سب سے رابطہ کرنے بعد میں خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگا ۔۔۔
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا مجھے گھبراہٹ سی ہو رہی تھی ۔۔۔
میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں ۔۔۔
اتنے طاقتور لوگوں سے الجھنا اچھا نہیں ہے میرے اندر اس سوچ نے ڈر پیدا کر دیا۔۔۔
میں تذبذب کا شکار تھا عین وقت پر چھٹی حس مجھے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ایسا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔۔۔
معاملات کسی اور رخ چل پڑیں گے بجائے سلجھنے کے یہ ڈور مزید الجھتی جائے گی۔۔۔
میں نے شاہد کا نمبر ملایا تو وہ بند ملا میں بار بار ملانے لگا لیکن رابطہ نہ ہو پایا۔۔۔
میں نے اور شاہد نے ہی یہ سارا پلان بنایا تھا شاہ زیب کو اس بات کا علم نہیں تھا۔۔۔
میں نے شاہ سے رابطہ کیا اس سے پوچھا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ وہ میرے ساتھ نہیں آرہا۔۔۔
میں اس کو کچھ نہ کہہ سکا میں کر بھی کیا سکتا تھا یہ سارا کچھ کیا دھرا میرا ہی تھا بھگتنا بھی مجھے ہی تھا۔۔۔
میں فون ہاتھ میں پکڑے بیٹھا تھا اب کیا کروں ۔۔۔
میرے فون کی بیل بجی میں نے نمبر دیکھے بغیر فون رسیو کرکے کان کو لگایا۔۔۔
میرے ہیلو کہنے سے پہلے ہی شاہ زیب کی آواز آئی کہاں ہو۔۔۔
میں نے جواب دینے کی بجائے پوچھا کیوں کیا ہوا ۔۔۔
شاہ زیب تھوڑے سخت لہجے میں کہا تم کیا کرنے جا رہے ہو کچھ دماغ سے بھی کام لے لیا کرو۔۔۔
میں شاہ زیب کی سننے لگا وہ مجھے ڈانٹ رہا تھا اس کی ڈانٹ میں غصہ کم اور تنبیہ زیادہ تھی۔۔۔
اس نے مجھے بتایا کہ اس کو اس کے دست نے بتایا کہ تم دارے خان کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے والے ہو۔۔۔
حملہ بھی کن لوگوں کے ساتھ مل کر جو اس کا کھاتے ہیں تمہارا دماغ خراب ہے اچھی ڈوگر ہو یا شادا گجر دونوں ایک سکے کے دو پہلو ہیں ۔۔۔
یہ کبھی بھی کسی اچھے کام میں کسی کا ساتھ نہیں دے سکتے تم وہ سب نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔۔۔
ان لوگوں نے تمہیں استعمال کرنا تھا اور ان کا نشانہ بھی تم نے ہی بننا تھا۔۔۔
یہ ایسے کمینہ صفت انسان ہیں کہ اپنے بھائی کو بھی قتل کرنے سے باز نہیں آتے۔۔۔
ان کے نزدیک سب کچھ پیسہ ہے یہ پیسے کے بغیر کچھ نہیں کرتے تم نے ان کو لالچ دیا وہ لالچ میں آگئے۔۔۔
اگر دارے خاں کو پتہ چلتا تو انہوں نے سارا ملبہ تمہارے کھاتے میں ڈال دینا تھا۔۔۔
آئندہ کوئی بھی ایسی حرکت کی تو پھر میں کچھ نہیں کر پاؤں گا ۔۔۔
پہلے والا پھڈا ابھی ختم نہیں ہوا ڈاکٹر کی وجہ سے جو معاملہ چل رہا ہے اور دوسرا مانی والا جو مسئلہ تھا اس کی وجہ سے اتنی پریشانی ہوئی ہے۔۔۔
میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا لیکن دماغ میں جب کوئی بات بیٹھ جاتی ہے تو وہ نکلتی نہیں۔۔۔
میں بھی یہ ہی سوچ رہا تھا کتنے دن میرے رستے میں کوئی آئے گا مجھے مفلوج بنا کر رکھے گا ایک نا ایک دن میں دارے خان کو دیکھ لوں گا۔۔۔
شاہ زیب نے کہا کل کالج میں ملاقات ہوگی تم پر جو حملہ ہونے والا تھا اس سلسلے میں میں ان سب لوگوں سے ملا ہوں ان کو تسلی دی ہے کہ تمہارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔
میں دارے خاں کے پاس بیٹھا تھا ہاشم میرے ساتھ تھا اس کو ہم نے بتایا کہ تم نے کچھ نہیں کہا وہاں بیٹھا ہوا تھا جب مجھے تمہارے آج کے پلان کا پتہ چلا۔۔۔
جب ہم نے تمہیں روکا تھا کہ ہم خود دیکھ لیں گے تو تم شادے اور اچھی کے پاس کیا کرنے گئے تھے۔۔۔
اب آرام کرو اور کل سکون سے کالج آو تمہارا سارا دھیان کالج میں ہونا چاہئیے بس۔۔۔
اتنا کہہ کر شاہ زیب نے فون بند کر دیا میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔
اس کی باتیں سچ بھی تھیں اور کڑوی بھی بہت لگیں۔۔۔
میں نے اس آنٹی کو سلام کیا اور اس سے اجازت لے کر گھر سے نکل آیا ۔۔۔
میرا رخ اپنے گھر کی بجائے ڈاکٹر کے گھر کی طرف تھا ۔۔۔
میں نے ڈاکٹر عمائمہ کے گھر کے سامنے جا کر دیکھا تو اس پر بڑا سا تالا میرا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔
میں وہاں سے شاہ کی طرف چل پڑا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا گھر کافی دور ہے اور میرے پاس پستول بھی ہے ۔۔۔
اب مجھے شاہد کے نمبر بند ہونے اور اچھی اور شادے کے لڑکوں کے فون نہ آنے پر کوئی حیرت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
شاہ زیب کی پہنچ کہاں تک تھی وہ ان سب لڑیوں سے کس حد تک جڑا ہوا تھا میں سب جان چکا تھا۔۔۔
میں نے اپنے دماغ میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کی کہ میں نے آج کے بعد صرف پھدیاں ہی مارنی ہیں ۔۔۔
باقی سب لن پڑ چڑھیں میرا کسی کام سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔
یہ سوچتا ہوا میں شاہ کے محلے میں داخل ہو گیا۔۔۔
جیسے ہی شاہ کی گلی میں داخل ہوا تو مجھے شاہ کے گھر کے سامنے دو تین لڑکے کھڑے دکھائی دئیے جو ادھر ادھر گردنیں گھما کر دیکھ رہے تھے۔۔۔
ان کی حرکات مشکوک تھیں میں تھوڑا دیوار کے ساتھ ہو کر اندھیرے کا سہارا لیتا آگے بڑھنے لگا۔۔۔
میں نے شاہ کا نمبر ملایا لیکن فون رسیو نہ ہوا میں آہستہ آہستہ شاہ کے گھر کے دروازے کے سامنے پہنچ رہا تھا۔۔۔
جیسے جیسے میں قریب پہنچ رہا تھا ویسے ویسے مجھے ان لڑکوں کے چہرے صاف نظر آنے لگے تھے۔۔۔
یہ لڑکے تو میں نے کالج میں مانی کے ساتھ دیکھے تھے مانی کے گروپ کے لڑکے تھے سارا دن سگریٹ پیتے نظر آتے تھے۔۔۔
لیکن یہ یہاں کیا کر رہے تھے میرے لیے حیرت کی بات تھی ۔۔۔
میں نے پستول نکال لیا اور آگے بڑھتا رہا اب میں ان سے صرف پندرہ قدم کی دوری پر دیوار کے ساتھ پہنچ چکا تھا۔۔۔
گھر کے اندر مجھے کافی ہلچل سی محسوس ہوئی کوئی بڑی تیزی سے اندر سے نکلا اور ان لڑکوں کے پاس آیا۔۔۔
اس کو دیکھ کر مجھے دھچکا لگا یہ تو شیدا تھا جو اچھی ڈوگر کے پاس تھا۔۔۔
سالا شاہ کو ترسی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں نے پستول پیچھے کیا اور سامنے آگیا اور شیدے کو کہا اور بھائی شیدے یہاں کیسے آنا ہوا۔۔۔
شیدے نے مجھے دیکھا تو اس کا رنگ اڑ گیا اس کے ساتھ جو لڑکے تھے وہ مجھے خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
شیدے نے کہا بس یار تیرے یار سے کچھ حساب کتاب چکتا کرنا تھا اس لیے آئے تھے۔۔۔
شیدا ان لڑکوں کو کچھ کہہ رہا تھا جو میری سمجھ میں نہیں آیا تھا ۔۔۔
میرے سامنے آتے ہی وہ چپ ہو گئے تھے مجھے جواب دے کر وہ ایک طرف چل پڑا۔۔۔
میں نےاس کو آواز بھی دی لیکن وہ کوئی جواب دئیے بغیر ہی گلی سے نکل گئے۔۔۔
بیٹھک کا دروازہ کھلا تھا میں اندر داخل ہوا تو سامنے میز پر چائے کے خالی کپ اور بسکٹ پڑے تھے۔۔۔
مجھے یہ سب دیکھ کر بہت حیرت ہوئی میں وہاں رکے بغیر واپس مڑ گیا۔۔۔
وہاں سے سیدھا اپنے گھر آیا اور سو گیا۔۔۔
اگلی صبح اپنی روٹین کے مطابق اٹھا سیر کر کے تیار ہو کر کالج کے لیے نکل پڑا۔۔۔
فرحی کے پاس جا کر ناشتہ کیا اور اس کے بعد کالج چلا گیا۔۔۔
شاہد آیا اس کے شاہ بھی آگیا کالج میں سب نارمل چل رہا تھا۔۔۔
نہ میں نے شاہد سے کوئی بات کی اور نہ ہی شاہد نے کوئی بات چھیڑی۔۔۔
شاہ نے بس یہ پوچھا تم گھر آئے تھے مجھے ملے بغیر ہی چلے گئے میں ایک منٹ کے لیے اندر گیا تھا۔۔۔
میں نے اس کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں تو گزر رہا تھا بیٹھک کھلی دیکھی تو رکا تھا جب کوئی نہیں تھا تو آگے بڑھ گیا۔۔۔
کالج میں آج الیکشن کا زور تھا اس لیے کوئی کلاس نہ ہوئی سارا وقت کیٹنین اقر گراؤنڈ میں گزر گیا۔۔۔
وہاں سے فارغ ہو میں فرحی کی طرف گیا وہاں کھانا کھایا اور کچھ دیر سو گیا ۔۔۔
گھر میں بالو اور چھوٹی کے علاوہ ان کی ایک کزن بھی آئی ہوئی تھی اس لیے کوئی موقع نہ ملا۔۔۔
پھر ٹیوشن اور شام کو واپس گھر آگیا۔۔۔
اسی طرح ایک ہی روٹین سے دو دن گزر گئے کچھ خاص نہ ہوا اور نہ ہی شاہ زیب کالج آیا ۔۔۔
میں اس کا انتظار کرتا رہا تھا کہ وہ ایک دفعہ مل جائے پھر پتہ چلے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔۔۔
اگلا دن کالج کے الیکشن کا تھا جس میں عاذب بآسانی جیت گیا اور اس کو کالج کا صدر بنا دیا گیا۔۔۔
اسی ہفتے ہمارے کالج میں ٹیسٹ شروع ہو گئے ہم پڑھائی میں مصروف ہو گئے۔۔۔
عمائمہ نے لاہور جانے کے ایک ہفتہ بعد مجھے فون کیا اس نے بتایا کہ ریحان ابھی تک گھر نہیں آیا۔۔۔
