناصر نے کہا یار وہاں آنے کے لیے مجھے کافی لوگوں کو چکمہ دینا پڑے گا ۔۔۔
میں اس کی بات سمجھ گیا میں نے فون بند کیا ۔۔۔
اسی وقت مجھے ایک نئے نمبر سے فون آیا میں نے فون رسیو کیا تو دوسری طرف سے آنٹی کی آواز آئی ۔۔۔
اس نے کہا تم مجھے بتا کر نہیں جا سکتے تھے اور یہ گھر کی کیا حالت کر گئے ہو ۔۔۔
کوئی ایسے بھی کرتا ہے جو کچھ بھی تھا تمہارا ہی تھا تم مجھے کہتے میں خود تمہیں نکال کر دے دیتی۔۔۔
اس طرح چوروں کی طرح جانا ضروری تھا تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو تمہاری زندگی کو کتنا خطرہ کتنے لوگ تمہاری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔۔۔
میں نے کوئی جواب نہ دیا بس یہ کہا کہ بند جگہ پر میرا دم گھٹتا ہے میں آزاد پنچھی ہوں قید میں نہیں رہ سکتا۔۔۔
ہاں آنٹی ایک اور بات اپنے اوپر والوں کو بھی یہ سمجھا دینا کہ مجھے اپنے مطابق زندگی گزارنے کی عادت ہے مجھے گزارنے دیں۔۔۔
میرا زندگی کا اپنا مقصد ہے کو میں پورا کرکے رہوں گا کسی صورت بھی چاہے کچھ بھی ہو جائے کوئی رکاوٹ میرے ارادے کو متزلزل نہیں کر سکتی۔۔۔
آنٹی سے بات کرنے کے بعد میں کافی حد تک ریلیکس ہو گیا تھا میں ان کی وجہ سے زیادہ پریشان تھا باہر نہیں نکل رہا تھا۔۔۔
اب جب فون پر بات ہوئی نہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں ہوں اور نہ میں نے بتایا کہ میں کہاں ہوں۔۔۔
مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ ان لوگوں نے مجھ پر اب بھی نظر رکھی ہوئی ہے ۔۔۔
خیر جو مرضی کرتے رہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔
میں نے فیصلہ کیا کہ دارے خاں کی اگلی پیشی والے دن میں خود لاہور رہوں گا ۔۔۔
میں نے کھاری سے رابطہ کیا اور اس سے پوچھا کہاں ہو پھر اس کے پاس چلا گیا۔۔۔
فجے کو میں ساتھ لے جانا چاہتا تھا لیکن فجا ڈر گیا تھا اس نے صاف انکار کر دیا لیکن اس نے دو بندوں کو میرا نمبر دے دیا تھا۔۔۔
میں کھاری کے پاس گیا اس کے ڈیرے میں بیٹھ کر کافی دیر گپ شپ لگائی ناصر سے رابطہ ہوا ۔۔۔
ناصر کو بتایا کہ میں کھاری کے پاس ہوں اس نے کہا اس کو ساری بات بتا دو جو بھی ہے یہ مجھ سے ملے گا تو بتا دے گا۔۔۔
میں نے اس کو کہا جو کام ہے اس کے لیے وقت بہت کم ہے اب صرف چھ دن ہیں ان چھ دن میں وہ سارے ثبوت مجھے چاہئیں۔۔۔
اس نے اوکے کیا میں نے فون بند کیا کھاری مجھے اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔۔
اس کے والد نے ان بھائیوں کے لیے ڈیرے میں ہی الگ الگ کمرے بنا کر دئیے تھے جہاں وہ اپنے دوستوں سے مل سکتے تھے۔۔۔
