امی سے طوفانی عشق۔۔۔(قسط 5)

سانسوں کے نارمل ہونے کے بعد اور جوش کے سرد پڑ جانے کے بعد میں نے امی جان کے چہرے کو دیکھا، پھر خوشی سے چوم لیا۔۔۔ امی جان پہلے جیسی ہی پڑی رہیں۔
میں نے کہا:۔
“امی جان! آپ کو یقیناً برا لگا ہو گا، لیکن مجھے بہت مزہ آیا۔ سچ میں آج تک اتنا مزہ مجھے کسی کے ساتھ نہیں آیا۔”۔
پہلی بار میں نے امی جان کے چہرے پر حیرانی دیکھی۔ وہ بولیں:۔
“تو پہلے بھی یہ سب کر چکا ہے؟”
میں بغیر کسی شرم کے بولا:۔
“ہاں امی جان! میں تو آپ کا دیوانہ تھا، لیکن کبھی کبھی خود پر کنٹرول نہیں کر پاتا تھا، اس لیے میں بہکتا رہا اور جنسی تعلقات قائم کرتا رہا۔۔۔ لیکن آپ کی قسم امی جان! ایک بار آپ دل سے میرے ساتھ یہ سب کرنے لگ جائیں گی تو میں پھر کسی اور کے ساتھ نہیں کروں گا۔”۔
امی جان بولیں:۔
“پہلے ایسا تیرے منہ سے سنتی تو مجھے برا بھی لگتا اور تجھے ایک چانٹا بھی مار دیتی۔۔۔ لیکن اب تو نے میرے ساتھ اتنا سب کچھ کر لیا ہے، اس لیے میں تجھ سے کوئی ایسی بات نہیں کروں گی۔ جو بیٹا ماں کے ساتھ سب کچھ کرنے کا سوچ بیٹھا ہے، پھر وہ کسی کے بھی پاس جائے۔۔۔ مجھے فرق نہیں پڑتا۔”۔
میں نے کہا: ۔
“لیکن مجھے فرق پڑتا ہے امی جان۔۔۔ میں دل سے آپ کے سوا کسی اور سے ایسا رشتہ نہیں رکھنا چاہتا۔ میں تو شادی بھی نہیں کرنا چاہتا ہوں امی جان۔ بس آپ ہی آپ رہیں میری زندگی میں، یہی ایک تمنا میرے دل کی ہے۔”۔

میری اس بات پر امی جان کی آنکھوں میں مجھے ڈھیر ساری حیرت دکھائی دی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھیں، لیکن پھر اپنے ہونٹوں کو دبا کر اپنی بات کو منہ سے نکالنے سے روک گئیں۔ میں امی جان کے ہونٹ دیکھتا رہا۔۔۔
پھر امی جان بولیں: ۔
“تو کچھ بھی کر، تیری زندگی ہے، تو ہر فیصلہ اپنی مرضی سے کر سکتا ہے۔ شادی کرنا یا نہ کرنا تیرا اپنا فیصلہ ہو گا۔ تو کسی اور لڑکی سے اپنی بھوک مٹا، ایک سے مٹا یا جتنی تجھے ملیں، ان سب کے جسم کے ساتھ کھیل کر مٹا۔۔۔ مجھے اب فرق نہیں پڑتا۔ کچھ دن پہلے ایسی کوئی بات ہوتی تو میں اپنی رائے بھی دیتی تجھے، لیکن اب تو اپنی زندگی میں اپنی مرضی کرنے لگا ہے، اب بھی تو اپنی ہی مرضی کرنا۔”۔

میرا لنڈ امی جان کے جسمانی رس اور میری منی سے بھیگی ہوئی گرم پھدی پر پھر سے جوش میں آنے لگا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ کر کے سخت ہوتا جا رہا تھا اور ایک عجیب سرور میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں امی جان کے اوپر سے ہٹ کر سائیڈ پر لیٹ گیا، پھر کروٹ کے بل لیٹ کر امی جان کی پھدی پر جہاں میری منی گری تھی، وہاں ہاتھ رکھ کر اپنی منی کو امی جان کے پانی کے ساتھ مکس کرتا ہوا پھدی کے لبوں کے اندر اور آس پاس ملنے لگا۔

