باپ کی ڈانٹ تو ہر بندہ سنتا ہے جس کا احساس آنے والی زندگی میں ہوتا ہے جب انسان خود باپ بنتا ہے تب ایک ایک کڑی کھل کر سامنے آتی جاتی ہے باپ کی سختی میں چھپا پیار نظر آنے لگتا ہے۔۔۔
آپ لوگ بھی کہو گے کیا باتیں کے کر بیٹھ گیا ہوں لیکن یہ سچ ہے
جس تن نون لگدی اے اوہ تن جانے۔۔۔
ویسے یہ بھی حقیقت ہے جس دن باپ کہ ڈانٹ اور ماں کے پیار بھرے تھپڑ نہیں لگتے تھے اس رات نیند بھی مزے کی نہیں آتی تھی ۔۔۔
آج جب وہ دن یاد کرتا ہوں تو ماں کی ممتا بھرا چہرہ اور باپ کی شفقت آمیز ڈانٹ میری انکھوں کو آنسوؤں سے لبریز کر دیتی ہے ۔۔۔
یہ سب لکھتے ہوئے میرے دل پر کیا گزر رہی ہے یہ صرف ماں باپ کے سائے سے محروم ہی سمجھ سکتا ہے۔۔۔
اس دن ابا جی کی ڈانٹ سن کر جو نیند آئی تو صبح امی کی شفقت آمیز آواز سے کھلی۔۔۔
جب امی نے اٹھاتے ہوئے کہا اٹھ جا بلو تیرے ابا جی آندے ہون گے نماز پڑھ کے جاندے ہوئے تینوں اٹھا کر گئے سی۔۔۔
میں ایک جھٹکے سے اٹھا اور ضروری حاجات سے فارغ ہو کر سیدھا ٹاؤن کی گلیوں میں گھومتے ہوئے بلوچوں کے گھر والی گلی میں جا پہنچا ۔۔۔۔
گلی میں داخل ہوتے ہی مجھے ان کے گھر کے باہر پانی گرتا نظر آیا میرا روں روں یہ دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھا۔۔۔
میں نے دل میں کہا بلو اج تاں بلوچنی دا مکھڑا وکھے گا اج نیں گھبرانا گل کر ای لینی ات ویکھی جائے گی۔۔۔
میں اس سے بات کرنے کے تانے بانے بنتا اس کے گھر کے سامنے جا پہنچا لیکن وہاں بلوچنی کی بجائے ان کی نوکرانی پانی کا پائپ تھامے چھڑکاؤ کر رہی تھی۔۔۔
مجھ پر نظر پڑی تو اشارے سے کہا دوسری طرف آوؤ ان کا گھر کارنر پلاٹ میں تھا مین گیٹ ایک طرف اور ڈرائنگ روم دوسری طرف تھا ڈرائنگ روم کے سامنے باہر گلی میں ہی ایک برآمدہ سا بنا تھا ۔۔۔۔
میں اس برآمدے میں چلا گیا اور انتظار کرنے لگا چند لمحے ہی گزرے تھے کہ ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔۔۔
دروازہ کھلا اور میں جلدی سے اندر گھس گیا وہ نوکرانی جس کا نام میں نے بعد میں پوچھا تھا ۔۔۔
اس کا نام تہمینہ تھا جتنا نام اچھا تھا اس کا رنگ تو اتنا اچھا نہیں تھا لیکن اس کے جسم میں کمال کی گرمی تھی جس سے میں ایک لمبے عرصے تک مزے اٹھاتا رہا۔۔۔
بات کہیں نکل جاتی ہے اس نے دروازہ کھولا اور مجھے کہا جہاں بیٹھو باجی جانے لگی ہیں میں ابھی اتی ہوں۔۔۔
وہ نکل گئی میں ڈرائنگ روم کا معائنہ کرنے لگا میں پینڈو چارپائوغ پر سونے کا عادی جس نے صوفے صرف دیکھے تھے اور یہ حقیقت تھی کہ اس وقت تک میں کبھی صوفے پر نہیں بیٹھا تھا۔۔۔