وہاں بیٹھ کر ہم کافی دیر تک اس موضوع پر بات کرتے رہے کوئی نہیں جانتا تھا کہ کھاری سے بھی میرا تعلق ہوگا۔۔۔
شاہ زیب کو یقین بھی نہیں تھا کہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
وہاں ہی مجھے اس بندے کا فون آیا جس کا فجے نے کہا تھا میں نے اس کو کہا میں کچھ دیر میں بتاتا ہوں ۔۔۔
کھاری سے پوچھا اگر اس کو یہاں بلا لوں تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔۔۔
کھاری نے کہا بلا لو۔۔۔
میں نے فون کرکے اس کو بلا لیا اس کو ساری بات سمجھائی اور اس کے ذمہ لگا دیا کہ کیسے کرنا ہے۔۔۔
وہ دونوں کائیاں کھلاڑی لگ رہے تھے میری ان سے تفصیلی بات ہو گئی ۔۔۔
ناصر کو میں نے کہا تھا کہ مجھے صرف دارے خان کے خلاف جو ثبوت ہیں شاہ زیب کے پاس وہ چاہئیں۔۔۔
دوسری طرف میں نے ہنی کے بھائی کو ملنے کا وقت دیا تھا مجھے شہر بھی جانا تھا ۔۔۔
میں وہاں سے واپس گھر آیا کپڑے بدلے اور بیگ سے پیسے نکالے اور ایک لڑکے کے ساتھ سائیکل پر سوار ہو کر سٹاپ پر آ گیا۔۔۔
وہاں سے بس پکڑی اور شہر روانہ ہو گیا شہر جاتے ہی میں ناصر کے ٹیوب ویل پر گیا۔۔۔
ناصر سے بائیک لی اور ہنی کے بھائی سے رابطہ کیا۔۔۔
ہنی کے بھائی سے اس کے گھر جا کر ملا اس کو ساری بات سمجھائی اور کہا کہ اگر ہم دارے خاں کو سزا دینے کی بجائے ناکارہ بنا دیں تو کیا خیال ہے۔۔۔
اس کو میری بات کی سمجھ نہ آئی میں نے اسے ساری تفصیل سمجھائی اور اس کو یہ بھی بتایا کہ اس وقت اگر وہ جیل میں ہے تو اس کے پیچھے میرا ہی ہاتھ ہے۔۔۔
اس کے بھیجے میں میری بات گھسنے میں کافی وقت لگا بڑی مشکل سے اس کو سمجھایا ۔۔۔
پھر اس نے ناصر سے بات کی ناصر نے بھی اس کو یقین دلایا کہ سب کچھ ہو جائے گا۔۔۔
اگر دارے خاں بچ بھی گیا تو سارے ثبوت تو میرے ہاتھ لگ جائیں گے پھر دارے خاں کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔۔۔
ہم نے متبادل پلان بھی رکھا اگر ایک فیل ہو جائے تو دوسرے پر عمل کیا جا سکے۔۔۔
ہنی کے بھائی صاحب نے میری بات مان لی میں نے گاؤں والے لڑکوں کو فون کیا اور ان کو شہر بلایا۔۔۔
ناصر کو میں نے نئی بائیک خریدنے کے لیے کہا اس کو پیسے بھی دے آیا تھا۔۔۔
اس کی بائیک میں لے آیا تھا جب اس نے بائیک لے لی تو ایک لڑکے کے ہاتھ مجھے بھیج دی اور اپنی منگوا لی۔۔۔
ہنی کے بھائی سے ان دو لڑکوں کی بات کروانے کے بعد ان کو ایڈوانس پیسے دئیے ۔۔۔
ناصر نے بھی مطلوبہ بندے سے ان کا رابطہ کروا دیا ۔۔۔
اب اگلے پانچ دن شہر میں کافی افراتفری ہونے والی تھی۔۔۔
ناصر نے بتایا کہ اچھی کا ساتھی شیدا شاہ زیب کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ثبوت اس کے پاس ہیں۔۔
