امی سے طوفانی عشق۔۔۔۔(قسط 2)

لڑکا یا لڑکی تبھی جوان ہو جایا کرتے ہیں، جب لڑکے کے لنڈ سے منی اور لڑکی کی چوت سے رس نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ باقی عمر کا کیا ہے… عمر تو ایسے ہی بدنام ہے، ورنہ کوئی لڑکی یا لڑکا آفت نہیں مچاتے ہیں… لنڈ اور چوت کی آگ ہنگامہ مچا دیا کرتی ہے۔

میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا… میرے لنڈ نے بھی ہنگامہ مچا دیا تھا۔ پہلے کئی بار گرمیوں میں ابو کو امی جان کے ساتھ کمرے میں گھستے دیکھا تھا۔ لیکن کبھی سمجھ نہیں پایا تھا، دھیان نہیں دے پایا تھا۔ کوئی ایسا جاننے والا نہیں تھا میرا، جو مجھے اس کا علم دیتا۔ پھر مجھے معلومات حاصل ہونے لگیں۔ لنڈ نے کھڑا ہو کر مجھے مرد قرار دے دیا… لنڈ نے منی جیسا انمول رس نکال کر مجھے لذت کی نئی دنیاؤں سے روشناس کروا دیا… کچھ دوستوں اور کچھ کزنز وغیرہ کے ساتھ گندی گندی باتیں ہونے لگیں… پھر سب معلومات حاصل ہوتی چلی گئیں۔

مجھے اپنے ماموں کے دونوں لڑکوں سے بہت کچھ جاننے کو ملا تھا، وہ مجھ سے 2 سال بڑے تھے۔ بس پھر کیا تھا، اسی سال کی گرمیوں میں جب ابو نے صحن میں سو رہی امی جان کو آدھی رات کو اٹھا کر کمرے میں جانے کا اشارہ کیا تو میں جاگ رہا تھا۔ امی جان نے ابو کو دیکھا، پھر ہم بھائی بہنوں کو دیکھا… ابو کمرے میں جا چکے تھے۔ امی جان پہلے باتھ روم میں گئیں… پھر باتھ روم سے باہر آ کر گھڑے سے پانی گلاس میں بھر کر پیتی ہوئیں ہم پانچوں بھائی بہنوں کو چارپائیوں پر سوتے دیکھنے لگیں۔ میرے اندر تو سیکس کی آگ جل اٹھی تھی۔ اکثر مجھے نیند دیر سے آیا کرتی تھی۔ آج ابو نے امی کو کمرے میں آنے کا اشارہ کیا تو میں آنکھوں میں جھری بنا کر سب دیکھنے لگا، لیکن ایسے ہی پڑا رہا جیسے میں سو رہا ہوں…۔

