خوبصورت اور سیکسی بیوی – Urdu Stories


 خوبصورت اور سیکسی بیوی کا شوہر بھی ہوں، میرا قد ہوگا کوئی 6 فٹ اور کچھ انچ، رنگ گورا، ناک نقشہ اچھا، میں ایک سرکاری ادارے میں چپراسی ہوں، اوپر کی آمدنی اچھی ہونے کی وجہ سے اپنا گھر اور زندگی کی آسائش کی تمام چیزیں جو ایک عام آدمی کے لیے ضروری ہوں وہ سب میرے پاس ہیں، لیکن میری بزدلی بس یہ ایک کمزوری مجھ میں ہے، جس سے میں ہی کیا سارا محلہ ہی واقف ہے، جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ میں اتنا ہی بزدل ہوں جتنا ایک شریف آدمی ہو سکتا ہے، اب کچھ قصہ ہو جائے میری بزدلی کا تمام خطرناک مخلوق یعنی چھپکلی، مکڑی، کیڑے مکوڑے ان کو دیکھ کر میری جان جاتی ہے، بارش میں بادلوں کی گرج سن کر میری چیخیں نکل جاتی ہیں، حالات خراب ہوں جو کہ کراچی کا روز کا ہی معمول رہا کرتا ہے تو میرا دفتر جاتے پیشاب خطا ہو جاتا ہے، باہر فائرنگ کی آواز سن لوں چاہے وہ کسی شادی کی تقریب میں ہی کیوں نہ ہو رہی ہو میرا ہارٹ فیل ہونے کے قریب ہو جاتا ہے، کہیں باہر کسی سے منہ ماری ہو جائے جس کی نوبت شاذ و نادر ہی آئی ہوگی تو میں کئی دن ڈر کے مارے گھر سے نہیں نکلتا کہ کہیں کوئی مجھے قتل کرنے کے انتظار میں کہیں چھپا نہ بیٹھا ہو، لائٹ چلی جائے جو کراچی کا ایک اور معمول ہے تو میرا دم نکلنے لگتا ہے لیکن ڈر کے مارے ایک ہی جگہ گم سم بیٹھا رہتا ہوں، تو یہ تو ہوں میں، اب آتے ہیں میری بیوی گل جبین کی طرف، آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ یہ کیسا پٹھان ہے جو اپنی بیوی کی طرف لے کر جا رہا ہے تو بھائیوں پہلی بات یہ کہ میری بیوی نے بھی گل کھلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔۔ یہ الگ بات ہے کہ اس حقیقت کا ادراک مجھے بہت عرصے بعد ہوا پہلے پہل میں بہت سے مظلوم شوہروں کی طرح یہی سمجھتا رہا کہ میری معصوم بیوی سے کوئی زبردستی فائدہ اٹھا گیا۔۔ لیکن ایسا نہیں تھا وہ آپ کو بھی پتہ چل ہی جائے گا۔۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ سب میں جن صفحات پر منتقل کر رہا ہوں میں جانتا ہوں کہ کم سے کم جو حلقہ مجھے جانتا ہے ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں پڑھے گا تو میری یہ کہانی آپ تک اور مجھ تک ہی رہے گی۔۔ تو اب واپس آتے ہیں میری بیوی کی طرف۔۔ میری بیوی کا نام گل جبین ہے۔۔ پہاڑی نغمے کی طرح دھیمی اور کومل۔۔ لیکن پہاڑی ندی کی طرح جذبوں میں منہ زور۔۔ صبح کی نرماہٹ لیے تو طوفانی رات کی خوفناکی لیے۔۔ بستر پر سلگتی آگ تو دن میں ٹھنڈی چاندنی۔۔ پیار کا نرمل دیا تو دوسری طرف جذبوں کا بھڑکتا شعلہ۔۔ جب بستر پر میرے ساتھ ہوتی تو میں کچھ ہی دیر میں ہانپ جاتا لیکن وہ مجھے اٹھا اٹھا کر پٹختی۔۔ میرے کچھ ہی دیر میں ساتھ چھوڑ دینے والے مریل لند کو بار بار اپنی شعلہ بنی چوت سے دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کرتی۔۔ اپنی بدن کی گرمی سے میرے جسم کو گرماتی لیکن۔۔ کچھ دیر بعد اس کی گرم سانسیں بھی ہار مان کر دھیمی پڑ جاتیں اور وہ غصے میں کروٹ بدل کر سو جاتی۔۔ دوستوں یہ نہ سمجھیے گا کہ میری مردانگی میں کوئی کمی تھی۔۔ بلکہ گل میں نسوانیت اور جنسی خواہش کی بہت زیادتی تھی۔۔ شادی کے بعد سے میں شاید ایک دو بار ہی اس چڑھتے دریا کو شانت کر پایا ہوں گا۔۔ اب آتے ہیں اس کی جسمانی ساخت پر۔۔ تو میری بیوی گل جبین جیسا کہ نام سے ظاہر ہے واقعی پھولوں کی جبین تھی۔۔ سر سے لے کر پاؤں تک ایک ایسی اندیکھی انچھو زمین جس پر سب سے پہلے جس آدمی کے پاؤں پڑے وہ میں ہی تھا۔۔ وہ میرے گاؤں کی ہی رہنے والی تھی۔۔ میں خود ایک پہاڑی علاقے کا رہنے والا ہوں۔۔ جہاں کا حسن سر چڑھ کر بولتا ہے جہاں لڑکی جب جوان ہوتی ہے تو اس کی مہک سارے گاؤں میں پھیل جاتی ہے۔۔ جہاں لڑکی صرف 15 سال میں کئی کئی بچوں کی ماں ہوتی ہے۔۔ میری اور گل کی جب شادی ہوئی تو وہ صرف 17 سال کی تھی۔۔ اب ہماری شادی کو تقریباً 6 سال ہو چکے ہیں۔۔ پہلی رات سے ہی میں اس سے بستر پر جیت نہ سکا۔۔ اس کا حسن بے مثال تھا۔۔ گورا دمکتا ہوا رنگ۔۔ خون جیسے چھلکا پڑتا تھا۔۔ جیسا ملیح چہرہ۔۔ ویسا ہی کومل بدن۔۔ کپڑے اتارتے جائیے۔۔ ایک ایک منزل سر کیجیے کیا کیا نظارے ہیں اس کے جسم میں۔۔ کہیں اونچائیاں لیے ہوئے تو کہیں گہرائیاں۔۔ ہر اونچائی پر دم نکلے اور ہر گہرائی کی ٹھنڈک جینے نہ دے۔۔ پورا جسم گورا۔۔ ابھری ہوئی چھاتیاں جن کی گلابی پن میں جوانی کا پورا شباب جیسے امڈ رہا ہو۔۔ بھرے بھرے کولہے کہ جب گھوڑی بنے تو سامنے وادیوں کے خوبصورت منظر کھلتے چلے جائیں۔۔ پتلی کمر کہ ندیاں اپنا رخ بدل ڈالیں۔۔ کالے ریشمی بال کہ جن کو دیکھ کر رات اپنی سیاہی کو بھول جائے۔۔ بڑی بڑی آنکھیں کہ جن کی گہرائیوں کے آگے گہری سے گہری جھیل بھی محض ایک تالاب معلوم ہو۔۔ حسنِ بے مثال اور وہ ہاتھ لگا مجھ بد نصیب کے ہاتھ۔۔ اس کا مرد تو ہونا چاہیے تھا کوئی پہلوان کہ ہر وقت باہر بیٹھا اپنی بیوی کی رکھوالی کرتا ہو۔۔ ایسا حسن اور میری بد نصیبی یا کم عقلی دیکھیے کہ شادی کے ایک سال بعد ہی میں اپنی خوبصورت بیوی کو لے کر کراچی چلا آیا۔۔ اس شہر جہاں ہر لمحے جوانیوں سے جوانیاں ٹکراتی رہتی ہیں۔۔ جہاں کا اسلوب ہی الگ ہے۔۔ میں اپنے گھر میں اپنی بیوی کو لایا تو میری دنیا ہی حسین ہوگئی۔۔ کیا کیا خواب نہ دیکھ لیے میں نے۔۔ پورا محلہ میری بیوی کا حسن دیکھ کر اپنی انگلیاں تک چبا گیا۔۔ ایسا نایاب حسن کراچی میں بھلا کہاں تھا۔۔ میں تو پہاڑوں سے جھرنا لے آیا تھا۔۔ لیکن میں کہاں جانتا تھا کہ میرا یہ پہاڑی جھرنا کراچی کی پولیو شن بھری فضا میں بہے گا تو گندا ہی ہوگا۔۔ گل شروع میں تو بڑی گھبرائی گھبرائی سی رہی۔۔ لیکن آہستہ آہستہ محلے کی عورتوں سے گھل مل گئی۔۔ اس کو اردو بولنی بھی جلد ہی آگئی۔۔

