تائی امی کے اٹھانے کے بعد میں ضروری حاجات سے فارغ ہوا اور ناشتہ کیا۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد میں انتظار کرنے لگا کہ کسی کو کہوں مجھے سکول چھوڑ آئے ۔۔۔
ججی نظر آیا تو اس کو کہا مجھے سکول تک چھوڑ آ یار ۔۔۔
وہ سکول لے آیا میں نے سائیکل چلایا وہ میرے پیچھے بیٹھ گیا اور میں سکول پہنچ گیا وہ مجھے چھوڑ کر واپس چلا گیا۔۔۔
میں دل میں نئی امنگیں لے کر سکول میں داخل ہوا دفتر گیا بھا موجود تھا بھا کو سلام کیا ۔۔۔
بھا نے کہا کل تمہاری بڑی تعریف کر رہی تھیں سب لڑکیاں ان کو بڑے اچھے سے سمجھ آ گئی تھی۔۔۔
اسی طرح سمجھاتے جاؤ جتنے دن تمہارے پاس ہیں ان دنوں میں ساری بک کے نمیریکلز کروا دو۔۔۔
میں نے جی ٹھیک ہے اور کتاب اٹھا کر آج کے لیکچر کی تیاری کرنے لگا ۔۔۔
تبھی میرے اندر نئے جذبات جگانے والی میرے دل کو بیقراری بخشنے والی حسن ناتمام افراسیاب دفتر میں داخل ہوئی۔۔۔
اس نے بھا کو سلام کیا اور پھر کہا سر اگر پہلا پیریڈ بھی سر لے لیں تو میری کافی مدد ہو جائے گی۔۔۔
ان کے پڑھانے کا انداز اچھا ہے مجھے ان سے سیکھنے کو ملے گا کل جس طرح انہوں نے پڑھایا تھا اس سے مجھے کافی کچھ نیا سیکھنے کو ملا اگر آپ اجازت دیں تو ریاضی کے پیریڈز میں بھی میری مدد کر سکتے ہیں۔۔۔
بھا نے کہا کیوں نہیں ہمیں تو اپنے فائدے کا سوچنا چاہئیے اگر اس سے کوئی فائدہ ملتا ہے تو لینا چاہئیے ۔۔۔
صائم تم ان کے ساتھ جاؤ نہم کلاس میں ریاضی کا پیریڈ ہے وہ بھی آپ لیں گے اور دہم کا بھی ریاضی کا پیریڈ آپ ہی لیں گے مس افرا آپ کے ساتھ کلاس میں رہیں گی۔۔۔
میری تو لاٹری نکل آئی تھی جس کو دیکھنے کے لیے میں تڑپ رہا تھا اس کے ساتھ پڑھانے کا موقع ملے اور وہ بھی چار پیریڈذ میں میرے سامنے رہے تو مجھے اور کیا چاہئیے تھا۔۔۔
یہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا کوئی خاص بات نہ ہو سکی بات ہو بھی کیسے سکتی تھی کلاس میں پڑھانے کے علاوہ تو کوئی بات کر نہیں سکتے تھے۔۔۔
اوپر سے بھا کا ڈر مجھے کھاتا رہتا تھا ان کا مزاج بہت سخت تھا جس سے میں ڈرتا تھا۔۔۔
لیکن ایک بات اچھی ہوئی کہ افرا نے مجھ سے کافی باتیں کیں ہماری درمیان جھجھک ختم ہونے لگی تھی۔۔۔
افرا نے مجھ سے پوچھا کہ اب آپ روز آیا کریں گے ۔۔۔
میں نے کہا نہیں بس کالج کی چھٹیاں چل رہی ہیں تو اس لیے بھا کو مجھے کہا فارغ رہنے سے بہتر ہے سکول چلو اور میں آگیا ۔۔۔
اب مجھے کیا پتہ تھا کہ یہاں ۔۔۔۔
میں اتنا بول کر اس کے چہرے کی طرف بڑے ذو معنی انداز سے دیکھنے لگا۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے پوچھا کیا ۔۔۔۔یہاں۔۔۔۔؟۔
میں نے نہ میں سر ہلا کر کہا کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔
چار پیریڈذ کے بعد میں فارغ ہو کر دفتر میں بیٹھ جاتا تھا۔۔۔
اسی طرح تین دن گزر گئے صبح بھا کے ساتھ سکول آتا اور چھٹی کے بعد ان کے ساتھ ہی واپس شہر چلا جاتا۔۔۔
نہ گراؤنڈ میں جا پاتا اور نہ ہی دوستو سے ملنے کا کوئی موقع مل رہا تھا۔۔۔
بھا مجھے ساتھ لے کر جاتے تھے شام کو گھر پہنچتے تھے سکول میں چھٹی کے بعد بھا ایسے ہی فائلز کھول کر بیٹھے رہتے مجھے کوفت ہونے لگتی۔۔۔
میں ان کو جانے کا کہتا تو وہ مجھے روک دیتے اور کہتے ہم ساتھ جائیں گے۔۔۔
میرے لیے یہ سب بڑا بورنگ تھا سارا دن فارغ بیٹھنا نہ کسی سے کوئی بات کر سکتا تھا اور نہ ہی سکول سے باہر جانے کی اجازت ملتی ۔۔۔
میں نے گاؤں جانے کی بات کی تو بھا نے سختی سے منع کر دیا مجھے اب محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ سب بھا کی پلاننگ ہی ہے وہ مجھے اپنی نظروں میں رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔
اب روز گھر آ رہے تھے جس کی وجہ سے شانزل سے ملنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔
غرض میں ہر لحاظ سے ہی پھنسا ہوا تھا تین دن ہو گئے تھے پھدی مارے اب تو لن کسی کو بھی دیکھ کر کھڑا ہونے لگا تھا ۔۔۔
افرا کو دیکھ دیکھ کر دل خوش ہوتا رہتا میں نے بھی سکول میں اپنا حساب لگانا شروع کر دیا۔۔۔
کلاسز کے راؤنڈ لگاتا رہتا کسی بھی کلاس کو چیک کرنے لگا جاتا کلاس میں کسی بچے کا ٹیسٹ لے لیتا۔۔۔
ایک دن اور گزر جیسے جیسے دن گزر رہے تھے مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرا کچھ مجھ سے چھننے والا ہے۔۔۔
اب تو بھا کو مجھے جگانا بھی نہیں پڑتا تھا میں خود ہی وقت پر تیار ہو جاتا تھا ۔۔۔
ایک دن بھا نے مجھے کہا آج میں نے دفتر میں جانا ہے کچھ داخلے وغیرہ کا مسئلہ ہے تم سکول جاؤ اگر میں جلدی فارغ ہو گیا تو سکول آ جاؤں گا۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے بھائی اور سکول آگیا دفتر کھول کر دفتر میں بیٹھ گیا باقی کلاس رومز کے دروازے بھی کھولے۔۔۔
آج مجھے پتہ چلا بھا کتنی جلدی سکول آتے ہیں سکول لگنے میں ابھی دیڑھ گھنٹہ باقی تھا ۔۔۔
میں بڑا بے چین تھا میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر آج بھی افرا سے بات نہ کر سکا تو پھر مجھے یہ موقع نہیں ملے گا۔۔۔
بچے آنا شروع ہو گئے میں بڑا بے چین تھا جس کو آنا چاہئیے تھا وہ نہیں آ رہی تھی جس کے لیے میں اتنا بے چین تھا وہ آنے میں دیر کر رہی تھی۔۔۔
