گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 45)

 

پہلا دن ٹیوشن پر تھا کافی بور ہوا لیکن ایک بات وہاں ہوئی کہ میرے ساتھ پرویز صاحب نے کافی باتیں کیں مجھ سے کالج میں ہونے والی باتوں پر سیر حاصل ڈسکس کی مجھے مشورے دئیے اور اپنی مکمل سپورٹ کا یقین دلایا میں ٹیوشن سے فارغ ہو کر شام کو گھر آیا رستے میں ہی مجھے ڈاکٹر آنٹی کا فون آیا ۔۔۔ ایسے ہی حال احوال پوچھے میں نے بتایا کہ ابھی ٹیوشن سے واپس آرہا ہوں۔۔۔ آنٹی مجھے کہا میری طرف سے ہوتے جانا میں ان کے گھر گیا انہوں نے مجھے اندر بلایا ۔۔۔

مجھے گلے لگا کر میرے گال چومے پھر بڑے پیار سے ہونٹوں پر کس کی۔۔۔ مجھے بٹھا کر کہا کیا آج بھی آ سکتے ہو کیونکہ ریحان آج بھی نہیں آیا۔۔۔ میں نے کہا پہلے ہی دو راتیں ہو گئی ہیں میں گھر نہیں سویا آج مشکل ہے نہیں رہا جائے گا۔۔۔ ابا جی نہیں مانیں گے آنٹی نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا چلو ٹھیک ہے ۔۔۔ اچھا ایسا تو کر سکتے ہو کہ کچھ دیر یہاں رہ کر پھر گھر چلے جاؤ۔۔۔

میں نے کہا ایک بار اگر گھر چلا جاؤں تو باہر نہیں نکلتا اس لیے ایسا مشکل ہے آنٹی نے کہا اچھا جی۔۔۔ لیکن میں نے تو کچھ اور سنا ہے تمہارے بارے میں ۔۔۔میں نے الجھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔کیا سنا ہے۔۔۔ آنٹی نے فوراً ہی بات بدلتے ہوئے کہا کچھ نہیں میں تو ایسے ہی بات کر رہی تھی کہ شاید تم کوئی بات بول دو اور میرے ہاتھ نقطہ آجائے میں تمہیں منا لوں۔۔۔

دل تو میرا بھی کر رہا تھا لیکن آنٹی نے رات شراب پی تھی مجھے اس سے کوفت ہوتی تھی ۔۔۔ مجھے یقین تھا وہ آج بھی ویسا ہی کرے گی اس لیے منع کر دیا۔۔۔ آنٹی میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی میرے کندھے پر ہاتھ رکھا میرا سر اپنی طرف گھمایا اور بڑی نشیلی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر چومنے لگی۔۔۔۔

لن تو میرا ہر وقت تیار رہتا تھا کھڑا ہو گیا تھا لیکن میں نے خود پر قابو رکھا اور بس جیسے ڈاکٹر صاحبہ کر رہی تھیں کرنے دیا ۔۔۔ اپنی طرف سے آنٹی نے کوشش جاری رکھی میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میری ٹانگوں پر ہاتھ رکھ دئیے۔۔۔ خود مجھ پر گرنے لگی آہستہ آہستہ مجھے گراتے ہوئے میرے اوپر لیٹ گئی۔۔۔

آنٹی کے بڑے بڑے ممے میرے سینے میں دب گئے اس کی گرم سانسیں میرے منہ پر آگ برسا رہی تھیں۔۔۔ ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے پھر ہونٹوں کو چومنا شروع کیا لیکن اب پہلے سے زیادہ بیقراری سے چوم رہی تھی۔۔۔ آنٹی کی بیقراری اس کے انداز سے عیاں تھی میں بھی بہکنے لگا تھا ۔۔۔ آنٹی نے اپنی پھدی کو میری ٹانگ پر رگڑا مجھے اپنی ٹانگ پر کسی گرم گرم شے کا احساس ہوا۔۔۔

پھدی تو جیسے آگ برسا رہی تھی میرا منہ کھل گیا آنٹی کی زبان سیدھی میری زبان سے گتھم گتھا ہو گئی ۔۔۔ بڑی شدت سے زبان کو اپنی زبان سے رگڑ رگڑ کر چوسنے لگی۔۔۔ ہونٹوں سے ہونٹ ملے تھے اندر زبانوں کی لڑائی جاری تھی آنٹی کے ممے میرے سینے میں دبے تھے میرا لن پینٹ اور انڈر ویئر پھاڑ کر باہر آنے کو تیار تھا ۔۔۔

میرا ہاتھ خود بخود آنٹی کی گانڈ پر چلا گیا گانڈ کی الگ الگ پھاڑیاں پکڑ کر دبانے لگا آنٹی نے گانڈ ہلا ہلا کر مزہ لینا شروع کر دیا۔۔۔

پھدی میری ٹانگ سے اب میرے لن کے عین اوپر آ گئی آنٹی نے اپنی دونوں ٹانگیں میرے دائیں بائیں رکھ دیں اور پورے جوش سے ہونٹ چوسنے لگی ہونٹ چوستے چوستے آنٹی نیچے کی طرف آئی اور پینٹ کی زپ کھول دی ۔۔۔

میں نے گانڈ اٹھائی آنٹی نے پینٹ کا بٹن کھول کر پینٹ کے ساتھ ہی انڈر وئیر بھی نیچے کر دیا لن کو ہاتھ میں پکڑ کر کر باہر نکالا آنٹی کے منہ سے بے اختیار نکلا اتنا بڑا یہ۔۔ تم ۔۔۔ نے ۔۔۔ رات ۔۔۔ میری۔۔۔۔

اتنا بول کر آنٹی چپ ہوگئی اور لن کو اوپر نیچے کر کے دیکھنے لگی۔۔۔

رات آنٹی پوری طرح ہواس سے باہر تھی اس لیے اس کو لن کی چوٹ کا پتہ نہ چلا بس مزے لیتی رہی تھی درد کا کہاں احساس ہونا تھا یہ تو میں جانتا تھا اس کی پھدی کتنی تنگ تھی۔۔۔۔

میں نے کہا ہاں یہ ہی گیا تھا بہت آرام سے گیا تھا آپ بھی تو مزے لے رہی تھیں آنٹی مسکرائی لیکن اس مسکراہٹ میں وہ دم خم نہ تھا جو پہلے نظر آرہا تھا۔۔۔

کچھ دیر آنٹی لن دیکھتی رہی پھر اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور میری طرف دیکھتے ہوئے اپنی شلوار اتارنے لگی میں اٹھ کر بیٹھا اور پینٹ کو پاؤں تک اتار دیا اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا آنٹی نے شلوار اتاری ۔۔۔۔

میں نے آنٹی کو گلے لگا لیا ہونٹ چومے پھر آنٹی نے خشک گلے کے ساتھ کہا اب ۔۔۔ میں نے آنٹی کو گھمایا اور دیوار کے ساتھ لگا لیا پیچھے سے لن گانڈ کی دراڑ میں لمبا ہو گیا آنٹی کے دیوار کے ساتھ لگا کر اس کی گانڈ کے نیچے سے ہاتھ لے جا کر پھدی کو چھوا پھدی پانی پانی ہو چکی تھی۔۔۔۔

