br>
میں اکثر ایک خاص قسم کی خبریں پڑھ کر سوچا کرتی تھی کے ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی عورت اپنے ہنستے بستے گھر سے بھاگ جائے، اپنے بچوں اور خاوند سے ناطہ توڑ لے، اپنی خوشحال زندگی کو چھوڑ دے۔ نو عمر اور نوجوان لڑکیوں کی تو سمجھ آتی تھی کے چلو کم عقلی اور ناسمجھیں نے انہیں محبت میں اندھا کر دیا لیکن شادی شُدہ خاتون جو تین چار بچوں کی ماں ہو اس کے متعلق یہ پڑھ کے یا سُن کر کے وہ اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی ہے بہت عجیب لگتا۔ بعض اوقات تو معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہو جاتا جب کوئی عورت اپنے ہی خاوند کو کسی غیر مرد سے مل کر قتل کر دیتی یا پھر کروا دیتی۔ ایسی یا پھر اس جیسی ملتی جُلتی خبریں آئے دن ہمارے اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ اور میں ایسی تمام خبریں پڑھ کر ان عورتوں کو لعن طعن کیا کرتی اور انہیں بہت سے بُرے بُرے القابات سے نوازتی۔ میرے نزدیک ایسی تمام عورتیں قابلِ نفرت تھیں۔
میں 26 سال کی ہوں۔۔ میری شادی تقریباً 5 سال پہلے ہو چُکی ہے۔ میرا بیٹا جس کی عمر ڈیڑھ سال ہے میری کُل کائنات ہے۔ میرے شوہر اچھی جاب کر رہے ہیں اور کافی ہینڈسم خوبصورت جوان ہیں۔ مجھ سے عمر کا کوئی زیادہ فرق نہیں۔ ساس سُسر نند اور دیور ہمارے گھر میں کُل افراد ہیں ۔ کسی کا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں زندگی بڑی سہل اور آسانی سے گُذر رہی تھی۔ میرے شوہر ہر لحاظ سے میرا مکمل خیال رکھتے تھے۔ مجھے ان سے میری طلب کے مُطابق ہر چیز مِل رہی تھی۔ جب ہر چیز کہہ رہی ہوں تو اس کا مطلب ہر چیز ہے یعنی وہ مجھے بستر میں بھی مکمل خوشی اور مسرت مہیا کرتے۔ ایک انسان کی زندگی گُذارنے کیلئے جو خواہشات ہوتی ہیں میری بھی ویسی ہی خواہشات تھیں جو کے خوش قسمتی سے پوری بھی ہو رہی تھیں۔ مجھے اس سے زیادہ کی نہ طلب تھی اور نہ ہی میں نے کبھی زیادہ کا سوچا تھا۔یہی وجہ تھی کے میں خود کو دُنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی تصور کرتی۔ لیکن پھر کچھ ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کا دھارا ہی بدل دیا۔
جس نے نہ صرف میری سوچ کو بدلا بلکہ میں آج اس واقعے کی وجہ سے دوہری زندگی جی رہی ہوں۔ بظاہر میری زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا لیکن مجھے پتہ ہے کے میری اس نارمل زندگی کے پیچھے میری ایک خُفیہ زندگی بھی ہے۔ جو کہ ایک راز ہے اور اس راز سے میں ہی واقف ہوں۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کے اُس روز ہم سب گھر والے رات کو اپنے اپنے کمروں میں سوئے ہوئے تھے۔ میرے شوہر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے جبکہ میری نند بھی اپنے ماموں کے گھر گئی ہوئی تھی۔ ساس سُسر اپنے کمرے میں جبکہ میرا دیور اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا اور میں بھی اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے کمرے میں سوئی تھی۔ رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب وقت ہوگا جب کسی نے بازو سے پکڑ کر مجھے اُٹھا دیا۔
