گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 47)

 

ہم باہر نکلے تو عاذب نے فائل مجھے پکڑاتے ہوئے کہا یہ فائل تم لازمی پڑھو اس کو پڑھنے کی ضرورت تمہیں زیادہ ہے کیونکہ ۔۔۔یہ کہہ کر وہ چپ ہو گیا اور میں نے پوچھا بھی لیکن اس نے کچھ نہ بتایا بس یہ ہی کہا جب تم یہ پڑھو گے تو سمجھ جاؤ گے یہ فائل بڑی محنت سے تیار ہوئی ہے اس کو پڑھنا ضرور میں یہ پڑھ چکا ہوں یا یہ کہوں کہ اس فائل کے ساتھ میرا رشتہ بہت گہرا ہے تو غلط نہ ہو گا ۔۔۔

یہ لوگ مجھے الجھاتے جا رہے تھے میں رک گیا اور عاذب سے کہا یار ایسے نہ کرو آپ مجھے تھوڑا بہت تو بتاو تاکہ مجھے سمجھنے میں آسانی ہو اور یہ فائل مجھے کیوں دی اور بھی بہت سے لوگ ہیں عاذب نے کہا اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تم ہاشم کے بھائی ہو دوسری وجہ چند دنوں میں تم نے جو کالج میں فرتول ڈال دیا میں خود سمجھ نہیں پایا کہ یہ سب ہو کیسے گیا ۔۔۔

جس کام کو کرنے کے لیے ہم نے اتنے پاپڑ بیلے لڑائیاں کیں تھانے تک کے چکر کاٹے وہ چند دنوں میں ہو گیا یہ سب اتنی آسانی سے ہو گیا اور کوئی سمجھ ہی نہیں پایا وہ لوگ خود بھی حیران ہوں گے کہ یہ سب کیا ہوگیا ہے تم پر بہت بڑی ذمہ داری آنے والی ہے اور ہاں میرا خیال ہے اب تک شاہ زیب ہاشم کو سب بتا چکا ہوگا اب اصل کام شروع ہو گا شاہ زیب واحد بندہ ہے جو ان سب کو کنٹرول کر سکتا ہے ۔۔۔

وہ بہت عرصے سے چپ تھا بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا جب سے ہاشم کالج سے گیا ہے تب سے وہ پس پردہ چلا گیا ہے کالج آتا ہے کوئی نہیں جانتا اس کو کالج کلاس لائبریری اور کتابیں میں بھی اس کے ساتھ ہی ہوتا تھا پتہ نہیں اس دن کسی کام سے باہر آیا اور تمہاری باتیں سنیں مجھے ہاشم کی یاد آگئی اور پھر بس ۔۔۔ میں نے شاہ زیب کو بتایا بھی کہ تم ہاشم کے بھائی ہو اور کالج میں چھا رہے ہو وہ بس مسکرا کر چپ ہو گیا ۔۔۔

شاہ زیب کا کریکٹر بلکل ہی بدل چکا ہے اگر اس کو اس فائل کے باہر آنے کا پتہ چل گیا اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ فائل ہاشم کے بھائی کے پاس ہے تو وہ ضرور منظر عام پر آئے گا جب وہ ایکٹیویٹ ہو گیا تو پھر کالج میں کوئی مائی کا لال پر نہیں مار سکتا ایسا ہے میرا یار۔۔۔

میں نے کہا مجھے بھا ہاشم نے آج ہی کہا تھا کہ شاہ زیب سے ملنا اس کو بتانا کہ ہاشم کے بھائی ہو پھر شاہ زیب کو فون کر کے بتایا کہ میں اس کون ہوں پتہ نہیں شاہ زیب نے کیا کہا بھائی ہنسنے لگے اور بولے آخر بھائی کس کا ہے میں تو ٹیوشن آگیا بھا اتنی جلدی گھر نہیں آتے تھے آج بہت جلدی گھر آگئے تھے ۔۔۔

عاذب نے ہنسنتے ہوئے کہا بہت سے جھٹکے لگنے باقی ہیں ابھی تو ابتدا بھی نہیں ہوئی میں نے وہ فائل عاذب کو پکڑاتے ہوئے کہا میں یہ فائل بعد میں لے لوں گا ابھی میں ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں دوسرا مجھے ابھی کالج میں کیا کچھ ہو رہا ہے اس کو سمجھنے دیں پھر دیکھا جائے گا عاذب نے غور سے میری طرف دیکھا اور کہا اگر ابھی لے لیتے تو اچھا تھا چلو جلد سے جلد تمہیں یہ سب جاننا ہوگا ورنہ تم مشکلات میں دھنس سکتے ہو ۔۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے جلد ہی لے ہوں گا ہم چلتے جا رہے تھے شاہد جا چکا تھا عاذب نے ایک موڑ پر رک کر کہا مجھے بھی کچھ کچھ پتہ چلا ہے تمہارے بارے میں میرے تک جو باتیں پہنچ رہی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ کہا گیا ہے خیر کوئی بات نہیں جب تم ذہنی طور پر تیار ہو جاؤ بتا دینا ویسے کل کالج میں ایک میٹنگ ہے جس میں تم نے اور شاہد نے بھی آنا ہے وہاں تمہارے جاننے والے کچھ اور لوگ بھی ہوں گے ۔۔۔۔

میں نے عاذب سے اجازت لی اور میں اپنے رستے ہو گیا پیدل چلتے ہوئے پیاس لگ گئی میں چاچا کے گھر چلا گیا وہاں پانی شانی پیا کچھ دیر فرحی کے پاس بیٹھا رہا بالو بھی تھا چاچی ہمسائیوں گھر گئی ہوئی تھی کمال کہ عورت تھی چاچی بھی کہیں نہ کہیں جانے کو تیار ہی رہتی تھی کبھی کسی کے ساتھ ہسپتال جا رہی ہوتی کبھی بازار کبھی کہیں کبھی کہیں ۔۔۔

فرحی بہت کھل رہی تھی جان بوجھ کر باربار دوپٹہ گرا کر مجھے نسوانی حسن کے جلوے دکھا رہی تھی وہ بیٹھ کر کوئی کام کر رہی تھی جھک رہی تھی جس سے اس کے مموں کی لکیر واضح ہو رہی تھی جب دوپٹہ گرتا تو میرا لوڑا پھنکارنا شروع کر دیتا۔۔۔

فرحی نے بالو کو کہا جاؤ بوتل لے آو ہمارے تائے کا منڈا آیا ہے اور تم آرام سے بیٹھے ہو وہ اٹھی میرے منع کرنے کے باوجود بالو کو بھیج دیا جیسے ہی بالو دروازہ بند کر کے باہر نکلا فرحی نے ایک دم بھاگ کر مجھے جپھی ڈال لی اور پاریاں کرنے لگی اس کے اندر تو جیسے آگ لگی تھی میرا لن تو پہلے تنا ہوا تھا اب تو پھٹنے والا ہو گیا تھا۔۔۔۔