آنٹی نے گانڈ پیچھے نکالی ٹانگیں تھوڑی کھول لیں میں نے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر پھدی کے لبوں پر پھیر کر سوراخ ڈھونڈا لن کی ٹوپی جیسے ہی پھدی کو چھوئی آنٹی نے گانڈ سخت کر لی اس کا جسم اکڑ سا گیا میں نے کمر پر دباو ڈالا آنٹی تھوڑی سی اور آگے ہوئی گانڈ مزید باہر نکال لی ۔۔۔۔

لن کو اچھے سے پھدی کے سوراخ پر رکھ کر میں نے کمر کو کس کر پکڑا اور اپنی ازلی ہٹ دھرمی سے زور دار گھسہ مارا لن تو اتنا اندر نہ گیا جتنی تیزی سے آنٹی آگے کو کھسکی اور اس کے منہ سے بس آاااااآہ ہی نکلا اور وہ آگے کی طرف ہو کر سیدھی ہو گئی۔۔۔۔

میں پیچھے پیچھے ساتھ جا لگا آنٹی کی قمیض کو پیچھے سے اوپر کر کے اس کی کمر کو ننگا کیا اور ہاتھ پھیرنے لگا کچھ دیر ہاتھ پھیر کر اپنے ہونٹ کمر پر رکھے اور چومنے لگا۔۔۔

میرے چومنے سے آنٹی نے اپنی کمر کو جھکانا شروع کیا گانڈ باہر کو نکلنے لگی لن ایک بار پھدی کے لبوں پر جا لگا اب میں رک نہیں سکتا تھا میں نے ہاتھ آگے لے جا کر ممےپکڑ لیے اور ممے دباتے ہوئے ایک ہاتھ سے لن کو ایک بار پھر سے پھدی کے لبوں پر رکھ کر سوراخ میں پھنسا لیا۔۔۔۔

ہلکا سا گھسا مارا لن کی ٹوپی اتر گئی آنٹی کی گانڈ سمیت سارا جسم اکڑ سا گیا میں نے ایک منٹ بعد پھر سے تھوڑا زور لگایا لن مزید اندر گیا اس کے بعد تھوڑا پیچھے ہو کر آہستہ سے ایک دو بار اندر باہر کیا لن کافی حد تک اندر چلا گیا تھا۔۔۔۔

گانڈ کافی بڑی اور باہر کو نکلی ہوئی تھی چوتڑوں پر ہاتھ رکھےاور آگے پیچھے ہو کر لن گھسانے لگا ہر گھسے پر لن پہلے سے تھوڑا زیادہ اندر کرتا گیا۔۔۔

ایسے ہی کرتے کرتے میں نے کافی حد تک لن اندر گھسا دیا جس سے آنٹی کے موٹے موٹے چوتڑ میرے اگلے حصے سے لگ گئے میں نے قمیض میں ہاتھ ڈال کر ممے پکڑ کر نپل مروڑتے ہوئے گھسے سٹارٹ کر دئیے ہر گھسے پر آنٹی کے منہ سئی سئی نکلتی۔۔۔

آہستہ آہستہ سپیڈ تیز ہوتی گئی آنٹی نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا تھا وہ آگے دیوار پر ہاتھ رکھ کر مزید جھک گئی جس سے مجھے کھل کر گھسے مارنے کا موقع مل گیا۔۔۔

میری سپیڈ بڑھتی گئی آنٹی کا جسم لڑکھڑایا میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اس کو سنبھال کر سیدھا کھڑا کیا آنٹی کے ممے دیوار کے ساتھ لگ گئے میرے گھسے اسی سپیڈ سے جاری تھی۔۔۔

چوتڑوں کے ساتھ جب میرا جسم ٹکراتا تو ٹھپ ٹھپ کی آواز آتی میرا جوش اس آواز سے بڑھتا جاتا۔۔۔۔

آنٹی نے گردن گھما کر کہا میں تھک گئی ہوں میں نے لن نکالا آنٹی کو صوفے پر لٹایا ٹانگیں اس نے خود ہی کھول دیں میں ٹانگوں کے بیچ آیا اور لن کو پھدی پر رکھ کر اوپر لیٹتے ہوئے ایک جاندار گھسا مارا ۔۔۔

لن ایک گھسے میں پھدی کو رگڑتے ہوئے اندر گھس گیا آنٹی کے منہ سے زور دار چیخ نکلی ۔۔۔۔

میں نے لن تھوڑا باہر نکال کر پھر ویسے ہی گھسا مارا آنٹی نے ایک بار پھر آاااآہہہ کیا میں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔

میرے ہر گھسے پر آنٹی سئی سئیی آہ آہ افففف کرتی جا رہی تھی لیکن میں رک نہیں سکتا تھا میرا جوش اس کی آوازوں سے بڑھتا جا رہا تھا آنٹی نے بھی جوش میں آنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

لن کی روانی دیکھ کر لگ رہا تھا کہ آنٹی کی پھدی ایک بار پانی چھوڑ چکی ہے میں نے اپنی سپیڈ بڑھاتے ہوئے تیز تیز گھسے مارنے جاری رکھے ۔۔۔۔

میں پیچھے ہوا ٹانگوں کو کندھوں پر رکھا بیٹھ کر گھسے مارنے لگا آنٹی کے ممے ایک بار پھر سے قمیض میں چھپ چکے تھے آنٹی دائیں بائیں سر مارتے ہوئے آہ اہ اہ ہممممم ییسیسیسیسی کر رہی تھی ۔۔۔

پھر اس نے نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر لن لینا شروع کر دیا تھا پھدی میں لن بھی ٹھا ٹھا کر کے ٹکرا رہا تھا میں پورے زور سے گھسے مار رہا تھا۔۔۔

میرا دل کر رہا تھا لن پھدی کے آر پار ہو جائے اسی رفتار سے گھسے مارتے ہوئے میں نے آنٹی کے چوتڑوں پر نیچے سے تھپڑ مارنے شروع کر دئیے۔۔۔

پتہ نہیں مجھے کیا ہو رہا تھا جوش میں ہوش کھو رہا تھا گھسوں کی مشین چلائے ہوئے تھا آنٹی کی آہ و بکا کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔۔

میں نے اسی سپیڈ سے گھسے مارتے ہوئے آنٹی کے گانڈ اٹھا کر لن لینے کے دوران ایک زور دار گھسا مار کر آنٹی کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر لیے اوپر لیٹتا گیا ۔۔

آنٹی کے ہاتھ میری کمر پر آئے مجھے دبانے لگی اس کی پھدی لن پر کسنے لگی اس کا جسم سخت ہو گیا میرا لن بھی فل سخت ہو گیا ۔۔۔۔

لن سے زور دار پچکاری نکلی میرے منہ سے ہہہہوں کی آواز کے ساتھ نکلی دوسری طرف آنٹی نے مجھے اپنے اوپر کس لیا اس کی پھدی کے مساموں سے پانی نکل کر لن کو نہلانے لگا۔۔۔۔

