br>
یہ دیکھ کر خان نے ہاتھ بڑھا کر۔۔پہلے تو ان کی قمیض کو اوپر کیا۔۔پھر ان کی ٹائیٹ پاجامے پر ہاتھ رکھااورٹراؤزر کو بڑی آہستگی کے ساتھ اتارنے لگا۔
خان کو آہستہ آہستہ ٹائیٹ پاجامہ اتارتے دیکھ کر ماما نے منہ پیچھے کیا اور بولی۔۔ جلدی کر و یار۔۔ کہیں رانی نہ آ جائے ۔
تو خان اطمینان سے بولا۔۔۔ میم صاحب آپ فکر نہ کرو اس وقت وہ اپنی گانڈ مل مل کر دھو رہی ہو گی۔
پھر ٹھنڈی سانس بھر کر بولا۔۔۔اس کی گانڈ بھی تمہاری طرح ایک دم مست ہے۔
اس پر ماما ہلکی سی ہنسی ہنس کر بولیں۔۔شرم کرو بدتمیز وہ ابھی بچی ہے۔
تو خان جھٹ سے جواب دیتے ہوئے بولا۔۔بچی تو ہے لیکن۔۔ میڈم جی کیا اس کی گانڈ دیکھ کر میرا دل مچل جاتا ہے۔
اس پر ماما اٹھلا کر بولیں ۔۔ ظاہر ہے میری بیٹی جو ہے اس کی گانڈ بھی اچھی تو ہو گی نہ۔۔پھر پیچھے مڑ کر بڑی شوخی سے بولیں۔۔لیکن خبرار جو تم نے میری بچی کی گانڈ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھابھی۔
پھر سیکسی آواز میں کہنے لگیں ۔۔ تمہارے لیئے میری گانڈ جو حاضر ہے۔
تو اس پر خان جلدی سے بولا۔۔ بات تو آپ کی ٹھیک ہے لیکن کسی نے تو رانی کی گانڈ مارنی ہے ناں۔۔جو بھی مارے گا سالا خوش قسمت ہو گا۔
تو ماما جواب دیتے ہوئے بولیں ۔۔ جب موقع آئے گا۔۔ تو وہ بھی گانڈ مروا لے گی۔۔بلکہ آج کل کی بچیاں تو ڈائیریکٹ پھدی مرواتی ہیں۔۔سوتم اس کے بارے میں مت سوچو۔۔بلکہ میری گانڈ اور پھدی کے بارے سوچو ۔۔جو تیرے لنڈ کی دیوانی ہیں۔
حیرت کی بات ہے کہ اپنے بارے میں ان دونوں کے منہ سے اتنی گندی باتیں سن کر مجھے زرا بھی غصہ نہ آیا بلکہ جانے کیوں میں نے اسے بہت انجوائے کیا ۔دوسری طرف باتیں کرتے کرتے خان نے ماما کے تنگ ٹراؤزر کو ان کے گھٹنوں سے نیچے تک اتار دیا تھا۔۔اور فرینڈز یقین کریں۔۔ ماما کی گانڈ دیکھ کر میں توحیران رہ گئی۔بلا شبہ وہ بہت ہی شاندار تھی۔۔ میری طرح ان کی گانڈ بھی دودھ کی طرح سفید۔۔گول مٹول ۔۔اور تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی تھی۔۔جو کہ دیکھنے میں بڑی سیکسی لگتی تھی۔
دوسری طرف خان بھائی۔۔ ان کی ننگی گانڈ پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔۔پھر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اچانک خان ان کی گانڈ پر جھکا۔۔اور اسے چومنا شروع ہو گیا۔
تبھی ماما نے اپنا منہ پیچھے کیا اور اس سے بولیں۔۔ میری گانڈ بہت پسند ہے؟
تو وہ اس پر چما کرتے ہوئے بولا ۔۔ میڈم جی آپ پسند کی بات کر رہی ہو ۔۔ میں تو اس پر مرتا ہوں۔
اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی مڈل فنگر کو ماما کے منہ کی طرف کیا ۔۔اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے۔۔ ماما نے اس کی مڈل فنگر کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔اور تھوڑی دیر چوسنے کے بعد ۔۔منہ سے باہر نکال دیا۔۔اب جو میری نگاہ خان کی موٹی اور کھدری انگلی پر پڑی تو وہ ماما کے تھوک سے چمک رہی تھی۔۔ پھر خان ماما کی گانڈ پر دوبارہ جھکا۔۔اور اس نے اپنے منہ سے بڑا سا گولہ ان کی موری پر پھینکا۔۔اور اپنی موٹی کھدری انگلی کو ماما کی گانڈ میں دے دیا۔۔ جیسے ہی خان کی انگلی۔۔ماما کی گانڈ میں داخل ہوئی ۔
ماما نے ایک تیز سسکی لی۔۔اُفففففففف۔۔
اس پر خان کہنے لگا ۔۔ میڈم جی میری انگلی کا مزہ آیا؟
تو ماما کراہتے ہوئے مستی میں بولیں۔۔۔ میں نے تمہیں بتایا بھی ہے کہ تمہاری یہ درمیانی انگل۔۔میرے ہبی کے لنڈ سے زیادہ موٹی ہے۔۔اس لیئے مجھے بڑا مزہ دیتی ہے۔
اس پر خان بولا۔۔۔ معلوم ہے معلوم ہے میڈم کہ آپ کے شوہر کا لن بہت پتلا ہے جبھی تو ہم لوگوں کا مزہ لگا ہوا ہے ۔۔ورنہ آپ جیسی خوبصورت عورت نے ہم کو کہاں لفٹ کرانا تھا۔
