
میں جنگل نما نرسری سے نکل کر گھر کی طرف چل پڑا ۔۔
وہاں ٹاون کے اس بلاک میں ایک اور گھر تھا جن کو خان کہتے تھے ذات تو ان بلوچ تھی ان ایک ہی لڑکی تھی بہت خوبصورت نین نقش فربہ جسم کی مالک آ نکھوں میں بلا کی چمک تھی سرخی مائل رنگت تھوڑے موٹے ہونٹ موٹی سی ناک گول مٹول منہ اور اس کے جسم کا سب متاثر کن عضو اس کی پتلی کمر تھی ۔۔۔
بھاری جسم کے باوجود اس کی کمر بہت پتلی تھی جس سے اس کا فگر آتش انگیزی پھیلاتا تھا۔۔
اس کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی لیکن وہ گھر گھر کے دروازے میں یا بالکونی میں نظر آ جاتی تھی۔۔۔
ایک آدھ بار میں اس کو گھر کے دروازے کھڑے ہو کر نوکرانی سے صفائی کرواتے دیکھا تھا ۔۔۔
جب میں صبح صبح پھدی سے لن کی سیوا کروا کر مستی سے سرشار چلتا آرہا تھا اچانک ان کی گلی کا موڑ مڑتے ہی مجھے وہ دروازے میں کھڑی نظر آگئی بغیر دوپٹے کے کھلے بال ہاتھ میں پانی والا پائپ پکڑے باہر پانی کا چھڑکاؤ کر رہی تھی۔۔
میں تو اس کو دیکھتے کی ٹلی ہو گیا۔۔ اس کا جسم آگ کا دہکتا گولا لگ رہا تھا میرے تن بدن میں اس کے فگر نے آگ لگا دی۔۔
قمیض کے کھلے گلے میں سے جھانکتے اس کے مسمی چست پاجامے میں اس کی پھنسی ٹانگیں باہر کو نکلے کولہے اس کی قمیض کو اٹھائے کھڑے تھے۔۔۔۔
باہر کو نکلے کولہے بھی عجب نظارہ پیش کر رہے رہے تھے شلوار تو جو چست تھی سو تھی قمیض بھی جیسے اس کو پہنا کر سلائی کی گئی تھی اتنی ٹائٹ قمیض کہ لگتا تھا جیسے اس نے کچھ زیب تن نہیں کیا ۔۔۔اوپر سے اتنی شارٹ کہ گھٹنوں سے کافی اوپر تک جیسے آج کل لانگ شرٹ ہوتی ہے۔۔
اس کے جھلکتے ممے اور مموں کی واضح ہوتی کلویج سفیدی برساتے مموں کے نپل جو قمیض کو پھاڑنے می کوشش میں تھے۔
میرا دل تو اس کو پکڑ کر چودنے کا کر رہا تھا لیکن کیا کر سکتا تھا ایک تو اس کے بھائی کا بہت دبدبہ تھا اوپر سے اس کی شخصیت کا بہت رعب تھا۔۔۔
اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور پھر اپنے کام میں مگن ہو گئی میں بھی ڈھیٹ بنا کھڑا اس کے حسن پر آنکھیں سینکتا رہا لیکن اس نے اپنے عریاں ہوتے مموں کی کوئی پروا نہ کی چھڑکاؤ کرتی رہی اور پھر اندر چلی گئی۔۔۔
پھر اس کی نوکرانی نکلی مجھے دیکھ کر مسکرائی اور میرے پاس سے گزر کر مارکیٹ کی طرف چل دی۔۔۔
مجھے کچھ اور تو نہ سوجھا میں اس کے پیچھے چل پڑا ۔۔
اس کے قریب پہچ کر اس کو بلایا گل سن میری وہ آگے سے شستہ اردو میں بولی جی فرمائے کیا فرمانا ہے آپ نے۔۔۔۔
میرے منہ سے نکل گیا دوستی کرنی ہے تم سے وہ میری طرف رک مر دیکھنے لگی اور اپنی آنکھوں سکیڑ کر بولی کیا کرنی ہے ۔۔
میں غلطی سے بول گیا تھا اب کیا ہو سکتا تھا چنانچہ اپنی بات دہرا دی ۔
دوستی کرنا چاہتا ہوں تم مجھے اچھی لگتی ہو۔۔ مزے کی بات میں اس کو آج سے پہلے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا تھا اور تو اور کبھی اس سے بات ہی نہیں کی تھی ۔۔
بس اچانک ہی منہ سے نکلا تو میں نے سوچا چلو نکل گیا تو کیوں نہ کوشش کی جائے ۔۔
اس نے کہا اچھا چلو سوچ کر بتاؤں گی ۔۔
میں پوچھا کب۔۔
تو اس نے کہا دوپہر میں آنا اس سائیڈ کے سب لوگ سو جاتے ہیں اور اس وقت گھر پر بھی کوئی نہیں ہو گا آج اس وقت آنا پھر بتاؤں گی۔۔
میں تو حیران ہو گیا اتنا تیزی کمال ہو گیا اتنی آسانی سے پٹ جائے گی اس کے بارے میں سوچا نہیں تھا۔۔۔
اوکے کہہ کر میں وہاں سے اس نے اگے نکل گیا اور ایک اور گلی میں مڑ کر لمبہ چکر کاٹ کر گھر آیا ۔۔
