دوسرے دن صبح رشمی باتھ روم میں نہا رہی تھی….. کہ اچانک اس کے ہاتھ سے صابن گر گیا….. اس کی آنکھوں میں صان لگے رہنے سے وہ اپنی آنکھیں نہیں کھول پارہی تھی … تبھی وہ اپنی ماں کو آواز لگائی…. اس کی ماں اس وقت اپنے پڑوسی کے یہاں گئی ہوئی تھی…. پاس ہی رنجیت اخبار پڑھ رہا تھا… آواز سنتے ہی وہ آیا اور اسے صابن اٹھا کر دے دیا… پر جب وہ رشمی کو بالکل ننگی دیکھا تو اس کا لنڈ کھڑا ہو گیا …اور وہ اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور کہا…. لاؤ میں صابن لگا دیتا ہوں………………………………………………………………
رشمی: ارے پاپا… آپ….. آپ جائیے…… میں نہا لوں گی…. تبھی رنجیت نے فلش آن کر دیا… اور پھر رشمی جھرنے میں نہانے لگی….. صابن کا اثر ختم ہو گیا تھا…. وہ بالکل ننگی رنجیت کے آگے تھی………….. رنجیت نے اسے غور سے دیکھتی رہا …. کیا غضب کی خوبصورتی تھی اس کی……. جب سارا پانی نکل گئی تو ایک ٹاول لے کر رشمی کے پورے جسم کو دھونے لگا……. وہ دبا دبا کر پانی کو پونچھنے لگا…………. رشمی صرف مسکرا رہی تھی…. کیا بات ہے؟؟؟ آج زیادہ ہی سیوا کی جارہی ہے ……….. بس یوں ہی… اپنی نئی نویلی بیوی کو نہلا رہا ہوں… واقعی کیا خوبصورتی ہے… وہ جھک کر اس کے چھاتیوں کو کس کیا اور ہونٹوں کو بھی…. پھر وہ نیچے کمر، ناف، چوت اور اس کی گانڈ پر کس کیا…………… رشمی کا پیٹ تھوڑا اٹھ گیا تھا….. وہ اس کے پیٹ کو کس کیا اور کہا…… کیسے ہو میرے بچے………. ٹھیک ہو….
رشمی نے انہیں روکتے ہوئے کہی…… میرے بیٹے کو پریشان مت کرو….. آپ جاؤ …. میں ابھی آئی۔
دوسرے دن کروا چوتھ تھا…… یعنی سنگاپور جانے کے 2 دن پہلے….. اس دن رشمی، ممتا اور نیہا کافی سجی سنوری ہوئی تھیں …… اور ہو بھی کیوں نہ …. جب رنجیت جیسا مرد ان کے ساتھ ہو………………….. صبح اٹھتے ہی نیہا نے فون کیا…..
نیہا: رشمی تم ممی کو لے کر یہاں آ جانا….. کروا چوتھ ساتھ ساتھ منائیں گے………………. تم کر رہی ہو نا
رشمی: ہاں ہاں کیوں نہیں…… آفیشلی میں بیوہ ہوں… پر من سے میں اپنا پتی چن لیا ہے… سو اب پاپا ہی میرے پتی ہیں………. تو میں ان کی لمبی عمر کے لیے ضرور کروں گی…………….. پاس ہی کھڑی ممتا سن رہی تھی… وہ مسکرا دی……… ہاں. میں اور ممی آ جائیں گی… شام کو 5 بجے… تم مت کچھ کرنا … ہم لوگ ساتھ ساتھ بنا لیں گے………… اوکے
نیہا: کافی خوش لگ رہی تھی… وہ اپنے کمرے اور گھر کو سجایا… آج کے دن ایک کام والی بھی رکھ لی… کیونکہ اتنے بڑے گھر کو صاف کرنا اس کے بس میں نہیں تھا… آج آفیشلی چھٹی بھی لے رکھی تھی……………….. اس کے بعد 12 بجے کے آس پاس کچھ شاپنگ کرنے چلی گئی… ہاتھوں میں مہندی… چوڑیاں…. کچھ سنگھار کے سامان خریدی……………………… پھر جب واپس گھر کی اور آنے لگی تو وہ رنجیت کو فون کیا……………………..
نیہا: ہائے………. کیسے ہیں…..
رنجیت: ٹھیک ہوں….. میٹنگ میں تھا….
نیہا: پتہ ہے آج کیا ہے؟؟؟
رنجیت: کیا ہے…… کچھ سوچتے ہوئے
نیہا: آج کروا چوتھ ہے… آنٹی نے نہیں بتایا؟؟؟
رنجیت: ارے ہاں یار یاد آیا…. ارے باپ رے….. مجھے تو شاپنگ بھی کرنی ہے……. اوکے میں شام کو بات کرتا ہوں
نیہا: ارے سنو تو…………….. بہت جلدی ہے آپ کو………… میں بھی برت رکھی ہوں… تمہارے لئے… آپ شام 6 بجے آنٹی اور رشمی کو لے کر یہاں آ جانا….
