گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 41)

میں سوچنے لگ گیا اب پتہ نہیں کیا پوچھیں گی ۔۔۔میں جب کچھ نہ بولا تو آنٹی نے کہا ہیلو۔۔۔

کہاں کھو گئے ہو ۔۔۔ میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔۔

میں۔۔۔ ہوں ۔۔۔ہاں ۔۔۔کیا کہا ۔۔۔

آنٹی۔۔۔ ہنستے ہوئے ۔۔۔ اتنے بوکھلا کیوں گئے ہو۔۔۔۔

آنٹی آگے کو کافی جھک گئی تھی ۔۔۔ اس کے بیالیس کے ممے ایسے باہر کو لپکے جیسے کوئی قیدی رہائی کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔۔۔

میری نظریں مموں پر کچھ سیکنڈ کے لیے ٹھہر سی گئیں ۔۔۔ سفید موم جیسے ممے دائیں ممے پر تل کا نشان بھی نظر آرہا تھا۔۔۔

میں نے خود پر قابو پایا اور ان کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔

میں نے نظریں جھکا لیں۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے بولیں تم ویسے ہو نہیں جیسے دکھتے ہو۔۔۔

مجھے ریحان سے پوچھنا پڑے گا ۔۔۔ (ریحان ان کے بیٹے اور میرے دوست کا نام تھا) لیکن وہ بھی دوست تو تمہارا ہے اس نے کیا بتانا ہے۔۔۔

میں۔۔۔ کیا پوچھنا پڑے گا ۔۔۔ آنٹی نے کہا جو تم بتانا نہیں چاہتے ۔۔۔

ایک بات بتا دوں جس کو تم سیریس نہیں لے رہے یہ بیماری مجھے کافی گھمبیر لگ رہی ہے۔۔۔

اگر تم مجھے سب کچھ سچ بتاؤ گے تو میں ہر پہلو سے چیک اپ کروا لوں گی۔۔۔

ہاں ایک اور بات ڈاکٹر اور وکیل سے کوئی بات چھپانی نہیں چاہئیے ۔۔۔ ورنہ وکیل کی ساری محنت اور ڈاکٹر کا سارا تجزیہ بیکار جاتا ہے۔۔۔

اسی طرح آنٹی نے کافی مغز ماری کی لیکن میں اپنی بات کر قائم رہا۔۔۔ اگر ہمارے درمیان عمر کا اور رشتے کا فرق نہ ہوتا تو میں سب کچھ بتا چکا ہوتا۔۔۔

شاید اب تک آنٹی کو اپنے نیچے بھی لٹا چکا ہوتا۔۔ مجھے اب ایک بات بہت واضح سمجھ آگئی تھی۔۔۔

کہ۔۔۔ آنٹی کو مجھ میں جو انٹرسٹ ہے وہ ایسے ہی نہیں ہے۔۔۔ اس کے پیچھے کوئی بات تو ہے۔۔۔

چاہے وہ مجھ میں دلچسپی لے رہی تھی ۔۔۔ یا میرے میں دلچسپی لے رہی تھی۔۔۔ بات وہیں کر ختم ہو رہی تھی۔۔۔

تب تک ریحان بھی آگیا ۔۔۔ آنٹی نے بیل کی آواز سن کر اٹھتے ہوئے میری آنکھوں میں غور سےدیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

دیکھ لو۔۔۔۔ پھر نہ کہنا میرے دوست کی مما نے میری مدد نہیں کی۔۔۔ ایسا بولتے ہوئے وہ میرے سامنے جھک کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔

اس جھکنے سے جو منظر بنا تھا وہ بڑا ہی توبہ شکن تھا ۔۔۔ میرا لن ایک دم جھٹکا کھا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔

آنٹی نے میری گود میں لن کا ابھار بھی دیکھ لیا تھا۔۔۔ وہ ذومعنی بات کرکے ذو معنی مسکراہٹ کے ساتھ اٹھ کر دروازہ کھولنے چلی گئی۔۔۔

ریحان کے آنے بعد میں نے اس سے اجازت مانگنا مناسب نہ سمجھا ۔۔۔ کچھ دیر ایسے کی گپ سپ لگائی ۔۔۔

باتوں باتوں میں نے ان کے گھر میں موجود لڑکی کے بارے میں پوچھا۔۔۔ ریحان نے بتایا کہ وہ اس کی کوئی رشتہ دار ہے۔۔۔

اس کے بعد میں نے کوئی بات نہ کی ۔۔۔کچھ دیر بیٹھ کر میں واپس گھر آگیا۔۔۔

آج شانزل کا کوئی دیدار نہ ہوا ۔۔۔اوپر سے آج بھا ہاشم بھی گھر تھے ۔۔۔

میں نے کتابیں اٹھائیں اور ان میں دیوتا کا چالیسواں پارٹ رکھ کر پڑھنے لگا۔۔۔

میں ابھی پڑھ ہی رہا تھا کہ امی نے کھانا کھانے کا کہا۔۔۔ میں اٹھ کر گیا کھانا کھایا پھر ہاتھ دھونے لگا۔۔۔

صحن میں بیسن لگا تھا ۔۔۔ اس دیوار کے ساتھ جو شانزل کے گھر سے جڑی تھی۔۔۔

مجھے ان کے گھر میں کچھ ہلچل سی سنائی دی۔۔۔

ابھی ہاتھ دھو ہی رہا تھا کہ شانزل کے رونے کی آواز آئی ۔۔۔ اس نے میری امی کو آواز دی۔۔۔

میں سب بھاگ کر ان کے گھر کی دیوار پر چڑھا ۔۔۔ دیکھا تو اس کی امی بھی رو رہی تھی۔۔۔

شانزل نے کہا اپنی امی کو بھیجو ۔۔۔ میں نیچے اترا امی کو بتایا ۔۔۔ امی نے چادر لی مجھے ساتھ لیا ۔۔۔

ہم ان کے گھر چلے گئے۔۔۔ شانزل کے نانا کو ہارٹ اٹیک آیا تھا اور وہ لاہور کے کسی ہسپتال میں داخل ہو گئے تھے۔۔۔