میں مزے کی انتہا پر تھا تو آنٹی بھی مزے میں ڈوب چکی تھی میرا لوڑا پھدی کو اپنے پانی سے سیراب کر رہا تھا تو آنٹی کی پھدی بھی لن کو خراج دے رہی تھی۔۔۔

میرا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا آنٹی کی سانس اکھڑ چکی تھی اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے تین چار بار جسم کانپا اور ڈھیلا ہو گیا میں نے بھی کچھ جھٹکے کھائے لن نے اپنا سارا پانی پھدی میں چھوڑ دیا۔۔۔

میں فارغ ہو کر آنٹی کے اوپر ڈھ گیا آنٹی کے ہاتھ میری کمر پر پھرنے لگی آنٹی نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے میرے سر پر کس کی اور بولی۔۔۔۔

کیا ہوا تھک گئے ہو میں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور مسکرایا آنٹی نے میرے گال پر کس کرتے ہوئے مجھے اپنے اوپر لٹا لیا میں بھی تھکے ہارے ہوئے ان کے اوپر لیٹ رہا میرا لن سکڑ کر ان کی پھدی سے نکل گیا تھا لیکن ان کی پھدی کی گرمی میرے لن کو باہر تک محسوس ہو رہی تھی آنٹی کا جسم بھی گرم تھا ان کے انداز سے بھی واضح ہو رہا تھا کہ بہت گرم ہے ۔۔۔۔

آنٹی نے مجھے بڑے پیار سے اپنے اوپر سے ہٹایا میں پیچھے ہوتے ہوئے صوفے پر ایک طرف بیٹھ گیا آنٹی اٹھ کر بیٹھی گئی اور وہ بڑی دلکش نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی اس نے میری شرٹ کو اتارا اپنی قمیض بھی اتار دی پھر مجھے اٹھا کر کھڑا کیا اور خود بھی اٹھ گئی میرا ہاتھ پکڑا اور اندر بیڈ روم میں لے گئی۔۔۔

میری پینٹ پاؤں میں گھس رہی تھی میں نے رک کر پینٹ کو پاؤں سے نکالا اور جب کھڑا ہوا تو آنٹی نے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ میرے کندھے پر رکھا دوسرے ہاتھ کو میری کمر پر رکھ کر مجھے اپنے گلے لگا لیا اس کے بڑے بڑے ممے میرے سینے سے لگ گئے آنٹی کا جسم آگ کی طرح دہک رہا تھا اس کی سانسیں بھی بہت گرم تھیں اس نے مجھے کس کر گلے لگا لیا میرا مرجھایا ہوا لن ٹانگوں میں رگڑ کھا رہا تھا ۔۔۔۔

آنٹی نے اپنے ہونٹ میرے کندھے پر رکھے اور چومنے لگی وہاں سے چومتے ہوئے گردن پر آئی اپنی زبان کی نوک گردن پر پھیرتے ہوئے ٹھوڑی تک آگئی ٹھوڑی سے اوپر کی طرف گئی گیلے بوسے کرتی گال پر تھوک لگانے لگی باری باری دونوں گال چومے اور آخر میں ہونٹوں پر ہلکی سی کس کی اپنا ایک ہاتھ میرے سینے پر پھیرنے لگی میرے سینے کے چھوٹے چھوٹے نپلوں سے چھیڑخانی کرنے لگی۔۔۔

میرے پورے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا وہ نیچے جھکتی ہوئی اپنی زبان کو سینے پر گھمانے لگی اور ساتھ ساتھ اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو نپلوں پر رگڑنے لگی میری جان سولی پر آ گئی ایسا ظالم انداز تھا کہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا میرا لن ایک دم سے اکڑنے لگا لن جب سیدھا ہوا تو اس کے جسم سے چھوا اس نے اپنی ٹانگ کو لن کے ساتھ رگڑ دینا شروع کر دی ۔۔۔۔

سینے کے درمیان میں زبان پھیرتی وہ ناف تک آئی تو میرا لن اس کے مموں سے لگ رہا تھا موٹا لمبا لن مموں کے درمیان میں گھس رہا تھا میرا آنکھیں بند ہو رہی تھیں میں اس وقت سب کچھ بھول گیا تھا یاد تھا تو بس مزہ آنٹی کے پیار کا انداز اس کا والہانہ پن اس کے تجربے کا اظہار کر رہا تھا ۔۔۔

وی نیچے بیٹھی ناف میں زبان گھمانے کے ساتھ ساتھ لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس کی مٹھ لگانے لگی اس کے ہاتھ میں کوئی جادو تھا میرا پورا وجود ہلکورے کھانے لگا زبان میری ناف کو صاف کر رہی تھی ہاتھ میرے خون کو تیز کر رہے تھے لن گرم سے گرم ہوتا جا رہا تھا آنٹی نے لمبی سانس لے کر اپنا منہ ناف سے ہٹایا ۔۔۔۔

لن کو ہاتھ میں پکڑے وہ کھڑی ہوئی لن پکڑ کر مجھے تھوڑا سا کھینچا میں نے آنکھیں کھولیں وہ میری طرف دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹتی ہوئی بیڈ پر گئی پھر رک کر اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا میں ہپناٹائز ہوئے اس کے ہر اشارے پر سر تسلیم خم کرتا جا رہا تھا بلا چوں چرا لیٹ گیا اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر بالوں کا جوڑا بنایا پھر لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس سے کھیلنے لگی لن پر اس کی پھدی کا پانی خشک ہو کر سفید ہو چکا تھا ۔۔۔۔

آنٹی نے اپنے ہاتھ پر تھوک کا گولا پھینکا اور لن پر مسل دیا پھر مٹھ مارنے لگی اس کے بعد اس نے ٹشو کے پیکٹ سے ٹشو نکالے اور اچھے سے لن کو صاف کیا پھر ٹشو نکالا دوبارہ تھوک لگائی لن کو پھر سے رگڑ رگڑ کر صاف کیا جب لن آنٹی کے خیال میں اچھی طرح صاف ہو گیا تو اس نے ایک بار پھر لن سے کھیلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

وہ آگے ہوئی اپنے مموں کو جوڑ کر لن کو ان کے درمیان لیا اور خود سے ہی مموں کو لن سے چدوانے لگی لن مموں کی نرم گرم حرارت سے بے قابو ہو کر جھٹکے کھا رہا تھا آنٹی نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور جب لن مموں سے ہوتا ہوا باہر نکلا تو منہ کھول لیا لن ٹوپی سے کچھ زیادہ آنٹی کے کھلے منہ میں گھس گیا ۔۔۔

اب تو میں مزے سے پاگل ہونے لگا تھا میرے اندر جوش بھر گیا میں نے نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر زور سے لن کو مموں میں گھسانا شروع کر دیا میرا نشانہ ممے کم آنٹی کا منہ زیادہ تھا میری کوشش تھی کہ لن مموں سے نکل کر منہ میں گھس جائے آنٹی کے لبوں کی نزاکت مجھے لن پر اچھی لگ رہی تھی ایسا لگتا تھا جیسے پھدی کے نرم مسام کو چھو رہا ہو۔۔۔