میرے دماغ میں اچھی ڈوگر کے پاس جو لڑکا تھا وہ آیا۔۔۔
میں نے اچھی سے رابطہ کیا اس سے ریحان کا پوچھا تو اس نے کہا ہاں وہ میرے پاس ہے لیکن اس کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔
میں نے پوچھا کیسے چھوڑو گے اس نے اپنی ڈیمانڈ رکھ دی۔۔۔
میں نے اس کی ڈیمانڈ عمائمہ کو بتائی اس نے کہا ٹھیک ہے بس مجھے میرا بیٹا زندہ واپس مل جائے میرے لیے یہ ہی کافی ہے۔۔۔
عمائمہ نے اس دن ایک اور بات کی کہ ریحان کو اس کے شوہر نے اغواء کروایا تھا یہ بات اس تک پہنچائی گئی تھی۔۔۔
لیکن ایسا نہیں ہے میں کل پیسے لے کر آوں گی مجھے ملنا میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گی۔۔۔
میں نے اچھی کو سب بتا دیا کہ کل پیسے مل جائیں گے میری گارنٹی ہے ۔۔۔
اس نے بعد اگلے دن عمائمہ پیسے لے کر آ گئی میں وہ پیسے لے کر اچھی کی بتائی ہوئی جگہ پر عمائمہ کے ساتھ گیا۔۔۔
میں نے اچھی کے لڑکوں کو پیسے دئیے اور ریحان کو ان سے لے کر عمائمہ کے ساتھ اس کے گھر آگیا۔۔۔
عمائمہ نے مجھے بتایا کہ میرا شوہر کئی سال پہلے فوت ہو گیا تھا لیکن میں نے یہاں سب کو بتا رکھا تھا کہ میرا شوہر زندہ ہے اور میرا سارا دو نمبر دھندا اس کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔
ایسا بالکل ںہیں تھا یہ سب میں خود ہینڈل کر رہی تھی میں چلا رہی تھی۔۔۔
اب سب کچھ چھوڑ دیا ہے اور لاہور کی بجائے ہم یہاں سے سیدھے اسلام آباد جائیں گے اور واپس نہیں آئیں گے۔۔۔
عمائمہ ریحان کو لے وہاں سے چلی گئی میں اپنے پیپروں میں مصروف ہو گیا۔۔۔
شانزل سے کوئی ملاقات نہ ہو سکی پیپروں میں بہت مصروف ہو گیا تھا ۔۔
جب پڑھا نہ ہو تو پیپروں میں محنت بھی ڈبل کرنا پڑتی ہے۔۔۔
پیپروں سے فارغ ہونے کے بعد میرا لن مجھے تنگ کرنے لگا لیکن پھدی ڈھونڈنا مشکل لگنے لگا تھا۔۔۔
مجھے حیرانی ہو رہی تھی کہ ہنی نے اس سارے عرصے میں کوئی فون نہیں کیا تھا۔۔۔
ٹیوشن سے چھٹی تھی میں گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے چلا گیا۔۔۔
کھیلنے کے بعد بلوچ ہاؤس کا چکر لگایا تو ان کے گھر کو تالا تھا۔۔۔
میں واپس آیا اور بسمہ آنٹی کی طرف چکر لگایا باہر سے دیکھ کر گھر آگیا۔۔۔
شانزل کے ماموں کی شادی تھی وہ بھی یہاں نہیں تھی فرحی کے ساتھ بھی کوئی موقع نہیں مل رہا تھا۔۔۔
میں نے شاہ کو فون کیا اور اس کی طرف چلا گیا جب سے وہ والا واقعہ ہوا تھا میں کسی کے ساتھ کھل کر بات چیت نہیں کرتا تھا۔۔۔
شاہ کے گھر کا دروازہ کھٹکٹایا تو شاہ کی والدہ نے دروازہ کھولا مجھے اندر آنے کا کہا لیکن میں نے شاہ کا پوچھا انہوں نے کہا بیٹا اندر آ جاؤ وہ گھر میں ہی ہے۔۔۔۔
شاہ کی والدہ بڑی اچھی خاتون تھیں بڑی ملنسار اور محبت کرنے والی ۔۔۔
وہ مجھے اندر گول کمرے میں لے گئیں اور شاہ کو آواز دی ۔۔۔
شاہ آیا مجھ سے ہاتھ ملا کر بیٹھنے لگا تو میں اس کی والدہ سے کہا آنٹی کیا میں شاہ کو ساتھ لے جا سکتا ہوں ۔۔۔
اس کی والدہ بڑے پیار سے بولیں بیٹا مجھے پتہ آپ لوگوں نے آپس میں کئی قسم کی باتیں کرنی ہوں گی کہیں اور جانے کی کیا ضرورت ہے ہماری بیٹھک ہے وہاں بیٹھ جاؤ ۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے میں اور شاہ بیٹھک میں آگئے۔۔۔
نہ شاہ کچھ بول رہا تھا اور نہ ہی میرے پاس الفاظ تھے کہ میں اس کو کچھ بوک سکوں ۔۔۔
ہم بس خاموش بیٹھے تھے اندر سے دروازے دستک ہوئی شاہ نے جا کر دیکھا اور چائے کے ساتھ کچھ کھانے لیے بھی لے آیا۔۔۔
اس نے ٹرے درمیان میں پڑی میز پر رکھی اور مجھے چائے ڈال کر دی ساتھ بسکٹ بھی میرے آگے کیے۔۔۔
میں نے چائے پی اور شاہ سے اجازت لی ۔۔۔
شاہ نے کہا تو مجھ سے ناراض ہے ۔۔۔
میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا اگر ناراض ہوتا تو اس وقت یہاں نہ ہوتا۔۔۔
میں کس سے ناراض ہوں خود سے یا کسی اور سے بس جو تھا وہ نہیں ہے جو ہونا تھا وہ ہو گیا سب کچھ اچھے کے لیے ہوتا ہے۔۔۔
میرے دماغ میں پلان چلتے رہتے ہیں میں کافی کچھ سوچتا ہوں یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ سب کچھ ہو کیوں کہ انسان کی سوچ اور حقیقی زندگی میں کافی کچھ الگ ہو سکتا ہے۔۔۔
شاہ صرف مسکرا کر رہ گیا وہ کہہ بھی کہا سکتا تھا۔۔۔
