گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 63)

میں دروازے کی طرف دیکھنے سے کترا رہا تھا بس سر جھکائے شلوار پہن رہا تھا۔۔۔

علینہ بھی میری طرف کمر کیے اپنے کپڑے پہننے میں مصروف تھی۔۔۔

میری ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ یہ دیکھ سکوں کہ دروازے پر کون ہے۔۔۔

نہ ہی کوئی آواز آئی پہلی آہٹ کے بعد کسی قسم کی کوئی ہلچل نہ ہوئی۔۔۔

علینہ بھی کپڑے پہنے کھڑی تھی میں بھی شلوار پہن کر ویسے ہی کھڑا تھا۔۔۔

کچھ دیر تک جب کسی کی آواز نہ آئی تو میں نے ڈرتے ڈرے گھوم کر دیکھا۔۔۔

دروازے میں یا میرے پیچھے کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔

میں ایک دم سارا گھوم گیا اور کمرے میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔

جب کوئی نظر نہ آیا تو میں نے کمرے سے نکل کر باہر بھی دیکھا کوئی نہ ملا۔۔۔

میں واپس کمرے میں آیا تو علینہ کھڑی ہونقوں کی طرح دروازے کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

میں اس کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اس کے اندر امڈتے ڈر کا غماز تھا۔۔۔

میں اس کے پاس گیا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے مجھے پیچھے دھکیلا اور تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔

میں نے کہا کیا ہوا یار کوئی بھی نہیں ہے ڈر کیوں نہیں رہی ہو کچھ بھی تو نہیں ہوا۔۔۔

اس نے اپنی پھدی کی جگہ ہاتھ رکھ کر قمیض کے اوپر سے ہی پھدی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے مجھے عجیب سے انداز سے دیکھا۔۔۔

میں نے پھر پوچھا کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔

اس نے جھک کر اپنی پھدی والی جگہ کو دیکھا اور بولی وہ وووہ اور تھر تھر کانپنے لگ گئی۔۔۔

میں اس کے پاس گیا اس کو بیڈ پر بٹھایا اور کہا کچھ بھی نہیں ہوا ایسے کیوں کانپ رہی ہو۔۔۔

اس نے کہا وووہ مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے ۔۔۔

پھر چپ ہو گئی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ ایسا کیوں ری ایکٹ کر رہی ہے۔۔

میں نے کہا ایزی ہو جاؤ تم ٹھیک ہو نہ کسی نے دیکھا اور نہ ہی کوئی کمرے میں آیا اگر ایسا چہرہ بناؤ گی تو ودحت کو شک ہو جائے گا۔۔۔

اس نے جلدی جلدی اپنے چہرے کو ایسے صاف کیا جیسے اس پر کچھ لگا ہو۔۔۔

پھر بولی مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں ابھی بھی ننگی ہوں اوررر۔۔۔

میں نے بڑے غور سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ نظریں جھکائے اپنے ہاتھ گود میں لیے بیٹھی تھی۔۔۔

میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ایسا ہو جاتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔

تم خود دیکھو کپڑے پہنے ہوئے ہیں اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی وہاں سے کچھ نکل رہا ہے اور میرے اندر کچھ ہے۔۔۔

اس سے پہلے ہی کہ میں کچھ اور بولتا دروازے پر دستک ہوئی میں اس سے دور ہو گیا وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

باہر مین گیٹ پر دستک ہوئی تھی وہ اٹھی اور باہر جانے لگی تو اس کی چال بگڑی ہوئی تھی۔۔۔

بگڑنی ہی تھی چھوٹی سی پھدی میں لمبا چوڑا لوڑا گیا تھا اس کی پھدی کا تو ستیاناس ہو چکا تھا۔۔۔

وہ کمرے کے دروازے میں ہی تھی کہ ودحت سامنے آئی اس نے علینہ کو واش روم کی طرف اشارہ کرکے آہستہ سے کچھ کہا اور مجھے باہر آنے کا کہا۔۔۔

رات کے اس پہر کون آ گیا میں بھی یہ ہی سوچ رہا تھا اور ودحت کا اس وقت یہاں آنا بھی حیران کن تھا۔۔۔

میں ودحت کے پاس گیا تو اس نے مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور بولی باہر کوئی آیا ہے تم ایک منٹ ہمارے کمرے میں جاؤ میں تم لوگوں کا پھیلایا گند صاف کر دوں۔۔۔

میں ودحت کے کمرے میں گیا اور فضول میں کھڑا ہو کر ادھر ادھر چیزیں اٹھا کر رکھنے لگا۔۔۔

دو منٹ بعد وہ کمرے میں آئی اور مجھے گھورتے ہوئے بولی ہو گیا سکون اس کو بھی نہیں چھوڑا۔۔۔۔

میں اس کو کچھ نہ کہہ سکا اور کھسیانی ہنسی ہنس کر رہ گیا۔۔۔

ودحت نے کہا شکر کرو میں آئی تھی اگر عثمان ہوتا تو کیا ہوتا وہ کیا سوچتا جس پر اتنا بھروسہ کیا اس نے اس کی بہن کو ۔۔۔

وہ دانت چبا کر بول رہی تھی میں کچھ بولنے لگا تو اس نے کہا اب جاؤ علینہ کو میں یہاں سلا لوں گی۔۔۔

اور کمرے میں جو نشانات تھے ہو ختم کر دئیے ہیں خون کے نشانات مٹا دئیے ہیں۔۔۔

میں چپ کر کے وہاں سے نکلنے لگا تو ودحت نے میرا بازو پکڑا اور کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔

مجھے دیکھتے ہوئے کہا مجھے ایک بات کا اندازا ہو گیا ہے کہ یہ مرد ذات ہوتی ہے یہ صرف جسم کی پیاسی ہوتی ہے۔۔۔

تھوڑا خوبصورت جسم دیکھا نہیں کہ اس کو پانے کے لیے حیلے بہانے شروع کر دیتے ہیں۔۔۔

میں نے اس کو اسی کے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کیا میں تمہارے پاس آیا تھا یا علینہ کے پاس گیا تھا۔۔۔

وہ کچھ بولنے لگی تو میں نے اس کے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر کہا میری سنو پہلے تم مرد ذات کی بات کی ہے مجھے کوئی غصہ نہیں آیا اب میری سن لو۔۔۔

کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ میری دنیا الگ ہے میں وہ نہیں ہوں جو نظر آتا ہوں۔۔۔

میری سوچ میرا زندگی کا نظریہ الگ ہے میں نے زندگی کو کسی اور انداز سے دیکھا ہے ۔۔۔