رنجیت: میرے لئے??? مطلب…… چٹکی لیتے ہوئے
نیہا: جی ہاں پتی مہودے… میں نے آپ کو پتی مانا ہے………….
رنجیت: لیکن تمہارا پتی تو راجیش ہے……..
نیہا: وہ تو آفیشلی ہیں……. لیکن تن اور من سے آپ ہیں………………..
رنجیت: یہ کب ہو گیا….؟؟؟؟…..
نیہا: یہ تبھی ہوا جب آپ نے میرے پیٹ میں اپنا رس ڈالا تھا ….. اور میری چدائی کی تھی….
رنجیت: چپ…… دھیرے بولو…. کوئی سن لے گا…. میری نوکری چھڑوائے گی کیا…
نیہا: تبھی تو کہتی ہوں کہ اچھے بچے کی طرح 6 بجے آ جانا……… اور ہاں… میں کچھ نہیں کھارہی ہوں… تو تم اس دلہن کے لئے کچھ لے کے آنا………
رنجیت: کیا لے کے آؤں…؟؟؟
نیہا: وہ آپ سوچو…………. میں کیوں بتاؤں…
رنجیت: کچھ اشارہ دو پلیز…….
نیہا: اشارہ مطلب آپ کا وہ ……….
رنجیت: وہ تو ملے گا ہی………….. مگر اور بھی بتاؤ
نیہا: تحفہ
رنجیت: کیا تحفہ چاہیے
نیہا: جو آپ دیں گے
رنجیت: کیا دوں؟؟؟
نیہا: سوچنے لگی………… کیسا آدمی ہے…. کوئی پوچھتا ہے کیا…….. کہ کیا دے…. پھر بھی وہ چڑتے ہوئے………….. سونے کا ہار
رنجیت: اوکے……. میری جان… یہ تو میرے ہاتھوں میں ہے………. میں نے 3 ہار سونے کے خرید لئے ہیں… میں ابھی ایک جیولری کی دکان سے بول رہا ہوں…
نیہا: سچ ؟؟؟
رنجیت: 100% سچ ………….. وہ ملا تھا نا ایوارڈ کے پیسے…. اس میں سے 20,000/- کے تین ہار خرید لئے ہیں…………. اب تو خوش؟؟؟
نیہا کچھ نہیں بولی………………………………. صرف اتنا ہی بولی… میں تمہارا انتظار کررہی ہوں …………… آئی لو یو ……………… رنجیت نے بھی بولا…. آئی لو یو ٹوبے بی …..
اوکے اینڈ آؤٹ۔
شام کو 6 بجے سبھی لوگوں کا نیہا کے عالی شان فلیٹ میں جمگھٹ لگا….. ممتا، رشمی، نیہا اور رنجیت……. موجود ہوئے….. کھانا بنانا، گیت گانا، ٹی وی، انجوائےمنٹ، اور ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق……. رشمی اور نیہا دونوں رنگ برنگی ساڑیوں میں سجی……….ایسے لگ رہا تھا مانو کوئی سونے کی پریاں دھرتی پر اتر آئی ہوں ………… جہاں رشمی تھوڑی موٹی لگ رہی تھی وہیں نیہا سلم اور ہاٹ دکھ رہی تھی…… دونوں کی خوشیوں کو ممتا دور سے بھانپ رہی تھی… شاید اسے معلوم تھا کہ اس خوشی کے پیچھے کیا ہے……………. لیکن وہ بھی بہت خوش تھی ………. ان کا من تھا کہ خوشیاں چاہے جیسے بھی ہو… اسے شیئر کرنا چاہیے…………… تبھی رنجیت نے ممتا کو جھک چھیڑا …. دیکھو … یہ دونوں کتنی خوش لگ رہی ہیں….. کہتے ہیں نا کہ جب من اور تن دونوں ساتھ دیں تو خوشیاں ڈبل ہو جاتی ہیں… ہے نا…. ممتا نے مسکرا کر سر ہلا دیا….. صرف اتنا ہی بولی… سب آپ کے آشیرواد کا نتیجہ ہے………… جب میں ان لوگوں کو دیکھتی ہوں تو ہمارا دن یاد آ جاتا ہے…. پر کیا کروں… اب وقت نکل گیا ہے……. پر ان بچوں کو دیکھ کر اپنا دن یاد کر لیتی ہوں………. پر آپ آزاد ہیں میرے طرف سے… ہمیں کچھ نہیں چاہیے….. اور پھر آ پ کی وجہ سے کسی کو خوشی ملتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے………… میں سپورٹ کروں گی……….. نیہا کو بچہ چاہیے…. تو آپ انہیں دیں گے….. جس پرکار میرے بچے کو اپنا پیار دیا ہے …. اس کو بھی دیں ……………………………………
رنجیت: ممتا…. تم جانتی ہو کیا کہہ رہی ہو…………….