سکول کی بیل ہو گئی لیکن وہ نہ آئی جس کا انتظار تھا میرا انتظار انتظار ہی رہا میں بجھے دل کے ساتھ کلاس میں گیا ۔۔۔
بچوں کو پڑھایا آج مجھے وہ سارے پیریڈذ پڑھانے پڑھ رہے تھے جو مس افرا پڑھاتی تھی۔۔۔
مجھے ایک اور مس نے جو اس کے ساتھ آتی تھی بتایا کہ اس کی امی کی طبیعیت خراب تھی اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے ہیں وہ کہہ رہی تھی کہ جب فری ہوئی وہ سکول آ جائے گی۔۔۔
میں اس کے سارے پیریڈ پڑھاتا رہا بار جب گیٹ پر دستک ہوتی یا کوئی کھولتا تو میں اس امید پر باہر دیکھنے لگ جاتا کہ افرا آ گئی ہے۔۔۔
اس کو نہ آنا تھا اور وہ نہ آئی اگلا دن اتوار کا تھا اور چھٹی تھی اس لحاظ سے میرا یہ سکول میں آخری دن تھا کیونکہ سوموار سے کالج شروع ہو رہے تھے۔۔۔
میں مایوس ہو گیا تھا ساری امیدیں دم توڑ گئی تھیں۔۔۔
چھٹی ہوئی سکول بند کیا چوکیدار کو ضروری ہدایات دیں اور بجھے دل کے ساتھ گھر آگیا۔۔۔
آج میں جلدی گھر آگیا تھا کیونکہ بھا جو اضافی وقت بیٹھتا تھا وہ تھا نہیں اس لیے چھٹی کے فوراً بعد میں گھر روانہ ہو گیا۔۔۔
آج گراؤنڈ میں کھیلنے بھی گیا لیکن بجھا بجھا رہا کوئی مزہ نہ آیا ۔۔۔
اب میرا موڈ ایک صورت ہی ٹھیک ہو سکتا تھا کہ میں کسی کی رج کے پھدی وجاتا سارا غم لن کے راستے پھدی میں بہا دیتا۔۔۔
جب کھیل کر فارغ ہوئے تو میں گھر کی بجائے نہر کے کنارے چلا گیا نہر میں پانی آ چکا تھا ۔۔۔
میں اس کے کنارے کنارے چلتا ہوا ایک طرف گیا جہاں ایک درخت کی بڑی سی شاخ رکھ کر گزرنے کا رستہ بنایا ہوا تھا اس پر سے میں نہر کراس کی ۔۔۔
میرا رخ اس آنٹی کے گھر کی طرف تھا جس سے مجھے پتہ تھا پھدی مل جائے گی۔۔۔
میں سوچوں میں کھویا اس کے گھر کے دروازے پر جا پہنچا اور دستک دی تو فوراً دروازہ کھل گیا۔۔۔
سامنے آنٹی بغیر دوپٹے کے کھڑی تھی اس کے ممے کپڑوں میں سے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔
مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکان پھیل گئی اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اندر کھینچ لیا۔۔۔
دروازہ بند کیا مجھے گلے لگا لیا اور خوش ہوتے ہوئے بولی میں اس دن سے بڑی پریشان تھی پتہ نہیں کہا چلے گئے ہو واپس ہی نہیں آئے۔۔۔
میں نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے اور چوسنے لگا ۔۔۔
میرا لن بھی انگڑائیاں لینے لگا وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی۔۔۔۔
میرے ہاتھ اس کی کمر پر پھرتے ہوئے گانڈ کی پھاڑیوں کو دبانے لگے۔۔۔
وہ پاؤں کے انگوٹھوں پر ہو کر میرے گلے میں باہیں ڈالے ہونٹ چوس رہی تھی۔۔۔
میرا لن سر اٹھاتے ہوئے سخت ہو گیا اس کی ٹانگوں میں گھس گیا لن نے پھدی پر کپڑوں کے اوپر سے دستک دینا شروع کر دی۔۔۔
اس نے ہونٹ چھوڑے اور نیچے بیٹھ کر میرا ناڑا کھول لیا اور لن نکال کر ہاتھ میں پکڑ کر سہلانے لگی۔۔۔
اپنے ہونٹ لن پر رکھے اور چومنے لگی۔۔۔
میں لن کو اس کی طرف دبانے لگا۔۔۔
وہ لن کو مٹھی میں پکڑ کر ٹوپی کو چومتے ہوئے زبان نکال کر چاٹنے لگی۔۔۔
میرے اندر سرور کی لہریں دوڑنے لگیں۔۔۔
میں نے مزے میں ڈوبے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر لن کو اس کے منہ میں گھسانے کی کوشش کی ۔۔۔
لیکن نے اس نے منہ ایک طرف کر لیا اور لن کو جڑ سے چومتے ہوئے ٹوپی تک آئی۔۔۔
پھر مسلسل وہ ایسے ہی کرنے لگی ہم بے فکر ہو کر صحن میں ہی لگے تھے کھلی جگہ پر شام کے وقت اپنی عمر سے دوگنی عمر کی عورت کے منہ میں لن گھسانے کی کوشش میں لگا تھا۔۔۔
اس کو میری بے بسی پر ترس آگیا اس نے اپنے ہونٹ کھولے اور لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔
ٹوپی سے سے زیادہ لن منہ میں نہ لیا میں زور لگا کر اندر کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس نے لن کو مٹھی سے نہ چھوڑا ۔۔۔
لن پھٹنے والا ہو گیا تھا مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
میں نے اس کو اٹھایا اور قریب پڑی چارپائی پر لے گیا ۔۔۔
چارپائی پر لٹایا اور شلوار اتار دی میری شلوار میرے پاؤں میں تھی وہ میں نے نکال دی۔۔۔
پھر لن کو پکڑ کر اس کے اوپر آیا اس کی ٹانگیں اٹھا کر کھولیں ۔۔۔
جتنی کھل سکتی تھیں اتنی کھول لیں اور لن کو ہاتھ سے پکڑ کر پھدی پر رکھا۔۔۔
اس کے بعد ایک دم زور سے جھٹکا دیا لن اس کی پھدی میں گھستا چلا گیا ۔۔۔
اس کے منہ اسے ایک لمبی آہہہہ نکلی اس نے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔
میں نے لن کو باہر کھینچا اور پھر اسی سپیڈ سے گھسایا اس بار لن اپنی تمام لمبائی موٹائی سمیت اس کی پھدی میں اتر گیا۔۔۔
اس کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی اس نے مجھے اوپر کھینچ لیا اور میری گردن پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔
میں نے لن کو جھٹکوں کے ساتھ گھسانا شروع کر دیا۔۔۔
میرے ہر جھٹکے پر اس کے منہ سے آہ ہائے افففف امممم کی آوازیں نکل رہی تھیں۔۔۔
میں پوری سپیڈ سے پھدی وجا رہا تھا میں جب سے اندر آیا تھا ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تھا۔۔۔
اس نے کہا پھاڑ دے میری پھدی آج میری جان تیرے لن میں پتہ نہیں کہا جادو ہے دل کرتا یے تجھ سے کتیا بن کر پھدی مرواتی رہوں۔۔۔
میں نے گھسے مارتے ہوئے کہا کے رنڈی سالی تیری پھدی میں لوڑا گھسا دیا ۔۔۔