شانزل لوگوں کو ابھی فون آیا تھا۔۔۔ شمع بھی موجود تھی۔۔۔ امی نے دلاسہ دیا ۔۔۔

اس کی امی نے کہا کہ وہ ابھی جا رہی ہے اس کا بھائی آرہا ہے۔۔۔

امی نے کہا تو ان بچیوں کو کہاں چھوڑو گی۔۔۔ اور اکیلی کیسے جاؤ گی۔۔۔

اس نے میری طرف دیکھا پھر شانزل کی طرف۔۔۔ شانزل نے کہا ہم گھر لے لیں گی ۔۔۔

میرے تو پیپر ہو رہے ہیں میں نے نہ دئیے تو فیل ہو جاؤں گی۔۔۔

اس کی امی کافی الجھی ہوئی تھی۔۔۔ اس نے امی کو کہا خالا تم کچھ سوچو میرا جانا ضروری ہے۔۔۔

لیکن ان بچیوں کا یہاں رہنا ہی اچھا ہے ۔۔۔ویسے بھی پتہ نہیں وہاں کیسے حالات ہوں گے۔۔۔

پرایا شہر کوئی جان پہچان بھی نہیں ہے اوپر سے ہسپتال میں رات گزارنی پڑے گی۔۔۔

شانزل بولی امی ہم اکیلی رہ لیں گی ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔

میری امی نے کہا تم بے فکر ہو کر جاؤ سب بہتر ہوگا۔۔۔ حوصلہ رکھو ۔۔۔ ان کو ہمارے گھر چھوڑ جاؤ۔۔۔

اس کی امی نے کچھ کہنا چاہا تو شمع بولی امی ہم گھر ہی رہ لیں گی۔۔۔

شانزل کی امی بولی کیسے رہ لو گی ۔۔۔ اکیلی وہاں جا کر مجھے تم لوگوں کی فکر لگی رہے گی۔۔۔

شمع بولی بھائی بلو ہمارے پاس سو جائے گا ۔۔۔ کیوں خالا ٹھیک ہے ناں۔۔۔

امی نے کہا اس کو کیا ہے اس نے یہاں بھی سونا ہے وہاں بھی سو جائے گا۔۔۔

اچھا ہوتا اگر تم لوگ ہمارے گھر آجاتیں۔۔۔

شانزل۔۔۔ خالا کچھ نہیں ہوتا میں وہاں اچھے سے پڑھ نہیں سکوں گی۔۔۔ یہاں تیاری ہو جائے گی۔۔۔

بلو سے کچھ سمجھ نہ آئی تو سمجھ بھی لوں گی۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ میں کیسے رک سکتا ہوں ۔۔۔میں نے کالج جانا ہوتا ہے۔۔۔

امی نے کہا یہ کونسا امریکہ ہے کہ یہاں سے تم کالج نہیں جا سکو گے۔۔۔ بس ٹھیک ہے تم اپنی دونوں بہنوں کے پاس رہو گے۔۔۔

امی کی یہ بات سن کر شمع کے چہرے پر ہنسی آگئی۔۔۔ اس نے بڑی مشکل سے خود کو قہقہ لگانے سے روکا تھا۔۔۔

میں نے پھر کچھ کہنا چاہا تو امی نے مجھے ڈانٹ دیا۔۔۔ امی مجھے کہا جاؤ اپنی کتابیں لے آو ۔۔۔

میں چپ کرکے گھر آیا اپنی کتابیں اٹھائیں اور واپس ان کے گھر چلا گیا۔۔۔ شمع نے بیٹھک میں میرے لیے بستر لگا دیا ۔۔۔

میں نے وہاں کتابیں رکھیں تب تک شانزل کا ماموں آگیا وہ بہت جلدی میں تھا۔۔۔

بس کا ٹکٹ لے کر آیا تھا ۔۔۔ شانزل کی امی نے چادر اٹھائی اور مجھے نصیحتیں کرتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔۔

امی نے مجھے کہا گھر چھوڑ آو ۔۔۔ میں نے امی کو گھر چھوڑا پھر واپس چلا گیا۔۔۔

جب دروازہ بند کرکے اندر داخل ہوا تو سامنے شمع کھڑی ہنس رہی تھی۔۔۔ اس نے ہسنتے ہوئے کہا۔۔۔ ویسے تم دونوں بڑے تیز ہو ۔۔۔

اوہ سوری۔۔۔ تم دونوں بہن بھائی ۔۔۔ ہاہا۔۔

میں نے اس کو کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔

میں آگے بڑھ گیا ۔۔۔

میں اپنے بستر پر آیا کتابیں اٹھائیں ۔۔۔ جو میں نے پڑھنا تھا وہ میں جانتا ہی تھا۔۔۔

میں کتاب کھول کر پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔ کچھ کی دیر بعد شانزل گلاس میں دودھ لے آئی ساتھ اس نے کھانے کے لیے مجھے گھر کی بنی دال دی۔۔۔

میں نے دونوں چیزوں سے انصاف کیا۔۔ شانزل کھڑی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔

شمع پیچھے سے آئی اور ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ کیا بات ہے بہن بھائی کو دودھ پلا رہی ہے۔۔۔

شمع ۔۔۔ ویسے ایک بات بتاؤں اس دودھ میں اتنی طاقت نہیں ۔۔۔ جتنیییی۔۔۔

اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔ شانزل تو اس پر چڑھ دوڑی اچھی خاصی بے عزتی کر دی۔۔۔

شمع شاید بے عزتی پروف تھی ۔۔۔ اس نے کسی بات کا غصہ نہ کیا۔۔۔

جاتے جاتے کہہ گئی۔۔۔ یہاں ہی سو جاؤ بعد میں اٹھ کر آنا تو یہاں ہی ہے۔۔۔ہاہا۔۔

شانزل بھی اس کی یہ بات سن کر ہنسنے لگی۔۔۔ ہنستے ہنستے اس نے کہا چل دفعہ ہو مر جانی۔۔۔

شمع نے کچھ سیریس ہوتے ہوئے کہا ۔۔بلو میں نے تم سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔ اگر تمہیں اس سے فرصت مل جائے تو۔۔۔

میں۔۔۔ کر لو جو بات کرنی ہے۔۔۔ ابھی وقت ہی ہے۔۔۔

شمع ۔۔۔ میں اس سے کی ہے لیکن یہ سمجھتی ہی نہیں۔۔۔

میں۔۔۔ کیا بات کے کرو ۔۔۔

شمع۔۔۔ کسی اورکو بھی تمہارے بارے میں پتہ ہے ۔۔۔ لیکن اسکو یہ نہیں پتہ کہ تمہارا اور کس کا تعلق ہے۔۔۔

