گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 48)

 

مجھے اس چیز کا کوئی علم نہیں تھا وہ کیا کر رہے ہیں میں کھلی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہی تھی طارق ابھی بھی مجھے پکڑے ہوئے تھا طارق کا لن ریحان سے کچھ بڑا تھا لیکن موٹا زیادہ تھا میرے دیکھتے ہی دیکھتے ریحان نے اپنی پینٹ ساری اتار دی اور مجھے الٹا لٹا لیا میری گانڈ میں تھوک پھینک کر انگلی ڈال دی مجھے کچھ محسوس نہ ہوا بس ہلکی سی چبھن کا احساس ہوا ریحان میرے اوپر لیٹ گیا میں نے گردن موڑ رکھی تھی میں پیچھے ان دونوں کو بھی دیکھ رہی تھی وہ کہا کر رہے ہیں طارق ریحان کے پیچھے کھڑا تھا اور ریحان میرے اوپر لیٹ چکا تھا مجھے اپنی گانڈ میں کچھ جاتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔

اس کے بعد میں کچھ دیر کے لیے ہوش میں نہ رہی میں اپنے ہواس کھو بیٹھی یہ سب اس چیز کا اثر تھا جو انہوں نے مجھے سنگھائی تھی میں جب ہوش میں آئی تو ریحان ایک طرف ننگا ہو کر جھکا ہوا تھا جب کہ طارق نے اس کی گانڈ میں اپنا لن گھسایا ہوا تھا کچھ دیر وہ زور زور سے کرتا رہا اس کے بعد وہ ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا میں سیدھی ہونے لگی تو مجھے اپنی گانڈ میں ہلکا سا درد ہوا میں نے ہاتھ لگایا تو میری گانڈ پر کچھ چپچپا سا لگا تھا۔۔۔

یہ ویسا ہی تھا جیسا اس دن طارق کے کرنے کے بعد لگا تھا مجھے کمرے میں عجیب سی بو آرہی تھی جیسے سگریٹ کی ہوتی ہے آہستہ آہستہ میں مکمل طور پر اپنے ہواس میں آگئی میں اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی شلوار پہن لی وہ دونوں اپنے ہواس میں نہیں تھے ان کو دیکھ کر مجھے نفرت سی ہونے لگی۔۔۔۔

میں جب اٹھ کر کھڑی ہوئی تو مجھے چکر آیا لیکن میں نے خود کو سنبھالا اور کپڑے درست کیے دوپٹہ اچھے سے لیا اسی وقت ریحان نے آنکھ کھول کر مجھے دیکھا اور کہا اب اگر تو نے کوئی نکھرا کیا یا ہماری بات نہ مانی تو دیکھ لینا تمہارا انجام کیا ہوتا ہے ۔۔۔

ہمارے پاس تمہاری مکمل ویڈیو ہے کل تمہیں طارق ایک موبائل دے گا اپنے پاس رکھنا پھر جو میں کہوں وہ کرنا میں سر جھکا کر اس کی سنتی رہی پھر اس نے حقارت سے کہا چل دفعہ ہو جا یہاں سے اور میری بات یاد رکھنا اگر کبھی سوچا بھی نہ کہ تم ہماری بات نہیں مانو گی تو تمہاری ویڈیو ہر جگہ پھیل جائے گی۔۔۔

میں تھکے قدموں سے وہاں سے نکل کر گھر آ گئی اس سے اگلے دن مجھے طارق نے موبائل لا کر دیا وہ چھوٹا سا فون تھا وہ میں چھپا کر رکھنے لگی مجھے رات کے وقت اس پر ریحان نے کال کی کہ کل شام کو ہمارے گھر آنا ہے وہاں اس کی امی سے ملنا ہے ۔۔۔

میں نے شمع کو ٹوکا اور پوچھا مطلب عمائمہ آنٹی سے ملنے کا کہا اس نے ۔۔۔شمع نے کہا ہاں ڈاکٹر عمائمہ خاں سے اس ذلیل عورت سے جس کی تم تعریف کر رہے تھے اس سے ملی تھی میں اور ایک بار نہیں کئی بات ملی ہوں۔۔۔

میں ڈاکٹر عمائمہ سے جا کر ملی اس کے ملنے کا انداز بڑا عجیب سا تھا اس مجھے گلے لگا کر میرے گال چومے میرے ممے ٹٹولے اور مسکرانے لگی مجھے اس کے چھونے میں بھی ہوس نظر آئی اس نے مجھے اوپر آنے کا کہا میں اس کے پیچھے پیچھے اوپر چلی گئی۔۔۔۔

اوپر جا کر اس نے مجھے ایک لڑکی سے ملایا ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی وہاں موجود تھی وہ بہکی بہکی سی باتیں کر رہی تھی مجھے ڈاکٹر نے وہاں ایک پڑی دی اور کہا کہ کل جب تم سکول جاؤ گی تو وہاں کا چوکیدار تم کو پیسے دے گا وہ لے کر یہ اس کو دے دینا۔۔۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہ آئی اس میں کیا تھا میں نے پوچھا تو ڈاکٹر نے میرے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا سویٹی آئندہ ایسا کوئی سوال نہیں کرنا جو کہا جائے بس وہ ہی کرنا تم کو کسی بات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔

پھر میں اس میں دھنستی چلی گئی کئی بار طارق نے مجھے اپنی بیٹھک میں بلایا اور میرے ساتھ ویسا ہی کیا میرے پیچھے سے ڈالا لیکن ہر بار وہ مجھے وہ سونگھا دیتا تھا میں آہستہ آہستہ اس کی عادی ہونے لگی ۔۔۔