نیچے میرا ہاتھ میری مرضی کے مطابق چل رہا تھا اور اوپر میری آنکھیں امی جان کے چہرے پر تھیں۔
میں نے کہا:۔
“ہاں، کرنا چاہتا ہوں میں اپنی من مانی۔ میرا جسم اور میری سوچیں اگر ایسی ہی بن گئی ہیں تو کیا ہوا؟ میرا جسم میرے قابو میں نہیں رہا ہے تو کیا ہوا؟ کیا ہوا اگر میرے اندر آگ زیادہ ہے؟ کیا ہوا اگر میں بیٹا ہو کر اپنی ہی ماں کے جسم کو پانے کے لیے مچل گیا ہوں؟ لیکن امی جان، یہ بھی تو دیکھیں کہ جسم تو آپ کا بھی آپ کے قابو میں نہیں رہا تھا۔”۔

میرا لنڈ پھر سے سخت ہو چکا تھا اور وہ اب امی جان کی ٹانگ پر چبھ رہا تھا۔ کبھی میرا ہاتھ امی جان کی پھدی کے لبوں کے اندر سوراخ پر ایک انگلی لگا دیتا، تو کبھی میں ساری انگلیوں میں منی اور رطوبت کو مکس کرتا ہوا امی جان کی پھدی کے اوپر پیٹ پر ملنے لگتا۔ مجھے ایسا کرنے میں بڑا مزہ آ رہا تھا۔ آج پہلی بار میں اپنی امی جان کے اتنے قریب تھا اور اتنا سب کچھ کھل کر کر رہا تھا۔
میری بات پر امی جان خاموش رہیں۔

لنڈ کے پھر سے جوش میں آنے نے میرے موڈ کو خوشگوار بنا دیا تھا۔ میں نے منی سے لتھڑے ہوئے ہاتھ کو اٹھا کر امی جان کے گال پر رکھنا چاہا تو امی جان نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
امی جان بولیں: ۔
“یہ ہاتھ میرے منہ پر مت لگا۔”
میں نے بات مان لی:۔
“اچھا تو پھر میری طرف کروٹ کر کے لیٹ جائیے نا۔”۔
امی نے بھی بات مان لی اور کروٹ بدل لی۔
میرا لنڈ امی جان کی پھدی کو چھونے لگا تو جوش اور بڑھ گیا اور مزہ اور بھی زیادہ ہو گیا۔ پھر میں اٹھا اور ایک چادر اپنے اور امی جان کے جسم پر اس طرح ڈال دی کہ وہ پیٹ تک آ گئی۔ اب کوئی آ بھی جاتا تو ہمیں ننگا نہیں دیکھ سکتا تھا، نہ ہی کسی کو میرا لنڈ دکھتا اور نہ ہی امی جان کی کھلی ہوئی شلوار۔

میں نے چادر کے اندر سے ہی امی جان کی شلوار اور بھی ڈھیلی کی اور نیچے سرکا دی تھوڑی سی۔ امی جان میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھیں۔ امی جان کا جسم بھی پھر سے دغا دینے لگا تھا، لیکن آنکھوں میں تاثرات دوسری طرح کے تھے۔ میں منی سے لتھڑے ہاتھ کو امی جان کے چوتڑوں پر لایا اور پھیرنے لگا۔۔۔ ادھر اپنے لنڈ کو امی جان کی پھدی پر دبانے لگا اور پیچھے ہٹانے لگا۔ بغیر اندر ڈالے ہی مجھے اب کچھ کچھ ملاپ کا مزہ آ رہا تھا اور امی جان کے جسم سے تو کھیل ہی رہا تھا۔

پھر میرے ہاتھ کی انگلیوں نے امی جان کے پیچھے گانڈ کی دراڑ کو تلاش کر لیا۔ وہاں دراڑ میں میں چاروں انگلیاں ڈال کر اوپر نیچے کرنے لگا۔ امی جان کے اس حصے کو چھوتے ہی میرے جسم میں ہزاروں وولٹ کا کرنٹ دوڑ جاتا تھا اور کتنا مست احساس میرے اندر پیدا ہو جاتا تھا۔