میری سوچ کے ساتھ ساتھ میرا زندگی گزارنے کا انداز الگ ہے۔۔۔

میرا مقصد اور ہے میں نے کہا تھا تمہیں کہ میرا کوئی پتہ نہیں میں کب کہا کس حال میں ہوں۔۔۔

تم پر پر بات واضح کی تھی اب تم نے کسی بات کو سیریس نہیں لیا تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔۔

دوسری بات جو میرے نزدیک اہم ہے وہ بڑی واضح ہے اگر لڑکی کی رضامندی نہ ہو تو مرد کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔

تم بتاؤ کیا میں نے تمہیں مجبور کیا تھا ایسا کرنے کے لیے یا میں نے زبردستی کیا تھا۔۔۔

یہ الگ بات ہے کہ علینہ کا معاملہ کچھ الگ ہے اس میں ایسا کچھ تھا جس کی وجہ سے میں مجبور ہو گیا اس کے ساتھ کرنے کے لیے۔۔۔

اس کا جسم اس کے اندر جوانی کی گرمی اور پھر اس کو دیکھ کر میرے لن کا اچھلنا کچھ تو ایسا تھا علینہ میں نے مجھے اس کی طرف جھکایا۔۔۔

تم مجھے الزام نہیں دے سکتی جب کہ تم خود میرے ساتھ کر چکی ہو اور یہ بھی جانتی ہو کہ میں اس سے پہلے بھی یہ سب کر چکا ہوں۔۔۔

نہ تو علینہ میرے لیے پہلی لڑکی ہے اور نہ تم پہلی تھی جس کی میں نے ماری تھی۔۔۔

ودحت نے کہا چھی کیسی گندی باتیں کرتے ہو ایک لڑکی کے سامنے ایسے الفاظ بولتے ہوئے شرم نہیں آتی۔۔۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھا اور کہا یہ لن ہے تم جانتی ہو اور یہ تمہاری پھدی میں جا چکا ہے۔۔۔

ہمارے درمیان ایسا کیا باقی رہ گیا ہے جس سے تم یہ کہو کہ تم سے بات کرتے ہوئے شرم کرنی چاہئیے۔۔۔

تم میرے جسم سے واقف ہو میں تمہارے جسم کے ایک ایک انچ سے واقف ہوں میرا تمہارے اندر جا چکا ہے ۔۔۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تم میرا لے چکی ہو اور تمہیں میرے ساتھ کرنے میں مزہ بھی آتا ہے اگر یہ سچ ہے تو پھر کسی اور کو بھی یہ مزہ لینا چاہئیے۔۔۔

وہ اپنے ہی کمرے سے باہر نکل گئی اس کے لیے اتنا سیدھی باتیں ہضم کرنا مشکل تھا ۔۔۔

میں نے بھی یہ سب جان بوجھ کر کہا تھا تاکہ میں اپنے اس شک کا یقین کر سکوں کہ ودحت نے جان بوجھ کر علینہ کو میرے پاس رات کو اکیلا چھوڑا تھا۔۔۔

علینہ پر مجھے شک تھا کہ وہ یہ چاہتی تھی کہ میں اس کی پھدی وجاوں اور وہ اوپر سے ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑ لے۔۔۔

اس کے پیچھے جو میں سمجھ پایا تھا اس کی یہ سوچ تھی کہ وہ علینہ کو اپنا کاما کرنا چاہتی تھی تاکہ مستقبل میں وہ میرے ساتھ کھل کر لن پھدی گھسیٹا کھیلے۔۔۔

اب وہ ایک دم حاجن بن کر مجھ پر یہ ظاہر کر رہی تھی کہ میں نے علینہ کے ساتھ کرکے اچھا نہیں کیا۔۔۔

میں بھی اس کے کمرے سے نکلا جہاں بیٹھ کر ہم پڑھ رہے تھے وہاں گیا تو دیکھا کہ علینہ بیٹھی ہے اور اس کے پاس ودحت موجود ہے۔۔۔

لیکن مجھے بیٹھک میں کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔

ودحت اور علینہ کو میں نے کہا دروازہ بند کرلو مجھے لگتا ہے بیٹھک میں کوئی ہے ۔۔۔

ودحت اٹھ دروازہ بند کرنے لگیںم تو میں نے اس کو روکا اور اندر داخل ہو کر اپنے بیگ سے پستول نکال لیا۔۔۔

دبے پاؤں چلتا ہوا بیٹھک کے دروازے پر گیا کان لگا کر اندر کی سن گن لینے لگا۔۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہ آئی اندر کیا چل رہا ہے لیکن کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا تھا۔۔۔

کبھی کبھی اندر سے ہلکی سی چیخ کی آواز آ جاتی ۔۔۔

مجھ سے رہا نہ گیا میں نے بڑی آہستگی سے مین گیٹ کھولا اور گلی میں جھانکا تو گلی کی نکڑ پر مجھے ایک دو لڑکے کھڑے نظر آئے۔۔۔

میں نے دونوں طرف نظر گھمائی اور دیوار کا سہارا لیتے ہوئے ان کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔

دس گھر چھوڑ کر گلی کی نکڑ تھی دوسری طرف گلی بند تھی میں اندھیرے میں چھپتا ہوا ان کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔۔۔

وہ دوسری طرف دیکھنے میں مصروف تھے ان کی نظر گلی میں نہیں تھی اس لیے میں تیزی سے آگے بڑھتا گیا۔۔۔

جب ان سے دس پندرہ فٹ دور رہ گیا تو ان میں سے ایک نے گھوم کر گلی میں دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔

وہ پوری گلی میں نظر دوڑا رہا تھا میں دیوار کے ساتھ دبک کر بیٹھ گیا اچھی بات یہ تھی جہاں میں تھا وہاں کوئی سٹریٹ لائٹ نہیں لگی تھی۔۔۔

باقی گلی میں روشنی تھی اس لڑکے نے کوئی دو منٹ کے قریب اپنا رخ گلی کی طرف رکھا ۔۔۔

جتنی دیر تک وہ گلی میں دیکھتا رہا اتنی دیر میری جان سولی پر اٹکی رہی۔۔۔

میں جانتا تھا کہ اگر میں ان کی نظر میں آگیا تو وہ بغیر تصدیق کے گولی چلا دیں گے۔۔۔

جب وہ لڑکا دوسری طرف دیکھنے لگا تو میں نے کچھ دیر انتظار کیا پھر آگے بڑھنا شروع کر دیا۔۔۔

جیسے جیسے میں قریب ہوتا جا رہا تھا ویسے ویسے میرے دل کی دھڑکن بھی بڑھ رہی تھی۔۔۔

اب میرے اور ان کے درمیان صرف پانچ فٹ کا فاصلہ رہ گیا تھا میں نے ایک بار پھر رک کر جائزہ لیا کہ وہ کتنے لوگ ہیں کہیں کوئی اور تو نہیں ان کے ساتھ جو دوسری طرف کھڑا ہو۔۔۔

