چاچی کا دیوانہ ۔۔۔سیزن ون ۔۔قسط 3

br>

میں نے کہا چچی جان خوش ہی خوش ہوں . پِھر چچی کچھ دیر بعد اٹھ کر چلی گئی اور وہ دن بھی گزر گیا اگلا دن اتوار تھا میں صبح ہی اٹھ گیا اور سب کے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونے کے بعد اپنے کمرے میں جا کر زیتون کے تیل لیا اور باتھ روم میں گھس گیا اور کوئی 1 گھنٹہ دبا کر لن کی مالش کی اور پِھر نہا دھو کر گھر میں چچی کو بتا کر بلال کی طرف نکل آیا .تقریباً 11.30ہو گئے تھے جب میں اس کی دکان پے پہنچ گیا تھا. بلال مجھے دیکھ کر بولا یار میں سمجھا تھا تو شاید بھول گیا ہے اِس لیے دیر سے آیا ہے . میں نے کہا نہیں یار زندگی میں پہلی دفعہ پھدی مل رہی ہے اور وہ بھی بھول جاتا یہ کیسے ممکن ہے میں ذرا رات کو لیٹ سویا تھا آج اتوار تھا سب گھر پے ہی ہیں سب رات کو لیٹ سوئے تھے اِس لیے میں بھی لیٹ سویا اور آنکھ بھی لیٹ ہی کھلی ہے . بلال نے کہا گھر چچا کو کیا بتا کر آئے ہو . تو میں نے کہا یہ بتایا ہے كے میں بلال کی طرف جا رہا ہوں تھوڑی دیر بعد آ جاؤں گا . اور پِھر تمہاری طرف آ گیا ہوں اب تم بتاؤ اگلا پروگرام کیا ہے . بلال نے کہا پروگرام پکا ہے بے فکر ہو جاؤ بات ہو گئی ہے اس کی بیٹی صبح ہی دادی کے گھر چلی گئی ہے . میں تقریباً 1 بجے دکان بند کروں گا اس ٹائم گلی سنسان ہوتی ہے اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا میں تمہیں اس کے گھر چھوڑ آؤں گا تم اپنا کام کر کے مجھے مس کال دے دینا میں آ کر تمہیں لے جاؤں گا . اور کوشش کرنا 3 بجے سے پہلے پہلے کام پورا کر کے مجھے مس کال کر دینا . زیادہ دیر اچھی نہیں ہوتی محلے داری بھی دیکھنی پڑتی ہے . میں نے بلال کو کہا یار تو بے فکر ہو جا جیسا تم کہہ رہے ہو میں ویسا ہی کروں گا . پِھر میں اور بلال یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور تقریباً پونے ایک بجے بلال نے کہا کا شی تیاری پکڑ لے ابھی ہم ان کے گھر ہی جائیں گے . میں نے کہا یار میں تو تیار ہی تیار ہوں . پِھر بلال دکان کے باہر پڑی چیزیں اندر رکھنے لگا اور اور ساری چیزیں اندر رکھ کر مجھے دکان سے باہر آنے کا کہا اور پِھر ہم دکان بند کر کے اس عورت کے گھر کی طرف چلے گئے . اس عورت کا گھر بلال کی دکان سے زیادہ دور نہیں تھا اس گلی کے آخر میں ایک ڈبل اسٹوری گھر تھا جس اوپر والی اسٹوری پے وہ عورت رہتی تھی دو پہر کا ٹائم تھا گلی سنسان تھی پِھر ہم جب اس عورت کے دروازے کے پاس پہنچےتو بلال نے اپنے موبائل سے کوئی نمبرملایااور کوئی 1 منٹ بعد ہی چھوٹا والا دروازہ کھلا یہ دروازہ اوپر والی اسٹوری پے جا رہا تھا علیحدہ رستہ بنا ہوا تھا. پِھر بلال آگے آگے اور میں پیچھے اس کے چلتا ہوا اوپر چلے گئے وہ عورت اوپر اپنے کچن کے پاس کھڑی تھی . پِھر بلال نے کہا باجی یہ آپ کا مہمان ہے اِس کا اچھا سا خیال رکھنا ہے . وہ عورت بلال کی بات سن کر آہستہ سے بولی اچھا ٹھیک ہے . اور پِھر بلال یہ بول کر چلا گیا وہ عورت مجھےسےبولی آپ اندر کمرے میں بیٹھو میں آتی ہوں . وہ مجھے اپنے بیڈروم میں بیٹھا کر خود باہر چلی گئی

مجھے تھوڑی دیر بَعْد نیچے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اور پِھر تھوڑی دیر بَعْد ہی وہ عورت میرے لیے ٹھنڈی پیپسی گلاس میں ڈال کر لے آئی . اور مجھے گلاس دے کر پِھر باہر چلی گئی . میں نے گلاس کو ایک منٹ کے اندر ہی خالی کر دیا . اور گلاس کو پاس میں رکھی ٹیبل میں رکھ دیا . اور میں اس عورت کا انتظار کرنے لگا کوئی10 منٹ کے بَعْد وہ عورت دوبارہ کمرے میں آئی اور آ کر کمرے میں رکھی ہوئی کرسی پے بیٹھ گئی اور میں اس کے بیڈ پے بیٹھا تھا . کچھ دیر بَعْد عورت بولی آپ كھاناكھا ئیں گے . میں نے کہا نہیں آنٹی مجھے بھوک نہیں ہے . تو وہ عورت خاموش ہو گئی . میں نے ہمت کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میرے پاس ٹائم کم تھا . میں نے کہا آنٹی جی آپ کے میاں کب فوت ہوئے تھے . تو وہ بولی وہ آج سے 4 سال پہلے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے فوت ہوئے تھے . پِھر میں نے پوچھا آپ کی بیٹی کس کلاس میں پڑھتی ہے . تو وہ بولی اس نے ابھی میٹرک کا امتحان دیا ہے وہ اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہی ہے. میں نے اب ڈائریکٹ بات شروع کرنے کا سوچا اور بولا آنٹی جی آپ کو تو پتہ ہے میں یہاں کس لیے آیا ہوں . اِس لیے میں آپ ڈائریکٹ ہی پوچھ رہا ہوں کے آپ کا کیا دِل ہے اگر آپ ہنسی خوشی راضی ہیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی اور میرا مکمل یقین رکھیں کے میں آپ کو کسی قسم کا نقصان نہیں دوں گا اور نہ ہی آپ کی عزت کو باہر کسی کے آگے خراب کروں گا اور نہ ہی کبھی آپ کو بلیک میل کروں گا . یہ میرا آپ سے وعدہ ہے اور ویسے بھی میں یہاں تو رہتا نہیں ہوں میں تو اسلام آباد میں رہتا ہوں یہاں اپنی دادی کے گھر ہی آتا ہوں . اور پِھر دوبارہ واپس چلا جاؤں گا اور کبھی کبھی یہاں آنے ہوتا ہے . اِس لیے آپ کو مجھ سے کوئی بھی پریشانی نہیں ہو گی . باقی آپ کی اپنی مرضی ہے اگر آپ دِل سے راضی نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں میں ابھی آپ کے گھر سے چلا جاتا ہوں. وہ عورت میری بات سن کر خاموش بیٹھی رہی اور پِھر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی . اور کچھ دیر بعد دوبارہ کمرے میں آئی اور آ کر اندر سے دروازہ بند کر دیا اور باقی لائٹس آف کر کے زیرو کا بلب آن کر کے بیڈ پے آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی . مجھے آنٹی کا اشارہ سمجھ لگ گیا تھا. میں نے بھی اور ہمت کی اور آنٹی کی گردن سے ہاتھ ڈال کر اپنے اور نزدیک کر لیا اور اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پے رکھ دیئے اور فرینچ کس کرنے لگا . آنٹی بھی کافی گرم عورت تھی جلد ہی اس نے اپنے بازو میری گردن میں ڈال کر میرا فل ساتھ دینے لگی . اور ہم نے کوئی 5منٹ تک اسٹائل میں ایک دوسرے کو فرینچ کس کی میں لگاتار آنٹی کی زُبان اپنے منہ میں لے کر سک کر رہا تھا اور آنٹی بھی ایسے ہی میرا ساتھ دے رہی تھی

پِھر میں نے آنٹی کو بیڈ کے اوپر ہی لیٹا دیا تھا اور ان کے اوپر چڑھ کر ان کو پورے جوش سے کسسنگ اور سکنگ کر رہا تھا آنٹی کی منہ سے بڑی ہی سیکسی آوازیں نکل رہی تھیں . میں تقریباً 10سے 15 منٹ تک آنٹی کے ساتھ سکنگ اور کسسنگ کرتا رہا پِھر میں نے اور مزہ لینے کا سوچا اور آنٹی کے کان میں کہا آنٹی جی کپڑے اُتار دیتے ہیں پِھر میں آپ کو اور مزہ دیتا ہوں وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی کا شی تم خود ہی میرے کپڑے اُتار دو . میں حیران ہوا میرا نام آنٹی کو کس نے بتایا ہے پِھر مجھے یادآیا بلال نے ہی بتایا ہو گا اور میں نے آنٹی کے کپڑے اُتار دیئے آنٹی نے برا پہنی ہوئی تھی وہ بھی اُتار دی آنٹی کے ممے کافی بڑے بڑے اور موٹے تھے ان پے برائون رنگ کی گول گول نپلز بنے ہوئے تھے. جب آنٹی کی شلوار اُتار ی تو نیچے انڈرویئر نہیں پہنا ہوا تھا اور ان کی پھدی بھی کمال کی تھی لگتا تھا آج ہی شیو کی ہے. پھدی کا منہ تھوڑا کھلا تھا لیکن پھدی کے ہونٹ اندر کی طرف ہی تھے یونکہ 2 بچے ہونے کی وجہ سے اتنا فرق تو پڑنا ہی تھا. پِھر میں نے اپنے کپڑے اُتار دیئے اور جب میں پورا ننگا ہو گیا تو آنٹی نے میرا لن دیکھنے لگی . میں نے کہا آنٹی جی کیسا لگا میرا ہتھیار تو آنٹی بولی اچھا ہے لیکن بلال کا تم سے تھوڑا بڑا ہے لیکن تمہاری ٹوپی بلال کے لن سے تھوڑی بڑی ہے. پِھر آنٹی کو میں نے کہا آپ لیٹ جاؤ میں آپ کو مزہ دیتا ہوں جب آنٹی لیٹ گئی تو میں ان کی ٹانگوں کے درمیان آ کر منہ کے بل لیٹ گیا آنٹی حیران ہو کر مجھے دیکھ رہی تھی . شاید اس کو نہیں پتہ تھا میں کیا کرنے لگا ہوں . لیکن جب میں نے اپنی زُبان نکل کر آنٹی پھدی پے پھیری تو آنٹی کے منہ سے ایک لذّت بھری سسکی نکل گئی . اور بولی کا شی یہ کیسا مزہ ہے مجھے آج پہلی دفعہ ایسا مزہ ملا ہے یہ تم نے کہاں سے سیکھا ہے . میں نے کہا آنٹی یہ تو عام سی بات ہے یہ تو تقریباً ہر مرد کرتا ہے . تو آنٹی نے کہا یقین کرو کا شی بیٹا نہ آج تک میرے میا ں نے ایسا کیا اور اور نہ ہی بلال نے تم پہلے ہو جو یہ مزہ دے رہے ہو . میں نے کہا آنٹی جی پِھر آپ دیکھتی جاؤ میں آج آپ کو کیسا مزہ دیتا ہوں . پِھر میں نے آنٹی کی پھدی چاٹنی شروع کر دی میں اپنی زُبان آنٹی کی بُنڈ کی موری سے لے کر پھدی کی موری تک اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیر رہا تھا اور آنٹی کے منہ سے اونچی اونچی لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں . . ہا ہا اوہ اوہ آہ آہ آہ اوہ آہ.. میں کوئی 5 منٹ تک آنٹی کی پھدی اور بُنڈ کی موری کو سک کرتا رہا پِھر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آنٹی کی پھدی کا منہ کھولا اور اپنی زُبان کو پورا اندر باہر کرنے لگا میری اِس حرکت نے آنٹی کو پاگل کر دیا تھا اور وہ نیچے سے بُنڈ اٹھا کر میری زُبان اپنی پھدی میں لے رہی تھی