میں امی جان کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولا: ۔
“اب بھی آپ کا جسم آپ کو دغا دینے پر اتر آیا ہے امی جان، آپ مان کیوں نہیں جاتیں؟ دیکھیں تو رات کتنی سکون والی رات ہے، ہلکی ٹھنڈی ہوا میں ہم اتنے قریب کتنے مزے میں ہیں۔”۔
امی جان بولیں:۔
“تم ہو گے مزے میں، میں تو نہیں ہوں مزے میں۔”۔
میں ہنسا:۔
“لیکن آپ کا جسم تو مزے میں پہلے بھی آ گیا تھا اور اب بھی آ رہا ہے۔”۔
امی جان نے کہا:۔
“کہا تھا نا، اکثر دل اور دماغ جسم پر اختیار کھو دیتے ہیں۔۔۔ نہ تو میرا دل تیرے ساتھ ایسا سب کچھ کرنے میں راضی ہے اور نہ ہی دماغ۔”
میں نے کہا:۔
“میں آپ کو راضی کر لوں گا امی جان۔”
امی جان بولیں: ۔
“بھول ہے تمہاری۔”

میں نے امی جان کے پیچھے کے حصے کو تھوڑا سا اوپر اٹھا دیا، پھر اپنے لنڈ کو امی جان کی پھدی کے ساتھ گھسٹتا ہوا پار نکال لے گیا۔ پھر وہاں ہاتھ کو ڈھیلا چھوڑا تو میرا لنڈ امی جان کی ٹانگوں میں پھدی کے ساتھ پھنس کر رہ گیا اور میں “آہ” کر اٹھا۔

میں نے کہا:۔
“سچ میں امی جان، قسم سے کہتا ہوں، آج تک ایسا مزہ مجھے کبھی نہیں مل سکا۔ میں جانتا تھا کہ مجھے جو مزہ آپ سے مل سکتا ہے، وہ کسی اور جسم سے نہیں مل سکتا۔ میں بہت خوش ہوں امی جان۔۔۔ لیکن اور بھی زیادہ خوش ہو جاتا اگر آپ کھل کر میرا ساتھ دیتیں تو؟”۔
امی جان بولیں:۔
“وہ تو میں مر کر بھی نہیں دینے والی۔ تجھے تو میں نے کھلی چھوٹ دے ہی دی تھی، پھر کیوں نہیں ڈالا تو نے اندر؟ کیوں نہیں من مانی کر لی تو نے اپنی؟”۔
میں نے کہا:۔
“کیونکہ میں آپ سے پیار کرتا ہوں، آپ کو دکھی نہیں دیکھ سکتا۔”۔

ادھر لنڈ گرم ہو کر امی جان کی پھدی کو بھی گرم کرنے لگا اور آہستہ آہستہ امی جان کے جسم میں آگ بڑھنے لگی تھی۔

امی جان تھوڑے غصے سے بولیں:۔
“دکھی نہیں دیکھ سکتا؟ کتنا رلایا ہے تو نے مجھے۔۔۔ کیا نہیں دیکھا تو نے؟ اب بھی کتنا غلط کر رہا ہے، کیا تجھے نہیں دکھ رہا؟ کیا میری آنکھوں میں یہ جان کر بھی کہ میں تیرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی، تو بھی لگا ہوا ہے اور بولتا ہے مجھے دکھی نہیں کر سکتا؟ کون سی ماں ہو گی جو میرے جتنا دکھ جھیل رہی ہو گی؟ جس کوکھ سے بیٹے کو پیدا کیا تھا، اسی کوکھ سے نکلا بیٹا آج اپنی ماں کے جسم میں ممتا ڈھونڈنے کی بجائے ہوس ڈھونڈ رہا ہے۔۔۔ نہیں، میں کبھی تیری ایسی کرنی سے خوش نہیں ہو سکتی، ساتھ دینا تو بہت دور کی بات ہے۔”۔

میں نے ہاتھ پر لگی منی امی جان کے چوتڑ پر مل مل کر صاف کر ڈالی تھی، اب وہی ہاتھ اوپر اٹھا کر امی جان کی قمیض میں گھساتا ہوا اوپر تک لے گیا اور امی جان کے بائیں ممے کو پکڑ لیا۔ مما سخت تھا، مطلب امی جان موڈ میں آتی جا رہی تھیں اور پھدی بھی اب بھٹی بننے لگی تھی۔ ممے کو چھونے کا بھی الگ ہی مزہ تھا۔