وہ ایڑیوں کے بل ہو کر میرے ہونٹوں تک پہنچ رہی تھی میں نے اس کی گانڈ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کو اوپر اٹھایا اس کے چڈوں میں میرا لن گھس گیا اس نے میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا لن کو ٹانگوں کو دبا لیا میں بھی اس کا ساتھ دینے لگا وہ بہت تیزی سے ہونٹ چوس رہی تھی ۔۔۔۔

میں نے ایک ہاتھ اس کی گانڈ کے نیچے رکھا دوسرا اس کے مموں پر رکھ دیا اس نے سئی کی آواز کے ساتھ کہا بلللووو کچھ کرو مجھ سے رہا نہیں جا رہا میں نے کہا بالو آ جائے گا اس نے کہا نہیں آتا بس تم کرو ایسا کرو میں سامنے نظر رکھتی ہوں تم کرو میں نے سوچا اس طرح تو ہم نظر آ جائیں گے جیسے وہ کہہ رہی ہے۔۔۔

وہ چارپائی پر لیٹ کر کہہ رہی تھی میں ادھر دیکھتی ہوں تم بیٹھ کر کرو میں اس کو دروازے کے پاس کھڑا کیا خود اس کے پیچھے آیا لن پینٹ کی زپ کھول کر باہر نکالا اس کو جھکایا پیچھے سے اس کی پھدی پر لن رکھا لیکن پوزیشن اچھی نہیں تھی اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو مزید جھکایا اس کی گانڈ اوپر کو اٹھی پھدی باہر نکل آئی ۔۔۔۔

لن پھدی پر رکھ کر دباؤ ڈالا ٹوپی اندر اتر گئئ اس افففف کیا اور کہا بلو چھیتی نال پا دے انا ٹیم نیں ہیگا میں نے زور لگایا لن اس کی گیلی پھدی میں آدھا اتر گیا تھوڑا سا پیچھے کھینچا پھر جھٹکا مارا لن سارا اندر اور دروازہ کھلنے کی آواز آئی وہ ایکدم سیدھی ہوئی میں نے بھی لن کو پکڑ کر جلدی سے پینٹ میں ڈالا اور زپ بند کرنے لگا۔۔۔۔

جلدی کی وجہ سے لن زپ میں پھنس گیا میرے منہ سے چیخ نکلتی نکلتی رہ گئی فرحی نے دیکھ لیا اس نے جلدی سے باہر جاتے ہوئے بالو کو کہا نمکو بھی لائے ہو اس نے کہا نہیں فرحی بولی جلدی لے آو میں بوتل ڈالتی ہوں بالو باہر گیا فرحی گلاس لے کر اندر آئی میں تب تک آرام آرام سے زپ کو کھول کر لن نکال چکا تھا فرحی نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا اس کے ہاتھ کا لمس پا کر لن اتنے درد کے باوجود سخت ہونے لگا۔۔۔

اس نے جلدی سے لن چھوڑا اور پیچھے ہٹتے ہوئی بولی دھیان سے کرنا اب پھر اس نے اپنا ہاتھ سونگھ کر کہا اس پر کیا لگا ہے میں نے اس کی پھدی کی طرف انگلی کرتے ہوئے کہا اس نے اپنا رس لگایا ہے وہ شرما گئی اور بولی بدتمیز میں تب تک زپ بندکر چکا تھاوہ باہر گئی ہاتھ دھو کر آئی گلاس میں بوتل ڈال کر مجھے دی بالو نمکو لے آیا میں نے بوتل پی اور گھر آگیا تب تک شام ہو چکی تھی ۔۔۔۔

شانزل کے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے مجھے رات والا واقعہ یاد آیا میں نے سوچا آج اس کا بھی پتہ کرتے ہیں کون تھا اور کیا معاملہ تھا دوسرا اب مجھے شمع والے معاملے کو بھی حل کرنا تھا میں اس کی پلاننگ کر چکا تھا بلکہ اس کے لیے بندوبست بھی کر لیا تھا بس شمع سے پوچھنا تھا اصل معاملہ ہے کیا وہ کس طرح اس سب میں پڑ گئی وہ میری کیوں تصویریں بنانا چاہتی تھی ۔۔۔۔

کس کے لیے بنانا چاہتی تھی میرے لیے جاننا ضروری تھا یہ تب ہی ممکن تھا جب شمع سے بات ہو پاتی میں نے آج رات شانزل سے مل کر اس سے بات کرنے کا فیصلہ کر کیا اب جاننا یہ تھا کہ ان کے گھر آج رات کون ہوگا اس کی امی آ گئی یا نہیں یہ سوچتےہوئے میں گھر نیں داخل ہوا امی کو سلام کیا جو فون پر کسی سے بات کر رہی تھی امی نے پوچھا تو تم کب آ رہی ہو پھر دوسری طرف کی بات سنتی رہی اور بولی کوئی گل نہیں تم اپنے ابو کا خیال رکھو یہاں کی فکر نہ کرو ہاں۔۔۔ہاں ۔۔۔ہاں۔۔۔ میں بھیج دوں گی ۔۔۔

امی نے کچھ دیر اور بات کی میں تب تک واش روم گھس گیا تھا نہا کر تازہ دم ہوا باہر آیا تو امی نے کھانا دیا میں کھانا کھا رہا تھا کہ امی نے کہا شانزل کی امی کا فون تھا وہ کافی پریشان ہو رہی تھی شانزل کے ابو بھی آج گاؤں میں کام ہے اور وہ دونوں اکیلی ہیں کوئی ان کے پاس نہیں ہے تو اس نے تمہیں ان کے پاس رہنے کا کہا ہے تم اس طرح کرو کھانا کھا کر ابھی ان کے گھر چلے جاؤ ۔۔۔۔

بچیاں ڈر رہی ہوں گی ان کی امی بتا رہی تھی کہ شمع کافی ڈر رہی تھی رات بھی وہ اکیلی تھیں تو شانزل کو لگا کوئی ان کے گھر گھس آیا تھا میں نے امی کو کہا لیکن آپ تو پرسوں کہہ رہی تھیں کہ ان کے ابو اب آ جایا کریں گے میں نے تو اس لیے کل آپ سے نہیں پوچھا تھا ورنہ میں چلا جاتا وہاں بھی پڑھنا ہوتا ہے اور یہاں بھی میں تو تقریباً ساری رات ہی پڑھتا رہا تھا وہ دونوں جلدی سو جاتی ہیں ٹی وی وہ دیکھتی نہیں ہیں۔۔۔

امی نے کہا بڑی سلجھی ہوئی بچیاں ہیں اوپر والا ان کے نصیب اچھے کرے اکیلی بچیاں ہیں پتہ نہیں کیسے نصیب ہوں گے تم جلدی کھانا کھا لو میں دیوار سے ان کو بتا دیتی ہوں تم آو رہے ہو امی نے دیوار سے ان کو آواز دی اور بتا دیا میں کھانا ختم کر چکا تھا میں نے اپنا چھوٹا سا کتابوں والا بیگ اٹھایا اور ان کے دروازے پر چلا گیا۔۔۔

