گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 53)

 

دروازہ کھلنے کی آواز ہم بم کی طرح گری ہم ایک دم بوکھلا گئے میرے تو ٹٹوں کی ہوا نکل گئی تھی ۔۔۔

تہمینہ اندر داخل ہوئی اس نے اندھیرے میں ہی آہستہ سے کہا باجی بس کریں کوئی اٹھ جائے گا۔۔۔

ہنی نے اس کو کچھ نہ کہا میرا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور تہمینہ کے پاس سے گزرتے ہوئے باہر نکل گئی ۔۔۔

ہنی جب باہر نکل گئی تو میں بھی باہر والے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔

درمیان میں تہمینہ کھڑی تھی جب اس کے پاس پہنچا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر روکا اپنا منہ میرے کان کے پاس لا کر بولی ۔۔۔

کیا بنا کچھ ہوا بھی یا بس باتیں کرتے رہ گئے ۔۔۔

میں اس کو کیا کہہ سکتا تھا بس اتنا کہا اپنی باجی سے پوچھنا تمہارا جیجا کیسا ہے ۔۔۔

اتنا کہہ کر میں نے اس کو کندھے سے پکڑ کر ایک طرف کیا اور باہر نکل گیا۔۔۔

ڈرتے جھجھکتے رات کے چوکیدار سے چھپتے چھپاتے میں گھر پہنچا اور بیٹھک کے رستے واپس جا کر سو گیا۔۔۔

صبح تھوڑا لیٹ اٹھا اس لیے واک کے لیے نہ جا سکا ۔۔۔

ضروری حاجات سے فارغ ہو کر نہایا دھویا ناشتہ کیا اور کالج کے لیے نکل پڑا۔۔۔

میں جب عمائمہ آنٹی کے گھر کے پاس پہنچا تو سوچا اس کا پتہ ہی کرتا چلوں۔۔۔

بیل پر ہاتھ ہی رکھا تھا کہ دروازہ کھل گیا عمائمہ آنٹی بن ٹھن کر دروازہ کھول کر باہر آئیں ۔۔۔

اس نے مجھے دیکھا تو مسکراتے ہوئے کہا میں ابھی تمہیں ہی یاد کر رہی تھی کتنی لمبی عمر ہے تمہاری۔۔۔

میں مسکرا دیا اور کہا میں تو آپ کا پتہ کرنے آرہا تھا لیکن آپ جا رہی ہیں مطلب ٹھیک ہیں۔۔۔

اس نے مجھے گاڑی میں بٹھایا ایک لمبا چکر لگا کر کالج کے گیٹ پر اتارا حیرت کی بات تھی آج وہ چپ رہی اور میں بولتا رہا۔۔۔

وہ میری باتوں کا بھی کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دے رہی تھی بس ہوں ہاں ہی کر رہی تھی اس کا انداز بدلا بدلا سا تھا۔۔۔

تقریباً سارا شہر گھما کر گاڑی کالج کے گیٹ پر لا روکی اور میرے ساتھ ہی گاڑی سے اتر گئی۔۔۔

میں بھی اترا وہ میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گیٹ سے اندر کی بڑھی میں اس کو کچھ کہہ نہ سکا ۔۔۔

بلکل خاموش وہ میرے ساتھ چلتی ہوئی کالج میں داخل ہوئی اس کے چہرے پر بہت سنجیدگی تھی۔۔۔

کینٹین تک میرے ساتھ آئی مجھے کالج کے وہ تمام لڑکے سلام کر رہے تھے جو ڈاکٹر آنٹی کو نہیں جانتے تھے۔۔۔

شاہد نے بھی میرے ساتھ اس کو دیکھا لیکن وہ کنی کترا کر گزر گیا یہاں تک کہ شاہ بھی کھسک گیا تھا۔۔۔

کینٹین کے پاس جا کر اس نے میرے کندھے پر تھپکی دی اور مسکراتے ہوئے کہا اگر یہاں کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی ہو تو مجھے بتانا۔۔۔

میں نے سر کے اشارے سے کہا ٹھیک ہے کیونکہ میں اس کے آج کے رویے سے الجھ چکا تھا میری بولتی بند ہو گئی تھی۔۔۔

وہ تو چلی گئی لیکن میرے دماغ میں کئی سوال چھوڑ گئی اس کا مجھے گاڑی میں بٹھا کر شہر گھمانا پھر کالج میں اندر تک آنا ۔۔۔

آخر میں اس کے الفاظ میری چھٹی حس کسی خطرے کی طرف اشارہ کر رہے تھے اب تک جو بھی ہوا وہ نچلی سطح تک تھا جس میں بیک گراؤنڈ میں ہی تھا یا میرا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔۔۔