نہا دھو کر تازہ دم ہوا اور پڑھنے کے جانے کے لیے گھر سے نکلا میں گھر سے نکلا گلی میں آیا ۔۔
ساتھ ہی تو شانزل کا گھر تھا مجھے شانزل بھی سکول بیگ میں تیار کھڑی ملی اس کی امی بھی ساتھ تھی۔۔
شانزل کی امی نے مجھے آواز دی وے بلو گل سن ۔
میں ان کی طرف گیا اور کہا جی
کہنے لگی شانزل نوں وی نال لئی جا اج اہندا رکشا خراب کو گیا اے۔۔
میں نے کہا میں نے آج سیدھا گراؤنڈ جانا کے اج ہمارا سپورٹ ڈے ہے ۔
اس نے بہت کہا شانزل نے اشارہ کیا لیکن نہ مانا ۔۔
مجھے بیت عجیب لگ رہا تھا اس کی امی مجھے اس کے ساتھ جانے کا کہہ رہی تھی اور میں نے رات ہی اس پھدی ماری پتہ نہیں کیوں مجھے گڑ بڑ کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔
میں وہاں سے سیدھا کالج گیا گیارویں کلاسمیں ہو چکا تھا۔۔ سن 2003 شروع ہو گیا تھا پیپرز ہو چکے تھے لیکن اچھی رزلٹ نہیں آیا تھا ۔۔
لیکن مجھے میرے والد صاحب پہلے ہی ایک اکیڈمی جوائن کروا دی تھی کیونکہ ان کے خیال میں ایک ذہین طالب علم تھا۔۔۔ اس لییے مجھے fsc نان میڈیکل میں ایڈمشن دلوانا چاہتے تھے اور سبجیکٹ بھی چن لییے گئے تھے۔۔
بس پھر میں ٹیوشن پڑھنے جاتا رستے میں بھونڈی کرتا لڑکیاں تاڑتا آج کل نوکرانیاں بہت سیکسی ا گئی تھیں ان پر لائن مارتا کوئی تو ہاتھ چڑھے گی نکالنا تو اپنا پانی ہی ہے یہ سوچ غالب ہوتی تھی۔۔۔
میں نے شانزل کو ساتھ لے جانے سے انکار کیا تو مجھے رات کے واقعات یاد آئے پھر اس کے لمبے بال اس کا سڈول جسم یاد آیا اور پھربات کہیں اور نکل گئی۔۔
ان دنوں مجھ میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں لیکن ایک بات تو طے شدہ تھی کہ مجھے کوئی اچھا لگنے لگا تھا ابھی کل ہی کی بات تھی کہ میں نے ایک ماہ پروین کو اپنے ہونٹوں سے پھول برساتے دیکھا تھا ۔۔
دن کی حالت عجیب تھی رات کی اس سے بھی عجیب تھی پھدی شانزل کی مار رہا تھا چہرہ کسی کا سامنے تھا بال شانزل کے دیکھے سراپا کسی کو لہرا گیا۔۔
اب پھر سے وہی چہرہ آ نکھوں میں گھوم گیا میں جو ٹیوشن پڑھنے جا رہا تھا اپنا رخ بدلا اور گاؤں کی طرف مڑ گیا بس اڈے گیا بس کا انتظار کیا بس تیا ر ہوئی سوار ہوا بس چلی میں بے چین ہو گیا بس ایک ہی بات ذہن میں تھی کہ میں حسن کی ملکہ کا دیدار کرنا ہے۔۔
اس سراپائے حسن کو دیکھنا ہے باقی سب پردے کے پیچھے چھپ گیا بس چل رہی تھی مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے کھڑی ہے۔ بار بار باہر دیکھ رہا تھا بس ہچکولے کھاتی چل رہی تھی مجھے تسلی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
مجھے ایک ایک منٹ۔ صدیوں کے برابر لگ رہا تھا کوئی ہوش نہیں تھا بہت مشکل سے خود کو سنبھال رہا تھا۔۔
میرا دل کر رہا تھا اڑ کر پہنچ جاؤں اور جا کر اس حسین مورت کے سامنے ہاتھ بندھ کر کھڑا ہو جاؤں اور اپنے دل کا حال بیان کروں اپنا دل کھول کر اس مے سامنے رکھ دوں۔۔
اپنے دل کی کیفیت کو الفاظ کا روپ دے کر اس کے سامنے پیار کی عرضی ڈال دوں۔۔۔
اس کے پاؤں گر کر پیار کی بھیک مانگوں پتہ نہیں کیا کچھ سوچتا جا رہا تھا۔۔
میری حالت ایک مجنوں کی سی ہو گئی تھی ۔۔
میں سوچوں میں گم تھا کہ بس کے کیلنڈر کی آواز کانوں میں پڑی وہ اس ماہ نور کے گاؤں کا نام پکا رہا تھا ۔۔میرے جسم میں اس کے گاؤں کا نام سن کر جان آ گئی ۔۔
ایک دم اچھل کر کھڑا ہوا اور بھاگ کر گیٹ پر پہنچ گیا ادھر ادھر دیکھے بنا بس سے اتر کر تیزی سے اس رستے کی طرف چل پڑا جو میرے گاؤں کی طرف جاتا تھا جہاں اس میری آنکھوں میں انمٹ نقش جھوڑ جانے والی میٹھے میٹھے احساس سے روشناس کروانے والی مٹیار ملی تھی۔۔۔