ممتا: جی ہاں… میں ٹھیک کہہ رہی ہوں… اور میں سب جانتی بھی ہوں… پر اس میں مجھے کوئی برائی نہیں لگتی ………………. اگر من صاف ہو کوئی برا نہیں ہوتا…. میں آپ کو کبھی غلط نہیں سمجھتی…. کیونکہ آپ کا من صاف ہے….. آپ نے کبھی کچھ نہیں چھپایا………………………………………………………. تبھی تو کہتی ہوں کہ آپ مجھے مت لے جائیں …………….. رشمی کو لے جائیں …. اس میں اور نیہا میں بہت پیار بھی ہے…… دونوں کا گھومنا بھی ہو جائے گا اور من بھی لگا رہے گا…………………..
اور میری فکر مت کرو….. میں ٹھیک ہوں…. ہاں فون ضرور کر دینا کبھی کبھی..
رنجیت کا من پگھل گیا… وہ ممتا کو گلے لگا لیا…. اور تھوڑی دیر تک ایسے ہی رہا…………………….. تبھی دروازے پر دستک ہوئی…. رشمی اہم اہم کرتے ہوئے کہی…. کیا بات ہے…. کیا نظارہ ہے….. آپ تو بالکل ایک دوسرے کے لئے والے ہیرو اور ہیروئن لگ رہے ہو۔
رنجیت رشمی کو ہی دیکھے جا رہا تھا جب وہ چاند کو چھلنی میں دیکھ رہی تھی…. رنجیت اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا….. وہ اس کی گانڈ کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا… اس کی گانڈ ایک دم پٹاخہ تھی ….. اور پھر جب سے اس کے پیٹ میں بچہ گیا .. تب سے تھوڑا اور پھیل گئی تھی…… اور پھر اس کلر کی ساڑی میں بالکل سیکسی بم لگ رہی تھی…… اب وہ جھک کر کچھ اٹھائی….. رنجیت کے آگے اس کے دونوں بڑے بڑے بوبس دکھائی دینے لگے….. بلاؤز کا کٹ کافی دیپ تھا… جتنا آگے تھا اتنا ہی پیچھے تھا…… ساڑی کی گانٹھ کافی نیچے کی اور تھی.. جس سے اس کے ناول صاف صاف دکھائی دے رہی تیھ …….. نیہا یہ سب غور سے دیکھ رہی تھی اور اپنے باری کا ویٹ کر رہی تھی……………………………………. تھوڑی دیر بعد رشمی رنجیت کے آگے آئی اور اس کی آرتی اتارنے لگی…….. پھر انہیں رولی کا ٹیکا لگایا اور اس کے ہاتھوں میں پانی کا ایک چھوٹا سا لوٹا دے دیا اور اشارے سے کہا کہ آپ مجھے یہ پانی پلائی………………….. رنجیت نے اسے تھوڑا سا پانی پلایا اور اس کے بعد اس کے پانی سے بھیگے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لے کر رنجیت چوسنے لگا… پھر وہ الگ ہو گیا……………….. پانی کافی ٹیسٹی لگا…………. اس وقت رشمی اور نیہا ہی تھے چھت پر ممتا ابھی نہیں آئی تھی…. آس پاس کے چھتوں پر بھی مہیلایں اپنے پتی کی آرتی دکھا رہی تھی………………….. لیکن چھت دور ہونے کے کارن کوئی بھی انہیں نہیں دیکھ سکتا تھا…………………………… اب رشمی رنجیت کے کافی قریب آ گئی اور اسے پرساد کا ایک کور کھلایا اور کہا کہ اس کا تھوڑا سا حصہ ہمیں بھی کھلائے…………. رنجیت نے تھوڑا سا کھایا اور پھر اپنے ہونٹ میں پرساد کا کور لیے ہوئے رشمی کے منہ میں ڈال دیا… رشمی اسے چاو سے بنا کوئی بھے کے کھانے لگے… تب تک رنجیت کے ہاتھ رشمی کے سارے شریر پر دوڑ رہے تھے…. خاص طور پر اس کی بھاری گانڈ اور چھاتیوں پر………………… گانڈ کی گہرائی میں اپنے ایک انگلی کو اتاردیا تھا … اور گہرائی ناپ رہا تھا……………………………………………….. نیہا کو شرم آ رہی تھی…. جب نہیں رہا گیا تو اپنی نظریں دوسری اور کر دی……………………………………………………………………………………….
اب دونوں الگ ہو گئے تھے…………….. رشمی نے نیہا کو بولا… اب تمہاری باری ہے……… آجاؤ .. میدان میں…….. میں جا رہی ہوں ممی کو بلانے……………………
نیہا: نہیں تم ابھی یہی رہو جب تک میں پوجا نہ کر لوں……………. اور وہ بھی برت کا پروسیس ویسے ہی کیا جیسے رشمی نے کیا تھا… فرق صرف اتنا تھا… کہ وہ اسے پرساد اپنے ہاتھ سے نہیں بلکہ اپنے ہونٹوں سے کھلایا…. جواب میں رنجیت نے بھی ویسے ہی کھلایا…………….. اور جم کر ایک دوسرے کا لطف اٹھایا…. لاسٹ میں رنجیت نے دونوں کو کہا………….. ہیپی کروا چوتھ…………………………..
