br>

اور گھبراہٹ کے مارے عالیہ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ اسکی کھلتی ھوئی ھنسی۔۔۔۔ نے مجھے بھت کچھ کہ دیا۔۔۔۔ میں بولا عالیہ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا کر دیا آپ نے۔۔۔۔۔ سارا ٹراوزر بھیگ گیا۔۔۔۔۔ عالیہ بولی۔۔۔۔ تم بول جو نہیں رہے تھے۔۔۔۔۔ لنڈ نے ٹراوزر میں سے پھر سر اٹھانے لگا تھا۔۔۔۔ میں ہکلا یا۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ میں نہیں بولا۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ وہی کہ اس دن تم اوپر چھت پر کیا کر رہے تھے۔۔۔۔۔ عالیہ نے کن آکھیوں سے میرے لنڈ والے جگہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ کاٹن ٹراوزر میں لنڈ کی موٹائیی لمبائیی۔۔۔۔ نظر آرہی تھی۔۔۔۔ میں نے اسی لمحے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔ میں بولا۔۔۔ بتایا تو تھا آپکو۔۔۔ کہ کرکٹ کھیل رھے تھے۔۔۔۔ لیکن آپ مان نہیں رہی ہیں۔۔۔۔ اس طرح کوئی دوستوں پر شک کرتے ھیں۔۔۔ کیا۔۔۔ بولتے ہوے میں نزدیک ہوا اور پانی والے پائیپ کو کھنچے لگا۔۔۔ عالیہ نے بھی زور لگایا۔۔۔ اس کشتی میں اسکے اور شرٹ بھیگ گئی۔۔ وہ اور میں ہنس پڑے۔۔۔۔ لیکن وہ اور میں پائیپ چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھے۔۔۔۔ پانی سے اس کے میرے کپڑے بھیگ رہے تھے۔۔۔۔ اسی دوران میں نے پائیپ کو کھینچا تو عالیہ بھی کھچتی ہوئیی پاس چلی آئیی۔۔۔۔ اور آکر سینے سے لگ گئی۔۔۔۔ میرا لنڈ اب اسکی پھدی کے اوپر لگ رھا تھا۔۔۔۔ اور اسکے ممے میرے سینے میں دب رھے تھے۔۔۔ میرا لنڈ لوہے کی طرح سخت ہو رھا تھا۔۔ پائیپ سے بہنے والا پانی ہم رونوں کو بھگو رھا تھا۔۔۔ میں بولا عالیہ پائیپ چھوڑ دو۔۔۔ کپڑے بھیگ جائییں گے۔۔۔۔ عالیہ میرا کھڑا لنڈ اپنی پھدی کے نازک لبوں پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ آہ۔۔۔ تابی۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔۔ تم چھوڑ دو۔۔۔۔ میں تو نہیں چھوڑ رہی۔۔۔۔ اور پھدی کا دباؤ لنڈ پر بڑھا دیا۔۔۔۔۔ لنڈ پر دباؤ محسوس ہوتے ہی۔۔۔ میں نے پائیپ چھوڑ کر عالیہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے گیلے جسم کو اپنے جسم میں پیوست کرنے لگا۔۔۔ جس سے لنڈ نازک پھدی کے لبوں پر جا لگا۔۔۔ عالیہ کے منہ سے آہ۔۔۔۔ نکلی میرا نام لینے ہی لگی تھی۔۔۔۔ کہ پانی سے بھیگے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوسنے لگا۔۔۔۔ ممم آہہہہہ۔۔۔۔۔ عالیہ کی کھلی آنکھوں میں حیرت اور شرم کے ملے جلے تاثر تھے۔۔۔۔ جو ہوس کے شعلے میں بجھنے لگے تھے۔۔۔۔۔۔ وہ کسمسائی۔۔۔۔۔ لیکن اسکے ہلنے سے لنڈ پر پھدی کی رگڑ لگتی اور وہ مدہوش سی ہوتے اپنا آپ میرے وجود کو سوپنے لگی۔۔۔۔۔ میں یہ محسوس کرتے ہوے۔۔۔۔۔ فوراً الگ ہوا۔۔۔۔ اور اسکے لبوں کو چھوڑ کر۔۔۔۔ اسکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوما۔۔۔۔۔ اسکا کمزور سا بدن اس لمحے کو برداشت نہ کر سکا۔۔۔ کہ وہ جھٹکا کھاتی میرے سینے سے لگی اور پھدی کو زور سے لنڈ پر دباؤ بڑھانے لگی۔۔۔۔ میں رکا۔۔۔ اور اس سے بولا۔۔۔۔۔ عالیہ۔۔۔۔ اندر چلیں۔۔۔۔۔