میں ایسے ہی سرسری سے انداز میں شاہ سے پوچھا ایک دن میں یہاں آیا تھا جب تو نہیں تھا بیٹھک کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔
شاہ نے کہا ہاں میں بھی اس کے بعد تم سے پوچھنا بھول گیا تھا تم نے بتایا تھا کہ تم یہاں سے گزر رہے تھے۔۔۔
یار اگر یہاں سے گزر رہے تھے بیٹھک کھلی تھی تو رک جاتے گھر آ جاتے تمہارا اپنا گھر ہے یہ کیا بات ہوئی کہ بیٹھک میں کوئی نہیں ہے تو واپس نکل جاؤ۔۔۔۔
میں نے بڑے غور سے شاہ کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر مجھے کوئی پریشانی والی بات نظر نہ آئی۔۔۔۔
میں نے تیکھی نظریں اس کے چہرے پر گاڑھتے ہوئے پوچھا اچھا ایک بات بتا اس رات کو جب میں یہاں آیا تھا تو یہاں کون آیا ہوا تھا۔۔۔
شاہ کا رنگ اڑ گیا وہ گھبرا گیا اس نے ہکلاتے ہوئے کہا کس دن کی بات کر رہے ہو۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا اسی دن جس بیٹھک کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔
شاہ نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا میں سمجھ گیا تھا وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ میں یہاں کس کو دیکھا ۔۔۔
میں نے اس سے کہا اچھا یار میں چلتا ہوں وقت کافی ہو گیا ہے۔۔۔
میں نے اس سے ہاتھ ملایا وہ کافی زیادہ پریشان ہو گیا تھا۔۔۔
جب سے میرے پیچھے بندے لگائے گئے تھے یہ بات مجھے معلوم ہوئی تھی میں کافی محتاط ہو گیا تھا۔۔۔
پھر دوسرا معاملہ جو ہوا تھا اس کے بعد تو نے باقاعدہ پستول اپنے پاس ہی رکھنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
اس وقت بھی پستول میرے پاس تھا چلتا ہوا شاہ کے محلے سے نکلا اور اپنے ٹاؤن کی طرف چل پڑا۔۔۔
شہر کے جس طرح ہمارا ٹاؤن تھا اس کے درمیان میں ریلوے ٹریک تھا اس کے ساتھ کچھ دور تک بلکل سنسان علاقہ تھا۔۔۔
میں جیسے ہی ریلوے ٹریک سے گزر کر آگے بڑھا مجھے لگا جیسے میرے پیچھے کوئی آ رہا ہے۔۔۔
میں مڑ کر دیکھا تو دو لوگ چل رہے تھے میں نے ان پر کوئی دھیان نہ دیا اور آگے بڑھتا رہا۔۔۔
میں نے ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھ کر مجھے رکنے کا کہا۔۔۔
میں رک گیا وہ دونوں میرے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔
اس سنسان سے علاقے میں کوئی لائٹ وغیرہ نہیں تھی اور نہ ہی یہ کوئی باقاعدہ روڈ تھا ۔۔۔
یہ ایک کچہ رستہ تھا جو شارٹ کٹ کے طور پر ہم استعمال کرتے تھے۔۔۔
ان میں سے ایک غصیلے لہجے میں کہا آج کے بعد اگر دوبارہ اس طرف کا رخ کیا تو پھر تیری خیر نہیں ہے۔۔۔
میں نے اس کے لہجے کی پرواہ کیے بغیر کہا کس بارے میں بات کر رہے ہو۔۔۔
میں تب تک پستول اپنے اڑنگے سے نکال چکا تھا ۔۔۔
ایک بڑے گھٹیا سے انداز میں بولا تیری ماں دی۔۔۔
بس وہ اتنا ہی بول پایا میں نے اس کے منہ پر ایک زور دار گھونسا مارا وہ درد سے بلبلا اٹھا۔۔۔
اس کے ساتھی نے آگے بڑھ کر میرا گریبان پکڑ لیا۔۔۔
میں نے نیچے سے اس کے پیٹ میں پستول لگا دیا ۔۔۔
وہ ایک دم شانت ہو گیا اس کی میرے گریبان پر گرفت ڈھیلی ہو گئئ۔۔۔
اس کا ساتھی تھوک رہا تھا شاید اس کی زبان دانتوں تلے آ کر کٹ چکی تھی۔۔۔
میں نے جس کے پیٹ سے پستول لگایا ہوا تھا اس کو کہا ادھر آ جاؤ ۔۔۔
اس ایک طرف کھیت میں لے گیا گورنمنٹ نے ریلوے کی زمین کسی لوکل آدمی کو ٹھیکے پر دی ہوئی تھی۔۔۔
اس میں کافی زیادہ درخت بھی لگے تھے امرودوں کا ایک باغ بھی تھا ۔۔۔
میرا رخ اس وقت وہ باغ تھا میں اس کو باغ کی طرف لے گیا دوسرے لڑکے کو شاید سمجھ آگئی تھی کہ میرے پاس ہتھیار ہے اس لیے وہ اڑن چھو ہو گیا۔۔۔
میں نے چلتے چلتے شاہد کو فون کیا اس نے نہ اٹھایا پھر ناصر کو فون کیا اس نے فوراً اٹھا لیا۔۔۔
ناصر کو میں جگہ اور صورتحال بتائی اس نے پانچ منٹ کا کہا ۔۔۔
میں اس لڑکے سے کوئی بات نہ کی بس اس کو پستول کی نوک پر ہی رکھا۔۔۔
وہ ڈر سے کانپ رہا تھا اس نے ڈرتے ڈرتے کہا بھائی میرا کوئی قصور نہیں مجھے جو حکم ملا میں تو وہ کر رہا تھا۔۔۔
میں نے پھر بھی کوئی بات نہ کی وہ کانپتے ہوئے بولا بھائی مجھے معاف کر دیں میں غریب آدمی ہوں بس پیسوں کے لالچ میں یہ سب ہو گیا۔۔۔
