میں نے فون بند کیا اور اس آدمی سے کہا آپ بے فکر رہیں اب وہ آپ لوگوں کو تنگ نہیں کرے گا ۔۔۔۔
اس کے بعد میں وہاں سے گھر کی طرف چل پڑا سیدھا گھر آیا اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔
میرے موبائل پر بیل ہوئی میسج آیا تھا عنذا کا میسج تھا اس نے مجھے اپنی بیماری کا بتایا کہ آج پھر اس کا جسم ٹوٹ رہا ہے۔۔۔۔
میں اس کا نمبر ڈائل کیا اور کال کر لی جب اس نے فون رسیو کیا تو ۔۔۔
میں نے اس کو کہا وہ میڈیسن لی نہیں تم نے جو اس ڈاکٹر نے بتائی تھی۔۔۔۔
عنذا نے کہا نہیں وہ مجھے لگا کہ وہ ایسے ہی ہوگی ۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا کتنا برداشت کر سکتی ہو مطلب کب تک برداشت ہو سکتا ہے۔۔۔۔
اس نے کانپتی آواز میں کہا اب برداشت نہیں ہو رہا میرا جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے دل کر رہا ہے ابھی کسی کے ساتھ کر لوں۔۔۔۔
میں ہنسا اور کہا کرنا ہی ہے تو پھر کسی کے ساتھ کیوں میرے ساتھ کر لو ہو سکتا ہے وہ سارا نشہ ہرن ہو جائے۔۔۔
اس نے کہا ٹھیک ہے میں سیدھی آپ کی طرف ہی آ رہی ہوں آپ گھر پر ہی ہیں ناں۔۔۔
میں نے کہا ہاں میں گھر پر ہی ہوں اس نے فون کاٹ دیا۔۔۔
میں اٹھ کر کمرے کی صفائی وغیرہ دیکھنے لگا کمرے میں سیکس کی بو پھیلی ہوئی تھی پورا کمرہ مہک رہا تھا۔۔۔
اس کے علاوہ بیڈ پر کنڈوم کا ایک پیکٹ جس میں سے ایک استعمال ہو چکا تھا، ایک جھمکا اور لال رنگ کی پینٹی ملی جس کو میں نے اٹھا کر الماری میں چھپایا اور الماری کو لاک کر دیا۔۔۔۔
پورے کمرے میں ائیر فریشنر سے سپرے کیا اور کمرہ مہک اٹھا ۔۔۔۔
عنذہ آ رہی تھی میں سوچ رہا تھا میرا مشن تھا چھوٹی کے ساتھ کرنا لیکن یہاں سب الٹا چل رہا ہے۔۔۔۔
بڑی میرے بھائی سے چدوا رہی تھی چھوٹی میرے لن کو پھٹنے پر مجبور کر کے چھپ گئی تھی اور منجھلی چدوانے لیے آ رہی تھی۔۔۔
میں ذہنی طور پر تیار تھا میرا موڈ تھا کہ اس کو ٹی لاونج میں ہی کر دوں اتنی گرمی چڑھ رہی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد بیل ہوئی میں نے گیٹ کھولا تو سامنے عنذہ کھڑی تھی گیٹ کھلتے ہی اندر داخل ہو گئی ۔۔۔۔
میں نے گلی میں نظر دوڑائی حسب معمول گلی سنسان پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
میں نے گیٹ بند کیا اور اندر کی طرف چل پڑا جب ٹی وی لاونج میں داخل ہوا تو وہاں عنذہ دوپٹہ گلے میں ڈالے کھڑی تھی۔۔۔۔
اس کا چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا آنکھوں سے تو جیسے خون برس رہا تھا۔۔۔
میں اس سے کہا بیٹھ جاؤ میں کچھ پینے کے لیے لاتا ہوں۔۔۔
وہ بولی تو مجھے ایسا لگا جیسے کسی کنویں سے آواز آ رہی ہو۔۔۔
اس نے کہا نہیں مجھے پیاس نہیں لگی میرا سارا جسم ٹوٹ رہا تھا خاص طور پر وہ حصہ تو ایسے لگ رہا جیسے خشک ہو چکا ہے اس میں آگ جل رہی ہے میرا کچھ کرو نہیں تو میں مر جاؤں گی۔۔۔۔
وہ بات کرتے کرتے رونے لگ گئی اس سے تو جیسے کھڑا ہی نہ ہوا گیا وہ صوفے پر گر سی گئی ۔۔۔۔
میں نے اس کو اٹھایا تو وہ پھر لڑکھڑا گئی، میں اس کو سہارا دے کر اندر کمرے میں لے گیا جب اس کو بیڈ پر بٹھانے لگا تو اس نے میرے گلے میں باہیں ڈال دیں اور کپکپاتی آواز میں بولی میرے ہونٹ بھی خشک ہو رہے ہیں۔۔۔۔
میں اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے اور چوسنے لگا وہ تو جیسے صدیوں کی پیاسی تھی اس نے بڑی بیتابی سے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے۔۔۔۔
میں اس کے اوپر گر سا گیا ایک منٹ ہی ہونٹ چوسے ہوں گے کہ اس نے اپنی شلوار اتار دی میری پینٹ بھی اتارنے لگی۔۔۔۔
میں نے اس کو روکا اور خود کھڑا ہو کر پینٹ کھولنے لگا، جب تک میں نے پینٹ اتاری وہ قمیض بھی اتار چکی تھی۔۔۔
