امی جان کچن میں تھیں۔ میں دبے پاؤں کچن میں گھسا اور امی جان کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔ امی جان اپنے دھیان میں تھوڑی سی سلیب پر جھکی ہوئی سبزی دھو رہی تھیں… پیچھے سے امی جان کی گانڈ مجھے اکسا رہی تھی۔ اکسانے کی بھی خوب رہی… میں تو سالوں سے امی جان کی گانڈ پر، ان کے پورے جسم پر مرتا جیتا تھا۔
میں نے اپنے دھیان میں سبزی دھو رہی امی جان کی بنا چڈی والی گانڈ کی لکیر میں دائیں ہاتھ کی درمیان والی انگلی ڈال کر نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے تک اچھے سے رگڑ دیا۔
امی جان اچھل پڑیں: ۔
“اوئییییییی ماں ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا”
میں ہنس پڑا۔ امی جان نے مڑ کر مجھے دیکھا… میں نے پھر سے امی جان کی گانڈ کی لکیر میں انگلی ڈال دی… اور اچھے سے رگڑنے کے بعد کچن سے باہر بھاگ نکلا۔ امی جان کو میں نے سالن پکانے والا بڑا چمچہ اٹھاتے دیکھ لیا تھا۔
امی جان: ۔
“رک کمینے… آج تو تو میرے ہاتھوں مرے گا۔ کتا، کمینا۔ شرم نام کی کوئی چیز بچی ہی نہیں ہے تیرے اندر…”۔
میں ہنستا ہوا گھر کے صحن میں آیا اور کھڑا ہو کر امی جان کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ امی جان ہاتھ میں چمچہ لیے مجھے گالیاں دیتی ہوئی بڑے غصے کے ساتھ میری طرف آنے لگیں۔
امی جان:۔
“آج یا تو تو نہیں یا میں نہیں۔ تیرے ہاتھ نہ توڑ دیے تو میں بھی تیری ماں نہیں…”۔
شور سن کر کمرے کے اندر سے سونیا، حنا، لبنیٰ اور میرا بھائی امجد باہر نکل آئے۔
امی تیز چل کر میرے قریب آنے لگیں۔ چمچے والا ہاتھ اٹھا ہوا تھا۔ جیسے ہی امی جان قریب آئیں، میں نے اپنے بھائی بہنوں سے نظر بچا کر امی جان کو آنکھ مار دی…۔
امی جان کا پارہ اور بھی چڑھ گیا۔ وہ غصے سے چمچہ گھما کر مجھے مارنے گئیں۔ لیکن میں پیچھے ہٹ گیا۔
امی جان اور بھی گالیاں دیتی ہوئی میرے پیچھے پیچھے… اور میں ہنستا ہوا صحن میں بھاگنے لگا… امجد اور لبنیٰ یہ دیکھ کر ہنسنے لگے۔ حنا اور سونیا دونوں بڑی تھیں، وہ مجھے اور امی جان کو دیکھنے لگیں ۔
امی جان جیسے ہی قریب آتیں، میں وہاں سے دور ہو جاتا۔ موقع ملتے ہی امی جان کو یا تو آنکھ مار دیتا یا کوئی اشارہ کر دیتا۔ ایسا اس وقت میں کرتا تھا جب میری پیٹھ اپنے بھائی بہنوں کی طرف ہوا کرتی تھی… پھر ایک موقع پر امی جان نے میرے قریب پہنچ کر چمچہ مار دیا۔ میں نے چمچہ پکڑ کر امی جان کے چہرے کے قریب منہ لے جا کر کہا:۔
میں: ۔
“امی جان… اب بس بھی کر دیں۔ کب تک اپنے بیٹے کو ترسائیں گی آپ؟ اب تو آپ مجھے دے ہی دیں”۔
امی جان کی آنکھوں میں آگ بڑھی… غصہ بھی بڑھا… پھر زور لگا کر چمچہ مجھ سے چھڑوانے لگیں۔ میں اب جوان ہو گیا تھا، کیسے امی جان ایک عورت ہو کر جوان بیٹے سے چمچہ چھڑوا سکتی تھیں۔ میں ہنستا ہوا سونیا کے پاس گیا۔
وہ بولی:۔
“کیوں تنگ کر رہے ہو امی کو؟”۔