میں نے غور کیا تو مجھے گلی کے ہونے پر اندھیرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا میں نے دروازہ کھٹکھٹا دیا تھا جب دروازہ کھلا تو میں نے یہ دیکھے بغیر کہ کون ہے بیگ پکڑایا اور گلی کے کونے کی طرف چل پڑا میں چلا تو وہ سایہ بھی حرکت میں آگیا ۔۔۔۔

میں نے اس کی طرف دوڑ لگا دی وہ بھی بھاگنے لگا میرے گلی کی نکڑ تک پہنچنے تک وہ غائب ہو چکا تھا میں واپس آیا تو شمع دروازے میں کھڑی تھی اس نے مجھے کہا کیا ہوا تھا کون تھا اس کی آواز میں واضح کپکپاہٹ تھی میں نے کہا کوئی نہیں میں دیکھ نہیں پایا اگر ہاتھ لگ جاتا تو آج اس کی خیر نہیں تھی۔۔۔

شمع نے میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا سچ میں نہیں پتہ چلا کون تھا ۔۔۔۔

میں نے کہا نہیں شمع نے ایک بار پھر میری طرف غور سے دیکھا اور ایک طرف ہٹ کر مجھے اندر آنے کا رستہ دیا میں گھر میں داخل ہو گیا وہ میرے پیچھے پیچھے آتے ہوئے بولی میں نے اس دن بھی کہا تھا تم سے بات کرنی ہے لیکن تم نے مجھے موقع نہیں دیا تھا میں نے کہا آج موقع ہی موقع ملے گا اس نے ہنستے ہوئے کہا شانی موقع دے گی کہ تم مجھ سے بات کر سکو۔۔۔۔

مجھے اس کی اس دن والی بات سے اس رات کے سارے واقعات یاد آنے لگے شمع کی باتیں ادھورے اشارے اس کا ویڈیو بنانا موبائل میرے پاس تھا اب لیکن شانزل کا موبائل مجھے دینا شمع کا شانزل کے حوالے سے ذومعنی الفاظ میں یہ سب سوچتے ہوئے اندر کمروں کی طرف گیا شانزل سامنے کھڑی تھی مجھے دیکھ کر مسکرائی اور ہاتھ بڑھایا میں نے ہاتھ ملایا۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں پیار کی چمک تھی میں ابھی اس کو مل کر اندر بیٹھک میں گیا ہی تھا کہ فون کی بیل ہوئی میں نے فون دیکھا تو ڈاکٹر آنٹی کا فون تھا میں نے فون رسیو کیا کان سے لگایا دوسری طرف سے آنٹی نے کہا کیا حال ہے اس کی آواز میں ہلکی پھلی لڑکھڑاہٹ تھی جس سے اس کے مدہوش ہونے کے اشارے مل رہے تھے اس نے بڑے دلدارانہ انداز سے کہا آ جاؤ نا میرے پاس بڑا دل کر رہا ہے ۔۔۔۔

میں نے کہا گھر میں ہوں ابا پاس ہیں بعد میں بات کرتا ہوں اور فون بند کر دیا اس کے بعد فون کو آن نہ کیا میں نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنی کتابیں ایک طرف رکھیں اور بیٹھک کا معائنہ کیا تو مجھے یہاں کسی کے کچھ دیر پہلے موجود رہنے کا شک پڑا میں نے بیڈ کی چادر کو چیک کیا تو کچھ نہ ملا چادر ٹھیک تھی میں اٹھ کر صوفے پر گیا وہاں سلوٹیں تھیں۔۔۔۔

پھر دروازے کے قریب مجھے ایک چھوٹا سا شاپر ملا جس میں کچھ سفید سا تھا میں اس کو اٹھایا اور بڑے غور سے دیکھا لیکن کچھ سمجھ نہ آئی میں نے وہ شاپر اپنی جیب میں ڈال لیا اور بیڈ پر کتاب کھول کر بیٹھ گیا ایسے ہی بیٹھا رہا پڑھنا تو دور کتاب کو بس کھولا تھا دھیان کہیں اور تھا۔۔۔۔

میرے دماغ میں کافی شکوک وشبہات پیدا ہو رہے تھے یہ بات تو طے تھی کہ یہاں کوئی تھا اب وہ کون تھا کس سے ملنے آیا تھا کس لیے آیا تھا اور اس پڑی میں کیا تھا سب کچھ مجھے الجھا رہا تھا میں یہ سوچی جا رہا تھا کہ شانزل کی آواز آئی کہاں کھو گئے ہو میں نے ہڑ بڑا کر اوپر دیکھا تو شانزل کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا اس نے مجھے دودھ پیش کیا جو میں نے پی لیا۔۔۔

وہ مسکراتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولی میں تو اس رات سے اتنے سرور میں ہوں کہ ہر پل میں وہ لمحات ہی یاد کرتی رہتی ہوں جب بھی یاد کرتی ہوں میرے پورے جسم میں سرور کی لہریں دوڑنے لگتی ہیں۔۔۔۔

میں اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جہاں تک مجھے پیار ،چاہت اور وارفتگی نظر آئی اس کی آنکھوں میں میرے لیے سچے جذبات تھے اس کے لہجے میں بھی میرے لیے پیار ہی پیار تھا میں مسکرانے لگا اور اس کا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا اور پھر اس کا ہاتھ اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے لگا کر چوما ۔۔۔

وی ایک دم کھل اٹھی میں نے اس سے کہا شانزل میں نے شمع سے کچھ بات کرنی ہے جو تم نے اس دن کہا تھا کہ اس کی حرکات کچھ مشکوک ہیں میں اس سے اس بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں مجھے کچھ وقت اس کے ساتھ بات کرنے کے لیے دینا اور اس سے میں سب کچھ جاننے کی کوشش کروں گا بس تم اتنا کرنا کہ اس کو میرے پاس بھیج دینا وہ ہنستے ہوئے بیٹھی بیٹھی میرے گلے لگ گئی اور کہا مجھے پتہ ہے تم میری وجہ سے اس کو سمجھانا چاہتے ہو میں جانتی ہوں تم یہ سب صرف میرے ساتھ تعلق کی وجہ سے کر رہے ہو۔۔۔۔