ویسے نیہا کی گانڈ بھی کم لاجواب نہیں تھا…… اور ممے بھی……….. پر رشمی جیسی نہیں… اور کیوں نہ ہو… رشمی اب پریگننٹ جو تھی…. جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے… تو عورتوں کی بناوٹ بڑھ جاتی ہے………………………………………. گورا بدن اور اس پر گدراپن………………….. ساڑی میں لپٹی……. ایک دم مینکا لگ رہی تھی…………………………………. رنجیت کا من کر رہا تھا کہ آج رشمی کو جم کر چدائی کرے………….. نیہا کو تو سنگاپور ٹور میں چود ہی لے گا…… اسے رشمی سے پیار آ رہا تھا…. اس نے اشارے میں رشمی کو کہا کہ تم تیار رہو…………… چدنے کے لئے…………. رشمی صرف مسکرا دی… اور دھیرے سے کہی: میرے بے شرم باپ…………. سدھر جاؤ
رات کو 9 بجے تک تینو ں خوب مزے کیے…. کھانا کھانے کے بعد ممتا اپنے بیڈ پر چلی گئی….. نیہا، رشمی اور رنجیت تینو ٹی وی دیکھ رہے تھے… کوئی انگلش فلم چل رہی تھی…. جو کہ کافی ہاٹ تھی….. تینو مزے لے لے کر ٹی وی کا مزا لے رہے تھے….. رشمی رنجیت کے گود میں بیٹھی ہوئی تھی….. رشمی اور نیہا گاؤن میں تھی وور رنجیت صرف ایک نیکر میں…………………….. نیکر میں اس کا لنڈلوہا بنا ہوا تھا… رشمی کے گانڈ کی باہر سے وہ زیادہ ہی سیکسی لگ رہا تھا… رشمی بھی نوٹس کر رہی تھی… کہ اگر نیکر اور اس کا گاؤن نہ ہو تو اس کا لنڈ ضرور اس کے گانڈ میں چلا جائے گا……………… وہ کنکھیوں سے رنجیت کی اور دیکھتی تھی اور پھر ایڈجسٹ کر کے ویسے ہی بیٹھ جاتی… نیہا رنجیت کے بائیں طرف تھی اور رنجیت کا دایاں ہاتھ نیہا کے کاندھے سے ہوتے ہوئے اس کے رائٹ ممے کو اپنے ہاتھوں میں لے رکھا تھا………………… نیہا بیچ بیچ میں کافی گرم ہو جاتی تھی تو وہ رنجیت کے ہونٹوں کو چوس لیتی تھی… یا رنجیت کے لنڈ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتی تھی… وہیں رشمی اپنے گانڈ کی باہر اس کے لنڈ پہ دبا دیتی… تبھی لائٹ چلی گئی………………………………… رشمی نے کینڈل جلانا ضروری نہیں سمجھا…
نیہا اٹھ کر کینڈل جلانے چلی گئی… پر رشمی نے منع کر دیا…. رہنے دے……. نیہا وہیں پر چپ چاپ بیٹھ گئی………….. اور رنجیت نے رشمی کو پٹک دیا…… اور اس پر چڑھ گیا….. اپنے ہاتھوں سے اس کے گاؤن نکال دیا اور برا اور پینٹی کو کھول دیا…. دونوں تو پہلے سے گرم تھی ہی…… رشمی نے نیہا سے کہا…… نیہا.. میں ذرا پاپا سے مزے لینا چاہتا ہوں…. تم تھوڑی دیر کے لئے…………….
نیہا: ضرور… اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں ہے… میں جا رہی ہوں آنٹی کے ساتھ سونے…… گڈ نائٹ۔
رشمی نے بولی کچھ نہیں صرف مسکرا دی…………. رنجیت تب تک اس کے برا کا سٹریپ کھول چکا تھا…. برا وہیں فرش پر رکھ دیا… اور ایک ممے کو منہ میں لے کر چوسنے لگا…. رشمی کا حال برا تھا… وہ بھی اپنے دونوں ہاتھوں سے رنجیت کی پیٹح کو پکڑ لیا اور ان کے گالوں اور ہونٹوں کو چوسنے چاٹنے لگی…………………. کیا بات ہے پاپا…. آج تو زیادہ ہی گرم دکھ رہے ہو…؟؟؟
رنجیت: کیا کروں… تمہیں چودے ہوئے کتنے دن ہو گئے ہیں……… اور ویسے بھی 1 ہفتہ تم سے دور جا رہا ہوں… تمہارے بغیر کیسے رہوں گا…………………………
رشمی: وہاں نیہا جو رہے گی…………. اب ہماری کیا فکر…
رنجیت: تم ایسا کیوں سوچتی ہو……………..
رشمی: کیا کریں…. اب میرا من آپ کے بغیر نہیں لگتا….. جب سے آپ میرےپیار میں آئی ہوں … تب سے میرے اندر جلن ہوتی رہتی ہے… یہ جلن آج دور کر دو میرے راجہ………..
