گھریلو عشق۔۔۔(قسط 13)


ثانی سے بات کرتے ہوئے یہ لگ رہا تھا کہ نازی سے پہلے تو یہ چدوا لے گی۔

میں۔۔۔۔۔ اچھا تو یہ بتاؤ ابھی کیا پہنا ہے ثانی۔۔۔۔۔ کپڑے میں۔۔۔۔۔ وہ تو مجھے بھی پتا ہے تم نے کپڑے پہنے ہیں ثانی۔۔۔۔۔ بھائی سب کھانے کے لیے بلا رہے ہیں بعد میں کرتی ہوں میں۔۔۔۔۔ کیا کرتی ہو ثانی۔۔۔۔۔ بات اور کیا کروں گی

ثانی کھانا کھانے چلی گئی پھر میں بھی شاپ پر بزی ہو گیا۔ شام کو تھوڑا فری ہوا تو موبائل پر بیل بجی دیکھا تو ثانی کی کال تھی میں نے اس کی کال کٹ کی اور اس کا نمبر ڈائل کیا ثانی نے کال پک کی۔

میں۔۔۔۔۔ جی میری گڑیا

ثانی بولی بھائی امی نے بات کرنی ہے اور فون امی کو دے دیا امی بولیں امی۔۔۔۔۔ کامی کیا حال ہے گھر میں سب ٹھیک ہیں میں۔۔۔۔۔ جی امی سب خیریت سے ہیں امی۔۔۔۔۔ گھر جا کر نازی سے اور اپنی خالہ سے بات کروا دینا میں۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جان اور سناؤ کیسی ہو امی۔۔۔۔۔ ٹھیک ہوں

امی سے کہا کہ آپ نے تو جا کر کوئی میسج اور کال نہیں کی امی۔۔۔۔۔ کامی میرا موبائل خراب ہو گیا ہے اس لیے ثانی سے کہا کہ بھائی کو کال کرو میں۔۔۔۔۔ کب تک واپس آنا ہے امی۔۔۔۔۔ آج مہندی ہے کل شادی پیر منگل تک آجائیں گے میں۔۔۔۔۔ جان مس یو امی۔۔۔۔۔ اچھا اب میں تیار ہونے جا رہی ہوں تم ثانی سے بات کرو

امی نے موبائل ثانی کو دے دیا میں بولا میں۔۔۔۔۔ جی میری گڑیا کیمرہ سے پک لیں ثانی۔۔۔۔۔ بھائی آج لوں گی آج مہندی کا فنکشن ہے میں۔۔۔۔۔ تم تیار ہو گئیں ثانی۔۔۔۔۔ جی بھائی میں تو تیار ہو گئی ہوں امی تیار ہونے گئی ہیں میں۔۔۔۔۔ میری گڑیا کیسی لگ رہی ہے ثانی۔۔۔۔۔ بھائی بہت پیاری میں۔۔۔۔۔ اف میں دیکھ نہیں سکتا اپنی پیاری گڑیا کو ثانی اپنی پک تو واٹس ایپ کر دو ثانی۔۔۔۔۔ بھائی میرے موبائل کا کیمرہ ٹھیک نہیں ہے میں کوشش کروں گی اگر پک ٹھیک آگئی تو واٹس ایپ کر دوں گی میں۔۔۔۔۔ اوکے ثانی۔۔۔۔۔ بھائی امی بلا رہی ہیں بائے

اور ثانی نے فون بند کر دیا اس کے بعد میں نے ٹائم دیکھا تو 9 بج رہے تھے میں نے اپنے اسٹاف کو کہا کہ میں جا رہا ہوں تم لوگ شاپ بند کر دینا اور یہ کہہ کر میں گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھر پہنچ کر بیل دی تو نازی گیٹ کھولنے آئی تھی نازی نے گیٹ کھولا تو نازی ایک قیامت کی طرح میری نظروں کے سامنے تھی نازی نے بلو جینز اور اس پر آف وائٹ کرتی پہنی ہوئی تھی اور پونی اسٹائل کے بال بنے تھے میں نازی کو دیکھنے میں گم تھا کہ نازی بولی