میں نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ہاں میں نہیں چاہتا کہ وہ غلط لوگوں کے ہاتھوں میں آ جائے میں اس سے بات کرنے کے بعد تمہیں بتاؤں گا کہ اصل بات کیا ہے کیونکہ جو موبائل اس دن تم نے مجھے پکڑایا تھا اس سے میں کافی کچھ جان چکا ہوں اس لیے امید ہے وہ کچھ نہیں چھپائے گی اس نے کہا چلو ٹھیک ہے میں تب تک کچھ انتظام کرتی ہوں تم اس سے بات کر لو جب بات ہو جائے تو مجھے بتانا آج اس کے سونے کے بعد میں خود تمہارے پاس آوں گی تم میرے کمرے میں نہ آنا ۔۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے اور وہ اٹھتے ہوئے ایک چار پھر رکی اور میرے ہونٹ چومے اور مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی اسے کے جانے کے کوئی تین منٹ بعد شمع مسکراتی ہوئی اندر آئی اور کھڑے ہو کر اپنی کمر پر ہاتھ کر بولی واہ کیا کہا شانی کو وہ کتنی خوش تھی اس نے خود مجھے کہا جاؤ بلو کے پاس بیٹھو اس سے باتیں کرو میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں جب وہ سو جائے تو اپنے کمرے میں چلی جانا۔۔۔۔

میں اب اس کو کیا بتاتا لیکن ایک نہیں مجھے کئی باتوں نے مجبور کیا کہ میں اس سے بات کروں ریحان کا کالج آ کر موبائل کا تقاضہ کرنا اس کی ممی کا مجھ سے اشاروں میں باتیں کرنا ریحان کا مجھے یہ کہنا کہ وہ سب جانتا ہے ایسی کئی باتیں پھر ان کی بیٹھک سے کسی کو نکلتے دیکھنا اور آج جو شاپر کی پڑی میرے ہاتھ لگی میں یہ تو سمجھ گیا تھا کہ وہ کوئی اچھی چیز ہرگز نہیں ہے۔۔۔۔

میں نے شمع کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا بس اس دن تمہاری چاہت دیکھ کر میں بہت شرمندہ ہوا تم کو غلط سمجھتا رہا پھر تم نے خود بھی کہا کہ مجھ سے بات کرنی ہے تو اب آ ہی گیا ہوں تو پہلے تم سے بات ہو جائے اور مل بھی لیں گے شمع مسکرانے لگی پھر افسردہ ہو گئی اس نے کہا بات تو کرنی ہے لیکن سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کروں بات ہی کچھ ایسی ہے ۔۔۔۔

وہ اٹھی اور باہر جھانک کر دیکھا پھر دروازے کو اندر سے بند کیا کنڈی بھی لگا لی اور بیڈ پر میرے سامنے چوکڑی مار کر بیٹھ گئی میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا دیکھو شمع تم ایک اچھی سمجھدار لڑکی ہو میں نہیں چاہتا کہ میں بعد میں پچھتاتا پھروں اس لیے تم سے بات کر کے سب کچھ سمجھنا چاہتا ہوں اس دن تم کافی الجھی الجھی باتیں کر رہی تھی ان باتوں نے مجھے کافی پریشان کیا ہے میں چاہتا ہوں کہ سب کچھ کھل کر بتاؤ کوئی بات نہ چھپاؤ ہو سکتا ہے میں تمہارے کام آ سکوں ۔۔۔

وہ تلخی سے مسکرا کر بولی شاید تم بھی میری مدد نہ کر سکو ہاں یہ کر سکتے ہو جو میں چاہتی ہوں وہ کر دو میرے دل میں جو خواہش ہے وہ پوری کر دو میں اور کچھ نہیں چاہتی لیکن تم نے کہا ہے کہ تم میری مدد کر سکتے ہو تو میں بتا دوں جو کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے یا یہاں کی اور لڑکیوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ تم اکیلے نہیں ختم کر سکتے اس کے لیے بڑا منظم گروہ بنانا پڑے گا۔۔۔

میں ہنسا اور کہا پھر تو سمجھ لو کام ہو گیا تم بس مجھے بتاؤ گروہ کی فکر نہ کرو تمہیں جلد سب کچھ ٹھیک ہوتا نظر آئے گا ہاں ایک بات یاد رکھنا سب کچھ سچ سچ بتانا کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہو میں نہیں چاہتا کہ کہیں کوئی چوک ہو اس لیے تفصیل سے بتاؤ اور شروع سے بتاؤ کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ اور کون کر رہا ہے میں تب ہی کچھ کر سکوں گا باقی کا کام مجھ پر چھوڑ دو جیسے بھی ہوگا میں تمہاری مدد کروں گا ۔۔۔

اس نے کہا میں ساری بات بتاتی ہوں میرے ساتھ وعدہ کرو کہ یہ بات صرف تم تک رہے گی شانزل کو نہیں بتاؤ گے اور میرا نام کہیں نہیں آئے گا نہیں تو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی ان لوگوں کے پاس میرے بہت سے راز ہیں جو وہ کسی کو بتا سکتے ہیں اور اگر اس دن موبائل غائب نہ ہوتا تو شاید تمہارے راز بھی پہنچ جاتے۔۔۔۔

میں اس کی بات سن کر اور الجھ گیا تھا وہ کہنا کیا چاہ رہی ہے اس کی بات کا مطلب کیا ہے اس لیے میں نے اس کو کہا اس طرح نہیں سب کھل کر بتاؤ ۔۔۔

شمع بولی یہ تو تم جانتے ہو میں طارق کے گھر ٹیوشن پڑھنے جاتی ہوں لیکن یہ نہیں جانتے ہو گے کہ شانزل نے چھوڑ دی لیکن میں ابھی جاتی ہوں اس کی کیا وجہ ہے اور ایک دوسری بات بھی نہیں جانتے ہو گے تمہارا دوست ریحان جو ہے اس کی امی سے بھی کئی بار مل چکی ہوں اور ان کے گھر بھی جاتی ہوں ۔۔۔۔

میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا مطلب عمائمہ آنٹی کے گھر بھی جاتی ہو لیکن وہ تو ڈاکٹر ہے اچھی عورت ہیں اس میں حیرانی کی کیا بات ہے بہت ہی ملنسار ز پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی خاتون ہیں۔۔۔

شمع نے تلخی سے کہا پڑھی لکھی سلجھی ہوئی ہیں صرف دنیا کے لیے تم اس کی حقیقت نہیں جانتے ہو اس لیے کہہ رہے ہو اس کا جو بیٹا ہے وہ کیسا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا سوچ ہے۔۔۔

میں نے کہا وہ بھی میری نظر میں اچھا لڑکا ہے میری بات کو کاٹتے ہوئے بولی اچھا ابھی بھی کہہ رہے ہوں جب کہ تمہارے پاس وہ کالج میں گیا تھا موبائل کی بات کرنے اور اس نے تم سے کتنی بدتمیزی سے بات کی میں سب جانتی ہوں۔۔۔

میرے لیے یہ کوئی چونکنے کی بات نہیں تھی کیونکہ میں اسی دن سمجھ گیا تھا کہ اس تک موبائل کی بات شمع نے خود ہی پہنچائی ہے اور اس کا شمع سے کوئی نہ کوئی تعلق ہے میں جیسا تعلق سمجھ رہا بات اس سےبڑی مختلف لگ رہی تھی شمع کے انداز میں ریحان کے لیے بڑی نفرت تھی اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ یہ اس کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔۔۔۔