رنجیت: تبھی تو تمہیں آج چودنا چاہ رہا ہوں……. آج میں تمہاری گانڈ مارنا چاہتا ہوں… دیکھیں کہ تمہاری گانڈ کا سواد کیسا ہے…
رشمی: گانڈ….. افففف پاپا یہ بھی کوئی چودنے کی جگہ ہے…
رنجیت: ارے…….. یہ تو بہت اچھی جگہ ہے چودنے کے لئے……. یہ کیا ہوتی ہے کوئی مرد سے پوچھو۔
رشمی: نہیں پتا جی…………. میں صبح سے ٹوائلٹ گئی نہیں ہوں………………….. اس لیے میں منع کر رہی ہوں۔
رنجیت: کوئی بات نہیں………………. صبح سے تم کچھ کھائی نہیں ہو… مجھے معلوم ہے… کچھ نہیں نکلے گا………………. تم فکر مت کرو
رنجیت: کیا تمہیں گانڈ مروانے کا من نہیں کرتا…………….. کیا کبھی اپنے پتی سے گانڈ مروائی تھی ………….؟؟؟ ایسے کئی سوال رنجیت نے کیا…………… رشمی کو شرم آ رہی تھی پر ان باتوں سے اسے مزے بھی مل رہے تھے…. جب وہ اس کے بچے کی ماں بن گئی ہے تو کاہے کی شرم…. پر یہ بات سچ تھا کہ وہ کسی سے بھی گانڈ نہیں مروائی …………… پر ہاں سنا ضرور ہے………….. ایک تو نیہا سے اور دوسرے اپنے پتی……. سے……………. جو کہ اس دنیا میں نہیں ہے۔
نیہا بتاتی ہے کہ گانڈ مروانے میں بہت درد ہوتا ہے… پر مزہ بھی بہت آتا ہے………………….. میں بھی آپ سے گانڈ مروانا چاہتا ہوں…. پر آج نہیں.. آپ سنگاپور سے آ جاؤ اس کے بعد…
رنجیت: لیکن آج میں تمہاری گانڈ مارنا چاہتا ہوں…………. کچھ نہیں ہوگا….. بس تم اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دینا……………………………. کچھ نہیں ہوگا۔
رشمی: دیکھ لو…. پر مجھے تو ڈر لگ رہا ہے…. میں نے نیہا کو دیکھا تھا… آپ نے اس کی گانڈ ماری تھی… بیچاری 1 ہفتہ تک چل نہیں پا رہی تھی……………………….
رنجیت: بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے کہا……………. میرے پاس ایک جیل ہے….. اپنے پاس رکھے ایک جیل کی شیشی دکھاتے ہوئے کہا……………………………… یہ لو……… اپنی گانڈ کے سوراخ پر لگا لو
رشمی: تو یہ بات ہے…. پروگرام پہلے سے فکس ہے…………….. ہے نا؟؟
رنجیت: ہنسنے لگا………….
رشمی: اور وہ نیہا کا بھی یہی پروگرام تھا ہے نا؟؟
رنجیت: تو اس میں برا کیا ہے…………………….. تم ہو ہی اتنی سیکسی………….. صبح سے ہی تمہاری گانڈ دیکھتے ہوئے آج گانڈ مارنے کا من کر رہا تھا………….. میری جان آج مت تڑپاؤ… اور یہ جیل اپنی گانڈ کے سوراخ میں لگا لو……. اس کے بعد میرے اس لنڈ پہ بھی لگانا………..
رشمی: اگر آپ میری گانڈ مارنا چاہتے ہو… تو میری گانڈ پر آپ جیل لگاؤ………… میں تمہاری لنڈ پر لگاؤں گی…………………………
رنجیت: اس کی رضامندی سے رنجیت خوش ہو گیا اور جیل ٹیوب کو پچکا کر تھوڑا سا جیل کریم اپنے انگلیوں میں لے کر رشمی کے گانڈ کے ہول میں لگانے لگا اور اپنی بیچ کی انگلی پر کریم لے کر اس ہول کے اندر قریب 4انچ تک گہرائی تک لگانے لگا………………………… رشمی کو بہت مزا آرہاتھا ……………. …. رنجیت نے اپنی ناک اس کے اس ہول کے پاس لے جا کر اس کی گاند کو سونگھنے لگا تھا………………………. پھر بیچ کی انگلی کو اور گہرائی میں ڈالنے لگا………………….. دوسری طرف رشمی نے بھی اپنی ہتھیلی میں کریم لے کر اس کے لنڈ پہ لگانے لگی………………… شروع شروع میں اس کے لنڈ کے ٹوپے پہ لگایا اور پھر اس کے جڑ تک لگایا…………………. اسے ایک عجیب سے گدگدی ہو رہی تھی… لنڈ سے بھی ایک سمیل آ رہی تھی جو کہ بہت شہوت بھری لگ رہی تھی…………………………………….