پھر طارق کو ملنا چھوٹ گیا کیونکہ ٹیوشن چھوٹ گئی تھی طارق کی سسٹر کی شادی ہو گئی اس کے بعد طارق نے مجھے فون فون کرکے تنگ کرنا شروع کر دیا ریحان نے مجھے پہلی بار کے بعد کبھی نہیں بلایا اور نہ ہی بلاوجہ کوئی میسج یا کال کی۔۔۔

لیکن طارق مجھے بہت تنگ کرتا تھا میں نے ریحان کو بتایا کہ طارق کو سمجھاؤ میں باہر نہیں نکل سکتی امی نے نے گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے ایک رات جب میں تمہیں بلانے گئی تھی طارق نے مجھے اپنی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا۔۔۔

اس نے مجھے اس بات کے لیے بلیک میل کرنا شروع کر دیا پھر ایک دن مجھے عمائمہ آنٹی کی کال آئی اس نے تمہارے بارے میں پوچھا کہ تم رات کو ہمارے گھر کیا کرنے آتے ہو۔۔۔

وہ بار بار مجھ سے پوچھتی رہی کہ کیا میرا تمہارے ساتھ کیا تعلق ہے کوئی تعلق ہوتا تو بتاتی میں نے اس کو صاف کہہ دیا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی لیکن ان کے پاس پکا ثبوت تھا طارق نے ان کو تمہاری ہمارے گھر داخل ہونے کی تصویر دکھائی تھی۔۔۔

کچھ دن ایسے ہی چلتا رہا پھر ایک دن میری طبیعیت خراب ہو گئی امی مجھے ڈاکٹر عمائمہ کے پاس لے گئی ڈاکٹر مجھے چیک کرنے کے بہانے علیحدہ لے گئی اور مجھ سے پھر تمہارے بارے میں پوچھا مجھے دھمکی دی کہ وہ میری امی کو ابھی سب بتا دے گی میری تصویریں بھی دکھا دے گی میں ڈر گئی۔۔۔

میں نے اس کو تمہارا اور شانی کا بتا دیا اس نے ہممم کیا اور کہا اگر یہ جھوٹ ہوا تو پھر دیکھ لینا اس دن اس نے مجھے وہ والا موبائل دیا جس سے میں نے تمہاری اور شانی کی ویڈیو بنائی تھی ۔۔۔

لیکن مجھے موقع نہیں مل پا رہا تھا ویڈیو یا تصویر بنانے کا ایک دو بار تصویر بنائی لیکن ان کو بول دیا کہ میں نہیں بنا پائی پھر مجھے پتہ چلا کہ تم ریحان کے دوست ہو مجھے اس دن بڑا غصہ آیا ۔۔۔

میں شانی کو بتا نہیں سکتی تھی کہ ریحان کے ساتھ تمہاری دوستی ہے اور ریحان اچھا لڑکا نہیں ہے نہ اگر بتاتی تو اس نے ثبوت مانگنا تھا میں دے نہیں سکتی تھی اس لیے میں نے شانی کو تمہاتے خلاف کرنے کے لیے کافی غلط غلط باتیں کیں شانی نے مجھ پر اعتبار کر بھی لیا تھا۔۔۔

لیکن بعد میں اس نے جب خود تمہارے بارے میں پتہ کروایا تو وہ مجھ سے بہت ناراض ہوئی اب یہ تو مجھے پتہ نہیں اس نے کس تمہاری نگرانی کروائی۔۔۔

میں نے بھی ان لوگوں سے جن کو سامان دیتی تھی تمہارے بارے میں پتہ کیا تھا تو مجھے تسلی ہوئی تھی۔۔۔

اس کی سامان دینے والی بات نے مجھے چونکا دیا تھا پہلے صرف چوکیدار کا ذکر کیا تھا اور لوگوں کو بھی پہنچاتی تھی یہ مجھے اس نے نہیں بتایا تھا۔۔۔

میں نے اس سے ان کا پوچھنا شروع کیا وہ مجھے تفصیلات بتانے لگی اس نے جو کچھ بتایا میرے لیے چونکا دینے والا تھا جن لوگوں کے نام اس نے بتائے اور جہاں جہاں وہ پہنچاتی تھی وہ تو چونکا دینے والا تھا لیکن جو ان کو طریقہ تھا وہ اور بھی حیران کن تھا۔۔۔

میں نے اس کو یقین دلایا کہ طارق سے اس کو تنگ نہیں کرے گا لیکن عمائمہ کے لیے وہ کام کرتی رہے جیسے پہلے کر رہی ہے اس سے ہمیں فائدہ ہو گا اس کو قابو کرنے کے لیے اس کے راز جاننا ضروری ہے۔۔۔

شمع نے ناچاہتے ہوئے بھی میری بات مان لی ہمیں کافی وقت ہو گیا تھا میں نے اس سے باقی کی تفصیلات معلوم کرنا شروع کی اس نے ایک بات بڑی حیران کن بتائی کہ ڈاکٹر عمائمہ کو لڑکوں میں ہی دلچسپی ہوتی ہے وہ نئے نئے لڑکے ڈھونڈتی ہے ان کو پیسے دیتی ہے اور اپنے جسم کی پیاس بجھاتی ہے۔۔۔