اس پر ماما ہنس کر بولیں۔۔ارے ایسی بات نہیں تمہارے لنڈ کے لیئے تو میری گانڈ اور پھدی ہر وقت حاضر ہے۔
تو وہ خان جلدی سے بولا۔۔۔ اگر حاضر ہے تو پھر ابھی کے ابھی اندر ڈالنے دو ناں۔
اس پر ماما بولیں ۔۔۔ اندر لینے کو میرا بھی دل کر رہا ہے لیکن کیا کروں یار۔۔ بچی کا ڈر ہے ۔
پھر کہنے لگیں ۔۔۔تم فکر نہ کر آج یا کل میں موقع نکال کر تمہیں ضرور دوں گی۔
ادھر خان ماما کے ساتھ باتیں بھی کر رہا تھا ۔۔اور ساتھ ساتھ ۔۔اپنی انگلی کو ماما کی گانڈ میں ان آؤٹ بھی کرتا جا رہا تھا ۔۔ ماما اور خان کا یہ سین دیکھ کر میں تو وہیں پر کھڑے کھڑے بت بن گئی۔۔میری نظریں ماما کی ننگی گانڈ پر گڑھ سی گئیں ۔۔اور ناجانے کیوں میرا بھی دل کر رہا تھا کہ ایسے ہی خان میری گانڈ میں بھی اپنی موٹی انگلی کو اندر باہر کرے۔۔ادھر تھوڑی دیر اندر باہر کروانے کے بعد ماما ایک دم سے سیدھی کھڑی ہو گئی۔
اور خان سے بولی ۔۔ کافی دیر ہو گئی ہے امید ہے اب تک ۔۔اس نے نہا لیا ہو گا۔۔ اس لیئے تم گیٹ پر جاؤ۔
ماما کی بات سن کر مجھے بھی مجھے ہوش آ گیا ۔۔اور میں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ۔۔ چپکے سے واپس آ گئی۔۔اور کمرے میں داخل ہو کر دروازے کو لاک کر دیا۔۔اور کپڑے اتار کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔اس وقت اچانک میری نگاہ اپنی پھدی پر پڑی تو چپ چپا سا پانی نکل کر میری رانوں تک آ گیا تھا۔۔ میں نے اس پانی کو نظر انداز کیا۔۔اور اپنی گانڈ کو اس اینگل سے کر لیا کہ جس سے وہ صاف نظر آئے۔۔ اب میں نے اپنی گانڈ کر غور سے دیکھا۔۔تو میری اور ماما کی گانڈ میں بس اتنا فرق تھا کہ ان کی گانڈ بہت موٹی جبکہ میری گانڈ صرف موٹی تھی۔۔اس کے ساتھ ہی میری نظروں کے سامنے ماما کی دل کش گانڈ گھوم گئی، جس میں خان بڑی مہارت سے اپنی انگلی کو ان آؤٹ کر تا رہا تھا ۔۔خان کی دیکھا دیکھی۔۔ میں نے بھی اپنی درمیان والی انگلی کو اپنے منہ ڈالا اور اسے اچھی طرح تھوک سے گیلا کیا۔۔ پھر تھوڑا سا تھوک اپنی گانڈ کی موری پر لگایا۔۔اور درمیانی انگلی کو اس میں داخل کرنا چاہا۔۔لیکن ماما کے برعکس ۔۔میری موری کافی تنگ تھی۔۔اس لیئے انگلی کو تھوڑی دقت ہو رہی تھی۔۔یہ دیکھ کر میں نے گانڈ کو تھوڑا ڈھیلا کیا ۔۔اور انگلی اندر کر دی۔۔ تھوڑی مشکل پیش آئی۔۔لیکن انگلی اند چلی گئی۔۔جیسے ہی انگلی میری گانڈ میں داخل ہوئی میں نے محسوس کیا کہ اندر سے وہ بہت سافٹ اور گرم تھی۔۔ سو میں نے مستی میں آ کر انگلی کو ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔۔فرینڈز یقین کریں مجھے اس کام میں اتنا مزہ آیا کہ میں کافی دیر تک ایسا کرتی رہی۔۔جس سے مجھے مزہ ملتا رہا یہاں تک کہ میری چوت سے کافی مقدار میں لیس دار پانی نکلا ۔۔جس کی وجہ سے مجھے کافی سکون محسوس ہوا۔۔جیسے ہی میں ٹھنڈی ہوئی مجھے یاد آیا کہ میں نے تو ماما کے ساتھ شاپنگ پر جانا تھا۔نہانے کا ٹائم تو بچا نہیں تھا سو میں سر کے بالوں کو گیلا کیا اور تیار ہو کے ماما کے پاس چلی گئی۔
مجھے اس کام میں اتنا مزہ آیا کہ اس دن کے بعدمیں ہر رات ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی انگلی پر تھوک لگاتی اور گانڈ میں ان آؤٹ کرتی۔۔اس کام میں پہلے پہل تھوڑا درد ہوتا لیکن پھر آہستہ آہستہ۔۔میری گانڈ کھلی ہونا شروع ہو گئی۔۔اور مجھے مزہ ملنا شروع ہو گیا۔
اس طرح کے ایک دو اور واقعات بھی ہیں لیکن طوالت کے ڈر سے صرف یہی واقعہ بیان کرتی ہوں کہ میرے لئے سب سے انسپائیرنگ یہی واقع تھا ۔ ۔اس کام کے ساتھ ساتھ میں سکول کا ہوم ورک اور سٹڈی کو نہیں بھولی تھی ۔۔دونوں کام ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔۔اس بات کو کافی عرصہ بیت گیا۔