میں۔۔۔ کیا مطلب جو بات کے صاف صاف کہو۔۔۔

شمع۔۔۔ کسی نے تمہیں رات کو ہمارے گھر آتے دیکھا ہے۔۔۔

میں۔۔۔ کس نے دیکھا ہے۔۔۔

شمع ۔۔۔ وہ تم لوگوں کا دوست ہے سامنے خالی پلاٹ ل کی دوسری طرف جس کا گھر ہے۔۔۔

جن کے گھر میں ٹیوشن پڑھنے جاتی ہوں۔۔۔

شانزل نے بیچ میں ٹوک دیا ۔۔۔ بس ہو گئی بات اب تم جاؤ ۔۔۔ میں خود بات کر لوں گی ۔۔۔

بات کچھ تو تھی لیکن جیسے شمع خوش ہو کر بتا رہی تھی اس سے مجھے لگا جیسے وہ کچھ اور چاہ رہی ہے۔۔۔

خیر جیسا بھی ہو جو بھی ہو مجھے کیا تھا میں نے یہ سوچ کر چپ سادھ لی۔۔۔

میں یہ نہیں جانتا تھا یہ چپ ہونا اور بات کو سیریس نہ لینا آنے والے وقت میں میرے لیے کیسی مشکل پیدا کرنے والا تھا۔۔۔

شمع نے کندھے اچکائے اور بولی نہیں تو نہ صیحیح مجھے کیا ہے ۔۔۔

میں تو تم لوگوں کے بھلے کے لیے کہہ رہی تھی۔ اس وقت شمع کا امیج بھی میرے نزدیک اچھا نہیں تھا۔۔۔

جیسا اس کا رویہ تھا جو کچھ اس نے شانزل کو کہا تھا اس نے شانزل کو میرے خلاف کافی بھڑکایا تھا۔۔۔

مجھے سب یاد تھا اس لیے میں نے اس کی اس بات کو بھی کوئی چال سمجھا ۔۔۔

شانزل نے کہا اچھا ٹھیک ہے اس پر بعد میں بات کر لیں گے ابھی تم جاؤ مجھے بلو سے کافی سیریس بات کرنی ہے۔۔۔

شمع اوہ اچھا جی تو تم لوگ باتیں بھی کرتے ہو ۔۔۔ میں ۔۔۔ تو۔۔۔ سمجھی تھی۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ بڑی ذو معنی ہنسی ہنسنے لگی اس کے انداز سے مجھے کافی شرمندگی ہوئی۔۔۔۔

شانزل نے اس کو غصے سے دیکھا وہ ہنستی ہوئی چلی گئی لیکن اس کی آنکھیں مجھے پریشان کر گئیں۔۔۔

اس کی نظروں ایسا کچھ تھا جو مجھے پریشان کرنے کے لیے کافی تھا۔۔۔

اس آنکھوں میں دھمکی تھی وارننگ تھی غصہ تھا کم از کم مجھے اس وقت ایسا کی محسوس ہوا۔۔۔

یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا کہ کیا ہو گا لیکن وقتی طور پر میں پریشان ہو گیا تھا۔۔۔

اس کے کمرے سے نکلتے ہی شانزل نے دروازہ بند کر دیا اس نے دروازے کو لاک نہیں لگایا تھا ایسے کی بند کیا تھا۔۔۔

دروازہ بند کرنے کے بعد وہ میرے پاس آئی اور بڑے دل نشین انداز میں میرے چہرے پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔

میری جان مجھے بس تھوڑا سا ٹائم دینا میں آتی ہوں ٹھیک ہے انتظار کرنا میرا اس نے میرے گال پر پیار سے بوسہ کیا اور باہر نکل گئی۔۔۔

اس کو گئے ابھی دو سے تین منٹ ہی ہوئے تھے کہ دروازہ کھلا اور شانزل اندر داخل ہوئی ۔۔۔

وہ کھانا لے کر آئی تھی چہرے پر مسکان سجائے گلے میں دوپٹہ ڈالے میرے سامنے کھانا رکھا۔۔۔

بہت ہی میٹھے انداز میں مجھ سے بولی کھانا کھا لو۔۔۔

میں نے کہا اچھا کھا لیتا ہوں اس نے پانی کا گلاس بھر کر میری طرف بڑھایا ۔۔۔

میں نے گلاس پکڑا تو اس کی انگلیاں میری انگلیوں سے چھو گئیں ۔۔۔

وہ مسکرانے لگی بڑے اچھے انداز سے بات کر رہی تھی میرے لیے یہ اور بھی حیرانی کی بات تھی ۔۔۔

مجھے یاد آیا ایک بات میں نے غلطی سے شانزل سمجھ کر اس کو جپھی ڈال لی تھی۔۔۔

ابھی میں کچھ اور سوچنے ہی والا تھا کہ وہ بولی کھانا کھا لو ٹھنڈا ہو جائے گا ۔۔۔۔

اگر شانی آگئی تو اس نے پھر کھانے نہیں دینا خاص طور پر اگر اس کو پتہ چل گیا کہ میں نے دیا ہے تو پھر تو بالکل بھی نہیں۔۔۔

میں حیران نہیں ہوا اس بار میں سب سمجھ گیا مجھے ایک دم سے شمع کی سب حرکات یاد آئیں۔۔۔

اس کا مجھ کو دیکھ کر مسکرانا میرا اس کو دیکھنا میں سمجھنے لگا تھا لیکن اگر تب ایسا تھا تو اب اس کا رویہ کیوں بدل گیا تھا۔۔۔۔

خیر شمع کے اصرار پر میں نے کھانا کھایا اس نے خاص باداموں والا دودھ بھی پلایا اور بڑے انداز سے بولی ویسے دودھ کا فرق تو تمہیں پتہ نہیں ہوگا۔۔۔

ایسا بولتے ہوئے وہ کافی جھک گئی تھی جس سے اس کے مموں کی لکیر اور ممے آدھے سے زیادہ باہر ڈھلک گئے تھے۔۔۔۔

اب میرے لیے سب سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے لیکن کہہ نہیں رہی تھی دکھا رہی تھی۔۔۔

اب اس میں اس کی چال بھی ہو سکتی تھی کیوں کہ مجھے اس کے کہے گئے الفاظ اچھے سے یاد تھے۔۔۔

شانزل کو اس نے میرے منہ کر کہا تھا کہ یہ ٹاؤن کی کئی لڑکیوں کی پھدی مار چکا ہے تمہارے ساتھ بھی ایسا کی کرے گا۔۔۔

