امی سے طوفانی عشق۔۔۔(قسط 6)

میں کھل اٹھا تھا امی جان کی بات سن کر۔ بڑی محنت کے بعد امی جان میری باتوں میں آ سکی تھیں۔ ورنہ میں ایک شہوت پرست تو تھا، کوئی ماہر کھلاڑی نہیں تھا، لیکن اب ضرور بنتا جا رہا تھا۔ امی جان کے اتنا قریب آ جانے سے میرے اندر بہت کچھ بدلتا جا رہا تھا اور ایک نئی طرح کی توانائی میں اپنے اندر محسوس کرنے لگا تھا۔ یہ میرا اعتماد کا لیول تھا، جو بہت بڑھ چکا تھا۔ کتنی دیر سے امی کی پھدی میرے سامنے ننگی تھی اور کتنی دیر سے وہ کھلی پڑی میرے استعمال میں تھی۔ ایسے میں بھلا کیسے میرے اندر اعتماد نہ بڑھتا۔

جو بھی تھا، صحیح تھا یا غلط۔۔۔ لیکن امی جان نے اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر غصے میں آ کر مجھے سب کچھ کرنے کی چھوٹ دے دی تھی۔ میں سب کچھ کر جاتا اور اپنا عضوِ تناسل امی جان کی پھدی میں ڈال کر ان کے ساتھ ملاپ کر ڈالتا۔۔۔ تو شاید امی کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھتیں، یا پھر ان کے دل کو اتنا دکھ ہوتا کہ دل دھڑکنا ہی بھول جاتا۔
لیکن آخری وقت پر میرے اندر خود ہی گھنٹی بجنے لگی تھی۔ ورنہ میرے جیسا اپنی ہی ماں کے جسم کو صرف ایک جسم سمجھ کر، عام لڑکیوں کی طرح استعمال کر جاتا۔۔۔ تو پھر کیا فرق رہتا ماں کے جسم میں اور عام غیر لڑکیوں کے جسم میں؟ بس یہی سے میرے اندر ایک کھلاڑی نے جنم لینا شروع کر دیا اور وہ امی جان کے جسم سے کھیلتا ہوا دھیرے دھیرے ماہر بننے لگا۔ جسموں سے واقفیت تو مجھے پہلے ہی ہو چکی تھی، لیکن امی جان کے جسم سے شناساہی اب صحیح معنوں میں حاصل ہو رہی تھی۔۔۔ اور یہ اتنی بڑی بات تھی کہ میں کیسے پہلے جیسا رہ پاتا۔ کیوں نہ میرے اندر ایک نئے عمران کا جنم ہوتا۔ میں تو امی جان کے ساتھ چدائی کرنا چاہتا تھا، وہ بھی ایک بار نہیں۔۔۔ بار بار۔ اپنی ہی ماں کے ساتھ ملاپ کرنے کی بات ایسی بات ہوتی ہے کہ اگر دل میں ایسے ارادے جنم لے جائیں تو پھر ماں کے جسم سے بڑھ کر کوئی جسم نہیں رہتا۔ سینکڑوں، ہزاروں کیا، لاکھوں جسم بھی آئیں تو بھی ماں کے جسم کی برابری نہیں کر سکتے۔۔۔ کیونکہ وہی ایک جسم ہے جو دنیا میں ہر جسم سے زیادہ مشکل ٹاسک ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہوتی ہے، جسے عملی جامہ پہنا پانا ممکن نہیں ہوتا۔

آج ملک بھر کے لاکھوں گھروں میں اور دنیا بھر کے کروڑوں گھروں میں اپنی ماں کے جسم کو سوچ کر کتنے ہی بیٹے ہاتھ سے لنڈ ہلا کر منی نکال دیا کرتے ہیں۔ کئی تو ہوس میں آ کر لنڈ ہی ہلاتے رہ جاتے ہیں اور خود کو ملامت کرتے ہوئے اپنے اندر سے ایسی سوچ نکال باہر کرتے ہیں۔

لیکن ہوتے ہوں گے کوئی بھی میرے جیسے بھی سرپھرے۔۔۔ جو ایک بار ٹھان لینے کے بعد کبھی مڑ کر نہیں دیکھتے۔ منزل کو پانے کے لیے کتنا بھی انتظار کیوں نہ انہیں کرنا پڑے، وہ کرتے ہیں۔۔۔ کتنی بھی کڑی محنت کیوں نہ کرنی پڑے، وہ نہ تھکتے ہیں اور نہ ہی ڈگمگاتے ہیں۔

بہرحال میں نہ تھکنا چاہتا تھا اور نہ ہی ڈگمگانا چاہتا تھا۔ لنڈ میں کرنٹ کے شروع ہونے سے لے کر دنیا کو جان لینے تک، پھر امی جان کے جسم کو خیالوں میں بسا لینے کے بعد میرے لیے پیچھے ہٹ جانا ممکن نہیں رہا تھا. آج میں امی جان کی بنا رضامندی کے باوجود بھی امی جان کے ساتھ زبردستی کر سکتا تھا کیونکہ امی جان نے خود ہی بول دیا تھا کہ میں چاہوں تو اپنی مرضی کر سکتا ہوں۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔ یہی تو سب سے بڑی گڑبڑ تھی۔ ایک تو میں راضی خوشی امی جان کے ساتھ چدائی کرنا چاہتا تھا، دوسرا میں ایک بار ایسا کر کے کیسے سکون سے رہ سکتا تھا؟ میں تو امی جان کی گانڈ میں کئی بار انگلیاں کر چکا تھا اور کئی بار پہلے بھی ان کے اس سوراخ کو محسوس کر چکا تھا۔ میں اتنا آگے بڑھ گیا تھا کہ ایک بار چدائی کر کے مجھے سکون مل ہی نہیں سکتا تھا۔ میں تو امی جان کے جسم کے نشے میں پاگل ہو گیا تھا اور نشہ وہی ہوتا ہے جو بار بار لیا جائے۔ جو دوسری بار نہ ملے اور بندہ زندہ سلامت رہے، پھر وہ نشہ تو نہ ہوا۔۔۔