ایک دن کی بات ہے کہ ان دنوں ہمارے سکول میں پیپر ہونے والے تھے اور میں نے پیپرز کی تیاری کے لیئے سکول سے چھٹی کی تھی۔ماما اور ڈیڈ آفس چلے گئے تھے۔
گھر میں کام والی ماسی فارغ ہو کر میرے کمرے میں آئیں اور کہنے لگیں۔۔ بیٹا میرا کام ختم ہو گیا ہے اور میں گھر جا رہی ہوں
میں اس سے بولی۔۔۔ ٹھیک ہے ماسی آپ جائیں۔۔ہاں جاتے ہوئے خان بھائی سے بولیں کہ گیٹ کو لاک کر دے۔
اور خود سٹڈی کرنے لگی۔ پڑھتے پڑھتے جب میں بور ہونے لگی تو سوچاکہ کچھ ٹھنڈا پی کر فریش ہوتے ہیں یہ سوچ کر میں اپنے بیڈ سے اُٹھی اور کچن میں چلی گئی جہاں پر فریج پڑی تھی۔۔ وہاں جا کر میں نے فریج کا دروازہ کھول کر دیکھا تو پیپسی موجود نہ تھی۔۔ حالانکہ کہ کل ہی میں نے چار پانچ کین رکھے تھے۔ لیکن اس وقت ایک بھی نہیں پڑا تھا۔
فریج کو خالی دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ ساری پیپسی اسد بھائی پی گئے ہوں گے مجھے غصہ تو بہت آیا۔اگر اس وقت اسد بھائی سامنے ہوتے تو آج پھر ایک زور دار لڑائی ہو جانی تھی۔ لیکن افسوس کہ وہ کالج گئے ہوئے تھے۔اس وقت میرا موڈ پیپسی پر آیا ہوا تھا۔ اس لیئے میں نے سوچا کہ خان بھائی سے کہتی ہوں کہ وہ بازار سے مجھے پیپسی لا دے یہ سوچ کر میں نے اپنے پرس سے پیسے لیئے اور سرونٹ کوارٹر کی طر ف چل پڑی۔خان کا دروازہ کھلا ہوا تھا ، سو میں بے تکلفی سے اندر داخل ہو گئی۔۔ جیسے ہی میں دروازے سے اندر داخل ہوئی۔۔ تو میں یہ دیکھا کہ خان بھائی بیڈ کے کنارے پر بیٹھا تھا اس کا ایک ہاتھ شلوار کے اندر تھا ۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں۔۔اور وہ اپنے اس ہاتھ کو بڑی تیزی سے اوپر نیچے کر رہا تھا۔اس وقت مجھے ان چیزوں کا اتنا زیادہ پتہ نہیں تھا۔اس لیئے خان کو ہاتھ ہلاتے دیکھ کر میں بڑی حیران ہوئی اور اس سے کہنے لگی۔
میں ۔۔۔ خان بھائی کیا ہوا؟
میری آواز سن کر وہ ایک دم سے چونک پڑا ۔۔اور اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔اور پھر مجھے اپنے کمرے میں دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے وہ نروس سا ہو گیا۔۔لیکن اگلے ہی لمحے وہ سنبھل گیا۔
نارمل آواز میں بولا۔۔۔ کچھ نہیں رانی جی۔۔آپ بتاؤ کیسے آنا ہوا۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
تب میں اس کی طر ف پیسے بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔ خان بھائی پلیز مجھے ٹھنڈی پیپسی لا دیں بڑی سخت پیاس لگی ہوئی ہے۔
اس کو پیسے دے کر میں واپس اپنے کمرے میں آ گئی۔۔ہمارے گھر سے مارکیٹ کا فاصلہ اتنا زیادہ نہ تھا سو تھوڑی ہی دیر میں خان بھائی۔۔۔پیپسی لے کر آ گئے۔۔یہاں میں ایک بات بتا دوں کہ میری شروع سے ہی عادت ہے کہ میں سرھانے کے اوپر کتاب رکھتی ہوں اور خود الٹی لیٹ کر پڑھتی ہوں ۔اس دن بھی جب خان بھائی میرے کمرے میں آیا تو حسب عادت میں نیم ڈوگی سٹائل میں لیٹی۔۔ کتاب پڑھ رہی تھی۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عام طور پر میں گھر میں فٹنگ ٹراؤزر اور شرٹ پہنتی ہو۔۔اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میری گانڈ جو پہلے ہی کافی موٹی ہے ٹائیٹ ٹراؤزر میں بہت ہی نمایاں ہو جاتی ہے۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ میں الٹی لیٹ کر پڑھنے میں مگن تھی کہ اتنے میں خان بھائی ٹھنڈی بوتل لے آیا۔۔اس کے ہاتھ میں بوتل دیکھ کر میں اس سے بولی۔
میں ۔۔۔خان بھائی بوتل ٹیبل پر رکھ کر آپ چلے جاؤ ۔