تو میری رنڈی ہے رنڈی تجھے کتیا بنا کر چودتا رہوں گا ۔۔۔
اس نے جوش دلاتے ہوئے کہا ہاں میں تیری رنڈی ہوں تیرے بچے کی ماں بننے والی ہوں آہ آہ ۔۔۔
افففف کتںا اچھا لگ رہا ایک چھوٹے سے بچے کے بیٹے کی ماں بنوں گی میں ۔۔۔
چود اپنے ناجائز بچے کی ماں کو میری بچہ دانی میں اپنے لن کی منی ڈال کر بھر دے۔۔۔
اس کی باتیں سن کر میرا جوش بڑھتا جا رہا تھا میں اچھل اچھل کر چودنے لگا۔۔۔
اپنے ہاتھوں سے اس کے مموں کو کپڑوں کے اوپر سے کی بھوکوں کی طرح بھنبھوڑنے لگا ۔۔۔
اس نے جوش سے پاگل ہوتے کہا اففف میرے پھدی کے راجہ میں تیرے لن کی غلام بن گئی ہوں ۔۔۔
مجھے اپنے لن کے پانی سے نہلا دے میری پھدی تیرے لن کو نہلانے لگی ہے۔۔۔
یہ دیکھ یہ دیکھ آہ آہ آہ میری پھدی گئی میری جان نکل رہی ہے۔۔۔
اففففف ہائےےےے بڑا مزہ آ رہا ہے اور ذور سے گھسا لن۔۔۔
میں جتنا زور لگا سکتا تھا لگا رہا تھا وہ بار بار اور تیز کرنے کا کہنے لگی اس کا جسم اکڑنے لگا۔۔۔
اس کے منہ سے بے ربط باتیں نکلنے لگیں کبھی کہتی میری چوت کو پھاڑ دے ۔۔۔
کبھی کہتی آج میری پھدی کو سرشار کر دیا تو نے ۔۔۔
میری پھدی تیرے لن کے سامنے ہار گئی میرے جسم کے مالک میرے بنڈ بھی مارا کرو اس کو بھی تیرا لن پسند آیا ہے ۔۔۔
آہہہہہہہ میں گئی یہہہ گئی میری پھدی تیرے لن کو اپنے پانی سے نہلا رہی ہے اففففف ۔۔۔
اس نے مجھے اپنی باہوں میں کس لیا اور پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔
میں اسی سپیڈ سے گھسے مارتا رہا میرا بھی فارغ ہونے کا وقت قریب آگیا تھا۔۔۔
وہ فارغ ہو کر نڈھال ہو گئی تھی اس نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔۔۔
میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو ملا کر پکڑ لیا اور پھدی میں گھپا گھپ لن گھسانے لگا ۔۔۔
اس کے فارغ ہونے کے بعد پھدی سے شڑڑڑپ شڑڑپ کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔۔
اب چارپائی چیں چیں کرنے لگی تھی میرے گھسے اتنے تیز تھے اس کے منہ چیخیں نکلنے لگ گئیں۔۔۔
وہ مجھے روکنے لگی لیکن میں اس وقت رک نہیں سکتا تھا۔۔۔
ایسے ہی گھسے مارتے مارتے میں اس کی پھدی میں اپنے لن سے آگ برسانے لگا۔۔۔
آخری جھٹکے اتنے ذور کے تھے کہ مجھے لگا جیسے میرا لن اندر کسی چیز میں گھس رہا ہے۔۔۔
جیسے ہی لن سے پہلی پچکاری نکلی میں اس کے اوپر گر گیا۔۔۔
اس نے مجھے باہوں میں بھر لیا میں اس کی پھدی میں فارغ ہوتا رہا۔۔۔
میں کافی دیر تک فارغ ہونے کے بعد اس کے اوپر لیٹا رہا۔۔۔
اس نے مجھے اپنی باہوں میں کسے رکھا میرا لن جب تک سکڑ کر اس کی پھدی سے نہ نکل گیا میں اس کے اوپر لیٹا رہا۔۔۔
جب میں پر سکون ہو گیا تو اس کے اوپر سے اتر کر ایک طرف لیٹ گیا اس نے میری طرف کروٹ لی اور ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔
بڑے تپے ہوئے تھے لگتا ہے اتنے دن کی پیاس آج بجھانے آئے ہو۔۔۔۔
میں مسکرانے لگا۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا میری مت مار دی ہے ابھی تک مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے تمہارا لوہے جیسا لن میری پھدی میں ہے۔۔۔
اففف کتنے دن ظالم ہو مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے آج میری جان ہی نکال دو گے۔۔۔
میں مسکراتا رہا اس نے اپنی شلوار پہنی اور کہا وہ آنے والے ہیں تم بیٹھو میں کھانا بناتی ہوں۔۔۔
میں نے اٹھتے ہوئے کہا کھانا نہیں کھاؤں گا میں چلتا ہوں پھر کسی دن کھانا کھانے آوں گا۔۔۔
میں نے شلوار پہنی اور اس کے منع کرتے کرتے میں باہر نکل آیا اور سیدھا گھر آگیا۔۔۔
آتے ہی نہایا نہا کر کھانا کھایا کل اتوار تھا مجھے اور کچھ سمجھ نہ آئی میں کیا کروں۔۔۔
میں نے ایک ناول ڈھونڈا اور اس کو پڑھنے لگ گیا ایسا پڑھنے لگا کہ ساری رات گزر گئی مجھے اس وقت پتہ چلا جب ابا جی کمرے میں آئے مجھے اٹھانے کے لیے۔۔۔
میں بغیر سوئے رات گزار چکا تھا واش روم گیا فریش ہوا اور باہر نکل گیا ایک لمبی دوڑ لگائی اور پسینہ بہا کر گھر واپس آیا۔۔۔
ناشتہ کیا ابا جی کہیں کام چلے گئے اور میں بیٹھک میں گھس کر سو گیا۔۔۔
تقریباً دو بجے تک سوتا رہا دو بجے اٹھا اور نہا کر تازہ دم ہو گیا۔۔۔
کھانا کھایا اور باہر نکل گیا ایسے ہی گھومتا رہا کچھ خاص نہ ہوا واپس آیا پھر سو گیا ۔۔۔
شام کے قریب سو کر اٹھا منہ ہاتھ دھو کر گراؤنڈ چلا گیا۔۔۔
ایسے ہی رات بھی گزر گئی اگلے دن کالج جانا تھا بھا کو میں نے بتا دیا تھا بھا اکیلے ہی سکول چلے گئے۔۔۔
میں وقت پر تیار ہوا اور کالج چلا گیا اب کالج کا سارا ماحول بدلا بدلا سا لگ رہا تھا۔۔۔
کالج میں شاہ مجھ سے کنی کترانے لگا تھا اس دن والی بات کے بعد میں خود ہی اس سے دور ہو گیا تھا۔۔۔
اب ہمارا سارا گروپ ہی بدل سا گیا تھا لیکن اس سب کے باوجود کالج کا ماحول بڑا اچھا تھا۔۔۔
سب لڑکے پڑھنے آتے تھے عاذب بڑے اچھے انداز سے کالج کے انتظامات کو سنبھال رہا تھا۔۔۔
شاہ زیب بھی غائب ہو چکا تھا نہ اس کا فون آیا اور نہ ہی وہ مجھ سے ملنے آیا۔۔۔
میں نے عاذب کو عابد باکسر کا بتایا کہ وہ مجھے گاؤں میں ملا تھا ۔۔۔
عاذب کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا ہم نے پتہ کروایا تو پتہ چلا کہ وہ کوئی جھگاڑ لگا کر کسی گینگ کے ساتھ مل گیا ہے۔۔۔
