کُچھ ہی پل میں میجر نے اپنا لنڈ پینو کی گانڈ سے نِکالا تو اُسکا لنڈ اُس کی اپنی ہی منی سے گِیلا ہو رہا تھا اور اُس کے آگے سے ابھی بھی اُس کی منی کے کچھ قطرے ٹپک رہے تھے اور پینو کی گانڈ سے بھی منی بہتی ہوئی باہر کو آنے لگی تھی۔۔ میجر نے پاس کھڑی ہوئی صبا کا دوپٹہ اپنی طرف کھینچا اور اُس سے اپنا لنڈ پونچھ کر اچھی طرح سے صاف کیا اور پھر اُسی دوپٹے سے اُس نے پینو کی گانڈ پر سے اپنی منی بھی صاف کر دی۔۔ اور دوپٹہ صبا کی طرف پھینک دیا اور اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔ میں نہانے جا رہا ہوں۔۔ ایسے سب کو نظر انداز کر کے جیسے وہاں پر کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔ جیسے اُس سِٹنگ روم میں کوئی بھی نا ہو۔۔ نا صبا ہو اور نا ہی پینو۔۔
اچانک میجر اپنے بیڈ روم کے دروازے پر دوبارہ نمودار ہوا اور پینو کے کپڑے باہر فرش پر پھینک دیے۔۔ بِنا کچھ کہے۔۔ اور زور سے اپنا دروازہ بند کر دیا۔۔
صبا تڑپ اُٹھی کہ کیسے۔۔ میجر کیسے اُسے چُودے بِنا ایسے تڑپتا چھوڑ سکتا ہے۔۔ چھوڑ ہی سکتا ہے۔۔ جیسے پہلے چھوڑ جاتا ہے۔۔ لیکن اِس طرح پینو کے سامنے اُسے بِنا چُودے ہوئے جانا اُس کی بہت زیادہ تذلیل تھی۔۔ جیسے میجر نے پینو کو۔۔ اُس نوکرانی کو اُس سے زیادہ اَہمیت دی ہو۔۔ ظاہر ہے جب اپنا لنڈ اُس کی بجائے اُسے دے دیا تو اَہمیت تو خود ہی مل گئی نا۔۔
میجر کے جانے کے بعد صبا تو صوفے پر ڈھیر سی ہو گئی۔۔ بے جان ہو کر۔۔ تڑپتی ہوئی چُوت کو لے کر۔۔ بالکل ساکت۔۔ بس پینو کو دیکھتے ہوئے۔۔ اور کبھی اپنی گود میں پڑے ہوئے اپنے دوپٹے کو دیکھتے ہوئے جِس پر میجر کے لنڈ کی منی صاف لگی ہوئی نظر آ رہی تھی۔۔ اور پینو کی گانڈ سے نِکلنے والی میجر کی منی اور تیل بھی۔۔ پینو نے کپڑے پہنے۔۔ کمرے کی حالت تھوڑی ٹھیک کی۔۔ اور پھر باہر کی طرف جاتے ہوئے بولی۔۔ صبا میم صاحب آپ جاؤ گی یا ابھی رُکو گی میجر صاحب کے اِنتظار میں۔۔ صبا نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اُٹھ کر بالکونی کی طرف بڑھ گئی۔۔ واپس اپنے گھر جانے کے لیے۔۔ اُسی راستے سے جِدھر سے وہ آئی تھی۔۔ اُسی پیاسی حالت میں۔۔ جِس پیاسی حالت میں وہ اِدھر آئی تھی۔۔ ۔۔ یہ سوچ کر کہ آج شائد اچھی چُدائی کر دیں میجر صاحب۔۔ لیکن یہاں تو سین ہی الگ ہو گیا تھا نا۔۔ ایک بار پھر سے جی سی پی ڈی۔۔
بالکونی کے راستے واپس اپنے فلیٹ میں آکر صبا سیدھی اپنے بیڈ روم کی طرف دوڑی۔۔ اُس کی آنکھوں کا پانی کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔۔ اور دُوسری طرف اُس کی چُوت بھی پانی چھوڑے جا رہی تھی۔۔ کسی موٹے لنڈ کو مانگ رہی تھی۔۔ لیکن لنڈ کہاں۔۔
صبا سیدھی جا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔ اور جو کچھ ہوا تھا۔۔ جو کچھ اُس کے ساتھ بیتی تھی اُسے یاد کرنے لگی۔۔ تڑپتی ہوئے اپنا ہاتھ اپنی تڑپتی ہوئی چُوت پر رکھ دیا اپنی شلوار کے اوپر سے ہی۔۔ جیسے ہی اپنی چُوت کو چُھوا تو اُسے جیسے کچھ سکون ملا۔۔ اِسی سکون کو بڑھانے کے لیے صبا نے آہستہ آہستہ اپنی چُوت کو رگڑنا شُروع کر دیا۔۔ آہستہ آہستہ سہلانا شُروع کر دیا۔۔ آنکھیں بند تھیں اور ہاتھ اپنی چُوت کو سہلا رہا تھا۔۔ اور آنکھوں کے آگے میجر کا لنڈ پینو کی چُوت میں اندر باہر ہوتا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔
جیسے ہی پیاس بڑھی تو صبا نے اپنا ہاتھ اپنی شلوار کے اندر ڈال دیا۔۔ اور سیدھا اپنی ننگی چُوت کو سہلانے لگی۔۔ جتنا سہلا رہی تھی اُتنا ہی اُس کی پیاس بڑھ رہی تھی۔۔ اُتنی ہی اُس کی تڑپ بڑھ رہی تھی۔۔ چُوت کچھ نہ کچھ اپنے اندر مانگ رہی تھی۔۔ ایک موٹا اور لمبا لنڈ۔۔ جو کہ ابھی تو صرف اور صرف اُس کے خیالوں میں ہی تھا۔۔ اور اُسی کو یاد کر کے۔۔ اُس نے اپنی چُوت میں اپنی ایک اُنگلی ڈال دی۔۔ کُچھ تو سکون ملا اُس کی چُوت کو جیسے۔۔ آہستہ آہستہ اپنی چُوت کے اندر اپنی اُنگلی اندر باہر کرنے لگی۔۔ بند آنکھوں کے ساتھ۔۔ لیکن اُس کی اپنی شلوار ہی اُس کے ہاتھوں کی حرکت میں رُکاوٹ کر رہی تھی۔۔ بِنا سوچے سمجھے۔۔ اور اپنی چُوت کی پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی شلوار کو نیچے کھینچ دیا۔۔ اور پھر اپنے پیروں سے نکال کر پرے پھینک دیا۔۔ اب صبا کا نچلا جسم بالکل ننگا تھا۔۔ اُس کی چُوت بالکل ننگی ہو چُکی ہوئی تھی۔۔
صبا نے اپنی دونوں تھائیز کو کھولا اور ٹانگوں کو پھیلا کر اپنی چُوت کے اندر اپنی اُنگلی ڈال دی۔۔ بند آنکھوں کے ساتھ ایک بار پھر سے اپنی چُوت کے اندر اُنگلی اندر باہر کرنے لگی۔۔ تیزی کے ساتھ۔۔ خود ہی اپنے ہاتھ سے ہی اپنی چُوت کو اپنی منزل کی طرف لے جاتے ہوئے۔۔ لیکن ایک موٹے لنڈ کی طلب کو ایک چھوٹی سی پتلی سی اُنگلی کیسے پُورا کر سکتی تھی۔۔ لیکن پھر بھی کچھ تو سکون مل ہی رہا تھا نا اُسے۔۔ اور اِسی سکون کے لیے وہ تیزی سے اپنی چُوت کے اندر اُنگلی اندر باہر کر رہی تھی۔۔
اچانک صبا نے اپنے پاس پڑا ہوا اپنا دوپٹہ اُٹھایا اور اُس پر لگی ہوئی منی کو اپنی چُوت پر مَلنے لگی۔۔ اپنے دوپٹے کو اپنی چُوت پر رگڑتے ہوئے میجر کی منی کو اپنی چُوت پر مَلنے لگی۔۔ پتہ نہیں کیا سکون اِس سے ملنا تھا اُسے۔۔ بس یہی احساس ہو رہا تھا کہ میجر کے لنڈ کی منی اُس کی چُوت کو فیل ہو رہی ہے۔۔ اور شاید اِسی سے اُس کی چُوت کو سکون مل سکے۔۔
صبا سِسک رہی تھی۔۔ کِراہ رہی تھی۔۔ بند آنکھوں کے پیچھے میجر کا چہرہ ہی اُسے نظر آ رہا تھا۔۔ م۔۔ م۔۔ م۔۔ س۔۔ س۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ او۔۔ او۔۔ او۔۔ او۔۔ میجو۔۔ میجو۔۔ میجو۔۔ ر۔۔ ر۔۔ ر۔۔ ر۔۔ کیوں کرتے ہو۔۔ آ۔۔ ایسے۔۔ میرے سا۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ساتھ۔۔ ہی۔۔ ہی۔۔ ہی۔۔ ہی۔۔ ہی۔۔ کیوں ہر وقت ترپا۔۔ ترپا۔۔ ترپا۔۔ کے چھوڑ دیتے ہو۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ میجو۔۔ میجو۔۔ میجر۔۔ ر۔۔ ر۔۔ ر۔۔ اور میجر اُس کی آنکھوں کے سامنے ہی تو کھڑا مُسکرا رہا تھا اُس کی حالت پر۔۔ یہی صبا کو لگ رہا تھا کہ وہ تڑپ رہی ہے اور میجر اُس کے سامنے کھڑا ہو اُس کی حالت دیکھ کر مُسکرا رہا ہے۔۔
صبا سِسکی۔۔ ہنسو۔۔ ہنسو۔۔ اور ہنسو۔۔ یہی کر سکتے ہو نا۔۔ یہ سب کرتے ہوئے اُس کی اُنگلی مُسلسل اپنی چُوت میں چل رہی تھی۔۔ لیکن اُس کی منزل تو جیسے ابھی بھی بہت دور تھی۔۔ آج تو orgasm جیسے ہونا ہی نہیں چاہ رہا تھا۔۔ جیسے اُس کے orgasm نے بھی بِنا لنڈ کے ہونے سے انکار کر دیا ہو۔۔