کون ہے؟ میں اس اچانک افتاد پر کچھ نہ سمجھتے ہوئے چیخ کر بولی۔
خبردار جو آواز بلند کی تو , یہیں ڈھیر کر دوں گا , کوئی انجانی آواز میرے کان سے ٹکرائی اور ساتھ ہی بندوق کی نال میری گردن سے آ لگی۔
ایکدم سے میرے اوسان خطا ہو گئے اور میں خوف سے لرز اُٹھی۔ میری آواز جیسے میرے حلق میں ہی اٹک گئی ہو۔ میں اگر بولنا بھی چاہتی تو اُس وقت بول نہ پاتی۔ میں سچ میں کانپ رہی تھی۔
چلو اُٹھو اور دوسرے کمرے میں چلو۔ وہی غسیلی آواز پھر سُنائی دی۔ میں کُچھ بھی نہیں سمجھی تھی اور خوف سے میری جان نکلی جا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کے میں نے اُٹھنے میں ذرا سُستی کی تو وہی آواز پھر میرے کان میں گونجی ” اُٹھتی ہو یا پھر گھوڑا ( ٹریگر ) کھینچوں،؟ اتنا فالتو وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔ آواز میں غصہ پہلے سے زیادہ تھا۔ میں خوف کے مارے بہت بُری طرح کانپ رہی تھی۔ وہ مجھے اُٹھا کر نیچے ڈرائنگ روم میں لے آیا۔ میں وہاں پہنچی تو دیکھا میری ساس سُسر اور دیور کو وہ پہلے ہی وہاں لا چُکے تھے اور ان سب کو انہوں نے باندھ دیا تھا۔ وہ کُل چار آدمی تھے اور چاروں کے پاس بندوقیں تھیں۔ ان میں سے ایک نے مجھے بھی ہاتھوں سے باندھ دیا۔ ہم سب گھر والوں کو انہوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ ایک میرا ڈیڑھ سال کا بیٹا تھا جو بیڈ روم میں اکیلا سویا پڑا تھا جو کے ویسے بھی ہماری کُچھ مدد نہیں کر سکتا تھا۔ ان چاروں کے چہروں پر نقاب تھے۔ جس سے انہیں پہچان لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ویسے بھی ہم سب گھر والے اتنے سہمے اور خوفزدہ تھے کے ہمارے دماغ ہی ماؤف ہو چُکے تھے۔ میں جان چکی تھی کے ہم لُٹنے والے ہیں۔ اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کے ہم خود کو لُٹتا دیکھتے رہیں۔ ان چاروں میں سے ایک جو اُن کا لیڈر لگ رہا تھا میرے سُسر سے پوچھ رہا تھا کے زیور پیسے اور دیگر قیمتی اشیاء کہاں پڑی ہیں۔ ساتھ میں وہ دھمکا بھی رہا تھا کے اگر ہم میں سے کسی نے بھی کوئی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی یا پھر شور مچانے کی کوشش کی تو وہ فائر کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے اور ہم سب جان سے جائیں گے۔ ابھی وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کے میرے بیٹے کے رونے کی آواز آئی جو کے شائید نیند سے بیدار ہو گیا تھا۔ اور پھر اس کا رونا دھیرے دھیرے زیادہ ہونے لگا۔ ظاہر ہے میں اُس کے پاس ہوتی تو اُسے تھپک کر دوبارہ سے سُلا دیتی، جب اُس کا رونا تیز ہوا تو وہی لیڈر میری طرف گھوما , تیرا بچہ ہے؟ چل .. چل اُٹھ اسے چُپ کرا ورنہ ہم چُپ کرا دیں گے اُسے۔ اس کے الفاظ منہ سے نکلے تو میں بس خوف سے ہی جھرجھری لے کر رہ گئی۔اس نے اپنے دو ساتھیوں کو زیور وغیرہ ڈھونڈنے پر لگایا جبکہ تیسرے کو میری ساس سُسر اور دیور کی نگرانی پر کھڑا کیا اور خود مجھے لے کر میرے کمرے میں آ گیا۔ میں نے میرے بیٹے کو اُٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ اور پھر بانہوں میں جھولا نے لگی۔ لیکن اس کا رونا بند نہیں ہوا۔ ” اسے چُپ کرا ورنہ ” وہ ایک دفعہ پھر غُصے سے بولا ۔ ” اسے بھوک لگی ہے ” میں سہمے ہوئے بولی وہ میری طرف ہی دیکھ رہا تھا ” اسے دودھ پلا اور جلدی سُلا ورنہ میں سُلا دوں گا اسے ” وہ بار بار مجھے دھمکا رہا تھا اور میں سہمی ہوئی تھی۔ ” وہ اس کا دودھ نیچے فریج میں پڑا ہے ” میں بہت زیادہ خوفزدہ تھی اور میری آواز نہیں نکل رہی تھی۔ ” مجھے کچن میں جانا پڑے گا ” میں نے اس ڈاکو سے کہا تو وہ غُصے سے بولا نہیں تم کچن میں نہیں جا سکتی اسے اپنی چھاتی سے ہی دودھ پلاؤ۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کے کیا کروں۔ میں اس انجان ڈاکو کے سامنے اپنی چھاتی ننگی نہیں کر سکتی تھی اور وہ تھا کے صاف دھمکی دے رہا تھا کے اگر میرے بیٹے نے رونا بند نہیں کیا تو وہ اسے مار دے گا۔ ایسی حالت میں میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کے میں اجنبی کے سامنے ہی اسے دودھ پلاؤں، میں نے ایک جانب سے اپنی قمیض اور برا اوپر اٹھائی اور اپنے بیٹے کا منہ ممے سے لگا دیا۔ وہ واقعی بھوکا تھا اور اس نے جلدی سے چُوسنا شروع کر دیا۔ میں نے چور نگاہوں سے ڈاکو کی طرف دیکھا تو وہ میری طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔ میں شرم سے ڈوب رہی تھی لیکن میرا بیٹا مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز تھا۔ میں نے نظریں نیچی کر لیں اور اسے دودھ پلاتی رہی۔ میری قمیض ہٹی ہوئی تھی جس سے میرے گورے پیٹ کی جھلک اور ساتھ میں میرا ممّا اس اجنبی ڈاکو کو دکھائی دے رہے تھے میں جانتی تھی کے اُس کی نظریں وہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ یہ خیال ہی مجھے شرم سے پانی پانی کر رہا تھا۔۔اچانک مجھے لگا جیسے وہ میرے قریب کھڑا ہے میں نے سر اٹھایا تو وہ واقعی میرے ساتھ کھڑا تھا۔اگرچہ وہ نقاب پہنے تھا لیکن اس کی ننگی آنکھوں سے مجھے واضح ہوس ٹپکتی نظر آئی۔ اس سے پہلے کے میری چیخ نکلتی اس کا ہاتھ میرے منہ پر تھا۔ “اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتی ہو تو جیسے میں کہوں کرتی رہو اور ذرا بھی آواز نکلی تو سمجھ لو تمہارے بیٹے کی آواز ہمیشہ کیلئے بند کر دوں گا۔” اس کا منہ میرے کان کے قریب تھا۔ لفظوں کی ادائیگی کے ساتھ مجھے اس کی گرم سانسیں بھی اپنی گردن پر محسوس ہوئیں۔ ایک لمحے میں ہزاروں خیالات میرے دماغ میں ابھرے لیکن ہر سوچ دم توڑ گئی کیونکہ میرے بیٹے کی زندگی میرے عمل سے وابستہ تھی اور اس کی زندگی میرے لیئے ہر چیز سے اہم تھی۔ میں نے خود کو حالات کے حوالے کر دیا۔ اس نے میرے بیٹے کو میرے ہاتھوں سے لے کر بیڈ کے قریب پڑے جھولے میں ڈال دیا۔ میں بُت بنی بیٹھی تھی کہ مجھے اس کا ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس ہوا، میں ایکدم سے سمٹ گئی۔ خوف سے میرا بدن لرز رہا تھا۔ اور آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ میں چیخنا چاہتی تھی۔ اپنی مدد کیلئے زور زور سے پُکارنا چاہتی تھی لیکن میرے بیٹے کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ جو مجھے کوئی بھی ایسا قدم اُٹھانے سے باز رکھ رہا تھا۔ میں نے دونوں گھُٹنے سکیڑ کر اپنی چھاتی سے لگا لیئے۔ مجھے اس ڈاکو کا یوں میرے پیٹ پر ہاتھ لگانا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔ بلکہ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اُس کو اس حرکت پر اتنے تھپڑ مارتی کے وہ دوبارہ سے کبھی یوں کسی کو ہاتھ لگانے کی ہمت نہ کرتا۔ لیکن اس نے میرے بیٹے کی زندگی کی دھمکی دے کر مجھے بےبس کر دیا تھا۔ “مجھے تُمہارا تعاون درکار ہے، کیونکہ میں ارادہ کر چکا ہوں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، چاہے مجھے زبردستی کیوں نہ کرنی پڑے، اور زبردستی کے دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی بھی جان سے جا سکتا ہے تُم یا تُمہارا بیٹا۔” وہ تنبیہہ کرنے کے انداز سے بات کر رہا تھا۔ میں نے کانپتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے اور اُسے اس کے ارادوں سے باز رکھنے کی آخری کوشش کی لیکن اُس کی حالت جنون کی سی ہو گئی تھی وہ مجھے مسلنے لگا اس کا ہاتھ میرے جسم پر پھسل رہا تھا اور میں سمٹ رہی تھی۔ وہ میرے پیٹ اور میرے مموں کو اپنے ہاتھ سے مسل رہا تھا۔ میں بچاؤ کے لیئے ہاتھ پاؤں تو مار رہی تھی لیکن منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ شائید اس ڈر سے کے اگر میری آواز نکل گئی تو وہ کہیں بھڑک کر میرے بیٹے کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ وہ مسلسل میرے جسم کو نوچ رہا تھا۔ آخر میری مزاحمت دم توڑ گئی۔ مجھے ڈھیلا پڑتا دیکھ کر اس نے بندوق ایک طرف رکھی اور دونوں ہاتھ میرے مموں پر رکھ دیئے۔ وہ کسی وحشی درندے کی طرح میرے اوپر چڑھ آیا۔ میں مکمل اس کے رحم و کرم پر تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ میری قمیض کے اندر ڈال دیئے اور اپنی انگلیوں سے میری نپلز کو چھیڑنے لگا۔ کسی بھی لڑکی اور عورت کو اگر سب سے زیادہ کسی چیز کا خوف ہوتا ہے تو وہ اس کی عزت جانے کا۔ اس کے بچاؤ کیلئے کوئی بھی لڑکی یا عورت اپنی جان تک گنوا سکتی ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ لیکن اگر یقین ہو جائے کے وہ کسی صورت اپنی عزت نہیں بچا پائے گی تو اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر لڑکی یا عورت ماں ہو تو اس کیلئے اولاد ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ اور ایسے بہت سے قصے آپ نے بھی سُنے ہونگے جب کسی لڑکی یا عورت نے اولاد کیلئے اپنی عزت تک گنوا دی ہو۔ میں بھی اگر عام لڑکی ہوتی تو شائید مر جاتی لیکن کسی ڈاکو کے ہاتھوں یوں عزت نہ گنواتی لیکن میں ایک ماں تھی اور اس ڈاکو نے مجھے میرے بیٹے کی زندگی کی مجھے دھمکی دی تھی۔ یہی وجہ تھی کے وہ میرے جسم کو بھنبھوڑ لینا چاہتا تھا اور میں اسے روک نہیں پا رہی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اب بچاؤ ناممکن ہے اور یہی وجہ تھی کے مجھے خوف بھی نہیں رہا تھا۔