نازی۔۔۔۔۔ بھائی کیا ہوا بائیک تو اندر لائیں

میں ہوش میں آیا اور بائیک اندر کی تو خالہ بھی باہر آگئیں کہ کون آیا ہے مجھے دیکھتے ہی خالہ بولیں خالہ۔۔۔۔۔ اوئے بھانجے جلدی فریش ہو

میں نے خالہ کی طرف دیکھا تو سانس رکتا ہوا لگا خالہ نے جارجٹ کی باریک شرٹ جس میں سے خالہ کی کالی برا اور شرٹ کے نیچے پٹیالہ شلوار اف یہ دونوں آخر چاہتی کیا ہیں میں بولا میں۔۔۔۔۔ خیریت آپ لوگ کہیں جا رہے ہیں خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے جلدی فریش ہو اور آج باہر کھانا کھانے جانا ہے نازی۔۔۔۔۔ جی بھائی آپ تیار ہو جائیں پھر دو دریا چلیں گے

دو دریا کراچی میں ایک مشہور جگہ ہے جہاں بہت سے ہوٹل بنے ہیں اور یہ سمندر کے کنارے واقع ہے۔ میں اوپر روم میں آیا اور نہا کر بلیک جینز اور اس پر یلو ٹی شرٹ پہن کر نیچے آیا تو خالہ بولیں خالہ۔۔۔۔۔ زبردست ہیرو لگ رہا ہے میرا بھانجا اب آج خالہ اور بہن کے ساتھ ڈیٹ مار لے میں۔۔۔۔۔ خالہ ڈیٹ اکیلے مارتے ہیں نازی۔۔۔۔۔ بھائی چلیں آپ لوگ پھر مارنے کی باتیں کرنے لگے خالہ۔۔۔۔۔ نازی ڈیٹ مارنے کی نازی۔۔۔۔۔ جی جی وہی میں۔۔۔۔۔ آج سیٹرڈے نائٹ کا پروگرام ہے خالہ۔۔۔۔۔ نائٹ کا تو ابھی کچھ نہیں پتا تم گاڑی نکالو

میں نے گاڑی باہر نکالی اور خالہ میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئیں نازی نے گیٹ لاک کیا اور پیچھے بیٹھ گئی۔ خالہ کے پاس سے بہت پیاری خوشبو آرہی تھی میں نے خالہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں۔۔۔۔۔ خالہ طبیعت ٹھیک ہو گئی خالہ۔۔۔۔۔ جی بھانجے اب بالکل فٹ ہوں میں۔۔۔۔۔ شکر ہے نازی پیچھے سے بولی نازی۔۔۔۔۔ خالہ صبح تو آپ کی حالت دیکھ کر میں بھی پریشان ہو گئی تھی کہ آپ کو کیا ہو گیا آپ سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا

میں نے دل میں بولا نازی تمہارا بھی یہی حال ہونے والا ہے۔ خالہ۔۔۔۔۔ نہیں بس کبھی ایسا ہو جاتا ہے لیکن پھر ٹھیک تو ہو گئی تھی

اسی طرح باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ ہوٹل پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کر کے ہم لوگ جب اندر داخل ہوئے تو سب لوگ ہمیں دیکھنے لگے۔ میرے ایک سائیڈ پر خالہ اور ایک سائیڈ پر نازی تھی دونوں میرے ساتھ ایسے قدم ملا کر چل رہی تھیں کہ جیسے یہ دونوں میری بیویاں ہوں۔ ایک کپل جب ہمارے پاس سے گزرا تو اس نے ہمیں دیکھ کر کہا “نائس کپلز”۔ خالہ۔۔۔۔۔ اس نے کیا سمجھ کر کہا نائس کپلز میں۔۔۔۔۔ کہ آپ اور میں نازی۔۔۔۔۔ خالہ بھائی اور آپ بہت اسمارٹ لگ رہے ہیں تو آپ دونوں کو نائس کپل کہا ہے خالہ۔۔۔۔۔ ساتھ تو تم بھی ہو