امی جان پہلے حنا کے پاس آئیں… اسے ہلا کر دوسری کروٹ سلا دیا۔ پھر ایسے ہی امی سب کو چیک کرنے لگیں۔ مجھے بھی امی جان نے بازو سے پکڑ کر کمرے کی طرف پیٹھ کروا دی۔ میں نے پیٹھ کر لی۔ پھر امی جان کے جاتے قدموں کی آواز سنائی دی۔ میں تھوڑی دیر ایسے ہی لیٹا رہا، پھر سیدھا ہو گیا۔ میرا لنڈ جو شلوار میں تھا، کھڑا ہو چکا تھا۔ میں نے دیکھا… کمرہ بند تھا… میں بڑی آہستگی سے بستر سے اٹھا اور بنا جوتے پہنے دبے پاؤں کمرے کے دروازے کے پاس جا پہنچا۔ دروازے کو تھوڑا سا دھکا دیا، لیکن وہ اندر سے بند تھا۔ میں نے دروازے کے ساتھ کان لگا دیے… میری سانس بہت تیز چلنے لگی تھی
لیکن مجھے اندر سے کوئی آواز سنائی نہیں دی…۔
میں ایک ہاتھ سے لنڈ کو مسل بھی رہا تھا… تبھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی، مجھے کمرے کے اندر رکھی چارپائی کے ہلنے کی آواز سنائی دی… ۔
آہہہہ، ابو امی جان کی چوت مار رہے تھے۔ میں بےچین ہو گیا… میں دروازے کے پاس سے ہٹ کر کھڑکی کے پاس گیا اور اندر جھانکنے لگا، لیکن مجھے ایسا کوئی سین نہیں دکھا… اندر سب چھپا ہوا تھا، اندر دیکھنے کو کچھ نہیں ملا مجھے۔ کچھ دیر میں، میں پھر سے دروازے کے پاس آیا اور کان لگا دیے… اس بار چارپائی کی آواز زیادہ تھا… شاید ان کا کام ختم ہونے والا تھا۔ پھر اندر ابو اور امی جان کا کام ختم ہو گیا، چارپائی کی آواز آنا بند ہو گئی۔ لیکن میرا لنڈ ڈھیلا نہیں ہوا، وہ اتنا سخت ہو گیا تھا جیسے لنڈ نہ ہو… کوئی راڈ ہو… گوشت کا لوتھڑا نہ ہو، کوئی گرم پائپ ہو
میں اپنی چارپائی پر آ کر لیٹ گیا… اور جس کروٹ امی مجھے لٹا کر گئی تھیں، ویسے ہی لیٹ گیا۔ کل ملا کر 15 منٹ کا کھیل ہوا تھا۔ پھر پہلے ابو کمرے سے نکلے اور باتھ روم سے ہو کر اپنی چارپائی پر آ کر سو گئے… 5 منٹ کے بعد امی جان نکلیں… وہ باتھ روم میں گھس کر نہانے کے بعد اپنی چارپائی پر آ کر لیٹ گئی تھیں۔

وہ دونوں سکون سے سو گئے تھے، لیکن میرا سکون اڑ چکا تھا۔ میں جان گیا تھا کہ دنیا کی سب سے لذت دار چیز چدائی ہے، جو ابو اور امی بنا کسی ڈر یا خوف کے کھیلتے رہتے ہیں۔
اس دن سے میں روزانہ تاک میں رہنے لگا… لیکن مجھے دونوں کی چدائی کبھی دیکھنے کو نہیں ملی… لیکن امی جان کو میں نے کئی بار باتھ روم کے دروازے کے سوراخ سے ننگا نہاتے ہوئے دیکھا تھا۔
بس ایسے ہی امی جان میری پہلی ضرورت بنیں، پھر چاہت بن گئیں۔ میری بہنیں بھی تھیں، لیکن میں بس امی جان پر فدا تھا…۔

یوں وقت گزرتا رہا اور میں اٹھارہ کا ہو گیا۔ اس بیچ میں نے پہلے امی جان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری کی، پھر امی جان کو ادھر ادھر ہاتھ لگانے لگا… پہلے خوب غصے ہوئیں، کبھی مجھے مارتیں، کبھی گھر سے نکال دینے کی دھمکی دیتیں۔ لیکن میں کہاں باز آنے والا تھا…۔
میں اپنی الٹی سیدھی حرکتوں میں لگا رہا…۔
اور آج جیسے میں نے کچن میں امی جان کی گانڈ میں انگلی کی تھی، ایسے ہی پہلے بھی کئی بار کر چکا تھا۔

میں شام کے بعد گھر آیا۔ امی جان حنا کی کسی بات پر ہنس رہی تھیں… مجھ پر نظر پڑی تو ان کی ہنسی کو بریک لگ گئے۔
مجھے گھورتی ہوئی بولیں: ۔
“اب کیا لینے آیا ہے تو… جا دفع ہو جا کہیں”
میں جا کر ان کے پاس ہی جا بیٹھا… اور دونوں بانہوں میں بھر کر امی جان کے گال کو چوم لیا۔

لبنیٰ جل کر بولی: ۔
“کبھی مجھے بھی اتنا پیار دے دیا کرو بھائی”