جو کھیل اب شروع ہوتا نظر آرہا تھا وہ شاہ زیب کی کہی گئی باتوں کو سچ ثابت کر رہا تھا۔۔۔

شاہد اور عثمان شاہ آنٹی کے کالج سے نکلنے کے بعد میرے پاس آئے میرے کندھے کو جھنجھوڑا میں نے سر ہلایا۔۔۔

میں ڈاکٹر آنٹی کے بارے میں سوچ رہا تھا میرے دماغ میں شاہ زیب کی باتیں بھی گونج رہی تھیں۔۔۔

شاہد نے ڈاکٹر آنٹی کے بارے میں پوچھا میں نے اس کو بس یہ ہی بتایا کہ میں آ رہا تھا تو رستے میں اس نے لفٹ دے دی اور یہاں چھوڑنے آ گئی۔۔۔

اس کے بعد لیکچر شروع ہو گئے ہم کلاس میں چلے گئے ایک بعد دوسرا پھر تیسرا تین لیکچر لگاتار لے کر ہم باہر آئے ۔۔۔

باہر آ کر پتہ چلا کہ کالج میں پولیس آئی ہے کوئی عام آفیسر نہیں بلکہ ڈی پی او خود آیا ہے۔۔۔

ہم اپنی نارمل روٹین کے مطابق کینٹین چلے گئے وہاں آج ہمارے بیٹھنے پر چائے نہ آئی ہم نے خود ہی آرڈر دیا ۔۔۔

جب آرڈر دیا تو شاہ نے منہ دوسری طرف کر لیا تھا وہ اس بات پر مجھ سے نظریں چرا گیا تھا۔۔۔

چائے آئی میں شاہد اور عثمان شاہ چائے پی رہے تھے کہ عاذب بھی آگیا اس کے ساتھ دو لڑکے اور تھے ۔۔۔

اس نے ان کا تعارف کروایا اور مجھے کہا بلو اگر کوئی مسئلہ بنے تو ان کو بتا دینا جو بھی الزام ہو یہ اس کے لیے لڑکے تیار رھیں گے۔۔۔

ہم وہیں چائے پی رہے تھے کہ پرنسپل صاحب کے دفتر سے بلاوا آگیا مجھے دفتر بلایا گیا۔۔۔

ہم سب کھڑے ہوئے تو چپڑاسی نے کہا صرف آپ کو بلایا ہے باقی کسی کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔

شاہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کاکے تو اس بات کی فکر نہ کر ہم اندر داخل نہیں ہوں گے۔۔۔

میں ان کے ساتھ پرنسپل کے دفتر کی طرف چل پڑا شاہد عاذب اور شاہ میرے ساتھ تھے دوسرے دو لڑکے وہاں سے ہی دائیں بائیں ہو گئے تھے۔۔۔

میرے موبائل پر میسج آیا میں نے میسج چیک کیا تو میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔

میں پرنسپل صاحب کے دفتر کے سامنے پہنچا اجازت لی اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔

دفتر میں اس وقت پرویز صاحب ڈی پی او صاحب کے ساتھ ایک پولیس آفیسر اور موجود تھا۔۔۔

مجھے بیٹھنے کا اشارہ پرنسپل صاحب نے خود کیا میں بیٹھ گیا۔۔۔

شاہ زیب پرویز صاحب کو ناصر بلی لوگوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کر چکا تھا جس وجہ سے ہماری لڑائی ہوئی وہ صرف ہم چند لوگ ہی جانتے تھے۔۔۔

پرنسپل صاحب نے ڈی پی او پولیس سے میرا تعارف کروایا اور مجھ سے کہا بیٹا ان کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے ۔۔۔

میں نے سر جھکا کر مدد کرنے کی ہامی بھری پرویز صاحب نے مجھے آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔۔

ڈی پی او صاحب نے اپنے ساتھی آفیسر کو اشارہ کیا وہ کھڑا ہوا اور مجھے ساتھ لے کر باہر نکل آیا۔۔۔

باہر آ کر اس نے بات کی تمہید باندھے بغیر سیدھا سوال داغ دیا اس نے پوچھا دو دن پہلے تمہارے ٹاؤن میں کسی کے ساتھ تمہارا جھگڑا ہوا تھا۔۔۔

میں نے کہا سر میرا نہیں میرے ایک دوست کا جھگڑا ہوا تھا میں ٹیوشن سے گھر جا رہا تھا میں نے ان چھڑوانے کی کوشش کی تو میرے ساتھ بھی ان کی ہاتھ پائی ہو گئی تھی۔۔۔

اس نے کہا اس کے بعد ان لڑکوں نے تمہیں بھی باندھ کر ڈاکٹر عمائمہ کے گھر پھینک دیا تھا ۔۔۔