اور امی جان کے جسم کے جیسا نشہ دنیا میں کہیں اور ہو تو بتائیے مجھے؟ کوئی اور نشہ اس نشے سے بڑھ کر ہو تو مجھے بتائیے؟ خیر آپ بھی کیا بتا سکتے ہیں، وہی بتا سکتے ہیں جو میری اس بات کو گہرائی سے سمجھ سکتے ہیں۔ وہی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے کبھی ماں کے جسم سے لذت حاصل کی ہو گی۔۔۔

باتیں کچھ زیادہ ہی ہو گئیں، کیا کرتا۔۔۔ امی جان نے ہاں بول کر، میری شطرنج کی چال پر اپنا ناکام مہرہ آگے بڑھا کر خود کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ میں خیالوں میں آگے بہت آگے تک بہتا چلا گیا۔ امی جان ہاں بول کر میرا چہرہ تکنے لگیں، لیکن میں اپنے اندر کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے، نئے پلان اور آج اپنے اندر جنم لے چکے نئے عمران کے بارے میں سوچنے لگ گیا تھا۔۔۔
پھر امی جان کی آواز میرے کانوں میں پڑی: ۔
“کیا سو گئے ہو؟”
میں خیالوں سے باہر آیا اور امی جان کو دیکھ کر بولا:۔ “وہ جو آپ کی پھدی پر ہے نا امی جان، وہ جاگ رہا ہے تو میں بھلا پھر کیسے سو سکتا ہوں؟”۔
امی جان کے منہ سے میرے لیے گالی نکلی:۔ “کمینہ!”۔
اور یہ پہلا لفظ تھا جو امی جان نے ماحول کی مناسبت سے اپنے منہ سے نکالا تھا، ورنہ میری اس بات کو بھی نظر انداز کرتیں اور اپنے چہرے سے کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیتیں۔

میں ہنس پڑا اور امی جان کے ہونٹوں کو چوم گیا۔

امی جان پھر سے اپنا چہرہ پیچھے ہٹا گئیں اور ناک ٹیڑھی کرنے لگیں:۔
“کہا ہے نا، اپنا منہ پیچھے رکھ۔ بہت دیر سے بسونیاشت کر رہی ہوں، اب اور بسونیاشت نہیں کر سکتی۔ تجھے جو کرنا ہے، جلدی کر۔۔۔ پھر مجھے سونا بھی ہے۔”۔
میں نے کہا:۔
“سوری، آج کی ساری رات آپ نے میرے نام کر دی ہے، میں آپ کو سونے نہیں دوں گا اور اپنی من مانی کروں گا۔”۔

امی جان مجھے گھورنے لگیں۔

میں شرارتی موڈ میں آتا ہوا اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگا تو امی جان چہرہ پیچھے کر گئیں۔
کیا ملن تھا ہمارا۔۔۔ امی جان کی پھدی پر میرا لنڈ تھا، ہاتھ میں ایک مما مسلا جا رہا تھا، میں مستی کر رہا تھا اور امی جان الگ ہی موڈ میں تھیں۔ اتنا سب کچھ ہونے پر بھی وہ نہ تو سسکی لے رہی تھیں اور نہ ہی اپنی پھدی پر میرے لنڈ کی گرمی اور ممے کے مسلے جانے پر شہوت زدہ ہو رہی تھیں۔ کمال تھیں سچ میں امی جان، کمال تھیں۔۔۔

میں نے کہا:۔
“کیا کروں؟ نیچے تو جو ہے وہ ہے، لیکن اوپر سے آپ کے ہونٹ دیکھ کر میرے ہونٹ بے قابو ہونے لگتے ہیں۔”۔
امی جان تیز لہجے میں بولیں:۔
“بکواس نہ کر۔۔۔ اور وہ بول جو تو پہلے بولنے والا تھا۔ بول کیا ہے وہ بات جو کہنا چاہتا تھا پہلے؟ کیسے میں تجھے بدلا ہوا دیکھ سکتی ہوں اور تو مجھ سے ایسا کیا کروانا چاہتا ہے، جس کے بعد تو ہمیشہ کے لیے میرے جسم سے کھیلنا بند کر دے گا؟”۔
میں نے کہا: ۔
“وہ بھی بتا دوں گا، پہلے آپ اتنا کریں۔۔۔ میرا تھوڑا سا ساتھ دیتے ہوئے خود سے الٹی لیٹ کر مجھ سے کہیں کہ: ‘۔
عمران تو اب میری گانڈ چاٹ سکتا ہے، چاٹنے کے بعد اپنا لنڈ رکھ کر وہاں رگڑ سکتا ہے اور دل کرے تو اپنا لنڈ میری گانڈ پر فارغ کر سکتا ہے’۔”۔

امی جان نے ایک چانٹا مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا دیا، لیکن مارا نہیں۔۔۔ غصے سے بولیں: ۔
“کچھ زیادہ ہی تو بکواس کرنے لگا ہے۔ میں ایسا کچھ نہیں کہوں گی۔ زور زبردستی کرنا چاہتا ہے تو کر، نہیں کرنا چاہتا تو سو جا۔۔۔ بہت دیر سے تجھے بسونیاشت کر رہی ہوں۔۔۔ اب اور نہیں کر سکتی۔”۔
میں نے کہا:۔
“تو پھر ٹھیک ہے۔”