اس دن اس نے کافی کچھ کہا تھا اس لیے میں نے نظریں چرا لیں تھیں۔۔۔

ایسا نہیں تھا کہ میں اس کی عزت کرتا تھا بات یہ تھی کہ میں اس کو سمجھنا چاہتا تھا ۔۔۔

وہ ایسا کیوں کر رہی ہے ویسے بھی آج کی رات میں کوئی کھچ نہیں مارنا چاہتا تھا۔۔۔۔

پوری رات میرے پاس تھی شانزل کا حسن تھا اس کی بھڑکتی جوانی تھی آج تک میں دل بھر کر اس سے کچھ کر نہیں پایا تھا۔۔۔

ہمیشہ ڈر کی لگا رہتا تھا کہ کوئی آ نہ جائے اس لیے جلدی جلدی پھدی میں لن واڑ دیتا تھا۔۔۔۔

شمع مسکراتی ہوئی سیدھی ہوئی اور بڑے سیریس انداز میں بولی میری بات کو مذاق نہ سمجھنا۔۔۔۔

میں نے پوچھا کیا مطلب ۔۔۔؟

شمع نے کہا وہی طارق والی بات (طارق اسی لڑکے کانام تھا جس کا ذکر شمع کر رہی تھی ) کا کہہ رہی ہوں۔۔۔

میں اس موضوع پر تم سے تفصیل سے بات کرنا چاہتی ہوں اس نے بڑے دعوے سے کہا ہے ۔۔۔

اگر صرف یہ کہتا کہ اس کو پتہ ہے تو میں سمجھتی جھوٹ بول رہا ہے اس نے رات کے وقت کا کہا ہے کہ تم ہمارے گھر میں داخل ہو رہے تھے اس نے دیکھا ہے۔۔۔۔

میں اس کا منہ تکنے لگا اور پوچھا اس نے خود تمہیں کہا ہے ۔۔

شمع نے ہاں میں سر ہلا کر کہا اور بولی وہ کچھ اور بھی کہہ رہا تھا میں ساری بات بتانا چاہتی ہوں ۔۔۔

لیکن مجھے موقع نہیں مل رہا اگر تم کل دن میں ہمارے گھر آ سکو تو میں سب بتا دوں گی۔۔۔

میں ٹھیک ہے میں کالج سے سیدھا آوں گا لیکن شانزل تو گھر ہو گی۔۔۔

شمع نہیں اس کا کل سچ میں ٹیسٹ ہے وہ سکول جائے گی اور تم۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی باہر سے شانزل کی آواز آئی شمع کتھے ایں میری گل سن ایدے آ۔۔۔

شمع جھٹ سے برتن اٹھائے باہر نکل گئی پھر ان دونوں کے درمیان کوئی بات ہوئی۔۔۔

میں سوچ میں پڑ گیا سالا طارق پتہ نہیں اس وقت کیا کر رہا تھا اس کو مجھ سے کیا مسئلہ تھا ۔۔۔

میں اپنی سوچوں میں گم تھا کہ دروازہ کھلا شمع اندر آئی اس نے مجھے کہا شانی بلا رہی ہے۔۔۔

میں کہا بلا رہی ہے اس نے بڑے رازدارانہ انداز میں کہا آج وہ تمہیں بہت بڑا سرپرائز دینے والی ہے۔۔۔

میں نے اٹھتے ہوئے کہا کیا سرپرائز ۔۔۔

اس نے کہا مجھے کیا پتہ میں نے کوئی سرپرائز دینا کے جو دے گی اس سے پوچھ لو۔۔۔

میں اٹھ کر اس کے پاس آیا اس سے پوچھا کدھر ہے وہ ۔۔۔

شمع میرے قریب آنے سے مجھے دیکھنے لگی اس وقت اس کی آنکھوں میں مجھے پیاس دکھائی دی۔۔۔

میں نے نظریں پھیر لیں وہ دروازے میں کھڑی تھی میں اس کے ساتھ رگڑ کھاتے ہوئے آگے گزر گیا۔۔۔

باہر نکل کر رک گیا پیچھے مڑ کر دیکھا تو شمع مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے ایک کمرے کا بتایا میں نے کمرے کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر شمع کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

وہ بھاگ کر آئی اور دروازے کے سامنے کھڑی کو کر بولی ایسے جیسے جا سکتے ہو۔۔۔

پہلے سالی سے نبٹو آخر سالی ہوں اور سالی کا بڑا حق ہوتا ہے۔۔۔

میں نے پوچھا کیا چاہئیے وہ میرے قریب آئی اور آہستہ آواز میں بولی جو مانگوں گی دو گے۔۔۔

میں نے ہسنتے ہوئے کہا ہاں دوں گا مجھے بھی اس کا انداز اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔

اس نے کہا سوچ لو کہیں بعد میں مکر نہ جاؤ۔۔۔

میں نے اس کو کہا میری زبان کے جو مانگو گی دوں گا۔۔۔

شانزل مجھے کچھ چاہئیے نہیں میں جو کہوں گی وہ کرنا ہوگا۔۔۔

مجھے اندر جانے کی جلدی تھی پتہ نہیں کیا سسپنس تھا میں کہا ٹھیک ہے کروں گا۔۔۔

شمع نے ہاتھ آگے بڑھا کر کہا وعدہ ۔۔۔

میں نے اس نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا وعدہ۔۔۔

اس نے کہا ٹھیک ہے اب یاد رکھنا میں نے کہا بولو بھی اب کیا کرنا ہے۔۔۔

اس نے بڑے غور سے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا آج کچھ نہیں کرنا پھر بتاؤں گی کیا کرنا ہے لیکن یاد رکھنا کہیں بھووول نہ جاننننناں۔۔۔

وہ ایک طرف ہوئی ہاتھ کے اشارے سے مجھے جانے کا کہا میں ہنستا ہوا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔۔۔

اندر داخل ہوا تو خوشبو کا ایک جھونکا میرے نتھنوں سے ٹکرایا ۔۔

پورا کمرا مہک رہا تھا کمرے کے وسط میں بیڈ پڑا تھا میں اس کمرے میں پہلے بھی آچکا تھا ۔۔۔

جب شانزل اور اس کی امی کے ساتھ مل کر بیڈ اور کچھ دوسرا سامان ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں شفٹ کیا تھا۔۔۔۔