حنا بولی: ۔
“تم نے ایسا کیا کہا… جو امی تمہیں مار رہی ہیں؟”
میں امی جان سے بچ کر دور ہوا… پھر گھوم کر دونوں بہنوں کے قریب آ کر، امی جان کو دیکھتا ہوا آنکھ مار کر دھیرے سے اپنی دونوں بہنوں سے کچھ بول دیا…۔
امی جان کے چہرے کا رنگ اتر گیا… وہ گھبرا گئیں… کہیں میں نے یہ تو نہیں بتا دیا کہ میں نے اپنی ہی امی جان کی گانڈ میں انگلی کی ہے۔
دونوں بہنیں شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ امی جان کو دیکھنے لگیں اور امی جان کے چہرے پر پسینہ آنے لگا۔ وہ رک گئی تھیں، اب میری طرف نہیں بھاگ رہی تھیں۔
امی جان ہکلا کر بولیں:۔
“… یہ تم دونوں مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟”
سونیا: ۔
“امی آپ گھبرا کیوں رہی ہیں؟”
حنا مزا لیتی ہوئی لبنیٰ اور امجد کو دیکھ کر بولی:۔
“تم دونوں نہیں سنو گے کیا… عمران بھائی نے امی کے ساتھ کیا کیا ہے؟”۔
امی جان کھڑی کھڑی گرنے والی ہو گئیں۔ وہ چاہ رہی تھیں کہ حنا کچھ نہ بتائے… ہائے کس مصیبت میں پھنس گئیں، ایک تو بیٹا بے شرم بن کر ماں کی گانڈ میں انگلی کرتا ہے، پھر اپنی بہنوں کو بتاتا ہے… وہی بہنیں اب چھوٹے بھائی بہن کو بتانے جا رہی تھیں۔
میں امی جان کی پریشانی کا لطف اٹھانے لگا…۔
تبھی حنا ہنستی ہوئی بولی: ۔
“ہی ہی ہی… عمران بھائی نے امی جان کی
(حنا اشارے سے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی)
یہاں چٹکی کاٹی ہے۔ ہی ہی ہی۔
… امی جان کو غصہ آ گیا”۔
میں نے دیکھا، امی جان نے راحت کی سانس لی تھی… پھر وہ میری طرف غصے سے بڑھیں۔ امی جان قریب آئیں، میں نے چمچہ پکڑ کر چہرہ قریب کرتے ہوئے کہا:۔
میں:۔
“امی جان… میں اپنا اور آپ کا رشتہ پوری دنیا سے چھپا کر رکھوں گا۔ مان جائیے امی جان… کہیں ایسا نہ ہو، میں کسی اور کے ساتھ جڑ جاؤں… اور آپ ہاتھ ملتی رہ جائیں”۔
امی جان دانت پیس کر دھیرے سے بولیں: ۔
“تو جا نا… مر جا کسی کے بھی… اب کے تو نے میرے ساتھ کوئی بھی ایسی ویسی حرکت کی نا… تو نیند میں ہی تیرا گلا دبا دوں گی۔ بہت لحاظ کر لیا میں نے تیرا”۔
اس بار میں نے سچ میں سب کے سامنے امی جان کی کمر پر چٹکی کاٹ دی۔ یہ چٹکی ایسی ہی تھی جیسے میں نے امی جان کے جسم کو محسوس کیا ہو۔ بس پھر کیا تھا… امی جان کا پارہ اور بھی چڑھ گیا…۔
میں بھاگتا ہوا گھر کے دروازے کے پاس باہر کھڑا ہو کر امی جان کو دیکھنے لگا۔ سب ہنسنے لگے۔ امی جان مجھے غصے سے دیکھ رہی تھیں…۔
آنکھوں سے کہہ رہی تھیں: ۔
“کہاں جائے گا تو… لوٹ کر تو تجھے گھر ہی آنا ہے نا… پھر دیکھ لوں گی میں تجھے…”۔
میں ہنستا ہوا ایک سائیڈ نکل گیا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے، اتنی جلدی اتنا سب کیسے ہو گیا؟
ارے بابا… کچھ بھی جلدی نہیں ہوتا ہے… وقت لگتا ہے سوچ کو بدلنے میں، دل میں اپنی ہی امی جان کی مارنے میں…۔