وہ اس کہاں تھا اس کی ساری معلومات مجھے دے دیں ۔۔۔
میں نے سب کچھ ان دونوں کو سمجھا دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ تم لوگوں کو یہاں کوئی نہیں جانتا ۔۔۔
اس لیے بے فکر ہو کر کام کرتے جاؤ ثبوت لاؤ اور اس کے بعد اگلا کام بھی مل جائے۔۔۔
ہمیں وہ سارے کاغذات ہر صورت چاہئیں چاہے کسی کی جان لینی پڑے ۔۔۔
ان دونوں نے مثبت جواب دیا اور نکل گئے میں وہاں سے واپس گاؤں کے لیے نکلنے لگا تو ہنی کا فون آ گیا۔۔۔
میں نے باہر نکل کر فون کان سے لگایا اور بائیک پر بیٹھ گیا۔۔۔
فون سنتے ہوئے گاؤں کی طرف جانے لگا ہنی کی سریلی آواز اس کی والہانہ محبت میں ہسنتا مسکراتا جا رہا تھا۔۔۔
میں ہیلمٹ لینا بھی بھول گیا تھا سچ کہتے ہیں انسان جب کسی عورت یا لڑکی کے چکر میں پڑ جاتا ہے تو سارے احتیاطیں پس پردہ چلی جاتی ہیں۔۔۔
میں بھی اس وقت بغیر ہیلمٹ منہ چھپائے بغیر بے دھڑک ہو کر بائیک پر سوار بڑی سست روی سے جا رہا تھا۔۔۔
ہنس ہنس کر باتیں کرتے مجھے کسی کی کوئی فکر نہیں تھی۔۔۔
ہمارے گاؤں والے رستے پر کافی زیادہ درخت تھے اس سڑک کو ٹھنڈی سڑک بھی کہا جاتا تھا۔۔۔
بہت پرانے اور گھنے درخت تھے جن کی چھاؤں سے سڑک ٹھنڈی رہتی تھی۔۔۔
کئی جگہ پر تو اتنے زیادہ درخت تھے کہ روشنی کی ایک کرن بھی نیچے زمین پر نہیں پڑتی تھی۔۔۔
جب میں اس ایریا میں پہنچا تو یکدم ایک بائیک میرے آگے آ رکی میں نے ہڑبڑا کر بریک لگائی ۔۔۔
بڑی مشکل سے اس سے ٹکرانے سے بچا تھا میرے منہ سے گالی نکل گئی اور میں کہنے لگا اندھے ہوگئے ہو نظر نہیں آتا۔۔۔
میں نے فون جیب میں ڈالا اور بائیک کھڑی کرکے ان کی طرف بڑھا۔۔۔
وہ بڑے سکون سے بائیک پر بیٹھے رہے جیسے ان کو کسی بات کی کوئی فکر نہ ہو۔۔۔
میں ان کے قریب پہنچا تو پیچھے والا لڑکا بڑی تیزی سے اترا اور مجھ پر پستول تان لیا ۔۔۔
میں حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا موبائل میں نے جیب میں ڈال لیا تھا۔۔۔
دوسرا بھی بائیک سے اتر آیا اس نے کہا ہاں تو شہزادے سنا ہے تو کسی کے ہاتھ نہیں آتا ۔۔۔
ان کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ ہمارے علاقے کے نہیں ہے۔۔۔
میں نے کہا بھائی لگتا ہے آپ کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے کسی نے غلط بندے کی نشاندہی کی ہے۔۔۔
دوسرا بولا تو ہمیں چوتیا سمجھ رہا ہے تیرے جیسا کل کا بچہ ہمارے کو بیوقوف بنا جائے گا۔۔۔
میں نے کہا بھائی لوگ دیکھو آپ جو بھی ہو مجھے صرف یہ بتا دو آپ کو کیا چاہئیے۔۔۔