میں نے تصحیح کرتے ہوئے کہا سر میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں ایسا نہیں تھا بات لمبی ہے اگر آپ میرے ساتھ آئیں تو ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔

میں اس کو لے کر کالج کے صدر کے دفتر میں لے گیا وہاں اب کوئی نہیں بیٹھتا تھا بس ایک بار ہم لوگ ہی بیٹھے تھے۔۔۔

وہاں جا کر ہم بیٹھ گئے میں نے ان سے چائے وغیرہ کا پوچھا جس کو اس نے قبول کر لیا اور چائے منگوانے کا کہا۔۔۔

میں نے باہر نکل کر ایک لڑکے کو کینٹین چائے لینے بھیج دیا میں واپس آیا اور پھر سے بات شروع کی۔۔۔

میں نے ساری باتیں شروع سے لے کر آخر تک بتا دیں کچھ رد و بدل کر کے میں نے یہ نہ بتایا کہ وہاں آنٹی کا گینگ ریپ بھی ہوا تھا اور ریحان کی گانڈ بھی ماری گئی تھی۔۔۔

ان میں سے میں صرف ارشد اور ناصر کو جانتا تھا لیکن وہاں ان کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔

چائے پی جا چکی تھی لیکن پولیس والا تھا وہ میرے چہرے کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اس نے پھر مجھ سے پوچھا۔۔۔

اگر تمہاری بات سچ مان لی جائے تو پھر ایک اور بات بھی سامنے آتی ہے جس کا اس سے میرے خیال میں گہرا تعلق ہے۔۔۔

میں نے پوچھا کونسی بات۔۔۔

اس نے کہا اس واقعہ کے دوسرے روز کالج میں تمہاری لڑائی اپنے ہی گروپ کے لڑکوں سے ہوئی تھی اس کی کیا وجہ تھی کہیں تم کوئی بات چھپا تو نہیں رہے۔۔۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا سر آپ اس کالج کے بارے میں جانتے ہی ہوں گے یہاں ایسی لڑائیاں ہوتی تھیں کہ کسی کو سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیوں ہو رہی ہیں بس ہر روز کسی نہ کسی کا سر پھٹا ہوتا تھا۔۔۔

لیکن پچھلے کچھ عرصے سے ایسا نہیں ہو رہا اس کی وجہ بھی آپ جانتے ہوں گے۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا بالکل جانتا ہوں لیکن میری بات کا جواب یہ نہیں ہے ۔۔۔

میں نے کہا سر میں اسی طرف آرہا ہوں آپ کو اس سے پہلے ہونے والی لڑائیوں کا بھی علم ہو گا ۔۔۔

یہاں لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں جن کو آئے روز لڑکے تنگ کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ ان کی کلاسز میں جا کر بھی تنگ کرتے تھے۔۔۔

اس سب کو روکنے کے لیے کالج انتظامیہ نے کچھ لڑکوں کے گروپس بنائے تھے کیونکہ اب کالج کا صدر تو یہاں ہے نہیں تو اس لیے یہ سب ذمہ داری مختلف لڑکوں کی لگائی گئی۔۔۔

جن کے ساتھ ہماری اس دن چھڑپ ہوئی لڑائی تو نہیں کہہ سکتے ہاں یہ ضرور ہوا کہ کافی منہ ماری ہوئی تھی ۔۔۔

اس کی وجہ بھی کچھ ایسی ہی تھی وہ آوارہ لڑکے ہیں لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں جب ہم نے ان کو سمجھایا تو الٹا غلط بولنے لگے نتیجہ آپ جانتے ہی ہیں۔۔۔

اس نے یہ ہنستے ہوئے کہا یار اتنی سی عمر میں اتنا دماغ کہاں سے لائے ہو مجھے نہیں لگتا یہ سب کچھ اس طرح سے ہے ۔۔۔

کیونکہ اب تک جس سے بھی بات ہوئی ہے اس نے یہ ہی بیان دیا ہے تو اس لیے ہم کچھ کر نہیں سکتے ۔۔۔

میں ایک بات بتا دوں بیٹا جو کچھ اس شام کو ہوا تھا وہ بہت برا ہوا کیونکہ ہمارے پاس باقاعدہ کوئی رپورٹ درج نہیں ہوئی اس لیے ہم سخت ایکشن نہیں لے رہے۔۔۔

یہ بات صرف تمہیں بات رہا ہوں اس کے پیچھے بھی بہت بڑی وجہ ہے کیونکہ تمہارے بارے میں ہمیں کچھ ہدایات ملی ہیں۔۔۔

ٹھیک ہے میں چلتا ہوں دعا کرو کہ بات ایسے ہی رہے اگر باقاعدہ رپورٹ درج ہو گئی تو مجھے ایکشن لینا پڑے گا اور سب سے پہلے تمہارے پاس ہی آوں گا۔۔۔