میں امی جان کے ممے کو مسلتا ہوا بولا:۔
“کوئی بھی ماں آسانی سے اپنے بیٹے کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کرتی ہے، آپ بھی نہیں کریں گی۔۔۔ لیکن میں چونکہ آپ سے بہت پیار کرتا ہوں، جتنا آپ کو رلایا ہے، اتنی خوشیاں بھی دوں گا۔ میں آپ سے ایک وعدہ کرتا ہوں امی جان، میں کبھی بھی آپ کی مرضی کے بغیر آپ کے اندر نہیں ڈالوں گا۔”۔

امی جان کی آنکھوں میں مجھے حیرانی دکھائی دی۔

میں نے کہا:۔
“ہاں امی جان، بس آپ کا یہ جسم مجھے بہکائے یا نہ بہکائے، لیکن میں آپ کے اس جسم کا فین ضرور ہوں اور آپ کو پورے من سے پانا ہی میری سب سے بڑی تمنا ہے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“پھر تو تو بھول ہی جا، تیری یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ میں کبھی راضی ہی نہیں ہونے والی ہوں۔”۔
میں نے کہا:۔
“اب بھی تو آپ راضی ہی ہیں، بس کھل کر ساتھ نہیں دے رہی ہیں، ورنہ مجھے اتنا سب کچھ بھی نہ کرنے دیتیں۔۔۔”۔
امی جان بولیں:۔
“وہ تو میں جنون میں آتی ہوئی تجھے اس حد تک آنے دے گئی۔ تو باز نہیں آ رہا تھا، تین سال سے تو مجھے پریشان کیے ہوئے تھا، تنگ آ کر میں نے یہ سب کیا۔۔۔ لیکن تو نے پھر بھی اپنے من کی کر ہی لی۔”
میں نے کہا: ۔
“کہاں کی ہے، اندر تو ڈالا ہی نہیں؟”
امی جان بولیں:۔
“جتنا کر گزرا ہے، وہ اندر ڈالنے سے کم ہے؟ نہیں عمران، تو نے اپنی حد پار کر دی ہے۔”۔
میں نے کہا:۔
“پہلے جب میں نے آپ کی پھدی کے سوراخ پر رکھا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو اندر گھس کر اپنے من کی کر سکتا ہوں، آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جانا چاہے تو لوٹ سکتا ہے، ایک بار اندر گھس جانے کے بعد کبھی واپسی نہیں ہو گی۔۔۔ ایسا ہی کچھ مطلب تھا نا آپ کی بات کا؟”

امی جان اپنی کہی ہوئی بات یاد کرنے لگیں۔

میں نے کہا: ۔
“امی جان، آپ کی بات کا ایک مطلب یہ بھی تو بنتا ہے نا کہ آپ اوپر سے مجھے کچھ بھی کرنے سے نہیں روکیں گی۔ آخر تین سال سے میں آپ کے جسم کو چھو رہا ہوں، آج کچھ زیادہ ہی چھو لیا۔”
امی جان بولیں:۔
“کچھ زیادہ ہی؟؟؟ یہ ‘کچھ’ ہے تمہاری نظر میں؟”
میں نے کہا:۔
“آپ ایسے کھل کر نہ پیش آتیں تو میں اتنا کہاں کھلتا۔ میں تو وقت کا انتظار کرتا، آہستہ آہستہ آپ کے قریب آتا۔۔۔ لیکن آپ نے تو پل بھر میں ہی جیسے تھوڑا سا فاصلہ چھوڑ کر باقی سارے فاصلے مٹا دیے۔ میں تو کہتا ہوں کہ جتنا فاصلہ باقی بچا ہے، وہ بھی پاٹ لیتے ہیں اور سما جاتے ہیں ایک دوسرے میں۔ اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد اب آپ کو زیادہ دکھ نہیں ہو گا امی جان۔ آپ کا دل اور دماغ راضی نہیں ہے تو کیا ہوا، آپ کا سالوں سے پیاسا جسم تو راضی ہے نا؟ میرے لیے، اپنے بیٹے کے لیے اپنے دل کو آپ راضی کر ہی لیں گی۔۔۔ لیکن اپنے دماغ کو راضی کر پانا آپ کے لیے بہت مشکل ہو گا۔ میرے لیے۔۔۔ امی جان میرے لیے اپنے دل کو اور اپنے دماغ کو بھی اپنے جسم کی طرح راضی کر لیں۔۔۔ سچ کہتا ہوں امی جان، ہماری زندگی بہت خوشحال ہو جائے گی۔”۔
امی جان جل کر بولیں:۔
“آگ لگ جائے گی تیری، میری اور میرے سارے گھر کو۔۔۔ زندگی خوشحال ہو جائے گی۔۔۔ ہونہہ۔۔۔ تو حقیقت کو نہیں سمجھتا، تو تو بس اپنے جسم کی آگ میں اندھا ہو کر رہ گیا ہے، کچھ دکھائی نہیں دیتا تجھے۔”
میں نے کہا: ۔
“میں اندھا ہوتا تو کیا ہوش میں رہ پاتا؟”
امی جان بولیں: ۔
“کیا تو ہوش میں ہے؟”
میں نے کہا:۔
“ہوش میں نہ ہوتا تو کب کا اندر اتار چکا ہوتا۔”

