میجر صاحب۔۔( نیو ورژن ۔۔قسط 28)

اچانک سے میجر نے پینو کے سینے کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے اور ویسٹ کے اوپر سے ہی اُس کے دونوں بوبز کو پکڑ کر دبانا شُروع کر دیا۔۔ میجر کا موٹا لنڈ منہ کے اندر لیے ہوئے پینو کے منہ سے سِسکاری نِکلنے لگی۔۔ م۔۔ م۔۔ م۔۔ آ۔۔ آ۔۔ آ۔۔

میجر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اُس کے کندھے پر رکھا اور اُس کی پہنی ہوئی ویسٹ کو پکڑ کر نیچے اُس کے شولڈرز سے نیچے سِرکا دیا۔۔ اگلے ہی لمحے اس  کے دونوں بوبز ننگے ہو کر میجر کے ہاتھوں میں تھے۔۔ اور صبا کی آنکھوں کے سامنے۔۔ میجر نے پینو کے بوبز کو آہستہ آہستہ دبانا شُروع کر دیا۔۔

اپنے سے صرف 3 فٹ کے فاصلے پر۔۔ اپنے سے اِتنا قریب۔۔ اپنی زندگی میں پہلی بار۔۔ کسی بھی دوسری عورت کے بوبز اپنے اِتنے قریب صبا پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔ اِس سے پہلے بھی پینو کے بوبز دیکھے چُکی تھی لیکن دونوں بار بہت دور سے۔۔ جہاں سے ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں سکی تھی۔۔ لیکن آج صبا کی آنکھوں کے بالکل سامنے تھے پینو کے بوبز۔۔ صبا نے دیکھا کہ پینو کے بوبز اُس کے بوبز سے بڑے نہیں ہیں۔۔ نہ ہی خوبصورت۔۔ سانولا سا رنگ تھا۔۔ جیسے باقی جسم کا کلر تھا۔۔ اور ڈارک براؤن کلر کے نِپلز تھے۔۔ جب کہ صبا کے بوبز بالکل گورےتھے اور نِپلز بھی بالکل پِنک رنگ کے تھے۔۔ صبا کو لگا کہ پینو کے بوبز 34 سائز کے ہوں گے۔۔ لیکن پتہ نہیں اِس میجر کو کیا مزہ آ رہا تھا اُس کے بوبز سے کھیلنے میں جو وہ اُن کو دبائے جا رہا تھا۔۔ اُن کو صبا کی آنکھوں کے سامنے ننگے کر کے۔۔

پینو بھی اب سیدھی ہو کر بیٹھ چُکی ہوئی تھی اور بس میجر کے لنڈ کے اُوپر آئل لگا رہی تھی۔۔ اُس کو اور بھی چکنا کر رہی تھی۔۔ آئل لگنے کے بعد تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میجر کا لنڈ پہلے سے بھی موٹا اور لمبا ہو گیا ہو۔۔ اُدھر صبا کی اپنی حالت بھی خراب ہو رہی تھی۔۔ وہ اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی مچل رہی تھی۔۔ دھیرے دھیرے اپنی تھائیز کو دبا رہی تھی۔۔ اپنی چُوت کو مسلنے اور دبانے کے لیے۔۔ لیکن بِنا کسی کا ہاتھ لگے۔۔ یا اپنا ہاتھ لگے بِنا کیسے اُس کی چُوت کو سکون مل سکتا تھا۔۔ اور اُس وقت۔۔ اُس وقت تو اُس کی چُوت ایک لنڈ مانگ رہی تھی۔۔ موٹا۔۔ کالا۔۔ لمبا لنڈ۔۔ میجر کا لنڈ۔۔ کوئی اور نہیں بس یہی لنڈ جو اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس پینو کے ہاتھوں میں مچل رہا تھا۔۔ اور میجر اب اُس کی ننگی تھائیز کو سہلا رہا تھا۔۔

میجر نے کُچھ اِشارہ کیا اور اُس نے ایک نظر صبا کی طرف دیکھی اور پھر۔۔ اپنی جگہ سے۔۔ میجر کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے تھوڑا پیچھے کو سِرکتے ہوئے۔۔ اپنی پہنی ہوئی چھوٹی سی نِکر کو نیچے سِرکانا شُروع کر دیا۔۔ صبا کا حلق یکدم سے خُشک ہو گیا۔۔ اُسکا سانس رکنے لگا۔۔ لیکن اُسے پتہ تھا کہ وہ کُچھ بھی نہیں کر سکتی۔۔ اُٹھ کے بھی نہیں جا سکتی۔۔ اور اپنی چُوت کو مَسَل بھی نہیں سکتی۔۔ بس خاموشی سے۔۔ بے بسی سے اِس ہاٹ سین کو دیکھ سکتی ہے جو اُس کے سامنے ہو رہا ہے۔۔ اور بس اپنے بدن کی پیاس کو اور بھی بڑھا ہی سکتی ہے۔۔ اور یہی وہ کر رہی تھی۔۔