اس کے علاوہ جو اس نے بتایا وہ میرے لیے انوکھی بات تھی آج تک میں نے ایسا نہیں سنا تھا کہ کوئی عورت کسی عورت سے کرتی ہے یہ تو جانتا تھا کہ مرد مردوں سے کرتے ہیں عورتیں بھی کرتی ہیں یہ صرف فلموں دیکھا تھا ۔۔۔

میں شمع سے کچھ اور بھی پوچھنا چاہتا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی شمع نے اٹھ دروزہ کھولا توسامنے شانزل کھڑی تھی اس نے مسکراتے ہوئے کہا یہ سالی اور بہنوئی میں کیسے راز و نیاز چل رہے ہیں۔۔۔

شمع مسکراتی ہوئی میرےپاس آئی میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی کیوں بتائیں یہ ہمارے آپس کی بات ہے یکدم میرے ذہن میں اس رات والی بات آئی جس رات شانزل کے ساتھ تھا اور وہ سو گئی تھی ۔۔۔

اس رات شمع نے کچھ باتیں ایسی کی تھیں جن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ شانزل کو سب پتہ ہے یہ بات مجھے اس لیے یاد آئی کہ ابھی شمع نے جب میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور شانزل نے جس انداز سے بات کی مجھے ان باتوں میں کوئی لنک محسوس ہوا ۔۔۔

مجھے ایسا لگا جیسے وہ دونوں کچھ ایسا سوچ رہی ہیں یا پلان کر چکی ہیں جس کا مجھے اندازہ نہیں ہو رہا میں سمجھ نہیں پا رہا ان کے دماغ میں کیا چل رہا یے۔۔۔

شانزل ہمارے پاس آئی اور میری آنکھوں دیکھا پھر شمع سے کہا مجھے اس پر پورا یقین ہے یہ کبھی بھی کچھ ایسا نہیں کرے گا جو مجھے برا لگے کیوں بلو۔۔۔۔

میں نے صرف مسکرا کر جواب دیا نہ ہاں کی اور نہ ہی ناں ۔۔۔

شمع مجھے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی اور بولی جائیں نہیں تو اس نے میری جان نہیں چھوڑنی ۔۔۔

شانزل نے شمع کو چپیڑ دکھائی اور بولی تم باز آ جاؤ آئی نہ سمجھ کسی دن مجھ سے مار کھاؤ گی۔۔۔

شمع نے زبان نکال کر گول گول سا منہ بنا کر شانزل کو چھیڑا شانزل اس کو مارنے کے لیے لپکی تو شمع میرے پیچھے آگئی۔۔۔

شانزل پیچھے سے آئی تو شمع میرے آگے آ گئی اس نے سامنے آ کر میرے بازو پکڑ تھے شانزل پھر آگے آئی شمع پیچھے ہو گئی اس طرح ہونے سے اس کے دودھ میرے جسم سے ٹچ ہو رہے تھے میرا لن سر اٹھانے لگا تھا۔۔۔

شانزل نے جب دیکھا کہ وہ شمع کو نہیں پکڑ سکتی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک طرف کھینچا شمع نے میرا بازو پکڑا ہوا تھا وہ بھی پیچھے آتے ہوئے میری کمر سے لگ گئی ۔۔۔۔

شمع کے کمر سے لگتے ہی لن نے جھٹکا کھایا اور کھڑا ہو گیا شانزل مجھے کھینچتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی شمع کے دل میں پتہ نہیں کیا آئی کہ اس نے ایک دم میرے برابر آ کر میرا گال چوم لیا۔۔۔

مجھے ان دونوں بہنوں کی سمجھ نہیں آ رہی تھی ایک طرف تو شمع اتنی پریشان تھی اتنی مشکل میں پھنسی ہوئی تھی بقول اس کے لیکن دوسری طرف اس کی اٹھکیلیاں میرے دماغ کا رہی کر دیا تھا۔۔۔

میں شانزل کے پیچھے چلتا گیا مڑ کر دیکھا تو شمع مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھی اس کی آنکھوں میں موتی چمک رہے تھے۔۔۔

شانزل مجھے اپنے کمرے میں لے گئی اور دروازے کو اندر سے لاک کرنے کے بعد میرے گلے کا ہار بن گئی۔۔۔

میرے گلے میں بازو ڈال کر میرا چہرہ چومنے لگی لن تو پہلے ہی تن چکا تھا اب مزید اکڑ دکھانے لگا اور اس کے جسم سے ٹچ ہو کر مزے کرنے لگا۔۔۔

میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اس نے چومنا بند کیا اور میرے ناک سے ناک رگڑنے لگی اس کے چہرے پر خوشی کے دیپ جل رہے تھے ۔۔۔

وہ اپنے ہونٹوں سے موتی بکھیر رہی تھی اس کے انگ انگ سے خوشی ہھوٹ رہی تھی اس کا انداز اس کے اندر کی خوشی بیان کر رہا تھا۔۔۔

میں نے ہاتھ کی انگلی سے اس کے ناک کو چھوا وہ مسکرا دی اور میرے سینے پر سر رکھ دیا۔۔۔

میں تو اس پر فدا ہو گیا اس کی ادائیں مجھ پر بجلیاں گرا رہی تھیں وہ شریر محبوبہ کی طرح مجھ سے مستیاں کرنے لگی۔۔۔

میرے بازوؤں میں گھوم کر اس نے اپنی بیک میری طرف کر لی اور ایک ہاتھ میری گردن میں ڈال کر میرا منہ اپنے منہ کے قریب کیا۔۔۔