اب پہلے والا جو شاید بڑا تھا مطلب کرائم کرنے میں دوسرے سے سینئر تھا۔۔۔
اس نے کہا ہمارے کو صرف تیرے کو اٹھانے کا آرڈر ملا ہے تو چپ چاپ ہمارے ساتھ چلے گا یا اٹھا کر لے جائیں۔۔۔
میں ہنس پڑا اب ساری بات سمجھ میں آ گئی تھی شاہ زیب نے جو بندے کراچی سے منگوائے تھے یہ ان میں سے تھے۔۔۔
میں نے کہا چلیں جی جہاں کہیں گے میں چلتا ہوں اگر وہاں جا کر آپ لوگوں کو پتہ چلا کہ میں وہ نہیں ہوں تو شرمندگی ہو سکتی ہے۔۔۔
پہلے کنفرم کر لیں کہ کیا میں وہی ہوں جس کو اٹھانے کا کام آپ کو ملا ہے۔۔۔
اسی وقت میرا فون بج اٹھا میں فون جیب سے نکالنے لگا تو پستول والے نے میرے سر پر پستول لگا کر نہ میں سر ہلایا۔۔۔
میں آرام سے کھڑا ہو گیا۔۔۔
میں نے کہا چلیں کہاں جانا ہے ایک میرے ساتھ بیٹھ جائے کیونکہ غریب بندہ ہوں بڑی مشکل سے آج ہی خریدی ہے۔۔۔
ان میں جو سرغنہ تھا شاید اس نے کہا چل تو سٹارٹ کر میں تیرے پیچھے بیٹھ جاتا ہوں ۔۔۔
میں نے بائیک سٹارٹ کی اور پستول کو نیفے میں آگے کر لیا ۔۔۔
وہ میرے پیچھے بیٹھ گیا دوسرا بائیک کو ہمارے آگے لے آیا ۔۔۔
میں نے بڑی آہستگی سے نیفے سے پستول کو نکال لیا کیونکہ میں نے محسوس کر لیا تھا کہ میرے پیچھے جو بیٹھا ہے اس نے پستول کو ہٹا لیا ہے۔۔۔
میں نے پستول نکالتے ہی بریک لگائی اور پستول پیچھے کرکے اس کے پیٹ سے لگا دیا۔۔۔
اس کو ایک جھٹکا لگا وہ کچھ بولنے لگا تو میں نے اس کو اترنے کا کہا دوسرا ساتھی کافی آگے نکل چکا تھا۔۔۔
وہ نیچے اترا میں نے بائیک کو سٹینڈ پر لگایا اور اس کے ہاتھ اوپر کروا کر اس سے پستول پکڑا اور بائیک پر بیٹھ کر بائیک گھما لی۔۔۔
پھر رک کر اس کے سر زور سے پستول کا دستہ مارا جس سے اس کے منہ سے چیخ نکلی۔۔۔
میں نے جلدی سے بائیک کو گئیر میں ڈالا اور بھگا لی۔۔۔
کافی آگے جا کر دیکھا تو اس کا ساتھی واپس اس کے پاس آ چکا تھا۔۔۔
میں نے بائیک بہت تیز چلائی اور اصل رستے سے ہٹ کر ایک متبادل کچے رستے میں جانے لگا۔۔۔
کافی دور جانے کے بعد میں نے ناصر سے رابطہ کیا اور اس سے شاہ زیب کا نمبر لیا جو اس نے بدل لیا تھا۔۔۔
ناصر نے وجہ پوچھی تو میں نے اس کو بتا دی اور کہا اب ایک اور گروپ ڈھونڈ جو صرف شاہ زیب کے پیچھے لگانا ہے۔۔۔
ناصر نے کہا ٹھیک ہو گیا میں نے ناصر کے بعد شاہ زیب کا نمبر ملایا اور نمبر ملتے ہی کہا ۔۔۔
اب تیاری پکڑ لو پہل کر دی ہے اب اگلا وار میرا ہوگا بہت بڑی غلطی کر دی تو نے مجھے چھیڑ کر ۔۔۔
وہ کچھ نہ بولا میں نے کہا مسٹر شاہ زیب بہت اچھی طرح جانتے ہو میں صرف باتیں نہیں کرتا اور چوتیاپا میری عادت نہیں ہے میں سینے پر وار کرنے کا عادی ہوں۔۔۔