ادھر رنجیت بیچ بیچ میں اس کے اس ہول کو چاٹ بھی لیتا تھا…. … اس لیے وہ زیادہ ہی چمکدار ہو گئی تھی……………………….. اب اس ہول میں اس کے بیچ کی انگلی بہت آسانی سے اندر باہر ہو رہی تھی…… دوسری طرف رشمی نے بھی لنڈ کے ساتھ ساتھ اس کے انڈے پہ بھی لگانے لگی…. ایسا لگ رہا تھا کہ لنڈ کے ساتھ ساتھ اس کے انڈے کو بھی اپنی گانڈ میں لینا چاہ رہی ہو۔
رنجیت: رشمی اب تم گھوڑی بن جاؤ…………………………….. مال تیار ہے…….. تمہارا
رشمی: گھوڑی بنتے ہوئے……….. پاپا مجھے ڈر لگ رہا ہے….
رنجیت: ڈرنے کی کوئی بات نہیں……………….. بس……….. میں ہوں ناں
رشمی: چپ ہو گئی اور آگے کے اشارے کا انتظار کرنے لگی…
دوسرے طرف رنجیت اس کی گانڈ کی طرف آ گیا اور اپنے ہاتھوں میں لنڈ لے کر لنڈ کا ٹوپا اس کے اس ہول پر لگایا.. اور رگڑنے لگا……. پہلے تو اپنی انگلی سے چوڑا کیا…. وہ آسانی سے ہو گیا پھر وہ لنڈ کے ٹوپے کو اس کے اس ہول پر دبایا…. تھوڑا سا درد ہونے کے بعد اس کا ٹوپا اندر گھس گیا ……………………….. رنجیت وہیں رک گیا…………….. اور رشمی کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ….مانو پوچھ رہا ہو کہ درد تو نہیں ہوا…………… رشمی کچھ نہیں بولی….. تو رنجیت نے آگے ایک ہلکا سا دھکہ مارا………… لنڈ اور اندر چلا گیا…………….. اس کے بعد اسے درد ہوا……………………. اس کے پیر لڑکھڑانے لگے…………… پر رنجیت نے اسے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا………………. رشمی قریب قریب رونے والی تھی… کہ تبھی رنجیت نے ایک اور جھٹکا مارا… پورا لنڈ اس کی گانڈ میں چلا گیا… ٹائٹ گانڈ نے رنجیت کو مزے سے پاگل کردیا…وہ سسکیاں لیتا ہوا اس کے مموں کو سہلانے لگا ….. رشمی کا برا حال تھا.. اس کے گانڈ میں مانو مرچی لگ گئی ہو……………. درد ہونے لگا……. وہ بولی…. پاپا نکال لو پلیز بہت درد ہو رہا ہے………………… رنجیت لذت بھری سسکیاں لیتے ہوئے بولا کچھ نہیں ہوگا … تم ویسے ہی رہو………………………………… اس نے جھک کر جیل کی شیشی اٹھائی اور اپنے لنڈ اور اس کے اس ہول پر لگا لیا …. قریب 5 سیکنڈ کے بعد دوبارہ اپنے لنڈ کو پیچھے کیا اور پھر زور سے پیل دیا…………………. رشمی کو درد زور سے ہوا وہ چیخ اٹھی ….. اس سے پہلے رنجیت نے اپنی ہتھیلی اس کے منہ پہ رکھ دیا … جس سے اس کی چیخ باہر نہیں گئی………………………. اور وہ اب دھیرے دھیرے اندر باہر کرنے لگا… رشمی کو درد کے ساتھ ساتھ تھوڑا تھوڑا مزہ آنے لگا…………… رنجیت کے ساتھ رشمی بھی مزے سے بھری سسکیاں لینے لگی … وہ بھی اپنی مست گانڈ کو لنڈ پر دبانے لگی تھی ….رنجیت اب تیز جھٹکے مارہاتھا …دونوں مزے سے چیخنے لگے ..کچھ دیر کے بعد رنجیت کا لن رشمی کی گانڈ میں جھٹکے کھانے لگا اور منی کی پچکاریاں چھوڑنےلگا..دونوں نڈھال ہوکر ہوئیں لیٹ کر گہرے سانس لینے لگے …
تبھی لائٹ آ گئی…. رشمی نے اپنے آپ کو بالکل ننگی دیکھی تو اسے شرم آ رہی تھی….. اس کمرے میں کوئی نہیں تھا….. پھر بھی اسے شرم آ رہی تھی…. رنجیت گہری نیند میں سو رہا تھا………………… رشمی نے اپنے آپ کو سنبھالا…………… اور پھر کپڑے ٹھیک کر کے باتھ روم میں چلی گئی ….. فریش ہونے کے بعد کچن میں اپنے لئے تھوڑا گرم پانی کیا اور ایک گلاس میں لے کر اسے پینے لگی………….. اس سے اس کا اندرونی سسٹم ٹھیک ہونےلگا ……………… پھر وہ رنجیت کو بڑے غور سے دیکھا……………. وہ ابھی بھی نیکر میں ہی تھا…. جھک کر دیکھنے سے اس کے لنڈ اور انڈے صاف صاف دیکھا جا سکتا تھا… وہ وہیں پر بیٹھ گئی اور اسے بہت پیار سے دیکھتی رہی……………………………………….. پھر وہ وہیں پر سو گئی…………………………………………..