پینو نے اپنے جسم کے نچلے حِصّے کو اپنی نِکر سے آزاد کر کے دوبارہ سے خود کو میجر کی تھائیز کے درمیان سیٹ کر لیا۔۔ آہستہ سے میجر کے لنڈ کو دوبارہ اپنے ہاتھ میں لیا اور اُسے سہلانے لگی۔۔ میجر کے لنڈ پر اور بھی آئل گرایا اور پھر اپنے ہاتھ میں آئل لے کر اپنی چُوت کے باہری لپس پر مَل دیا۔۔ اور پھر صبا کو حیران ہی تو کر دیا۔۔ جب میجر کے اُوپر چڑھ کر۔۔ میجر کے لنڈ کو اُس کے پیٹ پر لٹایا اور پکڑ کر اپنی چُوت کے لبوں کو اُس کی لمبائی پر رکھا اور آہستہ آہستہ اپنی چُوت کو اُس کے لنڈ پر رگڑنے لگی۔۔ آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے کو۔۔ جیسے۔۔ جیسے۔۔ اپنی چُوت سے میجر کے لنڈ کی مالش کر رہی ہو۔۔ اور ہو بھی تو یہی رہا تھا نا۔۔ پینو کی چُوت کے لبوں پر لگا ہوا تیل میجر کے لنڈ کی مالش رہا تھا۔۔ اور شاید اُس آئل میں پینو کی چُوت کا پانی بھی شامل ہو رہا تھا۔۔ جِس کا کسی کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔

اچانک میجر پینو کے ایک بوب کو دبا کر بولا۔۔ سالی کتنی بار تجھے کہا ہے کہ چُوت کے بال صاف کر کے رکھا کر سارے تیرے بال میرے لنڈ پر چبھتے ہیں۔۔ چھیلے گی کسی دن میرے لنڈ کو تُو۔۔

پینو صرف جی اچھا ہی کہہ سکی۔۔ اور کہتی بھی کیا۔۔

صبا کو خیال آیا کہ بال تو اُس کی چُوت پر بھی بڑے ہی ہوتے ہیں۔۔ لیکن اُسے تو کبھی نہیں کہا میجر نے۔۔ شاید ویسے ہی برداشت کرتا ہو۔۔ ورنہ وہ تو اِس بات پر بھی اسے سزا دے سکتاتھا ۔۔ اب میں خود ہی اِن کو صاف کر لوں گی اِس سے پہلے کہ میجر کو مُجھے بھی کہنا پڑے۔۔ ایسے ہی فُضُول میں غُصہ کرے گا۔۔ لیکن کیا میں بار بار اِس کے سامنے ننگی ہونے کا سوچ رہی ہوں۔۔ کیا میں خود بھی ایسا چاہتی ہوں۔۔ پتہ نہیں ہو یا نہ ہو دوبارہ لیکن میرے کہنے پر اِس نے رُکنا تھوڑا ہی ہے۔۔ کسی بھی وقت دوبارہ آ سکتا ہے پھر سے۔۔

پینو کو اپنی چُوت میجر کے لنڈ پر رگڑتا ہوا دیکھ کر صبا سے بھی برداشت نہیں ہو سکا۔۔ اور آخر کار اُس نے بھی چُپکے سے اپنا ہاتھ اپنی دونوں تھائیز کے درمیان میں سِرکا لیا۔۔ اپنی چُوت پر۔۔ اور آہستہ آہستہ پانی چُوت کو اپنی شلوار کے اوپر سے ہی رگڑنے لگی۔۔ کُچھ تو سکون ملا۔۔ لیکن اِس سب سے آگ اور بھی تو بڑھ گئی تھی۔۔