پینٹ اتار کر میں شرٹ اتارتے ہوئے الماری میں گیا وہاں سے کنڈوم والے پیکٹ سے کنڈوم نکالا اور لن پر چڑھاتے ہوئے عنذہ کے پاس آگیا۔۔۔۔۔
عنذہ کی نظریں میرے چہرے پر جمی ہوئی تھیں اس کے دیکھنے میں پتہ نہیں کیا کچھ چھپا ہوا تھا۔۔۔۔
ایک مجبوری، ایک لاچارگی،بے بسی میں اس کے اوپر آیا تو اس نے فوراً ٹانگیں اٹھا لیں ۔۔۔۔
میں اس کی اس قدر جلدی کو دیکھ کر حیران نہیں ہو رہا تھا کیونکہ مجھے اس کی مجبوری کا احساس تھا۔۔۔۔
میں نے لن اس کی چوت پر رکھا اس کے اوپر لیٹ سا گیا میں بھی اس وقت اس کے چہرے پر ہی نظریں گاڑھے ہوئے تھا۔۔۔۔
لن کو دبایا تو عنذہ نے آنکھیں بند کرلیں اور لن کو محسوس کرنے لگی، لن کی ٹوپی اندر گھسنے لگی۔۔۔۔
جب ٹوپی اندر گھس گئی تو اس کے چہرے پر جیسے سکون اترنے لگا، چہرے کا سخت پن غائب ہوتا گیا۔۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کیے ہوئے ایک لمبا سانس کھینچا عین اسی وقت میں نے لن کو زوردار جھٹکا دیا۔۔۔۔
لن کا ایک چوتھائی حصہ چوت میں غائب ہو گیا عنذہ کا منہ کھل گیا اس نے آہہہہ کی آواز کے ساتھ مجھے پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔۔
لیکن میں اب رکنے والا نہیں تھا میں نے لن کو پیچھے کھینچا اور ایک زوردار جھٹکا مار کر لن اندر گھسا دیا ۔۔۔۔
اب عنذہ کے منہ سے ایک زوردار چیخ نکلی اور میرے نیچے سے نکلنے کے تڑپی لیکن جب لن گھس جائے تو اتنی آسانی سے اس کے نیچے سے کون نکلنے دیتا ہے۔۔۔۔
میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اس کو اپنے قابو میں کر لیا پھر گھسوں کی مشین چلا دی۔۔۔
عنذہ چیخ رہی تھی تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی اس کے منہ سے آہہہہہ آممممم افففف اوووووووئہی آاااااں آہ آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔۔
میں جان بوجھ کر ایسے گھسے مار رہا تھا کہ اس کی چوت لو لت لگی ہوئی ہے اس کی طلب پر لن کی چوٹیں حاوی ہو جائیں۔۔۔
میں نے گھسے مارنے جاری رکھے اس کی چیخیں کچھ ہی دیر میں مزے بھری سسکاریوں میں بدل گئیں۔۔۔۔
اب وہ آہہہہہہہہ یسسسسسسس سیییی کی آوازیں نکال رہی تھی اور کہہ رہی تھی اور زور سے ایسے ہی اور زور سے کرو اہہہہہ۔۔۔
میں نے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور بیٹھ کر زور سے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
میرے سامنے اس کے بڑے بڑے ممے اچھل رہے تھے اس کے چہرے پر سکون پھیلتا جا رہا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کے چوتڑوں پر تھپڑ مارتے ہوئے گھسے مارنے جاری رکھے اور گھسوں کی رفتار بڑھاتا گیا۔۔۔۔
عنذہ نے یکدم مچلنا شروع کر دیا اس کا سر دائیں بائیں جا رہا تھا لن پر اس کی پھدی کی گرپ سخت ہو گئی لن پھنسنے لگا۔۔۔۔
اس نے مجھے اپنے اوپر گرا لیا میں بھی ٹانگوں کو کندھوں سے ٹکائے اس کے اوپر گر گیا۔۔۔۔
اس نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور چوسنے لگی میں نے اچھل اچھل کر گھسے مارنے جاری رکھے۔۔۔۔
یکدم ایسا لگا جیسے لن اندر جا کر پھنس گیا اس کی پھدی کے رنگ نے لن کو اپنے شکنجے میں کس لیا۔۔۔۔
اس کا جسم حد سے زیادہ سخت ہو گیا تھا اس میں جیسے کوئی جن سرایت کر گیا تھا۔۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگی اس کا اندر جیسے پھٹ رہا تھا مجھے کنڈوم کے باوجود پھدی کی آگ لن پر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
اس نے اپنا سارا زور لگا کر مجھے بھینچا ہوا تھا اس کے گانڈ اچھل رہی تھی۔۔۔
اس کا ہیجانی انداز دیکھ ایک بار تو میں ڈر گیا کیونکہ اس نے چیختے ہوئے میرے کندھے پر دانت گاڑھ دئیے تھے۔۔۔
کچھ ایسے ہی اس نے مجھے اور اس کی پھدی نے میرے لن کو جکڑے رکھا ۔۔۔
پھر اس کے جسم نے زور دار جھٹکا کھایا جھٹکا اتنا زور کا تھا کہ میں ایک فٹ اوپر اچھل کر رہ گیا۔۔۔۔