ان کا ڈرائنگ روم بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ڈبل سیٹڈ صوفے کے ساتھ ایک خوبصورت گلدان تھا سامنے شیشے کا ٹیبل جس پر تازہ پھول سجائے گئے تھے۔۔۔
ایک طرف سنگل صوفے ایل دوسرے سے الگ الگ کر کے رکھے ہوئے تھے جن کے بیچ میں ایک چھوٹا میز تھا جس پر ایک چھوٹے سائز کا مجسمہ رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔
دیواروں پر جا بجا پینٹنگز لگی تھیں جن میں کچھ بہت مہنگی تھیں شاید میرے کیے مہنگی اور نایاب تھیں ۔۔۔
دبیز قالین پورے کمرے میں بچھا تھا ایک طرف میز پر ٹیبل لیمپ اور کچھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہاں بیٹھ کر کوئی مطالعہ کرتا ہے۔۔۔۔
میں نے جتنی دیر میں کمرے کا معائنہ کیا اتنی دیر میں تہمینہ واپس آ گئی اور اندر والا دروازہ بند کر دیا۔۔۔
میرے پاس اکر کھڑی ہوگئی اس وقت اس کا دوپٹہ گلے میں تھا جو کہ اس کے مموں کے سائز کو عیاں کر رہا تھا۔۔۔
اس کے ممے اب تک میں جس جس کو چود چکا تھا سب سے بڑے تھے اور اس کے نا ہونے کے برابر پیٹ کی وجہ سے کچھ زیادہ کی بڑے کگ رہے تھے۔۔۔
اس کا قد مجھ سے بہت کی چھوٹا تھا وہ میرے سینے برابر بھی نہیں آتی تھی۔۔۔
کافی صحت مند تھی مجھے دیکھتے ہوئے بولی ہاں جی اب بتاؤ کیا کہہ رہے تھے اس دن آج کھل کر بتاؤ۔۔۔
میں تو اس کے مموں کو دیکھ کر پورا موڈ بنا چکا تھا کہ آج چودے بغیر نہیں جانا ویسے بھی کل کا پورا دن پھدی کے چکر میں خوار کو چکا تھا۔۔۔
میں اٹھ کر کھڑا ہوا اس کا ہاتھ پکڑا وہ ایک دم پریشان ہو گئی ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن میں نے کس کر پکڑ لیا۔۔۔
اس کا ہاتھ پکڑ کر میں نیچے بیٹھا اور تازی تازی ایک دیکھی ایک فلم کا سین ذہن میں لاتے ہوئے بولا آئی لو یو۔۔۔۔
مجھے تم بہت اچھی لگتی ہو میرا دل کرتا ہے تمہیں اتنا پیار کروں اتنا پیار کروں کہ میں پاگل ہو جاؤں ۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم میری زندگی بن کر جئیو میں تمہیں اپنی رانی بنا کر رکھوں تمہیں اپنی آنکھوں کا تارا بنا لوں۔۔۔
میں ۔۔۔۔ ابھی اور بھی کہنا چاہتا تھا اس نے مجھے اوپر کھینچ لیا اور بولی تم اتنا پیار کرتے ہو یہ پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔
اس کی آواز میں جذبات کی لرذش تھی جو میری سب باتوں کا اثر تھا۔۔۔
میں نے کہا اگر موقع ملتا تو تمہیں اب تک اپنے دل میں سجا کر کہیں دور کے جاتا اتنی دور جہاں صرف میں اور تم ہوتے کوئی ہمیں روکنے والا نہ ہوتا۔۔۔۔
میں تمہں پیار کرتا تم مجھے پیار کرتی ہم ایک دوسرے میں کھوئے رہتے۔۔۔