کاغذوں میں وہ جیل میں ہے لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔۔۔
میں شاہد کے ساتھ کینٹین پر بیٹھا تھا کہ کینٹین والا لڑکا ایک کاغذ لے کر میرے پاس آیا۔۔۔
اس نے مجھے پرچی تھمائی میں کھول کر پڑھی اور پھر پھاڑ کر پھینک دی۔۔۔
سارا دن ہی بوریت بھرا گزرا مجھے شاہ کی کوئی خبر نہیں مل رہی تھی اوپر سے ودحت نے کینٹین والے لڑکے کے ہاتھ خط بھیجا تھا کہ میں اس کو اس کے گھر جا کر ملوں ۔۔۔
میرا تو شاہ کے خاندان سے ویسے کی دل خراب ہو گیا تھا سالا شاہ گانڈو ہی نکلا اس نے ہی میری ریکی کی تھی۔۔۔
بہن چود نے شیدے کو میرے بارے میں بتایا تھا یہ اس وقت بتایا تھا جب دارے خاں نے میری سپاری ان لوگوں کو دی تھی اور یہ بات جب شاہ کو پتہ چلی تو اس نے ماں پیش کی تھی۔۔۔
ایسا حرام پن اس نے کیا تھا اگر اس کو یہ کنفرم ہوتا کہ میں کس جگہ ہوں تو میری موت پکی تھی ۔۔۔
اب میں بہت آگے کی سوچ رہا تھا کہ کسی طرح ان سب منشیات فروشوں کا دھندہ یہاں پر بند ہو جائے۔۔۔
کیسے بند ہو سکتا ہے اس کے لیے سوچ سوچ کر میرا دماغ ماؤف ہونے لگا تھا کالج میں پھر سے کچھ لوگ متحرک ہو گئے تھے کاشی ٹنڈے کی ملاقات اس کے علاوہ کچھ اور لوگوں کی دارے خاں سے ملاقات سب کچھ کسی نئی منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔۔۔
ڈاکٹر عمائمہ جو کہ یہاں سب کو سپلائی کرتی تھی اس کے جانے کے بعد سب کون دے رہا تھا اس کے لیے میں نے کچھ لڑکوں کو تیار کیا۔۔۔
یہ بات سب صرف میرے اور شاہد کے درمیان ہی تھی اور شاہد کو بھی ان لڑکوں کا علم نہیں تھا جن کے ذمہ میں نے یہ کام لگایا تھا۔۔۔
کینٹین سے نکل کر ہم نے ایسے ہی لائبریری کا ایک چکر لگایا کرنا کچھ تھا نہیں لیکچر لینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔
میری پلاننگ بڑی لمبی تھی اس سب کے لیے ایک عرصہ درکار تھا اسی لیے میں چپ چاپ رہنا چاہتا تھا اپنی پڑھائی پر توجہ دینا چاہ رہا تھا۔۔۔
جتنا میں پڑھنے کے بارے میں سوچتا اتنا ہی میرا دماغ دارے خاں اچھی اور شادے کی طرف جاتا۔۔۔
میں نے ہر چیز کو لن پر رکھ لیا جب بھی میرے دماغ میں کوئی ایسی بات آتی تو میں ایک گندی گالی نکال کر اس بات کو دماغ سے نکالنے کی کوشش کرتا جس میں کچھ حد تک کامیاب رہتا۔۔۔
لائبریری سے نکل رہے تھے کہ مجھے کسی نے آواز دی میں رک گیا شاہد نے ایک نظر گھوم کر دیکھا اور کہنے لگا میں ابھی آتا ہوں تم اس سے بات کرو مجھے بڑا تیز سو سو آیا ہے۔۔۔
میں نے گھوم کر دیکھا تو ایک بڑی بڑی مونچھوں والا کوئی نواب ٹائپ لڑکا کھڑا تھا مونچھیں اس پر جچ نہیں رہی تھیں۔۔۔
لمبا قد کاٹھ تھا ورزشی جسم آنکھیں میں سختی نظر آ رہی تھی وہ کسی لحاظ سے بھی کالج کا سٹوڈنٹ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔
وہ میرے پاس آیا اور میری طرف ہاتھ بڑھایا میں نے ہاتھ ملایا تو مجھے اپنی بات پر یقین ہو گیا کہ وہ کوئی عام انسان نہیں ہے۔۔۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو ایک دم کرنٹ لگا اس کی آنکھیں بڑی خوفناک لگ رہی تھیں جن میں سفاکی جھلک رہی تھی ۔۔۔
اس نے ہاتھ ہٹایا لیکن تب تک میرے ہاتھ میں وہ ایک کاغذ کا ٹکڑا تھما چکا تھا وہ مڑتے ہوئے بولا اس پر وقت اور پتہ درج ہے پابندی وقت کا خیال رکھنا۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ نکل گیا لیکن میں الجھ کر رہ گیا اب یہ کون ہے اتنا مشکوک بندہ کہاں سے آگیا ۔۔۔
میں وہیں سوچوں میں گم کھڑا تھا کاغذ کو جیب میں ڈال لیا تھا شاہد واپس آ گیا اس نے میرا کندھا ہلا کر کہا کیا ہوا کدھر گم ہو۔۔۔
میں نے نہ میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ چل پڑا اب اس معاملے پر کسی سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن کس سے کرتا۔۔۔
کالج کا وقت ختم ہوا اور میں نے گھر کی راہ لی اب میں یہ سوچ چکا تھا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہئیے میں جو بھی کروں اس علم میرے جاننے والوں میں سے کسی کو نہ ہو۔۔۔
خاص طور پر ان کو جن کے بارے میں سب جانتے ہیں ان کو تو بالکل بھنک تک نہ پڑے کہ میں کیس کر رہا ہوں۔۔۔
گھر آ کر دیوتا پڑھنا شروع کر دیا یہ ایک ایسا ناول تھا جو اچھے بھکے سیدھے سادھے انسان کے اندر ہیرو بننے کی خواہش پیدا کر دیتا تھا۔۔۔
فرہاد کے کارنامے پڑھ کر بے اختیار میرے دل میں بھی ٹیلی پیتھی سیکھنے کی خواہش جاگ اٹھتی تھی۔۔۔
سونیا کے کردار نے سب کو حیران کر رکھا تھا میرا بھی دل کرتا کہ کوئی ایسی لڑکی میری زندگی کا حصہ بنے۔۔۔
لیکن وہ صرف سوچا جا سکتا تھا ممکن نہیں تھا میں نے کوشش کرکے دیکھ لی تھی۔۔۔
پڑھنے میں ایسا غرق ہوا کہ عقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔۔۔
شام سے کچھ پہلے اٹھا اور گراؤنڈ چلا گیا اب میں نے ٹیوشن نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ پیپر نزدیک تھے اس لیے جو پڑھا تھا میرے خیال میں وہ کافی تھا۔۔۔
گراؤنڈ میں کیونکہ میچ ختم ہونے والا تھا اس لیے میں کھیلا تو نہ لیکن دوستوں سے مل کر واپس چل پڑا۔۔۔
میں نے جیب سے وہ پرچی نکالی اس پر صرف دو لائینیں لکھی تھیں جن میں صرف پتہ درج تھا اور آج سے دو دن بعد کی تاریخ اور اس کے ساتھ وقت درج تھا۔۔۔