دل میں خواہشات کا ایک طوفان برپا تھا
پاؤں اٹھتے ہی جا رہے تھے بھاگنے کے سے انداز میں چلتا جا رہا تھا ۔۔۔
یہ سوچے بنا کہ وہ اس وقت ملے گی بھی کہ نہیں بس ایک ہی سوچ تھی کہ میں اسی جگہ جانا ہے جہاں اس ماہ رخ کو دیکھا تھا۔۔۔
نہ نام کا پتہ نہ اس کے دل کے حال معلوم پتہ نہیں اس کو یہ بھی یاد ہو گا کہ نہیں میں اس کو ملا تھا۔۔۔
گلیوں سے گزر کر فصلوں کے بیچ بنی پگڈنڈی پر جا پہنچا دماغ میں اس دن والے مناظر چل رہے تھے پاؤں کہیں رکھتا پڑ کہیں رہے تھے کل ملا کر اپنے حواس میں نہیں تھا۔۔۔
یکدم پاؤں پھسلا نیچے گرا پھر اٹھنے کی کوشش میں گرا لیکن پھر سنبھلتے ہوئے اٹھا۔۔۔
اٹھ کر اپنے کپڑوں پر نظر دوڑائی جینز کی پینٹ پر جا بجا کیچڑ لگ چکا تھا کتابیں بھی کیچڑ سے تر بتر تھیں ہاتھ بھی بھر چکے تھے۔۔۔
میں ہاتھوں کی مدد سے کیچڑ صاف کرنا شروع کیا ہی تھا کہ کانوں میں رس گھولتی ہنسی سنائی دی ۔۔۔
یہ ہنسی ہی تھی جس کی سر نے مجھے مجنوں سا کر دیا تھا ۔۔۔
یہ ہی وہ پر ترنم کھنکھناتی ہنسی تھی جس کا جادو مجھ جیسے ٹھرکی پر چک چکا تھا ۔۔۔
میں نے جلدی جلدی سے اپنے کپڑے جھاڑنے لگا لیکن میرے قسمت ہی خراب تھی ہاتھ بھی کیچڑ سے لتھڑ چکے تھے۔۔۔ جہاں جہاں صاف کرتا وہاں بجائے صاف ہونے کے اور کیچڑ لگ جاتا۔۔۔۔
لیکن ہنسی تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔
مجھ سے اب اور برداشت نہ ہوا میں مڑ کر ہنسی کی آواز میں دیکھا تو آنکھ جھپکانا بھول گیا۔۔۔۔۔
اپنی تمام تر حشر سامانیوں سمیت گلابی لباس زیب تن کیے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ہنستی ہوئی پری چہرہ ہستی وہی ہی تھی جس کے حسن کی ایک جھلک نے مجھے اپنے بس میں کر لیا تھا۔۔۔
وہ مجھ سے کچھ دور اپنے گھر کی دیوار پر کھڑی مجھے ہی دیکھ رہی تھی شاید وہ جس جگہ کھڑی تھی وہ چھت پر جانے والی سیڑھیوں کی تھی۔۔۔
میں اس کو دیکھتے ہوئے اپنی کتابیں بھول کر اپنے کپڑوں کو بھلا کر اس کی طرف آنکھیں جھپکانے بغیر چل پڑا۔۔۔۔
اس سے کچھ فاصلے پر دیوار کے قریب پہنچ کر دیکھتے ہوئے کہا کیا حال ہے؟
اس نے دائیں بائیں دیکھا اور آنکھیوں حیرت سموتے ہوئے بولی ہییییں کیا مطلب؟
میں نے کہا حال چال ہی پوچھا ہے میں کچھ غلط کہہ دیا کیا؟؟
وہ بولی لیکن حال چال پوچھنے کی وجہ ۔۔۔۔
کیا میں آپ کو جانتی ہوں ؟؟
یا میرا اور آپ کا کوئی رشتہ ہے؟
میں کہا آہ کیا بتاؤں میرے دل میں تمہارے لیے کیا کچھ ہے میں نے تم سے کیسا رشتہ بنا لیا ہے۔۔۔
وہ بولی ایک منٹ کیا کہہ رہے ہو میں تو آپ کو جانتی تک نہیں اور اپ رشتے تک پہنچ گئے۔۔۔۔
ظالم نے میرے ارمانوں پر پانی پھیر دیا میں اب کیا کہتا بجھے دل کے ساتھ کہا سچ میں آپ مجھے نہیں جانتیں۔۔۔
وہ بولی نہیں۔۔۔۔
میں نے کہا اس دن وہ وہاں میں شہر جا رہا تھا آپ گنگنا رہی تھیں میں آپ کی گنگناہٹ میں محو ہو گیا تھا ۔۔۔
آپ نے۔۔۔۔
ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ وہ بول پڑی تو کیا اس یہ مطلب ہو ا کہ ہمارا رشتہ بن گیا۔۔۔
میں نے کہا میرا یہ مطلب نہیں تھاوہ تو میں بسسس۔۔۔۔
وہ تیزی سے بولی ایک منٹ تم ٹیوب ویل پر جاو جا کر اپنا حلیہ درست کر و پہلے اور اس کے بعد اپنا رستہ ناپو جاؤ شاباش۔۔۔
یہ کہہ کر وہ نیچے اتر گئی میں ڈوبتے دل کے ساتھ وہ سے ٹیوب کی طرف چل پڑا۔۔۔
میرے قدم من بھر کے ہو رہے تھے چلنا دوبھر ہو رہا تھا لیکن اب جانا تو تھا ہی سو چلتا گیا ۔۔۔۔۔