میری نظر بیڈ پر پڑی تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔

میں پلکیں جھپکانا بھول گیا بیڈ کے درمیان میں کومل سا جسم بڑا خوبصورت لباس زیب تن کیے ۔۔۔

سولہ سنگھار کیے شرماتے لجھاتے نظریں جھکائے کسی دلہن کی طرح سجے سنورے موجود تھا۔۔۔

ایسا حسن کہ دیکھنے والے کی آنکھیں جھپکنا بھول جائیں ایسا دلربا انداز کہ مر مٹنے کو دل چاہے۔۔۔

حسن کے ایسے جلوے کہ عاشق دل تھام کر رہ جائے ۔ غرض ہر لحاظ سے حسن کے جلوے بکھیرتے اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ شانزل بیڈ پر بیٹھی شرما رہی تھی۔۔۔

میں مبہوت ہو کر اس کو دیکھ رہا تھا اس کی پلکیں لرز رہی تھیں وہ پہلی رات کی دلہن کی طرح شرما رہی تھی۔۔۔۔

اس کا شرمانا مجھے اچھا لگ رہا تھا اس اس کے مچلتے ہونٹ لپ سٹک سے اٹے ہوئے تھے۔۔۔

اس کے بناؤ سنگھار نے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے تھے۔۔۔

وہ چودھویں کے چاند کی طرح دمک رہی تھی میں خود پر قابو پاتے ہوئے بیڈ پر اس کے قریب جا بیٹھا۔۔۔

اس کا شرمانا مجھے اچھا لگ رہا تھا اس کے مچلتے ہونٹ لپ سٹک سے اٹے ہوئے تھے۔۔۔

اس کے بناؤ سنگھار نے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے تھے۔۔۔

وہ چودھویں کے چاند کی طرح دمک رہی تھی میں خود پر قابو پاتے ہوئے بیڈ پر اس کے قریب جا بیٹھا۔۔۔

بیڈ پر بیٹھ کر میں قریب سے اس حسن کی مورت کے حسین مکھڑے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

وہ اپنی گود میں ہاتھ رکھے پلکیں جھکائے بالکل نئی نویلی دلہن کا روپ دھارے پہلی رات کے لیے دل میں ارمان سجائے بیٹھی تھی۔۔۔۔

میں ہاتھ آگے بڑھایا اس کے کومل ہاتھ کو پکڑا وہ سکڑنے سمٹنے لگی کیا ادا تھی ۔۔۔۔

بڑے پیار سے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اس کے شربتی ہونٹوں پر انگوٹھا رکھ کر پھیرنے لگا اور انگلی اس کے چہرے پر اوپر سےنیچے پھیرنے لگا۔۔۔۔

اس کے اندر کی نازک لڑکی دل میں ارمان رکھنے والی آج میرے سامنے آ رہی تھی ۔۔۔

ہونٹوں پر انگوٹھا پھیر کر میں نے اسی ہاتھ کی انگلیوں اور انگوٹھے کی مدد سے اس کی ٹھوڑی کو اوپر کیا۔۔۔۔

اس نے نظریں جھکائے رکھیں میں نے اپنے لب اس کی لرزتی پلکوں پر رکھے اور پلکیں چوم لیں۔۔۔۔

اس کے جسم میں کپکپی ہو رہی تھی آنکھوں کو چوم کر اس کی پیشانی پر لبوں سے بوسہ کیا۔۔۔

ہاتھوں کے پیالے میں اس کے حسین مکھڑے کو لے کر اپنے ہونٹ اس کے سیب جیسے سرخ ہوتے گال باری باری چومے۔۔۔

اس حسن کے مجسمہ کے پورے جسم میں جیسے زلزلہ آگیا تھا وہ لرز رہی تھی ۔۔۔

بڑے پیار سے اس کے سر سے دوپٹہ پیچھے کیا ایک آوارہ لٹ لہراتی ہوئی اس کے لبوں کو چوم گئی۔۔۔

میرے اندر اس سے بھی جلن پیدا ہوئی میں نے لٹ کو لپیٹ کر اس کے کان کے پیچھے کیا۔۔۔

ایک بار پھر حسن جان لیوا میں ڈوبے اپنے لب ٹھوڑی پر رکھ کر بڑے پیار سے چوما۔۔۔

وہ اپنے اوپر کیسے ضبط کیے بیٹھی تھی اس کے جسم کا ارتعاش بتا رہا ہے۔۔۔

اس کے ہونٹ کھلے گال پر ڈمپل پڑا میرا دل مچلا ہونٹ آگے بڑھے ڈمپل کے گہرائی میں زبان رکھ دی۔۔۔

اس کو ایک دم جھٹکا لگا وہ کانپ گئی میں نے اپنے ہونٹوں سے مزید گستاخی کرتے ہوئے ۔۔۔

اس متاع حسن کے انار جیسے لبوں پر اپنے لب رکھ دئیے آہ ایک سکون میرے پورے جسم میں سرایت کر گیا۔۔۔

اس کے ہونٹوں کی مٹھاس آج بھی مجھے یاد آتی ہے ایسا لگا جیسے شہد سے لتھڑے ہوں ۔۔۔

میں نے اپنی زبان نکالی اور لبوں پر پھیرتے ہوئے اس شہد کو چاٹنے لگا شانزل نے اپنے کپکپاتے ہاتھ اٹھائے۔۔۔

اپنی مخروطی انگلیاں میرے بالوں میں پھیرنے لگی اس کے جسم کی لرزش میں کمی آ گئی۔۔۔

اس نے اپنے لب وا کرکے میری زبان کو اپنے لعاب دہن سے نچڑنے کا رستہ دیا۔۔۔

زبان اندر داخل ہوئی اس نے اپنے ہونٹوں میں میرا اوپر والا ہونٹ لیا زبان کو میری زبان کے گرد لپیٹ لیا۔۔۔

پھر ایک پرجوش بوس وکنار کا دور شروع ہوا ہم ارد گرد سے بے خبر ایک دوسرے کی سانسوں میں سانسیں سمو رہے تھے۔۔۔

ایسا لگتا تھا کہ دو جسم ایک سلنڈر سے آکسیجن لینے لگے ہوں ہماری سانسیں ایک دوسرے کی سانسوں میں ضم ہونے لگیں۔۔۔

میرے اندر مچلتا طوفان تھمنے کی بجائے اور ابھرنے لگا اس کی سانسوں میں بھی طوفان بھرپا تھا۔۔۔