میں نے پرچی جیب میں ڈالی اور گلیوں کا چکر لگانے لگا چلتا ہوا بسمہ آنٹی کے دروازے کے سامنے سے گزرا ۔۔۔
ان کے گھر میں کافی گہما گہمی تھی جس پر مجھے حیرت ہوئی کہ دو افراد کے گھر میں رونق لگی ہوئی ہے ۔۔۔
ایسے ہی گھومتا ہوا واپس گھر آیا کھانا کھایا اور کتابیں لے کر پڑھنے بیٹھ گیا۔۔۔
ابھی پڑھتے ہوئے بیس منٹ ہی ہوئے تھے کہ مجھے امی کی آواز آئی میں باہر آیا تو شانزل اپنی امی کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔
شانزل کی امی نے کہا وے بلو ایس پاگل نوں پڑھا دیا کر پتہ ایس چھوری دا کی ہو سی۔۔۔
میں نے شانزل کی طرف دیکھا تو وہ منہ لٹکائے بڑی معصوم بنی کھڑی تھی۔۔۔
میں نے کہا جی ٹھیک ہے۔۔۔
شانزل کی امی نے شانزل کو کہا ہن ٹھیک اے اے پڑھا دے سی تینوں جے ہن کوئی شکیت آئی تاں فیر ویکھیں میں کی کر دی تو تاں نک تے کیتا ہویا اے۔۔۔
وہ امی کو ساتھ لے کر چلی گئی کسی کی فوتگی ہوئی تھی ان کے گھر جا رہی تھیں۔۔۔
شانزل نے مجھے کہا مجھے ہمارے گھر پڑھانا ہے یہاں نہیں یہاں میں کھل کر پڑھ نہیں سکتی۔۔۔
میں نے کہا اچھا چلو میں آ کر پڑھا دیتا ہوں اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور اپنے گھر چلی گئی ۔۔۔
میں اندر گیا باجی کو بتایا اور شانزل کے گھر آگیا اس نے مجھے بیٹھک میں بٹھایا اور کہا بس ایک منٹ۔۔۔
جب وہ واپس آئی تو کتابیں تو اس کے ہاتھ میں تھیں لیکن اس کا انداز پڑھنے والا نہیں تھا۔۔۔
اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ اس وقت کسی اور موڈ میں ہے۔۔۔
میں نے پوچھا شمع کہاں ہے۔۔۔
اس نے بتایا وہ نانا کے گھر گئی ہوئی ہے اور اس وقت گھر میں وہ اکیلی ہے ۔۔۔
میرے پاس آئی میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کیا اور گلے لگ گئی۔۔۔
اس نے میرے کان میں کہا جتنا ٹائم ہے اس کا فائدہ اٹھاؤ اور جلدی جلدی کرو ۔۔۔
ساتھ ہی اس نے میرے ہونٹوں پر پونٹ رکھ کر کسنگ شروع کر دی۔۔۔
ایک منٹ میں ہی لن پھنکارنے لگا تھا اب میں بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔
میں نے اس کی قمیض اوپر کی ممے باہر نکال کر دبانے لگا۔۔۔
ایک ہاتھ اس کی شلوار میں داخل کر دیا اور پھدی کو دبانے لگا۔۔۔
وہ ٹانگیں آپس میں جوڑ کر میرا ہاتھ پھدی پر دبانے لگی۔۔۔
ساتھ ہی اس نے میرا ٹراوزر نیچے کر دیا اور لن باہر نکل لیا۔۔۔
اس کے بعد میں نے اس کو صوفے کر لٹا لیا اور شلوار پکڑ کر ایک ٹانگ سے نکال دی ۔۔۔
لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی پھدی پر رکھ دیا ۔۔۔
اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا چھیتی کر بلو امی نے آجانااے۔۔۔
میں نے لن پھدی میں پھنسایا اور دباؤ بڑھاتا گیا لن پھدی کے لبوں کو چیرتا ہوا اندر اترتا گیا۔۔۔
آدھا لن جب اندر چلا گیا تو میں نے لن باہر نکال کر ایک زور دار گھسا مارا لن جڑ تک اندر اتر گیا۔۔۔
اس کے چہرے پر درد نظر آنے لگا اس نے اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا لیے۔۔۔
میں نے ایک دو بار ایسا کیا اور پھر زور دار گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔
اتنی جلدی میں چدائی شروع کرنے کی وجہ سے ہم جلد ہی فارغ ہونے کے قریب پہنچ گئے ۔۔۔
جب فارغ ہونے لگا تو لن باہر نکال کر اس کی پھدی پر منی کی برسات کر دی۔۔۔
شانزل کے چہرے پر سکون تھا میں نے ادھر ادھر دیکھا ٹشو کا ڈبہ اٹھایا اس سے لن کو صاف کیا اور پھر ٹراوزر اوپر کر لیا۔۔۔
اس نے مجھے کہا اب جاؤ کل سے مجھے پڑھانے آ جانا یا میں خود آجایا کروں گی اگر رات کو آ سکو تو لازمی آنا ۔۔۔
اس نے ایک چابی مجھے دی اور کہا یہ بیٹھک کے لاک کی ہے میں یہاں ہی سو رہی ہوں گے تم آ جانا۔۔۔
میں سر ہلایا اور باہر نکل گیا اب اگر گھر جاتا تو شک ہو سکتا تھا کہ اتنی جلدی پڑھا بھی آیا۔۔۔
میں مارکیٹ گیا کچھ دیر وہاں فضول بیٹھا اور پھر گھر آگیا امی لوگ ابھی تک نہیں آئے تھے۔۔۔
میں بیٹھک میں گیا اور کتابیں اٹھا کر پڑھنے لگا۔۔۔
آج پڑھائی میں بھی دل لگ گیا تھا کافی دیر پڑھتا رہا ۔۔۔
بھا ہاشم بھی گھر تھے وہ بھی حیران ہو رہے تھے کہ مجھے کیا ہو گیا ہے جو ابھی تک پڑھ رہا ہوں۔۔۔
خیر پڑھتے رات گزر گئی اگلے دو دن ایسے ہی گزر جائیں گے میں یہ سوچ رہا تھا۔۔۔
صبح اٹھا اور سیر کے لیے گیا اب میں اپنی پلاننگ پر عمل کر رہا تھا صبح سیر کے لیے گیا تو سیدھا ناصر بلی کے ٹیوب ویل پر پہنچ گیا۔۔۔
وہاں میرے وہ دوست ساتھی بلی کے ساتھ موجود تھے میں نے ان کو ہدایات دیں ساتھ میں بلی کو بھی سمجھایا کہ یہ صرف ہمارے درمیان رہنی چاہئیے۔۔۔
کالج گیا اور شاہد کے ساتھ ہم پارک گئے وہاں کچھ لڑکوں سے ملا جو صرف شاہد جانتا تھا وہ کالج میں ہمارے ساتھ بالکل شامل نہیں تھے ۔۔۔
ان میں سے تین لڑکے ہوسٹل میں رہتے تھے میرے لیے یہ ایک مثبت پوائنٹ تھا کیونکہ ان کے گھر والوں کا کوئی ڈر نہیں تھا وہ اس لیے کہ وہ خانیوال پڑنے آئے تھے۔۔۔
بیت نڈر تھے ان کی باتوں سے اندازا ہوتا تھا کہ وہ کسی کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔۔۔
اب میری دو ٹیمیں کام پر لگ چکی تھیں اب باری تھی تیسرے گروپ کی جو کہ عاذب کا تھا اس سلسلے میں عاذب کو میں تفصیلات بتا چکا تھا۔۔۔