امی جان لاجواب ہو گئیں، لیکن میری ہی ماں تھیں، ہار ماننا تو جیسے انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا اور میں بھی ان کا ہی بیٹا تھا۔۔۔ ہرا کر ہی رہتا میں تو، اور پھر امی ہار کر بھی وہ خوشیاں جیت لیتیں جو شاید ہی کوئی ماں جیت سکی ہو۔

میں نے کہا:۔
“امی جان، میں کچھ دنوں کے لیے خالہ کے پاس چلا جاؤں گا۔ وہاں پتا نہیں مجھے کتنا وقت لگ جائے، میں آپ کی خوشی کے لیے اور اپنی بہن کے روشن مستقبل کے لیے وہاں جا رہا ہوں۔ امی جان، میرے دل میں جب بہنوں کے لیے اتنا پیار ہے تو سوچیں آپ کے لیے کتنا ہو گا۔ کیا ہوا جو میرے دل کے ساتھ ساتھ میرے جسم کی چاہت بھی آپ کا جسم بن کر رہ گئی ہے تو۔۔۔ امی جان، آپ نے یہ رات مجھے میری من مانی کرنے کے لیے دے دی ہے اور میں نے کچھ اپنی من مانی کر بھی لی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ تھوڑا سا اپنے دل کو سمجھا لیں، اپنے دماغ کو کچھ دیر کے لیے سلا دیں؟ اپنے جسم پر تو آپ کا قابو رہا ہی نہیں ہے، تو اسی جسم کی خوشی کے ساتھ آپ تھوڑی سی اپنے دل کی خوشی اور تھوڑی سی میرے دل کی خوشی بھی شامل کر لیں۔ امی جان، میں زیادہ مجبور نہیں کروں گا آپ کو، بس میں آپ سے ایک ڈیل کرنا چاہتا ہوں”۔
امی جان بولیں:۔
“کیسی ڈیل؟”
میں نے کہا: ۔
“امی جان، مجھے کچھ دن اور یہاں لگیں گے۔ میں آج کی رات کے بعد جتنے بھی دن یہاں رہوں گا، آپ کے قریب تو آؤں گا لیکن ایک بیٹا بن کر آؤں گا، جسم کی لذت میں ڈوب کر نہیں آؤں گا اور آپ کے جسم کو چھونے کی کوشش نہیں کروں گا۔ پھر یہاں سے جانے کے بعد میں آپ کو پانے کے لیے اپنی کوششوں میں لگ جاؤں گا اور آپ مجھے نہیں روکیں گی۔ میرے دور ہو جانے سے آپ کے جسم کے ساتھ میری چھیڑ چھاڑ بند ہو جائے گی، لیکن جتنا آج آپ نے مجھے اپنے جسم کے ساتھ کرنے دیا ہے، اگر کبھی میں واپس کچھ دنوں کے لیے آپ کے پاس آیا تو آپ مجھے اتنا ضرور کرنے دیں گی، چاہے ایک بار کے لیے ہی سہی۔۔۔ دوسری بات، آپ ابھی تھوڑی دیر کے لیے اپنے جسم کی مان کر خود کو تھوڑا سا راضی کرتے ہوئے میری من مانی کا ساتھ دیتے ہوئے راضی ہو جائیں۔ میں آپ کو مجبور نہیں کر رہا ہوں امی جان، میں نے اتنا سب کچھ کہا، یہ سب آپ کی محبت اور آپ کی دی ہوئی ہمت کی وجہ سے کہا ہے۔ میں اب بس اتنا ہی چاہتا ہوں کہ جیسے میں نے آپ کی پھدہ کو چاٹا اور وہاں اپنا لنڈ رگڑا، ایسے ہی آپ اپنی مرضی سے الٹی لیٹ جائیں، میں آپ کے پیچھے کے حصے کو چاٹنا چاہتا ہوں اور پیار دینا چاہتا ہوں، پھر اس پر اپنا لنڈ رکھ کر رگڑنا چاہتا ہوں۔ ایسے ہی میں ایک بار پھر سے اپنے لنڈ کو سے منی نکال کر کچھ دیر مزے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”