میں اپنا لنڈ امی جان کی ٹانگوں سے کھینچتا ہوا اور قمیض کے اندر سے ہاتھ نکالتا ہوا بولا:۔
“میں اب آپ کے ساتھ کچھ نہیں کرنے والا ہوں۔ جتنا سب کچھ ہو چکا ہے، اس میں بھی میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ میں نیا نیا جوان ہوا لڑکا ہوں، لیکن آپ تو سارے زمانے کے رنگ دیکھ چکی ہیں نا؟ آپ اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر مجھے اپنی سب سے قیمتی چیز نہ دکھاتیں تو میں کبھی نہ بہکتا۔ ہاں میری تھوڑی سی غلطی ضرور ہے، لیکن میری غلطی کو بڑھایا آپ نے ہے۔ یہ نہیں کہوں گا کہ آپ نے مجھے ورغلایا ہے، لیکن آپ خود ہی سوچیں، تین سال سے میں اتنا آگے کبھی نہیں بڑھ پایا، لیکن آج۔۔۔ آج آپ نے غصے میں آ کر مجھ سے سب کچھ کروا دیا۔ میں تو آپ کی کھلی شلوار کو دیکھ کر ہوش کھو بیٹھا تھا، آپ تو ہوش میں رہ کر سب سنبھال سکتی تھیں۔ ہم دونوں میں سے کوئی ہوش میں آتا تو اتنا سب کچھ نہیں ہوتا۔ سوری امی جان، میں جتنا کر چکا ہوں، اس پر بہت زیادہ شرمندہ ہوں۔۔۔ لیکن ایک بات، جتنا سب کچھ میں برسوں سے کرتا آ رہا ہوں، اس سے باز نہیں آ سکتا اور میں کہیں نہیں جا رہا، نہ آج، نہ ہی کل، برسوں ترسوں، نہ ہی ایک مہینے کے بعد اور نہ ہی ایک سال کے بعد۔ میں یہیں رہوں گا اور روز آپ کے پیچھے کے حصے میں دو چار انگلیاں کر کے اپنے لنڈ کو ہلا لیا کروں گا۔ بس اس سے زیادہ کی مجھے امید بھی نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ آپ کبھی بھی دل سے راضی ہو کر ایسا سب کچھ میرے ساتھ نہیں کر سکیں گی اور میں آپ کو دکھی نہیں کرنا چاہتا۔ جتنا آپ کو رلا دیا، اتنا رلانے پر آپ سے معافی مانگتا ہوں۔”۔

پتا نہیں یہ سب میرے منہ سے کیسے نکل گیا تھا، لیکن جب نکلنے لگا تو میں اندر ہی اندر بہت خوش ہونے لگا۔ میں تو پوری گیم ہی جیسے جیت گیا تھا۔ امی جان کا منہ حیرت کے مارے اتنا زیادہ کھل گیا کہ مکھیوں کا پورا گروہ بھی اگر امی جان کے منہ میں گھس جاتا تو بھی امی جان کو پتا نہیں چلتا۔

میں نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اپنے لنڈ کو صاف کرنے کے بعد اسے اپنی شلوار کے اندر کر لیا، پھر وہاں بیٹھ کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔ امی جان میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ میں دوسری سائیڈ منہ کیے مسکرانے لگا اور خود سے کہنے لگا:۔
“واہ عمران! تو تو بڑا ماہر کھلاڑی بنتا جا رہا ہے۔ صحیح ہے، اب ایسے ہی گھما پھرا کر امی جان کو چکرا کر اپنی لائن پر لانا صحیح رہے گا۔ دیکھتا ہوں امی جان اب کتنی دیر اور لگاتی ہیں۔”۔

مجھے اپنی پیٹھ پر امی جان کی جلتی نظروں کی تپش محسوس ہو رہی تھی۔ کچھ دیر یہ تپش میری پیٹھ پر رہی، پھر امی جان بھی اٹھ بیٹھیں اور میرے سر کے بال پکڑ کر مجھے زور سے اپنی سائیڈ گھما گئیں۔
میں نے امی جان کا چہرہ دیکھا۔ چاند کی چاندنی اتنی زیادہ نہیں تھی، پھر بھی میں نے دیکھا کہ امی جان کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔

امی جان دانت پیستی ہوئی بولیں:۔
“بہت بولنا سیکھ گیا ہے نا تو؟ میری ہی دی ہوئی چھوٹ نے تجھے باتیں بھی کرنا سکھا دی ہیں۔ تو کیا سمجھتا ہے، میں کوئی دودھ پیتی بچی ہوں؟ تو ڈرامے کرے گا اور میں سمجھ نہیں پاؤں گی؟ تیری ماں ہوں میں، 9 مہینے تجھے اپنی کوکھ میں رکھا ہے میں نے اور 2 سال تجھے اپنی چھاتی کا دودھ پلایا ہے۔۔۔ کیا میں تیری رگ رگ سے واقف نہیں ہوں گی؟ میں نے جان لیا ہے، تو کبھی نہیں سدھر سکتا۔۔۔”۔
پھر امی جان دکھی ہوتی ہوئی سسک کر بولیں: “۔
تین سال میں نے تجھے بسونیاشت کیا۔۔۔ ، اس سے بھی کہیں زیادہ جب سے یہاں چھت پر آئی ہوں نا، بسونیاشت کرتی چلی آ رہی ہوں. پتا نہیں میں مر کیوں نہیں گئی، میرا دل بند کیوں نہیں ہو گیا، میرے دماغ کی نسیں تیری باتیں سن کر پھٹ کیوں نہیں گئیں؟ ایک ماں ہو کر تجھے اتنا آگے بڑھنے دیا، پھر بھی زندہ ہوں۔”۔

امی جان سسکنے لگیں اور امی جان کا رونا ایسا تھا کہ آواز نیچے چلی گئی۔ تبھی میرے کانوں میں سیڑھیوں پر چڑھتے قدموں کی آواز سنائی دی تو میرے کانوں میں دھماکے ہونے لگے۔
میں نے جھٹ سے امی جان کو گلے سے لگا کر بس اتنا ہی بولا: ۔
“کوئی چھت پر آ رہا ہے۔”

امی جان روتی ہوئی جیسے ہوش میں آ گئیں، پھر چادر کے اندر سے ہی فٹافٹ اپنی شلوار کو سیٹ کر کے ناڑا باندھنے لگیں۔ جیسے ہی امی جان نے ناڑا باندھ لیا، میں نے امی جان کو گلے سے لگا لیا۔

آنے والی سونیا تھی، وہ قریب آ کر بولی: ۔
“کیا بات ہے ماں؟”
میں اسے دیکھ کر بولا: ۔
“میں ماسی کے پاس جا رہا ہوں نا، اس لیے میری جدائی پر رونے لگیں۔”۔
سونیا دکھی ہوتی ہوئی کہیں وہیں ہی نہ بیٹھی رہ جائے، اس لیے میں پھر سے بولا: ۔
“تم بتاؤ، زبیر تمہیں کیسا لگتا ہے؟”
سونیا شرم سے کانپ اٹھی، پھر اٹھتی ہوئی بولی: ۔
“مجھے نہیں پتا، امی ابو بہتر جانتے ہیں۔”
وہ شرما کر اٹھی اور نیچے جانے لگی۔ وہ زبیر کی بات میرے منہ سے تو سن سکتی تھی، لیکن امی کے سامنے اسے زیادہ شرم آیا کرتی تھی۔
سونیا کے نیچے جانے کے بعد امی جان مجھ سے الگ ہو گئیں، میں نے بھی چھوڑ دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
پھر چھت پر ٹہلتے ہوئے سوچنے لگا:۔
“سالا! میں نے کیسی آخری چال، کتنی کمال کی چلی تھی، لیکن ماں تو مجھ سے بھی آگے کی چیز نکلی تھی۔ اب تو جتنا کر چکا تھا اور جتنا کرنے کو امی جان کو منایا گیا تھا، اتنا بھی نہیں کر سکتا تھا. ایک کامیاب چال چلنے کے بعد بری طرح منہ کی کھانی پڑی تھی۔”۔
مجھ سے ایسی ہار بسونیاشت نہیں ہو پا رہی تھی۔ ادھر میں ٹہلتا ہوا سوچنے میں مصروف رہا اور ادھر وہ سسکتی ہوئی آنسو بہا رہی تھیں۔