اب جو ہوگا سامنے ہوگا جہاں بھی ہو جدھر مرضی چھپ جاؤ کراچی کے بعد پشاور سے بھی منگوا لو لیکن کوئی مجھے تم تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔۔۔
ایک اور بات جو ثبوت تم نے چوری کروائے ہیں ان کی حفاظت کر سکتے ہو تو کر لو دارے خاں کو بھی پتہ چل چکا ہے تمہاری ڈبل گیم کا۔۔۔
اس نے کہا بلو تو میرا بھائی ہے ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔
میں نے کہا بس کر اور کتنے دن یہ جھوٹ کا چولا پہنے رہو گے میرے پاس ایک ایک ثبوت ہے۔۔۔
میں نے فون کاٹ دیا اس کے بعد مجھے کافی فون کیے لیکن میں نے فون نہ اٹھایا۔۔۔
میں جس شارٹ کٹ سے جا رہا تھا اس سے ہوتے ہوئے میں جان بوجھ کر اس رستے پر اگیا جس رستے میں میری جان میری روح کی غذا افرا کا گاؤں آتا تھا۔۔۔
میں جیسے ہی اس کے گاؤں کے قریب پہنچا میں نے بائیک آہستہ کر لی اس امید پر کہ شاید اس حسن ظالم کا دیدار نصیب ہو سکے۔۔۔
میری قمست ایسی کہاں تھی کہ یوں راہ چلتے دیدار یار ہو جائے۔۔۔
مایوس ہو کر میں آگے بڑھ گیا مجھے ان دونوں لڑکوں کا فون آگیا جن کے ذمہ ثبوت لانے کا کام لگایا تھا۔۔۔
انہوں نے وہ ثبوت حاصل کر لیے تھے اور شیدے کو ٹھوک دیا تھا شیدے کا قتل مطلب اچھی سے دشمنی تھی۔۔۔
میں نے ان کو کہا جتنی جلدی ہو سکے شہر سے نکل جاؤ اور میرے پاس آ جاؤ۔۔۔
انہوں نے کہا وہ تو کب کے نکل چکے ہیں بلکہ انہوں نے دو ایسے بندے بھی پکڑ لیے جو میری تصویر دکھا کر پوچھ رہے تھے یہ کہاں ملے گا۔۔۔
نام بھی لے رہے تھے بلو کس گاؤں میں رہتا ہے میں نے ان کو شاباش دی اور ان سے پوچھا کہاں ہو آپ لوگ اس وقت۔۔۔
انہوں نے کہا ہمارا اپنا ٹھکانہ ہے ان دونوں کو وہاں رکھا ہوا ہے ابھی میں نے کہا ٹھیک ہے مجھے جگہ بتاؤ میں آ رہا ہوں۔۔۔
انہوں نے مجھے پتہ بتایا میں وہاں پہنچ گیا اور ہنی کے بھائی سے رابطہ کرکے اس کو بھی کام ہوجانے کی خوشخبری سنائی ۔۔۔
وہ خوش ہو گیا اور اس نے باقی کے پیسے بھیجنے کا وعدہ کیا ۔۔۔
میں نے کہا ابھی میں ان کے پاس جا رہا ہوں ثبوت دیکھنے جب دیکھ لوں گا تو آپ سے رابطہ کروں گا باقی کے معاملات طے کر لیں گے۔۔۔
اس نے کہا ٹھیک ہے تسلی کرلیں پھر مجھے بتا دینا۔۔۔
میں سیدھا ان کے ٹھکانے پر پہنچ گیا اور انہوں نے مجھے ایک چھوٹا سا بیگ دیا جس میں فائل تھی اس فائل کو کھول کر پڑھنے لگا۔۔۔
اس میں دارے خاں کے ساتھ ساتھ شاہ زیب کی بھی تصویریں تھیں اور ان کی ملاقاتوں کی تفصیل درج تھی۔۔۔
دارے خاں شاہ زیب ایک اور آدمی بھی تھا جس کو میں نہیں جانتا تھا ۔۔۔
میں نے وہ فائل لی اس میں وہ بھی ثبوت تھے جو میں نے دئیے تھے وہ الگ فائل تھی ۔۔۔