ہماری شادی کو 6 سال ہو گئے، اس دوران میری پیاری گل نے مجھے دو بڑے ہی پیارے بچے دیے۔۔۔ دونوں ہی اپنی ماں پر تھے، حسین اور پیارے۔۔۔ یہ اب سے کچھ عرصے پہلے کی بات ہے ۔۔۔ اس دن بڑی ہی گرمی تھی میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو میں جلدی چھٹی لے کر گھر کی طرف چل پڑا۔۔ گھر کی چابی میرے پاس ہوتی ہی ہے۔۔ لیکن کچھ سودا وغیرہ لینا تھا تو دوسرے راستے سے گھر کی طرف گیا، یہاں سے میرے گھر کا پچھلا دروازہ قریب پڑتا تھا۔۔ میں نے بے آواز طریقے سے دروازہ کھولا کہ گل دیکھ کر خوش ہو جائے گی۔۔

لیکن جب میں پچھلے دروازے سے داخل ہو کر اندر کے کمروں کی جانب بڑھا تو گل کیا خوش ہوتی میرے 14 طبق روشن ہو گئے۔ ہمارے بیڈروم کی جانب سے ویسی ہی آوازیں آ رہی تھیں جیسے جب میں اور گل بستر پر اپنی جوانیاں ایک دوسرے پر نثار کر رہے ہوتے تھے ۔۔۔ تو یہ کون گھس آیا میرے گھر میں۔۔۔ میں نے چونک کر چاروں طرف دیکھا کہیں کسی اور کے گھر میں تو نہیں گھس آیا میں۔۔ پھر خیال آیا کہ لگتا ہے گل بچوں کے ساتھ کہیں گئی ہوگی اور یہ کوئی اور لوگ ہیں جو گھر دیکھ کر میرے کمرے کو اپنی عیش گاہ بنائے ہوئے ہیں۔۔ کیونکہ بچے بھی کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔۔ لیکن پھر خیال آیا کہ گل تو کہیں آتی جاتی بھی نہیں۔۔ پھر غور سے آتی ان جذبات سے بھری آوازوں کو سنا، یہ وہ آوازیں تھیں۔۔ بلاشبہ یہ وہی آوازیں تھیں جن سے میرے کان آشنا تھے جنہیں پچھلے 6 سال سے میں سنتا آ رہا تھا، ان مخصوص لمحوں کی آوازیں جب عورت اور مرد کو پوری کائنات میں صرف ایک دوسرے کے سوا کسی کی موجودگی کا ہوش نہیں رہتا۔۔ یہ میری گل کی ہی آوازیں تھیں۔۔ ان آوازوں سے میرے کان بہت اچھی طرح آشنا تھے۔۔ پورا گھر سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔ کچھ دور گھر کا مرکزی دروازہ تھا جس پر کنڈی لگی ہوئی تھی۔۔

میں آہستہ سے آگے بڑھا کہ خوابگاہ کے دروازے کے برابر ہی بڑی کھڑکی تھی جس پر چق پڑی تھی کہ آخر آج گل کو ہوا کیا کہ میرے بغیر اکیلے ہی ایسی آوازیں نکال کر آسودہ ہو رہی ہے۔۔ پھر یاد آیا کہ اتنے سالوں سے چند بار کے علاوہ کبھی میں اپنی بیوی کی چڑھتی جوانی کو سیراب نہ کر سکا، بیچاری اپنی آگ خود ہی بجھا رہی ہے۔۔ میں کھڑکی کے پاس آیا اور چق ہلکی سی سرکا کر اندر کا منظر دیکھنے لگا۔۔ باہر تیز دھوپ تھی اور اندر کمرے میں اندھیرا، تو منظر واضح ہونے میں کچھ دیر لگی لیکن جب واضح ہوا تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔

دو گھر چھوڑ کر رہنے والے اکرام صاحب میرے بستر پر ٹانگیں پھیلا کر ننگ دھڑنگ لیٹے تھے۔۔ لذت سے ان کی آنکھیں بند تھیں اور میری حسین و جمیل بیوی اپنے حسین بال گھٹاؤں کی طرح چھاتیوں پر پھیلائے ان کے لنڈ پر اچھل کود رہی تھی۔۔ یہ آوازیں گل کے منہ سے نکل رہی تھیں۔۔ جب اکرام صاحب کا لنڈ پورا اس کی جھاگ اگلتی چوت میں غائب ہو جاتا تو اس کے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری سی نکل جاتی اور جب اس کی چوت اکرام صاحب کے لنڈ کو چومتی ہوئی آہستہ آہستہ باہر نکلتی تو ایک نئی قسم کی آواز گل کے منہ سے نکلتی۔۔ یہ سسکاری اور یہ آواز مل کر ان آوازوں کو جنم دے رہی تھیں جنہیں میں باہر کھڑا سن رہا تھا۔۔ میری بیوی کا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔۔ اکرام صاحب کی سانسیں بھی غیر تھیں۔۔ میری بیوی کی بھیگی چھاتیاں جب ایک جھٹکے سے نیچے آ کر جسم سے ٹکراتی تو ایک دلکش آواز پیدا ہوتی۔۔ گل کے ساتھ بستر پر جب ہوتا تھا تو یہ آواز مجھے بڑا مزہ دیتی تھی جوان چھاتیوں کا اٹھنا اور اٹھ کر پھر ایک جھٹکے سے گرنا بڑی ہی نشیلی دھن بناتا تھا۔۔ لیکن ابھی یہ آواز تو میرے کانوں میں بم بن کر دھماکے کر رہی تھی۔۔