اس کے بعد اس نے اپنی زبان نکال کر میرے گال پر پھیری اور مسکرا کر منہ سیدھا کر لیا۔۔۔

میں نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا اس کا چہرا اپنی طرف کیا اس نے آنکھیں بند کرلیں میں نے اس کے گال پر اپنے تڑپتے لب رکھے۔۔۔

وہ ایک دم تڑپ اٹھی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں لیا اور اپنے مرمریں پیٹ کے درمیان میں نازک اور منحنی سی ناف پر رکھ لیا۔۔۔۔

میری انگلیاں بھی شیطان تھیں ایک انگلی ناف میں گھس گئی اور مساج کرنے لگی اس کا پیٹ تھرتھرانے لگا۔۔۔

پیچھے سے میرا لن اس کی گانڈ کی دراڑ میں لیٹ گیا تھا میں نے اپنی ہونٹ اس کی گردن پر رکھے اس کا ایک کومل ہاتھ پھر سے میری گردن پر آیا ۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں اس کی گردن کو چومتا وہ مچھلی کی طرح پھسل کر میرے ہاتھوں سے نکل گئی اور مسکراتے ہوئے دوہری ہو گئی۔۔۔

اس کی ادائیں میرے جوش بڑھانے لگیں میرا لن راڈ بنتا جا رہا تھا وہ قدم قدم چلتی ہوئی میرے پاس آئی۔۔۔

اس نے آ کر میرے چہرے پر دائیں پر ہاتھ رکھا اور بڑے پیار سے پھیرنے لگی میرے کان کے قریب اپنا منہ لائی اور کان کی لو کو اپنے لبوں میں لیا ۔۔۔

پیار سے چوما اور ایک دم دانتوں سے کاٹ لیا مجھے ایک دم جھٹکا لگا میں نے جلدی سے کان پر رکھ لیا۔۔۔

تب تک وہ بھاگ کر بیڈ کے پاس چلی گئی تھی ایسے ہی اٹھکیلیاں کرتے ہوئے کافی وقت گزر گیا اور ہم ایک دوسرے کے ہونٹوں میں ہونٹ پیوست کر چکے تھے۔۔۔

ہونٹوں سے پیاس بجھانے لگے آگ دونوں طرف برابر کی لگی تھی تڑپ وہ بھی رہی تھی برسنا میں بھی چاہتا تھا۔۔۔

اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں کی پیاس بجھانے میں ناکام ہونے لگے میرے ہاتھوں کی گستاخیاں بڑھنے لگیں میں نے اس کے فوم جیسے سینے پر لگے سنگتروں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔

وہ اب آنکھیں بند کیے ہونٹ سے مجھے جام پلا رہی تھی اس کی زبان میری زبان سے گتھم گتھا تھی لب و بام سر ہونے لگے۔۔۔

اس کا دوپٹہ ایک طرف گر چکا تھا کمر کے پیچھے لگی زپ میرے ہاتھوں کھل گئی تھی میرے ہاتھ اس کے سینے کی پیمائش میں جت گئے تھے۔۔۔

وہ مچلنے لگی میرا لن بھی پھڑکنے لگا جھٹکے کھا رہا تھا اس کی ٹانگوں میں چھپی چھوٹی سی کھوئی میں غوطہ لگانا چاہتا تھا۔۔۔

کھوئی کے پانی سے غسل کرنا چاہتا تھا اس نے بھی اپنی کھوئی کے پانی سے میرے ہتھوڑے کو نہلانے کا اہتمام کر لیا۔۔۔

ہمارے کپڑے ایک ایک کر کے اترتے گئے میں مکمل ننگا ہو گیا تھا اس کے سینے کو چھپائے اس کا گلابی سینہ بند گلاب کے پھول کی مانند کھل رہا تھا۔۔۔

گلاب سامنے ہو اور ہونٹ اس سے گل قند نہ بنائیں ایسا کیسے ممکن تھا میرے منہ میں پانی آنے لگا۔۔۔

میں نے آگے بڑھ کر اس کی کمر سے خوبصورت برا کو کھولا وہ گھومتی ہوئی میری طرف کمر کرکے کھڑی ہو گئی بڑی نزاکت سے اس نے برا کی سٹرپٹس اپنے بازوؤں سے نکالے ۔۔۔

کپوں کو اپنے اناروں سے اتارا ان کو ہاتھوں کی ہتھیلیوں چھپائے گھوم کر سیدھی ہوئی ۔۔۔

اس کی اداؤں پر مر جانے کو دل کر رہا تھا وہ مسکراتی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی اور پیچھے ہٹتی ہوئی بیڈ کے پاس چلی گئی۔۔۔

میں مداری کے سدھائے ہوئے بندر کی طرح اس کی طرف چلتا گیا جب فاصلہ چند انچ رہ گیا تو وہ ایک طرف ہوئی میں سیدھا ہوا ۔۔۔

اس نے ایک ہاتھ کی انگلی میرے سینے کے درمیان رکھی اور مجھے پیچھے کو دھیکیلا میں بیڈ کر گر گیا۔۔۔

میرا لن چھت کی طرف منہ کر رکے کھڑا ہو گیا اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے میری ٹانگوں کے دائیں بائیں اپنی ٹانگیں رکھیں۔۔۔۔

میرے اوپر جھکتی چلی گئی سینے کے قریب آ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکی پھر اپنے سینے سے ہاتھ ہٹا دیا ۔۔۔