اگلے ایک منٹ تک اس نے اس طرح کے کئی جھٹکے کھائے اور پھر آہستہ آہستہ پر سکون ہوتی گئی۔۔۔
جب وہ فارغ ہو گئی تو اس نے اپنی گرفت ڈھیلی کر لی میں اوپر ہوا اور لمبا سانس چھوڑا۔۔۔۔
میں نے باہر نکال لیا اور کنڈوم کو اتار کر دیکھا تو اس پر پھدی کے پانی کے علاوہ کچھ گاڑھے ذرات لگے ہوئے تھے۔۔۔
میں سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ کیا ہے کیونکہ وہ کچھ منی کے لگ رہے تھے۔۔۔
میں اٹھ کت واش روم گیا اور کنڈوم سمیت لن کو دھو کر واپس آیا تو وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اس کے ممے سینے پر اچھل رہے تھے کیونکہ وہ بہت تیز تیز سانس لے رہی تھی۔۔۔۔
میں اس کے ساتھ لیٹا اور ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اور ہلکا ہلکا مساج کرنے لگا۔۔۔۔
ایک منٹ مساج کرنے کے بعد میں نے اس کے ایک ممے پر ہونٹ رکھ دئیے اور چوسنے لگا۔۔۔۔
وہ بے حس ہو کر لیٹی ہوئی تھی جیسے اس کو کچھ بھی محسوس نہ ہو رہا ہو۔۔۔
میں نے ایک ممے کو چوستے ہوئے دوسرے کو دبانا شروع کر دیا اور اچھے خاصے زور سے دبانے لگا۔۔۔
نپل کو دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹنے لگا جس سے اس کے منہ سے آہ سییی کی آواز نکلنے لگی ۔۔۔
میں نے کوئی پانچ منٹ تک یہ عمل جاری رکھا اس کا جسم گرم ہو گیا اور وہ اب سیی ہممم کرنے لگی تھی۔۔۔۔
میں اس کی ٹانگوں میں آیا اور اس کی ٹانگوں کو اٹھا کر اپنے اردگرد رکھ لیا۔۔۔۔
تھوڑا سا جھک کر اس کی پھدی کے لبوں کو کھول کر دیکھا تو ان میں اسی طرح کے ذرات لگے ہوئے تھے۔۔۔۔
میں نے دائیں بائیں دیکھا سائڈ ٹیبل پر ٹشو پڑے تھے میں نے ٹشو لیا اور اس کی پھدی کو صاف کر دیا۔۔۔۔
پھر لن کو پھدی پر دبانے لگا اب کی بار وہ قدرے سکون سے اور مزے سے لن لے رہی تھی۔۔۔
میں نے آہستہ آہستہ کرکے سارا لن اندر کر دیا اس کی پھدی کے لب پہلے ہی لال ہو چکے تھے۔۔۔
لن اندر کرنے کے بعد میں آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔
اس کے اوپر لیٹ گیا اس کے ممے میرے سینے کے نیچے دب چکے تھے۔۔۔۔
میں نے سینے سے مموں کو رگڑتے ہوئے گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔۔
اس طرح آہستہ آہستہ اسی پوزیشن میں میں پانچ منٹ لگا رہا وہ ایک بار پھر فارغ ہو گئی ۔۔۔
اس نارمل انداز سے فارغ کوئی جنونی قسم کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔۔۔۔
فارغ ہونے کے کچھ دیر بعد اس نے کہا میں تھک گئی ہوں ۔۔۔
میں نے اس کو گھوڑی سٹائل میں کر لیا اور پیچھے اس کی پھدی میں لوڑا ڈال دیا اور تیز تیز گھسے مارنے لگا۔۔۔
گھسوں سے اس کی گانڈ سے جب میرے پٹ ٹکراتے تو تھپ تھپ کی آواز پیدا ہوتی جو بہت مزہ دے رہی تھی ۔۔۔۔
میں بڑے جوش سے اس کی کمر کو پکڑے گھسے مار رہا تھا۔۔۔
اس کی گانڈ کا سوراخ بھی کافی کھلا تھا جیسے کسی نے خوب جم ایک عرصے تک اس کو کھودا ہو۔۔۔۔
میں اب اپنی منزل کے قریب جا رہا تھا میرا جسم گرم ہوتا جا رہا تھا اتنا گرم کہ دل کی دھڑکن بے قابو ہونے لگی۔۔۔۔
آج کی چودائیوں میں یہ چودائی سب سے لمبی ہو گئی تھی ایک تو کنڈوم نے لن کو سن کر دیا تھا دوسرا میری ٹائمنگ ویسے بھی کافی زیادہ تھی ۔۔۔۔
میں جھٹکوں پر جھٹکے مارتا گیا اور مسلسل مارتا رہا۔۔۔
ایک گھٹنا بیڈ پر فولڈ کیا ہوا تھا دوسرے پاؤں پر وزن ڈال کر ترچھا لن اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔۔
لن تھا کہ ٹھا کر اندر کی چیز سے ٹکراتا اس کی پھدی پانی چھوڑ چھوڑ پاگل ہو چکی تھی۔۔۔
ایک بار پھر وہ فارغ ہو گئی اور میں فارغ ہونے والا تھا اس لیے جھٹکے طوفانی ہو گئے۔۔۔۔
میں نے زور دار جھٹکے مارتے ہوئے اپنے ناخن اس کی گانڈ پر گاڑھ دئیے۔۔۔
