جیسے ہی ظہیر کو ہم نے باہر کھینچا تھا، ظہیر کے ساتھ ساتھ ہم تینوں ہی اپنی پوری انرجی استعمال کر چکے تھے۔ اتنا زور میں قید میں رہتے ہوئے نہیں لگایا تھا جتنا اب ظہیر کو دلدل سے نکالتے ہوئے لگایا تھا۔
ظہیر کے باہر آتے ہی سانس پھول گئی تھی۔ اور میں نیچے گر گیا تھا۔ ظہیر کے دلدل سے باہر نکلتے ہی ایک زور کا جھٹکا لگا اور میں نیچے گرا تو رانا بھی میرے اوپر ہی گر گیا تھا۔ ہم دونوں کے ہی سانس پھولی ہوئی تھی۔
تو ہم دونوں ایک دوسرے کو بھولے ہوئے تھے۔ لیکن جیسے ہی میری سانس رکی تو رانا کی تیز چلنے والی سانس کی وجہ سے رانا کا سینہ میرے سینے پر پھول پچک رہا تھا۔
میں تو رانا کو پہلے بھی دیکھ کر حیران ہوا تھا، لیکن اب جب میں نے رانا پر غور کیا تو میرے توتے ہی اڑ گئے۔
رانا نے بڑے اچھے سے خود کو چھپایا ہوا تھا۔
رانا۔۔ رانا نہیں تھا۔۔ بلکے رانی تھی۔
میرے سینے میں رانا نہیں سمائی ہوئی تھی۔ ایک رانی سمائی ہوئی تھی۔ میں بڑا حیران تھا کہ قیدیوں میں لڑکیاں اور عورتیں تو تھیں جو کچھ گارڈز اور ان کے ہیڈ نے اپنے لنڈ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے رکھی ہوئی تھیں۔ لیکن مشقت کرنے والوں میں لڑکی کا کیا کام؟
رانا کے ممے میرے سینے میں دبے ہوئے تھے۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ اب جب رانا نے خود کو چھپایا ہوا ہے تو کیا مجھے بھی اس کا بھید کھولنا چاہیے یا نہیں۔
میں کوئی فیصلہ کرتا کہ ظہیر کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔
میں نے ظہیر کی چیخ سنی تو مجھے ہوش آیا کہ کچھ دیر پہلے ہی تو میں ظہیر کو دلدل سے نکال رہا تھا۔ میری خود کی انرجی بہت حد تک ختم ہو چکی تھی۔ خود کو بحال کرنے میں مجھے کچھ وقت لگ گیا تھا۔ اس بیچ میں اور رانا ظہیر کو بھول چکے تھے۔ لیکن پھر ظہیر کی چیخ نے ہی ہمیں یاد دلایا کہ اس وقت ہم کتنے خطرناک حالات سے دوچار ہیں۔ میں نے ہمت کی اور اٹھ کر ظہیر کے پاس گیا۔
تو ظہیر کی حالت دیکھنے کے قابل نہیں تھی۔ ظہیر پورا ہی دلدل کے کیچڑ سے لتڑا ہوا تھا۔ ظہیر کو اس کیچڑ سے صاف کرنا بے حد ضروری تھا۔ جیسا میں نے سنا تھا کہ دلدل میں موجود زہریلے مادوں کی وجہ سے اکثر لوگ مر بھی جاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو صحیح سے ٹریٹمنٹ مل جائے تو وہ بچ بھی سکتا ہے۔ لیکن یہاں تو کسی قسم کا کوئی بھی آپشن ہی نہیں تھا۔
پانی تک نہیں تھا ہمارے پاس۔ ایسی سچویشن میں میں ظہیر کے لیے کیا کر سکتا تھا؟ میں خود میں ہی اتنی انرجی محسوس نہیں کر پا رہا تھا۔ لیکن پھر بھی جو کچھ مجھ سے ہو سکتا تھا، وہ تو مجھے کرنا ہی تھا۔ ایسے ہی تو میں اپنے دوستوں کو مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
میں ظہیر کے پاس پہنچا تو ظہیر کا منہ، ناک اور آنکھوں میں دلدل کا کیچڑ بھرا ہوا تھا۔ ظہیر نہ تو صحیح سے سانس لے پا رہا تھا اور نہ ہی صحیح سے بول سکتا تھا۔ میں ظہیر کی ایسی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر رونے لگا، لیکن رونے کے لیے بھی انرجی چاہیے تھی۔ ظہیر کے منہ میں بھی دلدل کی گندگی پھنسی ہوئی تھی۔ ظہیر کے لیے بولنا آسان نہیں تھا، لیکن پھر بھی کچھ تو بولنا ہی تھا۔ ظہیر نے کوشش کرتے ہوئے کہا۔
ظہیر: ررر۔۔ را۔۔ راجہ۔۔
ظہیر کے منہ سے نکلتے ہی دلدل کا کیچڑ بھی باہر آنے لگا۔ ظہیر کے لیے بولنا آسان نہیں تھا۔ کیچڑ کی وجہ سے اس کے منہ میں جلن ہونے لگی تھی۔ وہ اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہی اپنے سر کو ادھر ادھر پٹخنے لگا۔ ظہیر بس میرا نام ہی لے پایا۔