جب مجھے یقین ہو گیا کہ کوئی نہیں ہے تو میں نے پستول کو مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑا اور ان کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔

اب ایک ایک قدم میرے لیے اہم تھا تھوڑی سی آواز بھی ان کو میری طرف متوجہ کر سکتی تھی اور میری زندگی کا خاتمہ۔۔۔

جیسے ہی میں ان سے دو فٹ کے فاصلے پر رہ گیا میں نے پستول کو مضبوطی سے پکڑ کر ایک کے سر پر دے مارا۔۔۔

وہ لڑکھڑا کر گر پڑا اس سے پہلے کہ دوسرا سیدھا ہوتا اس کی کنپٹی پر پستول رکھ دیا۔۔۔

وہ جہاں تھا وہیں کھڑے کھڑے بولا آ کی ہے پپو تو مینوں ای پپو بنا لگ گیا ایں۔۔۔

اس کو اپنے ساتھی کے گرنے کا احساس ہی نہ ہوا تھا کیونکہ میں نے اس کے سر پر مارا تھا تو وہ پیچھے کی طرف گرا تھا جس کو میں نے پکڑ کر نیچے لٹا دیا تھا۔۔۔

میں نے بڑی رعب دار آواز سے کہا پپو نہیں اے تیرا پیو اے کاکے چل سدھا ہو جا شاباش۔۔۔

وہ یکدم گھوما مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر جو تاثرات تھے وہ تو اندھیرے میں نظر نہیں آئے لیکن اس کی بولتی بند ہو گئی تھی۔۔۔

میں نے اس سے بندوق پکڑی اور اس کو کہا اپنے ساتھی کو اٹھاؤ اور میرے ساتھ چلو۔۔۔

اس سے پہلے میں نے اس کے ساتھی کے پاس جو پستول تھا وہ اٹھا کر دینے کا کہا جو اس نے چپ چاپ مجھے تھما دیا۔۔۔

وہ اپنے ساتھی کو اٹھائے میرے آگے آگے چلنے لگا۔۔۔

میں اس کو شاہ کے گھر میں لے آیا اور سٹور میں لے گیا وہاں اس کو کرسی پر باندھ کر اس کا منہ بھی باندھ دیا۔۔۔

پھر اس کے ساتھی کو بھی رسیوں سے باندھ دیا جو خوش قسمتی سے مجھے سٹور میں مل گئی تھی۔۔۔

ان کو باندھنے کے بعد میں نے جو ہوش میں تھا اس کا منہ کھولا اور اس سے پوچھا اور کون کون ہے۔۔۔

اس نے کہا بس ایک اور ساتھی ہے ہمارے ساتھ جو بیٹھک میں ہے ۔۔۔

میں نے اس سے کوئی اور سوال نہ کیا کیونکہ اس سے سوال کرنا بیکار تھا۔۔۔

اس کا منہ پھر باندھا اور سٹور کو کنڈی لگا کر باہر نکلا علینہ اور ودحت کے پاس گیا۔۔۔

وہ دونوں سہمی بیٹھی تھیں ودحت جب میں نے دروازہ کھولا تو دونوں ایک ایک دوسرے کے ساتھ چپک گئیں۔۔۔

جب مجھے دیکھا تو کچھ حوصلہ ہوا اور ودحت بھاگ کر میرے گلے لگ گئی علینہ بھی اس کے ساتھ آگے آگئی۔۔۔

علینہ بھی میرے بازو سے لگ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔

میں نے ان دونوں کو تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے جب ان کو حوصلہ ہوا تو میں ان کو سامان وغیرہ اکٹھا کرنے کا کہا۔۔۔۔

انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی میری بات مان لی اور دوسرے کمرے میں جا کر اپنا سامان پیک کرنے لگی۔۔۔

میں ایک بار پھر گلی میں نکلا اور ادھر ادھر جھانک کر بیٹھک کے دروازے میں پہنچ گیا۔۔۔

اندر کی صورتحال کے بارے میں جاننے کے لیے دروازے سے کان لگائے لیکن کچھ سمجھ نہ آئی۔۔۔

میں نے پستول ہاتھ میں پکڑا اور دروازے کو دھکیلا اور اندر گھس گیا۔۔۔

سامنے ایک بڑی بڑی مونچھوں والا انتہائی سفاک چہرے کا شخص کھڑا تھا میں نے اس پر پستول تان لیا۔۔۔

عثمان شاہ ادھ موہا ہو چکا تھا اس کو شاید اس نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔۔۔

مجھے دیکھ کر وہ ہنسنے لگا میں ٹانگ کی مدد سے اپنے پیچھے دروازہ بند کیا۔۔۔

اس کو کہا آرام سے ہاتھ اوپر کرکے بیٹھ جا۔۔۔

وہ بجائے ڈرنے کے ہنسنے لگا اور بولا کاکے لا مجھے پکڑا دے یہ پستول بچوں کے کھیلنے کی چیز نہیں ہے۔۔۔

میں نے کہا اب میں کہوں گا نہیں گولی مار دوں گا جو کہا ہے وہ کر ۔۔۔

اس پر میری دھمکی کا اثر نہ ہوا وہ آگے بڑھنے لگا اور ساتھ ساتھ مسکرا رہا تھا۔۔۔

اس نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تمہیں پتہ بھی ہے گولی کیسے چلاتے ہیں لا مجھے دے اور آرام سے بیٹھ جا۔۔۔

ایک بار تو میں بھی ڈر گیا کہ اب کیا کروں یہ تو ڈر ہی نہیں رہا ۔۔۔

پھر بھی ہمت جوڑ کر میں نے آخری بار پستول لہراتے ہوئے کہا آخری بار کہہ رہا ہوں جو کہا ہے وہ کر۔۔۔۔

لیکن وہ نہ رکا میں نے بھی ٹریگر پر دباؤ بڑھا دیا ایک سیکنڈ کے سویں حصے میں وہ زمین پر تھا ۔۔۔

گولی کی آواز بھی نہ آئی تھی میں نے پستول کو دیکھا اس کے قریب لے جا کر سونگھا ۔۔۔

اس میں سے کسی قسم کی گولی چلنے کے کوئی شواہد نہ ملے ۔۔۔

لیکن اس کو گولی لگ چکی تھی میں نے شاہ کو کہا جلدی کر اٹھ ہمیں یہاں سے نکلنا ہے ۔۔۔