تھوڑا اور آگے کو ہوتے ہوئے پینو نے میجر کا لنڈ اپنی چُوت کے سُوراخ پر ٹِکایا اور۔۔ اور۔۔ آئل سے بالکل چکنا ہو رہا ہوا میجر کا لنڈ اپنی چُوت کے چکنے ہو رہے سُوراخ پر ٹِکا دیا۔۔ میجر کا تیل سے بھرا ہوا لن  کسی رُکاوٹ کے بغیر  پِھسلا اور اگلے ہی لمحے پینو کی چُوت کے اندر تھا۔۔ پینو نے آہستہ آہستہ اُوپر نیچے اور آگے پیچھے کو ہونا شُروع کر دیا۔۔ میجر کے لنڈ سے اپنی چُوت کو چُدواتے ہوئے۔۔ صبا کی نظریں بھی سیدھی اُن دونوں کی چُدائی پر ہی ٹِکی ہوئی تھیں۔۔ بِنا کسی اور طرف دیکھے اور بس اپنی چُوت کو سہلا رہی تھی۔۔ آخر صبر جو نہیں ہو رہا تھا نا۔۔ اُدھر پینو میجر کی لنڈ سے اپنی چُوت چُدوا رہی تھی۔۔ اور اِدھر صبا بُری طرح سے تڑپ رہی تھی۔۔ لیکن اُدھر پینو بِنا اُس کی پروا کیے۔۔ صرف اور صرف اپنی چُوت کو مزے دے رہی تھی۔۔ اور میجر بھی صبا کی طرف دھیان دیے بِنا ہی صرف اور صرف پینو کو چُود رہا تھا۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں کو پینو کی کمر پر رکھے ہوئے آہستہ آہستہ اپنی کمر کو ہِلا رہا تھا اور اُسکا لنڈ پینو کی چُوت کے اندر ہلچل مچا رہا تھا۔۔

کُچھ دیر تک ایسے ہی پینو کی چُوت کو چُودنے کے بعد میجر نے پینو کو اُٹھنے کا اِشارہ کیا۔۔ پینو میجر کے اُوپر سے اُٹھ گئی۔۔ اور میجر کا لنڈ بھی اُس کی چُوت سے نکل گیا۔۔ میجر کوچ سے اُٹھ کر نیچے کھڑا ہو گیا۔۔ اور پینو جلدی سے اُس کی طرف اپنی گانڈ کر کے گھوڑی بن گئی۔۔ اِتنی جلدی سے۔۔ جیسے اُسے سب پتہ ہو کہ کب کیا کرنا ہے۔۔ اور کب میجر کیا چاہتا ہے۔۔ جیسے یہ اُسکا روز کا معمول ہو۔۔ اور تھا بھی تو ایسا ہی نا۔۔

میجر نے اُس کے پیچھے کھڑے ہو کر ہی اپنا لنڈ اُس کی چُوت پر ٹِکایا اور ایک ہی دھکے میں اُسے پینو کی چُوت کے اندر اُتار دیا۔۔ اور پینو کی چُوت کو چُودنا شُروع کر دیا اپنے موٹے کالے لنڈ سے۔۔ اور یہ سب صبا سے اب صرف ایک فٹ کے فاصلے پر ہو رہا تھا۔۔ بالکل اِتنا قریب کہ وہ ہاتھ بڑھا کر بِنا اپنا بازُو پورا پھیلائے۔۔ دونوں میں سے کسی کو بھی چُھو سکتی تھی۔۔ میجر کے لنڈ کو بھی چُھو سکتی تھی۔۔ اور پینو کی گانڈ کو بھی۔۔

صبا اپنی چُوت کو آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے میجر کے لنڈ کو پینو کی چُوت کے اندر باہر آتے جاتے دیکھ رہی تھی۔۔ جہاں میجر پینو کی چُوت کو چُود رہا تھا اُس سے تھوڑا ہی اُوپر پینو کی گانڈ کا سُوراخ تھا۔۔ ڈارک براؤن کلر کا۔۔ ٹائیٹ سا۔۔ میجر نے اپنی ایک اُنگلی سے پینو کی گانڈ کے سُوراخ کو سہلانا شُروع کر دیا۔۔

میجر۔۔ بہن کی لوڑی۔۔ کُتیا کی اولاد۔۔ یہاں اپنی ہی چُوت میں اُنگلی کرتی رہے گی بیٹھی کیا۔۔ چل اُٹھ اور وہ آئل کی بوتل لے کر آ میرے پاس۔۔ حرام زادی۔۔ ایسے بیٹھی  ہے جیسے رنڈی کوئی ایکس ایکس ایکس دیکھ رہی ہے بیٹھی ہوئی۔۔

میجر کی آواز سے صبا ہڑبڑا سی گئی۔۔ اور کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کیا بول گیا ہے میجر اُسے۔۔ لیکن اِتنا ضرور سمجھ گئی کہ میجر نے اُس آئل کی بوتل لانے کو کہا ہے جو کہ کوچ کی دوسری طرف پڑی ہوئی تھی۔۔ صبا اُٹھی اور اُٹھ کر آئل کی بوتل لے آئی۔۔ اور لا کر میجر کی طرف بڑھا دی۔۔