ہو اسی طرح کافی کچھ کہتا رہا میں نے بس اس کو اتنا کہا اب اگر تو بولا تو گولی پیٹ کے آر پار ہو جائے گی۔۔۔
وہ چپ ہو گیا اسی وقت مجھے بائیک کی روشنی نظر آئی میں نے اس کو کھڑا کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
مجھے بس اتنا بتا دو جو کچھ تمہیں کہا گیا وہ کیا تھا اور کس نے کہا تھا۔۔۔
اس نے فٹ سے کہا مجھے شیدا بدمعاش نے فون کیا تھا اور بس اتنا ہی کہا تھا کہ آج کے بعد اس گلی میں نظر آو بس آپ کو ڈرانا ہے۔۔۔
شیدا۔۔۔ہمممم اچھی ڈوگر کا بندہ ہے وہ شیدا۔۔۔
اس نے ہکلاتے ہوئے کہا یہ تو مجھے نہیں پتہ لیکن یہاں صرف وہ ہی آڈر چلاتا ہے اس دن آپ کو دیکھا تھا ۔۔۔
اسی گلی کے بارے میں ہمیں کہا ہے شیدے نے کہا تمہیں ڈرا کر روکنا ہے۔۔۔
تب تک ناصر قریب آ چکا تھا میں نے اس کو کہا اس کا کچھ کرو مجھے ڈرانے آئے تھے ایک تو بھاگ گیا دوسرا یہ ہے۔۔۔
ناصر نے اس کو دیکھ کر کہا یہ تو ہمارے ساتھ تھا لیکن یہاں کیا کر رہا ہے ۔۔۔
اس کو میں نے ساری بات بتا دی کہ اس کو کس نے کہا تھا اور کیا کہا تھا۔۔۔
ناصر نے اس کے دو تین تھپڑ لگائے اور اس کو لے کر چلا گیا میں وہاں سے سیدھا گھر آیا ۔۔۔
اس کے بعد دو تین بڑا امن سکون رہا کسی قسم کا کوئی ہنگامہ نہ ہوا نہ ہی کوئی پھدی ملی۔۔۔
میں خود الجھتا جا رہا تھا شاہ کا رویہ اور شیدے کا یوں مجھے ڈرانے کے لیے بندے بھیجنا اس میں کوئی تو بات تھی جو مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔
ٹیسٹوں کے بعد پہلے دن کالج گیا شاہد کو لے کر میں کالج سے نکل گیا کیونکہ میں نے سوچ لیا تھا کہ شاہ کے بارے ساری معلومات اکٹھی کرنی ہے ناصر کو میسج کر دیا تھا۔۔۔
ہم کالج سے نکل کر ایک قریبی پارک میں چلے گئے وہاں اکثر لڑکے کالج سے چھٹی مار کر وقت ضائع کرتے تھے۔۔۔
قدرے سنسان کونے میں جا کر بیٹھ گئے اور میں نے شاہد کو ساری بات تفصیل سے بتائی شاہ کے رویے اور اس کی بیٹھک سے نکلتے شیدے اور مجھے دھمکانے والے لڑکے کی باتیں۔۔۔
شاہد نے کہا گانڈو تو مجھے اب بتا رہا ہے مجھے تو پہلے سے ہی اس پر شک تھا جب اس کی کزن تجھ سے ملنے آئی تھی کینٹین میں اس دن سے شاہ کا رویہ بدلا ہوا ہے۔۔۔
شاہد کی منہ سے ودحت کا ذکر سن کر مجھے حیرانی ہوئی کہ شاہد کو کس نے بتایا کہ ودحت اس کہ کزن ہے۔۔۔
میں جتنا معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا وہ اور الجھتا جا رہا تھا ۔۔۔
کہاں شیدا کہاں شاہ اور اب ودحت لیکن ان میں ایک بات مشترک تھی وہ شاہ کا نام تھا۔۔
اب یہ جاننا تھا کہ شاہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور اس کا شیدے کے ساتھ کیا تعلق ہے۔۔۔
شاہد نے ایک اور بات کی کہ جب ہم اچھی کے پاس گئے تھے وہاں شیدا شاہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور اس کے چہرے سے صاف نظر آرہا تھا کہ وہ شاہ کو جانتا ہے۔۔
دال ساری کی ساری کالی تھی یہ میں سمجھ گیا تھا۔۔۔
شاہد کے ذمے لگایا کہ مجھے پتہ کرکے دو یار آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔
شاہد نے کہا بس دو دن دو میں سب کچھ پتہ کر لوں گا ۔۔۔
ہم واپس کالج آئے مجھے عاذب نے بتایا کہ عابد باکسر کو چھ ماہ کی سزا ہوئی ہے۔۔۔
مانی نے اب اپنے بھائی کے ساتھ ٹرانسپورٹ کا بزنس سنبھال لیا ہے۔۔۔
وہ سارے دھندے چھوڑ گیا دارے خاں نے کاشی ٹنڈںے کو بلوایا تھا ۔۔۔
اب شاید وہ اس کو اپنے دھندے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔۔۔
عاذب نے ایک اور بات بھی بتائی جو اس کو پرویز صاحب کے توسط سے پتہ چلی تھی۔۔۔
وہ یہ تھی کہ دارے خاں کا منشیات کا دھندا تقریباً ختم ہو گیا ہے کیونکہ اس کا سپلائر غائب ہو گیا ہے۔۔۔
میں نے کہا یہ تو اچھی خبر ہے لیکن اگر ایسا ہے تو پھر کاشی کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔۔۔
عاذب نے کہا یار منشایات کسی ایک چیز کا نام تو نہیں ہے اس میں چرس افیون گانجا پاوڈر آئس اور پتہ نہیں کیا کچھ ہوتا ہے۔۔۔
اور شراب تو عام مل جاتی ہے اس کے لیے اتنے پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے مجھے لگتا ہے کاشی سے اسی لیے رابطہ کیا ہے۔۔۔
کاشی سے اسی لیے رابطہ کیا ہے کیا مطلب مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔
عاذب نے بتایا کہ کاشی دریائی بندہ ہے اور وہاں ہر تیسرے گھر میں شراب کی بھٹی لگی ہوئی ہے دیسی شراب بناتے ہیں۔۔۔
یہ لوگ دیسی شراب کو مکس کرکے بیچتے ہیں جو ڈبل منافع دیتی ہے۔۔۔
خرچہ ہوتا نہیں اور منافع کئی گنا زیادہ اس لیے ایسا ہو سکتا ہے یہ صرف میرا اندازہ ہے۔۔۔
لیکن ایک بات جو میں جانتا ہوں کاشی جھگڑالو ضرور ہے لیکن وہ اس دھندے سے نفرت کرتا ہے۔۔۔
میں نے اس سے کہا چلیں دیکھتے ہیں ایک میٹنگ رکھو جس میں کالج کے سبھی نامور لڑکوں کو بلاؤ پھر اس طرح کی باتیں ڈسکس کرو پتہ چل جائے گا۔۔۔
کالج کو کالج ہی رہنا چاہئیے اب کالج کے صدر ہو یار یہ سب کام ہی کرنے کے لیے صدر بنایا ہے کالج میں لڑکے پڑھنے آتے ہیں تو صرف پڑھیں۔۔۔
آج کافی دنوں بعد میں کالج میں چل پھر رہا تھا ۔۔۔
گراؤنڈ میں اکٹھے ہوئے گپ سپ لگانے لگے ڈنگا کا خوب مذاق اڑایا شاہ مجھ سے دور دور رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
میں نے کہا اوئے شاہ تو مجھ سے کیوں ڈر رہا ہے مجھے ایسا کوئی شوق نہیں ہے جس کی وجہ سے تو مجھ سے ڈر رہا ہے۔۔۔
شاہ نے کہا میں جانتا ہوں تیرا لوڑا اٹھتا ہی نہیں ہے ۔۔۔ہاہا۔۔
سب ہنسنے لگے ڈنگے نے کہا گل سنو میرے کول ایک دوائی ہے جس سے بڈھے کا لوڑا بھی کھڑا ہو جاتا ہے ۔۔۔
شاہ اگر تیرا دل ہو تو بلو کو وہ دوائی کھلا دیتا ہوں پھر تیرا اعتراض بھی نہیں رہے گا۔۔
سب زور زور سے ہنسنے لگے ۔۔۔
شاہ نے کہا سالیا تیرے پاس اگر دوائی ہوتی تو تم خود کھا کر اپنا علاج نہ کر لیتے چھوٹی سی للی لے کر پھر رہے ہو۔۔۔
ڈنگا شرمندہ سا ہو گیا شاہ نے سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اگر یقین ہے تو اس کو دکھائے۔۔۔
ڈنگے نے کہا چلو ٹھیک ہے میں دکھاتا ہوں لیکن میری ایک شرط ہے ۔۔۔
شاہ نے کہا مجھے شرط منظور ہے تم دکھاؤ ۔۔
ڈنگے نے کہا پہلے شرط سن تو لو یہ نہ ہو کہ بعد میں بھاگ جاؤ۔۔۔
شاہ نے کہا میں نہیں بھاگتا جو بھی شرط ہے مجھے منظور ہے۔۔۔
شاہد نے ڈنگے کے کان میں کچھ کہا ۔۔۔
شاہ نے کہا شاہد تو بہن نہ یہواہ اہنوں بولن دے۔۔۔
ڈنگے نے ہنستے ہوئے کہا چل ٹھیک ہے میری شرط سنو سب بھائی ادھر متوجہ ہو جائیں۔۔۔
اس نے کافی اونچی آواز میں کہا تھا اس لیے گراؤنڈ میں بھی جو لوگ پھر رہے تھے وہ بھی ادھر دیکھنے لگے۔۔۔
ڈنگے نے کہا شاہ نے میرے ساتھ شرط لگائی ہے کہ میں نے اس کی اونچی آواز سن کر کہا ۔۔۔
چوتیے ہولی بول تو ہیرا منڈی اچ بولیاں نہیں لا رہیا اے کالج اے تیرے ابے دا اڈا نہیں۔۔۔
ڈنگے نے محسوس کیے بغیر کہا ٹھیک ہے گروجی۔۔۔
آج وہ پورے فارم میں تھا اس نے آواز آہستہ کی اور کہا تو دوستو شاہ کو میں اپنا لن جس کو یہ للی کہہ رہا ہے وہ دکھاوں گا ۔۔۔
لیکن میری ایک شرط ہے سوئے ہوئے کو جگانے کے لیے مجھے اس کی چکنی اممما گانڈ بھی دیکھنی ہے۔۔۔
شاہ کا رنگ ایک دم اڑ گیا لیکن اب شرط لگا چکا تھا گراؤنڈ میں وہ بھی اتنے لوگوں کے سامنے ۔۔۔
ویسے بھی شاہ بڑا حرامی تھا اور کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔۔۔
سب نے ہنستے ہوئے کہنا شروع کر دیا شاہ اب دکھاؤ ۔۔۔دکھاو۔۔۔ دکھاؤ۔۔۔
شاہ نے ہاتھ اوپر کر کے سب کو چپ کروایا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا مجھے منظور ہے لیکن۔۔۔
سب اس کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔
اس نے پھر کہا لیکن بلو کو میری ایک بات ماننی پڑے گی جو میں اس کو اکیلے میں کہوں گا۔۔۔
شاہد سمیت سب نے میری طرف غور سے دیکھا ڈنگے نے کہا یہ کیا بات ہوئی شرط میرے ساتھ لگی ہے تم نے کسی شرط کی بات نہیں کی تھی۔۔۔
شاہد نے اس کو روکتے ہوئے کہا بلو تم کیا کہتے ہو۔۔
میں نے کہا مجھے منظور ہے کیونکہ شاہد نے آنکھ مار کر مجھے اوکے کا اشارہ کر دیا تھا۔۔۔
شاہ نے مجھے ساتھ لیا اور ایک طرف چلا گیا اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔۔۔
بلو ہم سکول سے ایک ساتھ پڑھ رہے ہیں تم ایک اچھے لڑکے ہو لیکن تم اب کو کر رہے ہو وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
میں نے کہا کیا مطلب۔۔۔
اس نے کہا بتاتا ہوں تمہارے لڑائی جھگڑے کی بات نہیں کر رہا ایک بار میں تمہیں گھر لے کر گیا تھا وہ بھی امی کے بار بار کہنے پر ۔۔۔