میں نے کچھ دیر تو آہستہ آہستہ کیا پِھر میں نے آنٹی کو فل مزہ دینے کے لیے اپنی سپیڈ تیز کر دی جس سے آنٹی اور زیادہ مست ہو گئی تھی اور میرے سر پے ہاتھ رکھ دیئے تھے اور اپنے ہاتھوں سے مجھے اوپر سے دبا رہی تھی اور نیچے سے اپنی بُنڈ اٹھا کر زُبان سے چود وا رہی تھی اور اس کو لمبی لمبی سسکیاں اور لذّت بھری آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں. اور کچھ دیر بعد ہی آنٹی کا جسم اکڑ نے لگا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے میرے سر کو اپنی پھدی پے دبا دیا اور نیچے سے اپنی بُنڈ بھی اٹھا لی تھی . اور کچھ ہی لمحوں کے بعد مجھے آنٹی کا گرم گرم لاوا اپنے منہ اور زُبان پے محسوس ہوا اور آنٹی نے کافی زیادہ اپنا پانی میرے منہ پے چھوڑا . آنٹی اپنا پانی چھوڑ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی اور ہانپ رہی تھی. میں اٹھ کر آنٹی کے ساتھ ہی بیڈ پے ان کے پہلو میں لیٹ گیا . کچھ دیر بعد جب آنٹی کی سانسیں بہال ہوئی تو آنٹی بولی واہ کا شی بیٹا آج تو مزہ ہی آ گیا ایسا مزہ مجھے زندگی میں کبھی نہیں ملا آج میں نے سب سے زیادہ پانی چھوڑا ہے . تم نے میری آج گرمی نکال دی ہے. پِھر میں نے کہا آنٹی جی آپ کا باتھ روم کہاں پے ہے مجھے اپنا منہ دھونا ہے . آنٹی فوراً اٹھی اور لائٹ آن کی جب میں نے فل لائٹ میں ان کی گانڈ کو پیچھے سے دیکھا تو میرا لن نیچے سے سلامی دینے لگا آنٹی کی بُنڈ بڑی ہی مزے کی تھی ان کا جسم کافی سڈول تھا اور بُنڈ کی دونوں سائڈ کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی . میں نے سوچا باتھ روم سے واپس آ کر آنٹی سے بُنڈ مروا نے کا پوچھوں گا . آنٹی نے دروازہ کھولا اور مجھے بولی بیٹا وہ سامنے باتھ روم ہے وہاں چلے جاؤ میں بیڈ سے اٹھ کر باتھ روم چلا گیا . جب منہ دھو کر اور کلی کر کے کمرے میں آیا تو آنٹی بیڈ پے ہی ننگی لیی ہوئی تھی . میں بھی ابھی تک ننگا ہی تھا میں بیڈ پے جا کر ان کے ساتھ لیٹ گیا . پِھر میں نے آنٹی سے کہا آنٹی جی میں آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر آپ برا نہ مانو تو وہ بولی پوچھو پوچھو میں برا نہیں مانو ں گی . میں نے کہا آنٹی جی مجھے بُنڈ مارنے کا بہت شوق ہے کیا آپ نے کبھی بُنڈ میں لیا ہے . آنٹی میری بات سن کر میری طرف دیکھا اور بولی کا شی بیٹا مجھے پتہ ہے جوان لڑکوں کو تنگ موری کا بہت شوق ہوتا ہے بلال بھی مجھے کئی دفعہ کہہ چکا ہے لیکن بیٹا میں نے آج تک کبھی بُنڈ میں نہیں لیااور نہ ہی میں لے سکتی ہوں . یہ لن پھدی میں ہی اتنا تنگ اور درد دیتے ہیں تو بُنڈ میں تو سوچ کر ہی ڈ ر لگ جاتا ہے. میں آنٹی کی بات سن کر تھوڑا مایوس بھی ہوا اور خاموش ہو گیا . آنٹی نے کہا کا شی تمہیں میری بات اچھی نہیں لگی . میں نے کہا نہیں آنٹی جی ایسی بات نہیں ہے میں آپ کی اِجازَت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا اِس لیے آپ سے پہلے پوچھ لیا تھا . آنٹی تھوڑی دیر خاموش ہو گئی پِھر بولی کا شی ایک بات کہوں تم کسی کو بتاؤ گے تو نہیں میں نے کہا آنٹی جی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں میں کوئی بچہ ہوں یا پاگل ہوں جو اپنے ہی پاؤں پے کلہاڑی ماروں گا . آپ بتاؤ کیا بتانا ہے . آنٹی نے کہا کا شی تم نے آج جو مجھے مزہ دیا ہے یقین کرو زندگی میں کسی نے نہیں دیا مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کے مرد زُبان سے بھی ایسا مزہ دے سکتا ہے . اور آج تم نے مجھے خوش کر دیا ہے . اِس لیے میں تمہیں ناراض نہیں کر سکتی میں تمہیں اپنی بُنڈ تو نہیں دے سکتی لیکن تمھارے لیے ایک بہت ہی ٹائیٹ پھدی کا انتظام کروا سکتی ہوں اور اگر تمہاری اس سے بات بن جائے تو تم اس کو بُنڈ کے لیے بھی راضی کر سکتے ہو . لیکن ایک شرت یہ ہے کے یہ بات بلال کو بھی نہیں پتہ چلنی چاہیے . میں نے کہا آنٹی جی آپ مجھ پے مکمل یقین رکھیں میں یہ بات آخر دم تک کسی کو نہیں بتاؤں گا