ایک نصیحت کرتا ہوں وہ بھی اپنے تجربے کی بنا پر جو کچھ کر رہے ہو اس سے بچ جاؤ ۔۔۔

وہ لوگ اتنے اچھے نہیں ہے بلکہ بلکل بھی اچھے نہیں ہیں بہت خطرناک ہیں ان سے نہ تو دوستی اچھی ہوتی ہے اور نہ ہی دشمنی۔۔۔

دوستی ڈاکٹر کی تھی نتیجہ تمہارے سامنے ہے دشمنی خود کر رہے ہو اس لیے پہلے ان کے بارے میں سب کچھ جان لو۔۔۔

میں نے کوئی جواب نہ دیا وہ چلا گیا میں بھی اس کے ساتھ باہر نکلا کچھ دیر میں پولیس کالج سے چلی گئی ۔۔۔

پرویز صاحب اور شاہ زیب میرے پاس آئے میں نے ان کو ساری بات بتائی وہ دونوں حیران ہوئے ۔۔۔

شاہ زیب نے کہا اندر تو مانی اور عابد والے کیس کی بات ہو رہی تھی لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے ۔۔۔

میں نے کہا اب اندر کیا بات چیت ہوئی وہ تو میں نہیں جانتا لیکن میرے ساتھ جو بات چیت ہوئی وہ یہ ہی تھی۔۔۔

پرویز صاحب نے کہا میں سمجھ گیا تھا کہ معاملہ کچھ اور ہے کیونکہ ان کا کیس تو اب عدالت میں چل رہا ہے اور عابد کو سزا ہو جائے گی یہ بات پکی ہے کیونکہ اس نے جرم قبول کر لیا ہے۔۔۔

اس لیے پولیس کا اس سلسلے میں یہاں آنا سمجھ سے بالا تر تھا اب ساری بات سمجھ میں آگئی۔۔۔

پرویز صاحب چلے گئے تو شاہ زیب نے کہا میں یہ جانتا تھا کہ آج پولیس آئے گی کیونکہ ڈاکٹر والی بات اندر ہی اندر کافی پھیل چکی ہے ۔۔۔

ڈاکٹر کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بندے پہچانے اسی لیے وہ آج تمہیں کالج لے آئی تھی لیکن وہ لوگ یہاں نہیں تھے ۔۔۔

میں نے شاہ زیب سے پوچھا بھائی یہ بات بھی میرے لیے حیران کن ہے کہ ناصر لوگ آج کیوں نہیں آئے۔۔۔

شاہ زیب نے کہا وہ ہمارے بہت کام کے بندے ہیں ایسے لوگوں کو گنوایا نہیں جاتا ان کی حفاظت کی جاتی ہے ان کو پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کس نے دی یہ تو میں نہیں جانتا لیکن مجھے یہ بات پتہ چلی تھی کہ وہ جب کالج آرہے تھے تو کسی کے کہنے پر واپس چلے گئے تھے۔۔۔

اب ایک بات تو طے ہے کہ ڈاکٹر بھی تمہیں اس معاملے سے دور رکھنا چاہتی ہے اسی لیے تمہیں سارا شہر گھمایا تاکہ اس کے حلقے کے سارے لوگ تمہیں پہچان لیں۔۔۔

میں نے کہا بات الٹ بھی ہو سکتی ہے ہو سکتا ہے اس لیے گھمایا ہو کہ وہ لوگ مجھے اچھے سے پہچان لیں تاکہ میری نگرانی کر سکیں ان کو شک ہو کہ میرا بھی اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔۔۔

شاہ زیب نے کہا ہو سکتا ہے اسی وقت شاہ زیب کو فون آیا اس نے کہا کالج سے نکلنے کے دو گھنٹے بعد ہم ٹیوب ویل پر ملتے ہیں۔۔۔

شاہ زیب نے فون بند کرنے کے بعد مجھے بھی کہا کالج کے بعد میں فون کروں گا جہاں کہوں وہاں آجانا۔۔۔

میں نے اوکے کیا وہ چلا گیا میں باہر نکل ہی رہا تھا ودحت اندر داخل ہوئی اس کے ساتھ ایک لڑکی اور بھی تھی۔۔۔

ودحت نے بتایا کہ اس کو روز ایک لڑکا کالج آتے ہوئے تنگ کرتا ہے رستے میں کھڑا ہوتا ہے غلط غلط باتیں بولتا ہے۔۔۔

میں نے اس کے آنے کا رستہ اور جس جگہ وہ لڑکا کھڑا ہوتا ہے وہ جگہ پوچھ کر اس کو بھیج دیا۔۔۔