اففففففف! اتنا بھی آسان نہیں تھا امی جان کو راضی خوشی چودنا ۔ لنڈ گھسا بھی دیتا پھدی میں تو کیا خاک مزہ آنا تھا؟ مزہ تو وہی ہوتا ہے نا جو بعد میں بھی وجود کے اندر چنگاری بن کر جلتا رہے۔۔۔ پھر وہی بار بار بھڑک کر آگ کی صورت اختیار کرتی ہوئی امی جان کی پھدی میں گھس کر بجھتی، پھر بھڑکتی اور پھر گھس کر بجھ جاتی، لیکن چنگاری تو رہتی نہ اندر۔ ایسے تو امی جان گھل گھل کر مر جاتیں اور میں کبھی بھی امی جان کی پوری خوشی سے ان کے ساتھ ملاپ نہیں کر سکتا تھا۔
کوئی اور گیم پلان کرنی ہو گی، ایسی گیم جو امی جان کو۔۔۔ کوئی ایسا پلان بنانا ہو گا کہ 3 سال سے میں امی کے پیچھے ہوں، اب امی خود میرے پیچھے پیچھے رہیں۔
میں گہری سانس لیتا ہوا پیچھے مڑا اور امی جان کو دیکھنے لگا۔ وہ دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی مجھے ہی دیکھ رہی تھیں۔
ایسے ہی رونا ہر بار رہا تو سارے مزے کی ماں بہن ایک ہو کر رہ جائے گی۔ چدائی تو امی جان کے ساتھ کرنا تھا، وہ بھی مزے کے لیے۔۔۔ اور یہاں تو مزے کا ستیاناس ہی ہوا جا رہا تھا۔
نہیں، اب ایسے نہیں۔۔۔ کسی اور حساب سے امی کے قریب ہونا ہو گا، وہ بھی اس طرح کہ امی خود سے میرے قریب آنے کے لیے مچلنے لگیں۔ یہ تو میں جان ہی چکا ہوں کہ امی جان کا اپنے جسم پر اختیار نہیں ہے، دل اور دماغ ایک ساتھ مل کر میرے سنگ رشتہ بنانے سے روکے ہوئے ہیں۔ دماغ کی مت مارنی پڑے گی اور ڈھیر سارے پیار سے دل کو اپنے کنٹرول میں کر سکتا ہوں اور۔۔۔
اور۔۔۔
تبھی میرے ہوسی اور شیطانی دماغ نے مجھے راہ سوجھا دی۔۔۔ پلان پر عمل کرتے ہوئے دیر تو لگ سکتی تھی، لیکن امی کے دماغ میں میں اتنی ہوس بھر سکتا تھا کہ پھر امی خود کو روک نہیں پاتیں۔

اب لنڈ بھی بیٹھ چکا تھا۔ میں چلتا ہوا امی جان کے قریب آیا، گھٹنوں پر جھک کر امی جان کے ہاتھ تھام کر چوم لیے۔
میں نے کہا: ۔
“میں اپنی کوئی صفائی پیش نہیں کروں گا امی جان، ابھی ایسی کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا میں۔ چلیے نیچے چلتے ہیں، پھر فریش ہو کر باہر چوک سے کچھ کھا پی کر آتے ہیں۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“مجھے نہیں جانا کہیں بھی۔ تجھے جو چاہیے مجھ سے، وہ تو لینا چاہتا ہے تو لے لے، لیکن میں تیرے ساتھ باہر نہیں جاؤں گی۔”۔
میں نے کہا: ۔
“لینے دینے کی بات میں ابھی نہیں کرنا چاہتا، شاید اب کبھی کروں بھی نہیں۔۔۔”۔
میں بدلی ہوئی آواز کے ساتھ بولا تو روتی ہوئی امی جان چونک کر مجھے دیکھنے لگیں۔
میں نے کہا: ۔
“بعد میں ایسے دیکھ لیجیے گا، اب چلیے نیچے، ہم باہر جا رہے ہیں اور میں کوئی بات نہیں سنوں گا اب۔”
میں وہاں سے نیچے جانے لگا، پھر باتھ روم میں گھس کر فریش ہو کر باہر آیا تو امی جان باتھ روم میں جانے لگیں۔
سونیا کو ابھی بھی نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں پہلے کمرے میں گیا، وہاں اپنے کپڑے دیکھے تو قمیض پر منی لگی ہوئی تھی۔ صحن کی روشنی بند تھی، اس لیے سونیا نہیں دیکھ سکی۔ میں نے دوسرے کپڑے پہن لیے اور سونیا کے پاس آ گیا۔
وہ میرے بدلے ہوئے کپڑے دیکھ کر اٹھ بیٹھی۔
میں نے کہا: ۔
“میں امی کے ساتھ باہر جا رہا ہوں، تم جانا چاہتی ہو تو منہ ہاتھ دھو لو۔”۔
سونیا پہلے تو کھل اٹھی، پھر بولی: ۔
“نہیں، تم امی کو گھما لاؤ، میں کل گھومنے جاؤں گی۔۔۔”۔
سمجھدار تھی وہ۔ امی جان بھی اندر گئیں اور کپڑے بدل کر باہر آ گئیں۔ وہ میرے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار تھیں۔
سونیا بولی: ۔
“امی! میں آپ دونوں کے آنے تک جاگتی رہوں گی۔”۔
امی نے سر ہلا کر ہاں کہا، پھر ہم گھر سے نکل پڑے۔ سونیا نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
چوک زیادہ دور نہیں تھا، اس لیے ہم پیدل ہی چلنے لگے۔