اس کے ممے اچھل کر لٹکنے لگے بڑے بڑے ممے اپنی پوری آب وتاب سے لہرا رہے تھے میں نے لیٹے ہوئے کی سر اٹھا کر اپنے ہونٹ کھولے اور دودھ کے ڈبوں کے درمیان رکھ دئیے۔۔۔

زبان بے قابو ہو کر باہر نکلی اور اس کے مموں کے درمیانی خلا میں گھومنے لگی۔۔۔

میرا منہ مموں کے درمیان گھسا تھا میرے دونوں ہاتھ مموں پر آ گئے میں نے دونوں مموں کو ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔

اہنے ہی چہرے پر دبانے لگا میرا نام اس کے سینے میں سے اٹھتی نسوانی مہک سے خود کو سرشار کر رہا تھا ۔۔۔

اس کے جسم کی مہک نتھنوں کے ذریعے میرے دماغ میں گھس رہی تھی۔۔۔

وہ کسمسانے لگی اس نے خود ہی ہل کر ایک ممے کا نپل میرے منہ میں دے دیا لٹکتے ممے اور ایک کا نپل منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔

وہ بھی سئی سئی کرنے لگی لن الٹا ہو کر اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کر چھو رہا تھا ۔۔۔

اس کی سئی سئی کی آواز میرے کانوں کو بھلی لگ رہی تھی اس کے مموں سے نکلتی مہک میرے وجود میں گلتی جا رہی تھی لن بڑی بے تابی سے اس کی پھدی کی تلاش کر رہا تھا میرا ایک ہاتھ اس کے ایک ممے کو تول رہا تھا دوسرے ہاتھ سے مما پکڑ کر اس کو چوس رہا تھا جتنا مما منہ میں جا سکتا تھا چوسی جا رہا تھا۔۔۔۔

شانزل کے منہ سے نکلتی شہوت سے بھرپور آواز میرے کانوں میں رس گھول رہی تھیں جن کو سن کر میرا جوش بڑھتا جا رہا تھا میں نے ایک ہاتھ ممے سے ہٹایا اور اس کی گانڈ کے پیچھے سے پھدی پر رکھ دیا ۔۔۔

شانزل کی پھدی بھج شانزل کی طرح بے چین ہو رہی تھی اسی بے چینی میں پانی بہا بہا کر گیلی ہو رہی تھی بڑے نازک اندام انداز سے میں نے پھدی کے لبوں کو چھوا پھر اسی نزاکت سے ان کے درمیان انگلی ڈال کر اس کے نکتۂ شہوت کو چھیڑا وہ مچلی اس نے اپنے ممے میرے منہ پر دبا دئیے۔۔۔

گانڈ اکڑا لی اور پھدی میرے ہاتھ پر دبائی میں نے اب بار بار اس کی پھدی کے ریشمی لبوں کے اندر قید اس کے چھوٹے سے دانے سے چھیڑخانی شروع کر دی اس کے وجود میں تھرتھلی پیدا ہو گئی وہ کانپنے لگی اس کے وجود میں جیسے زلزلہ آگیا ہو۔۔۔

وہ بے تاب ہو کر میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی دیوانہ وار ہونٹ چومنے لگی کبھی نیچے والے ہونٹ کو چومتی تو کبھی اوپر والے پر ٹوٹ پڑتی۔۔۔

اس کی بے تابی بڑھنے لگی وہ ہونٹ چومے جا رہی تھی میں انگلی کو دانے پر رگڑ رہا تھا اب اس نے اپنی گانڈ کو ہلا ہلا کر میرے ہاتھ پر دبانا شروع کر دیا میرے نچلے ہونٹ کو کاٹنے لگی ۔۔۔۔

مجھ سے بھی اب برداشت نہیں ہو رہا تھا اس لیے میں نے پھدی سے ہاتھ ہٹایا لن کو پکڑ لیا شانزل نے ایک دم میرے ہونٹ چھوڑ کر اوپر ہوتے ہوئے میری طرف دیکھا جیسے کہہ رہی کیا ہوا۔۔۔

میں نے لن کو اس کی پھدی پر ٹچ کیا اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے وہ تھوڑا جھک گئی گانڈ کو لن کی طرف لے گئی پھدی کو لن کے نشانے پر رکھا میں نے پھدی میں اوپر نیچے لن کو پھیرا لن کی ٹوپی سے کچھ زیادہ لن گیلا ہو گیا۔۔۔

اس نے آنکھیں بند کر کے اپنے اندر سکون کو اتارا لن کو پھدی کے سوراخ میں پھنسا کر اس کی گانڈ کے نیچے ہاتھ رکھا اس کو نیچے کھینچا وہ بڑے آرام سے ہونٹ میچے ہوئے لن پر بیٹھنے لگی۔۔۔

تھوڑا سا ہی لن اندر گیا تھا کہ وہ رک گئی پھر میرے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اوپر اٹھی میں نے نیچے سے لن کو کھینچا وہ ایک بار پھر نیچے آنے لگی اب پہلے سے کچھ زیادہ لن اندر گیا۔۔۔

اگر وہ اسی طرح کرتی رہی تو پوری رات میں بس لن اندر ہی ہو پائے گا یہ سوچ کر جب تیسری بار وہ نیچے آنے لگی تو میں نے نیچے سے گھسا مارا لن آدھے سے زیادہ اس کی پھدی کو رگڑتا ہوا اندر گھس گیا۔۔۔۔