ٹیوب ویل پر جا کر اپنے کپڑوں پر نظر ڈالی تو مجھے اپنی کتابیں یاد ائیں میں واپس گیا کتابیں اٹھائیں اور پھر ٹیوب ویل پر کپڑوں سمیت نہایا ۔۔۔۔
خود کو اچھی طرح صاف کیا چہرہ مل کر صاف کیا اور شرٹ اتار کر سوکھنے کے لییے ڈال دی۔۔۔۔
پھر اچھی طرح نہایا نہا کر پھر واپسی کے لیے نکل پڑا دل کے سارے ارمان اس کیچڑ کے ساتھ بہہ گئے۔۔۔
واپس سٹاپ پر آیا بس میں کچھ وقت تھا ایسے ہی وہاں کھڑا ہو کر بس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
کچھ دیر میں بس آ گئی میں بھی کچھ اور زنانہ سواریوں کے ساتھ سوار ہو گیا اور شہر آ کر اترا اور بلاوجہ ادھر ادھر گھومتا رہا ۔۔۔۔
جب کافی وقت گزر گیا چھٹی کا وقت بھی ہو گیا تھا تو گھر آگیا ۔۔۔
گھر ا کر ایسا انداز اپنایا جیسے بہت پڑھ کر آیا ہوں۔۔۔سے
کھانا وغیرہ کھایا اور سو گیا رات بھی کافی دیر جاگا تھا صبح جلدی اٹھ جاتا تھا اس لیے نیند آگئی۔۔
عصر کے وقت اٹھا کھانا وغیرہ کھایا۔ اور باہر کھیلنے نکل گیا۔۔۔۔
گراؤنڈ میں کھیل رہا تھا کہ وہ ہی صبح والی نوکرانی اس کانام تک نہیں پوچھا تھا وہاں سے گزی مجھے مسکراہٹ پاس کی ۔۔۔
اس کی مسکراہٹ کئی دوستوں نے نوٹ کی تھی۔۔۔۔
وہ ایک بار گزری دوبارہ پھر گزری اس بار جب وہ گزری تو میں باؤنڈری پر فیلڈنگ مر رہا تھا وہ میرے پاس سے گزرتے ہوئے بولی میری بات سن لو وہاں آ کر۔۔۔۔۔
میں کچھ دیر بعد بہانہ لگا کر اس کے پیچھے گیا وہ ایک گلی کی نکڑ میں کھڑی تھی۔۔۔
میں اس نے قریب گیا تو وہ بولی تم آج آئے کیوں نہیں میں نے بہت انتظار کیا تمہارا۔۔۔
میں نے کہا ایک کام آ گیا تھا بہت ضروری کام تھا اس لییے مجھے گاؤں جانا پڑ گیا تھا۔۔۔
اس نے جو بھی ہے تم نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔
میں بولا سمجھو بھی مجبوری تھی ورنہ میں لازمی آتا ۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے کوئی آ نہ جائے تم کل آ جانا ٹھیک 11 بجے۔۔
میں اوکے کہا اور وہ اپنے رستے چل دی میں اپنے رستے۔۔۔۔
اس دن اور کوئی خاص نہ ہوا شام تک کھیلتے رہے اور پھر اپنے اپنے گھر چلے گئیے۔۔۔
شام کو شانزل کی امی آ گئی شانزل بھی ساتھ ہی میں نے ہی دروازہ کھولا تھا۔۔۔
اس کو اپنی امی کے ساتھ دیکھ کر مجھے لگا کہ لے بلو کاکے اج تیری خیر نہیں۔۔۔
لگدا اے تیری شکایت لگی تے لگی۔۔۔۔
اس کی امی کا انداز بھی غصے والا تھا جب میں دیکھا تو وہ مجھے غور رہی تھی اس سے میری ہوا اور ٹائیٹ ہو گئی۔۔۔
میں اندر کمرے میں گھس گیا ایسے ہی کتاب کھول کر بیٹھ گیا لیکن دماغ باہر ہی لگا تھا۔۔۔
مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا پھر بھی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
یکدم شانزل کی امی نے اونچی آواز میں مجھے بلایا وے بلو باہر آ میری گل سن ۔۔۔
یہ آواز میرے لیے تازیانے سے کم نہ تھی میں ڈرتے ڈرتے باہر گیا اور بولا جی۔۔۔
اس نے کہا شانزل نوں ریاضی نیں آندی میں تیری امی نال گل کر لئی اے تو شانزل نوں پڑھا دیا کریں۔۔۔
اس نے میری امی کی طرف دیکھا اور کہا خالا تو وی آکھ دے میری تاں اے گل نیں منندا۔۔۔
عجیب محلے داریاں تھیں شانزل کی امی میری امی کو خالا کہتی تھی اور ہم سب بھائی بہن اس کو باجی کہتے تھے اور باقی تو آپ جانتے ہی ہیں شانزل اور میں ایک دوسرے کے لیے کیا تھے۔۔۔
میں جو پہلے ہی کسی اور دنیا کا باسی بن چکا تھا پڑھنے کو دل نہیں کر رہا تھا کہاں یہ پڑھانے کا کام اب امی نے وعدہ لیا تھا تو ءہ ڈھول بھی بجانا ہی تھا چنانچہ ہاں کر دی۔۔۔