میری گل یہ کیا کر رہی ہے اکرام صاحب کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ۔۔ میں گم سم کھڑا اپنی بیوی اور اکرام صاحب کا یہ کھیل دیکھ رہا تھا جو آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی طرف جا رہا تھا۔۔ اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے اکرام صاحب نے میری اچھلتی کودتی ہوئی بیوی کی چھاتیوں کو زور سے جکڑا۔۔ میری بیوی نے بھی ان کا ساتھ دیا۔۔ ان کی کمر سہلا کر اور تیز تیز سانسوں کے ساتھ آخر اکرام صاحب میری گل کی حسین چوت میں اپنی گندی منی بھر کر ایک جھٹکے سے واپس بستر پر گر گئے۔۔ گل کی چکنی چھاتیاں ان کے ہاتھ سے پھسل گئیں۔۔ وہ لیٹے آنکھیں بند کیے گہری گہری سانسیں لے رہے تھے۔۔ میری گل ان کے اوپر سے اٹھی، لنڈ ایک سٹاک کی آواز کے ساتھ اس کی چوت سے نکلا۔۔ اور ساتھ ہی اندر چھوڑی منی گل کی چوت سے بہنے لگی، کچھ اکرام صاحب کے پیٹ پر گرا۔۔ کچھ گل کی رانوں پر بہنے لگی۔۔ گل نے پاس پڑا ایک کپڑا اٹھایا اور چوت سے بہتی منی پونچھنے لگی۔۔

میں اس سے زیادہ کیا بتاؤں کہ اس کے بعد ان میں کیا کیا دلربائی کی باتیں ہوئیں۔۔ میں تو کھڑا اپنی بربادی پر آنسو بہا رہا تھا۔۔ اور نہ جانے کب میرے اس طرح رونے کی آواز اندر جا پہنچی۔۔ وہ دونوں جیسے ایک چھلانگ لگا کے ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔۔ اکرام صاحب جلدی جلدی کپڑے پہننے لگے۔۔ اور گل کپڑے لیے اندر بنے باتھ روم میں بھاگی۔۔ میں وہیں پڑے ایک تخت پر بیٹھ گیا۔۔ تیز دھوپ میں میرے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا اور نہ جانے کب میں شدتِ غم سے بے ہوش ہو گیا تھا۔۔

جب ہوش آیا تو اندھیرا چھا چکا تھا۔۔۔ میں وہیں تخت پر پڑا تھا۔۔ وہیں میرے قدموں کے پاس گل بیٹھی تھی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔۔ میں آہستہ آہستہ اٹھ بیٹھا ۔۔۔ گل کی طرف نظر کی نہ جانے کیوں مجھے اب بھی اس سے نفرت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ کہنے لگی “سنیے کچھ کہنے سے پہلے میری چند باتیں سن لیجیے۔۔ اکرام صاحب نے چھپ کر میری نہاتے ہوئے کچھ تصویریں لی تھیں اور مجھے کہا تھا کہ اگر میں نے ان کی خواہش پوری نہ کی تو وہ پورے محلے میں آپ کو بدنام کر دیں گے۔۔ اس لیے میں مجبور ہو گئی تھی۔۔ خدا کے لیے آخری بار میری خطا معاف کر دیجیے۔۔”

میں کیا کہتا اسے۔۔۔ بس روتے ہوئے اسے سینے سے لگا لیا۔۔ اس نے ہزاروں قسمیں کھائیں۔۔ ہزاروں وعدے کیے۔۔ اپنی وفاؤں کا یقین دلایا۔۔ دل کہتا تھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہے۔۔ وہ تو مجبور تھی۔۔ یہ تو اکرام صاحب کا ظلم تھا جسے اس بیچاری نے اکیلے برداشت کیا۔۔ مجھے خبر تک نہ ہونے دی اور اکرام صاحب کی شیطانی خواہشات کے آگے گھٹنے ٹیک کر میری عزت نیلام ہونے سے بچا لی۔۔ لیکن دماغ کہتا تھا۔۔ کہ ایسی زبردست چدائی زبردستی نہیں کی جاتی۔۔ جس میں زور اور ظلم سے زیادہ پیاس اور وارفتگی کا عنصر زیادہ تھا۔۔ پھر چدائی کے بعد ایسی لگاوٹ بھری باتیں کسی سے پہلی بار یا حادثاتی طور پر چدنے کے بعد نہیں کی جاتیں۔۔ لیکن ہر بیوقوف شوہر کی طرح میں نے بھی دماغ کی جگہ دل کی سنی۔۔ اور کرتا بھی تو کیا کرتا۔۔ بڑی مشکلوں سے اس زبردست مہنگائی میں یہ گھر بنایا تھا اسے چھوڑ کر کہاں جاتا۔۔ کراچی کے مہنگے ترین علاقوں میں رہائش رکھنا میرے لیے ناممکن تھا۔۔ پھر گل میرے بچوں کی ماں تھی اسے چھوڑتا تو خود کیا کرتا۔۔ میرے بچوں کی تو زندگی خراب ہو جاتی۔۔ اور رہے اکرام صاحب ان سے کیا کہتا کہ تم نے میری بیوی کو کیوں چودا تو وہ کہتے کہ تمہاری بیوی نے خود چدائی کروائی تو میں کیا جواب دیتا۔۔ رہی بات لڑنے جھگڑنے کی تو وہ تو میں کر ہی نہیں سکتا تھا یہ بات میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں۔۔ اس دن بلکہ کئی دن تک میں گل کے ساتھ سیکس نہ کر سکا بس دل نہیں مانتا تھا کیونکہ اکرام صاحب کی منی میں نے گل کی چوت سے بہتی دیکھی تھی۔۔ خیر آہستہ آہستہ یہ واقعہ وقت کی تہوں میں دبتا چلا گیا۔۔ اس دوران میرا اکرام صاحب سے کئی بار سامنا ہوا لیکن نہ انہوں نے کوئی بات کی نہ میں نے۔۔

اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا پچھلے واقعے سے کوئی آٹھ ماہ بعد۔۔ اس دن مجھے آفس کے کسی کام سے صاحب نے حیدرآباد جانے کو کہا، میں گھر پر گل سے دیر سے آنے کا کہہ کر گیا، اتفاق کی بات ہے کہ وہ کام اس دن کینسل ہو گیا تو میری چھٹی اپنے ٹائم پر ہی ہوئی۔۔ میں واپس آیا آج بھی اتفاق سے کچھ سامان لینا تھا تو پچھلے دروازے سے ہی آیا۔۔ اندر داخل ہوتے ہی میرے قدم وہیں گڑ گئے کیونکہ ایک بار پھر میرا استقبال کچھ اسی قسم کی آوازوں نے کیا۔۔ میرا دماغ جواب دینے لگا۔۔ خون میری کنپٹیوں میں سنسنانے لگا۔۔ اکرام صاحب پھر میری بیوی کو بلیک میل کر رہے ہیں۔۔ ایک دم غصہ آیا۔۔ جسم میں جیسے شعلے بھڑکنے لگے۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے میرا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔۔ میں کیا کروں۔۔ شور مچاؤں۔۔ چیخوں چلاؤں کیا کروں۔۔ محلے والے جمع ہوئے تو کیا کہوں گا۔۔ بات لڑائی جھگڑے تک جا پہنچی تو کیا ہوگا۔۔ اکرام صاحب کے دو جوان بیٹے تھے۔۔ وہ بھی آ جائیں گے۔۔ پھر تھانہ کچہری ہوگی۔۔ بات نکلے گی تو نہ جانے کہاں پہنچ جائے کہ دلیر خان کی بیوی پڑوسی کے ساتھ پکڑی گئی۔۔ پھر اکرام صاحب نہ جانے میری بیوی پر کیا کیا الزام لگا دیں۔۔ یہ ساری سوچیں صرف ایک لمحے میں آئیں اور چلی گئیں اور میرا غصہ جیسے ختم ہو کر رہ گیا۔۔ میں بیوقوفوں کی طرح کھڑا سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں۔۔ اندر کمرے سے سسکاریاں اور لذت انگیز جذبات میں ڈوبی آوازیں آ رہی تھیں۔۔ میں نے خاموشی سے واپس جہاں سے آیا تھا وہاں لوٹ جانا چاہا۔۔ لیکن ایک بار دیکھ تو لوں کہ میری گل جبین اندر اکرام صاحب کے ساتھ کیا گل کھلا رہی ہے۔۔ میں ایک بار پھر بیڈروم کی کھڑکی سے چپکا چق اٹھائے اندر دیکھ رہا تھا۔۔ باہر رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا اور اندر میرے اندر بھی اندھیرے پھیلتے جا رہے تھے- میری گل آج اکرام صاحب کے ساتھ نہیں تھی۔۔