وہ کراہتا ہوا اٹھا میں نے اس کو سہارا دیا اور اندر والا دروازہ کھول کر اس کو گھر میں لے گیا۔۔۔

جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو ودحت اور علینہ بلکل تیار کھڑی تھیں۔۔۔

میں نے شاہد کو فون کیا کہ کسی گاڑی کا انتظام کرو اور جہاں میں کہوں وہاں بھیج دو ابھی اسی وقت۔۔۔

اس نے نیند سے بوجھل لہجے میں کہا یا اس وقت کیسے کروں ۔۔۔

میں نے غصے میں کہا سالیا تجھے وقت کی پڑی ہے اور یہاں کسی کی جان خطرے میں ہے ساری بات سمجھا دوں گا تو جلدی کر کوئی جگاڑ لگا۔۔۔

اس کے بعد میں نے ناصر کو فون کیا اس نے کہا بس دن منٹ انتظار کرو میں بتاتا ہوں۔۔۔

میں نے اس کو وہاں سے تھوڑا دور کا ایڈریس دیا اور علینہ لوگوں کو ساتھ لے کر نکل ہم نکل پڑے۔۔۔

جب گیٹ بند کر رہے تھے تو گلی میں ایک گاڑی داخل ہوتی نظر آئی ہم جلدی سے واپس اندر میں چلے گئے۔۔۔

اگلے دو منٹ میں ہمیں ایک گاڑی کے رکنے کی آواز آئی پھر قدموں کی آواز سنائی دی۔۔۔

علینہ اور ودحت کا ڈر کے مارے برا حال تھا اور شاہ بھی کانپ رہا تھا ۔۔۔

میں خود اندر سے ڈرا ہوا تھا اگلے دو منٹ میں ہی گھر میں قدموں کی آواز آنے لگی۔۔۔

پھر ایک آواز آئی ہم آپ کے خیر خواہ ہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں اس کے دو ساتھی اور تھے وہ کہاں ہیں ہمیں بتا دیں۔۔۔

یہ بات سن کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا اور میں جہاں چھپا کھڑا تھا وہاں سے نکل کر سامنے آیا۔۔۔

بولنے والے کو سٹور والے کے کمرے میں لے گیا اس نے باقی ساتھیوں کو بلا کر ان کو بھی اٹھوا لیا۔۔۔

پھر وہ لوگ وہاں سے نکل گئے اور ہمیں جلد از جلد یہاں سے غائب ہونے کا کہا۔۔۔

ہم نے گھر کو تالا لگایا اور باہر نکل گئے تیز تیز چلتے ہوئے گلی سے نکلے اور ایک طرف چل پڑے۔۔۔

تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ ناصر کا فون آیا کہاں ہو میں آگیا ہوں۔۔۔

میں نے اس کو اپنی لوکیشن بتائی ایک منٹ میں ہی ہمارے پاس گاڑی آ رکی۔۔۔

ہم گاڑی میں بیٹھے اور ناصر نے پوچھا کہاں چلنا ہے ۔۔۔

میں نے ٹائم دیکھا اور کہا صبح ہونے میں تھوڑی دیر ہی ہے ایسے ہی گاڑی کو گھماتے رہو۔۔۔

شاہ نے کراہتے ہوئے کہا میرا جسم ٹوٹ رہا ہے یار میں زیادہ دیر برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔

ناصر نے کہا پھر ایسا کرتے ہیں ہمارے گھر چلتے ہیں وہاں شاہ آرام کر لے گا اور باجیاں بھی گھر میں سکون سے رہیں گی۔۔۔

میں نے اس کو بتایا کہ صبح ہمارا پیپر ہے ۔۔

ناصر نے کہا تو کیا ہوا وہاں سے بھی کالج آیا جاسکتا ہے پریشانی والی کیا بات ہے۔۔۔

میں نے کہا یار خوامخواہ میں گھر والے پریشان ہوں گے۔۔۔

اس نے گاڑی گھماتے ہوئے کہا چل ہٹ تو پتہ نہیں کن باتوں میں پڑ گیا۔۔۔

وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا گھر کے ساتھ ہی ڈیرہ تھا علینہ اور ودحت کو اس نے اپنے گھر بھیج دیا اور ہمیں ڈیرے پر لے گیا۔۔۔

میں پہلی بار اس کے ڈیرے پر گیا تھا اچھا خاصا ڈیرہ تھا اس کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ ناصر کا ہے۔۔۔

خیر مجھے اس سے کیا لینا دینا تھا ہم نے وہاں کچھ گھنٹے گزارنے تھے اس لیے کچھ بولنا مناسب نہ سمجھا ۔۔۔

صبح تک وہاں رہے شاہ کو سکون کی دوائی دی وہ سو گیا لیکن میں جاگتا رہا ۔۔۔

پیپر کے وقت ناصر نے اپنی بائیک لا کر مجھے دی اور ہیلمٹ بھی لا دیا ۔۔۔

علینہ نے بھی نقاب کیا اور میں علینہ کو لے پیپر دینے چلا گیا ۔۔۔

کالج میں ہی پیپر تھا کالج میں مجھے کوئی ڈر نہیں تھا ۔۔۔

پیپر دے کر باہر نکلا بائیک نکال رہا تھا کہ میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔۔۔

میں نے گھوم کر دیکھا تو وہی پولیس والا تھا جو پرویز صاحب کے ہوتے ہوئے مجھے عمائمہ کے معاملے میں ملنے آیا تھا۔۔۔

میں نے بائیک میں چابی لگا لی اس کی طرف دیکھ کر سلام کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔۔۔

وہ اس وقت سول کپڑوں میں تھا اس نے کہا میں نے کہا تھا ناں کہ بہت تیز جا رہے ہو تم سمجھے نہیں۔۔۔

میں نے صرف مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔

اس نے کہا ایک بات تو ماننی پڑے گی تم ہو بڑے خوش قسمت عین وقت پر بچ جاتے ہو۔۔۔

میرے کان کھڑے ہو گئے میں نے کہا کہا مطلب آپ پر بار کوئی نئی بات لے کر آ جاتے ہیں۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا میں نے صحیح اندازہ لگایا تھا ۔۔۔

میں نے پوچھا آپ نے کیا اندازہ لگایا تھا۔۔۔

اس نے کہا رات جو کچھ ہوا شہر کے ایک محلے کی ایک بند گلی میں جو ہل چل ہوئی اس میں تم ملوث ہو۔۔۔

میں اس کی انفارمیشن پر حیران رہ گیا تھا لیکن میں ایسے تو مان نہیں سکتا تھا۔۔۔

میں نے کہا آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں کہ کہیں کوئی گڑ بڑ ہوئی اور اگر ہوئی ہے جیسا کہ آپ نے ابھی کہا کیونکہ پولیس والوں کو اکثر پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ لب کہاں کیا ہونے والا ہے تو اس میں میرا ہاتھ ہے ۔۔۔