باہر نکل کر میں شاہ اور شاہد کو ملا اورشاہد کو ودحت کے ساتھ آنے والی لڑکی کے ساتھ جو معاملہ تھا وہ بتایا اس نے کہا ہو جائے گا میں کسی کی ڈیوٹی لگا دیتا ہوں۔۔۔

کالج میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ پولیس مجھ سے ملنے آئی تھی طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں ۔۔۔

اب الیکشن بھی قریب آ رہے تھے ابھی تک کسی نے کالج کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے کاغذات جمع نہیں کروائے تھے۔۔۔

عاذب سے مل کر ہم نے اس کے بارے میں بات چیت کی فیصلہ ہوا کہ آج چھٹی سے پہلے ایک میٹنگ کرتے ہیں جس میں گروپ کے لڑکوں کو بلاتے ہیں ۔۔۔

گروپ کے لڑکوں کو بلایا گیا اور باقاعدہ تنظیم کے لیے صدر چنا گیا جس کا سب سے بہترین حقدار عاذب ہی تھا ۔۔۔

متفقہ فیصلے سے عاذب کو تنظیم کا صدر شاہد کو سیکرٹری اسی طرح سب کو کچھ نہ کچھ بنا دیا گیا۔۔۔

شاہ زیب کی ہدایت کے مطابق مجھے کوئی عہدہ نہ دیا گیا میں بھی یہ ہی چاہتا تھا ۔۔۔

اگلے دن باقاعدہ کالج میں اعلان کیا جانا تھا ہماری کلاس میں سے صرف شاہد کا ہی نام تھا باقی ہر کلاس میں سے ایک ایک لڑکا شامل تھا۔۔۔

آج شاہ بڑا سیریس تھا وہ مجھ سے ہنسی مذاق نہیں کر رہا تھا میں نے اس پر کوئی غور نہ کیا۔۔۔

ہم باہر نکلے تو پنگا مل گیا اس کی باتیں سن کر ہماری سارے دن کی پریشانی دور ہو گئی وہ بس بولنا جانتا تھا جو بھی منہ آتا بولتا جاتا۔۔۔

کالج سے گھر آیا نہا کر کھانا کھایا اور لیٹ گیا مجھے شاہد کی کال آئی کہ تمہارے ٹاون کے پاس جو بڑی نہر ہے اس کے پل پر آجا۔۔۔

میں نے کتابیں اٹھائیں اور گھر سے نکل گیا کتابیں تو بہانہ تھا اس کے بغیر گھر سے نکلتا تو طرح طرح کے سوالات ہوتے اس لیے کتابوں کا سہارا لیا۔۔۔

پل سے پہلے ہی مجھے شاہد مل گیا وہ بائیک پر تھا اس نے مجھے پیچھے بٹھایا اور نہرے کے کنارے کنارے کچے رستے پر چل پڑا۔۔۔

ہم باتیں کرتے ہوئے کافی دور نکل گئے اس نے کنارے سے بائیک نیچے اتار لی یہ سارا رستہ میرا دیکھا بھالا تھا میں اس رستے کر اکثر آتا رہتا تھا۔۔۔

اس نے ایک ٹیوب ویل پر بائیک روکی یہ وہ ہی ٹیوب ویل تھا جہاں اس دن صبح کے وقت میں نے ایک آدمی اور جوان لڑکی کو دیکھا تھا اور میں ننگا نہا رہا تھا۔۔۔

ٹیوب ویل کے ساتھ ایک احاطہ بنا ہوا تھا شاہد بائیک کو اس کے اندر لے گیا۔۔۔

اندر داخل ہوا تو وہاں تو کالج کے کافی لڑکے جمع تھے جن میں شاہ زیب ناصر بلی ارشد وغیرہ تھے۔۔۔

ناصر بلی اٹھ کر مجھے گلے ملا ارشد نے بھی جپھی ڈالی پھر وہاں ہماری محفل کافی دیر تک چلتی رہی۔۔۔

ناصر نے بتایا کہ یہ اس کا ٹیوب ویل ہے اب جب بھی ہماری میٹنگ ہوا کرے گی چاہے وہ رات کو ہو یا دن میں اس جگہ ہی ہوا کرے گی۔۔۔

ناصر نے بہت سی کام کی باتیں بتائیں اس نے بتایا کہ ڈاکٹر کا بیٹا ریحان اس معاملے میں سر اٹھا رہا ہے اس کو ویڈیوز سینڈ کر رہا ہوں آج پھر وہ بھی سکون سے بیٹھ جائے گا۔۔۔

میں نے ناصر کو کہا یار ایک بات دھیان میں رکھنا یہ ویڈیوز کسی اور کو نہ سینڈ کر دینا جیسی بھی ہے وہ ایک ماں ہے۔۔۔