اس کے منہ اوئییی مااااں کی آواز نکلی اس کا وزن میرے سینے کر بڑھ گیا اس نے خود کو وہیں روک لیا میں نے اس کے ہاتھوں کو سینے سے ہٹا کر اسے اپنے اوپر لٹا لیا ۔۔۔

وہ تیز تیز سانس لیتے ہوئے میرے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی اس کے ممے میرے سینے میں دب گئے میں دوہرے مزے لینے لگا میں نے لن کو نیچے سے اندر باہر کرنا شروع کیا ۔۔۔۔

شانزل کے منہ سے ہممم ہممم ہممم کی آوازیں نکلنے لگیں میرے ہر گھسے پر لن کچھ زیادہ اندر ہو جاتا اور اس کے ممے میرے سینے پر رگڑ لگا کر میرا جوش بڑھاتے جا رہے تھے۔۔۔

جیسے جیسے مجھے مزہ آنے لگا تھا ویسے ویسے میری سپیڈ تیز ہوتی جا رہی تھی اب لن بھی رواں ہو گیا تھا اور جتنا اندر جا سکتا تھا جا رہا تھا۔۔۔

شانزل نے میرے کندھے پر ہونٹ رکھ دئیے اور چومنے لگی اس کی گانڈ بھی ہلنے لگی وہ ایک بار پھر اوپر ہو گئی اور گانڈ اٹھا اٹھا کر لن پر مارنے لگی۔۔۔

اس کی سپیڈ بڑھتی گئی میرا مزہ بڑھتا گیا میں لن کو زور سے اندر گھساتا وہ اس سے بھی زیادہ جوش سے پھدی کو لن پر مارتی ۔۔۔

ایسے کرتے کرتے وہ بلکل سیدھی ہو گئی یعنی لن پر بیٹھ کر اچھلے لگی اب لن سارے کا سارا پھدی کی گہرائی ماپنے لگا تھا۔۔۔

لن کو جس قدر مزہ آرہا تھا میں اسی قدر زور سے گانڈ اٹھا کر نیچے سے گھسا مارتا وہ نیچے آتی میں نیچے سے اوپر کو گھسا مارتا پھدی میں لن ٹھا کر کے لگتا ۔۔۔

اس نے اپنے ممے پکڑ کر دبانے شروع کر دئیے نپلوں کو مروڑنے لگی میرا ہاتھ اس کے پیٹ کر رینگنے لگے وہ مست ہو چکی تھی اس وقت اس کا جسم پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔

یکدم وہ میرے اوپر گری اس کے ممے زور سے میرے سینے پر لگے وہ میرے ہونٹ چومنے لگی۔۔۔

اس کے جسم نے جھٹکا کھایا پھدی ایک لمحے کے لیے لن کر سخت ہوئی پھر پھدی نے لن کو نہلانا شروع کر دیا۔۔۔

ایسے ہی تین چار بار اس نے جھٹکے کھائے اور ہر بار پھدی نے لن کو جکڑا وہ فارغ ہوتی رہی اس کی پھدی کا پانی نیچے بہتا ہوا میرے ٹٹوں تک چلا گیا۔۔۔

لن کے ساتھ ساتھ ٹٹے بھی نازک چوت کے نمکین پانی سے نہا کر سرشار ہو گئے وہ سانس لینے کے لیے رکی لیکن میں نے رکنا مناسب نہ سمجھا ۔۔۔

اس کے فارغ ہوتے کی گھسے مارنے شروع کر دئیے میرے گھسے اتنے زور سے لگ رہے تھے کہ گانڈ سے جب میرے پٹ ٹکراتے تو شڑپ شڑپ کی آواز پیدا ہوتی جس کو سن کر میں اور زور سے گھسا مارتا۔۔۔

پھدی میں لن جانے سے زیادہ مزہ چوتڑوں سے ہٹ ٹکرانے سے آرہا تھا گوشت سے بھری گانڈ جب پٹوں سے ٹکراتی تو سرور کی لہر دوڑ جاتی۔۔۔

ایسے ہی گھسے مارتے مارتے میں نے شانزل کو اپنے نیچے رکھ لیا اس نے ٹانگیں کھول لیں میں نے لن کو اس کی پھدی میں پھنسایا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میری گردن کو پکڑا۔۔۔

میں نے ایک ہی گھسے میں لن پھدی میں گھسا دیا اس کے چہرے پر درد اور مزے کے ملے جلے تاثرات آئے اس نے ہونٹ میچ لیے میں نے ایک دم گھسوں کی مشین چلا دی ۔۔۔

اس کے ممے دائیں بائیں اچھل اچھل کر جانے کی کوشش کر رہے تھے اس نے جیسے ہی میری گردن چھوڑی میں ٹانگوں کو اٹھا کر سیدھا ہوا ۔۔۔

پھر اسی سپیڈ سے گھسے مارنے لگا اس کے گلابی مموں میں لہریں پیدا ہو رہی تھیں جیسے جیسے گھسے مارتا جا رہا تھا وہ اچھل اچھل کر اس کی گردن کی طرف جاتے ۔۔۔

میں اپنی منزل کے قریب پہنچ رہا تھا اس لیے جنونی انداز سے گھسے مار رہا تھا مجھے کوئی ہوش نہیں تھا شانزل چیخ رہی ہے ۔۔۔

اس کی چیخوں کی پرواہ کیے بغیر گھسے ماری گیا مجھ ایسا جنون سوار ہوا کہ میں ہوش سے بیگانہ ہو گیا ۔۔۔