آج میری گل ایک نہیں دو جوان مردوں کے ساتھ تھی اور وہ دونوں کوئی اور نہیں اکرام صاحب کے دونوں لڑکے وقاص اور ایاز تھے۔۔ اندر عجب حیوانی ماحول بنا ہوا تھا جسے میں نے تو کم سے کم اپنی زندگی میں صرف گھٹیا بلو موویز میں ہی دیکھا تھا یا آج اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا کہ وہ دو مردوں کے درمیان کتیا بنی ہوئی تھی کبھی ایک کا لنڈ اس کے منہ میں ہوتا تو دوسرے کو اپنی چوت سے نبٹا رہی ہوتی ۔۔۔ تو کبھی دوسرے کا لنڈ اس کے ہونٹوں کے بیچ پھسل رہا ہوتا اور دوسرا اس کی گلابی چوت کو کھول رہا ہوتا۔۔ اس کے کولہے پوری طرح کھلے ہوئے تھے۔۔ چوت ابھر آئی تھی ایک ساتھ دو دو لنڈ لینے کی وجہ سے شاید کچھ موٹی اور سوجی سی معلوم ہو رہی تھی۔۔ چھاتیاں خوب تنی ہوئی اور ان میں خون جما جما لگ رہا تھا شاید دونوں نے گل کو چودنے سے پہلے خوب خوب اس کی چھاتیوں سے جوانی کا رس نچوڑا ہوگا۔۔

وہ دونوں میری بیوی کو چوم رہے تھے، چاٹ رہے تھے، چوس رہے تھے اور چود رہے تھے اور میری بیوی خوش لذت سے آنکھیں بند کیے مستی میں مگن ہوس سے بھری ہوئی دو مردوں کے بیچ لہک لہک کر اپنی شیطانی خواہش پوری کر رہی تھی۔۔ دونوں نئے نئے جوان تھے۔۔ دونوں خوب خوب اپنی نئی نئی جوانی میری بیوی پر نکال رہے تھے اس کو کمر سے پکڑ پکڑ کے زبردست جھٹکے دے رہے تھے۔۔ اس کے حلق سے نیچے تک اپنے لنڈ پہنچا رہے تھے۔۔ کبھی وہ چت ننگی لیٹ جاتی تو ایک اس کی چوت سے کھیلتا تو دوسرا اس کی چھاتیوں کے بیچ کی گہرائی میں لنڈ گھستا ۔۔اور۔۔ اور وہ بھی ان کو پورا پورا مزہ دے رہی تھی جب لنڈ اس کی چھاتیوں کے بیچ رینگتا تو وہ دونوں چھاتیاں دبا کر لنڈ کو بھینچ لیتی اور مزے کو دوبالا کر دیتی۔۔

پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایک نے میری پیاری گل کی چوت اور دوسرے نے پچھلا سوراخ ۔۔۔ جی ہاں آج تک میں نے کبھی اپنی بیوی کا پچھلا سوراخ استعمال نہیں کیا۔۔ اور نہ کبھی غور کیا کہ وہ آہستہ آہستہ کیوں کھلتا جا رہا ہے۔۔ ایک چھوٹا سا سوراخ ایک پورے لنڈ کے سائز کی گولائی میں کیوں پھیلتا جا رہا ہے۔۔ میں تو اس کی چوت کی ہی گرمی کو بجھا نہیں پاتا تھا تو ادھر ادھر کیا غور کرتا۔۔ لیکن اب وہ دو دو مردوں کے ساتھ تھی اور دونوں اس کے ہر سوراخ کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔۔ اور کچھ ہی دیر بعد میری بیوی کے ہر سوراخ سے منی ہی منی بہہ رہی تھی۔۔ اس کی چھاتیاں منی کی چکناہٹوں سے تر تھیں۔۔ لیکن اس کے چہرے پر ایسا سکون اور شادمانی تھی جو میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔۔

صاف ظاہر تھا کہ اس خوشی کو پانے کے لیے اس نے ان دونوں نوجوانوں کو ایک سے زیادہ بار فارغ کروایا ہے خود پر۔۔ ان دونوں کی سانسیں اکھڑی اکھڑی تھیں۔۔ آہستہ آہستہ میں اس منظر کے جادو سے نکل سکا۔۔ میرے اندر کوئی غرا رہا تھا۔۔ میرا پٹھان خون جوش کھا رہا تھا۔۔ کوئی میرے اندر کہہ رہا تھا کہ یہ جو سامنے ننگی کتیا لیٹی ہے دو دو کتوں سے چدوا کر یہ کوئی اور نہیں۔۔ کسی فلم کا کردار نہیں تیری بیوی ہے جس پر تیرا صرف تیرا حق ہے۔۔ اور یہ جو دو کتے لیٹے ہیں یہ تیرا حق کھا رہے ہیں۔۔ یہ تیری ملکیت ہے جسے یہ دونوں اپنے باپ کی جاگیر سمجھ رہے ہیں۔۔ اس ایک لمحے میرے اندر سویا ہوا بزدل دلیر خان نہ جانے کہاں کھو گیا۔۔ میں نے اپنی آواز میں پوری طرح گھن گرج پیدا کی اور زور سے آواز دی:

’’گُــــــــــــــــل!‘‘

میں نے دیکھا نہیں کہ میری اس آواز کا اندر کیا اثر ہوا میں جا کر سامنے بچھے تخت پر بیٹھ گیا۔۔ اندر ایک ہڑبونگ مچ گئی تھی۔۔ باتھ روم کا دروازہ دھڑ سے کھلا پھر بند ہوا۔۔ بھاگنے دوڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔ پھر دونوں بھائی ایک دم بھاگ کر میرے سامنے نکلتے چلے گئے۔۔ ان کی شرٹس کہیں تھیں پتلونیں کہیں تھیں۔۔ جوتے تھے تو موزے جیب میں۔۔ افراتفری میں انہوں نے گیٹ کھولا اور اندھیرے میں گم ہو گئے میں نے انہیں روکنے کی ہرگز کوئی کوشش نہیں کی مجھے تو انتظار تھا بس گل کا۔۔