شانزل نے مجھے اپنے ساتھ چمٹانا شروع کر دیا میں بھی اس کی طرف جھکتا گیا۔۔۔۔

جیسے جیسے وہ میرے سر کو اپنی طرف کھینچتی ویسے ویسے میں اس کی طرف الٹتا گیا۔۔۔

وہ پیچھے طرف گر گئی میں اس کے اوپر گرتا چلا گیا میرے سینے میں اس کے مموں کی نرمی نے اودھم مچا دیا۔۔۔

اس کی دھڑکن کا زیروبم مجھے واضح محسوس ہو رہا تھا میں حیران تھا کہ میرا سر پھرا لن ابھی تک خاموش تھا۔۔۔

اس کے مموں نے لن کو کو سر اٹھانے پر مجبور کر دیا تھا میرا جسم بیڈ پر تھا سینہ سینے سے لگا تھا۔۔۔

اب میں نے ہونٹ چومتے ہوئے اس کے سینے کے ابھار دبانے پر توجہ کر دی بڑے پیار سے مموں کو دبانے لگا۔۔۔۔

وہ ہونٹ چوسنے میں اس قدر مگن تھی کہ اس نے مجھے ایک لمحے کے لیے بھی ہونٹوں سے ہونٹ جدا نہ کرنے دئیے۔۔۔

میں نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے الگ کیے۔۔۔

اس نے نشیلی آنکھوں سے مجھے دیکھا میں پیچھے ہوا اس کے ہاتھ پکڑ کر اس کو بٹھایا۔۔۔

اب کی بار اس کا دوپٹہ پیچھے ہی رہ گیا تھا وہ اپنے سینے کی پہاڑیوں کی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ میرے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔

اس کے بال چلتے پنکھے کے ساتھ لہرانے لگے بار بار اس کے چہرے پر آ کر اس کے بالوں کی لٹیں اٹکھیلیاں کرنے لگیں۔۔۔

میں مبہوت ہو کر اس کے حسن کے جلوے دیکھنے لگا وہ شرماتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔۔۔

میں نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اس کی گردن پر رکھے اس کو اپنی طرف کھینچا وہ میری طرف پکے ہوئے آم کی طرح آئی۔۔۔

اس کے ہونٹوں کو ایک بار پھر چوما گردن پر پیار کرنے لگا وہاں سے ہونٹوں کو نیچے لاتے ہوئے اس کے سینے کے ابھاروں کے اوپر چومنے لگا۔۔۔

اوپر ہونے کی وجہ سے اس کے سینے کے اندر چھپے میری شہوت کے سامان کے درمیان کی لکیر نظر آ رہی تھی۔۔۔

میں نے مموں کے قریب ہونٹ رکھ کر زبان اس کی لکیر میں داخل کر دی اس نے میرا سر دبا لیا۔۔۔۔

مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے آج اس حسن جان لیوا کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں ایسا حسن مجھے پہلے دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔۔۔

میں سر اٹھا کر شانزل کی آنکھوں میں دیکھا اس سے اجازت طلب کی اس نے پلکیں جھکا کر اجازت نامہ دیا۔۔۔

قمیض کو اس کی کمر کے قریب سے پکڑا اس نے تھوڑا سا اٹھ کر میری مدد جس سے قمیض اس کے نیچے سے نکل گئی۔۔۔

بڑی احتیاط سے قمیض کو اوپر کرنے لگا مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اگر میں نے تھوڑی سے سختی کی تو حسن کی ملکہ کہیں زخمی نہ ہو جائے۔۔۔

اس کے بازوؤں کے پاس آ کر میں رک گیا شانزل نے مسکراتے ہوئے اپنے بازو اوپر کر دئیے میں نے قمیض اتار دی۔۔۔

اس کی آنکھوں میں دیکھا وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اس کا ہونٹ بند کر کے مسکرانا میرے لیے افففف۔۔۔

اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے میرے گریبان میں دیکھا میں نے بھی اس کی نظروں کی تقلید کی ۔۔۔

اس نے آگے ہاتھ بڑھائے میری قمیض کے بٹن کھولنے لگی میں اس کے چہرے پر نظریں جمائے دیکھ رہا تھا۔۔۔

ایک ایک کر کے اس نے سارے بٹن کھول دئیے میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے ایک سائیڈ سے قمیض کو پکڑ کر اتارنا شروع کر دیا۔۔۔

میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا آج مجھ پر شہوت حاوی نہیں ہو رہی تھی میں اس کے ملکوتی حسن کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔

قمیض اتارنے بعد اس نے میری بنیان بھی اتار دی مجھے اپنی انگلی کی مدد سے پیچھے دیکھیلا میں اس پیچھے گرتا چلا گیا۔۔۔

اس نے میرے اوپر آتے ہوئے میری کمر پر ایک ہاتھ رکھا اور بڑے نرم انداز سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اوپر تک گئی۔۔۔

خود بھی اسی طرح کھسکتی ہوئی آگے ہوتی گئی میرے سینے کے پاس آ کر اس نے اپنے ہاتھ کو الٹا کر کے سینے پر پھیرا ۔۔۔

میرے انگ انگ میں بجلی دوڑ گئی اس کی ادا پر فدا ہو گیا میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کو اپنے اوپر گرا لیا۔۔۔

بڑے پیار سے خود کو اوپر اٹھاتے ہوئے اس نے نہ میں سر ہلایا اور اپنی شہادت کی انگلی میرے ماتھے پر پھیر کر اپنے ہونٹ میرے ماتھے پر رکھے۔۔۔

ہونٹ اٹھائے بغیر وہ چومتے ہوئے وہاں سے آنکھوں پر آئی میں نے آنکھیں بند کیں اس نے باری باری دونوں آنکھوں میں چوما۔۔۔

وہاں سے اپنی زبان نکال کر ناک پر پھیری پھر میرے گال چومے ٹھوڑی پر ہونٹ رکھ کر چوسنے لگی۔۔۔

میرا لن ایک دم اکڑ گیا میرے دماغ پر اس کی ادائیں سوار ہونے لگیں تھی۔۔۔

وہاں سے وہ چومتے ہوئے میری گردن پر آئی اپنے ہاتھ سینے کے دونوں سرپستانوں پر رکھ کر انگلیاں گھمانے لگی۔۔۔