اتنا کہہ کر میں پھر پڑھنے میں مگن ہو گئی۔۔کچھ دیر کے بعد مجھےایسا محسوس ہوا کہ جیسے خان بھائی ابھی تک نہیں گیا ۔۔بلکہ وہیں کھڑا ہے۔۔ سو میں نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔تو وہ یک ٹک مجھے ہی دیکھے جا رہا تھا۔
یہ دیکھ کر میں اس سے بولی ۔۔۔کیا بات ہے بھائی آپ ابھی تک گئے نہیں؟
میری بات سن کر وہ چپ رہا۔۔ اور میرے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔
یہ دیکھ کر میں تشویش سے بولی۔۔۔خیر تو ہے بھائی؟
لیکن وہ کچھ نہیں بولا اور اچانک اس نے اپنا ہاتھ میری گانڈ پر رکھ دیا۔۔جیسے ہی اس نے اپنے ہاتھ کو میری گانڈ پر رکھا میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اور آنکھیں لال انگارہ ہو رہیں تھیں۔۔ وہ مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا اس کی یہ حالت دیکھ کر میں اندر سے ڈر گئی ۔
لیکن بظاہر سخت لہجے میں بولی۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟اپنے ہاتھ کو یہاں سے ہٹاؤ۔
لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تب میں غصے سے بولی ۔۔۔تم کو سنائی نہیں دے رہا ۔۔ اپنے ہاتھ کو یہاں سے ہٹاؤ ۔۔ورنہ ڈیڈ سے تمہاری شکایت کر دوں گی۔
میری اس بات کو بھی اس نے سنا ان سنا کر دیا۔۔یہ دیکھ کر مجھے اور بھی غصہ آ گیا اور میں نے اس کا پکڑ کر تیزی سے جھٹک دیا۔اور اسے گالی دیتے ہوئے بولی
میں۔۔۔ بدتمیز آدمی آ لینے دو ڈیڈی کو میں تم کو نوکری سے نکلوا دوں گی۔
میری بات سن کر اچانک ہی وہ غصے میں آ گیا۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے نیفے سے پستول نکال لیا۔۔ اس کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر میری تو جان ہی نکل گئی۔
اس لیئے میں اس سے بولی ۔۔۔بھائی پلیز آپ جاؤ یہاں سے۔۔ورنہ۔۔
ابھی میں نے اتنی ہی بات کی تھی کہ وہ پستول لہراتے ہوئے خوف ناک لہجے میں بولا۔۔۔خبردار۔۔اگر بولی تو۔۔ جان سے مار دوں گا۔
خان کا خوفناک لہجہ اور دھمکی سن کر میں بری طرح ڈر گئی۔اور کانپنا شروع ہو گئی۔
مجھے کانپتے دیکھ کر وہ تھوڑا نرمی سے بولا۔۔۔ اگر تم میرا کہنا مانتی رہی تو کچھ نہیں کہوں گا ۔۔ورنہ۔۔ تم جانتی ہو کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔
اس پر میں تھر تھر کاپنتے ہوئے بولی۔۔۔ مجھے نہ مارنا پلیز تم جو کہو گے میں وہی کروں گی۔
میری بات سن کر وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔ یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔
اتنا کہہ کر اس نے جلدی سے اپنی قمیض اتاری ۔۔قمیض اتارتے ہی میری نظر اس کی شلوار کی طرف گئی اور دیکھا۔۔ اس کی شلوار آگے سے تنمبو بنی ہوئی تھی ۔۔ اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں ایک موٹا لمبا سا ہتھیار اکڑا کھڑا تھا۔۔مجھے اپنے لن کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور اپنے اکڑے ہوئے ہتھیار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
خان۔۔۔اس کو پکڑو۔۔
پہلے تو میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔۔پھر جب اس کے مسلسل کہنے پر بھی جب میں نے اپنا ہاتھ اس کے اکڑے ہوئے ہتھیار کی طرف نہیں بڑھایا۔
تو وہ غصے سے بولا۔۔۔ پکڑ اسے۔۔
اس کے ساتھ ہی اس نے میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنے لنڈ پر رکھ دیا۔۔سو میں نے اس کے بڑے سے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔اس نے کچھ دیر تک لن کو پکڑائے رکھا اس دوران اسنے اپنی شلوار کا آزار بند کھولا اور شلوار اتار دی۔۔اب میری نظر اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ چلی گئی۔۔دیکھا تو اس کی ٹانگوں کے بیچوں و بیچ ۔۔ایک سرخ و سپید ۔۔ موٹا اور لمبا ہتھیار۔۔ بڑی شان سے اکڑا کھڑا تھا۔۔حیرت کی بات ہے کہ اس کے لنڈ کو دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا۔۔لیکن بظاہر میں کچھ نہ بولی۔