میں نے اپنے سارے ہتھیار آزمانے کا فیصلہ کر لیا تھا یہ سوچے بغیر کہ اس کو کتنا بڑا لالچ دے رہا ہوں دھوکا دے رہا ہوں۔۔۔
میں تو جو کہہ رہا تھا سو کہہ رہا تھا لیکن وہ میری باری باتوں کے زیر اثر آ کر میرے اتنے قریب آ گئی تھی کہ اس کے بڑے بڑے ممے میے سینے سے کچھ نیچے میرے پیٹ سے لگ گئے تھے۔۔۔۔
اس کے ممے اتنے بڑے تھے کہ وہ میرے پیٹ سے لگ گئے تھے جب کہ اس کے اور میرے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ تھا۔۔۔
اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا اس کی آنکھوں میں پیار کے دیپ جل رہے تھے ہونٹ لرز رہے تھے ۔۔۔۔
میں نے اس کے ہونٹوں کی لرزش کو محسوس کیا اور نیچے جھکتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو ان پر رکھ کر بے قرار ہوتے ہونٹوں کو قرار دے دیا۔۔۔
میں جیسے ہی اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے وہ صدیوں کی پیاس بجھانے لگی مجھے اپنے آپ میں پیوست کرنے لگی۔۔۔
اس کے مموں کی گرمی کو میں ہاتھ رکھ کر ٹھنڈا کرنے لگا مموں کو اپنے ایک ہاتھ سے دبانے لگا اور اس کی سانسوں کی حدت کو اپنے ہونٹوں سے اپنے جسم میں اتارنے لگا۔۔۔۔
گرم وہ بھی تھی جوان میں تھا خوار میرا لن بھی تھا مدہوش وہ بھی ہو رہی تھی۔۔۔
میں نے ایک ہاتھ اس کے مموں پر دباتے ہوئے دوسرا ہاتھ پیچھے لے جا کر اس کی گانڈ پر رکھ دیا گانڈ تھا کہ فوم کا گدا اتنا نرم گانڈ اوپر سے گوشت سے بھری ہوئی ۔۔۔۔
میں اپنے ہاتھ سے دبانے لگا وہ بھی آگے ہو کر اپنی پھدی کو میری لن پر لگانے کی کوشش کرنے لگی لیکن کیوں کہ اس کا قد مجھ سے چھوٹا تھا اس لیے لن اس کے پیٹ میں چبھنے لگا ۔۔۔
اپنا ہاتھ اس کی نرم گانڈ پر پھیرتے ہوئے میں نے اس کی قمیض کے اندر ڈال دیا اور اس کی کمر پر پھیرنے لگا۔۔
وہ فل مدہوش ہو چکی تھی اس نے میرے ہونٹوں کو کاٹنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
میں نے اپنی زبان کو اس کے منہ میں داخل کیا اس نے جلدی سے اپنی زبان میری زبان کے گرد لپیٹ لی اور چوسنے لگی۔۔۔۔
اب صورت حال کچھ یوں تھی کہ میری زبان اس کی زبان کے قبضے میں میرا ایک ہاتھ اس کی کمر پر دوسرا ہاتھ اس کی گردن پر تھا جبکہ لن اس کے پیٹ پر لگا تھا۔۔۔
اس نے مزید جوش دکھاتے ہوئے پنجوں کے بل ہو کر میری گردن کے پیچھے اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
میں نے بھی اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی گردن سے ہٹایا اور اس کی چوت کی طرف لے جانے کے لیے اس کی ناف کے نیچے رکھ دیا۔۔
میں نے اپنا ہاتھ تہمینہ کی ناف کے نیچے نا صرف رکھا بلکہ اپنی انگلیوں کو کنگھی کرنے کے انداز میں پھرنے لگا ۔۔۔۔