راجہ: ہاں ظہیر، بولو کیا کہنا چاہتے ہو؟
ظہیر نے ہمت کرتے ہوئے پھر سے بولنے کی کوشش کی
ظہیر: را۔۔ راجہ۔۔ ممم۔۔ مجھ۔۔ مجھے ب۔۔ بچاؤ۔۔
راجہ: ظہیر، تم فکر مت کرو۔ میں تمہارے لیے وہ سب کروں گا جو مجھ سے ہو سکا۔ ہم سب ایک ساتھ ہیں، میں تمہیں ایسے مرنے بھی نہیں دوں گا۔ تمہارے ساتھ مر تو سکتا ہوں، لیکن تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔
ظہیر کو تو میں تسلی دے دی تھی۔ لیکن خود میں اتنی ہمت موجود نہیں تھی کہ میں ظہیر کے لیے وہ سب کروں جو ظہیر کے لیے صحیح ہے۔ مجھے بھی تو کندھے میں درد تھا اور سنجے کو اٹھائے ہوئے چلتے رہنے سے میں اور بھی بہت تھک چکا تھا۔ لیکن ایسے ہی تو نہیں ہم یہاں مر سکتے تھے۔ میں کسی بھی حال میں کسی کو کچھ نہیں ہونے دے سکتا تھا۔ جتنی جان مجھ میں تھی، وہ ساری کی ساری میں اپنے ساتھیوں کی جان بچانے کے لیے لگا دینا چاہتا تھا۔
سب سے پہلے ضروری تھا ظہیر کے جسم پر دلدل کا لگا ہوا کیچڑ صاف کیا جائے۔ سارا تو صاف کیا نہیں جا سکتا تھا، اور جو کرنا تھا وہ میں نے کرنے کا سوچ لیا۔ زیادہ کچھ تو تھا ہی نہیں ہمارے پاس، لیکن پھر ہمارے پاس جو کچھ تھا، اسے ہی کام میں لاتے ہوئے میں نے ظہیر کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
میں نے رانا کی طرف دیکھا، اب وہ بھی آنکھوں میں نمی لیے ظہیر کو دیکھ رہا تھا۔
راجہ: رانا، چاقو کہاں رکھا ہے تم نے؟
رانا نے ادھر ادھر چاقو کو دیکھنا شروع کر دیا۔ میرے خیال میں یہاں آتے ہوئے اس نے مجھے ظہیر کو دلدل سے کھینچتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ چاقو کو پھینک کر رانا نے میری طرف دوڑ لگائی ہوگی۔ رانا کی ہی وجہ سے میں ظہیر کو باہر کھینچنے میں کامیاب رہا تھا۔ ورنہ ظہیر بس دو ہی سیکنڈ میں دلدل میں دم گھٹنے سے مر جاتا۔ رانا میری ہیلپ نہ کرتا تو ظہیر مر گیا ہوتا۔
جلد ہی رانا نے چاقو لا کر مجھے دے دیا۔ میں نے پہلے اپنے سارے کپڑے اتارے اور پورا ننگا ہو گیا۔ مجھے پتا تھا کہ رانا لڑکا نہیں، لڑکی ہے۔ لیکن پھر بھی یہاں یہ سب سوچنے کا ٹائم نہیں تھا۔ سب سے زیادہ ضروری تھا کہ ظہیر کی جان بچائی جائے۔
رانا نے مجھے اپنے کپڑے اتارتے ہوئے دیکھا تو اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا۔
میں نے اپنے اتارے ہوئے کپڑوں سے ایک ٹکڑا کاٹا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر اچھے سے لپیٹ کر چاقو کو پکڑ لیا۔ اور ظہیر کے کپڑے کاٹنے لگا۔
مشکل تو مجھے ہو رہی تھی، لیکن پھر بھی کسی طرح میں نے ظہیر کے جسم سے اس کے کپڑوں کو الگ کر دیا۔ میری طرح ظہیر بھی ننگا ہو گیا تھا۔ میرے کچھ بھی کرنے سے ظہیر نے مجھے روکا نہیں۔ کیسے روکتا، اس کی جان خطرے میں تھی اور میں جو کچھ بھی اس کے لیے کرتا، اسے اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔
پھر میں نے اپنے کپڑوں کے ٹکڑے کر کے ایک ایک ٹکڑے کو پکڑ کر ظہیر کے جسم پر دلدل کے کیچڑ کو صاف کرنے لگا۔ مجھے ایسا کرتے دیکھ کر رانا بولا:
رانا: میں بھی تمہاری مدد کرتا ہوں۔
راجہ: نہیں رانا، تم دلدل کے کیچڑ سے دور ہی رہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا زہریلا اثر تم پر بھی ہو جائے۔
رانا کا دل تو نہیں تھا، پھر بھی اس نے میری بات مان لی۔