اب وہ آگے بڑھا اور بولا۔۔۔ پکڑو۔
اور میں نے بلا چوں و چرا اس کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔
اُفففففف اس کا لنڈ کسی پتھر کی مانند بہت ہی سخت تھا۔
اس کے بعد وہ بولا۔۔۔ لنڈ کو دباؤ۔
اور میں نے اس کے لنڈ کو دبانا شروع کر دیا۔
تب وہ بولا۔۔۔ تھوڑا زور سے دباؤ ۔
تو میں اور بھی زور سے دبانا شروع ہو گئی۔
کچھ دیر بعد وہ بولا۔۔۔ بس اب تم اپنا پاجامہ اتارو۔
یہ سن کر میں اس سے بولی۔۔۔ خان بھائی پلیز ایسا نہ کرو۔
اور رونا شروع ہو گئی تب وہ غصے سے گالی دیتے ہوئے بولا۔۔۔ چپ گشتی۔۔ اتارتی ہو یا۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اس وقت میں بہت ڈری ہوئی تھی۔۔ سو اس کی دھمکی سن کر میں نے جلدی سے اپنا ٹراؤزر اتارد دیا۔اور پھر شرٹ بھی اتار دی۔۔پھر اس کے کہنے پر برا بھی اتاری ۔۔اب میں اس کے سامنے فل ننگی کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔
مجھے ننگا دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور میری چھاتیوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔ سالی تمہاری چھاتیاں بہت خوبصورت ہیں ۔
اور پھر ان کو دبانا شروع ہو گیا۔۔جیسے ہی اس کےموٹے اور کھردرے ہاتھوں میں میری چھاتیاں آئیں پتہ نہیں کیسے میں کانپنا بند ہو گئی۔۔اس کے ساتھ ہی مجھے اپنی ننگی چھاتیوں پر اس کے ہاتھوں کا لمس کچھ عجیب سا لگا ، لیکن میں کچھ نہ بولی۔۔ کچھ دیر چھاتیاں دبانے کے بعد اس نے میرے نپلز کو چوسنا شروع کردیا۔
اٗفففف فف ۔۔۔ اس کے نپلز چوسنے کا عمل اتنا سیکسی تھا۔۔ کہ میں نا چاہتے ہوئے بھی سسک اُٹھی۔
میرے منہ سے سسکی سن کر اس نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا۔
اور پھر کہنے لگا۔۔۔مزہ آ رہا ہے؟
لیکن میں کچھ نہ بولی۔۔ تو وہ پھر سے چھاتیاں چھوسنا شروع ہو گیا۔۔پھر کچھ دیر بعد اپنے منہ سے میرا تنا ہوا نپل نکال کر بولا۔
خان۔۔۔ اب گھوم جاؤ۔
میں بنا کوئی بات کئے اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئی۔۔ یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور اس نے پیچھے سے مجھے ہگ کر دیا۔۔اسکا ہگ اس قدر ٹائیٹ تھا ۔۔کہ مجھے اپنی گانڈ کی دراڑ میں اس کا موٹا لنڈ چھبتا ہوا محسوس ہوا۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے میری گردن پر کسنگ شروع کر دی۔۔اس کسنگ سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ میں ہلکا ہلکا کراہنا شروع ہو گئی۔
گردن پر کسنگ کرنے کے بعد وہ مجھ سے بولا۔۔۔ دونوں ہاتھ پلنگ پر رکھ کر جھک جاؤ۔
اس کے ایسا کہنے سے اچانک ہی مجھے ماما والا سین یاد آ گیا۔۔اس دن ماما بھی دونوں ہاتھ پلنگ پر رکھ کر اس کے سامنے گھوڑی بنی تھی ۔۔یہ منظر یاد آتے ہی میرے من میں ہلچل سی مچ گئی۔۔اور میں نے چپ چاپاپنے دونوں ہاتھ پلنگ کے کنارے پر رکھے اور گانڈ کو پیچھے نکال کربلکل ماما کے سٹائل میں ڈوگی بن گئی۔۔ وہ آگے بڑھا اور میری گانڈ پر کسنگ شروع کر دی۔۔ یہ پہلی دفعہ تھی کہ کسی نے میری گانڈ کو چوما تھا۔۔سو اس کے ہونٹؤں کے لمس سے میرے جسم کے سارے رونگھٹے کھڑے ہوگئے ۔۔وہ ہولے ہولے میری گانڈ کو چومتا جا رہا تھا۔۔جس کی وجہ سےمجھے اپنی ننگی گانڈ پر اس کے ہونٹوں کا لمس بہت اچھا لگنے لگا۔۔کسنگ کرتے کرتے کچھ دیر بعد اس نے دونوں انگلیوں کی مدد سے میری گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو سائیڈ پر کیا۔۔ اور گانڈ کے سوراخ پر تھوک دیا۔۔ مجھے اپنی موری پر اس کا تھوک پھینکنا بہت اچھا لگا ۔۔جبکہ وہ اس تھوک کو میرے سوراخ پر مالش کرنے لگا جب میری گانڈ پوری طرح چکنی اور گیلی ہو گئی۔۔تو اس نے ایک دفعہ اور میری گانڈ پر تھوکا۔۔اور اس کے ساتھ ہی انگلی کا مساج کرتے کرتے اس انگلی کو میری گانڈ میں داخل کر دیا۔