آج تک بہت سی پھدیاں مار چکا تھا لیکن کسی نے ایسا مزہ نہیں دیا تھا اس طرح سے بھی جسمانی سکون ملتا ہے میں نہیں جانتا تھا سیکس میں یہ سب بھی ہوتا ہے میرے لیے نیا تجربہ تھا آنٹی مجھے مدہوش کر چکی تھی میں مکمل طور پر اس کے قابو میں تھا کہاں میں یہاں سے بھاگنا چاہتا تھا اور اب میرا دل چاہ رہا تھا آنٹی ایسے ہی میرے لن کے ساتھ کھیلتی رہے میرا انگ انگ سرور میں تھا۔۔۔۔

آنٹی نے مموں سے لن کو نکالا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی میری طرف دیکھتے ہوئے اس نے مسکراہٹ دی مجھے آنٹی کی مسکراہٹ بھی کمال کی لگ رہی تھی وہ کیٹ واک کرتی بیڈ کی سائڈ ٹیبل تک گئی وہاں سے اس نے ٹیبلٹ نکالی پھر کمرے سے نکل گئی میں لن کو دیکھ کر اوازار ہونے لگا مجھے اس کا یوں چلے جانا ایک آنکھ نہ بھایا ۔۔۔

میں بے چینی سے انتظار کرنے لگا وہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں واپس آ گئی لیکن میرے لیے یہ ایک منٹ صدی کے برابر تھا اس کے ہاتھ میں گلاس تھا جس میں دودھ تھا اس نے وہ ٹیبلٹ مجھے دی اور گلاس پکڑا کر کہا کھا لو تھکاوٹ نہیں ہو گی پھر اور دودھ بھی پینا ہے۔۔۔

میں نے بیٹھ کر جلدی سے ٹیبلٹ نگلی دودھ پیا گلاس آنٹی کو پکڑایا اس نے گلاس کو منہ سے لگایا اپنی زبان گلاس میں ڈال کر چاٹا میں اس کی ایک ایک ادا پر آج قربان ہو رہا تھا گلاس میں جتنی زبان جا سکتی تھی ڈال کر اس نے گلاس کو اندر سے صاف کیا پھر ایک طرف رکھ دیا۔۔۔

دودھ اندر جاتے ہی میرے جسم میں گرم لاوا بھر گیا جیسے ہی آنٹی میری طرف بڑھی میں نے اس کو دبوچ کر اپنے نیچے رکھ لیا اس کی ٹانگیں اٹھائیں اس نے میرا ساتھ دیا ٹانگوں کو فولڈ کر کے اس کے مموں سے لگا لیا پھدی اوپر اٹھ گئی لن کو پھدی کے لبوں میں گھسا کر سوراخ ڈھونڈا نشانہ لگتے ہی میں نے زور سے گھسا مارا آنٹی کی گیلی پھدی کی دیواروں کو رگیدتا ہوا لن آدھا اندر گھس گیا۔۔۔

آنٹی کے منہ سے آہ نکلا لیکن میں نے دوسری آہ کو پہلی میں شامل کروا دیا جب فوری بعد دوسرا گھسا بھی مارا آنٹی سر کٹی مرغی کی طرح اچھلی لیکن میں نے اس کو قابو کیا ہوا تھا۔۔۔۔

آنٹی کے تڑپنے کی کوئی پرواہ نہ کی لن کو باہر نکال کر ایک بار پرھ اسی سپیڈ سے گھسایا آنٹی پھر تڑپی اس نے اپنے ہاتھ اپنی ٹانگوں کے درمیان سے گزار کر میرے پیٹ پر رکھ دئیے مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ گھسوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔

آنٹی آہ اہ آہ آرام سے بلو کہتی رہی لیکن بلو اپنے ہوش کھو چکا تھا بلو کے دماغ پر منی سوار ہو چکی تھی میں نے گھسے مارنے جاری رکھے آنٹی کا جسم جلد ہی اکڑنے لگا اس کی درد بھری چیخیں رک گئیں وہ ہممممم کے ساتھ مجھے اپنے اوپر کھینچنے لگی۔۔۔

اس کے انداز میں جوشیلہ پن تھا وہ تڑپنے لگی اس کی گانڈ بھی نیچے ہلنے لگی میرے گھسوں کی سپیڈ اس کے جوش کو دیکھ کر اور تیز ہو گئی میں نے گھسے اتنے زور سے مارے کہ اس کا جسم اچھلنے لگا اسی دوران اس کے جسم کو زور دار جھٹکا لگا لیکن میں اپنی سپیڈ سے لگا رہا میرا لن ٹوپی تک باہر جاتا پھر ایک دم اندر گھس جاتا ۔۔۔۔

ایک بار میں نے جب لن کو ٹوپی تک نکالا تو وہ نیچے سے ہل گئی لن باہر نکلا میں نے اسی ردھم سے گھسا مارا لن پھسلتا ہوا نیچے گانڈ میں گھس گیا ۔۔۔۔

لن گانڈ میں گھسا تو آنٹی ایک دم اچھل کر میرے نیچے سے نکل گئی اس کے منہ سے آہ اوووووہ کی آواز نکلی وہ ایک طرف ہو کر اپنی گانڈ پر ہاتھ رکھ کر مسلنے لگی مجھے برا بھلا کہنے کی بجائے آنکھیں بند کرکے آہستہ آواز میں بولی دیکھ تو لیتے کہاں ڈال رہے ہو تمہارا اتنا بڑا ایسے نہیں جا سکتا تھا میری جان نکال کر رکھ دی ہے۔۔۔۔

مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا لن پھٹ رہا تھا پتہ نہیں آنٹی نے کیا چیز کھلائی تھی کہ میرا دل کر رہا تھا پھدی میں سے لن باہر ہی نہ نکلے میں نے لن کی طرف دیکھتے ہوئے آنٹی کی طرف دیکھا اس کی پھدی سے پانی باہر بہہ رہا تھا میں نے آگے ہو کر آنٹی کی پھدی کو چھوا آنٹی ترچھی ہو کر لیٹی تھی ٹانگوں کو فولڈ کیا ہوا تھا ۔۔۔۔

آنٹی نے کوئی حرکت نہ کی میں آنٹی کے قریب گیا اسی انداز میں آنٹی کے پیچھے لیٹ گیا لن کو آنٹی کی پھدی پر لگایا آنٹی نے اپنا ہاتھ گانڈ سے ہٹا کر لن پر رکھا اور پھدی پر خود سے پھیرنے لگی میں نے پیچھے لیٹ کر ہاتھ آگے بڑھائے اور ممے پکڑ لیے ان کو مسلنے لگا آنٹی کو کافی تجربہ تھا ۔۔۔

لن پہلے بھی کافی گیلا تھا آنٹی نے اپنی پوزیشن درست کی پھر لن کو پھدی کے سوراخ میں رکھ کر تھوڑا پیچھے کو گھسا مارا ٹوپی سے کچھ زیادہ لن اندر چلا گیا میں نے زور لگایا جتنا جا سکتا تھا اندر اتر گیا آنٹی کے مموں کو پکڑ کر اس کے پیچھے لیٹے میں نے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔

اس پوزیشن میں سپیڈ تیز نہیں ہو سکتی تھی مجھے مزہ نہیں آرہا تھا اس لیے جلد ہی تھک گیا اس لیے میں اٹھ کر بیٹھا اور آنٹی کی گانڈ کو اور دوہرا کیا اور لن کو پھدی میں گھسا دیا ان کی اوپر والی تھائی کو نیچے دبانے سے پھدی بہت ٹائٹ ہو گئی لن پھنس کر اندر جانے لگا۔۔۔

دو تین گھسوں میں لن اندر ہو گیا لیکن آنٹی نے اپنا ہاتھ چوتڑ پر رکھ کر کھولنے کی کوشش کی جس کو میں نے بڑے پیار سے پیچھے ہٹا دیا اور گھسے مارنے لگا میں بیٹھ کر گھسے مارے جارہا تھا آنٹی ترچھی لیٹی اپنی پھدی میں لن برداشت کر رہی تھی جلدی ہی آنٹی تھک گئی اس نے مجھ روکا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔

وہ اٹھ کر بیڈ سے نیچے اتری اور مجھے بھی بلا لیا پھر اپنی کہنیاں بیڈ پر رکھ کر جھک گئی اور مجھے اپنے پیچھے سے ڈالنے کا کہا میں آنٹی کے پیچھے آیا اس کی موٹی گانڈ کے چوتڑوں کو دونوں ہاتھوں سے دبایا لن کو گانڈ کی دراڑ میں پھیرا تو آنٹی مڑ کر کہا پلیز یہاں نہ ڈالنا تمہارا بہت موٹا ہے ۔۔۔۔

آنٹی کی بات کا مطلب میں یہ سمجھا کہ وہ گانڈ مروانا چاہتی ہے لیکن ڈر رہی ہے میں نے لن کو پھدی میں گھسا دیا اور گھسے مارنے لگا ساتھ ساتھ چوتڑوں کو بھی دباتا رہا تھوک گانڈ پر پھینک کر انگلی کی مدد سے دراڑ میں مسلنے لگا دو تین بار کرنے کے بعد میں نے گھسے مارتے مارتے انگلی گانڈ میں ڈال دی ۔۔۔۔

آنٹی کے منہ سے سئیی نکلی لیکن انگلی جانے سے یہ بات پتہ چل گئی کہ گانڈ کافی کھل چکی ہے میں نے انگلی کے ساتھ ایک اور انگلی بھی ڈال دی اور گھسے تیز کر دئیے اب انگلیوں کو گانڈ میں ڈاے لن سے پھدی میں گھسے مار رہا تھا میری سپیڈ بہت تیز ہو گئی تھی ۔۔۔

میں نے دونوں ہاتھوں سے گانڈ کو پکڑ کر گھسے مارنے شروع کر دئیے میرا لن ایک جھٹکے سے پھدی میں جاتا اور ان کی ابھری ہوئی گانڈ سے میرا اگلا حصہ ٹکرا کر سریلی آواز پیدا کر رہا تھا۔۔۔۔

ایسے ہی گھسے ماری جا رہا تھا آنٹی چیخنے لگی کہنے لگی بس کر جاؤ پلیز اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا بہت جلن ہو رہی ہے لیکن میں ایک نہیں سن رہا تھا آنٹی نے آگے کو لیٹتے ہوئے آہ آہ اہ اوہ مر گئی پلیز آہستہ کرو کہنا شروع کر دیا تھا آنٹی نیچے لیٹی میں گھسے مارتا ہوا اوپر لیٹتا گیا ۔۔۔۔

میرا منہ آنٹی کے کانوں کے برابر چلا گیا میں نے آنٹی کے دائیں کان کو ہونٹوں میں لیا آنٹی نے کہا پلیز اب برداشت نہیں ہو رہا کچھ کرو نہیں تو میری جان نکل جائے گی میرے تو فارغ ہونے کے دور دور تک آثار نظر نہیں آ رہے تھے پسینے سے بھیگ گیا تھا ۔۔۔

میں نے گھسے پہلے سے بھی تیز کر دئیے انٹی نے بیڈ میں منہ چھپا لیا اس کا جسم مسلسل کانپ رہا تھا میں گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مار رہا تھا لن پھدی کی گہرائی تک جا رہا تھا آنٹی نے اپنے دونوں ہاتھوں آگےرکھ کر بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں پکڑ رکھا تھا ۔۔۔

مجھے اس کی حالت دیکھ کر ترس آگیا میں نے رک کر کہا کیا ہوا آنٹی درد زیادہ ہو رہا ہے آنٹی نے ہلکا ہکلاتے ہوئے کہا ہمممم بہت ہو رہا ہے میں نے لن نکال لیا اور آنٹی کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گیا آنٹی نے گردن گھما کر مجھے دیکھا اور کہا تم فارغ ہو گئے میں نے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔

آنٹی نے کہا تم کرو پھر میں برداشت کر لوں گی آنٹی سیدھی ہوئی تو میں نے اس کی پھدی کو دیکھا جو سوج چکی تھی اور لال سرخ ہو گئی تھی میں لن کو دیکھا وہ ویسا ہی پھٹے کی طرح سخت تھا آنٹی نے کہا کر لو میں نے پھدی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا نہیں اب اگر کیا تو بہت برا حال ہو جائے گا۔۔۔

آنٹی نے کہا پھر پیچھے سے کر لو میں لوشن دیتی ہوں وہ لگا لو میں نے ہامی بھر لی یہ تو میں سمجھ چکا تھا آنٹی اپنی گانڈ بھی خوب مرواتی رہی ہے اس لیے میں نے بھی اتنے عرصےسے گانڈ نہ مار سکنے کی خواہش پورا ہوتےدیکھ کر کہا ٹھیک ہے آنٹی نے اسی طرح لیٹے ہوئےسائیڈ ٹیبل سے لوشن اٹھا کر مجھے دیا اور خود گھوڑی بن گئی۔۔۔

میں نے لوشن کی بوتل کو گانڈ پر الٹا کر وہاں سے ہاتھ پر لگایا اور لن کو تر کیا پھر ایک انگلی سے اس کی گانڈ میں لوشن کو لگانے لگا۔ گانڈ کو لوشن سے اچھی طرح نرم کیا پھر لن گانڈ کی موری پر رکھا جو کافی کھلی تھی۔۔۔

ٹوپی پر دباؤ ڈالا ٹوپی پچک کر اندر چلی گئی تھوڑا اور دباؤ بڑھایا لن اندر اترتا گیا ایسے ہی کچھ ہی لمحوں میں لن آدھے سے زیادہ اندر کر دیا وہاں انٹی نے مجھے روک دیا کہا بس اتنا ہی کرو آگے نہیں کرو درد زیادہ ہو گا۔۔۔