ایک اور بات میں کالج میں پڑھنے آتا ہوں میرا آج پیپر تھا اور میں پیپر دے کر آ رہا ہوں پھر بھی آپ یہ بات کر رہے ہیں ۔۔۔

اس کے چہرے پر کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں تھا بس مجھے دیکھتا رہا ۔۔۔

بند سیکنڈ میرے مزید بولنے کا انتظار کرتا رہا اور بولا بس یا اور کچھ بھی کہنا ہے ۔۔۔

میں نے ناں میں سر ہلاتے ہوئے کہا اور کچھ نہیں ۔۔۔

اس نے کہا صحیح کہا تم نے کہ ہمارے پاس ساری معلومات ہوتی ہیں اور یہ بھی معلوم تھا کہ اس محلے میں رات کچھ ہونے ہونے والا ہے ۔۔۔

لیکن یہ کنفرم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور کیوں ہونے والا ہمیں ہمیشہ ادھوری معلومات ملتی ہیں۔۔۔

خیر یہ تو کنفرم ہو گیا کہ تم رات وہاں تھے جب وہاں گڑ بڑ ہوئی کیونکہ ہمیں جو معلومات ملی ہیں اسکے مطابق تمہیں وہاں جاتے دیکھا گیا تھا ۔۔۔

لیکن صبح تم وہاں سے نہئں آئے نہ ہی آس پاس کے لوگوں کو کچھ پتہ ہے ۔۔۔

میں نے بڑے غور سے اس کو دیکھا اور کہا اوہ تو ایسا ہے ٹھیک ہے پھر آپ ثبوت اکٹھے کریں ۔۔۔

میں بائیک پر بیٹھ گیا اور بائیک سٹارٹ کر لی پھر کہا اور ایک بات آپ چہرہ چھپا کر بھی چھپ نہیں پاتے تھوڑا اور کام کر لیں۔۔۔

وہ میری بات سن کر حیران ہوا اس سے پہلے کہ کچھ بولتا میں نے بائیک وہاں سے نکال لی اور ہیلمٹ لے کر وہاں سے نکل گیا اور علینہ کو لے کر ناصر کے گھر پہنچ گیا۔۔۔

آخری پیپر تھا اس لیے علینہ اور ودحت کو شاہ کے ساتھ بس میں سوار کر دیا کہ وہ گھر جائیں۔۔۔

ان کو بس میں سوار کروانے تک شام ہو چکی تھی اس کے بعد میں واپس ہوسٹل آیا ہوسٹل میں کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی۔۔۔

رات کو ہم نے بہاولنگر والی سائیڈ پر بھی جانا تھا۔۔۔

میں نے اپنا فون چارجنگ پر لگا کر آن کیا جو کہ پتہ نہیں کب سے بند پڑا تھا۔۔۔

میں نہا کر فریش ہوا ہوسٹل کے میس سے کھانا کھایا اور عابد سے رابطہ کیا۔۔۔

عابد نے بتایا کہ وہ شاہد اور ایجنٹ کے ساتھ ہے اس نے پیسے مجھے لا کر دینے کا کہا میں نے کہا مجھے ہوسٹل کے باہر آ کر فون کرنا۔۔۔

میں نے تیاری کی پستول بھی پاس رکھ لیا کچھ بھی ہوسکتا تھا۔۔۔

کافی دیر بعد مجھے شاہد کا فون آیا کہ وہ نیچے آ گئے میں نیچے ان کے پاس گیا اس نے مجھے پیسوں کا بیگ دیا میں بیگ لیا اور بائیک لے کر پیسے محفوظ جگہ رکھ آیا۔۔۔

محفوظ جگہ تو آپ لوگ بھی جانتے ہیں کونسی ہے بس وہیں چھپا آیا اور تھوڑا موڈ بھی بنا آیا۔۔۔

وہاں سے واپس آ کر عابد اور شاہد ایک بائیک پر اور میں اور عابد کا ایجنٹ ایک بائیک پر نکل پڑے۔۔۔

میں حیران تھا کہ ایجنٹ اس طرح اتنی دور تک ہمارے ساتھ بائیک پر جائے گا ۔۔۔

لیکن جو بھی تھا ہمیں جانا تو تھا اس لیے ہم نکل پڑے ساہیوال سے سیدھا بہاولنگر والی طرف روانہ ہو گئے سفر کافی لمبا تھا اور اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔۔

ہم نے سپیڈ پکڑ لی اور پنتالیس منٹ میں ہم عارف والا پہنچ چکے تھے۔۔۔

عارف والا سے نکل رہے تھے کہ ہمیں پولیس نے روک لیا وہ ناکہ لگائے کھڑے تھے ۔۔۔

میں اور ایجنٹ جس کا نام بھی معلوم نہیں تھا آگے تھے شاہد اور عابد ہم نے کچھ پیچھے تھے۔۔۔

پولیس نے کاغذی کاروائی شروع کی مجھے کالج سٹوڈنٹ سمجھ کر جانے دیے رہے تھے لیکن میرے ساتھ جو ایجنٹ موجود تھا اس کو دیکھ کر مجھے بھی روک لیا۔۔۔

ہمیں رکتا دیکھ کر شاہد نے پیچھے سے ہی ایک گلی میں بائیک موڑ لی جو آگے کہیں نکل رہی تھی۔۔۔

پولیس نے اس ایجنٹ سے شناختی کارڈ مانگا اور مجھے ایک طرف کھڑا کر دیا۔۔۔

میں اس وقت خود کو مصیبت میں پھنسا ہوا سمجھ چکا تھا کیونکہ اس ایجنٹ کا کریکٹر مجھے معلوم تھا۔۔۔

پولیس کانسٹبل میرے پاس آیا اور اس نے کہا چلو کاکے آ جا آج تجھے بڑے گھر کی سیر کروائیں۔۔۔

میں نے دل میں کہا لے بھئی بلو آج تو گیا کام سے ضرور اس کا کوئی کارنامہ ان کو معلوم ہو گیا ہے۔۔۔

اب تو لمبا پھنسے گا میں ڈرتے ہوئے اے ایس آئی کے پاس گیا اور سلام کیا۔۔۔

اس نے بڑے کرخت لہجے میں کہا چل اوئے بشیر پاؤ اینوں وی اندر تے لے چلو تھانے۔۔۔

میں منت سماجت کرنے لگا کیونکہ اگر ابھی پھنس گیا تو مجھے پتہ تھا پولیس نے کئی کیس مجھ پر ٹھوک دینے ہیں۔۔۔