اُفففففففف ۔۔اس کی انگلی کے مساج سے میری گانڈ کے اندر ایک عجیب سی گدگدی ہونا شروع ہو گئی۔
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں بھی تقریباً روز ہی اپنی گانڈ میں انگلی کرتی تھی۔۔جس سے مجھے مزہ بھی ملتا تھا لیکن ۔۔یہ مزہ۔۔اُففففففف ۔۔ یہ مزہ تو کچھ اور طرح کا اعلیٰ اور رچ قسم کا تھا۔۔ اس مزے کی وجہ سے۔۔ میری چوت سے چپ چپا سا پانی بھی نکلنا شروع ہو گیا۔۔لیکن اس نے میری کنواری پھدی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔۔اور بدستور میری گانڈ میں ہی انگلی اندر باہر کرتا رہا۔۔جب اس کے اندازے کے مطابق میری گانڈکا سوراخ استعمال کے قابل ہو گیا تو وہ اوپر اُٹھا۔۔اور میرے منہ کے پاس اپنے لنڈ کو لے آیا۔
خان بولا ۔۔۔اس پر تھوک پھینکو۔
میں نے اپنے منہ میں ڈھیر سارا تھوک جمع کیا اور اس کے لن پر پھینک دیا
تو وہ بولا ۔۔۔اب اس تھوک کو سارے لن پر مل دو ۔
سو میں نے ایسا ہی کیا۔۔جب اس کا لن اچھی طرح چکنا ہو گیا تو وہ میرے پیچھے آیا اس نے ایک دفعہ پھر میری موری پر تھوکا۔۔اور اپنے ٹوپے کو میری موری پر رکھ دیا۔۔۔اپنی موری پر موٹے سے ٹوپے کو محسوس کرتے ہی میرے اندر ایک عجیب سی مستی چھا گئی۔۔اور میرا دل کیا کہ اب یہ میرے اندر ڈال دے۔۔ لیکن اس نے فورا! ایسا نہیں کیا۔۔ بلکہ وہ اپنے لن کے ٹوپے کو میری موری پر اوپر نیچے کرتے ہوئے رگڑنے لگا۔۔کچھ دیر ایسا کرنے کے بعد اس نے ٹوپے پر ہلکا سا دباؤ ڈالا۔۔ اور اس کا ٹوپا پھسل کر میری موری کے اندر چلا گیا۔۔جیسے ہی اس کا ٹوپا میرے اندر گیا۔۔مجھے بہت درد محسوس ہوا۔
اور میں درد سے کراہتے ہوئے بولی۔۔۔ بھائی مجھے درد ہو رہا ہے۔
تو وہ میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے بولا۔۔۔ تھوڑا سا درد ہو گا۔۔ برداشت کرو۔
ٹوپا اندر کرنے کے بعد۔۔اس نے تھوڑا سا قفہ لیا۔۔اور ہلکے ہلکے لن کو ہلاتا رہا۔۔جب اس کا لنڈ میری گانڈ میں جگہ بنا چکا۔۔تب پھر اچانک ہی اس نے ایک زور دار۔۔ دھکا لگایا۔۔جس سے اس کا لن سنسناتا ہوا میری گانڈ کے اندر چلا گیا۔
لنڈ اندر جاتے ہی بے اختیار میرے منہ سے ایک ذبردست چیخ نکل گئی۔۔۔اوئی ماں۔۔آہہہہہہہہہ۔۔میں مرگئی۔۔آہہہہہہہہہہ۔
موٹا تازہ لن پورا اندر جانے سے میری تنگ گانڈ کے ٹشوز کو کافی نقصان پہنچا ۔۔مجھے ایسا لگا کہ کہ جیسے کسی نے میری گانڈ میں بہت سی مرچیں بھر دیں ہوں ۔۔اس کے ساتھ ہی درد کی شدید لہر آئی جسے میں برداشت نہ کر سکی سو میں نے بڑی اونچی آواز میں چیخنا شروع کر دیا۔۔لیکن اس ظالم نے میری چیخوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور میری گانڈ کو چودنا جاری رکھا۔
کافی دیر تک وہ اپنے لنڈکو میری گانڈ میں ان آؤٹ کرتا رہا۔۔گھسے مارتے مارتے اچانک ہی خان نےگہرے گہرے سانس لینا شروع کر دیئے اور پھر اگلے ہی لمحے اس کے دھکوں کی سپیڈ تیز ہو گئی۔
اور تیزززززززززززززز۔۔اور تیززززز۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی گانڈ میں کافی گرم پانی گرتا ہوا محسوس کیا جیسے جیسے پانی گرتا جاتا۔۔خان کے دھکوں کی رفتار میں کمی آتی جاتی۔ ۔آخرِ کار اس کے لنڈ نے اپنی ساری منی میری گانڈ میں چھوڑ دی۔۔تب اس نے میری گانڈ سے لن نکالا اور میں نے دیکھا کہ اس کے لن پر کافی خون لگا ہوا تھا یہ خون میری گانڈ کے پھٹنے سے نکلا تھا۔۔میں نے انگلی لگا کر گانڈ کو چیک کیا تو اس میں سے کافی خون نکل رہا تھا۔