اب اگر میں شمع کو یہ بتاتا کہ میں سب جانتا ہوں یا مجھ سے جو بات ڈاکٹر آنٹی نے ڈھکے چھپے الفاظ میں کی اس کا مطلب بھی یہ ہی نکلتا تھا اس کو بھی میرے اور شانزل کے تعلق کا علم ہے کیسے علم ہے یہ میں نہیں جانتا تھا میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا ہاں میں نے تو یہ سوچا ہی نہیں تھا کہ ریحان کو کیسے پتہ چلا موبائل کا ۔۔۔اچھا تم کچھ بتانے لگی تھی ریحان کے بارے میں اور طارق کے بارے میں کیا بتانا چاہتی تھی ۔۔۔

شمع نے بات شروع کی اس نے کہا آج سے دو سال پہلے میں نے اور شانزل نے طارق کے سسٹر کے پاس ٹیوشن پڑھنا شروع کیا تھا میں تو بالکل ہی بچی تھی لیکن شانزل کافی سمجھدار تھی انہی دنوں تمہارا اور شانزل کے آنکھ مٹکا شروع ہو گیا شانزل کو طارق نے تنگ کرنا شروع کیا لیکن وہ تمہارے ساتھ بات چیت کرنے لگی تھی دوسرا طارق کا انداز بھی لوفرانہ تھا اور اس کی شکل دیکھ کر ہی بندے کا دل خراب ہو جاتا ہے۔۔۔

شانزل نے اس کی کافی بے عزتی کی میں یہ سب جانتی تھی شانزل نے ٹیوشن چھوڑ دی لیکن میں جاتی رہی طارق نے مجھے ورغلانہ شروع کر دیا میں جب تم دونوں کو بات کرتے دیکھتی تو اتنا مجھے برا لگتا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں شروع سے ہی تمہیں پسند کرنے لگی تھی جب تم چھت پر آتے تھے تو میں صرف تمہیں دیکھنے کے لیے کی چھت کر آتی تھی۔۔۔۔

میں یہ نہیں جانتی کہ تم میرے لیے نہیں بلکہ شانزل کے لیے آتے ہو میں تو یہ سمجھتی رہی کہ تم مجھے دیکھنے آتے ہو میں کچھ بولنا چاہتا تھا لیکن شمع نے ہاتھ اٹھا کر مجھے چپ کروا دیا اس نے پھر بولنا شروع کیا اس نے کہا جب میں نے ایک دن رات کو تمہیں شانزل کے ساتھ دیکھا تو مجھے بڑا غصہ آیا میں یہ سمجھی کہ شانزل نے میرے حق کر ڈاکا ڈال لیا ہے۔۔۔

اس وقت تک طارق مجھے کافی بار تنگ کر چکا تھا لیکن میں نے اس کو کوئی ریسپانس نہیں دیا تھا تم دونوں ایک دوسرے میں ڈوب رہے تھے میں اپنے آپ میں ڈوب رہی تھی انہیں دنوں میرا بھء دل کرنے لگا کہ میں شانزل کی جگہ تمہاری باہوں میں ہوں تم مجھے پیار کرو جو کچھ تم اس کے ساتھ کرتے ہو میں سمجھتی تھی کہ اس پر صرف میرا حق ہے۔۔۔۔

میں نے ایک خط لکھا جس میں تمہارے لیے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا اور یہ بھی لکھا کہ مجھے تمہارے اور شانزل کے تعلق کا پتہ ہے ساتھ ہی میں نے دھمکی بھی لکھی تھی کہ اگر تم نہ مانے تو میں تم دونوں کی شکایت امی کو لگا دوں گی جب تم دونوں پیار کر رہے ہو گے امی کو بیٹھک میں لے آوں گی میں اب موقع ڈھونڈ رہی تھی کہ یہ خط کیسے تم تک پہنچاؤں ۔۔۔

ایک دن جب میں ٹیوشن پڑھ کر نکلی تو مجھے طارق کے گھر کے سامنے طارق کے ساتھ ایک لڑکا باتیں کرتا نظر آیا گورا چٹا بہت ہی خوبصورت میں اسی کو دیکھتے ہوئے چلنے لگی میں بار بار اس کو دیکھ رہی تھی طارق نے بھی یہ بات نوٹ کی تھی اس نے تو نوٹ کر ہی لیا تھا سب وہ لڑکا ہر روز وہاں کھڑا نظر آتا اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سا موبائل بھی ہوتا تھا میں اس کو دیکھ کر مسکراتی وہ بھی مسکراتا کچھ دن یہ سلسلہ چلا ۔۔۔

میں اکثر جب ٹیوشن جاتی تھی دوپٹہ اتار کر بیٹھ جاتی تھی اور ہوم ورک کرتے ہوئے تقریباً لیٹ ہی جاتی تھی مجھے کئی بار ٹیچر نے منع بھی کیا تھا کہ بیٹھ کر لکھا کرو لیکن مجھ سے بیٹھ کر لکھا نہیں جاتا تھا ایک دن ٹیچر کسی کام سے اٹھ کر کمرے سے نکلیں تو طارق اندر آیا میں اپنے کام میں مگن تھی کہ مجھے کلک کہ دو تین بار آواز آئی ۔۔۔

میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو طارق کے ہاتھ میں موبائل تھا میں اتنا تو نہیں جانتی تھی اس نے کیا کیا ہے لیکن یہ سمجھ گئی تھی کہ اس نے کچھ غلط کیا ہے اس لیے فوراً سیدھی ہو گئی اسی وقت پھر اس نے ویسا ہی کچھ کیا تو روشنی مجھ پر پڑی میں سمجھ گئی کہ یہ روشنی تو تصویر بناتے ہوئے پڑتی ہے وہ مجھے مسکرا کر دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا اور جاتے ہوئے میری طرف موبائل کر کے دکھاتا گیا کہ اس نے میری تصویریں بنا لی ہیں ۔۔۔

ان دنوں صرف میں پڑھنے جاتی تھی باقی لڑکیوں کے پیپر ہو گئے تھے اس لیے وہ سب چھٹیںوں پر تھیں ٹیچر گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئی میں اس کو بتانا چاہتی تھی لیکن طارق گھر میں منڈلاتا رہا مجھے ٹیچر سے بات کرنے کا موقع نہ ملا مجبوراً مجھے گھر جانے کے لیے نکلنا پڑا میں جیسے ہی باہر نکلی باہر پھر وہی خوبصورت لڑکا طارق کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔

آج میرا اس کو دیکھنے کو بھی دل نہیں کر رہا تھا کیونکہ میں کافی پریشان ہو گئی تھی یہ سوچ رہی تھی کہ طارق نے میری تصویر کیوں بنائی ہے میں یہ سوچتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑی میں تھوڑا دور ہی گئی تھی کہ وہ لڑکا میرے پیچھے آیا گلی سنسان تھی اس نے مجھے کہا تم بڑی پیاری لگتی ہو لیکن جب دوپٹہ نہ ہو تو اور بھی پیاری لگتی ہو۔۔۔۔