میں نے اتنا ہی لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا آنٹی گھوڑی بنی مجھے مزہ دینے کے لیے گانڈ بھی مروا رہی تھی میں نے کچھ ہی منٹوں میں لن گھسانے کی سپیڈ بڑھا دی گانڈ پھدی کی نسبت کافی تنگ لگ رہی تھی پھدی جتنی تنگ تھی مجھے کنواری پھدی کا مزہ آیا تھا ۔۔۔

لیکن گانڈ اس سے بھی تنگ تھی مزہ دوبالا ہو گیا تھا اسی مزے میں میں اپنی منزل کے قریب پہنچ گیا تھا آنٹی نیچے سے اپنی پھدی مسل رہی تھی وہ بھی گانڈ کو تھوڑا ہلا کر پیچھے دھکیل رہی تھی مجھے جب مزہ آنے لگا تو میں نے گھسوں کی سپیڈ بہت زیادہ تیز کر دی ۔۔۔۔

اسی تیزی میں لن پہلے سے زیادہ اندر جانے لگا آنٹی کی درد بھری آہ آہ نکلنے لگی میں نے اپنے آخری گھسے اتنی تیز مارے کہ وہ نیچے جا گری میں اوپر گرا لن جو تھوڑا باہر تھا وہ بھی اندر گھس گیا میں اوپر لیٹ چکا تھا آنٹی کی چیخ اتنی اونچی تھی کہ میں ڈر گیا ۔۔۔۔

مجھے شک ہوا کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے میں نے ویسے ہی تیزی سے گردن گھمائی تو مجھے اسی وقت کسی کے بائیں طرف ہونے کا احساس ہوا بلیو دوپٹہ لہرایا تھا جو بھی تھا وہ کوئی عورت یا لڑکی تھی میں جس مقام پر تھا وہاں رک نہیں سکتا تھا ۔۔۔

لن نے آنٹی کی گانڈ میں پچکاری ماری میرے دماغ میں پتہ نہیں کیا آیا کہ میں نے گانڈ سے لن نکالا اور جلدی سے اٹھ کر بیڈ سے اترا اور باہر دروازے سے نکل گیا میں نے باہر نکل کر بائیں طرف دیکھا تو وہاں ایک لڑکی کھڑی تھی۔۔۔

میں نے اس کی طرف دیکھا اس نے میری طرف دیکھا پھر نیچے نظر کی میرے لن کی طرف دیکھا جو جھٹکے کھا کھا کر منی کی پچکاریاں نکال رہا تھا اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں اس نے بے دھیانی میں اپنا ہاتھ اپنی ٹانگوں کے بیچ لگایا ۔۔۔

دوسرا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا جب اس کو احساس ہوا کہ میں ننگا ہوں اور میرا لن منی نکال رہا ہے تو وہ شرمندہ ہو کر وہاں سے بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی میں اس کی لچکیلی کمر دیکھتا رہ گیا جب وہ تیز تیز سیڑھیاں چڑھ رہی تھی تو اس کی ابھری ہوئی گانڈ اس کے جسم کے بھرپور جوان ہونے کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی۔۔۔

اس کی بیک کو دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا اس کا جسم کافی زرخیز ہے اگر اب تک کسی نے سیراب نہیں کیا تو اس کے ساتھ زیادتی ہے میں اس کی گانڈ سے اس کے جسم کے نشیب و فراز کے تصور میں کھو گیا تھا اور ہاتھ لن پر چلنے لگا ساری منی نچوڑ کر نیچے بہا دی ۔۔۔

میرے کندھے پر نازک ہاتھ نے مجھے ہوش کی دنیا میں واپس کھینچا میں نے گردن گھمائی تو آنٹی میرے بہت قریب کھڑی تھی میں نے آنٹی سے اس کے بارے میں پوچھنے کا ارادہ کیا پھر رک گیا ۔۔۔

آنٹی نے اپنے ممے میرے ساتھ لگاتے ہوئے کہا کیسا لگا مزہ آیا میں مسکرا دیا۔۔

آنٹی نے کہا میری بس کروا دی ہے تمہارا یہ گھوڑا بہت شہ زور ہے اوپر سے اتنا موٹا اور لمبا توبہ توبہ کروا دی اس نے ۔۔۔

میں صرف مسکراتا رہا میں نے کہا اب میں چلتا ہوں آنٹی نے بھی ضد نہ کی ٹشو پیپر لے آئی اور میرے سامنے بیٹھ کر لن کو ہاتھ سے پکڑ اچھی طرح صاف کیا اور بڑے پیار بھرے انداز میں اس پر چپیڑ مارتے ہوئے کہنے لگی بڑے ظالم ہو تم۔۔۔

آنٹی کی پھدی سے نکلنے والی منی سے لن کے ارد گرد کافی جگہ خراب ہو چکی تھی جو آنٹی نے اچھے سے صاف کی پھر اس نے وہیں کھڑے ہو کر اپنی پھدی کو صاف کیا اور سئی سئی کرتی رہی میں نے پھدی کو دیکھا تو اس کا ستیاناس ہو چکا تھا ۔۔۔

پھدی اب پھدا بن چکی تھی اتنی پھدیاں ماری تھیں لیکن جتنا وقت آج چدائی کی کبھی نہیں کی میں سمجھ چکا تھا آنٹی نے جو دوائی مجھے کھلائی تھی یہ سب اس کا کمال تھا ۔۔۔

میں نے اپنے کپڑے ڈھونڈ کر پہنے جن میں سے پینٹ اور انڈر وئیر کمرے میں تھا شرٹ باہر صوفے پر تھی پہن کر میں باہر نکل گیا باہر نکل کر میں نے ایسے ہی آنٹی کے گھر کی اوپر والی منزل کی طرف دیکھا تو مجھے وہاں وہی حسین چہرہ نظر آیا اس کی آنکھوں میں میرے لیے کئی پیغام تھے۔۔۔

چند سیکنڈ میں ہی وہ چہرہ پردے کے پیچھے غائب ہو گیا لیکن میرے لیے کافی کچھ سوچنے کے لیے چھوڑ گیا ۔۔۔

ان آنکھوں کی ویرانی ان میں چھپا درد کچھ تو تھا جو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا اس کی آنکھوں میں کیا تھا میں یہ سوچتا ہوا گھر کے دروازے پر پہنچ گیا ۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں بیل دیتا شانزل کی بیٹھک کا دروازہ کھلا اس میں سے کوئی بھاگتا ہوا باہر نکلا ادھر ادھر دیکھے بغیر میری مخالف سمت دوڑ پڑا اس کے پیچھے پیچھے ایک جوتی بھی آ گری ۔۔۔

میں یہ دیکھنے کے لیے کہ کون تھا اور کیا معاملہ ہے شانزل کے گھر کی طرف گیا تو اندر سے شمع نکلی اس نے مجھے دیکھا پھر نظریں جھکا کر باہر آئی جوتا اٹھایا اندر چلی گئی میں اس کی طرف بڑھا بھی کہ پوچھوں تو صحیح کیا معاملہ ہے لیکن اس نے دھڑام سے دروازہ بند کر لیا میں کچھ دیر وہاں رکا رہا پھر واپس گھر کی آیا بیل دی دروازہ کھلا ۔۔۔