۰
آپ بتاؤ وہ کون ہے . آنٹی نے کہا وہ میرے میاں کی بہن ہے . اس کی شادی کو ابھی 1 سال ہی ہوا ہے وہ لاہور میں رہتے ہیں . لیکن اب اس کے میاں کی ٹرانسفر تمھارے شہر میں ہو گئی ہے وہ شادی کے بَعْد سے تقریباً 6 مہینے سے وہاں اسلام آباد میں ہی رہتا ہے . وہ لاہور میں کسی پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا لیکن پِھر اس کی کمپنی کو اسلام آباد میں کام ملا تھا تو وہاں چلا گیا ہے ابھی تو وہ وہاں اکیلا رہتا ہے . لیکن میں کچھ دن پہلے لاہور گئی تھی تو میرے میاں کی بہن نے بتایا کے اس کے میاں کا وہاں کام لمبا عرصے کا ہے اِس لیے وہ چاہتا ہے کے اپنی بِیوِی کو بھی ساتھ وہاں لے جائے گا اور وہاں کرا یہ کے گھر لے کر رہے گا. میں نے کہا آنٹی جی ان کی ابھی نئی شادی ہوئی ہے اور ان کا میاں بھی ان کے ساتھ ہے اور وہ تو ان کو کبھی بھی لن کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گا . پِھر اِس میں میرا حساب کیسے فٹ ہو گا. آنٹی بولی حوصلہ رکھو میں پوری بات بتا رہی ہوں نہ پہلے پوری بات سن لو پِھر اپنا فیصلہ کر لینا . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جی آپ بولو جو بھی بولنا ہے . پِھر آنٹی نے کہا ایک تو یہ ہے شاید میرے میاں کی بہن اگلے ایک مہینے تک وہاں چلی جائے گی . دوسرا یہ ہے کے میرے میاں کی بہن میری بہت اچھی سہیلی بھی ہے جب میرے میاں زندہ تھے تو وہ یہاں کئی کئی مہینے میرے پاس آ کر رہتی تھی . میری اس کے ساتھ کھلی گپ شپ تھی وہ اپنی ہر بات مجھے سے ہی شیئر کرتی تھی . اور یہ بھی بتا دوں وہ ایک بڑی گرم لڑکی تھی . وہ جوان بھی ہے اور جذبات بھی رکھتی ہے . جوانی میں تو ہر عورت کا خواب ہوتا ہے کے اس کو ایسا مرد ملے جو اس کو دِل وجان سے جسمانی اور دنیاوی لحاظ سے ہر وقعت خوش رکھے . اور جب اس کی شادی ہو گئی تھی تو بھی وہ مجھے سے یہاں ملنے آتی رہتی تھی . اس نے مجھے بتایا تھا اس کا میاں اچھا بندہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے وہ جسمانی لحاظ سے زیادہ خوش نہیں رکھ سکتا . وہ میرے ساتھ تقریباً ہفتے میں 2 یا 3 دفعہ کرتا ضرور ہے لیکن وہ اپنا پانی چھوڑ کر پیچھے ہو جاتا ہے اور مجھے رستے میں ہی چھوڑ دیتا ہے . اور میں اکیلے ہی کبھی اپنی انگلی سے کبھی کچھ اور کر کے اپنے جسم کو تسکین دے کر ٹائم گزر دیتی ہوں

اس کو میرے اور بلال کے تعلق کا بھی پتہ ہے . اس نے ایک دفعہ بہت تنگ ہو کر مجھے کہا بھی تھا بھابی مجھے بھی ایک دفعہ بلال سے کروا دو . لیکن میں نے منع کر دیا تھا . کیونکہ اگر میں بلال سے ایک دفعہ اس کا کام کروا دیتی تو تو بلال کا بس نہیں چلتا اس کو ہر روز ہی پھدی چاہیے وہ پھدی کے معاملے میں بہت ٹھرکی ہے اور جب ایک دفعہ اس کا کام ہو جانا تھا تو اس نے پھدی کے چکر میں میرے میاں کی بہن مہوش کے پیچھے لاہور تک چلے جانا تھا اور وہاں پے مسئلہ بن جانا تھا. کیونکہ مہوش کا سسرال جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور اس کا دیور وکیل بھی ہے اور بڑا سخت مزاج کا بندہ ہے . کسی نہ کسی دن اگر بلال وہاں پکڑا جاتا تو مہوش کی زندگی برباد ہو جانی تھی . بس اِس ڈ ر سے ہی آج تک میں نے مہوش کا کام نہیں کروایا اور نہ ہی بلال کو کبھی مہوش کا پتہ لگنے دیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کی پوری بات سمجھ گیا ہوں لیکن میرا ایک سوال ہے کے جب مہوش اسلام آباد چلی جائے گی تو میرا اس کے گھر آنا جانا کیسے ہو گا اور دوسرا اس کے میاں کا کیا ہو گا اگر اس کو پتہ چل گیا تو پِھر کیا ہو گا . آنٹی نے کہا دیکھو کا شی تم خود اسلام آباد میں رہتے ہو تمہیں تو وہاں کا ماحول زیادہ پتہ ہے وہاں شہر کا ماحول اتنا بے حس ہے کے ساتھ والے کا نہیں پتہ ہوتا . اِس لیے تمھارے لیے یہ تو مسئلہ نہیں ہو گا کے تم مہوش کے کیا لگتے ہو . دوسرا اس کا میاں وہ کون سا ہر ٹائم گھر پے ہوتا ہے وہ تو صبح گھر سے جاتا ہے اور رات کو گھر واپس آتا ہے اور ہفتے میں ایک