شانزل نے کہا میں ابھی کتابیں لے آتی ہوں اور وہ جلدی سے باہر نکل گئی ساتھ ہی تو ان کا گھر تھا اس لیے جلد ہی واپس اگئی ۔۔
وہ اپنا پورا بیگ ہی اٹھا لائی تھی اتے ہی اس نے کہا کہاں بیٹھ کر پڑھنا ہے میں نے اس کو اندر کمرے کارپٹ پر جا کر بیٹھنے کا کہا اور خود منہ دھو کر اندر چلا گیا۔۔۔
میں نے جب شانزل کو دیکھا تو وہ دوپٹہ گلے میں ڈالے تقریبآ لیٹی ہوئی کتاب کھول کر بیٹھی تھی ۔۔۔
بیٹھ کر جھکی ہوئی تھی آلتی پالتی مارے بیٹھ کر جھکنا بھی کافی ہیجان خیز ہوتا ہے جب کوئی عورت یا کوئی لڑکی اس انداز بیٹھ کر جھکتی ہی تو اس کی رانیں باہر کو نکل کر گانڈ تک کو واضح کرتی ہیں اور سینہ دست بستہ ہو کر باہر کو ابلنے لگتا یے۔۔۔۔
شانزل جیسی حسین لڑکی بھرے بھرے ممے کھلے کی قمیض پہنے دوپٹیہ گلے میں لٹکائے جب اس طرح کرتی ہے تو جوان تو کیا بوڑھے کا لوڑا بھی ہلکورے لینے لگ جاتا ہے۔۔۔
اس انداز میں جھکنے سے شانزل کے ممے اس کی قمیض کے گلے کو پھاڑ کر باہر آنے کے زور آزمائی میں مصروف تھے۔۔۔۔
میری نظر بھٹکی لیکن دل میں کوئی شہوت بھرا جزبہ پیدا نہ ہوا میں اس کے قریب گیا اور بولا ۔۔۔۔۔
اب یہ سب کیا ہے ایسا کیوں۔۔۔؟
شانزل۔۔۔۔
تم نہیں سمجھے ایسا کیوں ۔۔؟
میں نے کہا نہیں تمہیں سچ میں ریاضی نہیں آتی یا ایسے ہی دل پشوری کے لیے آ گیی ہو۔۔۔
شانزل نے نروٹھے پن سے کہا تمہیں کیا لگتا ہے میں تم سے پڑھنے کے لیے آئی ہوں۔۔۔۔
میں نے کہا اگر پڑھنے نہیں آئی تو کیا کرنے آئی ہو۔۔۔
تم نہیں سمجھے کیوں ائی ہوں میں ہی پاگل ہوں جو امی کو ریاضی نہ آنے کا بہانہ بنایا۔۔۔
عجیب لڑکی تھی ہر بات کا الٹ جواب دے رہی تھی میرا دماغ پہلے ہی الجھا ہوا تھا اوپر سے اس کی باتیں۔۔۔
میں جھنجھلاتے ہوئے کہا سیدھی طرح بتاو یہ بجھارتیں میری سمجھ میں نہیں اتیں۔۔۔
وہ ناراض ہوتے ہوئے بولی اب تمہیں میری باتیں بھی سمجھ نہیں آ رہیں میری دوست صیحیح کہتی تھی کہ اگر ایک بار اس کے ساتھ کر لیا تو وہ دیکھے گا بھی لڑکے ہوتے ہی ایسے ہیں۔۔۔۔
میرا تو دماغ ہی گھوم گیا پتہ نہیں کہاں کی بات کہا لے جا رہی تھی۔۔۔
میں نے اپنا لہجہ تیکھا کرتے ہوئے کہا پڑھنے سے اس سب کا کیا تعلق ہے جو تم یہ سب بول رہی ہو اگر تم مجھے کچھ سمجھاو گی تو سمجھوں گا۔۔۔
میرا لہجہ دیکھ کر اس نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔
بلو ویکھ میں تمہیں پیار کرتی ہوں نہ۔۔۔
میں نے کہا ہان کرتی ہو۔۔۔
کیا تم بھی کرتے ہو۔۔۔؟؟
میں نے کہا یہ بھی پوچھنے کی بات ہے۔۔۔۔
اسی وقت میری ھائی ہاشم اندر داخل ہوا میں نے جلدی سے کہا جو سوال نہیں آتے وہ دکھاؤ۔۔۔
شانزل نے شاید مجھ سے پہلے بھائی کو دیکھ لیا تھا اسیے سیدھی ہو کر کتاب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
بھائی نے کمرے سے ناول اٹھایا ان دنوں مظہر کلیم صاحب کا ناول دیوتا بہت زیادہ پڑھا جا رہا تھا ہماری عمر کا تقریباً ہر لڑکا اس ناول کا دیوانہ تھا خاص طور پر فرہاد کے کارنامے اور سونیا کے کردار نے تو سب کو پاگل بنا رکھا تھا۔۔۔۔
دوسری اہم وجہ ٹیلی پیتھی تھی جو ہر دوسرا لڑکا سیکھنا چاہتا تھا بھائی ہاشم بھی اس ناول کے شیدائی تھے جب بھی گھر آتے ناول اٹھاتے اور پڑھنے بیٹھ جاتے۔۔۔۔
خیر بات کہیں اور نکل گئی شانزل نے ایک سوال پر انگلی رکھی اور مجھے کہا یہ نہیں اتا اتنی دیر میں بھایی باہر نکل گئے۔۔۔
تو وہ بولی جب ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں ۔۔۔
میں بیچ میں ہی بول پڑا تو پھر کیا ہوا۔۔۔