کافی دیر ہو گئی وہ باہر نہیں آئی۔۔ جب میں اندر پہنچا تو وہ بیڈ کے ایک سرے پر بیٹھی تھی۔۔ بیڈ کچھ دیر پہلے گزرنے والے رنگین لمحات کی تصویر بنا ہوا تھا۔۔ وہ رو رہی تھی۔۔ لیکن اس وقت اس کے آنسو مجھے سخت زہر لگ رہے تھے ہی۔۔ میں نہ جانے کب تک یونہی کھڑا رہا۔۔ نہ اس نے کوئی بات کی نہ میں نے۔۔ کئی بار ارادہ کیا کہ اس کو ذلیل کروں۔۔ اس سے پوچھوں کہ اب کیا ہو گیا تھا۔۔ اب کون سا نیا بہانہ ہے؟ ہر بار الفاظ ہونٹوں تک آئے اور واپس چلے گئے۔۔ ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ باہر گیٹ پر دستک ہوئی۔۔

میں نے سر جھٹک کر ساری سوچیں ایک طرف کیں اور باہر نکل آیا۔۔

باہر نکلا تو حیرت سے گنگ ہو گیا سامنے ہی اکرام صاحب اور ان کے دونوں بیٹے کھڑے تھے۔۔ ان دونوں کے چہروں پر ایک تنزیہ ہنسی اور حقیر کرنے والی مسکراہٹ تھی۔۔ اکرام صاحب یوں بولے: ’’دلیر خان ہمیں تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔‘‘

میں نے کہا: ’’کہو۔۔ میں سن رہا ہوں۔۔‘‘

وہ بولے: ’’دیکھو دلیر خان۔۔ مجھے یہ سب کہتے اچھا تو نہیں لگ رہا لیکن تمہاری بیوی تم سے نہیں سنبھل رہی تو جا کر اسے واپس چھوڑ آؤ۔۔ کم سے کم تمہارے گاؤں کے پٹھانوں کا بھلا ہو جائے گا۔۔ اور یہاں ہمارے جوان بچے خراب ہونے سے بچ جائیں گے۔۔ وہ کم عمر بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنی جوانی کی گرمی نکال رہی ہے۔۔‘‘ میں نے تنزیہ نظروں سے ان کو گھورا تو ایک لمحے کے لیے گڑبڑا گئے۔۔ لیکن پھر فوراً ہی بولے: ’’دیکھو دلیر خان ہم تمہارے بھلے کے لیے بول رہے ہیں۔۔ آج اس نے میرے بیٹوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لگا کر ان سے اپنی ہوس پوری کی اور جیسا کہ تم جانتے ہو تم نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا۔۔ اتفاق کی بات ہے میرے بیٹوں کے پاس کیمرہ تھا تو انہوں نے تمہاری بیوی کی کچھ ایسی تصویریں اتار لیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک رنڈی ہے!‘‘

میں کسمسا کے رہ گیا کہ میری بیوی کو رنڈی بنانے والے ہی اسے ایسی گالی دے رہے تھے۔۔۔ وہ کھلم کھلا مجھے بلیک میل کر رہے تھے۔۔۔ ان کی زبان اب بھی بند نہیں ہوئی تھی۔۔

’’تو تم چاہو تو پولیس میں جا سکتے ہو ہمارے پاس پورے ثبوت ہیں تمہیاری بیوی کی کالی کرتوتوں کے۔۔ اور صبح ہی محلے کی کمیٹی کے ممبران کی میٹنگ بلا کر وہ تصویریں ان کے سامنے پیش کروں گا۔۔ اس لیے اب یہ تم پر ہے کہ اپنی بیوی کو لگام دو یا پولیس میں جا کر یا محلے کے بیچ میں بیٹھ کر اپنی صفائی پیش کرو۔۔ تم صبح مجھے بتا دینا تمہارا کیا فیصلہ ہے اس کے بعد ہی میں میٹنگ کروں گا۔۔‘‘

اکرام صاحب چلے گئے۔۔ میں کھڑا انہیں جاتا دیکھ رہا تھا۔۔ یہی تھا وہ شخص جس نے میری بیوی کی جوانی کا نہ جانے کتنی بار فائدہ اٹھایا۔۔ اس کے جسم سے کھیلا۔۔ لیکن جب مجھے اس کی حرکتوں کا علم ہوا تو وہ میری ہی بیوی کو میرے سامنے گالیاں دیتا چلا گیا۔۔ اس کے بیٹوں نے باقی کسر پوری کی، میری بیوی کو کتیا کی طرح چودتے رہے۔۔ اور آ کر میرے سامنے ہی کھڑے میری عزت کی نیلامی کی بات کرتے رہے۔۔ میرے لیے اب خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔۔ میری گل جبین نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا تھا۔۔ اکرام صاحب، ان کے بیٹے اور نہ جانے کتنے ہی لوگ اس کے حسن سے سیراب ہو کر گئے ہوں گے، کتنوں کی ہوس میرے بیڈروم میں پوری ہوئی ہوگی۔۔ میرے ذہن میں ہزاروں سوچیں گردش کر رہی تھیں۔۔ اور میرا پٹھان خون اب میرے دماغ پر سوار تھا۔۔ اندر سویا ہوا دلیر خان انگڑائی لے کر جاگ رہا تھا۔۔ ہر طرف خون اور سرخ رنگ مجھے نظر آ رہا تھا۔۔ اکرام صاحب کی کہی ہوئی باتیں میرے اندر زہر بن کر دوڑ رہی تھیں۔۔

میں اندر آیا۔۔ گل وہیں صحن کے پاس کھڑی تھی۔۔ اس نے بھی باہر ہونے والی باتیں سن لی تھیں۔۔ میرے چہرے پر چھائی ہوئی وحشت نے شاید اسے لرزا دیا۔۔ اپنے چھپکلی سے ڈرنے والے شوہر کے چہرے پر ایسی وحشت اور بربریت اس نے بھلا کب دیکھی تھی۔۔ وہ کہتی رہ گئی کہ میری بات تو سنیے۔۔ میں اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا کمرے میں لایا۔۔ نہ جانے کہاں سے میرے اندر وہ وحشیانہ طاقت پیدا ہو گئی تھی۔۔ میں نے اس کے سارے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اس کے ہاتھ پیچھے لے جا کر باندھ دیے۔۔ اس کے چہرے پر شدید خوف اور دہشت کے آثار تھے، آنکھیں خوف سے کھلی ہوئی تھیں اور منہ سے آواز نہیں نکل پا رہی تھی۔۔ میں نے اوپر کنڈے میں رسی ڈالی اور ہاتھ اس کے اوپر کر کے باندھ دیے اور اس کی دونوں ٹانگیں دونوں طرف کھول کر ایک سرا بیڈ سے اور دوسرا ایک صوفے سے باندھ دیا۔۔ میری بیوی ہاتھ اوپر کیے بندھی تھی، چھت سے بندھی رسی نے اسے بالکل سیدھا ٹانگ دیا تھا۔۔ ٹانگیں اس کی جتنی کھل سکتی تھیں اتنی کھول دی تھیں میں نے اور اس کے منہ میں ٹیپ چپکا دیا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں بے پناہ خوف تھا اور اس خوف کو دیکھ کر میرے اندر بے حد خوشی پیدا ہو رہی تھی۔۔