میں جیسے جیسے پڑھتا گیا حیران ہوتا گیا ان میں پرویز صاحب اور ڈاکٹر عمائمہ کا بھی ذکر تھا ۔۔۔
پرویز صاحب نے یہ کام چھوڑ دیا ہے اور وعدہ معاف گواہ بن گیے تھے جب کہ عمائمہ بھی یہ سب چھوڑ کر روپوش ہو گئی ہے ساتھ ہی ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والے واقعے کا بھی ذکر تھا جس میں اس کی عزت لٹی تھی۔۔۔
عمائمہ نے اپنے سارے دھندے چھوڑ دئیے تھے جن میں دارے خان کے ساتھ مل کر خوبصورت لڑکیوں کا اغواہ اور ان کا کاروبار بھی شامل تھا۔۔۔
اتنا کچھ پڑھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ ایسے ذلیل لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں ۔۔۔
اس کے بعد میں ان کراچی والوں سے ملا اور ان سے صرف دو باتیں کیں ۔۔۔
آپ لوگوں کس نے بھیجا ۔۔۔
انہوں نے شاہ زیب کا نام لیا اور آخری کال کو ہوئی وہ بھی دکھا دی۔۔۔
دوسری بات میں نے ان سے کی کہ آپ لوگ اگر واپس کراچی جانا چاہو تو میں اس کا بندوبست کر سکتا ہوں ورنہ یہاں بے موت مارے جاؤ گے۔۔۔
وہ مان گئے ان کو کراچی بھیجنے کا انتظام کروا دیا اور کراچی کے لیے رات کی ٹرین سے سیٹ بک کروا دی۔۔۔
اس کے بعد میں نے ان دونوں لڑکوں کو جن کے نام سفارش اور بارش تھے دونوں بھائی تھے۔۔۔
ان کے ذمہ یہ لگایا کہ شاہ زیب جہاں بھی ملے اس کا تیا پانچہ کر دیں ۔۔۔
ان کو میں ایڈریس بھی سمجھا دیا ناصر سے بات کرکے اس کے سارے ٹھکانے بھی معلوم کیے۔۔۔
سفارش اور بارش کو میں نے سب ٹھکانے سمجھائے اور طریقہ بھی سمجھا دیا۔۔۔
ان کو جب میں نے یہ بتایا کہ وہاں کافی مال بھی ملے گا تو وہ فوراً تیار ہو گئے۔۔
میں نے ان کو رات کو پیسے دینے کا کہا اور گھر آگیا میں نے ڈیرے میں بائیک کھڑی کی تو بھا ہاشم بھی وہاں بیٹھے تھے۔۔۔
شام ہو رہی تھی میں بائیک کھڑی کرکے گھر گیا اور کھانا کھایا امی نے کہا کہاں پھرتے رہتے ہو۔۔۔
یہاں آکر بھی نہیں ملتے چھٹیوں کا ہمیں کیا فائدہ ہے جو تم نے سارا وقت باہر ہی گزارنا ہے۔۔۔
میں چپ کر گیا بس اتنا کہا کہ اتنے دنوں بعد آیا ہوں تو دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہا ہوں۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد میں باہر ڈیرے میں گیا تو بھا ہاشم نے مجھے ساتھ لیا اور ایک طرف چلے گئے۔۔۔
مجھ سے پوچھا شاہ زیب والا کیا معاملہ ہے ۔۔۔
میں ان کو جب آج والا واقعہ سنایا تو اس نے کہا پھر تم نے بھی تو اس کا کچھ نہ کچھ کیا ہوگا ۔۔۔
میں نے کہا بالکل میں اس کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں جس کی وجہ سے آپ ذلیل ہوئے تھے جس نے پرویز صاحب جیسے انسان کو بھی بلیک میل کیا ہو۔۔۔