اس کے منہ سے افففف اآآووووچ کی آواز نکلی اس نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔
میں آخری زوردار گھسا مارا اور لن پھدی کی گہرائی میں روک کر اس کی گانڈ کو دونوں طرف سے سختی سے پکڑ کر سانس روکا اور پھر ایک دم میرےمنہ سے ہممممم آہہہہہہ کی آواز نکلی اور لن نے اس کی چوت میں پانی چھوڑنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
عنذا کی چوت میں اپنا پانی چھوڑ کر میرے جسم میں سکون سا اتر گیا۔۔۔۔
میں ایک طرف ہو کر لیٹ گیا اور آنکھیں موندھ لیں ۔۔۔
عنذا نے بھی شاید خود کو بیڈ کے حوالے کر دیا تھا اور لیٹ کر سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد مجھے اپنے سینے پر پیار بھرا احساس ہوا ۔۔۔۔
میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو عنذا میرے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔
اس نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور میرے سینے پر لیٹ کر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ۔۔۔۔
سارے جہاں کا پیار اس کی آنکھوں سے جھلک رہا تھا۔۔۔
مسکراتے ہوئے ہونٹ چوم کر اس نے میرے سینے پر سر رکھا اور کہا تھینکس آ لاٹ ۔۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی لیٹی رہی پھر اٹھ کر کپڑے پہننے لگی ۔۔۔
کپڑے پہنتے ہوئے اس نے مجھے دیکھ کر مسکرانا جاری رکھا۔۔۔
جب شلوار پہن لی تو میری طرف مڑ کر دیکھتے ہوئے اس نے کہا آج مجھے پتہ چلا نشہ کس کو کہتے ہیں شایان تو جعلی نشہ کرتا تھا اور بیکار پاوڈر لگاتا تھا اصل نشہ تو اس کریم کا ہے جو تم نے آج نکالی ہے۔۔۔۔
پھر گھوم کر کمرے سے نکل گئی اور باہر کا گیٹ بند ہونے کی آواز سن کر میں ویسے ہی ننگا سو گیا۔۔۔۔
چدائی کے بعد کی نیند میں سکون بھی بہت ہوتا ہے اسی سکون میں شام تک سوتا ہی رہا۔۔۔۔
سو کر اٹھا نہا کر فریش ہوا اور کھانا کھانے کے لیے ہوٹل گیا۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد واپس آ رہا تھا کہ مجھے شک پڑا جیسے کوئی میرا پیچھا کر رہا ہو ۔۔۔۔
کچھ دیر غور کیا تو مجھے اپنا وہم لگا میں اسی انداز میں چلتا ہوا ٹاؤن میں داخل ہو گیا۔۔۔۔
ٹاؤن سنسان سا علاقہ تھا ابھی تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ مجھے پھر وہی شک ہوا۔۔۔۔
میں اپنی گلی میں مڑنے کی بجائے آگے نکل گیا اگلی مڑ کر تیز بائیک بھگائی اور اس سے بھی آگے والی گلی مڑ گیا۔۔۔۔
پھر گھوم کر بائیک دوڑاتے ہوئے اپنی گلی میں آ گیا بائیک کی لائٹ آف کر دی گیٹ کھولا اور بائیک اندر کرکے میں پیدل باہر نکل پڑا۔۔۔۔
خالی پلاٹس میں سے ہوتا ہوا دوسری گلی میں چلا گیا۔۔۔
وہی بائیک جو میرے خیال میں میرا پیچھا کر رہی تھی مجھے اس گلی میں مڑتی نظر آئی۔۔۔
میں نے دائیں بائیں دیکھ کر ایک سخت پتھر ڈھونڈا اور ہاتھ میں لے کر دیوار کے ساتھ چھپ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
بائیک گلی میں آگے بڑھتی آئی میرے دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی جیسے ہی بائیک مجھ سے پندرہ فٹ پر رہ گئی میں نے پتھر پر ہاتھ کی گرفت سخت کر لی۔۔۔۔
بائیک آگے بڑھتی آئی جب بائیک مجھ سے پانچ فٹ دور رہ گئی تو میں بھاگ کر گلی کے درمیان آ گیا ۔۔۔
بائیک والا یہ سب کر سٹپٹا گیا اور ہڑبڑی میں اس نے بریک لگا دی بائیک آہستہ ہوئی میں تب تک قریب پہنچ چکا تھا میں نے پتھر والا ہاتھ زور سے گھمایا اور پتھر ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہی اس کے سر پر دے مارا۔۔۔۔
بائیک کو کچھ سمجھ آتی اس سے پہلے اس کے سر پر پتھر لگ چکا تھا ایک بعد دوسرا پھر تیسرا وار کیا تو وہ چائیک سمیت نیچے گر گیا۔۔۔۔
بائیک بند ہو چکی تھی میں اس کے سر پر کھڑا تھا میں نیچے جھک کر پھر اس کے سر پر ایک وار کیا اور گلی میں کسی کو نہ پا کر اس سوار کو اٹھا کر کندھے پر رکھ لیا۔۔۔۔