میں اتنا کھل کر بولا تو امی جان کی آنکھیں حیرت سے کھلتی چلی گئیں، پھر امی جان کی آنکھیں مجھے شرم سے کانپتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

امی جان نے ایک گہری سانس لی، پھر بولیں:۔ “نہیں۔۔۔ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا اور پھر سے کہتی ہوں کہ میرا جسم بھلے ہی مجھ سے دغا کر رہا ہے، یہ ایک عورت کی مجبوری بھی ہوتی ہے، لیکن میں راضی خوشی تیرے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتی۔”
میں نے کہا: ۔
“اگر آپ مان جاتی ہیں تو اس میں بھی آپ کا ہی فائدہ ہو گا امی جان۔”۔
امی جان بولیں:۔
“میرا فائدہ؟ بھلا اس میں میرا کیا فائدہ ہو گا؟”
میں نے کہا:۔
“آپ نے خود سے دعوت دے کر میرے سامنے اپنا سب کچھ کھول کر رکھ دیا ہے، اب کتنی دیر سے میں آپ کے جسم کے ان حصوں کے ساتھ کھیل رہا ہوں جن حصوں کے ساتھ کھیلنے کی آپ نے مجھے کبھی پہلے اجازت نہیں دی تھی۔”۔
امی جان بولیں:۔
“میں نے غصے میں ایسا سب کچھ کیا، تو کچھ اور مت سوچ، ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگے گا تیرے”۔

یہ بھی میری بہت بڑی جیت تھی کہ امی جان میرے ساتھ ہر طرح کی بات کر رہی تھیں۔

میں نے کہا: ۔
“پہلے اگر غصے میں کیا تھا تو اب پیار سے کر سکتی ہیں، میرے پیار میں نہ سہی، اپنے جسم کے پیار میں ڈوب کر ہی کر لیں۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“میرا جسم میرے قابو میں نہیں رہ پا رہا ہے تو کیا میں اپنے دل کی اور اپنے دماغ کی ماننا چھوڑ دوں؟”۔

میں ہنس پڑا، لیکن ہنسی بھی عجیب تھی۔ نیچے سے لنڈ امی جان کی پھدی پر تھا اور اوپر سے میرا ہاتھ امی جان کے مموں کو دبا بھی رہا تھا، نیچے سے امی جان کی پھدی گرم ہو رہی تھی ۔۔ اور اوپر ان کے ممے پھولتے ہی چلے جا رہے تھے۔ لیکن سچ میں بڑی ہمت والی تھیں میری امی، ورنہ تو میں نے اب تک جن لڑکیوں کے ساتھ تعلق قائم کیا تھا، جسموں کی گرمی آؤٹ آف کنٹرول ہونے سے انہیں دیوانگی کی حدوں سے گزرتے دیکھا تھا۔
لیکن میری امی جان۔۔۔ اففففف۔۔۔ ایک بار ان کی پھدی چاٹنے سے پانی نکل چکا تھا اور دوسری بار بھی ابل ابل کر باہر آنے کو بے تاب تھا، لیکن مجال ہے جو ذرا سی بھی آؤٹ آف کنٹرول ہوئی ہوں۔ ایسی امی جان کے لیے میں فدا کیسے نہ ہوتا؟ اتنی پیاری، اتنی ہمت والی اور اتنا پیار کرنے والی، بھلا دنیا میں اور کوئی کہاں ہو گی؟