میری انگلیوں نے اپنا کام دکھانا شروع کیا اس کا جسم کھنکتی مٹی کی طرح سخت تھا اس میں مزید اکڑن آ گئی۔۔
اس کا پیٹ تھرتھرانے لگا انگلیاں پھرنے سے اس کی پھدی سے اوپر گدگدی نے اس کی اندر آگ کا الاؤ جلا دیا۔۔۔
اس نے اور تیزی سے میری زبان چوسنا شروع کر دی زبان کی زبان سے لڑائی ہو رہی تھی جب کہ ہونٹوں سے ہونٹ گتھم گتھا تھے۔۔
ہمارے جسم ایک دوسرے میں پیوسث ہو رہے تھے صبح صبح کی خنکی بھی غائب کو گئی تھی جسم کی گرمی اتنی بڑھ چکی تھی کہ پسینے سے تر بتر ہو گئے ۔۔۔
میرا ہاتھ جو اس کے مثانے پر گدگدی کر رہا تھا اس کو میں سرکاتے کو نیچے اس کی ٹائٹ شلوار کے اندر داخل کر دیا۔۔۔
میرے ہاتھ کر شلوار کے اندر داخل ہوتے ہی اندر کے موسم سے آگاہی مل گئی میں نے اب ہاتھ کو کھلا اختیار دیتے ہوئے پیش قدمی کی آجازت دے دی ۔۔۔۔
ہاتھ نے اجازت نامہ ملتے ہی پھدی کو اپنی مٹھی میں پکڑ کر دبایا اور چھوڑ دیا اس ایک سیکنڈ کے عمل میں اس کی سسکاری میری منہ کے اندر نکلی اس کا جسم اور اوپر کو اٹھا میرے لبوں پر اس کے دانت لگے۔۔۔
میری بھی سئییی نکل گئی لیکن درد میں بھی لطف ملتا ہے کے مصداق میں نے اپنا ہاتھ پھر اس کی پھدی پر رکھ دیا ۔۔۔
ہاتھ سے ٹٹولنے لگا اس کی پھدی ابھری ہوئی تھی موٹے لب لمبائی میں کم تھی لیکن دہکتا تندور تھی ۔۔۔
پھدی کے لبوں میں انگلی پھیرتے ہوئے میں نے اس کو کہا نیچے لیٹ جائیں اس نے میرے ہونٹوں کو چھوڑا پیچھے ہوئی لیکن میری گردن سے بازو نہ ہٹائے میں نیچے نظریں کر کے اس کے چہرے پراپنی نظریں دوڑائیں ۔۔۔
اس کا چہرہ جذبات کی شدت سے لال بھبھوکا بنا ہوا تھا اس نے آنکھیں کھولیں آنکھوں سے آنکھیں چار ہوئیں اس کے کب کپکائے وہ پھر میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی ۔۔۔
لیکن اس نے میرا ہاتھ اپنی قمیض کے اندر کمر پر رکھ دیا میں نے اپنا دوسرے ہاتھ کو بھی اس کی کمر پر رکھا اور قمیض کو اوپر کرنے لگا ۔۔۔
آہستہ آہستہ ہونٹ چوستے میں نے اس کی قمیض پیچھے سے کندھوں تک کر دی پھر آگے سے ہاتھ اس کے مموں کے نیچے قمیض میں ڈال کر اتارنے کی کوشش کرنے لگا لیکن اس کی قمیض اتنی تنگ تھی کہ مموں پر آ کر اٹک گئی وہ پیچھے ہوئی میری طرف دیکھ کر شرمائی اور گھوم کر پیٹھ کر لی پھر اس نے اپنی قمیض پیچھے سے نیچے کی کمر پر لگی زپ کھولی اور کھڑی ہوگئی۔۔
میں اس کا اشارہ سمجھ گیا اگے بڑھا اپنے ہاتھ اس کے پیٹ کی طرف لے گیا اس کو پیچھے سے جپھی ڈال لی اس نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے لا کر میرے سر پر رکھا میں نے اپنے ہونٹ اس کی گردن پر رکھ دییے اور کس کرنے لگا کس کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اس کی قمیض کو اوپر کرنے لگا ۔۔۔