اسے کندھے پر رکھ کر میں پلاٹ کے بیچوں بیچ گھر کی طرف دوڑ پڑا گیٹ کھول کر اس کو سٹور میں پھینکا دروازے کو لاک کیا اور پھر واپس اسی گلی میں گیا۔۔۔
بائیک کھڑی کی بند کو ہی گھسیٹ کر پلاٹ کے بیچوں بیچ اپنے گھر کے سامنے آ گیا۔۔۔
اسی طرح بائیک بھی گھر میں لے آیا اور اندر ایک خالی کمرے میں کھڑی کر دی ۔۔۔۔
کچھ کمحے رک کر سانس بحال کیا اور جس کر پستول اٹھایا اور سٹور والا کمرہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔
وہ شخص جس کے سر پر پتھر مارا تھا شکل سے ہی دس نمبریا لگ رہا تھا ابھی تک بے ہوش پڑا ہوا تھا اور اس کے سر سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔
اس کو بٹھا کر اس کے ہاتھ پاؤں ایک رسی سے باندھے اور اس کی جامہ تلاشی لی۔۔۔
اس کی جیب سے ایک فون نکلا جس کو چیک کرنے پر آخری ڈائل نمبر ملا جو میں نے سیو کر لیا۔۔۔
پھر اس کا شناختی کارڈ چیک کیا تو پتہ چلا وہ تو زیبا کے علاقے کا ہے۔۔۔
میں نے فوراً زیبا کا نمبر ملایا اور حال چال پوچھا ۔۔۔
زیبا نے کہا زہے نصیب ہمارے بھاگ جاگ گئے جو جناب صائم نواز صاحب کا فون آ گیا۔۔۔
میں نے مسکرا کر کہا میری قسمت ایسی کہاں کہ ایک حسن پایاں کو میرا نمبر ملانے کی فرصت مل جائے۔۔۔۔
وہ مسکرا دی اور بولی لگتا ہے پیادہ جناب نے شکار کر لیا جو اب ملکہ پر نشانہ داغ رہے ہیں۔۔۔
پیادہ تو گھائل ہے ملکہ کی آرزو دل میں ہی رہ گئی ۔۔۔
اس نے کہا گھائل پیادہ بھی منزل مقصود پر پہنچ جائے تو اپنی مرضی کا روپ دھار سکتا ہے۔۔۔
منزل پر تب پہنچ پاتا ہے جب وہ گھوڑوں کا گھیرا توڑ سکے اور وزیر سے آنکھ بچا کر گزر سکے۔۔۔۔
اس نے مسکرا کر کہا پیادے کا کیا قصور اس کو دو قدم چلنے کے لیے بھی مدد درکار ہوتی ہے۔۔۔
میں صرف مسکرا کر چپ ہو گیا۔۔۔۔
زیبا نے کہا بادشاہ سلامت اگر اجازت دیں تو اس پیادے کی جگہ ملکہ آپ کے زندان میں قید ہونے کو بے کراں ہے۔۔۔۔
میں نے کہا آہ ہم غریبوں کی ایسی قسمت کہاں کہ ایک ملکہ ہمیں خدمت کا موقع دے۔۔۔۔
ملکہ تو کب کی آپ کی قید میں ہے بس آپ نے ہی غور نہیں کیا ورنہ پلکیں بچھا کر سب کچھ وار دیتی ۔۔۔۔
قسمت پر ناز کروں یا خود کو کوسوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی ایک ملکہ خود مجھے اپنے تمام گوہروں سمیت اپنا آپ پیش کر رہی ہے ۔۔۔
میں خود امیر سمجھوں یا دنیا کے بدنصیب انسان کہ اس کے من کے اندر جلے دیپوں کی روشنی سے اب تک بے بہرہ رہا۔۔۔
وہ مسکرا دی اس کی کھنکھناتی ہنسی نے فون کے سپیکر میں سے ہی میرے دل کے تاروں کے سارے سر ہلا ڈالے۔۔۔
میں نے کہا دل پر جو لگا تیر وہ نہ زبان کا نہ الفاظ کا ہے جس نے دل کی سارے لے کو اس کے سنگم سے ہلا کر رکھ دیا ترنم جیسی ہنسی ہے۔۔۔
اس ہنسی میں یہ مت بھولیے کہ پیادہ زخمی ہے اور اس کو طبیب خاص کی ضرورت ہے اور جو مریض دل ہے اس کو آپ کے دیدار کی طلب ہے۔۔۔۔
اس کی بے ساختہ ہنسی نکل گئی اور کہنے لگی اس پیادے کے زخموں پر بام لگائیے اور مجھے شرف ملاقات بخشیے تاکہ میں حضور والا کا دیدار کر سکوں۔۔۔۔
میں نے کہا جان کی امان پاؤں تو کچھ عرص کروں۔۔۔
زیبا نے کھلکھلاتے ہوئے کہا اجازت دی جاتی ہے۔۔۔
آپ جہاں پدہارے ہیں مجھے اس جگہ کا بتا دیں یہ بندہ نا چیز آپ کے قدموں میں سر رکھ دے گا۔۔۔۔
اس نے اس کی ضرورت نہیں ہے آپ ذرہ دروازے پر پدہارئیے اور ہمیں اندر آنے کی اجازت عطا فرمائیں۔۔۔۔
میں ہڑبڑا کر باہر نکلا دروازہ کھولا تو دو کاریں گیٹ کے سامنے رکی ہوئی تھیں ۔۔۔
میں باہر نکلا اور ایک کار کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
کار کے اگلے دروازے سے وہی کالی کلوٹی عورت برآمد ہوئی اور بھاگ کر پچھلا دروازہ کھولا۔۔۔۔