میرا نام عمران ہے، میری عمر 18 سال ہے اور میں سیکنڈ ایئر کا اسٹوڈنٹ ہوں۔
پروین میری امی جان، عمر 40 سال۔
دنیا کی ہر امی جان کی طرح میری امی جان بھی بہت پیاری ہیں۔ لیکن اگر بات کی جائے خوبصورتی کی تو نین نقش بہت تیز ہیں امی جان کے۔ ناک میں کوکا ڈالے ہونے کی وجہ سے امی جان کے چہرے پر بہت چمک بڑھ جاتی ہے۔ دیکھنے والے ابو کو خوش قسمت بولتے ہیں جو امی جان ان کے حصے میں آئیں۔
جمشید میرے ابو، عمر 48 سال۔
سخت محنتی ہیں لیکن اب کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ پہلے اچھی صحت تھی، اب اکثر کام کرتے ہوئے تھک جاتے ہیں… پہلے سبزی منڈی میں پلے داری (مزدوری) کیا کرتے تھے، اب گھر کی بیٹھک میں کریانہ کی دکان بنا لی ہے ابو جی نے۔
سونیا میری بڑی بہن، عمر 19 سال… مجھ سے ایک سال بڑی ہے۔ امی جان کی طرح ہی خوبصورت اور فگر میں مست ہے… رنگ کی صاف اور نین نقش امی جان کے جیسے ہی تیز… ناک چھدوا کر چاندی کا کوکا ڈلوایا ہوا ہے میری بہن سونیا نے… وہ بھی ماں سے کم خوبصورت نہیں دکھتی…۔
مجھ سے چھوٹے میرے 3 بھائی بہن اور ہیں:۔
حنا: مجھ سے ایک سال چھوٹی ہے
لبنیٰ: یہ حنا سے دو سال چھوٹی ہے
پھر امجد: یہ لبنیٰ سے 3 سال چھوٹا ہے…۔
کل ملا کر ہم ایک خوشحال زندگی جی رہے ہیں۔ لیکن ابو جی کی صحت کے گرنے کی وجہ سے امی جان اب زیادہ فریش نہیں رہا کرتی تھیں۔ میں جوان ہونے سے پہلے سے ہی سمجھ گیا تھا کہ کیوں امی جان کے چہرے کی اصلی چمک دکھائی نہیں دیتی… چمک مانند پڑ جانے کے باوجود بھی امی جان لاکھوں میں ایک دکھائی دیتی ہیں۔ ہر روز اجلے کپڑے پہنتی ہیں، اپنا بہت خیال رکھتی ہیں…۔
ہاں، پر اب انہیں زیادہ لنڈ نہیں مل پاتا، جس وجہ سے امی جان کے جسم میں اینٹھن سی رہتی ہے۔ اکثر میں نے نوٹ کیا تھا۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میرے دل میں امی جان کو چودنے کا خیال کیسے پَلا؟ ۔
تو بھائی لوگو، ہر گھر میں ہر بیٹا، ہر بھائی اپنی امی جان کو، اپنی بہنوں کو اور گھر میں جو بھی عورتیں ہوتی ہیں، انہیں ہر طرح کے کپڑوں میں دیکھتا رہتا ہے۔
مثلاً… کبھی جھاڑو دیتے ہوئے مموں کا دکھائی دے جانا…۔
کبھی بیٹھ کر جھاڑو دیتے ہوئے مست طریقے سے گانڈ کا اٹھنا اور اس میں شلوار اور قمیض کا پھنس جانا۔
نہانے کے بعد گیلے کپڑے اور بھیگا بدن لنڈ میں سنسنی تو دوڑا ہی دیتا ہے۔ اگر تو کوئی شریف ہو اور اپنے ہی گھر میں کسی کو ایسی حالت میں دیکھ کر گندا گندا نہیں سوچتا، تو اس گھر کی عورتیں بچ جایا کرتی ہیں…۔
لیکن میں الگ تھا۔ بعد میں مجھے پتا چلا… میری امی جان کی شادی جلدی اس لیے کر دی گئی تھی کہ امی جان جتنی خوبصورت تھیں، اتنی ہی ان کی چوت میں آگ بھی بھری تھی۔
اففففففف… بڑی مشکل سے امی جان میرے نیچے لیٹنے کو تیار ہوئی تھیں… لیکن پھر جب وہ راضی ہوئیں تو کمال ہی ہو گیا تھا… کتنے مزے کے ساتھ وہ
مجھ سے چدا کرتی تھیں…..۔
جاری ہے۔