دوسرا ہاتھ اس کی پیٹھ پر کھلی زپ میں ڈال کر پیٹھ پر مساج کی انداز میں پھیرنے لگا۔۔۔
وہ اپنے کندھے سکیڑ کر کبھی دائیں ہوتی کبھی بائیں لیکن میں کس بھی مسلسل اس کی گردن پر کر رہا تھا۔۔۔
اس کو شاید میری سستی پسند نہیں آئی اس نے میرے ہاتھ جھٹکے اور اپنی قمیض خود ہی اتار دی لیکن میری طرف اپنی پیٹھ ہی رکھی۔۔۔
اس کی ننگی کمر دیکھ کر مجھ سے برداشت نہ ہو سکا میں نے اپنی زبان نکالی اور اس کی کمر پر کندھوں سے چومنا شروع کر دیا۔۔
اس کے جسم کی رنگت گندمی تھی لیکن چمک انتہا کی تھی اس چمک میں اس کی جوانی کا عنصر نمایاں تھا۔۔
کندھوں سے چومتے ہوئے اس کی پیٹھ کے درمیان میں ریڑھ کی ہڈی پر زبان پھیرتے سیدھ میں نیچے آنے لگا اس کا جسم تڑپنے لگا ۔۔۔
وہ تھوڑا آگے ہوئی رائٹنگ ٹیبل کا سہارہ لے کر تھوڑا جھک گئی میں نے اس کی کمر کو چوستے ہوئے نیچے کا سفر جاری رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ٹراؤزر کا نالا کھول دیا اور لن باہر نکال لیا۔۔۔
اس کی شلوار کے قریب پہنچ کر اپنے منہ سے شلوار کو نیچے کرنے لگا اس نے بھی اپنا ایک ہاتھ پیچھے کیا اور شلوار کو نیچے مر دیا ۔۔۔
جب سے اس نے قمیض اتاری تھی میری طرف کمر کے کھڑی تھی میں بھی اس کو موقع دے رہا تھا تاکہ اپنے کپڑے بھی اتار لوں اور وہ فل گرم ہو بھی کو جائے ۔۔
جب میرا ٹراؤزر اور اس کی شلوار نیچے گر گئے تو میں نے اس کی گانڈ کو پکڑا گانڈ کیا تھا ایک دم کھویا تھا اتنی سوفٹ اتنی ملائم کی ہاتھ تک پھسلتا محسوس ہو رہا تھا اوپر سے باہر کو نکلی ہوئی تھی میں نے ایک دم اپنا ہاتھ اس کی گانڈ کی دراڑ میں پھر دیا اس نے گانڈ کو بھینچ لیا ۔۔۔
میں نے ہاتھ اوپر کیا اپنا آپ اس کے ساتھ لگاتے ہوئے اسی کی طرح تھوڑا جھک گیا لیکن ایک چیز کا خیال رکھ کہ لن اس می گانڈ کو نہ چھوئے اپنے ہونٹ اس کے ننگے کندھے پر رکھ اپنے ہاتھ سے اپنی شرٹ اوپر کی پھر دم اتار دی اب میں مادر زاد ننگا تھا جبکہ وہ بھی ننگی تھی کیونکہ اس نے کوئی برا یا پینٹی نہیں پہنی تھی۔۔
جیسے ہی میں نے شرٹ اتاری پیچھے سے ہاتھ اس کے بازوؤں کے نیچے سے گزار کر اس کے مموں کو پکڑ لیا۔۔
اس کے ممے میرے ہاتھوں میں پورے نہیں ا رہے تھے اتنے بڑے تھے لیکن حیرت کی بات تھی کہ اتنے بڑے ہونے کے باوجود سخت تھے ۔۔
میں ہاتھ سے اس کے ممے پکڑ کر دباتے ہوئے اپنی دو انگلیوں کی مدد سے نپل مسلنے شروع کر دییے وہ ایک دم کمر کو دوہرا کرتے ہوئے پیچھے کو ہوئی ۔۔