دن ہی اس کو چھٹی ہوتی ہے . اور رہی بات مہوش کی اس کو میں تمھارے بارے میں سب کچھ بتا دوں گی پِھر جب وہ اسلام آباد چلی جائے گی میں تمہیں اس کا موبائل نمبر دے دوں گی تم پہلے فون پے ہی اس کے ساتھ کچھ عرصہ گپ شپ لگا لیا کرنا جب دیکھو وہ مکمل راضی ہو گئی ہے تو بس پِھر وہ خود ہی تمہیں ملنے کا بھی بتا دے گی . اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے تمہیں اس کو راضی کرنے میں 1 مہینہ بھی نہیں لگے گا کیونکہ میں بھی اس کو تمھارے بارے میں مکمل اعتماد میں کر لوں گی کچھ تم خود کر لینا بس پِھر سمجھو ایک گرم اور ٹائیٹ پھدی اپنے ہی شہر میں مل جائے گی اور ہو سکتا ہے بُنڈ بھی مل جائے . میں آنٹی کی بات سن کر خوش ہو گیا میرے اندر کی کیفیت یہ تھی کے اندر ہی اندر دِل میں لڈو پھوٹ رہے تھے

کیونکہ میرے لیے اسلام آباد میں ہی 3 پھد یوں کا بندوبست ہو گیا تھا اب میرا اپنےہی شہر میں کام بن گیا تھا. میں نے آنٹی کو کہا واہ آنٹی جی کمال کا بندوبست کیا ہے آپ نے دِل خوش ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا بس ایک بات کا خیال رکھنا یہ بات بلال کو پتہ نا چلے اور دوسرا مہوش کے ساتھ بھی پورے دھیان سے ہی ملتے رہنا . میں نے کہا آنٹی جی آپ بے فکر ہو جائیں . پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آگے کا کیا موڈ ہے آنٹی نے کہا تم بتاؤ کیا کرنا ہے میں نے کہا آنٹی جی پہلے تو میرے ہتھیار کو کھڑا کریں پِھر ہی میں اگلا کچھ کرتا ہوں . تو آنٹی نے کہا تم لیٹ جاؤ میں ابھی اِس کے اندر جان ڈالتی ہوں . میں ٹانگیں سیدھی کر کے لیٹ گیا . اور آنٹی گھوڑی اسٹائل میں میرے سیدھے ہاتھ والی سائڈ میں آ گئی اور میرے لن کی ٹوپی کو پہلے کس کیا پِھر اس کو اپنے منہ میں لے لیا اور آہستہ آہستہ اس کو چوپنے لگی . آنٹی بڑے ہی آرام آرام سے چوپا لگا رہی تھی . آہستہ آہستہ میرے لن میں جان واپس آ رہی تھی . اور پِھر جب میرا لن نیم حالت میں کھڑا ہو گیا تو پِھر اپنے ہاتھ پے تھوک لگا کر اس کی آہستہ آہستہ مٹھ لگانے لگی جب میرا لن کافی حد تک کھڑا ہو گیا تو دوبارہ اپنے منہ میں لے لیا پہلے تو لن کی ٹوپی پے ہی گول گول زُبان گھوما رہی تھی پِھر آہستہ آہستہ پورے لن کو منہ میں لے کر اس پے گول گول زُبان گھوما کر چوپا لگا رہی تھی درمیان میں وہ اپنی زُبان سے میرے لن کو جڑہ لیتی تھی جس سے میرے لن کو عجیب سا جھٹکا اور مزہ ملتا تھا. پِھر آنٹی نے اپنا منہ اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا اور لن پے منہ کو تیزی کے ساتھ اوپر نیچے کر رہی تھی جیسے ان کے منہ کی چدائی ہو رہی ہو . پہلے تو آنٹی آہستہ آہستہ کر رہی تھی لیکن پِھر اپنی سپیڈ کافی تیز کر رہی تھی میرے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں آنٹی کو چوپے لگاتے ہوئے کوئی 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے . میرے مزے کے مارے برا حال تھا پِھر آنٹی کے چوپوں نے طوفانی شکل اختیار کر لی . اور مجھے بھی اپنے لن لی اندر کے حرکت محسوس ہوئی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی میرا پانی نکلنے والا ہے تو آنٹی نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کے منہ میں ہی نکال دو اور پِھر مزید 2 سے 3 منٹ کے اندر جیسے میرے لن کی جان نکل گئی تھی میری منی کا فوارہ آنٹی کے منہ کے اندر ہی چھوٹنے لگا 

جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو آنٹی نے اپنا منہ میرے لن سے ہٹایا اور میری آنکھوں میں دیکھا اور آنکھ مار کے میری ساری منی ایک ہی سانس میں گھٹک گئی میں حیران منہ سے ان کو دیکھتا رہ گیا