حسین پاؤں باہر نکلے زمین پر لگے مجھے ایسا لگا جیسے ان قدموں کی توہین ہو گئی ہو۔۔۔۔
ان پاؤں کے نیچے تو مجھے اپنی پلکیں بچھا دینی چاہئیں۔۔۔
میں یہی سوچ رہا تھا کہ وہ حسن و خوشبو بکھیرتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔۔
میرا سر خودبخود اس کے احترام میں جھک گیا میں نے جھک کر ہاتھ ماتھے تک لا کر اس کو سلام کیا۔۔۔۔
وہ بڑے انداز سے مسکرائی اور ہاتھ ماتھے تک لا کر میرے سلام کا جواب دیا۔۔۔۔
میں نے ہاتھ کے اشارے سے اندر آنے کا کہا اور اسی طرح جھکا رہا۔۔۔
اس نے اپنے ساتھ کھڑی عورت کے کان میں کچھ کہا وہ عورت پچھلی کار کے پاس گئی اس میں سے دو آدمی باہر آئے۔۔۔
ہم گھر میں داخل ہوئے وہ دو آدمی بھی اندر آئے ۔۔۔
اندر آ کر زیبا نے مجھ سے پوچھا اس کو کہاں باندھا ہوا ہے۔۔۔
میں نے سٹور کی طرف اشارہ کیا اس نے آنکھ کے اشارے سے ان دو آدمیوں کو اشارہ کیا۔۔۔
وہ دونوں سٹور میں گئے اور اس کو اٹھا کر نکل گئے۔۔۔
پیچھے صرف حبشی عورت اور زیبا دونوں رہ گئیں۔۔۔
میں نے فون نکالا اور ارشد کو فون کرکے زیبا کا بتایا اور کہا کسی کے ہاتھ کچھ کھانے پینے کے لئے تو بجھوا دو ۔۔۔۔
میرے فون کے پانچ منٹ بعد باہر بیل ہوئی مزے کی بات ہم دونوں جو اتنی دیر سے فون پر باتیں کر رہے تھے آمنے سامنے آتے ہی دونوں کی بولتی بند ہو گئی تھی۔۔۔۔
میں مسکرا کر اٹھا اور باہر گیا دروازے پر ایک لڑکا چار پانچ پیکٹس لیے کھڑا تھا اس نے وہ سب کچھ مجھے پکڑایا ۔۔۔
میں اندر لایا کچن کی طرف بڑھا ہی تھا کہ زیبا کی ساتھی عورت اٹھ کر آئی اور میرے ہاتھ سے تقریباً چھینتے ہوئے وہ سب کچھ لے کر کچن میں چلی گئی۔۔۔۔
میں واپس صوفے پر بیٹھتے ہوئے زیبا سے پوچھا کیسی گزر رہی ہے۔۔۔
زیبا نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا بڑی اچھی گزر رہی تھی کوئی ٹینشن نہیں تھی بڑا رعب و دبدبہ تھا۔۔۔
علاقے میں ایک نام تھا ہر کوئی اس نام سے خوف کھاتا تھا۔۔۔
بڑی بے خوفی اور مزے کی زندگی گزر رہی تھی یوں کہنا چاہئیے کہ لوگوں پر راج کر رہی تھی ۔۔۔
یہ سب کچھ تو اب بھی ہے لیکن اب اندر ایک قلق سا ہے جو روز بروز بڑھتا جس رہا ہے۔۔۔
میں نے پوچھا کیا ہوا ہے بڑی دکھی لگ رہی ہیں آپ جیسی بہادر لڑکی کا یوں دکھی ہونا بنتا نہیں ہے۔۔۔
اس نے بڑے غور سے میرے چہرے کو دیکھا اور بولی جس دن سے تم نے وہاں سے دارے خاں کو نکالا ہے اس دن سے میرے اندر عورت ہونے کا حساس شدت سے پیدا ہو چکا ہے۔۔۔
میں یہ سوچنے لگی ہوں کچھ بھی ہو جائے عورت مرد کی برابری نہیں کر سکتی جیسے تم نے مجھے بے بس کر کے میرے ہی علاقے میں میرے اتنے آدمیوں کے سامنے سے اٹھایا تھا اس دن سے میرا سارا غرور مٹی ہو گیا ہے۔۔۔
مجھے یہ سب بھی منظور ہے اس کا اتنا دکھ نہیں ہے لیکن جو کچھ میرے اندر پیدا ہو چکا ہے۔۔۔
جتنی توڑ پھوڑ میرے اندر ہو چکی ہے جو نرمی جو احساس جاگ چکا ہے اس کا میں کیا کروں مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔
اسی وقت اس کی ملازم عورت کھانے پینے کی چیزیں ڈال کر لے آئی اور ٹیبل پر لگانے لگی۔۔۔۔
اس کے ہم نے ہلکا پھلکا کھایا اور جوس پیا اس دوران کوئی خاص بات نہ ہوئی ۔۔۔
کھانے کے بعد برتن اٹھانے کے لیے وہ عورت پھر واپس آئی۔۔۔
پھر زیبا نے کہا ان سب باتوں کو چھوڑو مجھے پتہ چلا ہے تم پر کسی نے حملہ کروایا تھا، کون ہے جس نے یہ کام کیا ۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا ہو گا کوئی جس کا میری وجہ سے نقصان ہوا ہوگا،کوئی ایک ہو تو بتاؤں ۔۔۔
زیبا نے نے کہا مجھے اتنا پتہ ہے کہ جس نے یہ حملہ کروایا ہے وہ میرے علاقے میں بھی یہ دھندا کرتا ہے۔۔۔
اس کو کافی بار روکنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کی سپورٹ میں پولیس آ جاتی ہے اور سارے سیاست دان تو پہلے ہی میرے خلاف ہیں۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں مجھے زیبا کو یہاں دیکھ کر عجیب سا لگ رہا تھا۔۔۔