میں نے رک کر اس کی طرف دیکھا اس نے میرے سامنے موبائل کر دیا جس میں میرا سامنے کا حصہ ننگا نظر آرہا تھا یہاں پر میں نے بولنا اپنا فرض سمجھا اور کہا سامنے کا حصہ مطلب سارا ننگا تھا اس نے کہا نہیں صرف ۔۔۔ تم سمجھ بھی جاؤ اس نے جھجھکتے ہوئے کہا میں نے ایسے اس کی طرف دیکھا جیسے کچھ سمجھ نہ آئی ہو اس نے اپنے مموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ آدھے ننگے تھے۔۔۔

میں نے پوچھا کیسے ننگے تھے اس نے کہا بتایا تو ہے کہ لیٹ کر لکھ رہی تھی تو اس نے سامنے سے تصویریں بنا لیں جس سے میرا یہ سارا حصہ جو آدھا ننگا تھا وہ بھی تصویر میں آگیا ۔۔۔

اس کے کہنے کا جو مطلب تھا میں سمجھ گیا وہ کہہ رہی تھی کہ اس کے ممے جھکنے کی وجہ سے آدھی باہر کو نکلے ہوئے تھے جن کی طارق نے تصویربنا لی تھی اور وہ موبائل جس سے تصویر بنی وہ ریحان کا تھا ۔۔۔

شمع نے پھر کہا میں تو وہ تصوریں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی ریحان نے کہا میں کل تمہارا انتظار کروں گا جب تم ٹیوشن آنے لگو گی تو میں یہاں کی ملوں گا تم سے بات کرنی ہے اگر تمہارے گھر میں فون ہے تو مجھے نمبر بتانا میں کسی وقت فون کروں گا۔۔۔۔

میں نے اس کو کوئی جواب نہ دیا میں دو دن گھر سے باہر ہی نہ نکلی میری تو جان ہی نکل رہی تھی کہ اب کیا کروں میں کسی سے بات کر نہیں سکتی تھی تیسرے دن امی خود مجھے ٹیوشن چھوڑ کر آئی شکر ہے ریحان رستے میں نہیں تھا ۔۔۔۔

میں آج بڑی محتاط ہو کر بیٹھی تھی میں نے خط نکالا جو تمہیں دینے کے لیے لکھا تھا اس میں کچھ اور باتیں بھی لکھنے لگی میری ماڑی قسمت مجھے ٹیچر نے باہر بلایا میں اٹھ کر باہر نکلی ان کی بات سنی جب واپس آئی تو خط غائب تھا میں بہت ڈھونڈا ایک ایک کتاب کاپی چیک کی لیکن وہ وہاں ہوتا تو ملتا۔۔۔

خیر ٹیوشن کا وقت ختم ہوا تو میں باہر نکلنے لگی دروازے میں طارق مل گیا اس نے میرابازو پکڑا اور بیٹھک میں لے گیا وہاں سے نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے اس خط کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یہ خط وہ میری امی کو دے گا جس سے میرے ساتھ ساتھ شانزل کی بھی چھترول ہو گی ۔۔۔۔

میں ڈر گئی تھی اس نے دھمکیوں میں یہ بھی کہا کہ وہ تصویریں سب کو دکھائے گا اور کہے گا کہ تم کسے کے سامنے ایسے لیٹی تھی تو اس نے تصویریں بنا لیں اب تم بچ نہیں سکتی۔۔۔۔

میں کچھ بول نہیں پا رہی تھی اس نے مجھے چھونا شروع کر دیا میرے پورے جسم میں کیڑیاں رینگنے لگیں میں نے اس کو روکنا چاہا لیکن روک نہ پائی وہ مجھے جگہ جگہ سے چھو رہا تھا میں نہیں جانتی تھی کہ یہ بھی ان کی پلاننگ تھی جب اس ںے چھونا چھوڑ دیا تو ریحان ایک طرف سے سامنے آیا اور اس نے مجھے طارق کے میرے سینے پر ہاتھوں والی تصویریں تھیں۔۔۔۔

اس کے بعد میں کافی دن پریشان رہی میں نے کہیں آنا جانا چھوڑ دیا سکول جاتی اور گھر آتی ایک گھر میں کوئی نہیں تھا دروازے پر بیل ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے طارق کھڑا تھا اس نے مجھے کہا کہ باجی بلا رہی ہیں ان کو تم سے کوئی کام ہے انہوں نے جلدی آنے کا کہا ہے ان کی طبیعیت خراب ہے میں نے کہا تم جاؤ میں امی کے ساتھ آتی ہوں وہ جانے کی بجائے کھڑا رہا اور مسکراتا رہا میں نے اس کو کافی کہا چلے جاؤ میں آ جاتی ہوں لیکن اس نے کہا اچھی چلو اس کے اصرار پر مجھے شک ہوا میں نے دروازہ بند کر لیا اس نے پھر دروازہ کھٹکٹایا لیکن میں نے کھولا اس دن تو وہ چلا گیا لیکن کچھ دن بعد ایک چھوٹا بچہ ایک خط لایا جو اس نے صرف مجھے دیا اور کہا طارق بھائی کہہ رہے تھے اکیلے میں پڑھنا۔۔۔۔

میرے لیے اس مصیبت سے جان چھڑوانا مشکل ہوتا جا رہا تھا میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں امی کو سب کچھ بتا دوں گی لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ میری مشکلات بڑھنے والی ہیں میں نے جب وہ خط کھولا تو اس میں دص تصویریں تھیں جن میں طارق میرے گلے لگا تھا اس کا چہرہ دوسری طرف تھا جب کہ میرا چہرہ صاف نظر آرہا تھا میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی میں کانپتے ہاتھوں سے خط پڑھنا شروع کیا جس میں صرف دو لائنیں لکھی تھیں کہ کل سے تم ٹیوشن آو گی اور گھر میں داخل ہوتے ہوئے بیٹھک سے گزرو گی میں تمہارا انتظار کروں گا۔۔۔۔

اتنا مختصر پیغام اور ساتھ وہ تصویریں مجھے ڈرانے کے لیے کافی تھیں میں نے امی سے اجازت لے لی اور پھر سے ٹیوشن جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو گئی اگلے دن میں جب ٹیوشن کے لیے گھر سے نکلی تو مجھے رستے میں ہی ریحان مل گیا جو میرا ہی انتظار کر رہا تھا اس نے کہا خود سے مان جاتی تو اچھا تھا اب اگر تم نے کوئی ہیل حجت کی تو یہ تصوریں صرف تمہیں نہیں دیں گے سارے ٹاون کو بانٹ دیں گے۔۔۔۔