امی کو تمہارے بارے میں کیسے پتہ چلا یہ مجھے بعد میں پتہ چلا۔۔۔
ودحت میری کزن ہے میری خالا کی بیٹی اس نے امی کو تمہارے اور میرے بارے میں بتایا تھا۔۔۔
اسی نے امی کو وہ سب کچھ بتایا جو تم نے کالج میں کیا ۔۔۔
وہ ہم پر گہری نظر رکھتی تھی دوسری بار مجھے امی کا نام لے کر ودحت نے تمہیں گھر لانے کا کہا تھا ۔۔۔
امی کو ودحت نے بھیج دیا تھا اس کے بعد تمہیں اور ودحت کو میری چھوٹی بہن نے دیکھ لیا تھا۔۔۔
دیکھو بلو مجھے بہت غصہ آیا تھا لیکن میری بہن نے یہ بات مجھے کھل کر نہیں بتائی وہ بات بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
لیکن میں سمجھ سکتا ہوں وہاں کیا ہوا ہوگا ویسے بھی اس کی چال نے مجھے سب کچھ سمجھا دیا تھا۔۔۔
دوسرا جب میں واپس آیا تھا تو صوفے پر نشانات دیکھ کر مجھے سب پتہ چل گیا تھا۔۔۔
میں اس کی باتیں سن رہا تھا اس نے کہا اب میں کو چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ودحت سے کوئی رابطہ نہیں رکھو گے۔۔۔
میرے پاس اس کو کچھ کہنے کے لیے الفاظ نہیں تھے میں نے بس ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔
ہم واپس آئے اور ڈنگے سے میں نے کہا شاہ کی بنڈ دیکھنی ہے تو پھر کسی اور جگہ چلتے ہیں۔۔۔
لیکن ایک میری بھی شرط ہے سب کو اپنے اپنے دکھانے ہوں گے پھر جس کا شاہ کو پسند آئے گا شاہ اس کو گانڈ دے گا۔۔۔
شاہ نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور بولا سالیا تو میرا یار ایں گانڈ مار ایں۔۔۔
سب اس کی بات سن کر ہنسنے لگے شاہد نے کہا دفعہ کرو یار یہ نہ ہو کہ شاہ کو کسی اور کا پسند آجا ئے اور میں جو اتنے سالوں سے ہاتھ سے گزرا کر رہا ہوں صرف اس کی بنڈ مارنے کی امید میں وہ بھی نہ چھوٹ جائے۔۔۔
سب کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا ایسے ہی یہ دن بھی گزر گیا ۔۔۔
شاہ کو میں نے یقین دلایا کہ میں ودحت سے کوئی رابطہ نہیں رکھوں گا اور نہ ہی اس کے گھر آوں گا۔۔۔
شاہ نے مشکور نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا بلو میں نے تم سے اور بھی باتیں کرنی ہیں پھر کسی دن بات کریں گے۔۔۔
اگلے دن کالج میں چھٹیاں ہو گئیں دس دن کی چھٹیاں ہوتی تھیں جن کو بڑے دنوں کی چھٹیاں کہتے تھے ۔۔۔
محرم کے مہینے کے پہلے دس دن کی چھٹیاں ہمارے شہر میں ہوتی تھیں اب بھی ہوتی ہیں۔۔۔
اس کی دو وجہ ہوتی تھیں ایک محرم اور دوسرا ہمارے شہر میں ایک بزرگ کا عرس ہوتا تھا جس کی وجہ سے سارا شہر بند ہو جاتا تھا۔۔۔
انہی دنوں میں ہمارے گاؤں میں بھی میلا ہوتا تھا۔۔۔
فجا گاؤں سے کسی کام شہر آیا تھا اس نے مجھے گاؤں کے میلے کا بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اس بار ہم بھی اپنی ٹیم لا رہے ہیں کبڈی کا مقابلہ ہے ۔۔۔
ہمارے گاؤں میں ہماری برادری دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے ۔۔۔
ایک طرف ہمارا خاندان جو پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی ہے ہم عام طور پر لڑائی جھگڑوں سے دور رہتے ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جو راہ چلتے لڑائی مول لے لیتے ہیں۔۔۔
ایک اضافی بات جو ان میں تھی وہ یہ تھی کہ ان میں سے اکثر کا کام چوری چکاری تھا چوری بھی چھوٹی موٹی کرتے تھے جیسے کسی کی بکری اٹھا لی کسی کی مرغی چوری کر لی ۔۔۔
یہاں تک کہ رات کے وقت کسی کی کپاس چن لی اور گندم چوری کر لی ۔۔۔
اب انہوں نے جو تعداد میں ہم سے زیادہ تھے لیکن ڈرتے تھے اس کی وجہ ان کا آپس میں اتفاق نہیں تھا ہمیں چیلنج کر دیا تھا کہ میلے میں وہ اپنی طرف سے کبڈی کی ٹیم لائیں گے جس میں وہ ہماری لائی ہوئی ٹیم کو ہرائیں گے۔۔۔
ہم تھے تو پینڈو ہی انا اور عزت کے لیے کچھ کر سکتے تھے بس سوئی اڑ گئی۔۔۔
دو دن بعد میلا تھا میں گھر میں نے گھر میں بور ہونا تھا اس لیے ابا جی سے اجازت مانگی کہ میں بھی میلا دیکھنے چلا جاؤں۔۔۔
ابا جی نے مجھے گاؤں جانے سے منع کیا تھا اس کی وجہ کیا تھی میں نہیں جان پایا تھا لیکن مجھے پھر بھی اجازت مل گئی۔۔۔
بھا ہاشم کو جب چھٹیوں کا پتہ چلا تو انہوں نے مجھے کہا کل تیار رہنا میرے ساتھ سکول جانا ہے۔۔۔
میں نے کہا میرا وہاں کیا کام ہے۔۔۔