آج مجھے گھر میں خصوصی پروٹوکول ملا منڈا پڑھ کے آیا اے ابا جی یہ سوچ رہے تھے لیکن وہ اگر یہ جان جاتے کہ ابھی بھی پھدی مار کر آیا ہے تو جتی لاہ لینی سی تے میری طبیعیت فریش کر دینی سی ابا جی نے مجھے کہا نہا لو پہلے بڑے تھکے ہوئے لگ رہے ہو میں نے دل میں کہا تھکنا تو تھا ہی پھدی بھی تاں رج کے وجائی اے میں نے کتابیں رکھیں ایک ٹراؤزر شرٹ اٹھایا اور نہانے گھس گیا۔۔۔۔

ٹھنڈے پانی سے نہا کر طبیعیت تازہ دم ہو گئی مجھے کافی تھکن محسوس ہو رہی تھی اس لیے کھانا کھانے کے بعد باہر بھی نہ نکلا اور بیٹھک میں جا کر سو گیا بیٹھک میں اکیلا ہی تھا آج بھی بھا ہاشم نہیں آئے تھے میں گھوڑے خرگوش کچھوے سب بیچ کر سو رہا تھا ۔۔۔۔

یکدم مجھے ایسا لگا جیسے میرا سانس رک رہا ہے کوئی میری اوپر سوار ہے اور میرا گلا اس کے قبضے میں ہے میرا سانس اٹکنے لگا مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی جسم کانپ رہا تھا میری آنکھ کھل گئی میرا پورا جسم پسینے سے شرابور تھا سانس لینا

مشکل لگ رہا تھا میں اٹھ کر بیٹھ گیا ارد گرد دیکھا کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

میں نے لائٹ آن کی ہر جگہ چھان ماری کوئی نہ ملا دونوں طرف سے دروازے چیک کیے بند تھے کسی کے اندر آنے کے یا باہر جانے کے کوئی نشان نہ تھے میں سچ میں ڈر گیا کہ یہ معاملہ کیا ہے میں نے جنوں کے کافی افسانے سن رکھے تھے اور اس ٹاؤن کے بارے میں تو کافی مشہور واقعات تھے میں نے باقی کی پوری رات ایسے ہی ڈرتے ہوئے گزار دی ۔۔۔

صبح اٹھا حسب معمول واک کے لیے گیا آج میں کافی الجھا ہوا تھا رات کے واقعے نے مجھے ہلا کر دکھ دیا تھا میرا سارا دھیان اسی طرف تھا واپسی پر مجھے دائی کی سانولی سلونی نمکین بیٹی بھی ملی اس نے اشاروں سے مجھے بلایا بھی لیکن میں نے نہ میں سر ہلا دیا بلوچ ہاوس کے سامنے ان کی حسین پری بھی آج مجھے مسکرا کر دیکھ رہی تھی میں نے اس کو پھیکی سی سمائل پاس کی ۔۔۔۔

ایسے ہی سوچوں میں گم گھر آیا کالج کے لیے یویفارم لانا بھول گیا تھا پیسے میرے پاس ہی تھے میں نے کپڑے بدلے ناشتہ کیا اور کالج کے نکل پڑا رستے میں ایسے ہی دل میں آیا کہ فرح کی طرف چکر لگا لوں بالو مجھے دروازے میں ہی مل گیا چاچی سے سلام دعا کی فرحی سوئی ہوئی تھی اپنی گانڈ نکالے مست لیٹی تھی میں نے کمرے میں کچھ دیر رکنے کے بعد چاچی سے اجازت لی اور کالج کی طرف چل پڑا ۔۔۔

فرحی کو اس طرح لیٹے دیکھ کر بھی مجھے کوئی فیلنگ نہ آئیں آج اس لڑکی کو دیکھ کر بھی دل میں کوئی ہلچل نہ ہوئی جس تک پہنچنے کے لیے میں نے ان کی نوکرانی تک کو بجا ڈالا تھا عجیب بے سکونی اور پریشانی لگی ہوئی تھی میں ایسے ہی سست روی سے چلتا کالج میں پہنچ گیا وہاں گیٹ پر ہی مجھے پرویز صاحب اور شاہد نظر آئے میں پرویز صاحب کو سلام کیا شاہد کو گلے ملا شاہد بھی بغیر وردی کے تھا ۔۔۔۔

پرویز صاحب نے آج کے بارے میں تفصیلات بتائیں کیا کچھ کرنا ہے جو جو کام کسی کے ذمہ لگا ہے وہ اچھے سے کرے انہوں نے نصیحت بھی کی میں نے جی سر کہا اور شاہد کے ساتھ آگے بڑھ گیا آج جو کچھ ہونے والا تھا مجھے اس کا اندازہ تھا عابد باکسر تو کالج کا سٹوڈنٹ تھا لیکن مانی اور اس کے کافی ساتھی ایسے ہی کالج کے پردھان بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔

ان کو روکنے کے لیے ہم نے عابد باکسر کو اکسایا تھا وہ بھی یہ سوچ کر ہمارا ساتھ دے رہا تھا کہ ان کے کالج سے نکل جانے کے بعد وہ اکیلا شیر ہوگا کوئی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں ہوگا اس کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا کہ کیا ہوگا لیکن ہم سب ذہنی طور پر اس کے لیے تیار تھے۔۔۔۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ہماری بے چینی بڑھ رہی تھی میرے ذہن سے رات والا واقعہ نکل چکا تھا میں اب کالج کے آنے والے حالات کا جائزہ لے رہا تھا میرے دماغ پر صرف کالج ہی چھایا ہوا تھا اگر کوئی بھی گڑ بڑ ہو جاتی ہے تو سارا الزام میرے سر آئے گا اس سب کے پیچھے میں تھا ساری ذمہ داری میرے اوپر آنی تھی اس وجہ سے مجھے کافی الجھن ہو رہی تھی۔۔۔۔

کالج لگا گیا کوئی غیر متوقع واقعہ پیش نہ آیا ہم اپنی کلاس میں چلے گیے جن کا پہلا لیکچر خالی تھا وہ باہر ہی جائزہ لیتے رہے جن میں عاذب بھی شامل تھا شاہ آج نہیں آیا تھا اس لیے میں اور شاہد بھی بور ہو رہے تھے ہم نے پنگے کے ساتھ پنگا ڈال لیا اس کو ایسے ہی پمپ کرنے لگے کہ تجھے کالج کا صدر ہونا چاہئیے وغیرہ وغیرہ وہ بھی جوش سے بولنے لگا کلاس میں بیٹھے تھے۔۔۔۔

اس کی آواز اونچی ہو گئئ میں اور شاہد چپ ہو چکے تھے ہم صرف استاد کی طرف دیکھ رہے تھے پنگے کی کافی بے عزتی ہوئی اس نے مجھے گھور کر دیکھا کلاس ختم ہونے کے بعد تقریباً ساری کلاس ہی اس پر ہنس رہی تھی اس نے مجھے کہا پنگے کے ساتھ پنگا از ناٹ چنگا۔۔۔۔