صبح 8 بجے نیہا اٹھی اور سبھی کے لئے چائے بنائی………… پھر رشمی کو اٹھایا …………… رنجیت ابھی بھی سو رہا تھا……………………… گھوڑے بیچ کر…. ممتا تو پہلے ہی اٹھ چکی تھی…………………………. پر ابھی بھی وہ بیڈ پر ہی تھی……………………………
نیہا: گڈ مارننگ رشمی…………… یہ لو چائے پیو……………….. لگتا ہے کلاس زیادہ ہی لمبا تھا…………….. ہے نا
رشمی: مسکرائی……………. پر بولی کچھ نہیں اور چائے کا کپ نیہا کے ہاتھوں سے لے لیا……………………..
نیہا: آج کیا پروگرام ہے…………
رشمی: آج کیا ہوگا…..؟؟؟ آفس جاؤں گی………………… تمہاری فلائٹ تو شام کو ہے نا…………… میں آ جاؤں گی……………
نیہا: ہاں…. پر میرا لیو ایپلیکیشن لے کے جانا…………
رشمی: ٹھیک ہے دے دینا………………………..
نیہا: وہیں پر بیٹھ کر چائے پینے لگی………….. اسے آج 5.00 پی ایم پر سنگاپور کے لیے فلائٹ تھی…. اس کے ساتھ رنجیت اور ممتا بھی جا رہی تھی…….
چائے پینے کے بعد وہ لیو ایپلیکیشن کو رشمی کو دے دی…. رشمی تیار ہو کر وہاں سے چلی گئی… آفس کو…………. نیہا باتھ روم سے نکل کر رنجیت کو اٹھانے گئی……………………………………. کیونکہ ان کا بھی آفس میں انفارم کرنا تھا………………………………… پر وہ تو ابھی بھی سو رہا تھا……
نیہا: گڈ مارننگ سر……………. 10 بج گئے ہیں….
رنجیت: ہڑبڑا کر اٹھا اور وہ نیہا کو اپنی بانہوں میں لے لیا اور اس کے گالوں کو چوم لیا…………………. ارے واہ………. تم تو نہا چکی ہو…….. کیاخوشبو ہے………………………
نیہا: جی………….. اور آپ بھی اٹھو اور تیار ہو جاؤ……………… ناشتہ بنا دیا ہے………………. آفس نہیں جانا کیا…
رنجیت: رشمی کہاں گئی……………
نیہا: لگتا ہے رشمی کی کلاس زیادہ ہی لمبی تھی………. اور مسکراتے ہوئے چھیڑنے لگی………………..
رنجیت: ارے میری جان جب تک لمبی کلاس نہ ہو تم عورتوں کو چین کہاں….؟؟؟ اور پھر اسے چومنے لگا….
تبھی ممتا آ گئی……. رنجیت نے نیہا کو چھوڑ دیا اور اٹھ کر وہاں سے باتھ روم میں چلا گیا……………… یہ سب ممتا واچ کر رہی تھی پر بولی کچھ نہیں…………………………………………………………..
نیہا: آنٹی……….. آپ پوجا کر لیجیے……….. میں کھانا بنا لوں گی……….. اور ہاں اپنی پیکنگ بھی کر لے…………………. کیونکہ لاسٹ ٹائم دقت ہو گئی تھی.. جب ہم کیلی فورنیا اپنے ہسبینڈ کے ساتھ جا رہے تھے……………. اس لئے….. پاسپورٹ، ویزا، روپے اور ضروری سامان پہلے پیک کر لے…………………. میں اپنا پیکجنگ رات میں ہی کر لی تھی ………………………………….
ممتا: ٹھیک ہے… میں پوجا کرنے جا رہی ہوں… اس کے بعد اپنا پیک کر لوں گی………….. میرا کیا ہے…. 2 ساڑیاں لے لینی ہیں……………. تیاری تو تمہیں اور ان ہی کو کرنی ہو گی……….. اور شرارت سے نیہا کو چھیڑنے لگی………………..
نیہا: آنٹی……….. آپ بھی نا………………… جائیے… پوجا پر….. سامان سب رکھ دیا ہے…….