عاذب نے کالج میں ایک جھگڑا کروایا جو صرف ایک ڈرامہ تھا جن لوگوں کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا ان کو اپنے دفتر بلا لیا ساتھ میں مجھے بھی بلا لیا۔۔۔
میں بھی وہاں گیا تو عاذب نے ان سب کا میرے ساتھ تعارف کروایا اس کے بعد میں نے ان کو ساری بات سمجھا دی ۔۔۔
وہ باہر نکلے جیسے دو گروپوں کی شکل میں آئے تھے ویسے ہی دو گروپوں میں باہر نکلے۔۔۔
میرا ہوم ورک تیار ہو چکا تھا اب یہ لوگ مجھ سے صرف فون پر رابطہ کریں گے اور صرف مجھے ہی اپڈیٹ دیں گے۔۔۔
اس کے بعد میں لیکچرز لینے لگا ایک خالی لیکچر میں عاذب نے مجھے بلایا اس نے کالج کے لیے اکٹھے ہو چکے فنڈ کے استعمال کے بارے میں مشورہ مانگا۔۔۔
کافی تفصیل سے بات ہوئی اس کو کالج میں ایک فیسٹیول کا مشورہ دیا اور ساتھ ہی کالج میں سپورٹس کا ایونٹ کروانے کے لیے بات ہوئی جو انٹر کالجز کا ہونا چاہئیے۔۔۔
عاذب نے میری باتیں نوٹ کیں اس سلسلے میں اس نے کالج کی مینجمنٹ سے بات چیت کرنی تھی۔۔۔
باقی اس نے کالج کا ماحول بہتر کرنے کے لیے گراؤنڈ کی مرمت کروا دی تھی نئے پودے پھول لگوا چکا تھا۔۔۔
صحیح معنوں میں کالج کا پیسہ کالج پر لگوا رہا تھا سپورٹس کوچ بھی متحرک نظر آنے لگے تھے۔۔۔
کبڈی کوچ نے اپنی کبڈی کی ٹیم تیار کر لی تھی جو اکثر پریکٹس کرواتے نظر آتے۔۔۔
اسی طرح باقی کوچز بھی مصروف تھے لیکن ابھی تک کرکٹ کا کوچ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔
میں عاذب کے پاس سے باہر نکل رہا تھا کہ ودحت اندر داخل ہوئی اس نے مجھے روکتے ہوئے اندر آنے کا کہا۔۔۔
میں واپس داخل ہوا تو عاذب کے سامنے بیٹھتے ہوئے ودحت نے کہا بھائی اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو تنگ کر رہا ہو تو آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے۔۔۔
عاذب نے کہا آپ مجھے بتائیں اگر ایسا کوئی کر رہا ہے تو اس کا علاج ہم کر لیں گے آپ نے بس اس کا نام بتانا ہے باقی کا کام ہمارا ہے۔۔۔
ودحت نے میری طرف دیکھا اور تو سنیں وہ لڑکا آپ کے سامنے کھڑا ہے اس کو سزا دیں جو دے سکتے ہیں یا اس کو میرے حوالے کریں میں خود سزا دوں گی۔۔۔
وہ بہت سنجیدہ لہجے میں بات کر رہی تھی ایک منٹ کے لیے تو میں بھی پریشان ہو گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا چاہتی ہے۔۔۔
عاذب نے مجھے غور سے دیکھا میرے چہرے پر پریشانی دیکھتے ہوئے کہا ٹھیک ہے ہم آپ کی بات مانیں گے بس آپ تھوڑا سا تعاون اور کر دیں۔۔۔
ودحت نے کہا بتائیں اب اور کیا چاہتے ہیں جب میں نے مجرم آپ کے سامنے کھڑا کر دیا اس کے علاوہ بھی آپ کو کچھ اور سننا ہے۔۔۔
عاذب نے کہا دیکھیں میں آپ کی بات مان لیتا ہوں لیکن کیا آپ ان کے منہ سے اگلوا سکتے ہیں۔۔۔
ودحت نے کہا کوئی مجرم اپنے منہ سے اقرار کرتا ہے کہ اس نے جرم کیا ہے۔۔۔
میں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔
کیا میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔
اس نے حیرت سے گھومتے ہوئے میری طرف دیکھا اور تقریباً چیختے ہوئے بولی ۔۔۔
کییییا مطلب۔۔؟؟
میں نے بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا کیا۔۔میں۔۔۔ آپ کو جانتا ۔۔۔ ہوں۔۔۔؟؟
اس نے عاذب کو دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور بولی اووووہ تو یہ بات ہے آپ مجھے نہیں جانتے۔۔۔
اس نے عاذب کی طرف پھر دیکھا اور بولی ۔۔۔
ان سے ذرہ یہ پوچھیں کیا یہ کسی ودحت نام کی لڑکی کو جانتے ہیں۔۔۔
میں نے عاذب کے بولنے کا انتظار نہ کیا اور بولا ہاں جانتا ہوں۔۔۔آگے بولیں ۔۔۔
اس نے میری طرف گھومتے ہوئے کہا تو پھر یہ کیوں کہا کہ مجھے نہیں جانتے۔۔۔
میں نے یہ کب کہا کہ میں آپ کو نہیں جانتا۔۔۔
اس نے کہا کیا مطلب ابھی ایک منٹ پہلے ہی تو آپ نے یہ سب کہا۔۔۔
عاذب مسکرانے لگ گیا تھا وہ میری بات سمجھ گیا کہ میں اس کو غصہ دلا رہا ہوں۔۔۔
ودحت نے عاذب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا دیکھیں کتنا جھوٹ بول رہا ہے یہ آپ کے سامنے ابھی ابھی اپنی بات سے مکر گیا ہے۔۔۔
عاذب نے کہا مجھے آپ کی سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔
میں نے کہا ایک منٹ میں سمجھاتا ہوں۔۔۔
میں نے کہا میں نے آپ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔
ودحت نے کہا اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟؟
میں ہنستے ہوئے بولا لگتا ہے آپ کو خود ہی نہیں پتہ کہ میں آپ کو جانتا ہوں یا نہیں۔۔۔
ودحت نے کہا میں ودحت ہوں اور ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔
میں نے کہا میں نے آپ کو تنگ کیا ہے۔۔
ودحت نے کہا اور نہیں تو کیا کل بھی تم نے جواب نہیں دیا اور نہ میری بات سنی۔۔۔
عاذب نے کہا ایک منٹ یہ سب کیا ہو رہا ہے مجھے بیوقوف بنا رہی تھیں۔۔۔
ودحت نے کہا سوری پھر میری طرف مڑی لیکن میں وہاں سے نکل چکا تھا۔۔۔
مجھے پیچھے سے عاذب کے ہنسنے کی اور ودحت کی مجھے بلانے کی آواز آئی ۔۔۔
لیکن میں بغیر مڑے وہاں سے نکل آیا۔۔۔
وہاں سے سیدھا کینٹین جانے لگا لیکن رستے میں ارادہ بدل گیا گراؤنڈ گیا۔۔۔۔
وہاں کچھ لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے میں بھی ان کے ساتھ کھیلنےلگ گیا۔۔۔
میں نہیں چاہتا تھا کہ ودحت مجھے کہیں اور تنگ کرے اس لیے اکیلے رہنے سے کترا رہا تھا۔۔۔