میری بات اگر مانو تو مجھے کچھ وقت دو ریحان خود ہی رک جائے گا میں اس کو اپنے طریقے سے ہینڈل کرتا ہوں۔۔۔

ویڈیوز کو دفعہ کرو کسی بیٹے کے لیے یہ بات برداشت کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ اس کی ماں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو اور وہ لڑکے اس کے سامنے بھی ہوں۔۔۔

ابھی ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے تم لوگ جانتے نہیں ہو آج پولیس نے مجھ سے کیا سوالات کیے ہیں ۔۔۔

وہ مجھ سے تم لوگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے تھے ان کو یہ نہیں معلوم کہ تم لوگ کون ہو نہ ہی ریحان نے کالج میں دیکھا ہے۔۔۔

ڈاکٹر کو بھی نہیں پتہ لیکن کالج میں کافی لڑکے ہیں جو ان کے لیےکام کرتے ہیں ان میں سے کسی نے ہماری لڑائی کا بتایا تو پولیس آئی پوچھ گچھ کرنے ۔۔۔

اب اگر ان کو ویڈیوز مل گئیں تو سمجھو تم سب مل گئے باقی سب کچھ جانتے ہو۔۔۔

وہ میری بات سمجھ گئے شاہ زیب نے بھی اس کو ایسا کرنے سے منع کر دیا ۔۔۔

شام تک وہاں ہی بیٹھے رہے باربی کیو چلتے رہے وہاں سے شام کو شاہد مجھے ٹاؤن کے باہر چھوڑ گیا ۔۔۔۔

مجھے ڈاکٹر آنٹی کا فون آیا اس نے روتے ہوئے کہا بلو مجھے معاف کر دو بلو مجھے معاف کر دو ۔۔۔

میں سمجھ گیا وہ اب ٹن ہو چکی ہے میں نے فون کاٹا اور ریحان کا نمبر ملایا اس نے فون اٹھایا تو میں نے پوچھا کہاں ہو ۔۔۔

اس نے بتایا وہ اس وقت لاہور ہے کل شام کو آئے گا میں نے اس کو کہا جب بھی آو مجھ سے ملنا بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔

اس نے کہا فون پر ہی کر لو جو بھی بات کرنی ہے ۔۔۔

میں نے کہا بات ایسی ہے کہ فون پر نہیں کر سکتا اس لیے جب تم آؤ تو ہی بات ہو گی۔۔۔

میں سیدھا عمائمہ آنٹی کے گھر چلا گیا دروازہ کھلا ملا میں اندر داخل ہوا دروازہ بند کیا کنڈی لگائی۔۔۔

اندر بڑھا تو وہی ہی لڑکی مجھے ڈاکٹر آنٹی کے کمرے سے نکلتی نظر آئی اس نے رک کر مجھے دیکھا اور اشارے سے اوپر کی طرف بلایا ۔۔۔

وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی پیچھے مڑ کر مجھے دیکھتی گئی ۔۔۔

میں بھی اس کے پیچھے اوپر چلا گیا وہ ایک کمرے میں چلی گئی۔۔۔

میں بھی اندر داخل ہوا اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور مجھے بیٹھنے کا کہا۔۔۔

میں نے کہا نہیں میں ایسے ہی ٹھیک ہو تم بات کرو جو کرنی ہے۔۔۔

اس نے پھیکی مسکراہٹ سے کہا میں کیا بات کروں میری تو سمجھ میں ہی کچھ نہیں آ رہا۔۔۔

میں تو یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ یہاں یہ سب چل کیا رہا ہے پہلے مجھے لڑکیوں سے دوستی کرنے کہا جاتا تھا۔۔۔

سکول جاتی تھی تو وہاں کی کئی خوبصورت اور امیر گھرانوں کی لڑکیوں سے دوستی کروائی گئی۔۔۔

پھر کالج میں بھی ایسا کرنے کا کہا گیا میں ان کو گھر بھی لایا کرتی تھی ایک دو بار کے بعد وہ میرے ساتھ بات چیت چھوڑ دیتی تھیں۔۔۔

مجھے جب ساری بات کا پتہ چلا تو میں نے کسی سے بھی دوستی کرنے سے انکار کر دیا تو مجھے ریحان نے مارنا شروع کر دیا۔۔۔

پھر میرے ساتھ وہ ہوا جس کی میں اپنی خالا کے بیٹے سے توقع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔

اتنا بول کر وہ ہچکیاں لے کر رونے لگی مجھے کسی کو چپ کروانے کا کوئی خاص تجربہ نہ تھا اس لیے وہ روتی رہی پھر خود ہی چپ ہو گئی۔۔۔