شام کو 6 بجے کی فلائٹ تھی…… نیہا، رنجیت اور ممتا اپنے اپنے سامان کی جانچ کروانے کے لئے لائن میں لگے ہوئے تھے…. تبھی رشمی دوڑی دوڑی آئی…………………… اور آج کر نیہا کو بولا…
رشمی: سوری… یار لیٹ ہو گیا….. دراصل تمہاری گاڑی نا……….. رک رک کر چلتی ہے….. جب میں آفس سے چل ہی رہی تھی کہ ایک پیشنٹ آ گئی زہر کھا کر……….. پھر ایچ او ڈی نے کہا کہ اسے ٹیک اوور کر کے ہی جاؤ………………. قریب ½ گھنٹے کے بعد وہ نارمل ہوئے تو میں نکلی……….. پھر ٹریفک………………….. اس کے بعد جب میں آشرم پہ تھی تو گاڑی رک رک کر چلنے لگی……….. انجن میں پرابلم آ گئی تھی…. تبھی ایک مکینک سے دکھایا…………………… اس نے ٹھیک کیا……………. تب جا کے آ ئی ہوں……….. سوری…
رنجیت: کوئی بات نہیں………………. میں ویسے بھی…. تمہیں فون کرنے والا تھا… کہ آنے کی کوئی ضرورت نہیں… کیونکہ 15 منٹ میں فلائٹ چھوٹنے والی ہے………………………………..
رشمی: ہاں ہاں… اب آپ لوگوں کو ہماری ضرورت کیوں پڑے گی… نیہا تو ساتھ ہے…………… وہ یہ بات دھیمے سے بولی جسے صرف رنجیت نے ہی سنا……………………………
رنجیت مسکراتے ہوئے کہا………………… ارے بھائی…. میں کون سا 1-2 سال کے لئے جا رہا ہوں…کچھ دن میں تمہارے پاس رہوں گا… پھر ساری رات اور دن تمہاری……………. اوکے….؟؟؟ میری سویٹ ہارٹ…
رشمی: چلو….. خوش رہو…………….. میں مینج کر لوں گی………………..
تب تک تینوں کا سامان چیک ہو چکا تھا…… رشمی نے رنجیت کے گلے لگی………………. رنجیت نے اسے ایک کس کر لیا اور اسے کہا بائے اپنا خیال رکھنا……………………. پھر نیہا کے گلے لگی…….. ارے ہاں….. تم جس کام کے لئے جا رہی ہو اسے پورا کر کے ہی آنا……………… سمجھی……. اور ہاں کوئی بیک گیئر کے چکر میں مت رہنا… اگر کام آ جائے تو اور بات ہے… اور دونوں مسکرا دیں.
نیہا: کل تم بھی تو بیک گیئر لگایا تھا….
رشمی: چھپتے ہوئے…. وہ تو اس لیے کہ میرے پیٹ میں بچہ ہے… اگر ان کا ہتھیار میرے آگے جائے گا تو بچے کو چوٹ پہنچے گی……….. پر تمہارے ساتھ ایسا نہیں ہے… یہ سنہرا موقع ہے… جی بھر کر چدائی کراؤ……. اور اپنے پیٹ میں بھی بچہ ڈال لو…………… ممی کی فکر مت کرنا……. وہ کچھ نہیں بولے گی…………………………………….. پر ممی کا دھیان رکھنا… انہیں کسی چیز کا برا نہ لگے… اس کا دھیان رکھنا…. بائے…………………….
اس کے بعد اپنی ممی کے گلے لگی………………………….. ممی اچھی طرح گھوم لینا… سنا ہے وہاں 35% لوگ انڈین ہیں… وہاں بھی کافی مندر ہیں…… تم اور پاپا جا کر گھوم لینا…. اوکے….؟؟؟
اب میں چلی…………………….
ممتا: اپنا خیال رکھنا بیٹے… اور ہاں گھر پر ہی رہنا…… شام کو مندر میں دیے ضرور جلا دینا………………………
رشمی: ٹھیک ہے……………. بائے…. بائے…………………………………………………….
اور پھر اندر میں چلے گئے… جہاں سے جہاز پر جانا ہوتا ہے……………………………….. دہلی سے سنگاپور کی فلائٹ انڈین ائیرلائنز آئی سی-810 کی فلائٹ 6.10 پر اپنے وقت کے مطابق فلائی کر گئی……
رشمی نے ہاتھ ہلا کر تب تک اشارہ کیا جب تک جہاز ان کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو گئے…. اور پھر اس کے آنکھوں میں آنسو آ گئے…. یہ آنسو کس چیز کے تھے ……………………………. پتہ نہیں چلا….
عورت کا من کو پڑھنا اتنا آسان نہیں ہے…………………….. رشمی نے اپنے بھاری قدموں سے واپس کار میں آئی…… سٹارٹ کیا ………… پر کار سٹارٹ نہیں ہوئی………… دوبارہ سٹارٹ کیا… پھر بھی نہیں ہوئی……………. اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب وہ کیا کرے……………. ابھی تک تو ٹھیک تھی…………………. اب کیا ہوا…..
تبھی اس نے غور سے دیکھا………….. ارے میں تو چابی غلط گھسائی ہے………….. وہ اپنے آپ پر چڑھی گئی اور پھر چابی چینج کر کے دوسری چابی ڈالی.. تو گاڑی سٹارٹ ہو گئی…………… وہ کار سٹارٹ چلاتے ہوئے اپنے گھر کو آئی…………………………………. کھانا تو وہ ہاسٹل میں ہی کھا لی تھی… وہ صرف دودھ پی کر سو گئی……