شانزل۔۔۔ پہلے سن تو لو جب ہم دونوں پیار کرتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے سے پیار کی باتیں کرنی چاہیے یا نہیں۔۔۔
میں نے کرنی چاہیئے۔۔
تو وہ بولی کیسے کر سکتے ہیں جب تم اپنے گھر میں اپنے گھر۔۔۔۔
میں نے کہا رات اتنی دیر تو ساتھ رہے ۔۔۔
اس نے کہا آہستہ بولو میری آواز شاید اونچی ہو گئی تھی۔۔۔۔
میں کہا اچھا ہم رات کو بھی تو مل سکتے ہیں پھر یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔
وہ بولی تم سمجھ نہیں رہے دیکھو۔۔۔۔
اگر اس ٹائم میں تم سے پڑھنے آتی ہوں ہم پڑھایی کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کر کیا کریں گے۔۔۔۔
رات تو تم نے باتیں ہی نہیں کیں بس ائے اور شروع ہو گئے۔۔۔
میرا دل کرتا ہے تم سے ڈھیروں باتین کروں تم میرے سامنے بیٹھے رہو تمہیں دیکھتی رہوں۔۔۔
میں نے دل میں لے بھئی بلو تو تاں پھس گیا کاکا غلط کڑی نال آ تے پچھے پے گئی اے ہن جان چھڑانی اوکھی اے۔۔۔
ابھی بھی وقت ہے بتا دے اس کو کہ تو اس سے نہیں بالکہ اس کے سیکسی جسم سے پیار کرتا ہے اس کے گول مٹول مموں کو چوسنا پسند کرتا ہے اس کی آتش فشاں سی پھدی میں اپنے لن کا لاوا انڈیلنا چاہتا ہے ۔۔۔
پیار ویار کا کوئی چکر نہیں۔۔۔۔
لیکن لن تھا کہ اس نے ایسا کہنے سے باز رکھا جب میں شانزل کو یہ سب بتانے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا تو میرے دماغ کی سکرین پر اس کے حسن مجسم کی جھلکیاں چلنے لگیں شانزل کے جسم کی خوشبو میرے نتھوں سے ٹکرانے لگی اس کی چکنی پانی اور خون سے لت پت پھدی میری اکھیوں گھوم گئی۔۔
اس کے دودھ کے پیالے سفیدی کا پہاڑ اور ان پر کھڑا مچانتی اپنے نشانے میرے ہونٹوں پر لگانے لگا۔۔۔۔
اس کے سلکی لمبے بالوں کی لٹیں اپنا راگ چھیڑنے لگیں ایک پل میں میرا سارا غصہ ساری کوفت اڑن چھو ہو گئ۔۔۔
میں نے ہارے ہوئے جواری کی طرح اس سیکس کی پڑیا کے سامنے ہتھیار پھنک دیے اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے بولا تم صحیح کہہ رہی ہو ہمیں باتیں کرنے کا موقع ملنا چاہیئے مجھے ہی سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔
میرا بھی دل کرتا ہے تمہارے ایک ایک نقش کو جی بھر دیکھوں تمہارے حسن کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاؤں۔۔۔
میں تمہیں بتا نہیں سکتا تمہاری خوبصورتی کہ انتہا کیا ہے تمہارا ایک ایک عضو میرے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔۔۔
تمہارے حسن نے مجھے گھائل کر رکھا ہے مجھے کر جگہ تم نظر آتی ہو تمہارے جسم کی خوشبو نے مجھے اندر سے سرشار کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔
تمہارے ساتھ گزارے رات کے وہ پل میرے لیے زندگی کے انمول لمحات ہیں۔۔۔۔
یہ ایک حقیقت تھی کہ وہ بہت خوبصورت تھی کمال کا فگر تھا مجھے اچھی بھی لگتی تھی لیکن اس سب کے باوجود مجھے اس سے پیار نہیں تھا۔۔۔۔
دل تو میں ہار چکا تھا لیکن وہ شانزل نہیں تھی دل کے تار تو مسلسل ساز بجا رہے تھے لیکن اس کے گیتوں میں تصویر کسی اور کی پنہاں تھی۔۔۔
میں شانزل کی تعریف میں جو الفاظ بولے ادا کیے تھے وہ سچ تھے مجھے اس کے ساتھ وقت گزارنے کی چاہ بھی تھی اس کی خوبصورتی سے میں بہت متاثر تھا ۔۔۔۔
لیکن اس سب کے باوجود مجھے اس سے پیار نہیں تھا۔۔۔۔۔
مجھے بہت اچھی لگتی تھی لیکن اس سے الجھن بھی ہوتی تھی۔۔۔۔
شانزل پر میری ان باتوں کا بہت اثر ہوا وہ ٹکٹکی باندھے شرما رہی تھی۔۔۔
اس کے چہرے پر شرمیلہ پن بہت سوٹ کر رہا تھا میرا دل اس کے سرخ ہوتے گال چومنے کو کرنے لگا۔۔۔۔