وہ نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھی۔۔ رات کے تقریباً 9 بج رہے تھے۔۔ میں نے الماری سے اپنی گن نکالی اور اس میں گولیاں بھرنے لگا۔۔ اس کے منہ سے مجھے گن لوڈ کرتے دیکھ کر عجیب عجیب آوازیں نکل رہی تھیں۔۔ میں نے گن لوڈ کر کے اپنی شلوار کے نیفے میں لگائی اور کمرے کا دروازہ بند کیا۔۔ بچے مجھے پتہ تھا کہ ساتھ والی خاتون جن کی کوئی اولاد نہ تھی ان کے ہاں ہوں گے، کبھی وہ وہاں سو بھی جاتے تھے تو مجھے کسی کے آنے کا خوف بھی نہ تھا۔۔ میں خاموشی سے

باہر نکلا، دروازہ لاک کیا اور آہستہ آہستہ اکرام صاحب کے گھر کی طرف بڑھا۔۔

اکرام صاحب۔۔۔ محلے کی معزز ہستی تھے، محلے کی کمیٹی کے صدر تھے۔ عمر یہی کوئی 55 کی ہوگی۔ تین جوان بیٹیاں تھیں اور دو بیٹے۔۔ ایک بیٹی شادی شدہ تھی جس کا ایک بچہ تھا۔ جب میں ان کے دروازے پر پہنچا تو پورا محلہ سنسان تھا، لوگ اپنے گھروں میں یا تو ٹی وی دیکھ رہے تھے یا دوسرے مشاغل میں مصروف تھے۔ گلی میں کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اکرام صاحب کی چھوٹی بیٹی صائمہ نے دروازہ کھول دیا۔۔ مجھے دیکھ کر چونگی اور سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔ میں نے ایک نظر اس کے کنوارے بدن پر دوڑائی، اس کی عمر یہی کوئی 18 کے لگ بھگ ہوگی۔ جوانی ابھی پوری طرح کھلی بھی نہیں تھی لیکن اپنی آمد کی نوید ضرور دے چکی تھی۔۔ جوانی کی مہک پھوٹ پڑی تھی بس کھلنے کی دیر تھی اس کلی کے۔۔

اگلے ہی لمحے میرے ہاتھ میں میری خوفناک گن تھی جسے دیکھ کر اچھے اچھوں کا خون خشک ہو جاتا ہے۔۔ میں نے جب اس کی نظروں کے سامنے گن کی تو اس کی سٹی گم ہوگئی، میں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ اندر سے اکرام صاحب کی آوازیں آ رہی تھیں: ’’صائمہ بیٹی کون آیا ہے دروازے پر؟‘‘ میں اسے ساتھ لیے اندر داخل ہوا، پلٹ کر گیٹ کی کنڈی لگائی اور اندرونی کمروں کی جانب بڑھا جہاں سے سب کے ہنسنے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ سب مگن تھے۔۔ کھانا لگا ہوا تھا، ٹی وی چل رہا تھا۔ میری دنیا میں آگ لگا کر یہاں باپ بیٹے مزے سے ہنس بول رہے تھے، ٹی وی دیکھ رہے تھے اور کھا پی رہے تھے، اور میں پاگلوں کی طرح اپنی دنیا کی بربادی کا، اپنے ارمانوں کی تباہی کا ماتم کر رہا تھا۔ وہاں میری بیوی ننگی بندھی پڑی تھی، اپنی سزا کے انتظار میں لمحہ لمحہ قیامت کا کاٹ رہی تھی اور یہاں یہ مست تھے۔۔

میری آنکھوں میں صرف خون تھا، جب میں صائمہ کو لیے اندر داخل ہوا تو میرا چہرہ اتنا خوفناک تھا کہ اندر بیٹھا ہر آدمی چپ ہو گیا اور ایک لمحے کے لیے شاید ان پر وقت کی رفتار بھی تھم گئی۔۔ زبردست خاموشی چھا گئی تھی اندر کمرے میں۔ اور سب سے پہلی آواز اکرام صاحب کی بیوی کی بلند ہوئی: ’’ہی میری بچی۔۔ ارے کوئی روکے اس حیوان کو، یہ کس ارادے سے گھر میں گھسا ہے؟‘‘ میں نے ایک دم گن لوڈ کی تو اس کی خوفناک آواز نے خاتون کی چیختی ہوئی آواز کو بریک لگا دیا۔ اب وہاں بیٹھے تمام لوگوں کے چہروں پر ہیبت اور خوف کے آثار صاف دیکھے جا سکتے تھے۔۔

اکرام صاحب کی لرزتی ہوئی آواز آئی: ’’دلیر خان یہ کیا طریقہ ہے؟ اس طرح کیوں گھسے ہو میرے گھر میں؟‘‘

میں غرا کر بولا: ’’کیوں بھول گیا تو؟ میرے گھر میں گھسا تھا تو وہاں کیا تیری ماں کا سسرال تھا؟

بڑا بیٹا وقاص تنطنا کر بولا: ’’دلیر خان۔۔ تم جانتے نہیں ہم کیا کر سکتے ہیں میرے باپ سے تمیز سے بات کرو۔۔‘‘

میں نے اسے گھورا: ’’پہلے باپ اور پھر بیٹا۔۔ بچے تم نہیں جانتے کہ میں تم لوگوں کا کیا کرنے والا ہوں۔۔ اپنی ماں کی چوت رگڑنے گیا تھا تو میرے گھر۔۔۔۔۔۔۔‘‘

اکرام صاحب کی بیوی بولیں: ’’ارے درندے میری بیٹی کو تو چھوڑ اس معصوم کا کیوں دشمن ہو رہا ہے۔۔‘‘

صائمہ کے بال میری مٹھی میں دبے ہوئے تھے۔۔ میں نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا: ’’بکواس بند کر عورت۔۔ پوچھ اپنے شوہر اور اپنے حرام کی جنی ہوئی اولادوں سے کہ میرے گھر میری بیوی کی عزت سے جب کھیل رہے تھے جب انہیں خیال نہیں آیا تھا کہ جب ان کی لگائی آگ ان کے گھروں تک پہنچے گی تو کیا ہوگا۔۔ لو یہ آگ تیرے گھر تک آ پہنچی عورت۔۔ اور اب یہ سب کچھ بھسم کیے بغیر ٹلنے والی نہیں ہے۔۔‘‘

اکرام صاحب کی بیوی نے سوالیہ نظروں سے اپنے شوہر اور بیٹوں کی طرف دیکھا، ان کے جھکے ہوئے سر شاید ان کے بہت سے سوالوں کے جواب تھے۔۔ میں بولا۔۔ اور میری آواز اس وقت طوفانوں کی للکار تھی: ’’وقتِ انتقام آپہنچا ہے اکرام۔۔ اور اے حرام کی اولادوں۔۔ جو تم میرے گھر بو کر آئے تھے اسے کاٹنے کا وقت آپہنچا ہے۔۔۔‘‘