میں اسے دیکھ کر، امی جان کو دیکھ کر بولا: ۔
“تم امی جان کے جتنی خوبصورت بن کے دکھا دو… پھر تمہیں بھی اتنا ہی پیار دیا کروں گا”۔

پھر امی جان سے بولا: ۔
“کیوں امی جان… کیا لبنیٰ کو آپ کے جیسا پیار دوں؟”۔

امی جان غصے سے دانت پیستی ہوئیں دھیرے سے بولیں:۔
“تو میرے ساتھ اتنا سب کرتا ہے، میں پھر بھی بسونیاشت کر لیتی ہوں۔ لیکن اگر تو نے میری کسی بیٹی کو اپنے گندے ہاتھ لگائے نا، تو میں تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گی”۔

میں:۔
“امی جان… آپ کے سوا تو مجھے بیوی بھی نہیں چاہیے… میں شادی ہی نہیں کروں گا… بس ایک آپ ہی ہو… لیکن آپ ہیں کہ مان کے ہی نہیں دے رہی ہیں”۔
حنا:۔
“یہ تم کیا کھسر پھسر کر رہے ہو… ہم بھی ہیں یہاں… اونچی آواز میں بات کرو”۔
امی جان اسے دیکھ کر بولیں:۔
“تو کچن میں سونیا کے پاس… دیکھ کھانا بنا کہ نہیں”
حنا منہ پھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ امجد اور لبنیٰ اس کا پھولا منہ دیکھ کر ہنسنے لگے۔
کھانا کھا کر میں دکان پر چلا گیا۔ ابو گھر آ کر کھانا کھا کر دکان پر آئے تو میں پھر سے گھومنے کے لیے نکل پڑا…۔

میں اب سوچ رہا تھا کہ مجھے اپنی کوششیں بڑھا دینی چاہئیں… امی جان کو اب پہلے جتنا غصہ نہیں آتا…۔
پھر من بنایا… آج سوتے ہوئے امی جان کی چوت کے ساتھ کھیلوں گا۔ یہ فیصلہ لینے کے بعد میں پرسکون ہو گیا، لیکن میرا لنڈ موڈ میں آیا سخت ہوتا چلا گیا…۔

رات کو 9 بجے گھر آیا۔ ایک چارپائی پر امی بیٹھی تھیں، لیفٹ سائیڈ والی چارپائی پر تینوں بہنیں… اور رائٹ سائیڈوالی چارپائی پر ابو اور امجد بیٹھے ہوئے تھے۔ سب باتیں کر رہے تھے۔
میں امی جان کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا… اور امی جان کے کندھے دبانے لگا۔ ابو ہنس پڑے… امی جان پیچھے دیکھ کر مجھے گھورنے لگیں۔
ابو:۔
“یار تیری ماں تو اب بھی جوان ہے… میں بوڑھا ہو رہا ہوں۔ تم میرے کندھے نہیں دباتے ہو”۔
میں امجد کو دیکھ کر بولا:۔
“دیکھو ابو… امجد آپ کے زیادہ قریب ہے… امجد سے خدمت کرواؤ۔ میں تو امی جان کی ہی سیوا کروں گا”۔
امجد خوشی سے ابو کے پیچھے گیا اور ان کے کندھے دبانے لگا…۔
میں امی جان کے کندھے تو دبا ہی رہا تھا، لیکن انگوٹھے سے امی جان کی پیٹھ کو سہلا بھی رہا تھا۔ امی جان ایک بار کسمسائیں، لیکن سب کے سامنے مجھے منع نہیں کر سکتی تھیں۔
سونیا:۔
“بیٹیاں ہوتی ہیں ماؤں کی خدمت کرنے کے لیے۔ تم ابو کا خیال رکھو، ہم بہنیں امی جان کی سیوا کر لیں گی”۔
حنا: ۔
“اور نہیں تو کیا… یہ عمران تو ہر وقت اپنے نمبر بڑھوانے میں لگا رہتا ہے”۔
لبنیٰ:۔
“عمران بھائی اتنے اچھے تو ہیں… مجھے بہت پیار ہے عمران بھائی سے”۔
ایسی ہی باتیں کچھ دیر اور ہوتی رہیں… پھر میں نے امی جان کو زبردستی لٹا دیا… ان کے پیروں کی طرف آتا ہوا ان کے پیر دبانے لگا۔
امی جان: ۔
“رہنے دے عمران… مجھے پیروں میں ضرورت نہیں ہے… تم جاؤ اپنی چارپائی پر…”۔
ابو جان کے سامنے امی ایسے ہی بولا کرتی تھیں۔