اس جیسے انسان کے لیے نرم گوشہ نہیں ہو سکتا میں تو اس کی اصلیت بہت پہلے جان گیا تھا۔۔۔
بس آپ کی وجہ سے چپ تھا کہ آپ خود کچھ کہیں گے لیکن آپ چپ رہے۔۔۔
اس نے مجھے کافی عرصہ سے پھنسانے کا کام شروع کیا ہوا ہے لیکن میں اس کو اگنور کرتا رہا ہوں۔۔۔
اب اس نے ڈبل گیم کھیلنا شروع کر دیا تو سوچا اس کو اس کی اصلیت بتا دوں۔۔۔
بس پھر آج رات اس کو پتہ چلنا شروع ہو جائے گا وہ بار بار فون کرے گا آپ کو اپنی صفائیاں پیش کرے گا ۔۔۔
اب آپ جانیں اس کو کیسے ہینڈل کرنا ہے میں نے تو اس کو تارے دکھا دینے ہیں۔۔۔
بھا ہنسا اور بولا بے فکر رہو میں اس کو سنبھال لوں گا۔۔۔
میں وہاں سے گھر آیا دوسری طرف سے نکل گیا اور فجے کو ساتھ لے کر ٹیلے پر جانے لگا تو فجے نے انکار کر دیا۔۔۔
میں نے ٹیلے پر جا کر پیسے نکالے اور ان دونوں بھائیوں کو فون کیا ان میں سے ایک اس جگہ آ گیا۔۔۔
اس کو پیسے دئیے اور ثبوت ہنی کے بھائی کو دینے کا کہا۔۔۔
وہ چلا گیا اور جاتے جاتے بولا اگر آپ یہ پیسے نہ بھی دیتے تو بھی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ ہمیں جو مال وہاں سے ملا وہ بھی کافی زیادہ ہے۔۔۔
اس کے علاوہ اور بھی کافی زیادہ آنے والا کے جیسا آپ بتا رہے ہیں۔۔۔
میں نے اس سے کہا اس پر آپ لوگوں کا حق ہے بس کسی غریب کو نقصان نہ پہنچے اتنا خیال رکھنا ۔۔۔
اگر ہو سکے جو تو جو مال آپ لوگوں کے ہاتھ لگے اس سے کسی غریب کی مدد کر دینا۔۔۔
وہ وعدہ کرکے وہاں سے نکل گیا میں نے فون کان سے لگایا اور ناصر کو خوشخبری سنائی۔۔۔
اس کے بعد ہنی کو فون کیا وہ بہت پریشان تھی اس کو یقین دلایا کہ کچھ بھی نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں۔۔۔
وہ ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگی اس کا موڈ ٹھیک کرنے میں مجھے کافی وقت لگ گیا تھا ۔۔۔
میں فون کرتے ہوئے گھر آنے لگا رات کافی ہو چکی تھی۔۔۔
پگڈنڈی کے رستے گھر آتے ہوئے میں فون پر ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔۔۔
گھر سے تھوڑا دور ہی تھا کہ مجھے دو ہیولے سے نظر آئے جو فصلوں میں آ رہے تھے۔۔۔
میں نے فون بند کرکے جیب میں ڈال لیا اور دبے پاؤں چلنے لگا۔۔۔
تھوڑا چلنے کے بعد مجھے یاد آیا کہ یہ کوئی عورتیں بھی ہو سکتی ہیں جو جنگل پانی کے لیے اس وقت باہر آئئ ہوں۔۔۔
اس لیے میں نے کھانسی کی تاکہ ان کو پتہ چل جائے کہ کوئی مرد آ رہا ہے۔۔۔
ویسا ہی ہوا میں سر جھکائے تیز تیز چلتا ہوا ان کے پاس سے گزرنے لگا تو عورت کی آواز آئی بلو اے نی آ تے۔۔۔
دوسری نے کہا سچی۔۔۔