میں پریشان ہوتے ہوئے طارق کے گھر پہنچ گئی طارق بیٹھک کے دروازے میں ہی کھڑا تھا مجھے اس نے وہاں بلایا میں مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق اندر چلی گئی طارق نے بیٹھک کا دروازہ بند کیا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن اس کی گرفت سخت تھی اس نے مجھے دیوار کے ساتھ لگا لیا میں اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔

میرا جسم اس وقت ایسا نہیں تھا میں بہت پتلی تھی تم تو جانتے ہو میں شروع سے ہی کیسی دکھتی ہوں میرا رنگ روپ میرے سارے خاندان میں سب سے اچھا ہے میرا سائز اس وقت بہت چھوٹا تھا اس نے میرے سینے کو دبانا شروع کر دیا میرے درد ہونے لگی وہ بہت سختی سے دبا رہا تھا میں نے کافی کوشش کی کہ خود کو اس سے چھڑوا لوں لیکن اس نے مجھے نہ چھوڑا۔۔۔

مجھے اس وقت جھٹکا لگا جب میں نے خود کو بچاتے ہوئے اپنا منہ دیوار کی طرف کیا اور اس نے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا اور اپنے دونوں ہاتھ آگے لا کر میرے سینے کے ابھار پکڑ لیے اور پیچھے سے اس نے میرے ساتھ اپنا حصہ لگا لیا مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے لیکن اتنا جانتی تھی کہ یہ غلط ہے میری بیک پر کوئی سخت چیز چبھنے لگی میں ہل ہل کر اس سے اپنی بیک(گانڈ) کو ٹچ ہونے سے بچا رہی تھی۔۔۔

یکدم اس نے اپنا ایک ہاتھ اگلی سائید سے میری شلوار میں ڈال دیا اور میرے یہاں(پھدی) پر رکھ دیا میرے پورے وجود میں کرنٹ دوڑنے لگا مجھے برا تو لگا لیکن ایک سرور سا آنے لگا یہ سب لمحاتی تھا اس نے زور زور سے میرے سینے کے ابھاروں کو دبانا شروع کر دیا میں نے پھر بھی خود کو اس سے بچانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں اس کی سخت چیز میرے بیک کے درمیان پھنس گئی تھی جس پر وہ زور ڈال کر ہل رہا تھا ۔۔۔

میری ٹانگوں میں اس نے اپنی ایک انگلی الگ کرکے اندر کرنے کی کوشش کی انگلی تھوڑی سی ہی اندر گئی ہو گی کہ میری جان نکلنے والی ہو گئی میرے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی اس نے فوراً میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور کہا تم اگر آرام سے کھڑی رہو گی تو تمہارے لیے اچھا ہے نہیں تو وہ خط میں بلو کی ابا اور تمہارے ابا دونوں کو دکھا دوں گا ۔۔۔

تمہارا نام آتے ہی میں سب کچھ بھول گئی میں نہیں چاہتی تھی کہ تمہارے اوپر کوئی انگلی اٹھائے اس وجہ سے میں نے مزاحمت بھی ختم کر دی اور اس کو کرنے دیا اس نے دو منٹ بعد زور زور سے میرے اپنا وہ درمیان میں پھنسانے ہلنے کے بعد مجھے چھوڑ دیا میں کچھ دیر ویسے ہی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی رہی میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے ۔۔۔

میں جب سیدھی ہوئی اس کی طرف نظریں جھکائے دیکھا تو اس کی شلوار آگے سے گیلی تھی مجھے اپنی شلوار کا خیال آیا میں پیچھے ہاتھ لگا کر دیکھا تو میرے پیچھے بھی کچھ چپچپا سا لگا تھا میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہا تھا اس نے کمال ڈھٹائی سے کہا اگلی بار اوپر اوپر سے نہیں کروں گا کپڑے اتار کر کروں گا پھر کپڑے خراب نہیں ہوں گی۔۔۔۔

میں نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور ان کے گھر جانے کی بجائے بیٹھک سے ہی واپس آگئی اس کے بعد وہ اکثر ایسے ہی میرے ساتھ کرتا میں بھی اس سے بحث نہیں کرتی تھی بس اس کو کپڑے اتارنے نہ دیتی وہ بھی اسی میں خوش تھا کہ میں اس کو چھونے دیتی ہوں ۔۔۔

ایک دو بار اس نے میرے ہونٹوں پر بھی کس کیا مجھے برا لگا تو اس نے دوبارہ نہ کیا بس گال چوم لیتا میرے سینے کے ابھاروں کو دباتا رہتا ہر دوسرے تیسرے دن وہ مجھے بیٹھک میں بلا لیتا ایک دن مجھے نہیں پتہ تھا کہ ٹیچر گھر پر نہیں ہیں بلکہ ان کے گھر پر کوئی بھی نہیں تھا میں ٹیوشن چلی گئی ۔۔۔

اس نے مجھے اس دن بیٹھک میں نہ روکا اندر جانے دیا میں نے جب اندر جا کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا میں جب واپس مڑنے لگی تو اس نے کہا چلی جانا اب اتنی بھی کیا جلدی ہے کچھ دیر مجھے دے دو اتنے دن ہو گئے ہمیں آپس میں ملتے ہوئے کبھی پانچ منٹ سے زیادہ ٹائم نہیں ملا آج ٹائم ہی ٹائم ہے آ جاؤ بیٹھک والے کمرے میں چلتے ہیں۔۔۔

میں لاکھ کہوں کہ مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا میں بس اس کو یہ باور کرواتی تھی کہ یہ سب مجبوری میں کر رہی ہوں وہ بھی مجھے ڈراتا ہی رہتا تھا میں ڈرنے کی اداکاری کرتی رہتی مجھے یہ تو سمجھ آگئی تھی کہ جب تک میں اس کی بات مانتی رہوں گی وہ مجھے کچھ نہیں کہے گا۔۔۔۔

میں بیٹھک میں گئی اس نے مجھے سینے سے لگا لیا آج اس کا انداز بدلا ہوا تھا اس کی آنکھیں سرخ تھیں آواز میں بھی کچھ کپکپی سی تھی مجھے گلے لگا کر گال چومنے لگا اس کے بعد اس نے میری گردن پر کس کی اس نے اپنے ہونٹوں کو کان کی لو کے نیچے رکھ کر چومنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

وہاں سے اس نے چومتے ہوئے میرے کندھے تک رسائی حاصل کی کندھے سے دوپٹہ ہٹا کر بڑے پیار سے اپنے ہونٹ پھیرنے لگا ساتھ ساتھ اس کا ایک ہاتھ میرے سینے کے ایک ابھار کو پکڑ چکا تھا اب اس کے ہاتھوں کی سختی مجھے اچھی لگنے لگی تھی میں اس وقت تمہارے اور شانزل کے تصور میں کھو گئی ۔۔۔