میں: ۔
“جی نہیں… میرا من نہیں بھرا ہے۔ ایک بیٹا ماں کی خدمت کرے… یہی تو ہر ماں چاہتی ہے۔ اور پھر میں تو بڑا خوش نصیب ہوں مجھے آپ کے جیسی ماں ملی”۔

ضرور امی جان دل میں مجھے گالیاں دیتی ہوئی بولی ہوں گی: ۔
“جانتی ہوں کمینے… تجھے بھی، تیری سیوا کو بھی… اپنی ہی امی جان کی عزت کے دشمن بنے بیٹھے ہو…”۔

باتیں ہوتی رہیں، میں امی جان کے پاؤں دباتا رہا… اتنی دیر میں میرا لنڈ کھڑا ہو چکا تھا۔ میں امی جان کی ایک ٹانگ کے ساتھ اپنا لنڈ لگا کر امی جان کی دوسری ٹانگ دبانے لگا۔ جیسے ہی میرے لنڈ کی گرمی اور سختی امی جان نے جانی… وہ چونکتی ہوئی مجھے گھورنے لگیں… میں بڑا شریف بن کر امی جان کو دیکھنے لگا۔ میرے لنڈ کے آگے قمیض تھی، کسی کو دکھائی نہیں دے سکتا تھا…۔
امی غصیلی نگاہوں کی زبان میں بولیں: ۔
“اتنی ہمت بڑھ گئی ہے تیرے اندر عمران… اپنے ابو اور اپنے بھائی بہنوں کے سامنے ہی میری ٹانگ کے ساتھ اپنا لنڈ لگائے بیٹھا ہے… کچھ تو شرم کر… اور ہٹا لے اپنا لنڈ…”۔
لیکن امی منہ سے بولیں:۔
“بس کر بیٹا… تو تھک گیا ہوگا… جا اپنی چارپائی پر جا کر سو جا”۔
میں ایسے ہی امی جان کے ساتھ لیٹ گیا… میرا لنڈ امی جان کی ران کے ساتھ لگنے لگا… امی جان کسمساتی ہوئی سرک گئیں…۔
میں:۔
“نہیں آج تو میں آپ کے ساتھ ہی سوؤں گا امی جان… آپ کے پاس سونے سے بڑی سکون کی نیند آتی ہے”۔
لبنیٰ:۔
“میں بھی امی کے ساتھ سوؤں گی”
امجد اور لبنیٰ کی اکثر تکرار رہتی تھی۔ امجد بولا:۔
“نہیں آج میں امی جان کے ساتھ سوؤں گا”
میں امی جان کا گال چوم کر: ۔
“آج تو میں نے نمبر لگا لیا… تم دونوں کل دیکھ لینا”