امی جان کا موڈ بہت خراب تھا، لیکن زیادہ دیر نہیں رہا۔ یہاں اب جو میں نے گیم شروع کر دی تھی، بھلے ہی امی جان سمجھ جاتیں لیکن الجھن میں ضرور پڑ جاتیں۔ ان کے حساب سے مجھے ان کے جسم کے سوا کچھ اور سوجھ ہی نہیں سکتا تھا اور ان کے جسم میں سما جانے کے سوا میں کچھ اور سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

لیکن اب میں نے پلان بدل دیا تھا۔ اب میں امی جان کے جسم کے لیے نہیں للچانے والا تھا، بلکہ اب میں امی جان کی سوچوں میں جسمانی آگ کو بڑھانے والا تھا. چھت پر میرے اور امی جان کے بیچ جو کچھ ہوا تھا، وہ سوچ کر بھی امی جان کچھ غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھیں۔ میرے ساتھ گھر سے باہر آ کر وہ ریلیکس محسوس نہیں کر رہی تھیں۔ میں دیر تک خاموش رہا تھا تو وہ میرے چہرے کو دیکھنے لگیں۔ میں سامنے ہی دیکھتا ہوا چلتا رہا اور امی جان پھر بار بار میرے چہرے کو دیکھنے لگیں۔

یہی تو میں چاہتا تھا۔ چوک پر زیادہ رش نہیں ہوتا تھا۔ وہاں ایک برگر والی دکان تھی، جس کے اندر فیملی کیبن بنے ہوئے تھے۔ میں نے شامی برگر کا آرڈر دیا اور امی جان کے ساتھ کیبن میں آ کر بیٹھ گیا۔ وہاں بھی میں چہرے پر سنجیدگی طاری کیے سوچوں میں گم دکھائی دینے لگا۔

ضرور امی جان کی الجھنوں میں اور بھی اضافہ ہونے لگا تھا۔ پھر امی جان بول پڑیں:۔

امی جان نے دھیرے سے کہا تھا، پھر وہ جھکتی ہوئی کسی حد تک زہریلے لہجے میں بولیں:۔
“ایسی ہی کسی دکان میں تم ضرور کسی لڑکی کے ساتھ آئے ہو گے۔ تم نے بتایا تھا کہ لڑکیوں کے جسم سے اپنی ضرورت پوری کرتے رہے ہو۔ میں بھی تمہاری نظر میں ایک جسم ہی ہوں، چاہو تو موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی ضرورت پوری کر سکتے ہو۔ آرڈر لگنے میں دیر تو لگ ہی جائے گی، جتنی دیر لگے گی۔۔۔ اتنی دیر میں تم میرے جسم کے کچھ تو مزے لے ہی سکتے ہو۔”۔

شاید امی جان ایسی زہریلی بات بول کر میرے اندر کے شہوت پرست عمران کو مار کر ایک سچا اور ماں کے جسم سے پیار نہ کر کے ماں کے دل سے پیار کرنے والا عمران بنانا چاہتی تھیں۔ لیکن ماں کیوں بھول گئی تھیں کہ ایسا شاید اب ممکن نہیں رہا تھا۔ آج کی رات جتنا کچھ ہو چکا تھا وہ اتنا زیادہ تھا کہ ماں کے جسم کا ایک ایک لمس میرے اندر گہرائیوں میں پیوست ہو کر رہ گیا تھا. عمر بھر اب میرے جسم میں ایک سنسناہٹ سی رہنے والی تھی اور یہ سنسناہٹ اب جانے والی نہیں تھی۔

امی جھکیں تو میں امی جان کی آنکھوں میں سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔ کچھ پل دیکھتا رہا، پھر بولا: ۔
“پرسوں میں یہاں سے چلا جاؤں گا امی جان۔”

امی جان کچھ اور توقع کر رہی تھیں، لیکن میرا معمول سے ہٹ کر جواب سن کر وہ مجھے گھورنے لگیں، جیسے میری آنکھوں سے میرے دل میں اتر کر میری بات کو پوری طرح سے جاننے کی کوشش میں لگ گئی ہوں۔
میں نے بھی اپنی آنکھیں امی جان کی آنکھوں سے سائیڈ نہیں کیں۔ امی جان اب الجھنے لگی تھیں۔

پھر کوئی اور بات نہیں ہوئی۔ برگر آئے، ہم نے وہ کھائے۔ صورتحال ایسی تھی کہ پورا پورا مزہ لے کر نہیں کھا سکتے تھے، لیکن پھر بھی کھا ہی لیے۔ پھر کچھ پل کی خاموشی رہی اور ہم وہاں سے نکل پڑے۔ ایک برگر سونیا کے لیے بھی پیک کروا لیا تھا. پیسے دیے اور پیک شدہ برگر والا لفافہ لے کر ہم وہاں سے واپس گھر کو چل پڑے۔

راستے میں میرے دو کزنز بھی ملے۔ وہ ملے تو ہم ان سے نارمل انداز میں بات کرنے لگے۔ امی جان بھی ایسے بات کرنے لگیں جیسے میرے ساتھ باہر آ کر انہیں بہت خوشی ملی ہو۔

ہم گھر پہنچے۔ سونیا نے دستک کرنے پر دروازہ کھول دیا تھا اور اپنے لیے برگر لے کر بہت خوش ہوئی۔
پھر اس نے اپنے سو رہے بھائی بہنوں کے لیے پوچھا:۔
“باقی سب کے لیے نہیں لائے کیا؟”۔
میں نے کہا: ۔
“کل انہیں خود ساتھ لے کر جاؤں گا۔”

سونیا نے برگر کھا لیا اور میں اپنی چارپائی پر جا کر لیٹ گیا۔ امی جان بھی اپنی چارپائی پر لیٹ کر، کروٹ بدل کر میری طرف منہ کرتی ہوئی مجھے دیکھنے لگیں۔ میں آنکھیں موند کر امی جان کو دیکھنا شروع کر دیا (یعنی بند آنکھوں سے ان کا تصور کرنے لگا)۔

آج کی رات ہم دونوں کو جلد نیند نہیں آنے والی تھی۔ کوئی عام رات تو تھی نہیں جو نیند آ جاتی۔ پھر میں نے کروٹ بدل لی۔۔۔ امی جان کو جلانے کے لیے۔