میں بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک بائیک آ کر رکی اس پر بھی کوئی کالج سٹوڈنٹ تھا۔۔۔

اس نے میرا نام لے کر کہا اور صائم نواز عرف بلو تو اور یہاں میرے شہر میں سب خیر تو ہے ناں۔۔۔

اے ایس آئی نے اس کے منہ سے میرا نام سن کر اس کو کو کہا فیضان تو اس کو جانتا ہے۔۔۔

فیضان نے کہا ہاں جی میں کیا ہمارے علاقے کا کر سٹوڈنٹ اس کو جانتا ہے ۔۔۔

یہ بلو ہے اوہ سوری اس کا اصل نام صائم ہے ساہیوال گورنمنٹ کالج کا سٹوڈنٹ ہے اور بہت بڑا نام ہے اس کا ۔۔۔

یہ ایک مثالی طالب علم ہے جس نے کالج میں کئی غیر قانونی کاموں کو بند کروایا ہے اور بہت سے لڑکوں کو برج عادات سے بچایا ہے۔۔۔

میں اس سے ایک دو بار مل چکا ہوں پچھلے دنوں آپ نے دارے خاں کا سنا ہوگا منشیات فروش سیاستدان گرفتار ہوا تھا۔۔۔

وہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے اے ایس آئی نے بڑے غور سے مجھے دیکھا اور بولا لگتا تو نہیں ہے ۔۔۔

اگر یہ اتنے بڑے کام کر سکتا ہے تو میرے سنے بھیگی بلی کیوں بنا ہوا ہے۔۔۔

فیضان نے میری طرف دیکھا اور کہا جناب یہ تو بندے کی خوبی ہے کہ وہ شیخیاں نہیں مارتا۔۔۔

اے ایس آئی نے کہا مجھے تو اس کا ساتھی مشکوک لگا ہے۔۔۔

فیضان نے کہا جناب اس کو نہیں اس کو دیکھیں یہ ہم کالج سٹوڈنٹس کے لیے آئیڈیل ہے ایک ایسے سٹوڈنٹ جس پر ہم لوگ فخر کر سکتے ہیں۔۔۔

آپ مجھے جانتے ہیں ناں تو مجھ پر بھروسہ رکھیں یہ بندہ ٹھیک ہے ۔۔۔

پھر فیضان میری طرف گھوما اور پوچھا کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ۔۔۔

میں نے اس کو بتایا کہ بہاولنگر میں ایک شادی ہے وہاں جا رہے ہیں ۔۔۔

اس نے آو میرے ساتھ یار کچھ کھا پی لو پھر چلے جانا۔۔۔

میں اے ایس آئی کی طرف دیکھا تو فیضان نے کہا ان کو چھوڑو اپنے ہی ہیں بڑے اچھے آفیسر ہیں۔۔۔

اے ایس آئی نے بھی مجھے جانے کی اجازت دے دی ہم بائیک پر بیٹھے اور آگے بڑھ گئے تھوڑا آگے جا کر فیضان نے کہا یہاں ایک ہوٹل ہے رک جاؤ ۔۔۔

میں نے بڑا انکار کیا لیکن فیضان نہ مانا اس نے مجھے روک لیا ۔۔۔

میں نے شاہد کو فون کرکے اس ہوٹل کا بتایا وہ دونوں بھی واپس آ گئے۔۔۔

فیضان کو اس سے پہلے میں نہیں جانتا تھا اس دن کی اس سے جو ملاقات ہوئی اس نے ہمیں ایک دوسرے کے اتنا قریب کر دیا کہ آج تک ہماری دوستی قائم ہے۔۔۔

وہاں چائے پی کر ہم آگے چل پڑے ۔۔۔۔

وہاں سے جب ہم آگے بڑھے تھوڑا آگے گئے تھے کہ اس ایجنٹ نے کہا آگے دریائے ستلج کے پل پر بھی چیکنگ ہوتی ہے ۔۔۔

میں جو پستول جو اپنی ڈب میں لیے ہوئے تھا اس کی بات سن کر تھوڑا پریشان ہوا لیکن زیادہ اہمیت نہ دی۔۔۔

میں اس علاقے میں پہلی بات جا رہا تھا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا سوائے اس رات کے سفر کے وہ بھی گاڑی میں تھا اور واپسی پر بھی بس میں تھا تو کوئی خاص پتہ نہ چلا۔۔۔

اب جب بائیک پر جا رہے تھے تو بڑا کچھ جاننے کو مل رہا تھا۔۔۔

وہ ایجنٹ تو اس سارے علاقے سے واقف تھا عارف والا سے آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ایک قصبہ سا آیا۔۔۔

اس ایجنٹ نے مجھے بتانا شروع کیا رانجھا جب ہیر کو لے کر بھاگا تھا تو اس جگہ آ کر پکڑا گیا تھا۔۔۔

میں نے بڑے غور سے اس طرف دیکھا تو مجھے ایک ٹیلا سا نظر آیا۔ جس پر آبادی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔

اس نے بتایا کہ آج بھی دن میں جہاں سے دھواں اٹھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔۔۔

اس کے بارے میں بھی اس نے بتایا کہ جب رانجھا اور ہیر یہاں رکے تھے تو ایک جوگی بابا تھا جس کے پاس وہ موجود تھے۔۔۔

ہیر کے رشتہ داروں خاص طور پر قیدو نے اس کے سسرال والوں کو بھڑکا کر اس پورے گاؤں کو آگ لگا دی تھی۔۔۔

اتنی صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہاں سے ابھی تک دھواں اٹھتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔

ایسا اس علاقے کے لوگوں کا سوچنا تھا کہ یہ سب اسی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ دو سچے پیار کرنے والوں کو الگ کرنے کے لیے جو کیا گیا تھا ۔۔۔۔

اس ایجنٹ نے جو کچھ کہا اس کے بارے میں اس وقت تک میں کچھ نہیں جانتا تھا نہ ہی میں نے ہیر رانجھا کے بارے میں کچھ پڑھا تھا بس نام سنا تھا۔۔۔

کافی عرصہ بعد میں نے اس بارے میں پڑھا تھا اور پھر ہیر رانجھا کے مزار پر بھی گیا تھا ۔۔۔

خیر ہم رات کے وقت اس سڑک پر تیز رفتاری سے بائیکس بھگاتے جا رہے تھے۔۔۔

دریائے ستلج کے پل پر پہنچے وہاں بھی پولیس کا ناکہ تھا لیکن کسی نے ہمیں نہ روکا اور ہم وہاں سے بغیر کسی مشکل کے گزر گئے۔۔۔۔