جب تم دونوں آپس میں پیار کر رہے تھے تم اس کے ابھار چوس رہے تھے اس کا ہاتھ تمہارے سر پر تھا میں نے خود کو شانی کی جگہ محسوس کیا اور طارق کو بلو ۔۔۔ خود ہی میرا ہاتھ طارق کے سر پر چلا گیا اس نے بھی میرا بدلا انداز دیکھ لیا تھا اس لیے وہ چومتے ہوئے میرے قمیض کے کھلے گلے تک آیا وہاں اس نے اپنی زبان میرے ابھار کے درمیان واضح ہوتی لکیر میں ڈال دی۔۔۔

اتنے کم عرصے میں نے ایک بات نوٹ کی تھی میرا سینہ پہلے کی نسبت بڑا ہو گیا تھا کیونکہ جو کپڑے مجھے کھلے تھے وہ اب سینے کی جگہ سے پھنس جاتے تھے جب نہاتے ہوئے میں ان کو دیکھتی تو میری آنکھوں میں شانی کے بڑے بڑے آ جاتے تھے اس وقت میں ان کا موازنہ شانی کے ساتھ کرتی تو مجھے کوئی خاص فرق نہ لگتا۔۔۔۔

آج پہلی بار اس نے اپنا ہاتھ میری قمیض میں ڈال دیا اور قمیض کو اوپر کرتے ہوئے میرا سینہ ننگا کر دیا اس کے ہاتھ جب میرے ننگے سینے پر لگے تو میں ہواؤں میں اڑنے لگی بتا نہیں سکتی کیسا محسوس ہوا تھا اس کی وجہ جو بھی رہی ہو لیکن میں یہ بھول چکی تھی کہ اس وقت طارق میری

قمیض کو اوپر کر رہا میرے ابھاروں اس کے ہاتھ ہیں۔۔۔۔

میرے تصور میں تو تم تھے میرے ان کے ساتھ تم کھیل رہے تھے میں بس تمہارے تصور میں کھوئی تھی تم نے میرے سینے پر اپنے ہونٹ رکھے میں نے اپنا ہاتھ تمہارے سر پر رکھ دیا اور دبانے لگی میں خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی تصور کر رہی تھی پھر تم نے اپنی زبان میرے ابھاروں پر پھیرنی شروع کر دی میرا پورا وجود مزے میں ڈوب گیا ۔۔۔

اتنے دن سے جس کے لیے تڑپ رہی تھی وہ میرے ساتھ پیار کر رہا تھا میں خود اٹھا اٹھا کر اپنا سینہ تماری طرف بڑھا رہی تھی پھر جب تم نے اپنی انگلی میری ٹانگوں جے درمیان والی اس جگہ میں ڈالی تو وہ آرام سے اندر چلی گئی بس ہلکی سی درد ہوئی اسی وقت مجھے پیچھے سے کسی نے پکڑ لیا اور میری بنڈ کے ساتھ اپنا سخت سخت لگا دیا۔۔۔۔

شمع نے گانڈ ، بنڈ یا مموں جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے تھے کہانی کا مزہ ان الفاظ کے بغیر نہیں آرہا تھا اس لیے میں خود سے یہ الفاظ استعمال کر رہا ہوں۔۔۔

جیسے ہی میری بنڈ کے ساتھ کسی کا لن ٹچ ہوا میں نے ایک جھٹکے سے خود کو چھڑوایا اور آنکھیں کھول دیں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ریحان تھا سامنے طارق کھڑا مسکرا رہا تھا میرا سارا مزہ پانی کی طرح بہہ گیا میں تو تمہارے تصور میں ایسی ڈوبی تھی کہ طارق کے چھونے کو تمہارا لمس سمجھ بیٹھی ۔۔۔

میری شلوار نیچے میری ٹانگوں میں پڑی تھی قمیض اوپر تھی میرے ممے ننگے تھے طارق مجھے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ریحان کے چہرے پر بھی ہنسی تھی میں نے جلدی سے قمیض نیچے کی جھک کر شلوار اوپر کرنے لگی تو ریحان بولا پکڑ سالی کو منہ کیا دیکھ رہا ہے لمبا کر اسے یہاں آج اس کا افتتاح کرتے ہیں بڑے نکھرے دکھاتی تھی یہ بھی آج ہاتھ آئی ہے تو اس کو سوکھا واپس نہیں جانے دیں گے۔۔۔۔

اس نے جیب سے سفید پڑی نکالی اس میں سے کچھ سفید پاوڈر ٹائپ نکال کر اپنے ناک میں لگایا اور سانس اندر کھینچا طارق نے مجھے پکڑ کر نیچے گرا لیا طارق نے مجھے اچھی طرح قابو کر لیا تھا مجھے صوفے پر لٹا کر میرے اوپر آگیا ریحان ہاتھ پڑی پکڑے میرے سامنے آیا ایک ہاتھ سے اس نے میرا منہ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے وہ پاوڈر میرے ناک سے لگایا میں نے بڑی کوشش کی خود کو چھڑوانے کی لیکن تمہارے تصور میں کھو کر جو کر چکی تھی اس کی وجہ سے پھنس گئی۔۔۔

مجھے تو یہ بھی پتہ نہ چلا کہ ریحان کب آیا میری شلوار نیچے کب کی گئی کس نے کی کوئی علم نہ تھا جیسے ہی ریحان نے سفید پاوڈر میری ناک سے لگایا میں نے سانس رک لی لیکن کتنی دیر روک سکتی تھی ریحان مسکرا رہا تھا اس کی ہنسی مجھے زہر لگ رہی تھی لیکن جیسے ہی میں سانس لیا ۔۔۔

میرے اندر ایک دم ہلچل مچ گئی میرا وجود سن ہونے لگا میں اپنے ہوش کھونے لگی میری مزاحمت دم توڑ گئی اگلے ایک منٹ میں وہاں ان کے رحم و کرم پر تھی طارق نے میری شلوار کھینچ کر اتار دی ریحان نے بھی اپنی پینٹ کی زپ کھول لی تھی اس نے اپنا لن باہر نکال لیا ۔۔۔

آج پہلی بار میں کسی کا لن اتنے قریب سے دیکھ رہی تھی اس سے پہلے میں نے چھپ کر صرف تمہارا ہی دیکھا تھا جب تم شانی کے ساتھ کر رہے ہوتے تھے میں اکثر چھپ کر دیکھا کرتی تھی جب ریحان کا دیکھا تو مجھے حیرانی ہوئی اتنا چھوٹا سا ہے جب کہ تمہارا تو اتنا موٹا اور لمبا ہے تمہاری نسبت ریحان کا بالکل چھوٹا سا تھا۔۔۔

میں دیکھ سب سکتی تھی لیکن جسم میں طاقت جیسے ختم ہو گئی تھی ریحان نے اپنے لن پر تیل لگایا پھر اس نے طارق کی شلوار اتاری اس کا لن نکال کر اس پر بھی تیل لگایا اس کی مٹھ مارنے لگا۔۔۔

 

Source link

Leave a Comment