اگلے ہی لمحے ایک تھپڑ صبا کے چہرے پر پڑا۔۔

میجر۔۔ کسی کُتے کے لنڈ کی پیداوار ہی ہے تُو حرام زادی۔۔ کُتی کی بچی اِس تیل کی بوتل کو تیری چُوت میں ڈال دوں یا تیری گانڈ میں بول۔۔ پتہ نہیں تیرے سے کوئی کام ٹھیک سے کیوں نہیں ہوتا یا جان بُوجھ کر ایسا کرتی ہے تُو سالی۔۔

صبا ایک ہاتھ میں آئل کی بوتل پکڑے اور دُوسرے ہاتھ سے اپنے چہرے کو سہلاتے ہوئے میجر کو دیکھ رہی تھی۔۔ وہ حیران ہو رہی تھی کہ آخر میجر چاہتا کیا ہے۔۔ اب کون سی غلطی کر لی ہے میں نے۔۔ بوتل مانگی وہ اُس نے لا دی۔۔ اب اور کیا کروں۔۔

اگلے ہی لمحے میجر کی آواز نے اُسے سب سمجھا دیا۔۔

میجر۔۔ اب ایسے ہی موت پڑی رہے گی یا بوتل لا کے اِس رنڈ ی  کی گانڈ پر تیل ڈالے گی بھی۔۔ نہیں تو۔۔ اِس کی جگہ تیری گانڈ پھاڑ دوں گا آج کے آج۔۔ اور وہ بھی بِنا تیل لگائے۔۔ رنڈی کی اولاد سارا مزہ چُدائی کا خراب کر رہی ہے۔۔ جیسا وہ بہن چود۔۔ خُسرا۔۔ ہیجڑا۔۔ اِس کا بندہ ہے۔۔ ویسی ہی بیکار بیوی ہے۔۔ اُس کنجر کو چُودنا نہیں آتا اور اِس کنجری کو چُدوانا نہیں آتا۔۔

صبا سب سمجھ چُکی تھی۔۔ خاموشی سے آگے بڑھی اور آئل کی بوتل بالکل پینو کی گانڈ کے اُوپر لے آئی۔۔ میجر کی اُنگلی اب بھی پینو کی گانڈ کے سُوراخ پر تھی اور لنڈ پینو کی چُوت میں۔۔ صبا نے آہستہ سے آئل پینو کی گانڈ کے سُوراخ پر گِرایا۔۔ یہ کام کرتے ہوئے صبا کو بہت ہی شرم آ رہی تھی۔۔ اور اُسکا ہاتھ کانپ رہا تھا۔۔ ۔۔ آئل پینو کی گانڈ کے سُوراخ کے اوپر گِرا جو کہ نیچے کو بہنے لگا۔۔ آہستہ آہستہ۔۔ نیچے کو میجر کے لنڈ کی طرف۔۔

صبا اب پھر چُپ کر کے کھڑی ہو گئی۔۔ میجر نے اپنا لنڈ باہر نکالا۔۔ اور صبا میجر کے چمکتے ہوئے لنڈ کو دیکھتی رہی۔۔ جو کہ آئل۔۔ اور پینو کی چُوت کے پانی سے چمک رہا تھا۔۔

میجر۔۔ اب میرے لنڈ پر تیل تیری ماں آ کر لگائے گی۔۔ یا تیرے خسم کو بُلاؤں۔۔

صبا نے ڈر کر آہستہ سے اپنے کانپتے ہاتھوں سے میجر کے لنڈ پر تیل ڈال دیا۔۔ اُسکا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ میجر کا لنڈ پکڑ لے لیکن۔۔ اُس کی ہمت نہیں ہوئی۔۔ اُس کی اپنی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔۔ وہ تو یہی انتظار کر رہی تھی کہ کب میجر پینو کو ہٹائے اور اُس کی جگہ اُس کی چُوت چُودنا شُروع کر دے۔۔ لیکن وہ میجر کو یہ بات کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔۔ بس اُس کے پاس کھڑی ہوئی اپنی دونوں تھائیز کو دباتے ہوئے اپنی چُوت کو رگڑ رہی تھی۔۔ لیکن ایسے سکون کہاں ملنے والا تھا بھلا۔۔