اس کے بعد ہم بہاولنگر بائی پاس سے ہوتے ہوئے سیدھا گزر گئے یہ روڈ وہی تھی جس پر میں پہلے بھی جا چکا تھا جو فورٹ عباس جاتا تھا۔۔۔

اس پر سفر کرتے ہوئے ہم ایک گھنٹے میں ایک قصبہ ڈونگہ بونگہ پہنچ گئے۔۔۔۔

وہاں سے آگے ایجنٹ نے مجھے رستہ بتانا شروع کیا فورٹ عباس والا روڈ چھوڑ کر ہم بارڈر والی سائیڈ پر بڑھنے لگے۔۔۔

ڈیڑھ گھنٹا ہمیں مزید لگ گیا اس طرح سے چھوٹی بڑی پلیں کراس کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے گئے۔۔۔

روڈ کافی خراب تھا اور کئی جگہ پر رینجر کی چوکیاں بھی لگی تھیں جہاں کوئی چیکنگ نہیں تھی ۔۔۔

پہلی چوکی پر تو میں ڈر گیا تھا کہ شاید بارڈر آ گیا لیکن جب ہمیں کسی نے نہ روکا تو ہم آگے بڑھ گئے پھر ایک چھوٹی سی نہر آئی۔۔۔

اس کو پار کرتے ہی ہم اس کے کنارے پر مشرق کی طرف چلنے لگے۔۔۔

ایجنٹ اس علاقے کے چپے چپے سے واقف تھا وہ مجھے رستہ بتاتا جا رہا تھا اس نے مجھے آہستہ آہستہ چلنے کا کہا۔۔۔

میں تھوڑا آہستہ بائیک چلاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔۔۔

اس رستے پر ہم نے کوئی آٹھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور پھر دائیں طرف مڑ گئے ۔۔۔

وہاں سڑک کے نام پر بس نشان ہی تھا اکا دکا آبادی نظر آ رہی تھی۔۔۔

ہر طرف ریت ہی ریت تھی کہیں کہیں سخت زمین آ جاتی تھی۔۔۔

اس طرف بھی ٹیڑھے میڑھے رستے پر ہم نے چار کلومیٹر کا سفر کیا تو ایک آبادی نظر آئی ۔۔۔

رات چاندنی تھی بارہ کے قریب وقت ہو چکا تھا ۔۔۔

ایجنٹ نے مجھے لائٹ بند کرنے کا کہا میں نے بائیک کی لائٹ بجھائی تو پیچھے آتے شاہد نے بھی لائٹ بجھا دی۔۔۔

ہم اس آبادی میں داخل ہو گئے ایجنٹ کے بتائے ہوئے ایک گھر کے سامنے بائیک روک دی۔۔۔

ایجنٹ نے ایک عجیب سی آواز نکالی اسی کے جواب میں چند سیکنڈ بعد ایک اس سے ملتی جلتی آواز آئی۔۔۔

ہم بائیک سے اترے اور اس گھر میں داخل ہو گئے ایجنٹ اندر گئے تو چار آدمی موجود تھے۔۔۔

اس آدمی نے کسی کو آواز دی اندر سے ایک سانولا سا لڑکا نکلا اور باہر گیا بائیکس کو اندر لے آیا۔۔۔

اس نے ہمیں چارپائی پر بٹھایا اور چائے پیش کی ہم نے سب نے چائے نوش کی۔۔۔

چائے پینے کے بعد وہ پنجابی میں بولا چل ادھر آ میری گل سن تو فیقیا ۔۔۔

اس ایجنٹ کا نام اس وقت مجھے پتہ چلا کہ وہ فیقا ہے۔۔۔

وہ ایک طرف گئے اور کچھ دیر بات چیت ہوتی رہی اس کے بعد وہ واپس آیا اور اس نے کہا دو گھنٹے لگیں گے۔۔۔

عابد نے پوچھا یہاں دو گھنٹے لگیں گے یا آگے جانے میں۔۔۔

اس نے کہا یہاں سے آگے دو گھنٹے لگیں گے ہم الگ جائیں گے ہمارے ساتھ بھولا جائے گا ۔۔۔

دوسرا گروپ ان لوگوں کا ہے جو دوسری طرف سے جائیں گے۔۔۔

اور ابھی نکلنا ہوگا دوسری طرف سے لوگ چل پڑے ہوں گے جو اس طرف آئیں گے۔۔۔

میرے لیے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ دوسری طرف سے لوگ یہاں آئیں گے اور یہاں سے ادھر جائیں گے ۔۔۔

کیا بارڈر کراس کرنا اتنا آسان ہوتا ہے میں نے تو سنا ہوا تھا کہ بڑی سکیورٹی ہوتی ہے بارڈر پر۔۔۔

خیر ہم اسی وقت وہاں سے نکل پڑے اور اس فیقے کی رہنمائی میں چلنے لگے۔۔۔

فیقا بڑی تیزی سے آگے چل رہا تھا جب کہ ہمارے پاؤں ریت میں دھنس رہے تھے۔۔۔

ہم بڑی مشکل سے چل پا رہے تھے جب کہ وہ بڑی آسانی سے چل رہا تھا۔۔۔

آہستہ آہستہ چاند ڈھل رہا تھا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔۔۔

جھاڑیوں میں ہر موڑ پر ایسا لگتا کہ سامنے سے کوئی آ رہا ہے لیکن ہم آگے بڑھتے رہے۔۔

اونچے نیچے ریت کے ٹیلوں میں سے ہوتے ہوئے آگے چلتے گئے۔۔۔

پھر ایک جگہ ایسی آئی کہ دوسری طرف کچھ نظر نہیں آ رہا تھا کافی اونچا ٹیلا تھا۔۔۔

وہاں فیقے نے ہمیں رکنے کا اشارہ کیا اور خود آگے بڑھ کر ٹیلے پر لیٹ گیا۔۔

پھر اس نے واپس نیچے آ کر کہا کہ اب ہم زیرہ لائن کے قریب ہیں اور دوسری طرف سے اشارہ ملنے کا انتظار کرنا ہوگا۔۔۔

کافی دیر گزر گئی لیکن کوئی اشارہ نہ ملا جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ہماری پریشانی بڑھ رہی تھی۔۔۔

جب مزید کچھ وقت گزرہ تو فیقا بھی پریشان ہونے لگا۔۔۔

فیقے نے کچھ دیر مزید انتظار کیا اور پھر ٹیلے پر چڑھ گیا۔۔۔

جب تک وہ نیچے نہیں آیا ہماری جان سولی پر اٹکی رہی۔۔۔

ہم اپنی سانسوں کی آواز تک سن سکتے تھے ہماری دھڑکنیں بہت تیز چل رہی تھیں۔۔۔

ہم پسینے سے بھیگ چکے تھے ہمیں پسینے کی بو تک محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