میں اکرام صاحب کی بیگم سے بولا: ’’چلو عورت اٹھو اور اپنی بیٹیوں کا سارا لباس اتارو۔۔‘‘

ان سب پر میرے الفاظ جیسے بم بن کر گرے۔۔ اس وقت وہاں اکرام کی تینوں بیٹیاں موجود تھیں۔۔ شادی شدہ لڑکی بھی آئی ہوئی تھی اس کی گود میں ایک سال کا اس کا بچہ بھی تھا۔۔

میں دھاڑا: ’’سنا نہیں عورت میں نے کیا کہا؟‘‘

وہ روتی ہوئی بولی: ’’ارے ظالم ایسا ظلم نہ کر ہم کہیں کے نہ رہ جائیں گے ہماری عزت خراب نہ کر۔۔‘‘

میں دھاڑ کر بولا: ’’جب تمہارا شوہر اور بیٹے میری بیوی کی عزت خراب کر رہے تھے۔۔ تو کیا بیتی تھی مجھ پر۔۔ کچھ احساس ہے تمہیں۔۔ سوچ لو۔۔ فیصلہ کر لو۔۔ اگلے دس منٹ میں کمرے میں موجود ہر شخص ننگا نہ ہوا تو میری گن پر سائلنسر فٹ ہے۔۔ سوچ لو عزت یا موت۔۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔ تم سب کو خون میں نہلا کر واپس جاؤں گا۔۔‘‘

میری آواز میں چھپی ہوئی موت انہیں صاف نظر آگئی۔ اور وہاں اس کمرے میں ایک عجیب منظر، ایک عجیب نظارہ دیکھنے کو ملا۔۔ آہو ں اور سسکیوں کے درمیان وہاں موجود اکرام صاحب کی بیٹیاں اور ان کی ماں ننگی کھڑی تھیں۔۔۔ کبھی اپنی چھاتیاں چھپاتیں تو کبھی رانوں کو سمیٹ کر چوت پر ہاتھ دھرتیں۔۔ لیکن ابلتی جوانی بھلا ایسے بھی کبھی چھپی ہے؟ ایسی کمسن اور نوخیز جوانیاں دیکھ کر میرا دل بھی للچانے لگا۔۔ لیکن میں نے خود پر قابو پایا میں یہاں عیاشی کرنے نہیں اپنا حساب چکتا کرنے آیا تھا۔۔ میں نے غرا کے وہاں موجود مردوں کی طرف دیکھا۔۔ ان کی آنکھیں بند تھیں۔۔ اور آنسو ایسے بہہ رہے تھے جیسے پانی ابل پڑا ہو۔۔

وہ سب ننگے تھے۔۔۔ اکرام صاحب۔۔ ان کے بیٹے۔۔ ان کی بیوی۔۔ اور ان کی جوان بیٹیاں۔

اکرام صاحب اور ان کے بیٹوں کو تو میں پہلے بھی ننگا دیکھ چکا تھا، جب ان کے یہ لٹکے ہوئے لنڈ تنے ہوئے تھے، جب ان پر میری بیوی کا شباب سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ کبھی گھوڑی بنا کر دھکے لگاتے تو کبھی الٹا لٹا کر۔۔ یہ وہی لنڈ تھے جو میری بیوی کی چوت میں جاتے وقت رکتے نہیں تھے، آج اپنی ماں بہنوں کے سامنے ایسے لٹکے ہوئے اور مرجھائے ہوئے تھے کہ جیسے کبھی کسی عورت کی چوت کی گرمی دیکھی ہی نہ ہو۔

میں بولا: ’’کیوں اکرام صاحب۔۔ کیسا لگا؟ جب تم سب میری بیوی کو چودتے تھے تو بھول بیٹھے تھے کہ تمہارے گھر میں بھی عورتیں ہیں۔۔ ان کی رانوں کے بیچ بھی چوت ہے۔۔ کوئی ان کو بھی گھوڑی بنا کر سواری کر سکتا ہے۔۔ نہیں، یہ تو عزت تھی نہ تمہاری اور دوسرے کی عزت محض ایک عورت تھی، جیسے چاہے استعمال کرو۔۔‘‘

میں نے وہاں موجود ساری عورتوں کو لائن سے گھوڑی بنا دیا۔۔ زندگی کسے عزیز نہیں ہوتی؟ گن پوائنٹ پر گھوڑی تو کیا کچھ بھی بن جاتا ہے انسان۔۔ موت سامنے ہو تو بہت کم لوگ ہی اس سے آنکھیں ملا پاتے ہیں۔۔ اس کے بعد جب میں نے ان تینوں کی کنپٹیوں پر گن رکھی اور انہیں اپنی ہی بہنوں کو چودنے کو کہا تو وہ گلا پھاڑ پھاڑ کے رونے لگے۔۔ ان کی ساری اکڑ، سارا غصہ کہیں کھو گیا تھا، لیکن آخر میری بات تو ماننی ہی تھی۔۔ کئی گھونسے، ٹھڈے اور گن کے دستے کھانے کے بعد آخر وہ اپنی بہنوں کے پیچھے پہنچے۔۔ دونوں کنواریوں کی تنگ چوتوں میں پہلی بار اپنے ہی سگے بھائیوں کے لنڈ گئے تو لنڈ کی تکلیف اور رشتے کی اذیت، ان کی چیخیں شاید آسمان سے باتیں کرتیں اگر میں ان کے سر پر گن لیے نہ کھڑا ہوتا۔۔ اکرام صاحب اپنی شادی شدہ بیٹی کے حصے میں آئے۔۔ میں نے آخری حصہ مکمل کیا جب تینوں باپ بیٹے تینوں جوان لڑکیوں کی چوت میں لنڈ ڈال چکے۔۔

انسان بھی کیا عجیب مخلوق ہے۔۔ گھوڑی بنی تھیں عورتیں، ان کی بیٹیاں تھیں اور ان کی بہنیں، ان کے لنڈ کھڑے نہیں ہو رہے تھے، لیکن جب میرے مجبور کرنے پر زبردستی لنڈ چوتوں میں چلے گئے تو انسانی خصلت جاگ پڑی۔۔ چوتوں نے اپنا کام کیا۔۔ چوت تو چوت ہے اس میں لنڈ ڈال دو اب چاہے وہ بھائی کا ہو یا باپ کا، اس نے تو اپنا کام کرنا ہے۔۔ کچھ ہی دیر بعد ان کے لنڈ سخت ہو گئے ویسے ہی جیسے میری بیوی کی چوت میں سخت تھے۔۔ چوتوں نے اپنا کام کر دیا تھا۔۔ وہ رو رہے تھے، اذیت سے سسک رہے تھے، آنکھیں بند کیے تھے، لیکن لنڈ کھڑے تھے، وہ اپنا کام کر رہے تھے۔۔ کنواری چوتوں سے اور کنواری جوانیوں سے نکلنے والی آوازیں الگ تھیں۔۔ چوت کھولنے کا پہلا مرحلہ آیا تھا۔۔ اب جیسا بھی تھا۔۔۔ تھی تو پہلی چدائی۔۔