ابو بھی اٹھ کر اپنی چارپائی پر جا لیٹے۔ سونے کا ٹائم ہو گیا تھا… ساتھ والی چارپائی پر امجد سونے والا تھا، میں نے اسے اپنی چارپائی پر سونے کے لیے بول دیا۔
سب تھوڑے دور ہوئے تو امی جان دانت پیس کر بولیں: ۔
“عمران تو حد سے بڑھتا جا رہا ہے… اتنی دیدہ دلیری… اپنے ابو اور بھائی بہنوں کے سامنے ہی میرے ساتھ لیٹ گیا… تو اب جوان ہو گیا ہے… کیا تیری عقل میں اتنی سی بات نہیں آتی؟ تیری بہنیں بھی جوان ہیں… وہ کیا سوچیں گی… جوان بیٹا ماں کے ساتھ سوتا ہے”۔
میں دھیرے سے بولا:۔
“صحیح کہا امی جان آپ نے… میں جوان ہو گیا ہوں… اور میرا وہ بھی… دیکھو نا آپ کے جسم سے لگ کر کتنا خوش ہے… اور آپ بھی ابھی تک جوان ہی ہیں امی جان… چلیں نا دو جوانیاں ملا دیں… اب تو ابو بھی آپ کو خوش نہیں رکھ پاتے”۔
امی جان چونک کر میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولیں:۔
“تجھے کیسے پتا…؟”
پھر ہڑبڑا گئیں…۔
میں ہنسنے لگا۔
حنا: ۔
“باتیں ہی کرنی ہیں تو ہم بھی آ جائیں پاس۔ ہنسو گے تو ہم سو نہیں پائیں گی”۔
سونیا: ۔
“اسے لگا رہنے دو… یہ نہ خود سوتا ہے نہ کسی اور کو سونے دیتا ہے”۔
میں امی جان سے:۔
“میں کیا کروں امی جان، میرا وہ ہی مجھے سونے نہیں دیتا… گھر میں ایک آپ گرم ہیں، ایک میں گرم ہوں… ابو کی تو اب عمر ہو گئی ہے… میں جانتا ہوں امی… آپ اندر سے تڑپ رہی ہیں”۔
امی جان: ۔
“بکواس بند کر… اور جا اپنی چارپائی پہ”
میں:۔
“سوری… آج میں نے فیصلہ کر لیا ہے…”۔
امی جان گھبرا کر بولیں:۔
“کیسا فیصلہ؟”
میں: ۔
“ارے آپ تو ڈر گئیں”

ہم دونوں کے چہرے ملے ہوئے تھے… ہنستے تو آواز آتی، بولتے تو کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی۔
امی جان نے ایک گہری سانس لی… پھر بڑے دکھ کے ساتھ بولیں:۔
“میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا… میرا ہی بیٹا، میری ہی کوکھ سے جنما ایسا نکلے گا”۔
میں:۔
“امی جان ابھی آپ کو دیکھ رہا ہوں، جس دن آپ کو خوش کر دیا نا… اس دن آپ کو ایسا لگے گا، آپ کو ایسی خوشی اب تک نہیں ملی ہوگی”۔
امی جان: ۔
“وہ دن کبھی نہیں آئے گا… جا اب… اور مجھے سونے دے”۔
میں: ۔
“سوری… آج کے لیے مخلصانہ دل سے سوری…”
امی جان اٹھنے لگیں، میں نے امی جان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
امی جان غصے سے پھسپسائیں: ۔
اب کیا یہی پیشاب کر دوں؟
پیشاب کرنےکی بات پہلی بار امی جان نے کھل کے کہی تھی… میں حیران رہ گیا، امی جان کا ہاتھ چھوڑ گیا… امی جان اٹھیں اور باتھ روم جا کر فارغ لگیں… پھر باتھ روم سے نکل کر گھڑے کا پانی پیتی ہوئیں مجھے دیکھنے لگیں…۔

پھر اپنی چارپائی پر نہ آ کر وہیں ٹہلنے لگیں… ضرور میرے لنڈ کی گرمی نے امی جان کی ران کو جلا دیا تھا…۔

میں بھی تو امی جان کی گرم ران کی خوشبو پا کر نشے میں ہو گیا تھا… پھر امی جان تو سالوں سے تڑپ رہی تھیں، کیسے خود کو سنبھال پاتیں، کیسے اپنے جسم کی گرمی سے لڑ پاتیں…۔

جاری ہے۔



Source link

Leave a Comment