میجر نے آئل سے تر بتر اپنا لنڈ پینو کی گانڈ کے تنگ سُوراخ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر کو پُش کرنے لگا۔۔ صبا حیرت سے سوچ رہی تھی کہ میجر کا اِتنا موٹا اور لمبا لنڈ کیسے پینو کی اِتنی تنگ گانڈ میں جا سکے گا۔۔ وہ تو بس حیرانی سے یہی منظر دیکھ رہی تھی۔۔ اُسے صرف یہی سوچ کر ڈر لگنے لگا کہ اگر۔۔ اگر۔۔ اگر کبھی میجر نے اُس کی گانڈ میں اپنا لنڈ ڈالنے کا سوچا تو۔۔ تو وہ تو مر ہی جائے گی۔۔

پینو کی گانڈ تو میجر کے لنڈ سے پھیلنی ہی تھی۔۔ اِدھر صبا کی دونوں آنکھیں بھی پھیل گئیں۔۔ میجر کے موٹے لنڈ کو پینو کی تنگ سی گانڈ میں جاتے ہوئے دیکھ کر۔۔

صبا حیران ہو رہی تھی کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے۔۔ کیا میجر کا اِتنا موٹا لنڈ اِتنے تنگ سے گانڈ کے سُوراخ میں جا سکتا ہے۔۔ لیکن یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔۔ اُس کی اپنی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔۔ اُس کی اپنی آنکھوں کے سامنے میجر کا موٹا کالا لنڈ پینو کی گانڈ میں جا رہا تھا۔۔ اور صبا کو صاف محسوس ہو رہا تھا کہ پینو کو کوئی بہت زیادہ تکلیف محسوس نہیں ہو رہی۔۔ کیوں کہ شاید وہ اِس سے پہلے بھی اپنی گانڈ میں یہی لنڈ لے چُکی ہے۔۔

صبا تو بِنا آنکھیں جھپکے بس میجر کے لنڈ کو پینو کی گانڈ میں پھنسا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔ اپنی اُس کی چُوت مچل رہی تھی۔۔ اور اُس کی اپنی گانڈ اُسے پھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔ بس بار بار یہی سوچ کر کہ اگر یہی لنڈ اِس کی گانڈ میں چلا گیا ہوتا تو۔۔ تو۔۔ وہ تو بے ہوش ہی ہو چُکی ہوتی۔۔ اور یا پھر شاید مر ہی چُکی ہوتی۔۔ پتہ نہیں کیا ہوتا۔۔ لیکن اِس وقت تو اُس کی اپنی چُوت اُس لنڈ کو پُکار رہی تھی۔۔ لیکن میجر۔۔ میجر تو ہمیشہ کی طرح اُسے اِگنور کر رہا تھا۔۔ اور صرف پینو کی گانڈ مار رہا تھا۔۔

میجر صبا کی طرف دیکھتے ہوئے۔۔ بول چُدواّئے گی اپنی گانڈ بھی اِسی طرح میرے لنڈ سے۔۔

صبا تو جیسے کہیں اور ہی دُنیا میں گم ہو چُکی ہوئی تھی۔۔

میجر نے دوبارہ سے اُس کو بُلانے کے لیے۔۔ صبا کا ایک بوب اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اُسے دبا دیا۔۔ کہتی ہے تو ابھی ڈال دوں تیری گانڈ میں بھی۔۔ اِتنا ہی دل کر رہا ہے تو۔۔ اب کے صبا تڑپ اُٹھی۔۔ اور جیسے ہوش میں آ گئی۔۔

اچانک سے میجر نے پینو کی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور اپنا پُورے کا پُورا لنڈ اُس کی گانڈ میں اُتار دیا۔۔ اور اگلے ہی لمحے اپنے لنڈ سے منی پینو کی گانڈ میں نکالنے لگا۔۔ آنکھیں بند تھیں میجر کی لیکن اُس کے لنڈ سے منی پینو کی گانڈ میں گِر رہی تھی۔۔ پینو بھی نڈھال ہو کر نیچے گِر پڑی۔۔ اُوندھی ہی۔۔ اور میجر اُسی طرح اپنا لنڈ پینو کی گانڈ میں ڈالے اُس کے اوپر ہی تھا۔۔ دونوں شانْت ہو چُکے تھے۔۔ اپنی اپنی پیاس بُجھا چُکے تھے۔۔ چُوت بھی شانْت ہو چُکی تھی۔۔ گانڈ بھی شانْت ہو چُکی تھی۔۔ لنڈ کی پیاس بھی بُجھ چُکی تھی۔۔ بس اب پیاسی تھی تو۔۔ صرف۔۔ صبا۔۔ ترَس رہی تھی تو صرف اُس کی چُوت۔۔



Source link

Leave a Comment