میں گھسے مارتے ہوئے ہر گھسا پہلے سے تیز مارنے کی کوشش کر رہا تھا ایسے ہی میرے پورے وجود میں مزے کی لہریں دوڑنے لگیں۔۔۔

ان لہروں کا رخ میرا لن تھا میں گھسے مارتے ہوئے اپنے منہ سے بے ہنگم آوازیں نکال رہا تھا۔۔۔

پھر مجھے ایسا لگا جیسے میں ہواؤں میں اڑ رہا ہوں میرے جسم میں سرور کی سرور بھر گیا ۔۔۔

میری سانس پھول گئی میں نے آخری گھسے اتنے زور سے مارے کہ شانزل میرے نیچے گھسے کے زور سے پیچھے کھسکتے ہوئی بیڈ کے کنارے جا پہنچی۔۔۔

اسی وقت میرا لن ایسے لگا جیسے پھٹ جائے گا اس کی اکلوتی آنکھ کھلی ہو گی جس میں سے میرے اندازے کے مطابق بہت زور سے پچکاری نکلی جو سیدھی شانزل کی پھدی کی آخری گہرائی میں بچہ دانی میں جا گری۔۔۔

کیونکہ جیسے ہی لن نے پچکاری ماری تھی عین اسی وقت شانزل کا جسم بھی لرز گیا تھا اس نے مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا تھا۔۔۔

میں شانزل کے نرم وملائم مموں کے بستر پر لیٹ کر فارغ ہونے لگا شانزل کے دونوں ہاتھ میری کمر پر تھے وہ مجھے اپنے اوپر دبا رہی تھی پن جھٹکے کھا کھا کر پھدی کو اپنے پانی سے بھر رہا تھا شانزل کی پھدی بھی پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔

شانزل نے میرا سر اوپر کرکے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھے اور چومنے لگی جیسے ہی اس کا جسم جھٹکا کھاتا وہ میرے ہونٹوں کو کاٹنے لگتی۔۔۔

کچھ دیر ایسے ہی ہم فارغ ہوتے رہے اس کے بعد بھی میں شانزل کے اوپر لیٹا رہا کوئی پانچ منٹ بعد میں میں شانزل کے اوپر سے ایک طرف ہوا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔۔۔

میرا جسم ایک دم ہلکا پھلکا ہو گیا تھا میں سب کچھ بھول چکا تھا وہ ساری باتیں جو شمع نے کیں اس کے علاوہ بھی میرے دماغ میں اس وقت کچھ نہیں آرہا تھا سارا جسم سکون میں تھا۔۔۔

شانزل نے کروٹ لی اور میرے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی بلو میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں سمجھا نہیں سکتی ۔۔۔

میں نے بھی اس کی طرف کروٹ لی اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا وہ شرماتے ہوئے اپنا سر میرے سینے سے لگا گئی۔۔۔

ہم ایک دوسرے کے جسم سے سکون سے حاصل کرنے کے بعد سینے سے سینہ ملا کر لیٹ گئے شانزل باتیں کرنا چاہتی تھی لیکن مجھ پر غنودگی طاری تھی۔۔۔

میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اس کو اپنے ساتھ لگا لیا میں سیدھا لیٹا اور شانزل میرے ساتھ کروٹ کے بل لیٹ گئی اس کا سر میرے بازو پر تھا ۔۔۔۔

ہماری ایسی آنکھ لگی کہ صبح سے کچھ پہلے کھلی شانزل کی ایک ٹانگ میرے اوپر تھا اس کا بازو میرے سینے پر تھا غرض وہ میرے ساتھ چپکی ہوئی تھی میرا لن سیدھا کھڑا لہرا رہا تھا۔۔۔

میں کچھ دیر انتظار کرتا رہا کہ وہ اٹھ جائے گی لیکن وہ مدہوش ہوئے سو رہی تھی میں نے بڑے آرام سے اس کی ٹانگ کو ہٹایا اور پھر اس کا سر اپنے کندھے سے نیچے کیا۔۔۔

میں نے لیٹے لیٹے ہی کروٹ لی اور بیڈ کی دوسری طرف ہو کر بیٹھ گیا لن کو دیکھا تو اس پر گزرے لمحات کی نشانی چمک رہی تھی۔۔۔

پھدی کا پانی جم کر سفید کو چکا تھا اور لن پر چمک رہا تھا لن فل تنا ہوا تھا ۔۔۔

لن کے تناؤ نے مجھے مجبور کر دیا کہ پھدی مار لوں میں شانزل کو دیکھنے لگا اس کا لیٹنے کا انداز بھی مجھے پھدی میں لن گھسانے کے لیے اکسا رہا تھا۔۔۔

میں بیڈ سے اترا گھوم کر شانزل کے پیچھے آکر لیٹ گیا اس کی گانڈ کے سوراخ کے نیچے سے گانڈ کے ابھاروں میں سے لن گزار کر پھدی پر رکھ دیا۔۔۔

اپنا بایاں ہاتھ آگے لا کر اس کے مموں پر رکھ دیا شانزل کافی ٹیڑھی ہو کر لیٹی تھی جس کی وجہ سے اس کی گانڈ باہر کو نکلی تھی اور اوپر والی ٹانگ آگے کو تھی۔۔۔

لن کو پھدی تک کا رستہ صاف مل گیا لن کو ہاتھ میں پکڑ کر پھدی کے لبوں میں رکھا پھدی سے آگ نکل رہی تھی۔۔۔