بھا نے کہا پتہ تو چلے تم پڑ کیا رہے ہو کچھ پڑھا کر دکھاؤ تمہارے علم کا پتہ چلے گا۔۔۔
میرا سارا موڈ خراب ہو گیا میں جو گاؤں میں چھنو اور ناہید سے ملنے کے چکر میں تھا شازی کی موٹی گانڈ پر تھپڑ مارنے کا سوچ رہا تھا۔۔۔
بھا ہاشم کی بات سن کر ٹھس ہو گیا بھا نے کہا تم وہاں سے ہمارے گاؤں چلے جانا ۔۔۔
بھا نے ہمارے گاؤں سے دو گاؤں چھوڑ کر ایک گاؤں جو سٹاپ پر تھا وہاں سکول بنایا ہوا تھا اس گاؤں کی کافی آبادی تھی۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے بھائی بھا ہاشم مجھ پر آج کل بڑی گہری نظر رکھتے تھے ۔۔۔
انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا تھا جتنا کچھ مجھے شاہ زیب نے سنایا تھا مجھے یقین تھا کہ بھا بھی میری اچھی خاصی کلاس لیں گے۔۔۔
برحال رات گزر گئی صبح جلدی بھا نے مجھے جگا لیا اور تیار ہونے کا کہا۔۔۔
میں نہا کر تیار ہوا امی نے ناشتہ دیا میں وقت دیکھا تو ابھی سات بھی نہیں ہوئے تھے۔۔۔
میں آرام آرام سے ناشتہ کر رہا تھا بھا نے جلدی کرنے کا کہا لیکن میں اپنی سپیڈ نہیں بڑھا سکتا تھا۔۔۔
بھا نے ناشتہ کیا اور مجھے کہا چلو بس نکل جائے گی ۔۔۔
میں نے آدھا کیا ناشتہ چھوڑا اور بھا کے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔
ہم سٹاپ پر پہنچے ہی تھے کہ بس آ گئی ہم اس پر سوار ہو کر سکول پہنچ گئے۔۔۔
سکول کا تالا بھا نے جا کر کھولا تھا مجھے بڑا غصہ آرہا تھا کہ اس کام کے لیے مجھے یہاں لے کر آئے ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کرنے دیا۔۔۔
بھا نے کسی کو فون کیا پانچ منٹ بعد چائے اور بسکٹ آ گئے۔۔۔
ہم نے چائے پی بھا نے پمپ چلا کر پانی وغیرہ بھرا اور سب کمروں کے دروازے کھول دئیے۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد بچے آنا شروع ہو گئے مجھے نیند آ رہی تھی مجھ سستی سوار تھی۔۔۔
جلدی اٹھتا ضرور تھا لیکن میں واک کرنے کا عادی تھا جس کی وجہ سے میں سارا دن ایکٹو رہتا تھا۔۔۔
سکول کا وقت ہو گیا بیل ہوئی بھا مجھے دفتر سے لے کر اندر لے گئے۔۔۔
مجھے ایک ایک کلاس دکھاتے گئے اور جو بھی ٹیچر ہوتی اس سے میرا تعارف کرواتے گئے۔۔۔۔
پھر میرے سامنے وہ ہوا جس کی مجھے ذرا بھی توقع نہیں تھی۔۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
اگر مجھے یہ پتہ ہوتا تو میں کب کا یہاں آچکا ہوتا۔۔۔
زندگی کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہے یہ میرے وہم و گمان میں نہ تھا۔۔۔
زندگی کے رنگ بھی نرالے ہیں انسان کیا کچھ کرنا چاہتا ہے ۔۔۔
کبھی کبھی جو انسان چاہتا ہے وہ اس کو نہیں ملتا اور کبھی انسان کو وہ مل جاتا ہے جس کی وہ توقع نہیں کر رہا ہوتا۔۔۔
میں بھی اس وقت ایسے ہی تاثرات کا شکار تھا ۔۔۔
میرے سامنے اس وقت وہ کھڑی تھی جس نے مجھے مجنوں بنا دیا تھا ۔۔۔۔
ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ جب میں اپنے آپ کو پاگل سمجھنے لگا تھا۔۔۔
ہوش سے بیگانہ ہو گیا تھا ہر وقت اسی کے خیالوں میں کھویا رہتا تھا۔۔۔
اب اس کو دیکھا تو پھر سے ہوش کھونے لگا تھا۔۔۔
بھا ہاشم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا مجھے اس سے اگلی کلاس میں لے گئے۔۔۔
لیکن اب میں سب کچھ بھول چکا تھا یہ بھول گیا تھا کہ میں کہاں ہوں۔۔۔
بھا کے ساتھ ساتھ ساری کلاسوں میں گیا ضرور تھا لیکن مجھے کچھ نہیں پتہ وہاں بھا نے کیا کہا کس سے ملوایا۔۔۔
آخر میں بھا نے مجھے ایک کتاب پکڑائی اور کہا یہ کتاب لو اور آفس میں بیٹھ کر نمیریکلز تیار کرو دہم کلاس کی فزکس کے آج تم نے دو چیپٹرز کے کروانے ہیں۔۔۔
مجھے ایک دم ہوش آیا میں یہ سوچنے لگا وہ کس کلاس میں تھی ۔۔۔
میں نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور خود پر لعنت بھیجی کہ میں کیسا بیوقوف ہوں بھا نے اس سے تعارف کروایا بھی تھا لیکن میں کہیں اور پہنچ چکا تھا۔۔۔
خیر میں نے نمیریکلز کو نظر ماری یہ تو مجھے ازبر تھے میں نے باہر نکل کر بھا کو ڈھونڈا ۔۔۔۔
جان بوجھ کر ایک ایک کلاس میں دیکھتا گیا تاکہ اس ماہ دل ربا کا دیدار کر سکوں۔۔
اس کی کلاس سے پہلے ہی مجھے بھا مل گئے بھا کو میں نے بتایا کہ مجھے یہ تیار ہیں آپ بتا دیں۔۔۔۔