پِھر آنٹی نے منہ کے بل ہی بیڈ پے لیٹ گئی . اور میں بھی اپنی آنکھیں بند کر کے کچھ دیر لیٹا رہا . کوئی 5 منٹ بَعْد ہی آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کیسا لگا اپنی آنٹی کا چوپا تو میں نے کہا آنٹی جی آج تو مزہ آ گیا ہے . پِھر آنٹی وہاں سے ننگی اٹھی اور اپنے کچن میں چلی گئی اور تھوڑی دیر بَعْد اس نے 2 گلاس دودھ کے پکڑے ہوئے تھے اور دودھ میں شہد بھی ڈَالا ہوا تھا . ایک مجھے دیا اور ایک خود لے کر بیڈ پے ہی بیٹھ کر پینے لگی میں بھی اپنا گلاس لے کر دودھ پینے لگا . میں نے کمرے میں لگی گھڑی پے نظر ماری تو.10 2 کا ٹائم ہو چکا تھا . اور مجھے بلال کی بات یاد آئی کے 3 سے پہلے پہلے کام نمٹا کر یہاں سے نکلنا ہے . میں نے جلدی سے اپنا گلاس خالی کیا اور آنٹی بھی اپنا گلاس خالی کر چکی تھی انہوں نے میرے سے گلاس لیا اور باہر کچن میں چلی گئی . تھوڑی دیر بَعْد آنٹی آ کر دوبارہ میرے ساتھ ننگی ہی لیٹ گئی . اور پوچھنے لگی ویسے کا شی سچ میں تم نے آج تک کسی عورت کو نہیں چودا ہے تمھارے یہ سب ایکشن سے لگتا تو نہیں ہے کے تم نے کسی کو ابھی تک چودا نہ ہو . تو میں نے کہا آنٹی جی سچ میں یہ میرا پہلی دفعہ ہے اور رہی بات مجھے یہ سب پتہ ہونے کی آج کل کیبل اور نیٹ کا دور ہے ہر چیز عام ہے بچے بچے کو پتہ ہے . آنٹی نے کہا ہاں یہ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو . میں ایسا ایک تجربہ دیکھ چکی ہوں . میں نے کہا وہ کیسے آنٹی جی تو آنٹی نے کہا میرے گھر میں بھی کیبل لگی ہوئی ہے تمہیں تو پتہ ہے کیبل پے کتنے گندے گندے چینل لگے ہوئے ہیں اور میری ایک جوان بیٹی بھی ہے . وہ آج کل فارغ ہی ہے اور اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہی ہے . اِس لیے ایک رات کو میں سو گئی تھی لیکن وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی وہ بھی یہاں ہی میرے ساتھ سوتی ہے . رات کو اچانک میری پیاس کی وجہ سے آنکھ کھلی تو دیکھا میری بڑی بیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی ٹی وی پے کوئی انگلش فلم لگی تھی اس میں کوئی گوری کسی گورے مرد کی جھولی میں بیٹھی ہوئی تھی مرد نے صرف انڈرویئر پہنا ہوا تھا اور لڑکی بھی صرف انڈرویئر اور برا میں ہی تھی اور وہ مرد لڑکی کے منہ میں منہ ڈال کر چوس رہا تھا میں تو دیکھ کر ہی پاگل ہو گئی اور غصہ بھی آیا اور اپنی بیٹی کو ڈانٹ دیا کے ٹی وی بند کرو اتنی رات تک لگایا ہوا ہے . بس وہ بھی ڈر کر 
ٹی وی بند کر کے سو گئی

میں نے کہا آنٹی جی خیال رکھا کریں آپ کی بیٹی جوان ہے اور سب کچھ دیکھتی اور سمجھتی بھی ہے اور اِس عمر میں تو اسکول سے بھی لڑکیوں کو اپنی سہیلیوں سے کافی کچھ پتہ چل جاتا ہے . اِس لیے تھوڑا پیار سے محبت سے اپنی بیٹی کو ماں نہیں دوست بن کر سمجھاؤ . اور کوشش کر کے اس کی ہر خواہش پوری کر دیا کرو . مجھے امید ہے وہ سب کچھ سمجھ جائے گی . آنٹی نے کہا ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو لیکن وہ جوان ہے میں اس کی یہ والی خواہش تو پوری نہیں کروا سکتی یہ تو شادی کے بَعْد ہی پوری ہو سکتی ہے باقی میں اس کو خوش رکھ سکتی ہوں میں دوست بن کر ہی اس کو سمجھا دیا کروں گی . لیکن ڈر لگتا ہے جوانی کا خون ہے کہیں محلے میں یا اور کہیں غلط حرکت نا کر بیٹھے اور شادی سے پہلے ہی بدنام ہو جائے . میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں لیکن اگر وہ کوئی غلط نہ کر بیٹھے. لیکن اس سے بہتر ہے کے آپ اس کی ماں نہیں دوست بن جاؤ وہ آپ سے اپنی ہر بات شیئر کرے گی . اس کو اچھے اور برے کی تمیز بھی بتا دو. آنٹی جی بیٹی کی سب سے بڑی رازدان اور خیر خواہ ایک ماں ہی ہو سکتی ہے اِس لیے مجھے جو ٹھیک لگا آپ کو بتا دیا باقی آپ کی مرضی.. آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو میں اِس کے بارے میں سوچوں گی پِھر خود ہی کوئی حَل نکال لوں گی . میں نے کہا آنٹی جی ٹائم تھوڑا ہے.30 2 ہو گئے ہیں میرا دِل ہے جلدی سے ایک رائونڈ لگا لینا چاہیے اور آپ کی پھدی کو بھی لن کی سیر کروا دینی چاہیے آپ کا کیا خیال ہے. آنٹی نے ٹائم دیکھا اور بولی تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں نے کہا آنٹی جی اپنا موبائل نمبر دے دو تا کہ آپ سے رابطہ کر سکوں پِھر بلال آ جائے گا . آنٹی نے مجھے اپنا موبائل نمبر دے دیا میں اپنے موبائل سیف کیا اور پِھر بیڈ پے لیٹ گیا اور آنٹی نے میرے لن کے ایک بار پِھر چوپے لگانے شروع کر دیئے اور کوئی 5 منٹ میں ہی میرا لن دوبارہ ا کڑ کر کھڑا ہو گیا پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ گھو ڑ ی اسٹائل بنا لو میں پیچھے سے آپ کی پھدی ماروں گا . آنٹی فوراً گھوڑی بن گئی اور میں پیچھے جا کر آنٹی کی پھدی میں ٹوپی کو گھسایا اور پِھر آہستہ آہستہ لن ڈالنے لگا جب آدھا لن اندر کر دیا تو باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں پھدی کے اندر کر دیا آنٹی کے منہ سے ایک آہ نکل گئی پہلے تو آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرتا رہا پِھر میں نے اپنے جھٹکے تیز کر دیئے اور لن کو آنٹی کی پھدی کی گہرائی تک اندر باہر کر رہا تھا . آنٹی بھی مزے میں آوازیں نکال رہی تھیں آہ اوہ آہ اوہ اوہ. مجھے آنٹی کو چودتےہوئے کوئی 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے پِھر میں اِس پوزیشن میں خود بھی تھک گیا تھا 