اگلی صبح میرے چہرے کی سنجیدگی دیکھ کر سب حیران ہوئے۔ وہی بات کہ جانا ضروری ہے، لیکن سب سے دور ہونے پر اداس ہو گیا ہوں۔ سب گھر والے بھی اداس ہو گئے۔
حنا نے کہا:۔
“امی! کیا ضروری ہے کہ عمران وہاں جائے؟”

امی جان نے اسے دیکھا، لیکن کچھ بولیں نہیں۔

بعد میں ابو دکان سے کچھ دیر کے لیے گھر میں آئے۔ انہوں نے کہا:۔
“پروین! تم تو ابھی سے عمران کے جانے کا سوچ کر ہی غم کی تصویر بن کر رہ گئی ہو۔ میں تو کہتا ہوں، عمران کو یہیں رہنے دو۔”۔
میں نے کہا:۔
“نہیں ابو، میں جاؤں گا اور کل ہی میں جاؤں گا۔ میں نے تو خالہ کو فون بھی کر دیا ہے، وہ بہت خوش ہیں۔”۔
امی جان مجھے پھر سے گھورنے لگیں، لیکن بولیں کچھ نہیں۔ میں نے کال سچ میں کر لی تھی، لیکن امی جان کو بتایا نہیں تھا.۔

سارا دن میں امی جان سے دور ہی رہا۔ سب یہی سمجھ رہے تھے کہ میں جانے والا ہوں اور پھر جلدی لوٹ کر نہیں آؤں گا، اسی وجہ سے سب اداس ہیں۔ ہوں گے سب اداس، لیکن میرے دل میں اور امی جان کے دل میں تو کچھ اور ہی تھا. میں تو اپنے اگلے پلان پر عمل کر رہا تھا اور امی جان ایک تو میرے بدلے ہوئے رویے پر الجھی ہوئی تھیں (ضرور انہیں میرا اب کا یہ روپ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا) اور دوسرا یہ کہ آج تک میں کبھی کسی سے زیادہ دنوں تک دور نہیں رہا تھا۔ تیسرا میری جو ضد تھی اور جتنا کل رات میرے اور امی کے بیچ ہوا تھا، وہ ایسا کچھ تھا کہ امی جان کے لیے سوچنے کو بہت کچھ تھا.۔

شام تک میں بھائی بہنوں سے تو باتیں کرتا رہا، لیکن امی سے نہیں کیں. شام کا کھانا پکا تو میں نے سب کے سامنے تھوڑا سا کھا کر باقی بچا رہنے دیا، ورنہ تو مجھے بڑی بھوک لگ رہی تھی اور کھانا بچانے کا دل نہیں تھا، لیکن ڈراما بھی ضروری تھا۔ جتنا بھی کھایا، ایسے کھایا جیسے کھا پانا میرے لیے بڑا مشکل ہو رہا ہو۔
امی جان اور سب مجھے کھاتے دیکھ رہے تھے۔ سونیا، حنا، لبنیٰ اور امجد سب اور بھی اداس ہو گئے تھے، لیکن امی جان۔۔۔ وہ بار بار الجھی ہوئی اور اب پریشان نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔

ابو آئے اور بولے:۔
“رات تم دونوں ایک ساتھ رہے، لیکن پھر الگ ہو گئے۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ جب تک عمران جائے گا نہیں، تم دونوں ایک دوسرے کے پاس پاس رہو گے اور اتنی باتیں کرو گے کہ سال بھر کی باتیں ایک ہی رات میں اور ایک ہی دن میں ساری کی ساری کر لو گے۔ لیکن تم دونوں تو ایک دوسرے سے بات کر ہی نہیں رہے ہو۔ ایسے جانے کا کیا فائدہ؟ ادھر یہ پریشان رہے گی، ادھر عمران تم پریشان رہو گے۔”۔

میں نے کہا:۔
“نہیں ابو، میں ضرور جاؤں گا۔ اب تو میں نے کالج سے مائیگریشن بھی کروا لیا ہے۔ زبیر بھائی کے بہت سے جاننے والے ہیں، میری ان سے بات ہوئی اور انہوں نے اپنے ایک جاننے والے کی مدد سے میرا کام کروا دیا۔ اب میں نہیں رک سکتا۔”۔

میرے بھائی بہنوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔

حنا سسک پڑی:۔
“عمران! تم نے یہ بات ہمیں کیوں نہیں بتائی؟ سب کچھ خاموشی سے کر ڈالا۔”۔
وہیں امی جان نے جلدی سے چہرہ پھیر لیا۔ اب جدائی حتمی شکل اختیار کر گئی تھی۔ اب ان کے اندر میری جدائی کا درد بڑھنے والا تھا. ایک ماں تھیں، حالات جو بھی تھے، لیکن ایک ماں بیٹے کو خود سے سینکڑوں میل دور جاتے ہوئے کیسے دیکھ سکتی تھی؟ ضرور ان کی آنکھوں میں بھی آنسو اتر آئے تھے۔
لبنیٰ اور امجد رونے لگے اور میرے پاس آ کر مجھ سے لپٹ گئے۔

دونوں کہنے لگے: ۔
“ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے بھائی۔ ہم بھی ساتھ جائیں گے، ہمیں بھی ساتھ لے چلو، ہم سب وہیں رہ لیں گے بھائی۔”۔
کچھ دیر جذباتی سین رہا۔ میں شہوت پرست تو تھا ہی، لیکن ضدی بھی تھا۔ امی جان اتنی ضدی تھیں کہ تھوڑی دیر کے لیے بھی اپنی ضد چھوڑ کر، اپنے دل کو سمجھا کر میرے ساتھ خوشی خوشی چدائی کے لیے راضی نہیں ہوئی تھیں۔ میں بھی تو انہی کا بیٹا تھا، ضد تو میرے اندر بھی ماں کے جتنی ہی ہونی چاہیے تھی نا؟ جتنی ضد سے وہ انکار کرتی ہیں، اس سے بھی زیادہ ضد کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں بھی امی کو دل سے راضی کر سکتا تھا اور میں یہی کرنے والا تھا۔