میں نے کہا:۔
“آپ نے مجھے غصے میں آ کر اتنا سب کچھ کرنے دیا، اب بھی میں ضد پکڑ لوں تو بھی آپ مان کر مجھے سب کچھ کرنے دیں گی۔ چلیں ایک بات اور کہتا ہوں آپ سے، آپ نہیں چاہتیں نا کہ مستقبل میں پھر کبھی میں آپ کے ساتھ ایسا سب کچھ کروں؟ میں بھی آپ کو زیادہ پریشان نہیں کروں گا، یہ بھی وعدہ کرتا ہوں۔ آج کی رات کے بعد میں آپ کے جسم کو ایسی سوچ کے ساتھ کبھی نہیں چھوؤں گا۔۔۔ ہاں پر آپ مجھے باتوں کی کھلی چھوٹ دیں گی، ہاتھ نہیں لگاؤں گا میں آپ کو، لیکن باقی میں کچھ بھی کروں، آپ مجھے انکار نہیں کریں گی۔”۔
امی جان یقین نہ کرتے ہوئے بولیں: ۔
“ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ تو مجھے چھونے سے خود کو روک سکے۔ پچھلے تین سالوں سے میں دیکھتی آ رہی ہوں کہ تو نے ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، موقع ملتے ہی مجھے چھو جاتا تھا۔”۔
میں نے کہا: ۔
“کہا نا، آپ سے بہت پیار ہے مجھے، آپ کو دکھ نہیں دے سکتا ہوں۔ آپ بھی تو میرے پیار میں اتنا سب کچھ کر گزری ہیں، کیا میں آپ کے پیار میں ڈوب کر اتنا سب کچھ نہیں کر سکتا؟ کیا میرے جیسا لڑکا جو اپنی ہی ماں کے جسم کو ہوس بھری نظروں سے دیکھتا آ رہا ہو اور اپنی ہی ماں کے جسم میں سما جانے کے لیے بے تاب ہو، کیا وہ کوئی الٹی سیدھی حرکت کر کے اپنا مطلب پورا نہیں کر سکتا؟ اب یہ بھی دیکھ لیجیے، میں جسموں کا ہی سوداگر ہوتا تو گھر میں اور بھی جسم ہیں، کیا کبھی آپ نے ایسا کچھ نوٹس کیا جس سے آپ کو لگے کہ نہیں، میری نظر میں مقدس رشتہ بس ایک جسم ہے؟”۔
امی جان تیز لہجے میں بولیں: ۔
“تو کبھی میری بیٹیوں کو غلط نظر سے چھو کر تو دکھا، تیرے ہاتھ کاٹ ڈالوں گی۔”۔
میں ہنس پڑا:۔
“آئیں بڑی شعلے فلم والی بسنتی۔۔۔”

امی جان اپنے ہونٹ دبا کر اپنی ہنسی روک گئیں، میں ہنستا ہوا امی جان کے سختی سے بند ہونٹ چوم گیا۔ تو امی جان نے منہ پیچھے ہٹا لیا۔

امی جان بولیں: ۔
“یہ تو بار بار اپنا گندا منہ میرے قریب نہ لا، کتنی گندی بو آ رہی ہے تیرے منہ سے۔”۔
میں پھر سے ہنسا: ۔
“پہلے تو آپ نے اعتراض نہیں کیا تھا، اب کیوں کر رہی ہیں؟”۔

امی جان چونکیں، پھر میری آنکھوں میں گھور کر دیکھنے لگیں، پھر ایک گہری سانس لیتی ہوئی خاموش ہو گئیں۔

میں نے کہا: ۔
“سوچ لیں، میرے ساتھ اس ڈیل سے آپ کو کتنا فائدہ ہونے والا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میرے دل سے آپ کے ساتھ ایسا رشتہ بنانے والی بات نکل جائے، بہت دور رہوں گا نا آپ سے، ہو سکتا ہے کہ میرا دل بدل جائے، ہو سکتا ہے نا؟ ہونے کو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“ٹھیک ہے، بول کیا چاہتا ہے تو؟ میں تجھے بدلا ہوا دیکھنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔۔ ایک ایسے تیرے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتی، باقی تو جو بولے گا، میں وہی کروں گی۔۔۔”۔

میں جھوم اٹھا، میں امی جان کو اپنے حساب سے لائن پر لانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ بس دانہ ڈالنا تھا، وہ ڈال چکا تھا اور اب امی جان خود ہی ان دیکھے پنجرے میں قید ہو جانے والی تھیں۔

جاری ہے۔



Source link

Leave a Comment