اور آنٹی بھی کافی تھک گئی تھی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ اِس ہی پوزیشن میں نیچے لیٹ جائیں اور اپنی ٹانگیں تھوڑی کھول لیں . آنٹی نے وہ ہی پوزیشن بنا لی جو میں نے کہی تھی میں اب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پہلے لن کو آنٹی کی پھدی پے سیٹ کیا اور اِس دفعہ ایک ہی جھٹکے میں لن پورا اندر اُتار دیا . اور آنٹی کے منہ سے آواز نکلی ہا اے امی جی. میں لن پورا اندر کر کے آنٹی کے اوپر ہی منہ کے بل لیٹ گیا آنٹی کے نرم نرم بُنڈ کا احساس مجھے پاگل کر رہا تھا پِھر میں نے اپنے جسم کو حرکت دی اور آہستہ آہستہ اپنے لن کو پھدی کے اندر باہر کرنے لگا تھوڑی ہی دیر میں لن پھدی کے اندر رواں ہو گیا اور آنٹی کے منہ سے بھی خمار بھری آوازیں نکل رہی تھیں پِھر میں نے اپنی رفتار کو مزید تیز کر دیا آنٹی کو بھی فل مزہ آ رہا تھا آنٹی بھی جوش میں آ کر اپنی بُنڈ پیچھے کو اٹھا رہی تھی اور ہمارے جسم کے ٹکرانے سے دھپ دھپ کی آواز نکل رہی تھی . میں اِس پوزیشن میں آنٹی کو تقریباً 5 منٹ تک اور چود تا رہا پِھر آنٹی نے اپنی پھدی کو میرے لن پے کسنا شروع کر دیا اور اپنی سپیڈ نیچے سے اور تیز کر دی تھی مجھے سمجھ آ گئی تھی کے آنٹی کا لاوا چھوٹنے والا ہے اور وہ ہی ہوا آنٹی نے ایک زوردار منہ سے آہ کی آواز نکالی اور اپنی منی کا فوارہ میرے لن پے ہی اندر چھوڑنا شروع کر دیا اب اندر کام کافی گرم اور گیلا ہو چکا تھا میں نے بھی طوفانی جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور مزید 2 سے 3 منٹ کے بعد اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی پھدی میں چھوڑ دیا اور ان کے اوپر ہی گر کر ہانپنے لگا. جب میرے لن کا آخری قطرہ بھی آنٹی کی پھدی میں نکل گیا تو میں ان کے اوپر سے ہٹ کر ان کے ساتھ بیڈ پے ہی لیٹ گیا . جب ہم دونوں کی سانسیں بَحال ہوئی تو میں نے کہا آنٹی جی پہلی دفعہ زندگی میں پھدی مار کر مزہ آ گیا ہے . آنٹی نے کہا مجھے بھی بہت مزہ آیا ہے تمہاری ٹائمنگ اچھی ہے بلال کی ٹائمنگ سے کافی بہتر ہے اس کا لن تم سے بڑا ہے لیکن اس کی ٹائمنگ بھی تم سے کم ہے اور اس کے لن کی ٹوپی بھی تم سے چھوٹی ہے . ابھی تو تم کو میرے پھدی مار کر مزہ آیا ہے جب مہوش کی مارو گے تو مجھے یاد کرو گے اس کے پھدی بہت تنگ ہو گی . اس نے آج تک اپنے میاں کے علاوہ کسی سے بھی نہیں کروایا اس اس کے میاں کا لن بھی 4 انچ کا ہے تمہارا لے گی تو دنیا بھول جائے گی اور تم اس کی لو گے تو مجھے بھول جاؤ گے

میں نے کہا آنٹی جی کیسی بات کرتی ہیں آپ تو پہلے ہیں مہوش بعد میں ہے اگر آپ مہوش کا رستہ نہ بتاتی تو مجھے کوئی اس کا مزہ مل سکتا تھا اور ویسے بھی مہوش تو وہاں کے لیے ہے یہاں کے لیے تو آپ ہی ہو . اب جب بھی یہاں آیا کروں گا ڈائریکٹ آپ سے ہی رابطہ کروں گا. پِھر میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو 3 بجنے میں10 منٹ رہ گئے تھے میں نے فوراً بلال کے نمبر پے مس کال دی پِھر میں نے اور آنٹی نے اپنے اپنے کپڑے پہن لیے اور آنٹی اپنے بیڈ کی حالت ٹھیک کرنے لگی کوئی 5 منٹ بعد ہی گھر کی گھنٹی بجی میں سمجھ گیا بلال آ گیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی میں چلتا ہوں بلال نیچے آ گیا ہے . آنٹی کو لمبی سے فرینچ کس کی اور آنٹی کے گھر سے باہر نکل آیا اور بلال کے ساتھ اس کی دکان پے آ گیا گلی میں کوئی بھی نہیں تھا . پِھر دکان پے آ کر میں نے بلال کو پوری سٹوری سنا دی اس میں مہوش والی بات گول کر دی اور پِھر کچھ دیر بلال کے ساتھ بیٹھ کر اپنے گھر واپس آ گیا. گھر واپس آ کر میں نے نہایا اور پِھر