اچانک میرے اندر خیال پیدا ہوا کہ کہیں ہم دونوں کو ایک جگہ پا کر کوئی فایدہ نہ اٹھا لے ہم پر حملہ نہ ہو جائے۔۔۔
میں اٹھا اور زیبا کو کہا یہاں خطرہ ہو سکتا ہے مجھے عجیب سا لگ رہا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے۔۔۔
زیبا بھی کھڑی ہو گئی اور اس نے موبائل نکال کر اپنے بندوں کو کال کی لیکن ان کے نمبر بند تھے۔۔۔۔
اس نے اپنی ملازمت عورت کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا ان لوگوں کو کب تک آنے کا کہا ہے۔۔۔
اس عورت نے کہا آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ جب فون کریں تب وہ لوگ آجائیں۔۔۔۔
زیبا نے کہا شبو کا نمبر بند ہے دوسرے نمبر ملا کر چیک کرو۔۔۔
میں نے حسب معمول ناصر پر ہی بھروسہ کیا اور اس کا نمبر ملایا۔۔۔
ناصر کو ساری بات بتائی وہ ہنسنے لگا یار تیرے پاس کوئی جن ہیں جو یہ سب پتہ کر لیتے ہیں یا عین اسی وقت فون کرتے ہو جب کچھ ہونے والا ہوتا ہے۔۔۔۔
میں ہنسنے لگ گیا اس نے کہا تمہارا اندازہ درست ہے اگلے بیس منٹ میں تمہارے گھر پر حملہ ہونے والا ہے، میں نے لڑکوں کو بھیج دیا ہے لیکن میری معلومات کے مطابق تم اکیلے نہیں ہو تمہارے ساتھ کوئی عورت بھی ہے جس سے ان لوگوں کو کوئی پرانا بدلا لینا ہے۔۔۔۔
میں نے کہا ہاں صحیح کہہ رہے ہو چلو لڑکوں کے پہنچنے سے پہلے ہم یہاں سے نکل جائیں گے کوئی گھر بتاؤ اچھا سا جہاں ہم رات گزار سکیں ورنہ یہ رات سارے شہر کے لیے مشکل پیدا کر دے گی۔۔۔۔
اس نے ایک ایڈریس میسج کرنے کا کہا اور مجھے فوراً نکلنے کا کہا۔۔۔
میں اندر گیا پستول نکال لیے دونوں کی میگزین چیک کریں اور زیبا سے پوچھا کوئی ہتھیار ہے تو چیک کر لو کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔۔
اس کی ملازم عورت بھی موجود تھی اس نے ہتھیار نکال کر چیک کیے میں ان دونوں کو لے کر پچھلے دروازے پر گیا اور باہر نکل کر کہا خالی پلاٹ میں چھپ جاؤ میں بائیک لے کر آتا ہوں۔۔۔۔
میں سامنے والے دروازے پر آیا بائیک نکالی اور گیٹ بند کر دیا بائیک سٹارٹ کی لمبا چکر کاٹ کر پچھلی گلی میں گیا۔۔۔۔
زیبا اور اس کی ملازمہ دونوں اس گلی میں موجود تھیں میں نے ان کو پیچھے بٹھایا اور چل پڑا۔۔۔۔
میرے پیچھے زیبا تھی جس کے جسم کی نرمی نے اتنی ٹینشن میں بھی میرا لن ٹائٹ کر دیا تھا۔۔۔۔
میں چلتے ہوئے ہنی کے بھائی کا نمبر ملایا اور اس سے پوچھا کہاں ہو۔۔۔
اس نے کہا میں تو لاہور ہوں خیریت ہے۔۔۔
میں اس سے کہا ایک فیملی آئی تھی رات سونے کے لیے جگہ چاہئیے تھی میرا تو آپ کو پتہ ہے اکیلا رہتا ہوں تو لوگ غلط سوچیں گے۔۔۔۔
اس نے کہا چلے جاؤ میں ایک لڑکے کو کہتا ہوں وہ چابی لے کر گیٹ پر کھڑا ہوگا۔۔۔
میں شکریہ ادا کیا اور بائیک کی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔
ہم ایک طرف سے گھوم کر ٹاؤن کے مین گیٹ پر آئے تھے جس کی وجہ سے ہمیں کوئی دیکھ نہ پایا۔۔۔
جب ہم گیٹ سے کچھ فاصلے پر تھے دو گاڑیاں بڑی تیزی سے ٹاؤن میں داخل ہوئیں لیکن ان کا رخ میرے گھر والی گلی جب کہ ہم دوسری گلی میں آ رہے تھے۔۔۔۔
زیبا نے گاڑیاں دیکھ کر ہی کہا یہ شمروز کی گاڑیاں ہیں بڑا کنجر بندہ ہے۔۔۔۔
میں نے شمروز کا نام سنا ہوا تھا کہاں سنا تھا یہ نہیں یاد تھا لیکن سنا ضرور ہوا تھا۔۔۔
زیبا نے کہا اس کے بارے میں تفصیل سے بتاؤں گی ابھی کہیں پہنچ جائیں۔۔۔۔
ہم تھوڑا دور گئے تھے کہ ناصر کا فون آیا میں نے فون سنتے ہوئے کہا میں نکل آیا ہوں وہاں اب کوئی بھی نہیں ہے بعد میں ساری بات بتاتا ہوں اور فون کاٹ دیا۔۔۔۔
بیس منٹ کا سفر میں نے مزے لیتے ہوئے تیز بائیک چلاتے ہوئے دس منٹ میں طے کیا ۔۔۔۔