میری بنڈ مارنے کے بعد ۔۔خان نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔۔اور بڑے ہی خوف ناک لہجے میں بولا۔۔۔ دیکھ رانی۔۔ اگر کسی کو کچھ بتایا تو ۔۔ میری تو صرف نوکری جائے گی جبکہ۔۔۔پھرتھوڑا وقفہ دے کر اس نے پاس رکھا ہوا پستول اُٹھایا اور اسے لہراتے ہوئے بولا۔۔۔لیکن میں تمہیں گولی مار دوں گا۔
اس کی دھمکی سن کر میں کانپ گئی اور جلدی سے بولی۔۔۔ پرامس خان بھائی میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔
اس کی چدائی سے میری گانڈ چر گئی تھی اور مجھے بہت درد ہورہا تھا۔۔ حقیقت یہ ہے کہ میں کافی خوف زدہ ہوگئی تھی۔۔اس لیئے میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔۔خان کی دھمکی سے ڈر کر اور کچھ یہ سوچ کر کہ میری کس نے سننی ہے کہ ماما پہلے ہی اس کے ساتھ سیٹ تھیں۔
میں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا کسی کے ساتھ بھی تزکرہ نہیں کیا ۔۔سوائے کرن کے۔۔اسے بھی میں نے ایسے ہی نہیں بتایا۔۔بلکہ بتانا پڑا تھا۔
بہتر ہو گا کہ میں آپ سے کرن کا تعارت کروا دوں۔
کرن۔۔ میری بہت ہی گہری دوست ہونے کے ساتھ ساتھ میری کزن بھی تھی۔۔وہ ایک خوبصورت اور پرکشش لڑکی تھی ۔۔ میں اپنا فری ٹائم اسی کے ساتھ بتانا پسند کرتی تھی ۔۔وہ بھی میرے ساتھ بہت پیار کرتی ہے۔۔اس کے باوجود کہ وہ مجھ سے 4/5 سال بڑی ہے لیکن ہم دونوں میں تکلف والی کوئی بات نہیں ہے بلکہ کرن شاید دنیا کی واحد لڑکی تھی کہ جو میرے ساتھ ہر طرح کی گفتگو کر لیتی تھی۔۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ہم ایک دوسرے کے سامنے لباس بھی تبدیل کر لیتی تھیں۔۔ہمسائی ہونے کی وجہ سے ہمارا ایک دوسرے کے گھر بہت آنا جانا تھا۔۔کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ گپ شپ میں رات زیادہ ہو جاتی تو ۔۔ میں اس کے اور وہ میرے گھر رک جایا کرتی جاتی تھی ۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ میں نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کو کرن کے ساتھ مجبوری کی وجہ سے شئیر کیا۔۔ہوا کچھ یوں ۔۔
کہ اسی دن (مطلب وقوعہ والے دن) شام کی بات ہے کہ وہ میرے گھر آئی ۔۔ اس وقت چونکہ میرے ساتھ تازہ تازہ حادثہ پیش ہوا تھا ۔۔ اس لیئے مجھے اپنے پچھواڑے میں بہت پین ہو رہی تھی۔۔ تو جناب جیسے ہی کرن میرے کمرے میں داخل ہوئی تو میں اسے گلے لگانے کے لیئے آگے بڑھی ۔۔تو عین اسی وقت میری زخمی گانڈ میں ایک ٹیس سی اُٹھی ۔۔ جس کی وجہ سے خود بخود ہی میرے منہ سے اونچی آواز میں ایک درد بھری کراہ نکل گئی۔۔جسے سن کر وہ چونک اٹھی۔۔اور مجھ سے اس کراہ کے بارے میں سوال کیا ۔۔چونکہ میرے من میں چور تھا اس لیئے میں نے آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کر دیا۔
اس پر جاسوس طبعیت کرن کہنے لگی۔۔۔ مطلب دال میں کچھ کالا ہے۔۔؟
تو میں اس سے بولی۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں یار ۔۔ کہانا کہ میں باتھ روم میں پھسل گئی تھی۔
تو وہ آنکھیں نکالتی ہوئی بولی۔۔۔لیکن ابھی کچھ دیر پہلے تو آپ فرما رہی تھیں کہ آپ کچن میں سلپ ہوئیں تھیں۔
اس کی بات سن کر جیسے ہی میں کرسی پر بیٹھنے لگی تو اعین اسی وقت پھر میری گانڈ میں ایک زوردار ٹیس اُٹھی۔۔اور میرے منہ سے ایک بار پھر ہلکی سی چیخ نکل گئی۔۔ یہ دیکھ کر کرن میرے پاس آ گئی۔۔اور بڑی ہی سیریس ہو کر بولی۔۔۔ سچ سچ بتا ۔۔بات کیا ہے ؟؟؟؟
پہلے تو میں نے اسے ٹالنے کی بڑی کوشش کی لیکن جب وہ کسی طور نہ مانی تو۔۔ تب میں نے اسے دن کو ہونے والے سارے واقعہ کی تفصیل بتا دی۔