سینوں میں تو ایسے لگ رہا تھا جیسے طوفان برپا ہو۔۔۔

فیقا نیچے آیا اور اس نے ہمیں اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔

ایک بار سفر شروع ہوا اس بار بڑا مشکل سفر تھا ۔۔۔

ہر طرف جھاڑیاں کی جھاڑیاں تھیں جن مے کانٹے ہمیں چبھ رہے تھے۔۔۔

ہمارے کپڑے تک ان جھاڑیوں سے الجھ کر پھٹ رہے تھے۔۔۔

وہ تو شکر ہے کہ میں نے اور شاہد نے جینز پہنچی ہوئی تھی۔۔۔

جس کی وجہ کافی بچت ہو رہی تھی اب کی بار ہمیں آدھا گھنٹہ چلنا پڑا ۔۔۔

پھر جھاڑیوں میں دبک گئے کیونکہ دوسری طرف گاڑی چلنے کی آواز آ رہی تھی۔۔۔

ہم اس وقت تک جھاڑیوں میں چھپے رہے جب تک گاڑی کی آواز آنا بند نہیں ہو گئی۔۔۔

پھر فیقے نے عابد کو کہا اب تم چلو میرے ساتھ اور آپ لوگ یہیں رکو اگر مجھے دیر ہو جائے تو کوشش کرنا کہ کسی کی نظر میں آئے بغیر نکل جاؤ کیونکہ اگر دن کی روشنی نکل آئی تو واپس جانا مشکل ہو جائے گا۔۔۔

عابد فیقے کے ساتھ آگے بڑھ گیا اور ہم بھولے نے کہا بھاؤ تساں پریشان نہ تھیوو اساں جا ویسو میں ہناں کوو پہنچا دیساں۔۔۔

فیقے نے سر ہلایا اور عابد ہم سے گلے ملا اور فیقے کے ساتھ آگے بڑھا اور فیقا ایک جھاڑی کے پاس رکا ۔۔۔

اس نے وہاں سے ریت ہٹائی اور پھر وہاں سے ایک تختہ اٹھایا اور اس میں اتر گیا۔۔۔

عابد بھی اس کے پیچھے اتر گیا وہ دونوں اندر اتر گئے جب کہ ہم وہیں رک کر انتظار کرنے لگے۔۔۔

آدھا گھنٹا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک بار پھر جھاڑیوں میں ہل چل ہوئی اور فیقا باہر نکل آیا۔۔۔

اس کے پیچھے ایک اور بندہ باہر آیا فیقے نے پھر سے وہاں ریت برابر کی ۔۔۔

فیقا بڑی تیزی سے ہمارے پاس آیا اور بھولے سے پوچھا گاڑی واپس گزر گئی کہ نہیں۔۔۔

بھولے سے پہلے میں بول پڑا نہیں اور عابد کو چھوڑ آئے۔۔۔

اس نے کہا ہاں اور ہمیں اشارہ کیا چلو ہم اس کے پیچھے پیچھے پھر چل پڑے۔۔۔

مجھے جاگتے ہوئے دوسری رات ہو گئی تھی جس کی وجہ سے بڑی تھکن ہو رہی تھی ۔۔

فیقا تیز چلنے کا کہہ رہا تھا لیکن مجھ سے چلا نہیں جا رہا تھا۔۔۔

پھر بھی کوشش کر رہا تھا کہ اس کے پیچھے چلتا جاؤں لیکن ان کے ساتھ نہیں چل پا رہا تھا۔۔۔

ہمیں چلتے ہوئے ڈیڑھ گھنٹا ہو گیا تھا اب تو شاہد بھی تھک چکا تھا ۔۔۔

ابھی تک ہم آبادی کے قریب بھی نہیں پہنچے تھے۔۔۔

آبادی سے تھوڑا دور ہی تھے کہ آبادی میں گاڑیاں داخل ہوتی نظر آئیں ۔۔۔

بھولا اور فیقا دونوں ایک ساتھ رک گئے اور ہمیں ایک طرف لے گئے اور جھاڑیوں میں چھپا دیا۔۔۔

خود بھی ہمارے ساتھ چھپ گئے دس منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ دو گاڑیاں بڑی تیزی سے ہمارے قریب سے گزریں اور اس طرف بڑھ گئیں جدھر سے ہم آئے تھے۔۔۔

فیقے اور بھولے نے ان کے جانے کے بعد ہمیں آبادی کی مخالف سمت لے کر چلنا شروع کر دیا۔۔۔

میں نے ان سے پوچھا یہ سب کیا ہے اور گاڑیاں کس کی تھیں۔۔۔

فیقے نے بتایا کہ بارڈر فورس والے تھے جن کو یقیناً کسی نے مخبری دی ہو گی کہ آج آرپار کرنے والے ہیں۔۔۔

اب یقیناً آبادی میں صبح تک وہ لوگ رہیں گے اور تم بائیکس تو بھول جاؤ اگر اس پر گئے تو علاقے سے نکل نہیں پاؤ گے۔۔۔

اب دوسرے رستے سے جانا ہوگا جس طرف ہم جا رہے ہیں اس طرف چلتے رہے تو صبح ہونے تک ہم روڈ پر پہنچ جائیں گے جہاں سے کوئی سواری مل جائے گی ۔۔۔۔

میں نے وقت کا اندازہ لگایا پانچ کے قریب ہو گا کیونکہ اذانیں آنے لگی تھیں۔۔۔

ہم فیقے اور بھولے کے ساتھ چلنے لگے مر مر کر قدم اٹھا رہے تھے ۔۔۔

میرے پاؤں من بھر کے ہو گئے تھے جب سے ہم نکلے تھے پانی کا ایک گھونٹ تک گلے میں نہیں اترا تھا۔۔۔

گلا خشک ہو چکا تھا مزید آدھا گھنٹہ چلے ہوں گے کہ ہمیں روشنی نظر آنے لگی۔۔۔

میرے گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے روشنی دیکھ کر ہم میں ایک نئی ہمت پیدا ہو گئی۔۔۔

ہم تیز تیز چلنے لگے اور روشنی کے قریب ہونے لگے۔۔۔

جلدی پہنچنے کے چکر میں ہم ارد گرد سے بے خبر ہو گئے یہ بھی بھول گئے کہ یہ روشنی ہمارے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔

ہم آگے بڑھتے رہے ایک چھوٹا سا نہر کا پل آیا ہم نے اس کو پار کیا ابھی تھوڑا ہی دور گئے ہوں گے کہ پانچ چھ لوگ ایک طرف سے نکل کر سامنے آگئے۔۔۔​​





Source link

Leave a Comment