میں سب کو اداس چھوڑ کر گھر سے نکل پڑا۔ دور کے ایک چوک پر جا کر اپنا آدھے سے زیادہ خالی پیٹ بھرا، پھر واپس لوٹ آیا۔ سب بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے اور ابو دکان پر تھے۔ میں سب کو دیکھ کر چھت پر چلا گیا اور سب مجھے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھنے لگے۔
میں چھت کے کنارے دیوار کے ساتھ لگ کر باہر دیکھنے لگا۔
سونیا آئی اور بولی:۔
“عمران! کیا ضروری ہے کہ میرے لیے زبیر ہی صحیح ہو؟ میں اتنی دور جا کر تم سب سے دور نہیں ہونا چاہتی۔ امی سے کہہ دو کہ میرے لیے کسی پاس والے کو دیکھ لیں۔”۔

میں نے سونیا کو دیکھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا، لیکن وہ اپنی آنکھیں جھکا گئی تھی۔ میں نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔
میں نے کہا:۔
“میری آنکھوں میں دیکھ کر یہی بات بول دو۔”

سونیا گھبرا کر آنکھیں جھکا گئی۔ شرم سے اس کا چہرہ گلنار ہونے لگا تھا. وہ ایسے ہی بولی:۔
“بہن چھوٹی ہو یا بڑی۔۔۔ بھائی کی آنکھوں میں دیکھ کر کوئی ایسی بات نہیں بول سکتی۔ تم جانتے ہو میں کیسی ہوں، میں امی کے سامنے کبھی کھل کر ایسی کوئی بات نہیں کرتی۔ تم سے کر لیتی ہوں، لیکن آنکھوں میں دیکھ کر ایسی بات کر پانا۔۔۔ ایک بہن کی شرم اسے ایسی نہ تو ہمت دے سکتی ہے اور نہ ہی اجازت۔ بس میں تم سے کہہ رہی ہوں نا، تم نہیں جاؤ گے۔ میرے لیے زبیر ہی ضروری نہیں ہے، برادری میں اور بھی تو کتنے سارے ہیں۔ امی سے کہہ کر میرے لیے کوئی اورمنتخب کر لو۔”۔

میں نے سونیا کو کندھے سے پکڑ لیا، پھر بولا:۔
“دیکھو سونیا! میں نے تمہاری آنکھوں میں، تمہارے چہرے اور تمہاری آواز سے زبیر کے لیے چاہت پائی ہے۔ ابھی رشتہ فائنل نہیں ہوا ہے۔ ادھر امی اور ابو راضی ہیں، ادھر خالہ راضی ہے۔ تم بہت خوبصورت ہو سونیا، بڑی حیا والی ہو اور سمجھدار بھی ہو۔ ضرور زبیر کے دل میں اتر گئی ہو گی، تبھی خالہ نے ماں سے بات کی ہو گی، ورنہ میں جانتا ہوں کہ زبیر ہمارے خاندان کے لڑکوں میں سب سے زیادہ لائق لڑکا ہے. ایک وہی ہے جو آج کے زمانے کو ہم کزنز میں سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر تم اس کے دل میں اتر گئی ہو تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ ادھر وہ اور ادھر تم، مجھے یہ جوڑ بہت پسند آیا ہے۔ تمہارے دل کی بھی یہی آرزو ہے، اس لیے مجھے مت روکو۔ سال دو سال کی ہی تو بات ہو گی، کیا پتا اس سے بھی کم وقت لگے اور میں واپس لوٹ آؤں۔ نہ بھی لوٹ آیا تو۔۔۔”۔
پھر میں سونیا کے گال کو چومتا ہوا بولا:۔
“تم تو وہاں آ سکتی ہو نا؟”
سونیا شرما گئی:۔
“میں وہاں کیوں جاؤں گی؟”
میں ہنس پڑا: ۔
“شادی کے بعد تو تمہیں وہیں رہنا ہے نا۔ کیا پتا میرے وہاں جاتے ہی خالہ جھٹ منگنی پٹ بیاہ پر تیار ہو جائیں اور تم ڈولی میں بیٹھ کر کچھ ہی مہینوں میں وہاں جا پہنچو۔”۔

سونیا کی شرم انتہا کو پہنچ گئی، وہ مجھ سے الگ ہو کر بھاگتی ہوئی وہاں سے نیچے جانے لگی۔۔۔ میں اسے بھاگتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ ایک امی جان کا جسم ہی تھا جو میری نظروں میں بس کر رہ گیا تھا، ورنہ جسم تو سونیا کا بھی کم کمال کا نہیں تھا، لیکن کبھی اس اینگل سے سوچا ہی نہیں تھا میں نے۔ شاید میرے لیے امی جان جتنی مشکل شکار تھیں، اتنی ہی آسان بھی تھیں۔ سونیا اور حنا اور کسونیار و سوچ کی لڑکیاں تھیں، میں جان گیا تھا کہ اگر ان دونوں کی طرف بڑھتا تو کبھی مجھے ہاتھ بھی نہ لگانے دیتیں۔

ایک بار میرے ایک دور کے کزن کے منہ پر دونوں بہنوں نے تب باری باری تھپڑ مار دیے تھے، جب ہم ایک شادی میں گئے تھے تو وہ شوخا بن کر حنا کی گانڈ میں انگلی کر گیا تھا. تب سونیا بھی قریب ہی تھی،۔ دونوں غصے میں آ گئی تھیں اور دونوں نے خوب اس کے منہ پر چانٹے برسائے تھے۔ ورنہ یہ ہو سکتا تھا کہ دونوں خاموش رہتیں اور اسے اگلی بار ایسی کسی حرکت کے لیے خبسونیار کر دیتیں۔

یہ بات بھی میرے دل میں تھی، اس لیے میں دونوں کے قریب تو تھا لیکن بھائی بن کر۔۔۔ شہوت ناک بن کر نہیں۔ آگے کا پتا نہیں تھا، فی الحال کے حالات تو یہی تھے اور پھر جتنی سخت امی جان ثابت ہو رہی تھیں، اس سے کہیں بڑھ کر یہ دونوں ثابت ہونے والی تھیں۔ پہلے امی جان کو راضی کر لیتا، دونوں کے بارے میں بعد میں سوچا جاتا۔ لبنیٰ ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی تھی، اس لیے میری سوچوں میں سوا امی کے جسم کے، گھر کا کوئی جسم نہیں تھا۔