اس نے پھر سے بولنا شروع کیا اور کہا پھر تمہیں پھنسانے کے لیے جال پھینکا گیا اور مجھے خالا نے خود ویڈیو بنانے کا کہا تھا۔۔۔

لیکن میں تمہیں دیکھ کر سمجھ گئی تھی خالا تمہیں کچھ نہیں کہہ سکے گی اس کے دل میں تمہارے لیے بڑی اہمیت پیدا ہو گئی ہے۔۔۔

وہ جو خود تمہیں شکار بنانا چاہ رہی تھی خود تمہارا شکار ہو گئی میں بچپن سے یہاں ہوں اس نے کبھی کسی کو گھر نہیں بلایا ۔۔۔

ریحان چھچھورپن کرتا رہتا تھا اس کے کئی دوست تھے جس سے وہ چھی چھی مجھے کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔۔۔

لیکن خالا نے کبھی کسی کے ساتھ ایسا کوئی تعلق نہیں رکھا حالانکہ خالو یہاں آتے نہیں ہیں۔۔۔

خالا کے ساتھ اس دن جو کچھ بھی ہوا اس نے اس کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہے اب خالا کو ساری ساری رات میں نے روتے دیکھا ہے۔۔۔۔

خالا نے خالو کو بھی صاف صاف کہہ دیا ہے وہ اب سے ایسا کوئی کام نہیں کریں گی۔۔۔

ریحان کو خالو نے اسی لیے بلایا ہے خالا بتا رہی تھی کہ ریحان لاہور صرف اسی لیے گیا ہے تاکہ وہ خالو سے ان لوگوں کو ملوائے جن سے وہ خود ڈیل کریں گے۔۔۔

خالا اب درمیان سے ہٹ گئی ہیں اور ریحان کو بھی یہاں رہنے سے منع کر دیا ہے۔۔۔

میں نے اس کی ساری باتیں سنیں اور پوچھا ڈاکٹر صاحبہ اب کہاں ہیں۔۔۔

اس نے بتایا کہ وہ اس وقت بہت نشے میں ہیں ان کو سکون کی ضرورت ہے کچھ دیر پہلے آپ کا نمبر ملانے کا کہا تھا عجیب انداز میں باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔

میں کچھ اور باتیں بھی معلوم کیں اس کو کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اب ریحان تمہیں بھی کچھ نہیں کہے گا اس کا علاج میں کر لوں گا۔۔۔

میں نے جو کچھ بھی کیا وہ ان سب لڑکیوں کے لیے ہے جو ان کا شکار ہو چکی ہیں ۔۔۔

اس رات جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہئیے تھا۔۔۔

اس سے کچھ دیر اور بات کرنے کے بعد میں نے اس سے اجازت مانگی تو اس نے کہا اوہ سوری آپ کو میں نے چائے کافی کا نہیں پوچھا۔۔۔

بس ایک منٹ رکیں میں ابھی آپ کے لیے کچھ لاتی ہوں وہ یہ کہہ کر میری بات سنے بغیر باہر نکل گئی۔۔۔

میں کمرے کا جائزہ لینے لگا کمرا بڑا صاف ستھرا اور اچھے سے رکھا گیا تھا۔۔۔

دو منٹ میں ہی وہ واپس آ گئی اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے کے اندر بھاپ اڑاتی چائے اور کچھ بسکٹ تھے ۔۔۔

میں نے حیرت سے پوچھا اتنی جلدی چائے کیسے تیار ہو گئی۔۔۔

اس نے بتایا کہ چائے تیار تھی بس گرم کی ہے۔۔۔

میں نے چائے پی وہ میری طرف دیکھتی رہی اس نے کہا ایک بات پوچھوں ۔۔۔

میں نے کہا ہاں پوچھو۔۔۔

اس نے کہا تم خوبصورت ہو سمجھدار بھی لگتے ہو تو یہ خالا کے چکر میں کیسے پھنس گئے۔۔۔

میں اب اس کو کیسے سمجھاتا کہ میرا لن مجھے کہیں بھی پھنسا دیتا ہے۔۔۔

میں بس مسکرا کر رہ گیا اور کچھ کہہ نہ سکا وہ جتنی معصوم چہرے سے لگ رہی تھی اتنی تھی نہیں۔۔۔

اس نے بھی مسکرا کر کہا خالا نے خود آفر کی اور تم نے قبول کر لی ایسا ہی ہے ناں۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔

وہ بولی کچھ نہ بس غور سے میرے چہرے کو دیکھتی رہی ۔۔۔

میں اس کے ساتھ چلتا ہوا نیچے آیا آنٹی کے کمرے میں جھانکا وہ بے سدھ ہو کر سو رہی تھی۔۔۔