خوف تب تک ہی رہتا ہے جب تک بچاؤ کی کوئی صورت نظر آتی رہے لیکن مجھے کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان لمحوں میں جب میں خوف کی حدود سے نکل رہی تھی ایک مرد میرے بدن سے لذت لے رہا تھا۔ یعنی خوف کا اختتام لذت کی شروعات پر تھا۔ اور میں بھی اس ڈکیت کے ساتھ لذت کے اس گہرے سمندر میں غرق ہونے لگی۔ اس کا میری نپلز کو مسلنا مجھے میٹھے درد کے ساتھ لذت بھی دے رہا تھا۔ میرے گول مٹول خوبصورت ممّے تن گئے۔نپلز اکڑ کر سخت ہو گئے۔بدن میں جیسے سرور چھانے لگا۔ مجھ پر مستی چھانے لگی تھی جس کا اظہار میں نے اس ڈاکو کی کمر پر ہاتھ پھیر کر کیا۔ میرے ہاتھ بھی اب اس کی کمر پر گردش کر رہے تھے۔وہ مجھے پر جھکا ہوا تھا اس طرح کا ردِعمل دیکھ کر وہ پورا میرے اوپر لیٹ گیا جس سے اس کا لن میری رانوں کے درمیان رگڑ کھانے لگا۔ میری عجیب حالت ہو رہی تھی۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔ میں اس کے لن کو محسوس کرنے کیلئے اپنی گانڈ ہلا رہی تھی۔ جس سے اس کا لن میری رانوں کے درمیان رگڑ کھا رہا تھا۔ میں نے ہاتھ اس کے نقاب پر ڈال کر اس کا نقاب اتارنا چاہا تو اس نے فوراً میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور میرا بازو موڑ کر میرے ہاتھ کو میرے سر تک لے گیا پھر اس نے دوسرے ہاتھ کو بھی ویسے ہی موڑ کر میرے سر کے پیچھے کر دیا۔ اور میرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیئے۔ وہ نقاب پہنے ہوئے ہی میرے مموں پر کاٹ رہا تھا۔ اس کے یوں کاٹنے سے مجھے درد تو ہو رہی تھی لیکن جو لذت مل رہی تھی اس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس کا جنون میرے لیئے نیا تھا۔ میرے شوہر سیکس کے دوران کبھی ایسی جنونی کیفیت میں نہیں گئے تھے۔ ان کی میرے بدن سے چھیڑ چھاڑ بڑی شائستہ ہوتی تھی۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر اور بڑے سنبھل سنبھل کر ہاتھ لگاتے تھے۔اُن کا کسنگ کرنے کا انداز بھی بڑا سوفٹ تھا۔ وہ سیکس کے دوران مجھ سے ایسے برتاؤ کرتے جیسے میں کانچ کی بنی ہوں اور اُن کی بے احتیاطی سے کہیں ٹوٹ نہ جاؤں۔ لیکن اس ڈاکو کا انداز بالکل بے رحمانہ تھا۔ اس کے ہاتھ بےدردی سے مجھے مسل رہی تھے۔ وہ اب میرے گالوں اور ہونٹوں پر کاٹ رہا تھا۔لیکن یہ کاٹنا کسی حد تک پیٹ اور ممّوں پر کاٹنے کی نسبت تھوڑا سوفٹ تھا۔ میں اس کے ہونٹوں کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرنا چاہتی تھی لیکن اس کا نقاب ایسا نہیں ہونے دے رہا تھا۔ مجھے نقاب سے اُلجھن ہونے لگی تو میں نے اسے کہہ دیا کہ مجھے اس کے نقاب سے الجھن ہو رہی ہے۔ اسے لگا شائید میں اس کا نقاب اُتروا کر صرف اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی ہوں تو اُس نے نقاب اُتارنے سے انکار کر دیا۔ لیکن میرے چہرے پر بیچینی اور الجھن کے تاثرات دیکھ کر اس نے نقاب اُتار پھینکا۔وہ ایک مضبوط جسم کا مالک تھا اور چہرے مہرے سے بھی ایک خوبرو جوان تھا ۔نقاب اُتارتے ہی وہ مجھے بڑی بے رحمی سے چومنے چاٹنے لگا۔ اُسے بھی شائید نقاب میں مزہ نہیں آ رہا تھا۔ اسی لیئے اُس نے نقاب اُتار پھینکا تھا۔ اُس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے لگتے ہی جیسے دھماکہ ہوا اور آگ جیسے بھڑک اُٹھی۔اس کے دونوں ہاتھ میرے ممّوں کا مساج کر رہے تھے جبکہ میرے ہونٹوں کو چُوس رہا تھا۔ اس کا بے رحم انداز اور جارحیت مجھ پر نشہ طاری کر رہے تھے۔ وہ جب بھی دانتوں سے میرے ہونٹوں پر کاٹتا یا پھر میری نپلز کو مسلتا مجھے ایک میٹھا سا درد محسوس ہوتا جس پر میں سسک جاتی۔ اور میرا سسکنا شائید اسے بھی لذت دے رہا تھا کیونکہ میری ہر سسکی اسکا جوش بڑھا دیتی اور وہ مزید جارحانہ انداز سے مجھے مسلنے لگتا اس کے بوسوں کی رفتار اور تیز ہو جاتی۔ اس کا آہستگی سے میرے ہونٹوں کو کاٹنا مجھے بھی بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ اب ایسے ہی میرے ممّوں اور پیٹ پر بھی کاٹ رہا تھا۔ پھر اس نے میری شلوار کھول دی اور اس کے ہاتھ نے جیسے ہی میری چوت کو ٹچ کیا تو جیسے میرے پورے بدن کو آگ لگ گئی میں جو پہلے سے ہی اس کا ساتھ دے رہی تھی اور گرمجوشی کیساتھ اس سے لپٹنے لگی۔ میں بھی اس کو چوم رہی تھی۔ میں نے زور سے اسے بازؤوں میں اسطرح بھر لیا جیسے مجھے ڈر ہو کے وہ مجھے اس حالت میں چھوڑ کر بھاگنے والا ہے۔ اس نے میری شلوار کھینچ کر مکمل اُتار دی اور خود کی بھی اس کا سخت اکڑا ہوا لن میری آنکھوں کے سامنے تھا وہ لمبائی میں میرے شوہر کے لن سے کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن موٹائی میں وہ یقیناً زیادہ موٹا تھا۔ میرے خیال میں تھا کے وہ ابھی اسے میری چوت کے اندر ڈالے گا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ابھی کچھ اور کھیلنا چاہتا تھا۔ وہ میری ٹانگوں کے بالکل بیچ میں آیا اور اپنے سر کو میری رانوں کے درمیان رکھ دیا اس کے ہونٹوں نے میری چوت کو چھُوا تو بے اختیار میری سسکیاں نکل گئیں۔ میرے شوہر نے کبھی ہونٹوں سے میری چوت کو نہیں چوما تھا وہ بس ہاتھ سے ہی میری چوت کا مساج کیا کرتے تھے۔ میں اس لذت سے نا آشنا تھی جو اس ڈکیت کے میری چوت کو چومنے سے حاصل ہوئی تھی۔ اس نے یہیں پر بس نہیں کیا تھا بلکہ وہ باقاعدہ زبان کو میری چوت کے اندر باہر کرنے لگا اس نے دونوں انگوٹھوں سے میری چوت کے ہونٹوں کو قدرے کھول رکھا تھا تاکہ اس کی زبان زیادہ سے زیادہ میری چوت کے اندر جا سکے۔ وہ میری چوت چاٹنے کے درمیان کبھی کبھی چوت کے قریب میری رانوں پر کاٹ بھی رہا تھا جو مجھے اور دیوانگی کی حد تک پاگل کر گیا۔ میں گانڈ ہلا ہلا کر اس کے منہ پر اپنی چوت رگڑ رہی تھی۔ میرا دل چاہ رہا تھا کے وہ اسی طرح میری چوت کو چاٹتا رہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کے میرے شوہر کے علاوہ کوئی غیر مرد اس طرح سے مجھے چودے گا اور میں اس سے لذت حاصل کروں گی۔ مجھے ایسے خیال سے بھی گھِن آتی تھی لیکن آج میں نہ صرف ایک غیر مرد سے لذت پا رہی تھی بلکہ پورے طریقے سے اس کھیل میں شریک ہو گئی تھی۔میں اب چاہ رہی تھی کے وہ مجھے اسی بے رحمی سے چودے۔ اور ایسا میں اس شخص سے چاہ رہی تھی جو اس گھر کے مال واسباب کے ساتھ عزت کو بھی لُوٹ رہا تھا۔
The post ڈکیت۔۔۔۔(قسط 1) appeared first on Urdu Stories.