میرا خیال تھا کہ میرے ساتھ ہونے والی زبردستی ۔۔کا واقعہ سن کر وہ غصے میں آ جائے گی۔۔لیکن اس کے برعکس وہ میرے ساتھ ہونے والے حادثے کے بارے میں۔۔ سنتے ہی کافی ایکسائیٹڈ ہو گئی۔۔اور میری داستان کو بڑھے دھیان سے سننے لگی۔۔ بلکہ سٹوری کے بیچ بیج میں وہ بڑے ہی متجسس لہجے میں سوالات بھی کرتی رہی جیسے کہ
کرن۔۔۔ اچھا یہ بتا اس کا لن کیسا تھا؟
میں نے اس سے کہا : خاصہ موٹا اور لمبا تھا ۔
میرا جواب سن کر اس کے منہ سے تحیر آمیز سیٹی کی آواز نکلی اور وہ کہنے لگی۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔ آمیزنگ یار۔
تو میں جل کر بولی ۔۔۔ میری گانڈ پھٹ گئی ہے ۔۔اور تم کو آمیزنگ کی پڑی ہے
تو وہ میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے بولی۔۔۔ اچھا یہ بتا ۔۔ لنڈ کا ہیڈ کیسا تھا ؟
تو میں حیرت سے بولی۔۔۔ میری گانڈ کی حالت دیکھ کر خود ہی اندازہ لگا لو۔
میری بات سن کر وہ فورا! اٹھی ۔۔اور دروازے کو لاک کر کے واپس آ گئی۔
پھر مجھے کھڑے ہونے کا اشارے کرتے ہوئے بولی۔۔۔ ٹراؤزر اتار ۔
چونکہ اس سے پہلے بھی ہم ایک دوسری کے سامنے کپڑے تبدیل کرتی رہیں ہیں ۔۔اس لیئے میں نے بلا چوں و چرا کیئے ٹراؤزر نیچے کر دیا۔
اب اس نےمیری کمر پر ہاتھ مارا اور کہنے لگی۔۔۔ زرا جھک جا۔
اور میں نیچے کی طرف جھک گئی اب اس نے میری گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو کھولا۔۔اور اس کے سوراخ کا جائزہ لیتے ہوئے بولی۔
کرن۔۔۔اوہ شٹ۔۔تیری گانڈ تو کافی پھٹی ہوئی ہے۔
پھر غور سے دیکھنے کے بعد کہنے لگی۔۔۔ بےدردی سے گھسے مارنے کی وجہ سے ٹشوزکو کافی نقصان پہنچا ہے ۔
پھر مزید معائینہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔ اس کے موٹے لنڈ کی وجہ سے آؤٹ سرکل کی لکیریں بھی چیر گئیں ہیں۔
پھر مزے لیتے ہوئے بولی۔۔۔ویسے اس حرامی نے بڑی بے دردی سے تمہیں چودا ہے۔
اس کے ساتھ ہی میرے ہپس پر ہلکا سا ہاتھ مار کر کہنے لگی۔۔۔اینی ہو۔۔ جان جی فکر کی کوئی بات نہیں ۔۔شروع شروع میں ایسا ہو جاتا ہے ۔
اس پر میں نے گردن پیچھے کی طرف موڑی اور کرن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ تمہیں کیسے پتہ ؟
میری بات سن کر وہ ہنسنے لگی۔۔ پھر دھیرے سے بولی ۔۔۔ساری لڑکیاں تمہاری طرح ستی ساوتری تھوڑی ہوتی ہیں۔
اس پر میں چونک کر بولی۔۔۔اوہ کرن کیا تم نے کبھی سیکس کیا ہے؟
تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ کم ان یارررررررر۔۔ ہم نے تو نہ صرف کھل کر سیکس کیا ہے۔۔ بلکہ سیکس کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
اس پر میں حیرت سے بولی۔۔۔ لیکن تم نے تو کبھی اس کا ذکر نہیں کیا؟
اس پر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔چونکہ تم ایک پڑھاکو اور شریف قسم کی بچی ہو۔۔اور تم کو اس کام میں انٹرسٹ بھی نہیں تھا۔۔ اس لیئے ہم شریف بچیوں کے ساتھ ایسی باتیں نہیں کرتے ۔
ایسا کہتے ہوئے وہ میری بنڈ کو چومتے ہوئے بولی۔۔۔ ویسے تمہاری گانڈ ہے بڑی شاندار ۔
اتنا کہہ کر اس نے ایک دفعہ پھر گانڈ کو چوما اور اس کے ساتھ ساتھ ہاتھ بڑھا کر میری پھدی پر بھی ہاتھ پھیر دیا۔
جیسے ہی اس کے ہاتھ نے میری چوت کو چھوا۔۔ مجھے بڑا عجیب سا لگا۔۔ لیکن میں کچھ نہ بولی ۔۔دوسری بار پھرسے میری پھدی پر ہاتھ پھیرتے ہی۔۔اس نے میرے ٹراؤزر کو اوپر کردیا۔
اور مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔اچھا یہ بتا ۔۔ اس نے تمہیں کتنی دیر تک لن چسوایا؟
تو میں جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔ایک بار بھی نہیں ۔