ہم لوگ ٹیبل پر بیٹھ گئے کافی لوگوں کی نظریں ہماری طرف تھیں۔ نازی میرے برابر میں اور خالہ میرے سامنے بیٹھی تھیں۔ دونوں کو دیکھ کر یہ نہیں لگ رہا تھا کہ ایک میری سگی خالہ اور دوسری میری سگی بہن ہے۔ ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور اس کے بعد ہم لوگ باہر نکلے اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی آئس کریم کھانی ہے

میں نے آئس کریم پارلر پر گاڑی روکی ہم تینوں اندر گئے۔ خالہ نے چاکلیٹ کون لی۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی میں بھی کون آئس کریم لوں گی خالہ۔۔۔۔۔ نازی تم بھی کون لو گی نازی۔۔۔۔۔ جی خالہ کون کا دل کر رہا ہے

ہم لوگ گاڑی میں بیٹھ کر آئس کریم کھانے لگے۔ نازی میرے ساتھ آگے بیٹھی تھی اور خالہ پیچھے بیٹھی تھیں۔ ہم لوگ باتیں کرتے ہوئے آئس کریم کھا رہے تھے کہ آئس کریم کھاتے ہوئے نازی کی کون اس کی شرٹ پر مموں کے اوپر گر گئی۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی ٹشو دیں

میں نے ٹشو اٹھایا اور بولا میں۔۔۔۔۔ رکو میں صاف کرتا ہوں

میں نے ٹشو سے نازی کی شرٹ سے آئس کریم صاف کرتے ہوئے نازی کے نرم مموں کو بھی ٹچ کرتے ہوئے نازی کی شرٹ صاف کی۔ خالہ۔۔۔۔۔ نازی کون کھانے کی پریکٹس کرواؤ ابھی تم کو کون کھانے کی عادت نہیں ہے نازی۔۔۔۔۔ خالہ کون کھانے کے لیے بھی پریکٹس کی ضرورت ہوتی ہے خالہ۔۔۔۔۔ دیکھو مجھے کتنی پریکٹس ہے جب تمہاری شادی ہو جائے گی تو کون کھانے کی پریکٹس ہو جائے گی نازی۔۔۔۔۔ خالہ آپ تو پتا نہیں بات کو کہاں لے جاتی ہیں

ہم لوگوں نے آئس کریم کھائی اور گھر آگئے۔ گھر پہنچ کر خالہ تو چینج کرنے امی کے کمرے میں چلی گئیں۔ میں اور نازی لاؤنج میں بیٹھ گئے۔ میں نے ٹی وی آن کیا اور ٹی وی دیکھنے لگا۔ نازی اپنی شرٹ کو دیکھ رہی تھی جہاں آئس کریم گری تھی۔ نازی نے اپنی کرتی کے دو بٹن کھول کر اس کو صاف کر رہی تھی۔ میں۔۔۔۔۔ نازی اس کو سرف میں ڈال دو یہ داغ صاف ہو جائے گا نازی پانی پلا دو

نازی اٹھ کر کچن میں گئی اور پانی کا گلاس لے کر آئی۔ جب نازی پانی دینے میرے سامنے آئی تو نازی کی کرتی کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے اور نازی کے گورے گورے مموں کی لائن بالکل میرے سامنے تھی۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی کیا دیکھ رہے ہیں

میں نے نازی کے ممے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا میں۔۔۔۔۔ نازی اتنا زیادہ تو نہیں ہے بس تھوڑا سا نشان ہے دھونے سے نکل جائے گا نازی۔۔۔۔۔ ہاں بھائی ابھی اس کو بھگو دیتی ہوں

یہ کہہ کر نازی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میں بھی اٹھنے لگا تو خالہ بھی چینج کر کے آگئیں۔

The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 13) appeared first on Urdu Stories.



Source link

Leave a Comment