ہاں، خاندان میں اور کئی جسم میری نظروں میں بسے ہوئے تھے، لیکن وہی بات کہ پہلے امی جان۔۔۔ باقی سب بعد میں۔ وہ بھی اگر امی جان کے سوا کسی اور کے ساتھ چدائی کی چاہ باقی رہی تب۔

سونیا گئی تو میں سوچوں میں کھویا رہا اور پلان بناتا رہا۔ تبھی مجھے چھت پر کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی.۔
میں نے پلٹ کر دیکھا تو امی جان تھیں. میں امی جان کو دیکھ کر چہرہ پھیر کر دیوار سے پار باہر دیکھنے لگا۔
امی جان میرے قریب آ کر دھیرے سے بولیں:۔ ” سونیا کے ساتھ کیا کیا ہے تم نے؟”
میں بنا دیکھے ہی بولا:۔
“کیا کیا ہے؟”
امی جان غصے سے بولیں: ۔
“جس انداز میں شرم سے سرخ چہرہ لیے وہ نیچے گئی ہے، ضرور تم نے اس کے ساتھ بھی میرے جیسی گھٹیا حرکت کرتے ہو، ویسی ہی کوئی گھٹیا حرکت کی ہے۔ تبھی تو بھاگ کر سیدھی کمرے میں جا گھسی۔”۔

میں حیرانی سے امی جان کو دیکھنے لگا۔
امی جان آگے بولیں:۔
“میں بھی اس کے پیچھے کمرے میں گئی، حنا اور لبنیٰ بھی آنے لگی تھیں لیکن میں نے دونوں کو روک دیا۔۔۔ پھر سونیا کے پاس جا کر اس سے بہت پوچھا کہ بات کیا ہے، لیکن وہ تو بس شرم سے سر ہی جھکائے بیٹھی رہی اور کچھ بولی ہی نہیں۔ میں سمجھ گئی کہ جیسی شرم اسے آ رہی ہے، وہ بات بتا نہیں سکے گی. ایک ماں سے بھی بیٹی جب کوئی بات چھپا لیتی ہے تو ضرور وہ بات ایسی ہوتی ہے جو بتانے کے قابل نہیں ہوتی۔”۔

پھر امی جان نے میرے بازو کو پکڑ کر مجھے جھٹکے سے سیدھا کرتے ہوئے میرے منہ پر ایک تھپڑ مار دیا.۔ میں حیران ہو گیا. امی ایسی بھی غلط فہمی میں پڑ سکتی ہیں، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا.۔

امی جان دانت پیس کر بولیں: ۔
“کل سے تمہارے بدلے چہرے کو دیکھ کر میں الجھی ہوئی تھی۔ یہ تو میں نے جان ہی لیا تھا کہ جو تو ٹھان چکا ہے، وہ تو کر کے ہی رہے گا۔۔۔ لیکن پلان کیا بنائے گا، یہ میں سمجھ نہیں پائی۔ اب سونیا کو دیکھا تو سب سمجھ گئی۔ میں سمجھ گئی کمینے! تو اب مجھے جلانے کے لیے، مجھے پانے کے لیے میری بیٹیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے گا اور ان کے جسموں کو ہاتھ لگائے گا۔ میں یہ دیکھ نہیں سکوں گی اور بیٹا ہونے کی بنا پر، تجھ سے پیار ہے اس بنا پر، تمہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ نہیں سکتی اس بنا پر، تجھے اپنی بیٹیوں سے دور رکھنے کے لیے میں خود کو پوری طرح تیری باہوں میں دے دوں گی۔۔۔ اتنے بھی گر جاؤ گے تم عمران، میں نے سوچا نہیں تھا. کیا اپنی ماں کے جسم کو پانے کے لیے تمہیں یہی ایک راستہ سوجھا تھا؟ ارے تمہیں تو چاہیے تھا کہ رات میرے دل کا درد، میری آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی شکل میں جان کر اپنے اندر کی ساری ہوس کو مٹا دیتے، لیکن تم نے۔۔۔ لیکن تم نے تو۔۔۔۔”۔
امی جان کی آنکھوں میں آنسو ندی بن کر بہنے لگے تھے۔
یہ تو شکر تھا کہ کوئی امی جان کے پیچھے چھت پر نہیں آیا تھا۔
امی جان نے میری کلائی پکڑی، پھر اسے اپنی پھدی پر رکھتی ہوئی بولیں: ۔
“تو یہیں گھسنا چاہتا ہے نا؟ چل، آج کی رات بھی تجھے دی اور آج کی رات تجھے دکھی دل سے ہی سہی، لیکن اپنی بیٹیوں کو تیری ہوس سے بچانے کے لیے پورے من سے تیرے نیچے لیٹوں گی۔”۔

میں امی جان کی غلط فہمی پر بڑا ہی حیران تھا اور امی جان کی باتیں سن کر حیران تھا. وہی سالا میرے ہاتھ نے جیسے ہی بنا پینٹی والی امی جان کی پھدی کو چھوا، دوسرے ہی پل میرے لنڈ میں کرنٹ دوڑنے لگا تھا. ۔
کل رات کتنی دیر تک امی جان کی پھدی میری دسترس میں رہی تھی، میں تو سمجھ رہا تھا کہ اب یہ جلد میری دسترس میں نہیں آنے والی. کل امی جان نے غصے میں آ کر میرے آگے اپنی پھدی کھول دی تھی، آج غصے کی انتہا کو پہنچتی ہوئی اور دیوانگی کی حدوں کو کراس کرتی ہوئی پھر سے اپنی پھدی پر میرا ہاتھ رکھوا گئی تھیں.۔

یہ سب کیا تھا؟ کچھ بھی تھا، لیکن امی جان تو خود کے جسم کے قریب مجھے لاتی جا رہی تھیں. ایک تھپڑ مارا تھا، ایک اور مار لیتیں، دو سے من نہیں بھرتا تو اور مار لیتیں۔۔۔ لیکن ایسا بھی کیا غصہ کہ میرا ہاتھ ہی پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھ گئی تھیں؟ مجھے خوش کرنے کے لیے، ان کے حساب سے میری یہی تمنا تھی کہ میں ان کے جسم سے کھیلوں.۔
امی جان میرے ہاتھ کو اپنی پھدی پر رکھ کر رگڑنے لگیں.۔

جاری ہے۔





Source link

Leave a Comment