پھدی کے لبوں میں رگڑ کر ٹوپی کو گیلا کیا اور پھدی میں گھسانے کے لیے دباؤ ڈالا شانزل ہلکا سا کسمسائی میں نے مموں پر ہاتھ کا دباؤ ڈال کر اس کو قابو کیا۔۔۔

نیچے سے لن کو دباتا گیا ٹوپی اندر اتر گئی پھر تھوڑا سا لن اور اندر ہوا میں رک گیا لن کو پیچھے کھینچا پھر دباؤ ڈالا لن کچھ اندر اتر گیا۔۔۔

ایک دو تین چار پانچ چھ بار ایسے کی کرنے کے بعد لن کافی اندر ہو گیا میرا اگلا حصہ شانزل کی موتی تازی گانڈ کی بھاڑیوں سے چھونے لگا۔۔۔

میں نے ایسے ہی لیٹے ہوئے پھدی میں لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا جسم کا درجہ حرارت بڑھا ہوا تھا اوپر سے لن بھی کافی دیر سے اکڑا تھا۔۔۔

کچھ ہی دیر میں میرے گھسوں کی رفتار تیز ہو گئی اور میرے ہاتھ میں شانزل کے مموں پر گرفت بھی سخت ہو گئی۔۔۔

میں نے زور زور سے گھسے مارنے شروع کر دئیے شانزل بھی پتہ نہیں کب سے اٹھ چکی تھی اس کا ایک ہاتھ اپنی گانڈ پر جب کہ دوسرا ہاتھ میرے ہاتھ پر آ گیا اور ممے پر دباؤ ڈالنے لگی۔۔۔

میری رفتار سے اس کی بھی سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں ایسے ہی گھسے مارتے ہوئے میں نے لن کو ایک دم باہر کھینچا اور گانڈ کی دراڈ میں رکھ دیا۔۔۔

اس کے بعد لن سے پانی کی پچکاریاں نکلنے لگیں اور گانڈ کی دراڈ پانی سے بھر گئی میں ایسے ہی کافی دیر لیٹا رہا شانزل نے اپنا چہرہ پیچھے کرکے میرے ہونٹ چومے۔۔۔

میں نے بھی بھرپور جواب دیا اور اپنا چہرہ اس اس کی گردن کے پاس رکھ دیا اس نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے لا کر میرے چہرے پر پھیرا اور مسکرا کر بوکی گڈ مارننگ۔۔۔

میں نے اس کا گال چوم کر گڈ مارننگ کا جواب دیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا وہ بھی اٹھ بیٹھی اور میری گود میں آگئی اور ہنستے ہوئے بولی ایسی صبح کا میں کب سے انتظار کر رہی تھی ۔۔۔

میں نے اس کی گردن پر پاری کی اور ناک اس کے بالوں میں گھسا کر لمبا سانس کھینچا۔۔۔

وہ مسکراتی رہی میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں ڈال کر اپنے پیٹ کر رکھ لیے۔۔۔

ہم صبح کے صحت افزاء سیکس سے مزا کر کے صبح کو رنگین بنا رہے تھے لن کو سکون ملا میرے دماغ نے بھی کام شروع کر دیا میں نے شانزل کے کندھے کر ہونٹ رکھ کر اس کو کہا میں واش روم ہو آؤں ۔۔۔

اس نے گردن گھما کر میری طرف دیکھ کر کہا اوووں ہوں اور ناں میں سر ہلا دیا میں نے اس کے گال کو چوما وہ مسکرا کر بولی اب ہو آو میں بھی اٹھ کر اپنی جان کے لیے ناشتہ بناتی ہوں ۔۔۔

میں اٹھا شلوار پہنی لن ڈھیلا ہو کر لٹک رہا تھا صرف شلوار پہن کر میں کمرے سے نکل گیا واش روم میں گھسا اور نہا دھو کر تازہ دم ہو کر باہر نکلا ۔۔۔

میں سیدھا اس کمرے کی طرف گیا جہاں شمع سو رہی تھی دروازے پر دباؤ ڈالا تو دروازہ کھلتا چلا گیا میں دروزہ کھول کر اندر داخل ہوا تو میں حیران و ششدر رہ گیا۔۔۔۔

میں جب رات شمع سے مل کر گیا تھا تو وہ بیٹھک میں تھی اور بڑی خوش ہو رہی تھی اور اب جو میں دیکھ رہا تھا وہ میرے لیے بڑا حیران کن تھا۔۔۔

شانزل الٹی لیٹی تھی اس کی شلوار پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی جیسے کسی نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہو میں ایک بار سوچا واپس مڑ جاؤں لیکن پھر اندر گیا اور شمع کو اٹھانے لگا۔۔۔۔

میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو ہلایا تو وہ فوراً جاگ گئی اس کے چہرے پر کوئی ایسا تاثر نہیں تھا جس سے میں یہ اندازہ لگا سکوں کہ اس کے ساتھ کوئی انہونی ہوئی ہو گی۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گئی میں اس کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا وہ میرے دیکھنے سے پریشان ہو گئی اس نے مجھ سے پوچھ ہی لیا ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔

میں نے کچھ نہیں کہتے ہوئے ناں میں گردن ہلائی اور بیڈ سے نیچے اتر گیا وہ مجھے دیکھتی رہی میں دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

ابھی دروازے میں پہنچا ہی تھا کہ شمع کہ بجھی ہوئی آواز آئی بلو ۔۔۔

 

Source link

Leave a Comment