جب بلوچ ہاوس کے سامنے پہنچے تو ایک لڑکا وہاں موجود تھا ہمارے رکتے ہی اس نے چابی دی اور نکل گیا۔۔۔۔
میں اتر کر گیٹ کھولا زیبا اور اس کی ملازمہ گھر میں داخل ہو گئیں میں نے بھی بائیک اندر کی اور گیٹ بند کرکے اندر چلا گیا۔۔۔۔
گھر کا اندرونی دروازہ کھول کر ہم لوگ اندر چلے گئے ۔۔۔۔
زیبا نے اپنی ملازمہ کو آرام کرنے کا کہا وہ ایک کمرے میں چلی گئی اور ہم وہاں صوفوں پر بیٹھ گئے۔۔۔۔
شمروز کے بارے میں زیبا نے بتانا شروع کیا کہ یہ بہت بڑا بزنس مین ہے سیاستدان لوگوں سے اس کے مراسم ہیں ان کو سپورٹ کرتا ہے وہ اس کی سپورٹ کرتے ہیں۔۔۔۔
یہ طرح طرح کی منشیات فروخت کرتا ہے اس کے علاوہ بھی کئی غیر قانونی کاروبار ہیں ۔۔۔۔
اس نے بتایا کہ اس کا ایک بیٹا ہے جو اس کے ناجائز کاموں میں اس کا ساتھ دیتا ہے یہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتا۔۔۔۔
ہر قسم کے جرائم میں ملوث ہے اس کے پاس اپنے بندے ہیں جن کو یہ صرف ایسے کاموں کے کیے استعمال کرتا ہے۔۔۔۔
اس کی سب سے بری عادت ہے یہ اپنے دشمنوں کی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے اور اس سے بلیک میل کرتا ہے۔۔۔۔
اس کے بیٹے کا نام شایان ہے جو پچھلے دنوں تم نے پکڑوا دیا ہے لیکن وہ آزاد پھر رہا ہے اس کی جگہ پر کوئی بندہ اندر ہے یہ بات بھی مجھے معلوم ہے۔۔۔۔
شایان کے بارے میں جان کر مجھے سب پتہ چل گیا ہے شمروز کون ہے یہ وہی بندہ ہے جس سے تھانے میں ملاقات ہوئی تھی جو بڑا بول رہا تھا۔۔۔۔
میں نے زیبا کی طرف دیکھا اور کہا تو آج رات اس کے اڈوں پر اٹیک کر دیں اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کرے۔۔۔۔
وہ مسکرائی اور کہنے لگی اس کے کتنے اڈے ہیں جانتے ہو جو تم نے پہلے تباہ کیے ہیں ان میں اس کا کوئی بھی مین اڈا نہیں تھا۔۔۔۔
میں ہنسنے لگا اور کہا اس نے جو مال جہاں جہاں چھپایا ہے مجھے سب پتہ ہے اگر یقین نہ ہو تو ابھی میرے ساتھ چلو میں دکھاتا ہوں۔۔۔۔
وہ کچھ نہ بولی اس کا مطلب تھا اس کو یقین نہیں آیا میری بات پر اور وہ یقین کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔
میں نے بارش کو فون کیا اور اس کو گاڑی لانے کا کہا ساتھ ہی ارشد کو بھی فون کر دیا کہ تیار ہو جاؤ ابھی نکلنا ہے۔۔۔
ناصر کو میسج کیا کہ کچھ لڑکوں کو شمروز کی فیکٹری کے پاس بھیج کر پتہ کرواؤ وہاں کیا صورتحال ہے۔۔۔
میں اٹھا اور زیبا سے کہا چلیں پھر ساتھ میں سب کچھ دکھاتا بھی ہوں اور مل کر اڑاتے بھی ہیں۔۔۔۔
زیبا نے مسکرا کر کہا چلو دیکھ لیتے ہیں لیکن میرے بندوں کا فون آ جانے دو ۔۔۔
اس کی بات کا مطلب بھی ڈبل تھا اس کا انداز بتا رہا تھا وہ بھی کسی مشن پر آئی ہے یہاں لیکن مخبر اس کی اطلاع دے چکے تھے۔۔۔۔
اگلے بیس منٹ ہمارے ایسی ہی باتوں میں گزر گئے پھر مجھے بارش کا فون آیا کہ وہ گاڑی لے آیا ہے۔۔۔۔
جب ہم باہر نکلے تو گاڑی موجود تھی جس کی فرنٹ ہر بارش اور سفارش دونوں موجود تھے اور پیچھے دو بائیکس تھیں جن پر دو چار لوگ تھے۔۔۔
بارش کو میں نے ایک ایڈریس بتایا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔
گاڑی چلی زیبا نے اپنا پرس کھولا اور اس میں سے کچھ پرزے نکال کر جوڑنے لگی۔۔۔
اس نے ایک لمبا پستول بنا لیا اور میگزین فٹ کرکے مجھے دکھاتے ہوئے کہا یہ پستول میرے شوہر کا ہے آج تک میں نے اس سے ایک فائر بھی نہیں کیا لیکن آج دل کر رہا ہے کہ اس ہو خالی کر دوں۔۔۔۔
گاڑی چلی بائیکس آگے نکل گئیں کافی فاصلہ رکھ کر بائیکس چل رہی تھیں۔۔۔
زیبا نے کہا میں نے کہا تھا کہ میرے بندوں کا فون آ جانے دو لیکن تم نے انتظار نہ کیا ۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا وہ تو کب کے پکڑے جا چکے ہیں ابھی ان کو ہی چھڑوانے جا رہے ہیں۔۔۔۔