میں وہاں سے نکلا اور گھر آگیا بھا ہاشم آج گھر تھے انہوں نے مجھے کچھ ہدایات دیں اور کہا کہ جو بھی ہو جائے گھر تک کوئی بات نہ پہنچے۔۔۔

میں نے ان کی سب باتوں کو مان کر ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

اس کے بعد سو گیا رات کو پتہ نہیں کونسا پہر تھا کہ میرا فون بج اٹھا ۔۔۔

فون دیکھا تو اس پر نیا نمبر تھا میں نے نیند بوجھل آواز فون اٹھا کر ہیلو کیا۔۔۔

دوسری طرف سے بھی ویسے ہی دھیمی آواز میں جواب میں ہیلو کہا گیا۔۔۔

نسوانی آواز سن کر میری نیند چھپاک سے اڑ گئی۔۔۔

میں پھر ہیلو کیا تو دوسری طرف سے کہا گیا سو رہے ہو ۔۔۔

اگر بولنے والا کوئی لڑکا ہوتا تو میرا جواب کچھ اور ہوتا لیکن نسوانی آواز سن کر میں نے کہا نہیں جاگ رہا تھا۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا اچھا جی لگتا ہے میری طرح آپ کو بھی نیند نہیں آ رہی۔۔۔

میں آواز پہچان گیا تھا وہ ہنی تھی اس وقت وہ فون کر رہی تھی تو اس کا مطلب ہے وہ مجھے یاد کر رہی تھی۔۔۔

میں کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ اس نے فون بند کر دیا میں نے فون رکھا تو بھا ہاشم جاگ رہے تھے۔۔۔

مجھے بڑے غور سے دیکھتے ہوئے بولے یار تو کیا کرتا پھر رہا ہے دن میں تمہارے پنگے ختم نہیں ہوتے اب رات میں کس سے لو لگا لی ہے ۔۔۔

میں نے آنکھیں بند کرلیں انہوں نے کہا فون بند کر کے سویا کرو کسی دن ابا جی کو پتہ چل گیا تو ساری عاشقی نکال دیں گے۔۔۔

میں نے فون سائلینٹ موڈ پر لگایا اور سو گیا صبح حسب معمول واک کے لیے گیا لیکن آج اندر سے خوش تھا۔۔۔

جاتے ہوئے بھی مجھے ہنی کھڑکی میں کھڑی نظر آئی اس کے چہرے پر مسکراہٹ سے دل باغ باغ ہو گیا۔۔۔

میں نے نہر کے کنارے جوگنگ کی اور واپس آگیا واپسی پر آج مجھے وہ آنٹی پھر نظر آئی میں نے اس کو دیکھ کر دور سے ہی رستہ بدل لیا۔۔۔

اس آنٹی کی وجہ سے مجھے واپسی پر ہنی کے گھر سے دوسری گلی سے گزرنا پڑا جو بسمہ آنٹی والی تھی۔۔۔

میں جیسے ہی بسمہ آنٹی کے گھر کے سامنے آیا تو ان کے شوہر اور وہ دونوں باہر نکل آئے۔۔۔

بسمہ آنٹی مجھے کر کہا ارے تم آج کیسے رستہ بھٹک گئے ہماری گلی میں کیسے آگئے۔۔۔

میں نے ان کے شوہر کی طرف دیکھا وہ بھی میری طرف حیران ہو کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔

بسمہ آنٹی نے اپنے شوہر کو بتایا کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کا میں نے آپ کو بتایا تھا بڑا اچھا لڑکا ہے۔۔۔

اس کے شوہر نے مسکرا کر مجھ سے ہاتھ ملایا اور بولے بیٹا مجھے جلدی ہے نہیں تو ضرور ہم بات چیت کرتے ۔۔۔

انہوں نے آنٹی کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا اس کو ناشتہ کروا کر بھیجنا۔۔۔

بسمہ آنٹی نے مسکرا کر کہا میں اس کو آج ایسے نہیں جانے دوں گی اس کی خوب تواضع کروں گی۔۔۔

انکل چلے گئے تو آنٹی نے کہا اندر آجاؤ بڑے دن ہو گئے ہیں ۔۔۔

میں نے ان سے بڑی مشکل سے جان چھڑوائی اور گھر آگیا۔۔۔

ناشتہ کیا تیار ہو کر کالج کے لیے نکلنے لگا تو ابا جی نے کہا آج کدھر جا رہے ہو۔۔۔

میں نے کہا کالج امی اور باجی کے ساتھ ساتھ بھا ہاشم بھی ہنسنے لگے ۔۔۔

میں نے حیرانی سے ان سب کی طرف دیکھا تو امی نے ہنستے ہوئے کہا پتر اج چھٹی اے۔۔۔​

 

Source link

Leave a Comment