جیسے ہی وہ پیچھے کو ہوئی میں بھی جھکا ہوا تھا میرا لن پیچھے سے اس کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑ لگاتے ہوئے نیچے سے پھدی کے لبوں پر جا لگا۔۔۔
اس نے اپنی ٹانگیں بھینچ لیں اور لن کو دبانے لگی مجھے اب اوکے رپورٹ مل چکی تھی میں نے اپنا ہاتھ آگے سے اس کی پھدی پر لگا کر گیلا پن چیک کیا ۔۔
اس کی پھدی لیس دار پانی سے لبریز تھی اپنی ایک انگلی پھدی میں داخل کردی وہ ایک دم تڑپی اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر دبانے لگی۔۔۔
پیچھے سے لن گانڈ کے نیچے سے پھدی مے لبوں پر دستک دے رہا تھا آگے سے انگلی پھدی میں تھی وہ آہآہآہ آہ کرنے لگی میں ایک دم پیچھے ہو گیا انگلی بھی نکال لی اس کو چھوڑ دیا ۔۔
جتنی تیزی سے میں پیچھے ہوا اس کی دوگنی رفتار سے وہ گھومی اس کے پیچھے گھومنے سے کچھ لمحہ بعد اس کے ممے مکمل ظور پر سامنے آئے اس کے ممے اکڑ دکھاتے ہوئے شان سے سینے پر براجمان تھے۔۔
اس سے پہلے کہ میں اس کے دودھ کے پیالوں سے رس کشید کرنے کی کوشش کرتا وہ میرے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے اوپر اٹھنے لگی۔۔۔
اس کی اوپر ہونے کی کوشش میں زور لگانے سے میرا توازن بگڑ گیا میں پیچھے جھکتا چلا گیااور پیچھے موجود صوفے پر ڈھیر ہو گیا وہ میرے سینے میں اپنے بڑے بڑے دودھ کے پیالے دباتے ہوئے میرے اوپر گر گئی اور میرے ہونٹوں کو دیوانہ وار چومتے ہوئے لن کو اپنی ٹانگوں میں دبانے لگی۔۔۔
میں نے سنبھلتے ہی اس کو گھما کر نیچے کیا اور اوپر آگیا اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کی ٹانگوں کے نیچے سے گزار کر اس کی ٹانگیں اٹھا لیں لن سیدھا اس کی پھدی کے لبوں میں گھسا ۔۔
اس کی آنکھوں میں جنون سوار تھا لیکن میرے لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ کنواری ہے یا نہیں لیکن اس کا جنون مجھے یہ موقع نہیں دے رہا تھا میں کچھ لمحے رکا تو اس نے نیچے سے پھدی کو لن پر دبانا شروع کر دیا میں نے بھی کہا لن پر چڑھ گیا جو ہو گا دیکھا جائے اس کی ٹانگوں پر وزن ڈال کر اس کے مموں پر لگایا لیکن اس کے بڑے ممے تھے جو رستے میں حائل ہو چکے تھے میں جو جھک کر اس ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر گھسا مارنے کا سوچ رہا تھا صرف سوچ ہی رہی میں اس کے ہونٹوں تک نہ پہنچ پایا ۔۔
ہونٹوں تک پہنچتا تو اس کی ٹانگیں ڈھیلی چھوڑنی پڑتی اور میں یہ رسک نہیں لینا چاہتا تھا چنانچہ ویسے ہی لن کو سیٹ کیا اور لن پر دباؤ بڑھا دیا لن کی ٹوپی اس کی پھدی میں اتر گئی۔۔۔۔