شاہ نے اس دن مجھے جو کچھ کہا تھا اس وجہ سے میرا دل نہیں کر رہا تھا کہ ودحت ست کسی قسم کا کوئی تعلق رکھوں ویسے بھی میں ںے عثمان شاہ سے وعدہ کیا تھا کہ میں اب کبھی ایسا نہیں کروں گا۔۔۔
ایسے ہی یہ دن بھی گزر گیا اگلے دن صبح صبح میں سیر کے لیے نکل گیا میں اب وہ پرچی والی بات بھول چکا تھا ۔۔۔
میرے دماغ سے وہ سب نکل چکا تھا میں دوڑ لگا رہا تھا کہ میرے ساتھ ایک آدمی دوڑنے لگا۔۔۔
اس نے دوڑتے ہوئے کہا تو پھر آج ملنے آ رہے ہو میں نے گھوم کر اس کی طرف دیکھا تو مجھے سب یاد آگیا۔۔۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی یہ کوئی اور تھا ایک دم کلین شیو چہرہ خوبصورت جوان تھا۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے مجھ سے آگے نکل گیا اور میں مزید دوڑے بغیر واپس گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔
یہ کون لوگ ہیں اور مجھ سے کیاچاہتے ہیں پہلے دن تو مجھے اتنی الجھن نہیں ہوئی تھی لیکن آج میں بہت زیادہ پریشان ہو گیا تھا۔۔۔
میں پیدل واپس جا رہا تھا کہ میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا اور کہا یہ بات کسی کو پتہ نہ چلے کہ تم آج کسی سے ملنے جا رہے ہو اور بالکل اکیلے آنا۔۔۔
میں نہ چاہتے ہوئے ٹھیک ہے کہہ گیا۔۔۔
اس شخص کی شخصیت میں اتنا رعب تھا کہ میں بحث کر ہی نہ سکا۔۔۔
گھر جانے تک میں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔۔۔
ناشتہ کیا اور کالج چلا گیا کالج میں جاتے ہی ایک خبر میری مںتظر تھی۔۔۔
پرویز صاحب کو کسی نے اغوا کر لیا ہے یہ واقعہ صبح صبح پیش آیا جب وہ اپنی سائیکل پر کالج کے لیے نکلے رہے تھے۔۔۔
عاذب بھی بڑے غصے تھا آج تک میں نے اس کو غصے میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔
شاہد سب لڑکوں کو گراؤنڈ میں اکٹھا کر رہا تھا ناصر بلی بھی آج اپنے گروپ کے ساتھ گراؤنڈ میں موجود تھا۔۔۔
آج مجھے پتہ چلا کہ کاشی ٹنڈا اپنا گروپ بنا چکا ہے کیونکہ اس کے ساتھ کافی لڑکے تھے ۔۔۔
ایک میں ہی اکیلا کھڑا تھا اور عاذب میرے ساتھ تھا۔۔۔
عاذب نے سب کو سمجھانا شروع کیا اور کہا سب سے پہلے پولیس کا انتظار کرتے ہیں اگر پولیس نے آج دوپہر تک پروفیسر صاحب کو بازیاب نہ کروایا تو ہم جلوس نکالیں گے۔۔۔
میں نے اپنے ان بندوں سے رابطہ کیا جو خفیہ تھے شاہد عاذب اور ناصر کے بندوں کے علاوہ تھے۔۔۔
مجھے خبر ملی کہ ان کو اچھی ڈوگر نے اغواہ کروایا ہے اور وہ اپنے علاقے میں لے گیا ہے۔۔۔
پولیس کو اس نے پہلے ہی یہ اطلاع دے دی تھی پولیس اس معاملے میں کوئی مدد نہیں کرے گی اس کے پیچھے دارے خاں کا ہاتھ تھا۔۔۔
میں نے شاہد کو بلایا اور اس کو کہا کہ اگر ہتھیار وغیرہ ہیں تو اکٹھے کر لو پولیس نے کچھ نہیں کرنا اب ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔
شاہد نے میری طرف دیکھا بولا کچھ نہیں شاہد کی یہ بات بہت اچھی تھی کہ وہ زیادہ سوال جواب نہیں کرتا تھا۔۔۔
اس نے یہ تک نہ پوچھا کہ کس نے اغوا کروایا ہے۔۔۔
میں نے پھر معلومات لیں تو مجھے پتہ چلا کہ اچھی نے پروفیسر صاحب کو ایک جیپ میں بٹھا کر دارے خاں کے ایک خفیہ اڈے پر روانہ کر دیا ہے۔۔۔
میں نے عاذب کو کہا کہ اب تم اپنا کام کرو اور ہم اپنا کرتے ہیں ۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا اس نے اسی وقت اعلان کیا کہ ہم سب ابھی اسی وقت احتجاج کریں گے اور پورا شہر بلاک کر دیں گے۔۔۔
میں شاہد کو ساتھ لے کر شاہ باہر نکل گیا شاہد نے مجھے پسٹل دیا ساتھ میں دو میگزین بھی دیں۔۔۔
ہم بائیک پر بیٹھے میں نے شاہد کو شاہ کے گھر کی طرف چلنے کا کہا ۔۔۔
شاہ کی گلی میں داخل ہوئے تو ہمیں کالے رنگ کی جیپ تیزی سے وہاں سے نکلتی نظر آئی اگر شاہد بائیک کو ایک طرف نہ کرتا تو اس نے ہمیں ٹھوک دینا تھا۔۔۔
ہم شاہ کے گھر کے سامنے پینچے دروازے پر دستک دی تو شاہ کی امی کی دکھی سی آواز آئی کون۔۔۔
میں نے کہا ماں جی میں بلو ہوں عثمان کا پتہ کرنے آیا ہوں وہ کالج نہیں آیا۔۔۔
اس کی امی نے فوراً دروازہ کھول دیا اور مجھے اندر بلا لیا۔۔۔
شاہد باہر ہی کھڑا رہا مجھے وہ اندر کمرے میں لے گئی اس کے چہرے پر بڑی گھمبھیرتا تھی۔۔۔
میں نے پوچھا آپ پریشان لگ رہی ہیں سب خیریت تو ہے۔۔۔
اس نے رونا شروع کر دیا مجھے سمجھ نہ آئی میں اب اس کو چپ کیسے کرواؤں ۔۔۔
کچھ دیر سوچتا رہا جب وہ چپ نہ ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ماں جی پریشان نہ ہوں آپ کا بیٹا سامنے کھڑا ہے مجھے سب بتائیں کیا ہوا ہے اور عثمان کہاں ہے۔۔۔
لیکن اس کا رونا ختم نہ ہوا میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر زور زور سے ہچکیاں لے کر رونے لگی۔۔۔
میں اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی یہ سب میری غلطی ہے میں نے ہی اس کو کہا تھا ۔۔۔
اتنا بول کر اس نے پھر رونا شروع کر دیا۔۔۔
میں نے کہا دیکھیں اگر آپ کچھ بتائیں گی نہیں تو میں کچھ نہیں کر پاؤں گا ۔۔۔
آپ مجھے کھل کر بتائیں کیا ہوا ہے عثمان کو اور وہ کہاں ہے۔۔۔
اس نے آنسو اپنے دونوں ہاتھوں سے پونچھے اور بولی میرے شوہر کا ایک دوست تھا اشرف مجھے بہن کہتا تھا ۔۔۔
میں نے کہا پھر اب وہ کہاں ہے اور اس کا عثمان کے ساتھ کیا لنک ہے۔۔۔