مجھے اس کی انگریزی پر تو ہنسی نہ آئی لیکن جس انداز میں اس نے یہ بات کی اس پر بہت ہنسی آئی ہم ایسے ہی ہنستے ہوئے باہر گئے تو معاملہ گڑ بڑ لگا کیونکہ گیٹ کے پاس کافی لڑکے جمع تھے ہم بھی تیز تیز چلتے وہاں پہنچے تو مانی کافی گرم ہوا کھڑا تھا اس نے گارڈ سے بھی بدتمیزی کی تھی اور لڑکوں کو بھی گالیاں دے رہا تھا۔۔۔۔

وہاں پرویز صاحب بھی کھڑے تھے وہ اس کو پیار سے سمجھا رہے تھے وہ بدتمیزی سے بات کر رہا تھا شاہد کو غصہ جلدی آجاتا تھا اس نے آگے بڑھ کر مانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو ہے کیا چیز جو یہاں آ کر چوہدراہٹ دکھا رہا ہے نکل یہاں سے کالج تیری عیاشی کا اڈا نہیں ہے پڑھنے کی جگہ ہے ۔۔۔

مانی نے آگے بڑھ کر شاہد کے ایک تھپڑ جڑ دیا میں بھی آگے بڑھا پرویز صاحب بھی آگے ہوئے اس کو روکنے کے لیے پرویز صاحب مجھ سے آگے تھے مانی نے ان کو تھپڑ رسید کر دیا پھر تو آو دیکھا نہ تاؤ ساری یاری دوستی کو لن پر چڑھا دیا اور میں نے مانی کے منہ پر چپیٹوں کی برسات کر دی شاہد بھی آگے ہو چکا تھا۔۔۔

پرویز صاحب کو ایک لڑکا پیچھے لے گیا مانی کے ساتھی بھاگ گئے ان کو پتہ چل گیا تھا کہ آج ان کی خیر نہیں ہے مانی بھی بھاگنے کے چکر میں تھا لیکن اس کو ہم بھاگنے نہیں دے رہے تھے۔۔۔

شاہد نے مسنی کو دھکا مارا مانی پیچھے گرتے گرتے سنبھلا اور بھاگ کھڑا ہوا تب تک یہ بات کالج میں پھیل گئی کہ پرویز صاحب کو مانی نے تھپڑ مارا ہے ہم سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ہم اس کے پیچھے بھاگے وہ ایک سے دوسری گلی میں بھاگتا ہوا غائب ہو گیا۔۔۔۔۔

لڑکوں کا خون کھول رہا تھا اس لیے اس کو ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑے ہم نے مختلف ٹولیاں بنائیں اور اس کی تلاش شروع کر دی میں اور شاہد اکیلے ہی نکل پڑے ہمارے پیچھے عابد باکسر آیا اس نے ہمیں کہا وہ ایسے نہیں ملے گا میں جانتا ہوں وہ کہاں ملے گا ۔۔۔

وہ ہمیں لے کر ایک طرف چل پڑا ہم اس کے ساتھ چلتے رہے وہ ایک بلیئرڈ کلب میں گیا وہاں نہ ملا پھر وہ ایک پرانے مکان میں ہمیں لے گیا وہ وہاں بھی نہ ملا ہم اس کے پیچھے ہی چلتے جا رہے تھے اس نے ہمیں ایک پارک کا بتایا اور کہا اگر ان جگہوں پر نہیں ہے تو وہ وہاں ضرور ملے گا ۔۔۔۔

ہم اس کے پیچھے پیچھے اس طرف چل پڑے میں یہ تو جانتا تھا کہ وہ پارک سنسان ہے وہاں دن میں بھی کوئی نہیں آتا کافی کہانیاں مشہور تھیں وہاں کے بارے میں بھی کہ وہاں ڈاکو رہتے ہیں کوئی کہتا وہاں بھوت رہتے ہیں کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ اب عابد کہہ رہا تھا وہاں مانی ملے گا اس لیے ہم اس کے پیچھے وہاں پہنچ گئے۔۔۔۔

پیچھے اس لیے کہا کہ جیسے ہی ہم پارک میں داخل ہوئے ہمیں دور سے ہی ایک درختوں کے جھنڈ میں کئی لوگوں کی موجودگی کا احساس ہوا ہم اس طرف بڑھ گئے اس وقت ہم یہ بھی بھول گئے کہ ہم تعداد میں صرف تین ہیں اور وہاں کئی لوگ ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔

ہمارے دماغ پر بس یہ ہی چھایا ہوا تھا کہ مانی کی چھترول کرنی ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی پروفیسر صاحب کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی اس کی آج دھلائی پکی ہے ہم چلتے ہوئے جیسے ہی جھنڈ میں داخل ہوئے وہاں آٹھ دس لڑکے موجود تھے جن میں مانی بھی شامل تھا ۔۔۔

مانی نے مجھے دیکھ کر اپنے دوستوں کو کہا کوئی کچھ نہیں کرے گا بلو بھی اس کے ساتھ ہے مانی خود آگے بڑھا اور مجھ سے ملنے کے لیے جیسے ہی اس نے بازو اٹھائے شاہد نے اس کو پکڑ لیا عابد باکسر بھی اس کو مارنے جڑ گیا ۔۔۔

ایک منٹ میں ہی اس کی اچھی خاصی دھلائی ہو گئی تھی تب تک اس کے باقی ساتھی بھی ہم پر حملہ آور ہوگئے میں بڑے آرام سے کھڑا رہا میں نے مانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔۔۔

جب اس کے ساتھی آئے تو میں نے آگے بڑھ کر دو کو دبوچ لیا ایک کے پیٹ میں لات سے کک ماری دوسرے کو اپنے بازو میں دبا لیا اور اس کے سر پر کہنیاں مارنے لگا عابد باکسر نے دو کو اس وقت تک ڈھیر کر دیا تھا ۔۔۔

عابد بلیک بیلٹ تھا اس کا وہ بھرپور اظہار کر رہا تھا وہ دور سے ہی فلائنگ کک مار کر آنے والوں کو ڈھیر کر رہا تھا اس نے یکدم اچھل کر درخت کی ٹہنی پر پاؤں رکھا اور گھومتے ہوئے آگے گیا اور سامنے کھڑے مانی کے سینے پر زور دار انداز میں دونوں پاؤں سے کک ماری مانی کک کھا کر چیختا ہوا دور گرا۔۔۔

اس نے گرتے ہی اپنے اڑنگے میں سے پستول نکال لیا اور کراہتے ہوئے اٹھا پستول تان کر ماں بہن کی گالیاں دیتا عابد کی طرف بڑھا عابد نے اس کی طرف دیکھنا جاری رکھا مانی اس کی طرف بڑھتا آرہا تھا ۔۔۔

جب مانی عابد سے پانچ قدم دور رہ گیا تو عابد یکدم گول گھوما پھر پیچھے کی طرف ہوا میں اڑتا ہوا گیا میں نے پھر وہ دیکھا جو صرف فلموں میں دیکھا تھا عابد نے ہوا میں ہی اپنی پنڈلی سے خنجر نکالا اور مانی کے گھونپ دیا۔۔۔

 

Source link

Leave a Comment