میری جان سولی میں اٹک گئی میرا پورا جسم لرز اٹھا میں نے ہاتھ اس کی کمر پر رکھ جن کو اس نے جھٹک دیا۔۔۔

زبان پھیرتی گردن سے سینے پر آئی سینے کے درمیان میں زبان پھیرتی ہوئی وہ نیچے جانے لگی۔۔۔

ناف کے ارد گرد زبان گھائی اور ساتھ ہی اس نے میرا ناڑا کھول دیا۔۔۔

میں نے آنکھیں کھول کر اس کے چہرے پر نظریں دوڑائیں تو وہاں ایک ہیجان برپا تھا اس کا چہرا لال ٹماٹر ہو چکا تھا۔۔۔

ناڑا کھول کر اس نے شلوار اتاری پھر میری آنکھوں دیکھتے ہوئے میرے اوپر آگئی۔۔۔

ایک بار پھر میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور کبھی اوپر والا تو کبھی نیچے والا ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔

سب سے زیادہ جو چیز مجھے جوش دلا رہی تھی وہ اس کے ہاتھوں کی حرکت تھی۔۔۔

اس کے ہاتھ میرے سینے پر چل رہے تھے نیچے سے وہ اپنے گاند عین لن کے پاس کے جاتی جب لن کو چھو جاتی تو واپس کھینچ لیتی۔۔۔

میں نے اس کے برا کی ہک کھولی اس نے ایک ہاتھ مموں پر رکھا اور مسکراتے ہوئے برا اتارنے لگی۔۔۔

چھپاتے دکھاتے اس نے برا اتار دی پیچھے کو کھسکتے ہوئے لن پر گانڈ کو رگڑا وہیں سے بیٹھے بیٹھے جھکی اور اپنی زبان نکال پر ناف پر رکھ دی۔۔۔

زبان لمبی کرکے پھیرتے ہوئے ایک ہاتھ مموں پر رکھے اوپر کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔

سینے پر آ کر اس نے اپنے ممے میرے سینے میں دبا دئیے اور ہونٹ پر ایک پاری کی ۔۔۔

میرے ہاتھ خود بخود کی اس کے چوتڑوں پر چلے گئے چوتڑوں کو کچھ لمحے دبایا پھر شلوار کو پکڑ کر اتارنے لگا۔۔۔

اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ مجھے روکا خود میرے اوپر سے ایک طرف اتر کر سیدھی لیٹ گئی۔۔۔

مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا میں اپنی جگہ سے گھوم کر اس کے اوپر آگیا اس نے اپنی باہیں کھولیں میں اس کے مموں پر ہاتھ رکھ کر سیدھا اوپر لیٹ گیا۔۔۔

میرا اکڑا ہوا لن اس کی ٹانگوں میں گھس گیا لن کو ٹانگوں میں رگڑتے ہوئے میں نے ممے دبانے کے ساتھ ساتھ ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے۔۔۔

وہ بھی میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی اس کا ایک ہاتھ بالوں میں پھر رہا تھا دوسرا میری کمر پر تھا۔۔۔

جیسے جیسے میں لن کو ٹانگوں میں رگڑ رہا تھا اس کی ٹانگیں کھلتی جا رہی تھیں لن کو شلوار کے اوپر سے ہی پھدی تک رسائی مل گئی۔۔۔

اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ہونٹوں سے جوس پینے کے بعد میں اس کے مموں کی طرف بڑھا ۔۔۔

اس نے میرے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر نہ میں سر ہلایا مجھے نیچے اتارا اور وہ اٹھی ۔۔۔

اس کے اٹھنے سے سینے کے ابھاروں نے اچھل کر اودھم مچایا وہ ایک ادا سے مسکراتی ہوئی سائیڈ ٹیبل کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔

میں بھی اس کے پیچھے گیا پیچھے سے اس کو پکڑ لیا ہاتھ آگے لے جا کر ممے پکڑ کر مسلنے لگا۔۔۔

ہونٹ گردن پر رکھ کر کس کی وہاں سے ہونٹ رگڑتے ہوئے کندھے پر آیا ایک ہاتھ سے اس کی شلوار کو پیچھے سے نیچے اتارا۔۔۔۔

شلوار کو نیچے سرکاتے ہوئے چھوڑ دیا شلوار اس کے پاؤں میں جا گری اس کے ہاتھوں میں انگوروں کا گچھا تھا۔۔۔

اس نے اپنا چہرا گھمایا میری طرف کیا ایک دم وہ گھوم گئی میری گرفت ڈھیلی ہوئی اس نے مجھے بیڈ پر دھکا دیا۔۔۔

اس نے سائیڈ ٹیبل سے ایک ڈش سے انگوروں کا گچھا اٹھایا۔۔۔

میں بیڈ پر جا گرا وہ ہاتھ میں انگوروں کا گچھا لیے بیڈ پر آئی آدھی ترچھی لیٹ کر اس نے اپنے ہونٹوں سے ایک انگور توڑا ۔۔۔

منہ میں انگور لے کر اس نے ہونٹ میری طرف بڑھائے میں جھٹ سے اپنا منہ کھولا ۔۔۔

وہ بڑے دلفریب انداز سے میرے اوپر جھکی اپنے لب میرے لبوں سے لگائے انگور میرے منہ میں ڈال دیا۔۔۔

میں اس کی اس ادا پر فدا ہو گیا اس کی آنکھوں میں میرے لیے جو جذبات رقساں تھے ان کا بیاں کرنا ممکن نہیں۔۔۔

اس نے ایک اور انگور توڑا میرے منہ میں ڈالا پھر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر میرے منہ سے انگوروں کا رس چوسنے لگی۔۔۔۔

بہت دفعہ انگور کھائے تھے جوس بھی پیا تھا لیکن ایسا ذائقہ کبھی نصیب نہیں ہوا تھا ۔۔۔

میرے اندر تک انگوروں کا رس اترنے لگا مجھ سے برداشت نہ ہوا میں اٹھ بیٹھا اس کے نازک ہاتھ سے انگوروں کا گھچا لیا۔۔۔

بڑے پیار سے اس مومل وجود کو بیڈ پر لٹایا انگور ہاتھ میں پکڑ کر اس کے ابھرے ہوئے مموں پر انگوروں کے گچھے کو پھیرنے لگا۔۔۔