کچھ ہی دیر بعد تینوں گھوڑیاں بے سدھ تھیں۔۔ لنڈ اندر باہر ہونے کی آوازیں کمرے میں تھیں۔۔ ان کی سانسیں چڑھ رہی تھیں۔۔ میرا کیمرہ اپنا کام کر رہا تھا۔۔ ان کے زبردستی پوز بنوائے۔۔ دونوں بیٹوں کو ان کی ماں پر چڑھوایا۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ میری بیوی پر چڑھے تھے۔۔ خوب تصویریں کھینچیں۔۔ جب جھڑنے لگے تو تازہ تازہ گرم گرم منی ان تینوں بہنوں اور ماں کو ایک ایک قطرہ پلوایا اور یہ ساری قیمتی تصویریں میرے کیمرے میں محفوظ ہو گئیں۔۔

میرا انتقام پورا ہوا۔۔ میرا کام پورا ہوا۔۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔۔ میں نے کچھ باتیں کرنی تھیں ان سے تو میں نے کہنا شروع کیا: ’’کیوں اکرام صاحب۔۔ مزہ آیا آج آپ کو؟ بہت شوق تھا آپ تینوں کو جوانی کا رس نچوڑنے کا۔۔ آج کنواری جوانی کا رس بھی نچوڑ لیا آپ نے اور ایک ساتھ تین تین چوتوں کا مزہ بھی چکھا۔۔ یہ سب تصویریں میں نے سیو کر لی ہیں۔۔ اب جاؤ جہاں پولیس میں جاؤ یا کہیں بھی۔۔ یہ تصویریں میں پیش کروں گا کہ کس طرح تم باپ ہو کر بیٹیوں کو چودتے ہو۔۔ اور تمہاری یہ حرامی اولاد کس طرح اپنی بہنوں کو اور ماں کو چودتے ہیں۔۔ ایک ہفتے میں یہ محلہ چھوڑ کر چلے جاؤ ورنہ یہ تصویریں پورے محلے کی ہر دیوار پر لگی ہوں گی۔۔ اور ہاں یاد رکھنا ان کی ایک کاپی میں اپنے گاؤں بھی بھیجوں گا اس ہدایت کے ساتھ کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ان تصویروں میں موجود ہر شخص ذمہ دار ہوگا۔۔ اور اکرام صاحب میرے گاؤں کے لوگ انتقام ہر حال میں لیتے ہیں، یہ ہماری روایت ہے۔۔ تمیں دنیا کے ہر کونے سے ڈھونڈ نکالیں گے اور ساتھ میں یہ تصویریں بھی پولیس تک پہنچ جائیں گی۔۔ اپنا انجام سوچ کر میرے لیے کچھ برا سوچنا۔۔ اب تم سب گھر والے چاہو تو اور انجوائے کرو۔۔ میں تو چلا۔۔‘‘

میں باہر نکل آیا۔۔ محلہ ویسا ہی سنسان پڑا تھا۔۔ مجھے صرف 2 گھنٹے لگے تھے۔۔ ان دو گھنٹوں میں اکرام صاحب کے گھر کیا قیامت آ کر گزر گئی۔۔ کون سا طوفان ان کی دنیا تہ و بالا کر گیا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔ صرف میں جانتا تھا۔۔

اب باری تھی گل جبین کی۔۔ میری جان سے پیاری بیوی۔۔ جس کو بہت چاہتا تھا میں۔۔ جس کے حسن کے قصیدے پڑھتا تھا۔۔ آج وہ حسین چہرہ نفرت انگیز لگ رہا تھا مجھے۔ میں نے اسے بہت پیٹا بیلٹ سے۔۔ پورا جسم اس کا نیلی لکیروں سے بھر گیا۔۔ اس کا جسم جھٹکے کھاتا رہا، لرزتا رہا۔۔ لیکن منہ بند ہونے کی وجہ سے کمرے میں صرف بیلٹ اس کے جسم پر پڑنے کی آوازیں ہی آتی رہیں۔۔ اس کے بعد میں تیزاب کی بوتل لایا اور اسے دکھا کر بولا: ’’دیکھ گل جبین۔۔ معاف کر رہا ہوں تجھے، آئندہ اگر کوئی ایسی حرکت تو کیا۔۔ اس کا ایک پرسنٹ بھی ہوئی تو یہ پوری بوتل تیری چوت میں خالی کروں گا۔۔ یہ پٹھان کی زبان ہے۔۔ کتنی تکلیف ہوتی ہے دیکھنا چاہتی ہے نا تو دیکھ۔۔‘‘

اس کے بعد میں نے لوہے کی ایک پتلی سلاخ لے کر تیزاب میں ڈبو ڈبو کر گل جبین کی چوت پر اپنا نام لکھ دیا:

’’دلیر خان‘‘

وہ تو نہ جانے کب بے ہوش ہو چکی تھی۔۔ لیکن میرا یہ سبق اسے ہمیشہ یاد رہنے والا تھا۔۔ آج بھی جب وہ نہانے کے لیے اپنی شلوار کھولتی ہوگی تو میرا نام ابھرا ہوا اس کی چوت پر لکھا ہے، جو اسے ہر لمحے یاد دلاتا ہوگا کہ یہ چوت صرف اس کے شوہر یعنی ’’دلیر خان‘‘ کی ہے۔۔ اور میں بھی جب بھی چودنے کے لیے اس کی ٹانگیں اٹھاتا ہوں تو میرے سامنے میرا نام ہوتا ہے، میری ملکیت، میری جاگیر۔۔

ان واقعات کو 5 سالوں کا عرصہ گزر چکا ہے۔۔ میں چار بچوں کا باپ ہوں اب، دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔۔ گل جبین سے پھر کبھی شکایت نہیں ملی مجھے۔۔ وہ مجھے پہلے سے زیادہ پیار کرتی ہے۔۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جو خطا اس نے کی اس کی سزا اس سے کہیں زیادہ ہے جو میں نے اسے دی۔۔

اکرام صاحب تین دن بعد ہی وہ محلہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔ اس کے بعد وہ مجھے کبھی نظر نہیں آئے۔۔

اب آخری بات۔۔ یہ کہانی آپ کو سنانے کی دوسری اور تیسری وجہ بھی سن لیں۔۔ آپ میں سے ہر وہ شخص جس کی نظریں دوسرے کی بیویوں پر، بیٹیوں پر ہیں، یا آپ کسی بھی ایسی عورت کو چودتے چلے آ رہے ہیں جس سے آپ کا قانونی رشتہ بھی نہیں بلکہ وہ رشتہ ہے جسے ناجائز رشتہ کہا جاتا ہے تو یاد رکھیے، آپ کے گھر بھی آپ کی بہنیں، بیٹیاں، ماں، بہو یہ سب موجود ہیں۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہیں کہیں کوئی ’’دلیر خان‘‘ بھی پیدا ہو جائے۔۔ تو کیا کریں گے آپ؟ یاد رکھیے ہر میری طرح شریف آدمی میں ایک دلیر خان کہیں چھپا بیٹھا ہوتا ہے۔۔ اگر اسے باہر نکال دیا آپ نے تو کیا کریں گے آپ؟

اب میں بزدل نہیں رہا۔۔ اس رات کے بعد میری بزدلی نہ جانے کہاں کھو گئی۔۔ اب میں واقعی دلیر خان ہوں، یہ دلیری میری بیوی کی دی ہوئی ہے، لیکن اس کے لیے بڑی بھاری قیمت چکائی ہے میں نے۔





Source link

Leave a Comment