ٹرا و زَر شرٹ پہن کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد چچا بھی آ گئے اور پوچھنے لگے کیوں کا شی بیٹا آج کہا غائب تھے . میں نے کہا کہیں نہیں چچا جان میں ذرا بلال کو ملنے گیا تھا جب سے آیا تھا اس کو ملا نہیں اور آج سوچا اس کو مل آؤں اِس لیے وہاں گیا ہوا تھا . چچا نے کہا اچھی بات ہے اور بھابی بتا رہیں تھیں کے تم جمه والے دن واپس جا رہے ہو . میں نے کہا جی چچا جان ابو کی کال آئی تھی انہوں نے واپس بلا لیا ہے اور کہا ہے واپس آ کر آگے کی پڑھائی کا کچھ کروں تو چچا نے کہا ہاں بیٹا پڑھائی تو ضروری ہے بھائی جان کو تمہاری فکر زیادہ رہتی ہے ان کی ساری امید تم سے ہے . تم اچھا پڑھ لکھ جاؤ گے تو کسی مقام تک پہنچوگے.میں نے کہا جی چچا جان میں جانتا ہوں اِس لیے واپس جا رہا ہوں اور جا کر کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لوں گا . چچا نے کہا بیٹا بہت اچھی بات ہے مجھے تم سے یہ ہی امید تھی پِھر میں اور چچا یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور یوں ہی رات ہو گئی چچا اور بچے جلدی سو گئے صبح ان کو جانا تھا اور میں بھی 11بجے تھک کر اوپر پے جا کر سو گیا

اگلے دن صبح اٹھ کر نہا دھو کر سب کے ساتھ ناشتہ کیا اور چچا اپنے کام پے اور بچے اسکول چلے گئے . میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا تقریباً 12بجے کے قریب میں ٹی وی والے کمرے سے نکلا تو دیکھا چچی شاید آج اپنا کام جلدی ختم کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی . میں ان کے کمرے میں چلا گیا لیکن وہ کمرے میں نہیں بلکہ وہ اپنے باتھ روم میں نہا رہی تھی . اور ان کے باتھ روم کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا . میں باتھ روم میں جا کر دروازہ کھول دیا چچی اندر بیٹھی نہا رہی تھی مجھے دیکھا اور مصنوعی سا غصہ کر کے بولی شرم نہیں آتی نہاتے ہوئے بھی پیچھا نہیں چھوڑو گے . میں ان کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کیا کروں چچی جان آپ چیز ہی ایسی ہو پیچھا چھوڑنے کو دِل ہی نہیں کرتا . پِھر چچی بھی ہنسنے لگی اور بولی ایک کام کرو میری کمر پے صابن رگڑ کر مل دو . میں تھوڑا اندر ہو کر بیٹھ گیا اور صابن لے کر آنٹی کی کمر کو اچھی طرح سے رگڑ نے لگا اور پِھر چچی بولی بس ٹھیک ہے تم کمرے میں بیٹھو میں نہا کر آتی ہوں . میں ان کے کمرے میں کرسی پے بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد ہی چچی نہا کر باہر آ گئی اور ڈریسنگ ٹیبل پے بیٹھ کر اپنے بال سکھانے لگی. جب وہ اپنے بال سوکھا کر فارغ ہو گئی تو میری طرف منہ کر کے بولی سناؤ کا شی کیا رپورٹ ہے بلال والا کام پکا ہو گیا ہے . میں نے کہا جی آنٹی جی پکا ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا میں نے شوکت کو میسیج کر دیا ہے وہ بھی کل 11بجے تک آ جائے گا . اور آج بچے واپس آ جائیں تو میں عشرت کی طرف جاؤں گی اس کو بدھ والے دن کا پروگرام بنا کر آ جاؤں گی . میں نے کہا بس چچی جان ٹھیک ہے مجھے منظور ہے . چچی نے کہا کا شی ویسے بلال مجھے کب کال کرے گا تمھارے ہوتے ہوئے ہی کرے گا یا تمھارے جانے کے بعد کرے گا . میں نے کہا چچی جان وہ میرے بعد ہی کرے گا میں جمه کو جا رہا ہوں وہ آپ کو ہفتے والے دن کال کرے گا میں اس کو سمجھا دوں گا اور آپ 2 یا 3 دن اس کو تھوڑا نخرا دیکھا دینا پِھر اگلی منگل یا بدھ کو بلا لینا اور مزہ لے لینا اس کے بعد تو آپ کی جب مرضی ہو گی بلا لیا کرنا. آنٹی نے کہا کا شی تم نے میرے پکا بندوبست کر دیا ہے میں بہت خوش ہوں . میں نے کہا چچی جان ایک بات تو بتاؤ کیا آپ نورین اور عشرت اور سائمہ آنٹی کو بھی بلال سے چدواؤ گی . تو چچی بولی نہیں کا شی نورین اور سائمہ کو میں کبھی بھی بلال سے نہیں ملواؤںگی لیکن عشرت کا شاید میں کچھ کروا دوں لیکن وہ بھی ابھی میں نے پکا سوچا نہیں ہے میں سوچ کرفیصلہ کروں گی. میں نے کہا چچی جان آپ نورین اور سائمہ آنٹی کا کیوں نہیں کرو گی کوئی خاص بات ہے . تو چچی نے کہا خاص بات کوئی نہیں ہے نورین میری سہیلی ہے اور وہ ابھی جوان ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کی دوبارہ شادی بھی شاید ہو جائے گی



Leave a Comment