جب انگور اس کے مموں پر رگڑ کھاتے تو اس کا پیٹ بل کھاتا اس کا وجود کپکپانے لگتا میں نے انگوروں کو دودھ کے ڈبوں پر پھیرنے کے بعد پیٹ کی طرف سفر شروع کیا۔۔۔۔

ناف پر پہنچ کر جیسے ہی میں نے گچھے سے لٹکتے انگور ناف پر لگائے وہ ایک دم سے تڑپی۔۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ تھام لیا۔۔۔

اس کی نظروں میں نا جانے کیا تھا میں رک گیا لیکن میرا دل نہ بھرا میں ان انگوروں کو اور مٹھاس دینا چاہتا تھا۔۔۔

میں نے انگور ایک ایک کرکے گچھے سے الگ کرتے ہوئے اس کے پیٹ پر گرانے شروع کر دئیے۔۔۔

کچھ دانے مموں کے درمیان گرے جن کو اس نے مموں کو ملا کر وہیں روک لیا۔۔۔

سارے انگور توڑنے کے بعد میں نے اپنا منہ اس کے پیٹ پر جھکایا اور زبان سے انگور چن چن کر کھانے لگا۔۔۔۔

جب چند ایک انگور رہ گئے تو میں انگور لبوں میں لے کر اس کے ناف کی طرف بڑھا ناف میں انگور کو رکھ کر ناف کے ارد گرد زبان پھیرنے لگا۔۔۔۔

اس کا ہاتھ میرے سر پر آیا اس نے مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن میں زبان سے اس کے پیٹ کو چاٹتا رہا۔۔۔

پھر وہاں سے زبان پھیرتا اس کے شان سے اپنے تمام تر ظاقت سے سینے پر براجمان مموں تک پہنچ گیا۔۔۔

مموں کے درمیان موجود انگور کو ہونٹوں میں لیا اور اور مموں کے اردگرد پھیر کر نپل تک لے گیا۔۔۔

تب تک اس کا وجود تھرتھرانے لگ گیا تھا اس کے منہ سے امممم آہہمممم کی آوازوں کے ساتھ ساتھ سسکاریاں بھی نکل گئیں تھیں۔۔۔

ایک نپل پر انگور پھیر کر میں نے دانتوں سے توڑ دیا اس کا سارا رس ممے پر مسل دیا۔۔۔

پھر زبان نکالی اور رس چاٹنے لگا یہ سب اس کی برداشت سے باہر ہو گیا اس نے اب مجھے اپنے اوپر دبا لیا۔۔۔

میرا سر اس کے ممے پر دب گیا میں نے اپنے ایک ہاتھ کو اس کے دوسرے ممے پر رکھا اور دبانے لگا۔۔۔

اس کی گرفت میرے سر پر ڈھیلی ہو گئی میں نے آخری انگور کو ہونٹوں میں لیا اور دوسرے ممے پر لے گیا۔۔۔

وہاں بھی میں نے ویسا ہی کیا اس کے بعد جب میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ شہوت کا ہیجان برپا تھا۔۔۔

اس کی آنکھیں چیخ چیخ کر مجھے کہہ رہی تھیں اب اپنا سخت لن میری بالوں سے پاک پھدی میں گھسا دو۔۔۔

اپنے ہاتھ کو ناف پر موجود انگور پر لے گیا اور انگور کو نچوڑ کر نیچے کے طرف اس کی پھدی پر لے گیا۔۔۔

اپنے ہاتھ سے سارا رس اس کے پھدی پر لگا دیا اور پھدی کو اپنے ہاتھ سے مسلنے لگا اس کے وجود میں ایک طوفان آگیا۔۔۔

سارا وجود کانپنے لگا وہ اتنی بے قابو ہو گئی کہ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا بلو چھیتی نال کجھ کر میری جان نکلدی پئی اے۔۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا میرا لن اس کی پھدی پر جا لگا اس نے اپنی ٹانگیں کھول کر میری کمر کے گرد لپیٹ لیں۔۔۔

ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے اور چوسنے لگی میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر پھدی پر لن کو سیٹ کیا۔۔۔

لن پر دباؤ ڈالا پھدی رو رو کر بہت زیادہ چکنی ہو چکی تھی لن اس پھسلن کا فائدہ اٹھاتا پھدی میں گھس گیا۔۔۔

لن بڑی آسانی سے اندر اتر گیا تھا مجھے زور بھی نہیں لگانا پڑا۔۔۔

میں نے لن کو تھوڑا باہر کھینچا تھوڑا زور سے گھسایا لن آدھے سے کچھ کم اندر اتر گیا۔۔۔

شانزل کے منہ سے ہمممم نکلا جو میرے منہ میں ہی دب گیا ایک بار لن کو باہر نکالا پھر پہلے سے کچھ زیادہ زور سے گھسا مارا لن پھدی کے دیواروں کو رگیدتا ہوا جڑ تک اندر اتر گیا۔۔۔۔

شانزل کے منہ سے غوں غوں کی آواز میرے منہ نکلی لیکن اب تو جو ہونا تھا ہو گیا تھا۔۔۔۔

لن پھدی میں پھنس گیا تھا اس کا وجود کانپ رہا تھا میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے ممے پر رکھ دیا۔۔۔۔

مما دبانے لگا ساتھ جوش سے ہونٹ چوسنے لگا۔ وہ مزے میں آنے لگی میں نے اب آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرنے کا عمل شروع کر دیا۔۔۔

جب لن باہر نکالتا تو لن کے ساتھ گانڈ اٹھا دیتی جب واپس اندر کرتا تو وہ گانڈ کو پیچھے کرتی جاتی۔۔۔۔

ایسے ہی کچھ دیر کرنے کے بعد لن نے جب اپنا رستہ صاف کر لیا تو میں اس کے مموں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔۔

بیٹھ کر اس کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھا اور گھسے مارنے لگا اس کی دونوں ٹانگیں میرے کندھوں پر تھیں۔۔۔

میرے ہاتھ اس کی ٹانگوں کے اطراف سے اس کے مموں پر تھے۔ میں مموں کو زور زور سے دبا رہا تھا۔۔۔

شانزل کبھی سر کو اٹھاتی کبھی دائیں کرتی کبھی بائیں رکھتی۔۔ میری سپیڈ آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔۔۔

میں اپنی سپیڈ بڑھا رہا تھا شانزل کا وجود بھی مچل رہا تھا اس سسکیاں آہوں میں بدلنے لگیں۔۔۔



Source link

Leave a Comment