میں دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے جلدی سے اس کے گال چوم لیے۔۔۔۔
میں ابھی سیدھا ہی ہوا تھا کہ شانزل کی امی آواز کسی ہتھوڑے کی طرح میرے سر پر
لگی۔۔۔
میں ابھی شانزل کے گال پر کس کر سیدھا ہی ہوا تھا کہ شانزل کی امی کی آواز آئی نیی شانییی ہو گیا تیرا کم تے چلییے۔۔۔۔
اس کی آواز سن کر تو میرا سانس تک گیا تھا مجھے صرف اس کی آواز سنائی دی اس کے الفاظ کی سمجھ کچھ دیر بعد میں آئی۔۔۔۔
شانزل ۔۔۔ نہیں امی ابھی رہتا ہے کچھ دیر اور لگے گی آپ چلی جاؤ میں آ جاؤں گی۔۔۔
شانزل کی امی۔۔۔ چلو ٹھیک اے بلو نوں آکھیں تینوں چھڈ آ سی۔۔۔
شانزل ۔۔۔ ٹھیک ہے امی جی۔۔۔
وہ چپ ہو گئیں لیکن میں محتاط ہو ہوگیا اس کی امی شاید چلی گئیں تھیں کیونکہ باہر اب باتوں کی آواز ہیں آ رہی تھی۔۔۔
شانزل نے پھر مسکراتے ہوئے کہا ۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔۔۔
میں ۔۔۔ ہوووں پوچھو۔۔۔
شانزل۔۔۔ یہ جو تم ابھی کہہ رہے تھے سچ میں ایسا ہی ہے ۔۔۔
میں جو اتنی تعریف کر کے سمجھ رہا تھا کہ بہت بڑا معرکہ مار لیا ہے اس کی بات سن کر سب کچھ ہوا ہو گیا۔۔۔
میں نے چونک کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور اپنے چہرے پر دنیا جہاں کا دکھ سماتے ہوئے کہا۔۔۔
شانزل میرا تمہارے منہ سے یہ بات سن کر دل کر رہا ہے مر جاؤں ۔۔۔
اس نے جلدی سے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور بولی مریں تمہارے دشمن۔۔۔۔
میں ۔۔۔ اس وقت تو تم مجھے اپنی جان کی دشمن لگ رہی ہو تمہیں میرے پیار پر شک ہے میں تمہارے منہ سے یہ سب سننے سے پہلے مر کیوں نہ گیا پتہ نہیں اس وقت میری آواز میں کیا تھا کہ شانزل نے رونا شروع کر دیا۔۔۔۔
اور وہ اٹھ کر اپنی کتابیں اکٹھی کرنے لگی
مجھے اپنی ساری اداکاری بھول گئی لیکن یہ سب ضروری بھی تھا کہ اس کو ایسا لگے جیسے میں سچ میں اس کی بات پر اتنا ہرٹ ہوا ہوں ۔۔۔۔
کتابیں اکٹھی کر کے بولی ۔۔۔بلو مجھے تم پر خود سے بھی زیادہ اعتبار ہے مجھے تم پر شک نہیں ہے ۔۔۔۔
یہ بول کر وہ چلی گئی ۔۔۔۔
میں اس کے رویے پر حیران ہوتا رہا لیکن کچھ سمجھ نہ آئی الٹا دماغ کا دہی ہو گیا۔۔۔
رات پھر سے گاؤں کی حسینہ کے خواب دیکھتے گزری صبح حسب معمول اپنے وقت پر بیدار ہوا اور واک کے لیے گیا ۔۔۔
آج میں نے جان بوجھ کر دائی کے کوارٹر کے سامنے کافی چکر لگائے لیکن کوئی ہل چل نہ ہوئی مطلب کہ ان کے گھر میں مکمل سناٹا تھا۔۔۔
میں مایوس ہو کر سچ میں سیر کرنے چلا گیا اور نہر کنارے کافی دور نکل گیا۔۔۔
جیسا کہ پہلے بتایا تھا کہ سیر تو ایک بہانہ ہوتا تھا میں تو بھونڈی کے لیے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک دینے کے لیے جاتا تھا اکثر شہر سے دور نکل جاتا تھا ۔۔۔
کھیتوں میں کام کرتی لڑکیوں کو تاڑتا ان کے جسم کے خدوخال سے مزے لیتا ۔۔۔
گاؤں کی اکثر عورتیں اور لڑکیاں جب کھیتوں میں کام کرتی ہیں تو دوپٹے کا تکلف نہیں کرتیں اور جب وہ جھکتی ہیں تو ان کے اکڑے ہوئے سخت ممے باہر کو نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے مناظر دیکھنے کے لیے میں ایسا کرتا تھا۔۔۔
گاؤں کی عورتیں جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں ان کی جسمانی ساخت بہت جان لیوا ہوتی ہے ان کے مموے اتنے سخت ہوتے ہیں کہ برا کے بغیر بھی اکڑے ہوئے لگتے ہیں۔۔۔
لیکن اس دن کافی دور تک جانے کے باوجود مایوس ہی رہا کوئی تتلی کوئی پھول کوئی مرجھایا ہوا پھول بھی نہ ملا۔۔