آنکھوں کے اندر آئے ہوئے آنسو اُس کی آنکھوں کو دھندلا رہے تھے اور دُھندلی آنکھوں کے سامنے میجر کا دھندلا اِمیج اُسے اور بھی بے چین کر رہا تھا۔۔ کیا کروں میں۔۔ تُم جیسے کمینے کی خاطر ہی تو میں نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی ہے۔۔ اور۔۔ اور تُم ہو کہ بس مُجھے تڑپاتے ہی رہتے ہو۔۔ کاش میں یہاں آئی ہی نا ہوتی۔۔ جو باتیں کبھی بھی صبا اپنی زُبان پر نہیں لا پاتی تھی میجر کے سامنے آج وہ اُس کے تصوّر سے وہ سب باتیں کر رہی تھی۔۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ بس آگے بڑھ کر میجر کی اُس اِمیج سے لپٹ جائے لیکن۔۔ اُسے پتہ تھا کہ یہ نا ممکن ہے۔۔ یہ سب سراب اور اُس کی آنکھوں کا دھوکا ہے۔۔
ابھی بھی اُسے ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے کہ میجر اُس کے سامنے کھڑا ہوا ہنس رہا ہو۔۔ وہی مکروہ مسکراہٹ ۔۔ جیسے اُس کی تڑپ اور بے قراری پر ہنس رہا ہو۔۔ صبا بھی اپنی دونوں ٹانگوں کو پُورا کھولے ہوئے اپنی دُھندلی آنکھیں میجر کے اِمیج پر جمائے ہوئے تیزی سے اپنی اُنگلی اپنی چُوت میں اندر باہر کر رہی تھی۔۔ تڑپ رہی تھی۔۔ اپنی منزل کو پہنچنے کے لیے۔۔
میجر کا اِمیج اُس کی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔ ایسا ہی سب تو اُس کے دِماغ میں چل رہا تھا کہ یہ اُس کے قریب آ جائے۔۔ سب کچھ ویسا ہی ہو رہا تھا۔۔ جیسا وہ کمینہ کرتا تھا حقیقت میں۔۔ اُس کے سامنے کھڑے ہو کر اُس نے اپنا برمودا اُتار دیا۔۔ اُسکا لنڈ۔۔ وہی کالا اور موٹا اور لمبا لنڈ اُس کے سامنے لہرانے لگا۔۔ اُس کے لنڈ کے اِمیج کو دیکھ کر صبا کی اپنی چُوت کے اندر اُنگلی کی حرکت اور بھی تیز ہو گئی۔۔
صبا کو وہ اِمیج اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔۔ جیسے وہ اُس کے بیڈ پر چڑھ رہا ہو۔۔ صبا سب کچھ بے بسی سے محسوس کر رہی تھی۔۔ جب اُس کی طلب بڑھی اور مزید برداشت نہ ہو سکا تو اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔ لیکن بند آنکھوں میں بھی تو وہی اِمیج گھوم رہا تھا نا۔۔ صبا تڑپ کر سِسکی۔۔ کیوں اب ایسے تنگ کرنے آ گئے ہو میرے خیالوں میں بھی۔۔ مت ستاؤ مُجھے۔۔
صبا کو اپنی چُوت پر کچھ گرم گرم سا رگڑتا ہوا محسوس ہوا۔۔ وہی احساس تھا جو میجر کے لنڈ کے اُس کی چُوت پر رگڑے جانے سے اُسے ہوتا تھا۔۔ م۔۔ م۔۔ م۔۔ س۔۔ س۔۔ س۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ہ۔۔ ی۔۔ ی۔۔ صبا تڑپ اُٹھی۔۔ سِسک اُٹھی۔۔ اُس لنڈ کو حقیقت میں محسوس کرنے کے لیے صبا نے اپنی اُنگلی اپنی چُوت سے ہٹائی تو اگلے ہی لمحے اُسے اپنی چُوت میں کچھ اندر جاتا ہوا محسوس ہوا۔۔ کُچھ موٹا سا۔۔ پھنستا ہوا۔۔ س۔۔ س۔۔ س۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔ ایک لمحے کے تو صبا اُسی لذت میں کھو گئی۔۔ لیکن۔۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔ کیسے کُچھ میرے اندر جا سکتا ہے۔۔ اگلے ہی پل اُس نے تڑپ کر اپنی آنکھیں کھولیں اور دیکھا تو میجر کا جسم سچ مُچ میں اُس کے اُوپر چھایا ہوا تھا۔۔ اور اُسکا موٹا لنڈ اُس کی چُوت میں پُورے کا پُورا اُترا ہوا تھا۔۔