عالیہ۔۔۔۔ نے مسکرا کر رضا مندی سے سر ہلا تے ہو ے اپنا گیلا جسم میرے جسم۔ میں پیوست کر دیا۔۔۔۔۔ ہم دونوں کے کپڑے گیلے ہوچکے تھے۔۔۔۔ اندر جا کر بیڈ روم میں میں نے عالیہ کے ہونٹوں کو ہونٹوں میں لیکر چوسنے لگا۔۔۔۔ ممم اور اسکے گیلے بدن پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکا جسم بلکل کسی کم سن جیسی لڑکی کی طرح تھا۔۔۔ وہ بھی اب ہونٹ چوسنے میں میرا ساتھ دینے لگی تھی۔۔۔۔ اسکی منہ میں زبان داخل کی تو اسکے منہ کی مٹھاس کا زائیقہ نے لنڈ کی اٹھان بڑھا دی میں نے اب اسکی قمیض میں ھاتھ ڈال کر مموں کو دبانے اور سہلانے لگا۔۔۔۔ تھا ساتھ ساتھ کبھی اسکے ہونٹ چوستا تو کبھی اسکے۔۔۔۔۔ زبان کا رس اپنے منہ میں منتقل کرتا۔۔۔۔۔ عالیہ تھوڑا اٹھو۔۔۔۔ پلیز قمیض سے بیڈ گیلا ھو رہا ہے۔۔۔۔۔ میں بولا۔۔۔ عالیہ نے جواب دیا۔۔۔ اچھا رکو پہلے لائییٹ بند کر کے آو۔۔۔ میں آٹھ کر اس کے اوپر سے لائیٹ کا بٹن آف کر کے کھڑکی کے آگے پردے بھی کر دیے۔۔۔۔ کمرے کے اندھیرے سے فائیدہ اٹھاتے ہوئیے میں نے اپنا ٹراوزر بھی اتار دیا اور قمیض بھی۔۔۔۔ مکمل ننگَ ہو کر اسکے نزدیک بیڈ پر پہنچا اب ایک اور کنواری پھدی میرے لنسے مسخر ہونے کے لیے سامنے تھی۔۔۔۔ لنڈ جب گیلے ٹراوزر سے آزاد ہوا تو۔۔۔۔ جوب پھول کر لمبائیی اور موٹائیی میں اپنے جوبن پر آیا۔۔ ادھربیڈ پر عالیہ اپنی قمیض اتار چکی تھی۔۔۔۔ ہوس کی آگ میں وہ بھی جل رہی تھی۔۔۔۔ میں بیڈ پر جب اسکے پاس آیا۔۔۔ میرا ننگا بدن سے وہ یک دم گھبرائیی۔۔۔۔ اور بولی تابی تم نے سارے کپڑے اتار دئییے۔۔۔۔۔ ہاں میں نے جواب دیتے ہوے اسکے مموں کو تھام کر مسلنے لگا۔۔۔۔۔ مجھے الھجن ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ گیلے کپڑوں سے تب تک وہ خشک ہوجائیے گے۔۔۔۔۔۔ اسکا نپل جھک کر منہ میں لیا۔۔۔۔ تو عالیہ کے منہ سے آہ نکلی۔۔۔۔۔ اور مموں پر لگے پانی سے میں اپنی پیاس بجھانے لگا۔۔۔۔ نپلوں کے سائیڈ پر دانوں پر۔۔۔۔ زبان کی نوک پھیری۔۔۔۔ کبھی نپلون کی نوک پر زبان لگاتا اس نشہ میں گم عالیہ کو احساس نہ ہوا اور اپنے ننگے جسم سے اسکے جسم کو بیڈ کے گدے میں دبانے لگا۔۔۔۔۔۔ اس نے میرے لنڈ کی لمبائیی اور موٹائیی کو محسوس کرنے کے لیے اپنی ٹانگیں کھول دی۔۔۔۔۔ میں اسکے مموں کو اب چوستا اور دوسرے کو مسلتا ہوا لنڈ کا دباؤ پھدی پر بڑھاتا۔۔۔۔۔ عالیہ۔۔۔ تابی آف۔۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔۔ تم کدھر تھے ابتک۔۔۔۔ تمہیں کتنا پسند کرتی تھی میں۔۔۔۔ لیکن آہ تم میری طرف دیکھتے بھی نہیں تھے سسسسسسس آہ۔۔۔۔ ہہہہ۔۔۔۔۔ اب دونوں ہاتھوں کو مموں پر رکھتے ہوے۔۔۔۔ اب اسکی ناف تک آیا اور پیٹ کو چومتے ہوے۔۔۔۔ اسکا ناف کے سوارخ میں زبان سہلائی۔۔۔۔۔ اسنے کمر اٹھا کر اپنی ناف کو میری زبان کے سامنے کیا۔۔۔۔ تو فوراً میں نے مموں کو مسلا تو وہ چلا کر۔۔۔۔ تابی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی کمر نیچے کر دی۔۔۔۔۔ تابی آرام سے آہ درد ہو رھا ھے۔۔۔۔۔ اوہ سوری مجھے پتہ نہیں لگا۔۔۔۔۔ اور میں نے آگے بڑھ کر اسکا نپل منہ میں لیکر چوسا اور لنڈ سے پھدی کا مساج کرنے لگا۔۔۔۔ نازک لبوں والی۔۔۔۔ چھوٹی سی پھدی جب سخت لنڈ سے مسلتی تو آنکھوں کو بند کرتے ھوے مزہ میں اپنا سر ادھر ادھر کرتی۔۔۔۔۔ مموں کو پھر سے سہلانے کے لیے ھاتھوں میں لیا مسلا اور اسکی گردن کو چوما۔۔۔۔ اپنی زبان اسکے گردن سے گھماتے ہوے۔۔۔ اسکےکان کے پیچھے لایا۔۔۔۔۔ ایک ھاتھ نیچے کر کے اسکی شلوار کی لاسٹک میں انگلی پھنسائی۔۔۔۔۔ کان کی لو کو منہ میں لیکر چوسنے لگا اور اسکا ممہ میری کبھی مسلا جاتا تو کبھی نپل کو کھینچتا۔۔۔۔۔ وہ اس دوہرے حملے سے بےچین ہوتی۔۔۔۔ اپنا سر کبھی دائییں کبھی بائییں کو گھماتی اسکی شلوار نیچے اترتے ہوے اسکے کہولوں تک پھنسی تو اس کو ہوش آیا۔۔۔۔ تابی۔۔۔ نہیں بس اس سے آگے نہیں۔۔۔۔۔ اسکا کمزور لہجے اس کے دل کی ترجمانی نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ میری ساری محنت اکارت ہوجاتی اگر میرا لنڈ اسکی پھدی کے اندر نہ ہوتا۔۔۔۔۔ میں نے بات ٹال دی اور اب اسکی کان کو چومتے ہوے اپنی گرم۔ سانسوں کو اس کے دل سے روشناس کروانے اپنی گرم سانسوں کو اسکے کان میں چھوڑا۔۔۔۔۔۔ عالیہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔ میں بولا ایسے مزہ نہیں آنا۔۔۔۔ سنو نہ۔۔۔۔۔ تھوڑے کہولے اوپر اٹھاؤ۔۔۔۔۔ نہیں تابی۔۔۔۔۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔۔ وہ کہتی اور روکتی رہی لیکن میں نے جب شلوار نیچے کھنچی۔۔۔۔ تو وہ نہ نہ کرتی ہوئیی کمر اوپر اٹھاتی رہی اور مکمل ننگی میرے نیچے تھی۔۔۔۔ بے شک وہ انعم جتنی حسین نہیں تھی مگر اس میں عجیب سا نشہ اور پاگل پن تھا۔۔۔۔ مجھے اسکا ننگا جسم دیکھ کر ایسا لگا جیسے کسی سکول جاتی بچی جیسا جسم تھا۔۔۔۔۔ میں نے بے ساختہ اسکی بالوں سے پاک پھدی کو چوم لیا۔۔۔۔۔ تابی۔۔۔۔ اف۔۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو گندی جگہ ہوتی ہے یہ۔۔۔۔۔ اسکی بات کی پرواہ نہ کرتے میں نے اس کی پھدی کے لبوں کو باری باری چوما اور اسکا نپل مسل دیا اور اسکے اوپر آگیا۔۔۔۔۔ اب اسکے ہونٹوں کا رس مجھے کشید کر کے اپنی پیاس کو بجھانا تھا۔۔۔۔۔ مگر اسکے ہونٹوں کا رس میری اور اسکی تڑپ اور بڑھا رھا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اور میں پورے ننگے اپنا جسم کو سونپ رہے تھے کسی چیز اور وقت کا ہوش نہیں تھا۔۔۔۔۔ کبھی اسکی زبان میرے منہ میں آتی۔۔۔۔ تو میری زبان اسکے منہ کا طواف کرتی۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ میں اوپر نیچے ہو رہا تھا جس سے اسکے چھوٹے مموں میرے سینے میں مسلے جاتے۔۔۔۔۔ وہ بند آنکھوں میں کھوئی اپنا مجھے سونپ رہی تھی اپنی پھدی کو میرے وحشی لنڈ پر کمر اٹھا کر دباو ڈالنے لگی۔۔۔۔ یہ محسوس کرتے ہی موقع ظائیع نہ ہو اپنے لنڈ کی موٹی ٹوپی ھاتھ میں پکڑ کر۔۔۔۔ اسکی کمسن چوت پر رکھتے گھسانے کی تاک میں تھا تو اس نے میرا ھاتھ تھام کر میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔۔۔۔۔
تابی۔۔۔ رکو ایک منٹ پلیز میری بات سنو۔۔۔۔۔ میری محبت کو ایسے ناپاک مت کرو۔۔۔۔ رک جاؤ نا آہ۔۔۔۔۔۔ میں اسکی بات سن کر سکتے میں آگیا۔۔۔۔ اور بولا کیا عالیہ میں بولو میں تمہیں تمہاری رضا مندی کے بغیر کچھ نہیں کرو گا۔۔ اور اسکی آنکھوں کو چوم کر میں اسکے اوپر سے ہٹنے لگا لیکن میرے دل میں تھا کہ شاید اس پھدی کے اندر میرا لنڈ نہیں جائیے گا۔۔۔۔ اور اسکے اوپر سے ہٹ کر آنکھیں چوم کر اسکے مموں کو مسلا اور اسکی نازک پھدی پر لنڈ رگڑ کر اترا تو عالیہ نے آنکھیں بند کر کے۔۔۔ آہ کی۔۔۔۔ اور میرا ھاتھ پکڑ کربولی کدھر جارھے ہو بات تو سنو۔۔۔ تابی۔۔۔۔ میری جان اور جسم تمہارے لیے ہے مگر میں خود کو تمہارے لیے ناپاک نہیں کرنا چاہتی ہوں پلیز مجھے غلط مت سمجھو لیکن تمہاری نظر میں ایسے میں گر جاؤ گی۔۔۔۔ میں تمہاری ہونا چاہتی ہوں اور وہ یہ سب کہ کر میرے گلے لگ گئی اور رونے لگی۔۔۔ ادھر ایسی حالت میں لنڈ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور دل بولا کہ یار ایسا مت کر۔۔۔۔ میں نے اپنا ہاتھ اسکی ننگی کمر پر رکھ سہلایا اور بولا عالیہ ایسا کچھ نہیں ہے بیسا تم سوچ رہی ہو ایسا کرنے سے تم میری نظر میں گرو گی نہیں۔۔۔۔ رو مت پلیز۔۔۔۔ میں اسکا چہرہ تھام۔ کر اوپر اٹھا اور اسکی آنکھوں کو پھر سے چوم لیا۔۔۔۔ عالیہ تمہارا پیار ہی بہت ہے میرے لیے۔۔۔۔ تم ٹینشن نہ لو۔۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں کر رہا۔۔۔۔۔ اگر تمہیں پسند نہ ہو لیکن اس سے ہم اور نزدیک آجائییں گے یہ سیکس صرف سیکس نہیں ہےایک دوسرے کو پانے کی انتہا ہے۔۔۔۔ اور اسکے جواب کا انتظار سنے بغیر میں نے اسکے ہونٹوں کو منہ میں لیکر چوسنے لگا۔۔۔ مممم اور میرا ھاتھ اسکی کمر سہلانے لگا اور وہ میرا ساتھ دینے لگی۔۔۔ یہ دیکھتے ہوے میں نے اسے بیڈ پر پھر لیٹا کر اسکے اوپر آیا وہ اب سر ادھر ادھر مار کر مجھے پھر سے روکنے لگی۔۔۔ میں نے اسکا منہ چھوڑا۔۔۔ وہ بولی لیکن تابی۔۔۔۔ تم ایسا کیو ں نہیں کرتے کہ تم۔ پیچے سے کر لو۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔ کیا۔۔۔ کہا۔۔۔۔ عالیہ تم ہوش میں تو ہو۔۔۔۔ ہاں میں ہوش میں ہوں۔۔ تابی میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی۔۔۔ پلیز تم میری بات کوسمجھوں۔۔۔۔ میں خود کو ناپاک بھی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ لیکن میرے دل۔ میں تمہارے لیے کیا ہے تمہیں بتانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ عالیہ نے جواب دیا۔۔۔ میں اسکی بات کو سن کر سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ اسکا جسم کسی کمسن لڑکی کے جیسا تھا اور اسکی گانڈ پر گوشت نام کا ہی تھا۔۔۔۔ اور میرا لنڈ اندھیرے کی وجہ سے وہ دیکھ نہ سکی تھی لیکن میں جانتا تھا کہ 7 انچ اور 2 انچ موٹا لنڈ کیا حال کر سکتا تھا کسی بھی کنواری پھدی کا لیکن عالیہ کی ضد اور میرے لنڈ کی گرمی۔ نے مجھے مجبور کیا اور میں راضی ہوگیا اور بولا ٹھیک ہے عالیہ لیکن تم برداشت کرنا۔۔۔ تمہیں درد میں دیکھنا مجھ سے برداشت نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ عالیہ یہ سن کر خوش ہو گئی اور میرے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔ میں نے اسکا چہرے کو اوپر کیا اور اور پھر اسکے لبوں کا رس کشید کرنے لگا ساتھ میں اسکے مموں کو مسلتا ہوا اپنے ھاتھوں سےاسکے جسم کو سہلاتے ہوے۔۔۔ اسکی ران پر لے آیا۔۔ اور پھدی کے لبوں کے بیچ میں انگلی سہلائی اس بار عالیہ نے مجھے نہیں روکا بلکہ اس نے ہونٹ چوسنے میں ساتھ دیا۔۔۔۔ اور اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی۔۔۔۔ اسکی منہ کا رس میں پینے لگا اور اسکا لیٹیا دیا۔۔۔۔ اور اسکے زبان کو چوستے ہوے میں اسکے اوپر آگیا۔۔۔۔ اور اپنی لنڈ سے اسکے پھدی کا۔ مساج شروع کیا۔۔۔۔ وہ تھوڑا تڑپی لیکن اس نے مجھے روکا نہیں۔۔۔۔ اور اب میں اسکے اوپر ننگے جسم کے ساتھ اسکے ننگے جسم کو بیڈ پر مدھولنے لگا۔۔۔۔ اسکے ہونٹوں میں اپنی زبان کو گھما کر نیچے اپنے لنڈ کو اسکے پھدی کے لبوں پر دباتے ہوے۔۔۔۔ اسکے مموں کو پکڑا اور مسلا۔۔۔ وہ ہلنے کی کوشش کرتی لیکن میرے جسم کے بوجھ سے وہ دب سی گئی۔۔۔ اسسکی مممہہ۔۔۔ کی آوازیں کمرے کے نیم تاریکی کے ماحول کو مزید تابناک بنا رہی تھی اور اچانک اسکی کمر نے خم لیااور میرے نیچے لنڈ کو پھدی پر دباتے ہوے وہ کانپی۔۔۔۔ اور مجھے یک دم۔ ایسا محسوس ہوا کہ لنڈ میں اپنا پانی پر رگڑ رھا ہوں۔۔۔۔ اسکی پھدی کی گرمی اور گیلے پن سے مجھے بھی مزہ آنے لگا اور اسکے مموں کو پکڑ کر مسلنے لگا۔۔۔۔ لیکن رک گیا اور اسکے اوپر سے ہٹ گیا۔۔۔ وہ حیرت زدہ ہو کر مجھے دیکھنے لگی۔۔۔ سسسہہ۔۔ آہ تابی۔۔۔ کیا ہوا ہٹ کیوں گے۔۔۔۔ میں نے بولا الٹی لیٹو۔۔۔۔ اور اسکو پکڑ کر الٹا لیٹا دیا بیڈ پر اور خود واش روم۔ جا کر سرسوں کے تیل کی بوتل لے آیا۔۔۔۔ بوتل کو کھولا تیل نکال کر لنڈ پر جلدی سے لگا لیا اور اسکے گانڈ کے لپس کو کھول کر اسکے سوراخ پر ڈالا۔۔۔۔ آہ تابی آرام سے آہ۔۔۔۔ گانڈ کے سوراخ میں تیل ڈال کر اپنی انگلی سے سوراخ کے اوپر مساج کیا۔۔۔۔ اب اسکے پیٹ کے نیچے تکیہ رکھا اور اسکی ٹانگوں کو پھیلا دیا اور خود کوئی وقت ضائیع کیے بغیر اپنے لنڈ کو اسکے تیل سے بھیگی گانڈ میں پھیرنے لگا اوپر نیچے کرتے ہوے کبھی لنڈ کی موٹی ٹوپی کو نیچے لے جا کر پھدی کے لبوں سے لگا تا اور کبھی گانڈ کے سوراخ سے رگڑ دیتا مجھے معلوم تھا چونکہ میں نے عالیہ کو اورگیزم کے بیچ سے روک لیا تھا اور بار بار لنڈ پھدی کے لبوں کو چھو کر آتا اسکا ضبط جواب ینے لگا اور نیچے سے جب لنڈ پھدی کے لبوں پر لگتا تو وہ اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کر اپنی گانڈ کو اوپر کرتی کہ شاید لنڈ اسکے جسم۔ میں گھس سکے لیکن میں اسکے پیچھے بہت خوار ہوا تھا۔۔۔ اور ایسے لنڈ اسکی گانڈ میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ اس بار اسنے جب گانڈ اوپر کی میں نے سوراخ محسوس کرتے ہوے گانڈ کا جھٹکا مارا اور اپنی موٹی ٹوپی گھسا دی اسکی گانڈ میں۔۔۔۔ وہ چیغ پڑی۔۔۔۔۔ آہہہہہہہ۔۔۔۔۔۔ وجججججی۔۔۔۔۔ اہ رکو پلیز۔۔۔۔۔ آہہہہہ۔۔۔۔ مر جاو گی میں۔۔۔۔۔۔ آہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسسسسسسس رکو نا۔۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر ایک جھٹکا اور دیااور لنڈ کو گھسا کر گانڈ کو مزید گہرا کرنے لگا۔۔۔۔۔ وہ نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ لیکن میں نے مظبوطی سے قابو کیا۔۔۔۔ اور کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ لیکن عالیہ نے۔۔۔۔ سر ادھر ادھر مارنے شروع کیے اور اونچا چیغنے لگی۔۔۔۔۔ آہہ۔۔۔ تابی پلیز رک جاو بہت درد ہے میں مر جاو گی۔۔۔۔ اس نے اپنے گانڈ کو ٹایٹ کیا۔۔۔ اور مجھے ایسا لگا میرا لنڈ کسی شکنجے میں پھنس گیا تھا لیکن میرا آدھا کام ہوچکا تھا یعنی آدھا لنڈ عالیہ کی گانڈ کی گہرائیی ناپ رہا تھا۔۔۔۔۔ اور مزہ سے میرے آنکھ بند ہو رہی تھی
شکنجہ میں کسا لنڈ مجھے بھی تکلیف دے رہا تھا اور عالیہ کے تڑپنے اور چلانے کی وجہ سے مجھے صرف گانڈ کی گرپ کا مزہ آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ نیچے سی عالیہ کی نکلنے کی بھرپور کوششیں جاری تھی اور وہ ساتھ ساتھ چیغ بھی رہی تھی۔۔۔۔ تابی ہٹو نکالو اسے باہر آہ۔۔۔۔ مججے۔۔۔ کچھھھ نہیں کروانا۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔ بس اور اندر نہیں اور نہیں۔۔۔۔۔ اور۔۔۔ نہیہہہ۔۔۔ ی ااہ۔۔۔ رک جاو نا۔۔ پلیز۔۔۔ بہت ظالم ہو تم آہ۔۔۔ عالیہ ایسے ہلو نہیں ورنہ اور درد ہو گا۔۔۔ اور چیغو نہ ورنہ کوئی سن لے گا۔۔۔۔ نہیں کر رہا ہو اور اندر۔۔۔۔ بسسس۔۔۔ آہ۔۔۔ اتنا ہی بس۔۔۔۔ اتنا تو برداشت کر سکتی ہو میرے لیے جان۔۔۔ اتنا بول کر میں پیچھے سے اسکے کان کو چومنے لگا۔۔۔۔ نہیں میں نے کچھ نہیں کروانا مجھے نہیں پتہ تھا کہ اتنا درد ہو گا۔۔۔۔ میں مر جاؤ گی تابی۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔ اور وہ رونے لگی یہ سچ تھا کہ میرا موٹا لمبا لنڈ اسکی گانڈ کے سوراخ کا حشر تو کر رہا تھا لیکن۔۔۔ میں اب باہر نکلنے کا رسک نہیں اٹھا سکتا تھا اسکا ناذک جسم کا مزہ میں نے اب لینے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔۔ میں بولا۔۔۔۔ میری جان میں کچھ نہیں ہونے دوگا اپنی محبت کو۔۔۔۔ دیکھو سارا چلا گیا ہے اندر اب اگر ایسے ہلو گی بہت درد ہوگا۔۔۔ میں نے جھوٹ تو بولا لیکن اسکو محسوس نہیں کرنے دیا کہ ھاتھوں سے کیونکہ اسے پتہ لگ جانا تھا۔۔ اور حوصلہ ہار جانا تھا۔۔۔۔ عالیہ بولی۔۔۔ کہ۔ کہ۔ کیا سارا چلا گیا بے یقینی سے۔۔۔ تبھی مجھے لگ رھا کہ تمہارا وہ۔۔۔۔ آہہہہ۔۔۔ تابیہییی۔۔۔۔ میرے پیٹ کے اندر ہو جیسے پلیز تھوڑا باہر نکال لو۔۔۔ بہت درد ہے۔۔۔ یہ کیسی محبت کرتے ہو تم کک۔۔۔ ہہ۔۔۔ آہہ۔۔۔ کہ مکھے۔۔ درد دے کر خود خوش ہو۔۔۔ نہیں میری جان۔۔۔ آہ ایسا نہیں ہے بس جتنا درد تھا وہ ہو گیا۔۔۔ میں نے عالیہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا ہوے تھے اور اسکے گردن کو چوم رھا تھا۔۔۔۔ اور اب آہستہ آہستہ ہلنے لگا تھا۔۔۔ آدھے لنڈ کے ساتھ ہی۔۔۔۔ عالیہ سسکیوں کے ساتھ رونے لگی۔۔۔ مگر مجھے اب اسنے روکا نہیں۔۔۔۔ یہ دیکھ کر اب میں نے پیش قدمی کا سوچا اور عالیہ کی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں میں دبا دیا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کھولنے لگا۔۔۔۔ عالیہ آہ تابی اب کیا کر رہے ہو میری جان لو گے کیا۔۔۔۔ بس بھی آہ آہ کرو
بس عالیہ اور درد نہ ہو۔ میری جان کو اس لیے ایسا کر رہا اور یک دم جھٹکا دیا اور لنڈ کو گھپ کر پورا اندر کر دیا۔۔۔۔ آہہہہہہہہ۔۔۔ میں مر گی آئیی۔۔۔۔ امی اف۔۔۔۔۔ تابی۔۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔ بس اور کچھ نہیں تم۔ ہٹو اوپر سے بس وہ۔۔۔۔ تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی لیکن میں اسکے پیچھے بہت خوار ہو چکا تھا۔۔۔۔ اور میں نے بغیر کوئی جواب دیے۔ لنڈ کو گانڈ میں رواں کرنا چاہ رھا تھا دوسری طرف عالیہ کا مچلنا۔۔ تڑپنا لنڈ کو گانڈ میں بہت اندر لے جا رہا تھا اسکی ٹانگیں میری ٹانگوں میں دبی تھی اور اسکے ہاتھوں کو انگلیوں میں اپنی انگلیوں کو پھنسا کر اسکے باذو اوپر کر چکا تھا اور اپنی کمر کو آگے پیچھے کرتے ہوے مزہ سے گانڈ کی سختی کو انجوائیے کر رہا تھا۔۔۔ کنواری پھدی کا مزہ تو میں لے لیا تھا لیکن کنواری گانڈ کا مزہ کیا ہے وہ مجھے اچھے سے پتہ لگ رہا تھا۔۔۔۔ لیکن عالیہ کی درد سے بھری آوازیں کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی ایسا لگنے لگا تھا کہ جیسے میں اسکا ریپ کر رہا ہو۔۔۔۔۔ لیکن اب اسکو میرے لنڈ کی لمبائیی اور موٹائیی کا اندازہ بھی ہو رھا تھا۔۔۔ عالیہ کے جب پورا اندر لنڈ گھس جاتا تو اسکی آواز میں درد اور لزت بھر جاتی اور مجھ سے کہتی کہ تابی۔۔۔ آہ بہت اندر پیٹ میں گھس رھا ہے تمہارا۔۔ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے آہہہہ۔۔۔۔۔ بس ھوس پوری کر رہے ہو مجھ سے۔۔۔۔ اسی طرح کچھ دیر کرتے اب میں نے بھی اسکا جواب دیتے ہوے کہا۔۔۔ عالیہ تم کیا میرے لیے اتنا درد سہ نہیں سکتی کیا۔۔۔۔ اور اسی دوران لنڈ نے سخت ہونا شروع کیا اور اور منی نے لنڈ کے ھیڈ تک کا سفر شروع کیا۔۔۔۔ اور میرے دھکے اب وحشیانہ ہو چکے تھے عالیہ کی گانڈ کے سوراخ میں پوری طاقت سے لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا تھا۔۔۔ اور اسکو پوری طاقت سے پکڑا اور لنڈ جڑ تک گھسا کر منی کا لاوا اسکی نرم گانڈ میں انڈیل دیا اور ہانپ کر اسکے اوپر ہی گر گیا۔۔۔۔ عالیہ نے جب محسوس کیا تو فوراً میرے نیچے سے نکلی اور مجھے دھکا دیکر پیچھے کیا اور زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پر دے مارا اور بولی۔۔۔۔۔
دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ کہ اس سے پہلے میں کچھ کر جاؤ۔۔۔۔۔ عالیہ میری بات تو سنو۔۔۔ میں بولا۔۔۔۔۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سینے سے لگایا۔۔۔۔ اور اسے چومنے لگا۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔۔ مجھے کچھ احساس نہیں ہو سکا تمہارے حسن کی تپش اور قربت نے بہکا دیا تھا مجھے۔۔۔۔۔ عالیہ روتے اور مچلتے ہوے میرے سینے سے لگی اور روتے ہوئیے چپ ہو کر میری بات سنے لگی۔۔۔۔۔ ایسا کیا کر دیا تھا میں نے جو تم جانور بن گے۔۔۔۔ میں نے اسکی تھوڑی کو پکڑا اور اور کیا اسکے فیس کو۔۔۔۔ کیا اب بھی مجھے بتانے کی ضرورت ہے اور کہتے ہوے اسکے ہونٹوں پر کس کی۔۔۔ آہستہ آہستہ سے میرے لنڈ کی اٹھا ن ہونے لگی جو کہ اس نے بھی محسوس کر لی۔۔۔۔ اور گھبرا کر پیچھے ہٹی۔۔۔۔ نہیں تابی اب اور کچھ نہیں پہلے ہی جان نکل رہی ہے اور بھائی بھی انے والے ہوں گے۔۔۔۔۔۔ میں مسکرا اٹھا۔۔۔۔۔۔ چلو ناراضگی تو ختم ہوئیی تمہاری۔۔۔۔ عالیہ۔۔۔۔۔۔۔ میں اسکی ننگی کمر پر ھاتھ سہلاتے ہو ے بولا۔۔۔۔۔ عالیہ بولی۔۔۔ یہ کب کہا تمہیں کہ میں مان گئی ہوں۔۔۔ لیکن ابھی تم جاؤ کل پھر اس ٹائیم آنا تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔ ٹھیک ہے ابھی میں جاتا ہوں۔۔ میں نے بھی جلدی سے کپڑے پہن کر باہر نکل آیا