اس نے کہا میں نے ایک دن عثمان کو اس کے پاس بھیجا تھا ۔۔۔
میں نے پوچھا کس لیے بھیجا تھا کوئی کام تھا۔۔۔
اس نے میری طرف غور سے دیکھا اور کہا مجھ سے غلطی ہو گئی اصل میں ڈر گئی تھی ۔۔۔
اکیلی عورت ہوں ناں اور عثمان ابھی بچہ ہے وہ بھی اکیلی نرینہ اولاد ہے۔۔۔
میں نے اس سے کچھ بھی پوچھنے سے خود کو روکا ۔۔۔
کیونکہ اس طرح وہ بات پوری نہیں کر پا رہی تھی۔۔
اس نے پھر بولنا شروع کیا اور کہا ایک دن میں گھر آئی تو مجھے میری بیٹی نے بتایا کہ تم عثمان کے ساتھ آئے تھے۔۔۔
میں اس کی طرف دیکھتا رہا ۔۔۔
اس نے رک کر پھر کہنا شروع کیا اس نے مجھے بتایا کہ عثمان کو ودحت نے مجھے لینے بھیج دیا اور خود تمہارے ساتھ ۔۔۔
اتنا کہہ کر اس نے منہ پھیر لیا اور دوسری طرف منہ کرکے کہنے لگی بس اس کے بعد میں نے عثمان کو اشرف کے پاس بھیجا۔۔۔
میں ڈر گئی تھی کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔
بس اشرف کے پاس بھیج کر اس کو بلایا تو مجھے پتہ چلا کہ اشرف اب صرف اشرف نہیں رہا بلکہ اچھی ڈوگر بن چکا ہے۔۔۔
اچھی کا نام سن کر مجھے ساری بات سمجھ آ گئی ۔۔۔
میں نے کہا اس ساری بات کو آپ چھوڑیں مجھے یہ بتائیں اب عثمان کہاں ہے۔۔۔
اس نے بتایا کہ ابھی کچھ دیر پہلے اس کے بندے آئے تھے ہمارے گھر وہ عثمان کو ساتھ لے گئے ہیں۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ پھر رونے لگ گئی اور روتے ہوئے کہنے لگی عثمان کو میں نے ہی منع کیا تھا کہ تمہارے ساتھ تعلق نہ رکھے۔۔۔
میں نے کہا میں غلط تھا مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں مانتا ہوں لیکن آپ نے عثمان کو انجانے میں غلط لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیا۔۔۔
وہ کہنے لگی مجھے بعد میں پتہ چلا تھا جب عثمان کے پاس اس کے لڑکے روز آنے لگے ۔۔۔
ہماری بیٹھک میں رات گئے تک بیٹھے رہتے جو رات گزری وہ ساری رات یہاں تھے صبح گئے تھے پھر واپس آئے عثمان کافی ڈرا ہوا تھا آج ان کے جانے کے بعد۔۔۔۔
میں اس سے پوچھ ہی رہی تھی کہ کیا ہوا ہے اس کو کالج جانے کا کہا تو اس نے کہا آج نہیں جانا ہے کل جاؤں گا لیکن اس کی آواز میں کافی ڈر تھا۔۔۔
میں نے کہا آپ فکر نہ کریں بس کچھ دن کے لیے یہاں سے کسی اور جگہ چلے جائیں تاکہ آپ کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔۔۔
آج شام تک عثمان آپ کے پاس ہوگا۔۔۔
میں اٹھ کر باہر نکلا تو شاہد کے ساتھ ایک اور آدمی کھڑا تھا جس کو دیکھ کر مجھے لگا کہ اس کو میں پہلے بھی مل چکا ہوں۔۔۔
شاہد کو میں نے کہا چلیں تو اس آدمی نے مجھے کہا ایک منٹ میری بات سن لو پھر چلے جانا۔۔۔
میں نے کہا جی فرمائیں میرا انداز جان چھڑوانے والا تھا۔۔۔
اس نے مجھے ایک طرف آنے کا اشارہ کیا میں اس کے ساتھ ایک طرف آیا ۔۔۔
اس نے مجھے جو باتیں کیں میرے لیے حیران کن تھیں ۔۔۔
مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا لیکن ایک بات نے بڑا حوصلہ بڑھا دیا کہ وہ ہمارا ساتھ دے گا۔۔۔
اس نے مجھے بتایا کہ وہ یہ سب جانتا ہے پرویز صاحب کو کس نے اور کیوں اغوا کروایا ہے۔۔۔
اور تو اور اس نے یہ بھی بتایا کہ پرویز صاحب کو شہر سے دور ایک چھوٹے سے ڈیرے پر رکھا گیا ہے جہاں صرف ایک کچی سڑک جاتی ہے۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے اگر آپ میری مدد کریں تو میں آپ کی بات مان سکتا ہوں ۔۔۔۔
اس نے اوکے کیا اور مجھے کہا اپنے بندوں کو سگنل دو جہاں کا میں کہوں۔۔۔
میں نے فون نکالا تو مجھے میسج آ چکا تھا اور ایڈریس بھی ساتھ تھا کہ پرویز صاحب کو کہاں لے گئے ہیں اور عثمان بھی ان کے ساتھ ہے۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا مجھے معلوم ہو چکا ہے آپ سچ کہہ رہے ہیں چلیں چلتے ہیں۔۔۔
عاذب کو فون کرکے کہا کہ شہر میں ہنگامے شروع کر دو اور شاہ کے گھر خود جاؤ یا کسی کو بھیجو ساتھ میں اس لڑکی کو بھی کالج سے گھر جانے کا کہو۔۔۔
اس کے بعد شاہ کے گھر والوں کو کسی ایسی جگہ چھوڑ آؤ جہاں وہ محفوظ ہوں یا وہ خود کہیں جانا چاہئیں تو وہاں پہنچا دو۔۔۔
اس کے بعد میں شاہد کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گیا اور اس کو رستہ سمجھایا۔۔۔
شاہد نے بائیک کو پوری سپیڈ سے دوڑانا شروع کر دیا۔۔۔
اسی وقت مجھے انجان نمبر سے فون آیا میں رسیو کیا تو بولنے والا بارعب آواز میں بولا ۔۔۔
دونوں جانے والی غلطی نہ کرو ہمارا انتظار کرو ہم بھی پہنچ رہے ہیں۔۔۔
میں نے کوئی جواب دئیے بغیر فون کاٹ دیا ہم شہر سے باہر نکل چکے تھے ۔۔۔۔
شاہد کو میں جگہ کا نام بتایا تو اس نے کہا وہ جانتا ہے یہ جگہ کہاں ہے۔۔۔
ایک طرف گھنے درخت آئے شاہد کو میں نے بائیک اس طرف لے جانے کا کہا ۔۔۔
ہم ادھر گئے تو وہاں ایک بڑی وین کھڑی تھی جس میں پانچ لڑکے پہلے سے موجود تھے۔۔۔
ان سب کے پاس اسلحہ موجود تھا ہم نے بائیک وہاں چھوڑی اور وین میں سوار ہو گئے۔۔۔
وین بڑی تیزی سے دوڑتی جا رہی تھی چلانے والا بھی ہم میں سے ہی ایک تھا۔۔۔
الیاس لنگاہ نام تھا اسکا بڑا جی دار لڑکا تھا یاروں کا یار۔۔۔
آج کل وہ وکیل ہے اور عدالت میں بھی مخالف وکیلوں کے چھکے چھڑاتا ہے۔۔۔
ہم بہت جلد کچے راستے پر پہنچ گئے جیسے جیسے وہ ڈیرہ قریب آرہا تھا ہماری دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