میں ناکام و نامراد واپس آیا ایک اور کوشش کے طور پر دائی کے کوارٹر کے سامنے سے گزرا پھر مایوسی کیونکہ اس بار تالا میرا منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔
وہاں سے بلوچ فیملی کے گھر کے سامنے چکر لگایا لیکن نہ تو ان جوان لڑکی اور نہ ہی ان کی نوکرانی نظر آئی ۔۔۔
میں منہ لٹکائے گھر آیا ناشتہ کیا اور ٹیوشن کے لیے نکل پڑا ۔۔۔
مجھے یہ بات بہت عجیب لگتی تھی کہ میرا دل الہڑ دوشیزہ گاؤں کی خوبصورت لڑکی کے دھڑکتا تھا لیکن لن تھا کہ ہر وقت کسی کی پھدی میں گھسنے کے لیے تڑپتا تھا۔۔۔
اسی کشمکش میں ٹیوشن پڑھ کر واپس آیا نہا کر تھکاوٹ اتاری اور مارکیٹ چلا گیا۔۔۔
مارکیٹ ٹاؤن کی مارکیٹ تھی جو کہ ٹاون کے درمیان میں تھی جہاں ہم جیسے فارغ لوگ اپنا وقت بھی ضائع کرتے تھے اور ضرورت کی اشیاء بھی مل جاتی تھیں۔۔۔
میں نے کوک کی بوتل اور لیز کا پیکٹ لیا بوتل پیتے ہوئے لیز کے مزے لینے لگا اسی وقت وہاں ایک نوکرانی پتہ نہیں کن کی تھی آئی اس کو دیکھ کر میرے دماغ میں جھماکا ہوا اور لن نے بھی انگڑائی لی۔۔۔
میں جلدی جلدی بوتل پی لیز کا پیکٹ وہاں پر کھڑے ایک چھوٹے بچے کو دیا اور پیسے دییے بغیر ہی چل دیا دماغ میں آج ایک نئی پھدی کے افتتاح پلاننگ کرتا جا رہا تھا
فگر کو سوچتے ہوئے سائز کا اندازہ لگاتے پھدی کے رنگ اس کی شیپ کا تصویری خاکہ بناتا گیا۔۔۔۔
لن بھی مستی نئی پھدی کے تصور سے سرشار تھا فل ٹائٹ ہو چکا تھا۔۔۔
میں جیسے ہی اس گلی میں داخل ہوا جس گلی میں بلوچوں کا گھر تھا دل کی دھڑکن تو تیز ہوئی سو ہوئی لن کی سختی بھی بڑھ گئی۔۔۔
میں دائیں بائیں دیکھتے سنبھل کر محتاط نظروں سے ادھر ادھر آنکھیں گھماتے چلتا ہوا ان کے گھر کے سامنے جا پہنچا۔۔۔۔
یہ کیا ان کے گھر کے باہر لگا ایک بڑا تالا میرا منہ چڑا رہا تھا میرہ ساری پلاننگ سارے تصویری خاکے مٹی ہو گئیے ۔۔۔
دل میں ایک سو ایک گالیاں دیں اور مرے مرے قدموں سےواپسی کی راہ لی۔۔۔
میرا تو آج کا دن کی ایسا چڑھا تھا صبح سے ہر طرف سے مایوسی ہی مایوسی تھی۔۔۔
میں واپس آیا بوتل کے پیسے دئیے اور گھر جا کر سو گیا عصر کے قریب آنکھ اٹھ کر کھانا وغیرہ کھایا اور کرکٹ کھیلنے جا پہنچا کرکٹ کھیل کر دوستوں کے ساتھ گھومنے کے لیے پارک میں گیا ہنسی مذاق چلتا رہا رات عشاء کے قریب گھر واپسی ہوئی اور کھانا کھانے سے پہلے مجھے ابو کی طرف سے خوب سارہ قورمہ اور اچھی سے ڈرنک شدید ڈانٹ کی صورت میں ملی۔۔۔۔
جب ابو نے اپنے دل کی بھڑاس نکال لی تو میں چپ چاپ اٹھ کر کمرے میں گیا کتابیں نکالیں جن میں میں زیادہ تر کوئی رومانوی ناول یا سیکس کہانی ہوتی تھی۔۔۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ڈانٹ کی وجہ کیا تھی تو دوستو ویسے تو باپ سے ڈانٹ کھانے کے لیے بیٹا ہونا ہی بہت ہوتا ہے لیکن اگر میرے جیسا بیٹا ہو تو باپ پر یہ فرض ہوتا ہے کہ گاہے بگاہے طبیعت صاف ہوتی رہے اگر نہ ہو تو پتہ نہیں کیا کچھ کر جائیں ہم عمر کے جس حصے میں ہوتے ہیں کچھ بھی کرنے سے پہلے سوچنا گناہ سمجھتے ہیں۔۔۔۔
اصل میں آج ابو کو میرے استاد ملے تھے جن کے پاس میں پڑھنے جاتا تھا تو انہوں نے میری غیر حاضری اور پڑھائی میں دلچسپی نہ ہونے کی وضاحت اپنے انداز میں کر دی جس کا اثر میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
باپ بھی کمال ہوتے ہیں اولاد کو ڈانٹتے ہیں ایسا کرو ایسا نہ کرو لیکن کر مشکل وقت میں سب سے زیادہ حوصلہ بھی وہ ہی دیتے ہیں ۔۔۔۔